انورسدید کا تصوراسلوب

تحریر : ڈاکٹرمنورعثمانی


انور سدید کا تصور اسلوب اور تجزیہ اسلوب ان کے تنقیدی اثاثے کی ایک اہم جہت ہے لیکن اس کا ذکر ادبی اور تنقیدی حلقے میں ذرا تم ہی ہوا ہے، سو خاصی حد تک ’’غیر معروف‘‘ ہے۔ انور سدید کی تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی شخصیت کی وسعت اور تحریری آثار کی کثرت کے باعث یہ جہت اکثر کی آنکھوں سے اوجھل رہی یا شاید انہوں نے اسے اوجھل رکھنے ہی میں عافیت جانی۔ عموماً انور سدید کے قارئین، مداحین، ناقدین حتیٰ کہ معرفین بھی ان کی معروف کتاب’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ پر آکر رک جاتی ہیں اور اس کی مدحت و مذمت میں صرف ہوتے رہتے ہیں۔

ہمارا یہ عجیب رویہ ہے کہ فقط معروف ترین پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ ایک انشائیہ نگار نے لکھا تھا ’’معروف منظر، سب کی نظر میں ہوتا ہے، اس تک پہنچنا صرف یاترا ہے، غیر معروف منظر کو پا لینا، دریافت اور اس کے اندر جاری سفر سے ہم آہنگ ہو جانا سیاحت ہے، معروف منظروں کی گرفت سے نکلنے کیلئے بڑی ریاضت چاہیے، ریاضت پوری ہوتے ہی مسافرت و نظارت میں تیزی اور کشادگی آ جاتی ہے‘‘۔

ڈاکٹر انور سدید کا تنقیدی مدار خاصا وسیع ہے، انہوں نے متعدد ادبی اصناف، تنقیدی  تصورات اور تاریخی و تحریکی تناظرات پر تسلسل اور جامعیت سے لکھا ہے۔ نثری اسالیب کے حوالے سے ان کی کوئی ایک موضوعی کتاب تو نہیں ہے البتہ نثری اسالیب پر مختلف کتابوں میں بکھری ہوئی ان کی آرا، تصورات اور تجریات کو یکجا کیا جائے تو مطالعہ اسلوب کے حوالے سے ایک موضوعی کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔

نثر کے حوالے سے انور سدید کا خیال ہے کہ ’’ادب کی اصناف میں نثر کا جوہر، بڑے طویل عرصے کے بعد جا کر کھلتا ہے اور اس صنف میں انفرادیت پیدا کر لینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں‘‘۔ ان کے نزدیک، وہی نثر جادو جگاتی ہے جس میں ادیب فطرت کی نیرنگیوں کے اظہار و انکشاف کے عمل میں اپنی ذات کو بھی سمو دیتا ہے،اس طرح ادبی نثر عام بول چال اور ’’اظہاری یا کاروباری نثر‘‘ سے مختلف ہو جاتی ہے۔وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ نثر کا حسن ہر کسی پر فوراً منکشف نہیں ہو جاتا بلکہ ’’اسے پرکھنے کیلئے ذوق لطیف کے علاوہ جوہر شناس نظر کی بھی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ان کے مطابق ’’نثر نگار کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا اسلوب ہے‘‘۔ اسلوب فقط کسی خیال و احساس کو لفظوں میں پیش کرنے کا عمل نہیں ہے بلکہ لفظوں کو ایک ایسی زندگی عطا کر دینا ہے جس کی تحویل میں خیال و احساس بھی ہو اور قوت گویائی بھی، وہ لکھتے ہیں: ’’فنکار کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی غواصی کے عمل سے الفاظ کی مرمریں مورتیوں میں زندگی کی لہر اس طرح دوڑائے کہ ان لفظوں کو اعجاز گویائی حاصل ہو جائے اور وہ قاری سے اس طرح باتیں کرنے لگیں جس طرح فنکار تخلیقی لمحے میں خود اپنے آپ سے ہم کلام ہوتا ہے‘‘۔

