اسلام میں تحفظ ِ حقوق ِ انسانی

تحریر : ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان


دنیا بھر میں انسانوں کو قابل احترام مقام دینے،انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھام، عوام میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے اور خصوصاً خواتین کو ان کے بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں آگاہی کا شعور فراہم کرنے کیلئے ’’انسانی حقوق کاعالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔

جس کا ایک مقصد دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا بھی ہے۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے جو حقوق العباد کے تحفظ کا تصور دیا تھا وہ اقوام متحدہ اور دنیا بھرکے ممالک کے انسانی حقوق کے قوانین پرفائق ہے۔اس مختصر مضمون میں اسلام کے عطا کردہ تحفظ انسانی حقوق کے اصولوں کو اختصار کے ساتھ بیان کیاجارہاہے۔

انسانی حقوق کاتصور

  انسانی حقوق دورِ جدید کا اہم ترین موضوع ہے تا ہم اسلام دنیا کی وہ واحد تہذیب ہے کہ جس کیلئے انسانی حقوق ہرگز کوئی نیا تصور نہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری (یعنی شہروں اور صحراؤں اور سمندروں اور دریاؤں) میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیا‘‘ (بنی اسرائیل:70)

مولانااصغرعلی ربانی اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیںکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ہدایت دے کر اسے بڑی عزت بخشی ہے، جتنا بندوبست اس کی ہدایت کا کیا گیا ہے اتنا کسی اور مخلو ق کیلئے نہیں کیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں، ہم نے اس کی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کا بندوبست وسیع پیمانے پر کردیا ہے۔ یہ تمام روئے زمین پر سواریوں اور جہازوں کے ذریعے چل پھر سکتا ہے۔ ہم نے اسے دنیا کی ضرورتوں کیلئے مارا مارا پھرنے سے اس لئے بچایا ،کہ کہیں ان کے پورا کرنے میں پھنس کر اپنے سارے قیمتی وقت کو ضائع نہ کر دے۔ اگر لالچ سے بچا رہا تو تھوڑی سی محنت سے سب کو باآسانی ضرورت کے مطابق رزق مل سکتا ہے۔ اگر اس کے اندر پیچیدگیاں پیدا کیں تو بہت سی فضیلتوں سے اپنے آپ کو محروم کردے گا۔ (تفسیر ربانی، ج 7،ص497)

 اسلام میں انسانی حقوق

انسانی حقوق کے بارے میں اسلام کاتصور بنیادی طور پر بنی نوع انسان کے احترام، وقار اور مساوات پر مبنی ہے۔ حق کی پاسداری، انسانی معاشرے میں باہمی حقوق کا احترام اور اعلیٰ اقدار کا قیام و فروغ اسلامی تعلیمات کی بنیادی روح ہے۔ اسلام کے دین امن و سلامتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کیلئے نام ہی ’’اسلام‘‘ پسند کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظام حیات کی حیثیت سے) پسند کرلیا‘‘(المائدہ:3)۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک مسلمان صرف وہ ہے جو تمام انسانیت کیلئے پیکر امن و سلامتی ہو۔ حدیث مبارکہ ہے، حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان کے جان و مال اور عزتیں محفوظ رہیں‘‘ (صحیح بخاری: 10)۔نبی کریمﷺ کے نزدیک وہی مسلمان ہے جس کا وجود دوسروں کیلئے منبع امن و عافیت اور سر چشمہ امن و سکون ہو۔

مخلوقات پر انسان کی فضیلت

صوفی عبدالحمیدسواتی لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو فضیلت دی ہے وہ دو قسم کی ہے۔ ایک عمومی فضیلت جو کہ ہر انسان کو حاصل ہے اور ایک خصوصی فضیلت جو اللہ نے اپنے خاص بندوں کو عطا فرمائی ہے۔ 

امام ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے فضیلت بخشی ہے کہ زمینی مخلوق میں اسے زبان حاصل ہے جس کی بنا پر یہ گفتگو کرتا اور اپنے دل کی بات کہہ سکتا ہے۔ یہ ایسا کمال ہے جو کسی دوسری مخلوق چرند، پرند، درند وغیرہ کو حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خوبصورتی بھی عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ التین میں فرمایا ہے کہ: ’’ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت عطا کی، اللہ تعالیٰ نے انسان کو سیدھا قد عطا فرمایا، مخلوق میں کچھ جانور ٹیڑھے، کچھ چار پاؤں پر جھکے ہوئے اور کچھ بالکل زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ‘‘۔

