خطبہ حجتہ الوداع
نبی اکرم ﷺ کی زندگی کے آخری 23سال جس میں آپﷺ نے کار نبوت انجام دیا، اس میں بھی بالخصوص مکی زندگی بڑی صبر آزما اور تکلیفوں سے بھری ہوئی ہے۔
اس عرصے میں ایک پر ایک مشکل اور پریشانیاں سامنے آئیں، جن کا آپ ﷺ نے خندہ پیشانی اور حکمت سے مقابلہ کیا۔ چوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنا آخری نبیﷺ منتخب کیا تھا اور پوری دنیا کیلئے اسوہ و نمونہ بنایا تھا۔ اس لئے آزمائشیں بھی آپﷺ کی زندگی کا جزو بن گئی تھیں۔ کار نبوت انجام دیتے ہوئے جتنے کٹھن مراحل سے آپﷺ کو گزرنا پڑا، اتنا سابق انبیائے کرام ؑمیں سے کسی کے بھی حصہ میں نہ آیا۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تمام انبیاء کرام علیہ السلام سے بلند کر دیا اور اسی وجہ سے آپﷺ کو ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کے خطاب سے بھی نوازا۔
نبی اکرمﷺ نے کار نبوت کا آغاز کوہ صفا سے کیا تھا۔ آپﷺ کی باتیں اہل مکہ کے کانوں تک پہنچیں تو وہ آپﷺ کے مخالف اور جان کے دشمن بن گئے۔ مخالفت کی انتہا ہو گئی تو آپﷺ کو اپنے اصحابہؓ کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرناپڑی لیکن جس کام کا آغاز آپﷺ نے مکہ مکرمہ کے کوہ صفا سے کیا تھا اور شدید مجبوری کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نقل مکانی کی تھی۔ اس کی تکمیل بھی وہیں آ کر ہوئی ، جسے میدان عرفات کہا جاتا ہے۔ یہیں آپﷺ نے اپنا تاریخ ساز خطبہ دیا، جسے ’’حجۃ الوداع‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس خطبہ کے بعد قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی جس میں تکمیل دین کی صراحت کی گئی: ’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔ (المائدہ: 3)
10ھ میں آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ حج ادا کیا اور آپﷺ نے انسانی حقوق کے تحفظ کا عالمی و ابدی خطبہ دیا۔ امتداد زمانہ کے ساتھ اس کی اہمیت و افادیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور معنویت بڑھتی جا رہی ہے۔
اختتام خطبہ پر پورے مجمع نے بیک آواز کہا بے شک آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو ہم تک پہنچا دیا اور اسے ہم دوسروں تک پہنچائیں گے۔ اس اقرار کا عملی نمونہ بھی انہوں نے آپﷺ کی زندگی میں اور آپﷺ کے دنیا سے وصال کر جانے کے بعد پیش کیا، جس کی وجہ سے اسلام مختصر مدت میں دنیا کے دور دراز خطوں میں پہنچ گیا۔
خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہﷺ نے انسانیت کی عظمت، احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے۔ آپﷺ کی پوری زندگی انسانیت نوازی اور تکریم انسانیت کی تعلیمات سے عبارت ہے۔ آپﷺ کی حیات مبارکہ میں انسانی حقوق کے تحفظ اور عملی نفاذ کے حوالے سے خطبہ فتح مکہ اور خطبہ حجۃ الوداع کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
خطبہ حجۃ الوداع: حج کے دن حضورﷺ عرفہ تشریف لائے اور آپﷺ نے وہاں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھلنے لگا تو آپﷺ اپنی اونٹنی (قصویٰ) پر بطنِ وادی میں تشریف فرما ہوئے اور اپنا وہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں دین کے اہم امور بیان فرمائے۔ امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی نے خطبہ حجۃ الوداع کے درج ذیل اہم نکات تحریرکیے ہیں:
اِبتدائیہ: آپ ﷺ نے خطبے کی یوں ابتدا فرمائی: خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، وہ یکتا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا، اس نے اپنے بندے (رسول) کی مدد فرمائی اور تنہا اس کی ذات نے باطل کی ساری مجتمع قوتوں کو زیر کیا۔ لوگو! میری بات سنو، میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس میں یکجا ہو سکیں گے۔
مساواتِ اِنسانی کا تصور: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا کہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت و کرامت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے‘‘۔ اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے‘‘۔
نسلی تفاخر کا خاتمہ: ’’قریش کے لوگو! خدا نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں‘‘۔
زندگی کا حق: ’’لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں۔ ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسی اس دن کی اور اس ماہ مبارک (ذی الحجہ) کی خاص کر اس شہر میں ہے۔ تم سب خدا تعالیٰ کے حضور جاؤ گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس فرمائے گا۔ دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ہی کشت و خون کرنے لگو‘‘