انور سدید اپنے مضمون ’’مولانا صلاح الدین احمد کا اسلوب‘‘ میں مولانا صلاح الدین احمد کے تصور اسلوب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’ایک پرزور اسٹائل کیلئے وہ (مولانا صلاح الدین احمد) خارجی فضا اور داخلی دنیا کے تصادم کو بے حد ضروری قرار دیتے ہیں‘‘۔ انور سدید اسی قول کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ ’’یہ تصادم اس وقت تک عمل میں نہیں آ سکتا جب تک کہ مصنف کو اپنے موضوع سے ذاتی یا شخصی تعلق نہ ہو‘‘۔ اس فقرے سے انور سدید کے تصور اسلوب کی ایک نمایاں پرت سامنے آ جاتی ہے کہ نثر نگار جب بھی اپنے موضوع کو اپنی ذات یا اپنی ذات کو موضوع کا حصہ بناتا ہے تو نثر کی ساری رعنائی اور رونقیں اسی نکتہ انضمام سے پھوٹنے لگتی ہیں۔

انور سدید کے نزدیک کسی بھی تخلیقی تحریر میں ظاہر ہونے والے لفظ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ’’اولاً وہ الفاظ ہیں جنہیں تحریر کے لازمی جزو کے طور پر سب مصنف یکساں طور پر استعمال کرتے ہیں، ثانیاً وہ مخصوص الفاظ جن پر صرف ایک مصنف کا تشخصی تصرف ہوتا ہے، ان لفظوں کو کوئی دوسرا مصنف اسی حسن و خوبی سے استعمال نہیں کر سکتا اور اگر اس قسم کی کوشش کرے بھی تو گنبد کی آواز صاف سنائی دینے لگتی ہے۔ اوّل الذکر الفاظ میں مصنف  کی انفرادیت جملوں کی ترتیب اور تکنیک میں ظاہر ہوتی ہے، یہی جملے مصنف کے مزاج اور فکری انداز کا تعین کرتے ہیں‘‘۔

انور سدید ہر تخلیقی مصنف سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ’’نئے موضوعات و تصورات‘‘ کے ساتھ ساتھ ایک نئے ’’ذخیرہ الفاظ‘‘ کو بھی سامنے لائے یا پہلے سے موجود الفاظ کو حیات نو دے، لیکن یہ مشکل امر لفظ کے داخل میں ’’جذبہ و خیال‘‘ کی لہروں کو مرتعش اور متموج کئے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ انور سدید وزیر آغا کی لسانی تکنیک اور اسلوبی ترجیحات کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’وزیر آغا نے اردو ادب کو متعدد نئے موضوعات و تصورات سے ہی متعارف نہیں کرایا بلکہ اردو زبان کے ذخیرہ الفاظ میں بھی معتدبہ اضافہ کیا ہے اور بہت سے پرانے اور خوابیدہ الفاظ کی تجدید کرکے، انہیں قبول عام کا درجہ دے دیا ہے۔ یہ الفاظ وزیر آغا کی تکنیک کا خارجی ڈھانچا مرتب کرتے ہیں اور یہ اتنے اثر آفریں ہیں کہ وزیر آغا کے قلم کا لمس پاتے ہی لو دینے لگتے ہیں، ان الفاظ کے داخل میں جذبہ و خیال کی وہ لہریں مخفی ہیں جو قاری کی طرف آہستہ روی سے سفر کرتی ہیں اور اسے بہا لے جانے کے بجائے مسرت و شادمانی سے ہمکنار کر دیتی ہیں‘‘۔

انور سدید الفاظ ہی نہیں، اصناف ادب کے بھی مزاج شناس ہیں۔ ادب کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ ہر صنف ادب کی اپنی منفرد خصوصیات ہوتی ہیں، ان کا اثر مواد اور اسلوب دونوں پر ہوتا ہے۔ انور سدید کسی بھی نثر نگار کے اسلوب کو دریافت کرتے ہوئے صنف ادب کے مزاج سے اسلوب کی مطابقت ضرور نشان زد کرتے ہیں۔ مثلاً وزیر آغا کی انشائیہ نگاری کے حوالے سے لکھتے ہیں : ’’ان کا تخلیقی  اسلوب محض انشائیہ کی تکنیکی ضرورت کو پورا نہیں کرتا بلکہ یہ ان کی عمر بھر کی ریاضت کا ثمر اور تہذیبی شخصیت کا پر تو بھی ہے۔ ان کے اسلوب میں دھندلا اور سحرزا اجالا پیدا کرنے کی صلاحیت نمایاں ہے‘‘۔

