ہارمونز (Hormones),خون یا رطوبت کے ذریعے سرایت کر کے مختلف خلیوں کو فعال بنانے والا (کیمیائی رابطہ کار) مادّہ
دریافت کا سال: 1902ءدریافت کنندہ: ولیم بیلس اور ارنسٹ سٹارلنگ (William Bayliss & Ernst Starling) اہمیت:۔بیسویں صدی کی ابتدا تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ انسانی جسم کے اندر مختلف افعال کو کنٹرول کرنے والے اشارے (احکامات)، عصبی ریشوں کے ساتھ صرف برقی طور پر بھیجے جاتے ہیں۔ بیلس اور سٹارلنگ نے دریافت کیا کہ ہارمونز کہلانے والے کیمیائی رابطہ کار مادے اور برقی اشارے، دونوں ہی جسمانی اعضاء تک احکامات پہنچاتے ہیں۔ اس دریافت سے میڈیکل سائنس میں ایک نئی شاخ ’’اینڈوکرائنولوجی‘‘ (ہارمون پیدا کرنے والے غدود کی ساخت اور عمل کا مطالعہ اور افرازیات) کا اضافہ ہوا۔ اس دریافت نے فعلیات (فزیالوجی) میں انقلا ب برپا کردیا۔ دریافت ہونے اور مصنوعی طور پر تیار ہو جانے کے بعد، ہارمونز کا شمار معجزاتی ادویات میں کیا گیا۔ ایڈرینالین (دریافت ہونے والا پہلا ہارمون) بیسویں صدی کی پہلی تہلکہ خیز دوا تھی، پھر دیگر ہارمونز بھی دریافت ہوتے گئے۔
دریافت کا عملـ:۔اگرچہ ہارمونز دریافت کرنے کا کریڈٹ بیلس اور سٹارلنگ کو جاتا ہے تاہم ان سے پہلے بھی ہارمون دریافت کرلیا گیا تھا، اگرچہ اس کی حقیقی اہمیت کا اندازہ نہ لگایا گیا تھا۔ 1894ء میں جانوروں پر تجربات کے دوران برطانوی ماہرفعلیات ایڈورڈ البرٹ شیفر نے دیکھا کہ اگر ایڈرینل گلینڈ سے حاصل ہونے والے رطوبت کو کسی جانور کے خون میں داخل کیا جائے تو یہ فشارِخون میں اضافہ کردیتا ہے۔ اس نے اس مظہر کو دلچسپ سمجھا لیکن اس کی عملی افادیت محسوس نہ کی۔ 1898ء میں ایک امریکی دواساز (فارماکولوجسٹ) جان ایبل نے اس کی طبّی افادیت کو محسوس کیا اور اس کی ترکیب کا مطالعہ کیا۔ اُس نے اس رطوبت میں سے اہم کیمیکل الگ کیا اور اسے ’’ایپی نیفرین‘‘ کا نام دیا۔ اس یونانی لفظ کا مطلب تھا ’’گردوں کے اُوپر‘‘ کیونکہ ایڈرینل گلینڈ گردوں کے قریب ہی پایا جاتا تھا۔
دوسال بعد جاپانی صنعتکار اور کیمیادان جوکی چی تاکامائن نے ایپی نیفرین کو خالص قلمی حالت میں مصنوعی طور پر تیار کرنے اور تجارتی بنیادوں پر پیدا کرنے کے لیے نیویارک میں ایک لیبارٹر ی قائم کی۔ 1901ء میں اسے کامیابی حاصل ہو گئی اور اس نے اسے ایڈرینالین کا نام دیا کیونکہ یہ قدرتی طور پر ایڈرینل گلینڈ میں پایا جاتا تھا، تاہم ان ماہرین میں سے کسی نے بھی ان مرکبات کے کام کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔
1902ء میں یونیورسٹی کالج آف لندن کے دو طبّی محققین نے ہاضمے کے جوس پر ایک تحقیق شروع کی۔ ان میں سے ایک کا نام ولیم بیلس اور دوسرا اس کا بہنوئی ارنسٹ سٹارلنگ تھا۔
طبّی ماہرین یہ بات جانتے تھے کہ جب غذا معدے سے چھوٹی آنت میں داخل ہوتی ہے تو لبلبہ (پنکریاز) ہاضمے کا ایک جوس خارج کرتا ہے۔ سوال یہ تھا کہ لبلبہ کو کس طرح پتہ چلتا ہے کہ اسے اس لمحہ پر جوس پیدا اور خارج کرنا چاہیے؟ اکثر ماہرین کا خیال تھا کہ اس موقع پر عصبی خلیات کے ذریعے کسی طرح کا کوئی برقی اشارہ بھیجا جاتا ہے جو لبلبے کو جوس خارج کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ بیلس اور سٹارلنگ نے اس نظریے کی صداقت جانچنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے ایک کتے میں لبلبے کی طرف جانے والے عصبیے (nerves) کاٹ دیئے لیکن لبلبہ اب بھی اپنا کام سرانجام دے رہا تھا تاہم انہوں نے ایک نئی چیز یہ دیکھی کہ جب معدہ کا تیزاب غذا کے ساتھ چھوٹی آنت تک پہنچا تو چھوٹی آنت نے ایک نیا مائع خارج کیا۔ یہ مائع (جسے انہوں نے ’’سیکریٹن‘‘ کا نام دیا) خون کے بہائو کے ساتھ لبلبہ تک پہنچا اور اسی لمحے لبلبے نے اپنا کام شروع کردیا۔ (گویا اس مائع کے ذریعے لبلبے کو کام شروع کرنے کااشارہ مل گیا)
ان کی اس دریافت سے سائنسی حلقوں میں ایک خوشگوار حیرت پھیل گئی۔ بیلس نے امکان ظاہر کیا کہ جسم میں ایسے اور بھی بہت سے کیمیائی رابطہ کار موجود ہوں گے اور انہیں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ بیلس نے تاکامائن کے کام کا مطالعہ کیا تو اس نے محسوس کیا کہ تاکامائن نے بھی ایسے ہی ایک کیمیائی رابطہ کار کو دریافت کیا تھا۔
1905ء میں سٹارلنگ نے کیمیائی رابطہ کار کے اس بڑھتے ہوئے گروہ کو ’’ہارمونز‘‘ کا نام دیا جو یونانی زبان میں ’’سرگرمی کے لیے اُبھارنا‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ دریافت ہونے والا تیسرا ہارمون ’’کارٹیسون‘‘ (Cortison) تھا جو 1935ء میں امریکی بائیوکیمسٹ ایڈورن کیلون نے دریافت کیا تھا۔ اب تک تقریباً 30ہارمونز دریافت ہوچکے ہیں جو ہمارے جسمانی اعضاء کو مختلف افعال کے لیے سرگرم کرتے ہیں۔
دلچسپ حقائق:۔1958ء میں دُنیا کا سب سے وزنی شخص رابرٹ ارل ہوگس فوت ہوا تو اس وقت اس کا وزن 484 کلو گرام تھا۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اس کا جسم تھائرو کیسن نامی ہارمون کی بہت تھوڑی مقدار پیدا کرتا تھا۔ اس اہم ہارمون کے بغیر اس کا جسم کھائی گئی غذا کو جلا نہیں پاتا تھا اور اس طرح جسم غذا کو چربی کے طور پر محفوظ کرتا چلا گیا۔