مال کے تحفظ کا حق: ’’اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے‘‘۔
اَفرادِ معاشرہ کا حق: ’’لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘
خادموں کا حق: ’’اپنے غلاموں کا خیال رکھو، ہاں غلاموں کا خیال رکھو، انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، ایسا ہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو‘‘۔
لاقانونیت کا خاتمہ: ’’دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں تلے روند دیا، زمانہ جاہلیت کے خون کے سارے انتقام اب کالعدم ہیں۔ پہلاانتقام جسے میں کالعدم قرار دیتا ہوں، میرے اپنے خاندان کا ہے‘‘۔
نومولود کا تحفظِ نسب: ’’بچہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا سنگساری ہے، ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاں ہو گا‘‘
قرض کی وصولی کا حق: ’’قرض قابلِ ادائیگی ہے، عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے، تحفے کا بدلہ دینا چاہئے اور جو کوئی کسی کا ضامن بنے، وہ تاوان ادا کرے‘‘۔
ملکیت کا حق: ’’کسی کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خوشی خوشی دے۔ خود پر اور ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو‘‘۔
خاوند اور بیوی کے باہمی حقوق: ’’عورت کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اِجازت کے بغیر کسی کو دے۔ دیکھو! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے اور وہ کوئی خیانت نہ کریں، کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو خدا کی جانب سے اجازت ہے کہ تم انہیں معمولی جسمانی سزا دو اور وہ باز آجائیں تو انہیں اچھی طرح کھلاؤ پہناؤ‘‘۔
قانون کی اِطاعت: ’’میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے اگر اس پر قائم رہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور ہاں دیکھو، دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کر دیئے گئے‘‘۔
اللہ کے حقوق: ’’لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو،روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ دیتے رہو، اپنے خدا کے گھر کا حج کرو اور اپنے اہل اَمر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے‘‘۔
اِنصاف کا حق: ’’آگاہ ہو جائو! اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہو گا، اب نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا اور نہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا‘‘۔
عوام الناس کا پیغامِ ہدایت سے آگہی کا حق: ’’سنو! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو بتا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو‘‘۔
حضور نبی اکرمﷺ کا حق: ’’اور لوگو! تم سے میرے بارے میں (خدا کے ہاں) سوال کیا جائے گا۔ بتاؤ تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپﷺ نے امانتِ (دین) پہنچا دی اور آپﷺ نے حقِ رِسالت ادا فرما دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی‘‘۔
اثرات و نتائج: خطبہ کے آخر میں آپﷺ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچادیا ہے؟ تو تمام حاضرین نے اقرار کیا کہ بے شک آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہم تک پہنچادیا ہے۔ حاضرین کے اقرار پر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے فرمایا: اے اللہ، تو گواہ رہنا۔ اس کے بعد آپﷺ نے دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ہمیشہ کیلئے امتِ محمدیہﷺ کو سونپتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’جو لوگ حاضرہیں، وہ غائب تک پہنچا دیں، ہو سکتا ہے کہ جس کو (اللہ تعالیٰ کا پیغام) پہنچایا جائے، وہ حاضر کی نسبت اس کو زیادہ یاد رکھنے والا ہو‘‘(صحیح بخاری، حدیث: 67)
رسول اللہﷺ کے اس پیغام کے اولین مخاطب صحابہ کرامؓ تھے اس لیے نبوی فرمان کی روشنی میں صحابہ کرامؓ نے دعوت و تبلیغ کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اگرچہ رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ ہی میں صحابہ کرام ؓ دعوت و تبلیغ میں رسول اللہﷺ کے شانہ بشانہ کام کرتے رہے لیکن آپﷺ کے وصال کے بعد اب یہ ذمہ داری براہ راست صحابہؓ پر آن پڑی تھی۔ اس لیے صحابہ کرامؓ نے کارِ نبوت کی انجام دہی میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ سیرتِ صحابہؓ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہﷺ نے ان کو جو مشن تفویض فرمایا تھا، اس کی بجا آوری میں صحابہ کرامؓ نے ہر دستیاب موقع سے پورا فائدہ اٹھایا۔ سفروحضر، آسانی وتنگی ہر حال میں دعوت کے فریضہ کو اوّلین اہمیت دی۔ نہ صرف پوری زندگی بلکہ زندگی کی آخری سانسوں تک دعوتِ دین کی فکر ہی دامن گیر رہی۔