صنف انشائیہ کی دو اہم خصوصیات انکشاف ذات اور ایک نئی فکری اور اسلوبی فضا کی تخلیق اور عمومی اور وضاحتی طریقوں سے انحراف ہے۔ انور سدید بتا رہے ہیں کہ یہ دونوں خصوصیات وزیر آغا کے انشایئے میں ان کے اسلوب سے پھوٹتی ہیں اور موضوع اور متن کو ترفع عطا کر دیتی ہیں۔ اسی طرح انور سدید جب سفر نامے کی صنف کو موضوع بناتے ہیں تو اس میں اسلوب کی کار فرمائی کے تمام زاویوں کی سفر نامے سے جڑت، مطابقت یا مناسبت کو ضرور پیش کرتے ہیں۔ مثلاً: ’’سفر نامہ کے بیانیے کو مرصع بنانے کیلئے بالعموم ایسا اسلوب اختیار کیا جاتا ہے جو داخلی طور پر توانا ہو اور خارج کی صداقت پر غالب آنے کے بجائے اس کی سچائی کا مظہر بن سکے اور سفر نامے کی سنجیدگی کو مجروح نہ کرے‘‘۔

یہ کتنا ہم نکتہ ہے کہ سفر نامے کا مواد ہی نہیں، اسلوب بھی سچائی اور سنجیدگی کا مظہر نہ ہو تو خارجی حقائق بدل جاتے ہیں اور سفری روداد مضحکہ خیز ہو کے رہ جاتی ہے۔ ادیب ہی نہیں، غیرادیب کا سفر نامہ، اسلوب کے زاویے سے کیسا ہونا چاہیے؟ انور سدید لکھتے ہیں: ’’ ایک سیاح کیلئے ادیب ہونا لازمی نہیں، تاہم اس کے داخل میں ادیب کے خواص کا موجود ہونا یقیناً ضروری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب سیاح سفر نامہ لکھتا ہے تو وہ ادیب کا فریضہ ہی سرانجام دیتا ہے، لہٰذا نہ صرف ماحول کو زندگی کا تحرک عطا کر دیتا ہے بلکہ خارج کے مشاہدے کو داخل کے سمندر سے مس کرکے یوں معرض تحریر میں لاتا ہے کہ اس میں بیشتر ادبی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں‘‘۔

طنز و مزاح سے (خواہ اسے صنف ادب کہیے یا وصف ادب) انور سدید کا تعلق تخلیقی سطح پر بھی تھا  اور تنقیدی سطح پر بھی! غلام الثقلین نقوی کی مزاح نگاری کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’واحد متکلم کی سادگی، اشیاء اور مظاہر کو دیکھنے کا معصوم انداز اور مشاہدے کو شگفتہ انداز میں صداقت سے پیش کرنے کا اسلوب مسکراہٹ کو بیدار کردیتا ہے‘‘۔

