دعا ۔۔۔مایوسیوں میں امید کی کرن،جب کوئی مجھے پکارتاہے تو میں جواب دیتا ہوں ۔(سورۃ البقرہ)

تحریر : آغا سید حامد علی شاہ موسوی


قرآن مجید میں اللہ رب العزت اپنے بندوں کو متوجہ کرتے ہوئے اس امر کا یقین دلاتا ہے ، ترجمہ ’’جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں جواب دیتا ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ 186)ایک اور مقام پر فرمایا ، ترجمہ ’’اور تمہارا رب کہتا ہے مجھ کو پکاروتاکہ پہنچوں تمہاری پکارکو۔‘‘(سورہ مومن 60)

لفظ دعا کا مادہ ’’ دعو‘‘ہے جسکے لفظی معنی پکار نے یامانگنے کے ہیں دعا اللہ کی عظیم نعمت اور اپنے بندوں پر احسان ہے جو عبد کو معبود سے مربوط کردیتی ہے۔دعا مایوسیوں میں امید کی کرن ہے  جب امید کے تمام در یچے بند ہو جاتے ہیں تو دعا ہی مایوسیوں کے اندھیروں میں چراغ کاکام دیتی ہے اورانسان ایک ایسی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس سے روح کوتازگی ملتی ہے اور دل کو سکون محسوس ہوتا ہے۔زمانے کے بے رحم تھپیڑوں میں تحفظ کا احساس ملتا ہے ،ظلم و جبر سے ٹکرانے کا حوصلہ ملتا ہے ۔دعا ہی وہ آستانہ ہے جس میں اللہ کے اولیاء کو نہ کسی زبر دست کا خوف ہوتا ہے اور نہ انہیں کوئی حزن و ملال آزردہ کرتا ہے ۔خداوند عالم نے قرآن مجید میں دعا کے کچھ رہنما اصول بھی سکھا دیئے ۔ ترجمہ ’’دعا مانگو گڑگڑاکر اور خاموشی سے۔‘‘ (سورۃ الاعراف 56)پھر ایک اور مقام پر فرمایا ، ترجمہ ’’دعا مانگواللہ سے ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے۔‘‘ (سورۃ الاعراف 57)

گویا دعا اللہ سے راز و نیاز کا ذریعہ ہے ہادی ٔ برحق رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں کہ’’  دعا مومن کا ہتھیار ہے۔‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا’’عاجز ترین شخص وہ ہے جو دعا سے عاجز ہو۔‘‘باب مدینۃ العلم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؓ کا فرمان ہے کہ’’ خدائے عزو جل کے نزدیک اہل زمین کے تمام اعمال میں محبوب ترین دعا ہے‘‘امام جعفر صادق ؒکا قول ہے کہ ’’ دعا مصیبت کو ٹالتی ہے‘‘۔ایک شخص احمدنامی نے امام موسیٰ کاظمؒ سے پوچھاکہ میں نے مدت سے ایک حاجت اللہ سے مانگی ہوئی ہے قبولیت دعا میں تاخیر کی وجہ سے دل میں شک سا پیدا ہونے لگتا ہے ۔امام کاظمؒ نے جواب دیا، اے شخص شیطان کے پھندے سے بچ ! وہ تجھے کہیں رحمت خدا سے مایوس نہ کردے ۔ میرے جد امام محمد باقر ؒ کہا کرتے تھے بعض اوقات مومن دعا مانگتا ہے تو اللہ اس کی قبولیت کو مؤخر کردیتا ہے کیونکہ اس کی غمناک آواز اور دردناک لہجہ اللہ کو پسند ہوتا ہے ۔امام باقرؒ کا قول ہے کہ مومن کو خوشحالی کی حالت میں بھی اللہ سے اسی طرح دعا مانگنی چاہیے جیسے حالت سختی میں کرتا تھا ایسا نہ ہو کہ مطلوب حاصل ہو جانے پر دعا سے سست ہو جائے ۔دعا سے تھک نہ جانا چاہئے کہ وہ اللہ کے پاس محفوظ ہے ۔ایک شخص امام جعفر صادق ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو آپؒ نے فرما یا دعا مانگو جس طرح دعا مانگنے کا طریقہ ہے پہلے اللہ کی حمد کرو پھر اس کی نعمتوں کو یاد کرکے شکریہ ادا کرودرود پڑھو اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے   توبہ کرو اور پھر دعا مانگو ۔دعا کرنے کے جو رہنما اصول قرآن اور مشاہیر اسلام نے بتائے اس کی عملی تفسیر دیکھنی ہو تو صحیفہ کاملہ جو صحیفہ سجادیہ کے نام سے بھی مشہور ہے میں نظر آئے گی جو خانوادہ اہلبیتؓ کے عظیم فرد اور نواسۂ رسول الثقلینؐ حضرت امام حسین ؓکے فرزند حضرت امام علی ابن الحسینؒ المعروف امام زین العابدین ؒکی بتائی ہوئی دعاؤں کا مجموعہ ہے ۔امام علی ابن الحسین ؒجب بھی کوئی کار خیر بجالاتے سجدہ کرتے تھے اسی لئے ’’سجاد‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے جب خدا کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے سجدہ فرماتے جب دو گروہوں میں صلح کرواتے سجدہ کرتے۔ (ارجح المطالب) 

دعاؤں اور مناجات سے پروردگار کی عظمت وقدرت کے سامنے انسان کی عاجزی و ناتوانی کا احساس بیدار ہوتا ہے ، عجز وانکساری پر مشتمل الفاظ وعبارات اللہ سے طلب حاجت کا ذریعہ ہی نہیں انسان کی روحانی تربیت کا بھی وسیلہ ہیں۔دعا فکرِ انسان کو پرواز کا طریقہ سکھاتی اور عقل انسانی کو شعور کی دولت عطا کرتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غرور کا انجام

گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

کوے ہیں سب دیکھے بھالےچونچ بھی کالی ، پر بھی کالے

سنہری باتیں

٭…تم خدا کو راحت میں نہ بھولو، وہ تمہیں مصیبت میں نہیں بھولے گا۔٭…ایمان کے ساتھ صبر کی وہی حیثیت ہے جو سر کی تن کے ساتھ۔

دریا ئوں کی تہہ میں پتھر کیوں ہوتے ہیں؟

ڈھلوان پہاڑوں پر کشش ثقل کی وجہ سے پانی نیچے کی طرف بہت تیزی سے بہتا ہے۔ پانی میں کاٹ دینے اور توڑ پھوڑ کرنے کی زبردست طاقت ہوتی ہے۔