غذا کے معاملے میں بھی انسان کو دوسری مخلوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ یہ اناج اور پھل کا مغز استعمال کرتا ہے جبکہ چھلکا وغیرہ دوسرے جانوروں کی خوراک بنتا ہے۔ انسان کو یہ سارے شرف حاصل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو کمال درجے کا صفائی پسند بنایا ہے، جانور کے آگے تو گندی جگہ میں بھی چارہ رکھ دیا جائے تو وہ اسے کھا لیتا ہے مگر انسان کسی گندے برتن میں کھانا پسند نہیں کرتا۔ رسول معظمﷺ چمڑے کا دستر خوان زمین پر بچھا کر کھانا کھاتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوسری مخلوق پر فضیلت اس اعتبار سے بھی دی ہے کہ انسان میں فہم سمجھ اور تحقیق و جستجو کا مادہ ہے ۔انسان اپنے عقل اور سمجھ استعمال کرکے دوسری تمام مخلوق سے کام لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حکومت کرنے کی استعداد بھی بخشی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لکھنا پڑھنا بھی سکھایا جس سے دوسرے جاندار خالی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیشہ ورانہ صلاحیت اور ہنرمندی اعلیٰ درجے کی عطا کی ہے جس کی بنا پر یہ لاکھوں کروڑوں چیزیں بنا لیتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان میں روحانی فضیلتیں رکھیں کہ انسانوں کی ہدایت کیلئے انہیں میں سے اپنے پیغمبر بنا کر بھیجے۔  آگے فرمایا کہ : ہم نے انسانوں کو خشکی اور تری میں سواری مہیا کی، جانوروں کی سواری صرف انسان ہی کیلئے ہے۔ خود جانور ایک دوسرے کی سواری نہیں بنتے۔ انسان سامان لادنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کیلئے خشکی پر اونٹ، گھوڑے، خچر اور گدھے وغیرہ استعمال کرتے ہیں جبکہ سمندروں اور دریاؤں میں سفر اور سامان لانے، لیجانے کیلئے  چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے لے کر بڑے برے جہاز ہیں۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے بری، بحری اور ہوائی سفر کی سواریاں مہیا فرمائی ہیں، یہ بھی اس کی فضیلت کی علامت ہے۔

انسانی جان کاتحفظ

اسلام نے انسانی زندگی کے تقدس پر بہت زور دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد انگیزی (کی سزا) کے بغیر (ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا ،اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)‘‘(المائدہ:32)۔

در ج بالا آیت کریمہ میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص کے بغیر انسانی جان کی قدرو قیمت بیان کی گئی۔ یعنی کوئی شخص جب کسی کو قتل کرتا ہے تو وہ صرف ایک انسان کا قاتل نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا قاتل ہوتا ہے کیونکہ وہ حرمت کے اس قانون کو توڑتا ہے جس میں تمام انسانوں کی زندگیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے حصے کی ذمہ داری اداکرے۔ کوئی شخص دوسرے کے دائرہ میں بیجا مداخلت نہ کرے۔ 

تکریم انسانی

حضور اکرمﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر پوری نسل انسانی کو عزت ، جان او رمال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ایک خطبہ ارشاد فرمایاجس کا ذکرامام بخاریؒنے کیا وہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم نحر میں خطبہ دیا ،آپﷺنے پوچھاکہ اے لوگو ! یہ کونسا دن ہے ؟ لوگوں نے جواب دیایہ یوم حرام ہے، آپ ﷺنے پوچھا: یہ کونسا شہر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ شہر حرام ہے، آپﷺ نے پوچھا:یہ کونسا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا :یہ حرام کا مہینہ ہے، آپ ﷺنے فرمایا تمہارا خون، تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر حرام ہے، جس طرح یہ دن تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینہ میں حرام ہے۔ آپ ﷺنے یہ کلمات چند بار دہرائے، پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر کہا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا، اے میرے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ حضرت ابن عباس ؓنے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، آپﷺ نے اپنی امت کو یہی وصیت فرمائی تھی کہ جو لوگ حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ (صحیح بخاری: 1739)۔

 معاہدات نبوی ﷺاور انسانی حقوق

نبی مکرمﷺ کی پوری حیات طیبہ انسانیت نوازی اور انسانی حقوق کی پاس داری سے عبارت ہے۔خاص طور پہ ’’معاہدہ حلف الفضول‘‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سرزمین عرب بالخصوص مکہ کی ریاست میں عرب تاریخ میں پہلی مرتبہ قیام امن، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور مظلوموں کی داد رسی کا تاریخ ساز معاہدہ کیاگیا۔

نبی اکرمﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ انسانیت نوازی اور انسانی حقوق کے عملی نفاذ سے عبارت ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’(پوری انسانی) مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، پس اللہ کے نزدیک مخلوق میں بہتر وہ ہے جو اس کے کنبے کے ساتھ احسان کرے‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح: 4998)۔ 

 بنیادی انسانی حقوق کا جامع دستور ’’خطبہ حجتہ الوداع‘‘ میں ہے۔ یہ خطبہ تاریخی اولیت رکھتا ہے حقو ق کی تلقین کسی سیاسی مصلحت کی بنا پر نہ تھی اور نہ کسی وقتی جذبہ کی پیداوار یہ محسن انسانیتﷺ کا انسانیت کے نام آخری اور دائمی پیغام تھا جس میں انسانی حقوق کے بنیادی خطوط متعین کیے گئے اور حقوق کا مثالی اور ابدی منشور عطا کیا گیا۔

 مساواتِ اِنسانی کا تصور

حضور نبی اکرم ﷺنے خطبہ حجۃ الوداع میں واضح الفاظ میں اعلان فرمایا: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا کہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت و کرامت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے‘‘۔ اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عرب کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے۔