کتنا بڑا اسلوبی کلیہ اس سادہ سے جملے میں آ گیا ہے، گویا ایک طنزو مزاح نگار کی طریق کار اور انداز بیان جب سادگی، معصومیت، شگفتگی اور صداقت سے باہر نکلتا ہے تو مصنوعی اور مبتذل ہو جاتا ہے۔انور سدید نے اردو کے متعدد نثر نگاروں، خصوصاً انشائیہ نگاروں کے اسلوب پر مختصر لیکن جامع آرا کا اظہار کیا ہے البتہ مولانا صلاح الدین احمد اور وزیر آغا کے نثر اسالیب پر مفصل لکھا ہے۔ نثری اسالیب کے تنقیدی مطالعے کی روایت میں انور سدید کی اہمیت یہ ہے کہ وہ تخلیقی نثر اور علمی نثر کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے، اپنے مطالعہ اسلوب کے نتائج پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطالعات میں توازن، باریک بینی اور تخلیقی نوعیت کی نکتہ آفرینی نظر آتی ہے۔ وہ لفظوں کے استعمال ہی نہیں بلکہ ان کے وجود کو بھی تخلیقی امکانات کا حامل سمجھتے ہیں اور انہوں نے قدیم ہی نہیں، متعدد جدید اور معاصر نثر نگاروں کے نثری اسالیب پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انور سدید نے مختلف اصناف ادب اور دیگر علمی و ادبی موضوعات پر مسلسل تخلیقی و تنقیدی پیش رفت جاری رکھی ہے۔  ان کے تنقیدی آثار میں نثری اسالیب کے مطالعات کا حجم قدرے کم ہے لیکن جو کچھ ہے وہ اہم متوازن اور وقیع ہے۔

آخری بات اردو میں کتنے ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اسلوب کے مسائل میں دلچسپی لی، اپنا ایک تصور اسلوب تشکیل دیا، نظری سطح پر وضاحت اور جامعیت سے اپنا تصور اسلوب پیش کرنے کے ساتھ عملی تنقید میں اسے برتا۔ اسالیب نثر کی تنقیدی روایت میں قابل قدر اضافہ کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی تنقیدی اور تخلیقی نگارشات   میں اپنے تصور اسلوب کا اثبات کیا، اسے استحکام دیا، صاحب اسلوب نثر نگار کہلائے اور نو واردان بساط ادب کیلئے مثال اور معیار بنے۔ انور سدید اس نوعیت کے گنے چنے اردو ادیبوں میں نمایاں  مقام کے حامل ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

پی ایس ایل 9،دوسرا مرحلہ:ملتان سلطانز پوائنٹس ٹیبل پر سر فہرست

پاکستان سپر لیگ سیزن 9کا پہلا مرحلہ لاہور اور ملتان میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر، کراچی اور راولپنڈی میں میلہ سج گیا۔

غصے کا انجام

احمر تیزی سے سکوٹی چلاتا ہوا جا رہا تھا۔وہ شدید غصے میں تھا اورآس پاس چلنے والوں سے بے خبر منہ پھُلائے تیزی سے سکوٹی دوڑاتا گھر کی جانب روانہ تھا۔

ذرامسکرائیے

ایک خاتون کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ڈاکٹر نے پلاسٹر چڑھا کر اسے ہدایت کی کہ سیڑھیوں سے اترنا چڑھنا نہیں ہے۔ تین ماہ بعد مریضہ آئی تو ڈاکٹر نے پلاسٹر کاٹا اور ہڈی جڑنے میں اتنی دیر لگنے پر تعجب کا اظہار کیا۔

کیا پرندے اور جانور موسمی تبدیلیوں کا پتا لگالیتے ہیں؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ پرندے اور جانور مستقبل میں پیش آنے والی موسمی تبدیلیوں کی نشاندہی کر دیتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ لوگ عموماً یہ کہتے ہیں کہ خزاں کے موسم میں چھچھوندر اپنا بل بہت گہرا کھودتی ہے یا کوے بہار کے موسم میں اپنے گھونسلے اونچے اونچے درختوں کی بلند شاخوں پر بناتے ہیں اور اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جانوروں اور پرندوں کی سرگرمیوں اور عادات سے موسم کی تبدیلی کا پیشگی علم ہو جاتا ہے، لیکن یہ سب قیاسی باتیں ہیں۔ جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

چار صوبے

پاکستان کے صوبے ہیں چار مل کے دہراتے ہیں یار آبادی میں بڑا صوبہ پنجابپانچ دریا اسے کریں سیراب

پہیلیاں

(1) پھولوں میں دو پھول نرالے پاتے ہیں وہ قسمت والےکوئی تو ایک یا دونوں پائےخالی ہاتھ کوئی رہ جائے