معراج النبیﷺ خیر البشرﷺکاتاریخ ساز سفر

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


حضور پاکﷺ کے بے شمار معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ معراج بھی ہے۔ جس طرح تمام انبیاء کرامؑ میں سے حضور پاکﷺ جیسا کوئی نبی یا رسول نہیں ہو سکتا اسی طرح حضورﷺ کے تمام معجزات میں معراج جیسا کوئی معجزہ نہیں ہو سکتا۔ معجزہ ہوتا ہی وہ ہے جو انسانی عقل و خرد میں نہ آ سکے ۔ اللہ نے اپنے ہر بنی کو معجزہ عطا کیا جو اس دور کے حالات سے مطابقت رکھتا تھا۔

 معراج میں پہلی منزل جہاں براق کو روکا گیا وہ مدینہ طیبہ تھا، سرکاردوعالمﷺ نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔ دوسری منزل طور سینا تھا جہاں حضرت موسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا تھا، تیسری منزل بیت اللحم تھی جہاں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی اور چوتھی منزل بیت المقدس تھی جو حضرت سلیمانؑ کے بعد انبیاکرام ؑکا قبلہ تھا۔

ساتویں آسمان کے بعد آقا لجپالﷺ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے جو عالم خلق اور خدا کے درمیان حد فاضل ہے۔ اس سے آگے عالم غیب شروع ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر آپﷺ نے جنت الماویٰ کا مشاہدہ کیا۔ آپﷺ آگے بڑھنے لگے تو جبرائیلؑ نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہی میری انتہا ہے، میں آگے نہیں چل سکتا،اس سے آگے میں نے ایک بھی قدم رکھا تو میرے پر جل جائیں گے۔ سفر کے تیسرے مرحلے میں کوئی بھی فرشتہ نہیں جا سکتا تھا۔ پھر آپ ﷺکی مقدس بارگاہ عالیہ میں رف رف کی سواری پیش کی گئی۔ رف رف براق سے بھی زیادہ تیز ہے۔ رف رف پر آپﷺ نے سدرۃ المنتہیٰ سے عرش بریں تک کا سفر طے کیا اور لاتعداد پردے ایک ایک کر کے چاک ہوتے گئے۔ جب صرف ایک پردہ رہ گیا تو رف رف نے بھی آپ ﷺکا ساتھ چھوڑ دیا۔ یہاں آپﷺ کو گھوڑے کی طرح کی ایک سواری ملی۔ آگے کائنات کے آقا و مولا تاجدار کائنات حضرت محمد ﷺ جا رہے ہیں جن کیلئے یہ دنیا کی بزم سجائی اور بنائی گئی اور کائنات کو بتایا گیا، ایک صدا آئی ادن منی (مجھ سے قریب آجا)اب منزل قریب سے قریب تر ہے۔عرش معلی تک رسائی اور پھر حضوری حاصل ہوئی اور محب و محبوب میں راز و نیاز کی باتیں ہوئیں اوراب فاصلے ختم ہو گئے اور میرے سرکارﷺ مشاہدہ جمال میں یوں محو ہوگئے کہ مازاغ البصر وما طغی آنکھ نہ کسی طرف پھر ی نہ حد سے بڑھی اور قربان جائوں اپنے آقاﷺ پر کہ اس مقام پر بھی آپﷺ ہم گناہ گار امت کو نہ بھولے۔ امت کیلئے پچاس سے پانچ نمازیں فرض کروائیں ۔ یوں یہ سفر معراج ہوا اور یہ رات کے مختصر عرصہ میں ہوا، سوائے میرے کریم آقاﷺ کے کسی نے رب کو جاگتی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو دیدارکرانے کا کہا تو اللہ کے جلوہ ربوبیت کی ذرے برابر بھی کرن نہ دیکھ سکے اور بے ہوش ہوگئے۔ پھر عرض کی یا اللہ کوئی ایسا بھی بنایا ہے جس کو آپ دیکھیں اور وہ آپ کو !تو ارشاد ہوا کہ ہاں میں نے ایک ایسی ہستی بنائی ہے جس کیلئے تمہیں اور ساری کائنات کو بنایا ہے، وہ مقدس ہستی مجھے دیکھے گی اور میں اسے دیکھوں گا اور وہ ہستی میرا محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہو گا۔ 

