نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:انگلینڈٹیم کادورہ پاکستان
  • بریکنگ :- پی سی بی کادورےکوممکن بنانےکیلئےوفاقی حکومت سےرابطہ،ذرائع
  • بریکنگ :- انگلش ٹیم کےدورہ پاکستان کیلئےسفارتی تعلقات استعمال کرنےکافیصلہ،ذرائع
  • بریکنگ :- حکومت کی جانب سےانگلینڈسےسفارتی سطح پررابطہ کیےجانےکاامکان
  • بریکنگ :- انگلینڈٹیم کادورہ پاکستان کرکٹ کےروشن مستقبل کےلیےاہمیت کاحامل
  • بریکنگ :- لاہور:پی سی بی سیریزکےانعقادکےلیےہرممکن کوشش کرےگا،ذرائع
  • بریکنگ :- انگلش ٹیم نے 2ٹی ٹوئنٹی میچزکیلئےاکتوبرکےدوسرےہفتےمیں پاکستان آناہے
  • بریکنگ :- لاہور:پاکستان اورانگلینڈکےدرمیان میچز 13اور 14اکتوبرکوشیڈول ہیں
  • بریکنگ :- لاہور:انگلینڈکی ٹیم نے 2005 میں پاکستان کاآخری باردورہ کیاتھا
Coronavirus Updates

گھر میں تکہ پارٹی، چند باتوں کا خاص خیال رکھیں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : معصومہ مبشر


کورونا ایس او پیز پر عمل کریں ، صحت مند رہنے کیلئے ضروری ہے کہ زیادہ مرچ مصالحے والے کھانے مت کھائیں اورپانی اُبال کر استعمال کریں

عید الاضحی کے 3دن عمومی طور پر قربانی کرنے، قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں کو گوشت بانٹنے میں گزر جاتے ہیں۔ان دنوں میں گوشت کے پکوان بنانے اور کھانے کی روایت شاید اتنی ہی قدیم ہے، جتنی قربانی کی سنت۔ گھر میں قربانی ہو اور نئے نئے پکوان نہ بنیں ،یہ بھلا کیسے ممکن ہے تکے کھانے اور پکانے کا رواج بہت پرانا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے عید الاضحی کے بعد گھر کے مہمان خانوں، دالانوں اور چھتوں پہ تکہ بوٹی کی پارٹی چل رہی ہوتی ہے، دھواں اٹھ رہا ہوتا ہے۔ عید منانے کے بعد بیشترشادی شدہ افراد سسرال کا رخ کرتے ہیں ،جہاں سہ پہر سے ہی تکوں کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ دامادوں کو سسرال میں بنے تکوں کا سوچ کر ہی منہ میں پانی آجاتا ہے۔ ایسے میں بیٹیاں بھی اپنے میکے والوں کی طرف سے ہونے والی اس دعوت پر پھولے نہیں سماتیں۔

گھر میں تکہ پارٹی اور دعوتوں کا اہتمام ضرور کریں لیکن کورونا ایس او پیز پر عمل کرنے کیساتھ ساتھ چند باتوں کا خیال ضرور رکھیں۔یوں تو تکوں کو رات کے کھانے میں پیش کیاجاتا ہے ،مگر اس کی تیاری سہ پہر سے ہی شروع ہوجاتی ہے ۔ سب سے پہلے گوشت کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ان پر تکوں کا مصالحہ لگایا جاتا ہے۔ گوشت کو گلانے کیلئے مصالحے میں ہی کچا پپیتا یا ’’کچری‘‘ملادی جاتی ہے۔ اس کے بعد مصالحہ لگے تکوں کو کچھ گھنٹوں کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ مصالحہ اچھی طرح گوشت کے ساتھ مل جائے ۔ مغرب ہوئی نہیں کہ گھرکے مرد کھلے صحن میں یا چھت پر جاکر عارضی انگیٹھی جلانے میں لگ جاتے ہیں۔ اس تکہ پارٹی کو مزید یادگار اور اس موقع پر ہلاگلہ کرنے کی غرض سے داماد بھی میدان میں کود پڑتے ہیں۔ بھلے ہی وہ ساراسال چولہے کے پاس نہ جاتے ہوں، مگر تکہ پارٹی میں اُن کا بھی بھر پور حصہ ہوتا ہے۔ انگیٹھی کیلئے کوئلے لانا یا منگوانا، مٹی کے تیل کا انتظام ، کوئلوں کو سلگاتے وقت ہوا کرنے کی غرض سے ہاتھ کے پنکھے کا بندوبست کرنا، سیخیں لانا، انہیں دھونا، سیخوں پر بوٹیاں لگانا، گرما گرم تکے اُتار کر پلیٹوں میں رکھنا، اس پر پیاز اور لیموں چھڑکنا،ساتھ میں کولڈ ڈرنک  دہی ، رائتہ اور چٹنی کا انتظام وغیرہ وغیرہ ایسے کام ہیں، جو عید کے بعدعموماً ہر گھر میں ہونے والی تکہ پارٹی میں مردوں کی جانب سے بڑے چائو کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔

یہ پارٹیاں صرف تکوں تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ ان میں بریانی، کباب، کوفتہ، بھنا گوشت، بھنی ران، ہنٹر بیف، بہاری بوٹی، ریشمی کباب، چپلی کباب، شامی کباب، غرضیکہ ڈھیرسارے گوشت کے پکوان پیش کیے جاتے ہیں۔ان پارٹیوں کے حوالے سے کراچی اور لاہور کے باسیوں کا کہنا ہے کہ بقرعید کے بعد پکوانوں اور پارٹیوں کا خصوصی انتظام نہ ہو،تو پھر عید کس چیز کی؟ ہمیں تو سارا سال ان دنوں کا انتظار رہتا ہے تہوار نام ہے معمول کی زندگی سے ہٹ کر کچھ کرنے کا،مزے اُڑانے کااورگھر میں تکہ پارٹی یا دوست احباب کیساتھ کھانے پینے کا اہتمام نہ ہو تو پھر عام دنوں اور تہواروں میں فرق کیا رہ جائے گا۔؟

اکثر لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ گھر میں جوتکہ پارٹی کی جاتی ہے تو تکے ویسے نہیں بنتے جیسے بازار کے ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ کے پی ، افغانی سٹائل یاتھوڑا سخت گوشت کھانا پسند کرتے ہیں جبکہ اکثر گلا ہوا ملائم گوشت پسند کرتے ہیں جو کہ آسانی سے گل جائے اور آسانی سے کھایا جائے۔ ایسے میں ہر کسی کی پسند و ناپسند کا خیال رکھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن آپ صرف چند تدابیر سے اپنے گھر کی تکہ پارٹی یا کھانے کی دعوت کو انتہائی لذیز بنا سکتی ہیں ۔3 طریقے ہیں گوشت کو نرم کرنے کے۔ ایک طریقہ ہے کہ برانڈڈ پیک میں آپ کو پاؤڈر بھی ملتا ہے جسے آپ ٹینڈرائزر کہتے ہیں وہ مختلف برانڈز کے دستیاب ہیں وہ آپ گوشت پر لگاتے ہیں اور تھوڑی دیر کیلئے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ نرم ہو جائے۔ اس میں ٹینڈرائزر کچھ دیر لگا رہنے کے بعد اس گوشت پر مصالحے لگا کر آدھے سے ایک گھنٹے تک فریج میں رکھیں اور پھر پکائیں۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پپیتا استعمال کریں۔ پپیتا لگا کر گوشت کو چھوڑ دیں لیکن پپیتے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اسکا اپنا ذائقہ گوشت یا مصالحے کے ذائقے پر حاوی ہوجاتا ہے جس سے تھوڑی کڑواہٹ آجاتی ہے۔ 

تیسرا طریقہ جو کہ افغانی سٹائل ہے اور تھوڑا ازبک سٹائل بھی ہے۔ اس میں آپ پانی میں تھوڑا سرکہ ملا کر گوشت کو آدھے گھنٹے سے دو گھنٹے تک  چھوڑ دیں تو وہ گوشت کو نرم کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو فوری گوشت کو نرم کر دے گا اور آپ کے مزے مزے کے کھانے اس سے بن سکتے ہیں۔

 کباب بنانے میں اتنا مسئلہ نہیں ہوتا اس میں ٹینڈرائزر استعمال کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اس میں صرف قیمے کا سائز ہوتا ہے۔ بعض لوگ موٹا قیمہ پسواتے ہیں اور بعض باریک۔ موٹا قیمہ چپلی کباب کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ باریک قیمہ سیخ کباب کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ پنجاب میں زیادہ تر لوگ باریک قیمے کے کباب پسند کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق قربانی کے گوشت کو اگر آپ نے اگلے ایک دو ہفتے کے اندر سٹیک بنانے کے لیے استعمال کرنا ہے تو اس کا طریقہ ہے کہ آپ گوشت کو کاٹ کر فریج کے اندر کنٹرولڈ درجۂ حرارت میں رکھ دیں اس کی وجہ سے گوشت کا تمام موائسچر باہر آجاتا ہے اور بیکٹیریا کنٹرولڈ ہوتا ہے اس کو آپ چار سے پانچ دن بھی رکھ سکتے ہیں۔ جتنا آپ زیادہ رکھیں گے اتنا وہ خشک ہوگا اور جب اسے کھائیں گے تو اس کا ذائقہ بھی بہترین ہو گا اور بہت بیفی ذائقہ جو لوگوں کو چاہیے ہوتا ہے ایسا کرنے سے آپ  گوشت کوزیادہ دیر تک رکھ سکتے ہیں ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔

سچ جھوٹ

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے لبنان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے بادشاہ سے بہت محبّت تھی۔ بادشاہ بھی رعایا کا بیحد خیال رکھتا تھا۔ وہ اپنے بزرگوں کی تقلید کرتے ہوئے روزانہ سادہ کپڑوں میں شہر کی گلیوں میں گھوم پھر کر لوگوں کے بارے میں معلوم کرتا تھا کہ لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر کوئی دُکھی ہوتا تو بادشاہ اس کی مدد بھی کر دیا کرتا۔

بچوں کی نفسیات : والدین اور اساتذہ کا کردار(تیسری قسط)

بچوں کی صحیح سمت میں تربیت کیلئے کے لیے اُن کی نفسیات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے بنیادی شرط بچوں سے قریبی تعلق ہے اور اس قربت کے ساتھ ساتھ ان سے بے پناہ لگائو بھی ہے۔

پہیلیاں

پہیلی ۱۔مٹی سے نکلی اک گوریسر پر لیے پتوں کی بوریجواب :مولی

ذرا مُسکرائیے

ٹھنڈا پانی سخت سردی ک موسم تھا۔ ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا’’ تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو۔ آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟‘‘بیوقوف بولا:’’ پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا‘‘۔

اسلام میں کسب حلال کی فضیلت

حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے