غربت مومن کا امتحان
جو انسان جس قدر اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعوے دار ہوگا، اسے اسی قدر امتحان و آزمائش سے گزرنا ہوگا۔غربت بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہو‘‘ (الحجرات: 13)۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:’’اور ہم نے سب لوگوں کی ایک دوسرے پر درجہ بندی کر دی، تا کہ وہ ایک دوسرے کی خدمات حاصل کر سکیں۔ (الزخرف: 32) یعنی تم ایک دوسرے کو ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہو، جس سے الفت و انس پیدا ہوتا ہے، اور مالدار لوگ اپنی دولت کی وجہ سے غریب لوگوں کو بطورِ مزدور رکھتے ہیں، اس سے دونوں ایک دوسرے کیلئے ذریعہ معاش ثابت ہوتے ہیں، ایک دولت تو دوسرا محنت کی وجہ سے معاون ثابت ہوتا ہے۔بسا اوقات غربت ہی انسان کیلئے بہتر ہوتی ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کیلئے رزق کی فراوانی کر دیتا تو سب زمین پر فساد بپا کر دیتے‘‘(الشوریٰ : 27) یعنی لوگ اللہ کی اطاعت کیلئے وقت نہ نکالتے، جس کی وجہ سے لوگ بغاوت، سرکشی، اور مخلوق پر جبر کرنے لگتے۔
ظاہری ادب یہ ہے کہ عفت و سفید پوشی میں اپنی غربت کو چھپا کر رکھے، شکوہ شکایت نہ کرتا پھرے، انہی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’سفید پوشی کے باعث جاہل انہیں یہ سمجھے گا کہ بہت ’’امیر‘‘ آدمی ہے‘‘(البقرۃ : 273)۔ اللہ تعالیٰ نے غریب لوگوں کی فضیلت کچھ ایسے بیان کی ہے: ’’وہ مال وطن چھوڑنے والے مفلسوں کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے (وہ) اللہ کا فضل اس کی رضامندی چاہتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی مدد کرتے ہیں، یہی سچے (مسلمان) ہیں‘‘۔(الحشر : 8)،اور دوسرے مقام پر فرمایا’’خیرات ان حاجت مندوں کے لیے ہے جو اللہ کی راہ میں رکے ہوئے ہیں ملک میں چل پھر نہیں سکتے،نا واقف ان کے سوال نہ کرنے سے انہیں مال دار سمجھتا ہے‘‘(البقرۃ : 273) ،ان دونوں مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی مدح میں ہجرت اور قید سے بھی پہلے فقیری اور غربت کا ذکر کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے محبوب لوگوں کی مدح محبوب صفات کے ساتھ ہی کرتا ہے، اگر فقیری اور غربت اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہوتی تو اپنے محبوب بندوں کی کبھی ان الفاظ کیساتھ تعریف نہ کرتا۔
غربت کا خاتمہ، اور تلاشِ رزق کیلئے کوشش، اسباب و وسائل بروئے کار لانا، شرعی حکم کی پاسداری ہے، جو کہ ایک اچھی عادت بھی ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’دنیا کے (معاشی) راستوں میں دوڑ دھوپ کرو، اور اللہ کے رزق میں سے کھائو، اسی کی طرف واپس جانا ہے‘‘(الملک : 15)
نبی کریم ﷺ دعا کیا کرتے تھے کہ ’’یا اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت، اور تونگری کا سوال کرتا ہوں‘‘۔ (مسلم)۔اللہ تعالیٰ نے بھی صاف فرمایا: ’’تم اپنی اولاد کو فاقہ کشی کے ڈر سے مت قتل کرو، تمہیں بھی اور ان کو بھی ہم ہی نے رزق دینا ہے‘‘ (الانعام:151)۔حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ اُس دعوت ولیمہ کا کھانا بہت برا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص (کسی کے بلانے پر بلا کسی عذر کے اس کی) دعوت میں نہیں گیا تو اْس نے اللہ اور اْس کے رسولﷺ کی نافرمانی کی۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے (صحیح بخاری،کتاب النکاح، الرقم: 4882، صحیح مسلم،کتاب النکاح، الرقم: 1432)
حضرت ابو عبد الرحمنؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کے پاس تھا، اْن کے پاس تین شخص حاضر ہوئے، اْنہوں نے عرض کیا: اے ابو محمد! بخدا ہمیں کوئی چیز میسر نہیں ہے، خرچ، سواری، نہ سامان، حضرت عبد اللہؓ نے اْن سے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم پسند کرو تو ہمارے پاس آ جائو، ہم تمہیں وہ سب دیں گے جو اللہ تمہارے لئے میسر کرے گا اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ سلطان سے کہیں اور اگر تم چاہو تو صبر کر لو، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے کہ فقراء مہاجرین قیامت کے دن جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے جائیں گے۔ اِس پر انہوں نے کہا کہ ہم صبر کریں گے اور کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے‘‘ (صحیح مسلم، الرقم: 2979)
حضرت ابو ہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا’’غریب مسلمان، دولت مندوں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ عرصہ پانچ سو سال (پر مشتمل) ہے‘‘۔ اسے امام ترمذی، ابن ماجہ، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ (الترمذی، الرقم: 2354)
حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے قریب سے ایک آدمی گزرا تو آپ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے عرض کیا ’’یہ تو نیک آدمیوں میں سے ہے اور خدا کی قسم! اِس قابل ہے کہ نکاح کا پیغام بھیجے تو قبول کیا جائے اور سفارش کرے تو منظور ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ آپﷺ خاموش رہے، پھر ایک دوسرا آدمی گزرا تو آپ ﷺ نے پاس بیٹھے شخص سے پوچھا اس شخص کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ یہ تو مفلس مسلمانوں میں سے ہے۔ اگر کہیں نکاح کا پیغام بھیجے تو کوئی قبول نہ کرے اور سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے ۔ اِس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ (ایک مفلس شخص) اس (امیر شخص جیسوں) سے بہتر ہے‘‘۔ (بخاری: 6082)