 حقوق کی ادائیگی کا حکم

پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قریش کے لوگو! ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور تم اس طرح آؤ کہ تمہاری گردنوںپردنیا کا بوجھ لدا ہو اور دوسرے لوگ سامانِ آخرت لے کر پہنچیں اور اگر ایسا ہوا تو میں خدا تعالیٰ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا‘‘۔

 نسلی تفاخر کا خاتمہ

’’قریش کے لوگو! خدا نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں‘‘۔

 زندگی کا حق

’’لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں۔ ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسی اس دن کی اور اس ماہ مبارک (ذی الحجہ) کی خاص کر اس شہر میں ہے۔ تم سب خدا تعالیٰ کے حضور جاؤ گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس فرمائے گا۔ اور فرمایا:دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ہی کشت و خون کرنے لگو‘‘۔

مال کے تحفظ کا حق

’’اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے‘‘۔

افرادِ معاشرہ کا حق 

’’لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں،اپنے غلاموں کا خیال رکھو، انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، ایسا ہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو‘‘۔

لاقانونیت کا خاتمہ 

’’دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں تلے روند دیا۔ خون کے سارے انتقام اب کالعدم ہیں۔ پہلا انتقام جسے میں کالعدم قرار دیتا ہوں، میرے اپنے خاندان کا ہے۔ ربیعہ بن حارث ؓکے دودھ پیتے بیٹے کا خون جسے بنو ہذیل نے مار ڈالا تھا، معاف کرتا ہوں‘‘۔

 معاشی اِستحصال سے تحفظ کا حق

’’اب دور جاہلیت کا سود کوئی حیثیت نہیں رکھتا، پہلا سود جسے میں چھوڑتا ہوں، عباس بن عبدالمطلب ؓکے خاندان کا سود ہے‘‘۔

 وراثت کا حق

’’لوگو! خدا نے ہر حقدار کو اس کا حق خود دے دیا، اب کوئی کسی وارث کے حق کیلئے وصیت نہ کرے‘‘۔

خواتین کے حقوق 

’’عورتوں سے بہتر سلوک کرو کیونکہ وہ تو تمہاری پابند ہیں، کیونکہ وہ خود کچھ نہیں کر سکتیں۔ ان کے بارے میں خداتعالیٰ کا لحاظ رکھو کہ تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کے نام پر حاصل کیا اور اسی کے نام پر وہ تمہارے لئے حلال ہوئیں‘‘۔

 قانون کی اِطاعت

’’میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے اگر اس پر قائم رہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کر دیئے گئے‘‘۔

اِنصاف کا حق 

’’آگاہ ہو جائو! اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہوگا، آگاہ ہو جائو! اب نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا اورنہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا‘‘

قرض کی وصولی کا حق

’’قرض قابلِ ادائیگی ہے، عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے، تحفے کا بدلہ دینا چاہئے ‘‘۔

 ملکیت کا حق 

’’کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خو شی خوشی دے۔ خود پر اور ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو‘‘۔

 خاوند اور بیوی کے باہمی حقوق

’’عورت کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اِجازت کے بغیر کسی کو دے۔ دیکھو! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے ، کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو خدا کی جانب سے اجازت ہے کہ تم انہیں معمولی جسمانی سزا دو اور وہ باز آجائیں تو انہیں اچھی طرح کھلاؤ پہناؤ‘‘

 نومولود کے تحفظِ نسب کا حق

’’بچہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا سنگساری ہے، اور ان کا حساب و کتاب اللہ تعالیٰ کے ہاں ہوگا‘‘۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

یوم یکجہتی کشمیر:آزادی کی سحر جلد طلوع ہوگی

کشمیرجغرافیائی لحاظ سے وسط ایشیا کے سنگم پر واقع ہے اور اس میں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔

انسانی حقوق خرم پرویز اور بی جے پی

بھارت میں انسداد دہشت گردی کے ادارے نے کشمیر انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے نامور شخص خرم پرویز کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا ہے۔

بھارتی افواج کے ہاتھوں ذہنی معذور کا قتل

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نے آزاد جموں و کشمیر کے علاقے کوٹلی سے تعلق رکھنے والے تبارک حسین کو جو ذہنی طور پر معذور تھا دوران حراست شہید کر دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر دنیا کی نظر میں!

بھارت کی تمام تر کوششوں اور ڈراموں کے باوجود دنیا بخوبی جان چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

مسئلہ کشمیر:کب کیا ہوا؟

14-15 اگست 1947ء: برطانیہ سے آزادی کے بعد دو خود مختار ریاستیں پاکستان اور بھارت وجود میں آئیں۔

لالچی لومٹری

ٹینا لومڑی کے پاس دو مونگ پھلیاں تھیں، مگر اس کا ان دو مونگ پھلیوں سے کچھ ہونے والا نہیں تھا۔ اسے لگ رہا تھا، جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ، وہ زیادہ مونگ پھلیاں چاہتی تھی، پر کیسے؟ یہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اس نے دیکھا، ایک مونگ پھلیاں بیچنے والا اس کی طرف آ رہا ہے۔