پڑھو اور جانو ، سایہ کیسے بنتا ہے؟

تحریر : سید میثم علی شاہ


سایہ دراصل ایک ایسی چیز یا جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں روشنی نہیں پہنچ پاتی،یعنی جب کوئی چیز روشنی کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرے اور اس کے گزرنے کا راستہ روک دے تو راستے میں موجو د چیز سے آگے نظر آنے والا عکس سایہ کہلاتا ہے۔

جب کوئی غیر شفاف چیز روشنی کے راستے میں رکھ دی جاتی ہے تو روشنی اس چیز سے نہیں گزر سکتی۔غیر شفاف چیز کے پیچھے بننے والا تاریک حصہ سایہ کہلاتا ہے۔سورج،روشنی کا سب سے بڑا محافظ یا منبع ہے۔سورج کی سمت کے ساتھ ہمارے سائے کی سمت ،مقام اور سائز بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔صبح اور شام کے وقت جب سورج پوری طرح نہیں نکلا ہوتا تب سائے لمبے ہوتے ہیں جبکہ دوپہر میں جب سورج عین ہمارے سر پر ہوتا ہے،سائے چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سورج کے زاویے ہیں۔سائنس کے مطابق جس وقت سورج اپنے کم ترین زاویے پر ہو تب اس کی روشنی جس بھی چیز پر پڑے گی اس کا سایہ لمبا نظر آئے گا۔

سائے کے بارے میں آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ جب روشنی ایسی چیزوں پر پڑتی ہے جو خود روشن نہیں ہوتیں تب ہی سایہ بنتا ہے مثلاً ٹیبل،کرسی،کتاب یا انسانی جسم،لیکن جب روشنی کسی ایسی چیز سے ٹکرائے جو خود بھی روشن ہو تو سایہ نہیں بنتا مثلاً سورج،ٹیوب لائٹ،بلب وغیرہ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

حیدر آباد اور سیالکوٹ کی لیگ میں انٹری: پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیمیں شامل

پاکستان سپر لیگ کے سیزن 11 میں 8ٹیمیں مد مقابل ہوں گی: پہلے دو سیزن میں پانچ ٹیمیں اسلام آباد یونائیٹڈ، لاہورقلندرز، پشاور زلمی، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرزشامل تھیں،تیسرے سیزن سے چھٹی ٹیم ملتان سلطانز لیگ کا حصہ بنی

مطیعِ اعظم(چوتھی قسط )

سید نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی درخواست رد کر دی۔ تب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے سفارش کروائی لیکن سید نا علیؓ نے پھر انکار کر دیا۔ تب عبداللہ ؓ رات کی تاریکی میں مکہ چلے گئے۔

ببلو ٹریفک دوست بن گیا!

ببلوساتویں جماعت کاطالب علم تھا۔ اسے سائیکل چلانا بہت پسند تھا۔ ہر شام وہ اپنے دوست میرو کے ساتھ گلی میں سائیکل چلایا کرتا تھا۔ اسے ٹریفک قوانین اچھے نہیں لگتے تھے اسے لگتا تھا کہ یہ سب بڑوں کیلئے ہوتے ہیں بچوں کو ان سے کیا لینا دینا ہے؟

لاپرواہی

سردیوں کی چھٹیوں کا آغاز ہو چکا تھا اور پہاڑی علاقے میں واقع چھوٹے سے گاؤں گلشن نور میں ہر طرف برف باری کا سماں تھا۔

چھوٹا بندر

ایک بار ایک چھوٹا بندر پہاڑ سے نیچے اترا اور مکئی کے کھیت میں پہنچ گیا۔ مکئی کے بہت سے بڑے بڑے خوشے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اوراس نے ان سے ایک گٹھی بھر کر اٹھا لی۔

نظم

منہ کیوں چھپائے بیٹھے ہو کونے میں نہیں کچھ ملے گا رونے دھونے میں کرو ختم، کام پہلے تم سکول کا