مسجد الحرام مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک کے سفر کو ’’اسراء‘‘ اور بیت المقدس سے عرش تک کے سفر کو ’’معراج‘‘ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو مسجد الحرام سے بیت المقدس اور وہاں سے عرش معلی تک کی سیر کرائی۔معراج پر فرشتوں نے آپ سرکارﷺ کا استقبال کیا، بعدازاں فرشتوں اور انسانی ارواح سے حضورﷺ کا تعارف کرایا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے بھی حضورﷺکی ملاقات کرائی گئی۔ حضرت آدم ؑ کے دائیں بائیں بے شمار لوگ موجود تھے سرکار دوعالم اپنی دائیں سمت دیکھتے تو خوش ہوتے اور مسکراتے اور بائیں سمت دیکھتے تو غمگین ہوتے اور رونے لگتے۔ جبرائیل ؑنے کہا کہ آپؑ کے دائیں جانب نیک اور متقی لوگ ہیں اور بائیں جانب گنہگار اور دوزخی لوگ تھے۔

غیبت کرنے والوں کا انجام

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے۔میں نے جبرائیل ؑسے پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب دیا گیا کہ یہ وہ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے (غیبت کرتے ہیں) ہیں‘‘۔

سود خوروں کی سزا

آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میرا گزر ایسے لوگوں پر سے بھی ہوا جن کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے جیسے (انسانوں کے) گھر ہوتے ہیں۔ ان میں سانپ تھے جو باہر سے ان کے پیٹوں میں نظر آ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ اے جبرائیل ؑ! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ سود کھانے والے ہیں‘‘۔

زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا

آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے تھے اور اونٹ وبیل کی طرح چرتے اور کانٹے دار درخت اور جہنم کے پتھر کھارہے تھے۔پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ہیں۔

ڈاکہ ڈالنے والوں کی سزا

آپﷺ نے اس سفر میں ایک لکڑی دیکھی جو گزرنے والوں کے کپڑوں کو پھاڑ ڈالتی ہے۔ اس کے بارے میں جبرائیل امین ؑنے بتایا کہ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو راستوں میں چھپ کر بیٹھتے ہیں اور ڈاکہ ڈالتے ہیں۔

خیانت کرنے والوں کی سزا

آپﷺکا گزر ایسے شخص پر سے ہوا جس نے لکڑیوں کا بھاری گٹھا جمع کر رکھا تھااور اس میں اُٹھانے کی ہمت نہیں تھی۔ پھر بھی لکڑیاں جمع کر کر کے گٹھے کو بڑھا رہا تھا۔ پوچھنے پر جبرائیل ؑنے بتایا یہ وہ شخص ہے جو صحیح طور پر امانت ادا نہیں کرتا۔

جنت و جہنم

آپ کا گزر خوشبو والی جگہ سے ہوا جبرائیل ؑنے بتایا کہ یہ جنت ہے اور بدبو والی جگہ جہنم سے بھی گزر ہوا۔ابن عباسؓ کی روایت میں ہے ،آپ ﷺنے دجال اور داروغہ جہنم کو بھی دیکھا ۔

بوڑھے مرد و عورت اور جماعت انبیائؑ

آپﷺ کا گزر ایک بڑھیا پر سے ہوا، اس نے آپﷺ کو آواز دی، حضرت جبرائیل ؑنے عرض کی کہ آگے چلئے! پھر آپﷺ کا گزر ایک بوڑھے شخص پر سے ہوا اس نے بھی آپﷺ کو آواز دی، جبرائیل ؑنے کہا آگے چلئے!پھر ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے آپﷺ کو سلام کیا۔ جبرائیل امین ؑنے کہا کہ ان کے سلام کا جواب دیجیے۔ عرض کی کہ بوڑھی عورت دنیا اور بوڑھا مرد شیطان ہے دونوں کا مقصد آپﷺ کواپنی طرف مائل کرنا تھا اور جس جماعت نے آپﷺ کو سلام کیا وہ حضرت ابراہیمؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ہیں۔

ماشاطہ فرعون

آپ ﷺ کو خوشبو آئی‘آپ ﷺنے پوچھا کہ یہ خوشبو کیسی ہے؟ جبرائیل امین ؑنے کہا کہ یہ کنگھی کرنے والی (ماشاطہ) اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے۔ پھر اس کا مکمل واقعہ آپﷺ کو سنایا کہ ایک عورت ماشاطہ (کنگھی کرنے والی کو کہتے ہیں) فرعون اور اس کی اولاد کو کنگھی کیا کرتی تھی۔ ایک بارجب وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی توہاتھ سے کنگھی گر جانے پر بسم اللہ کہا۔ فرعون کی بیٹی نے کہا تو میرے باپ کے بارے میں کہہ رہی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ جو میرا اور تیرے باپ کا رب ہے یعنی اللہ رب العزت۔ فرعون کی بیٹی نے معاملہ باپ کے دربار تک پہنچا دیا۔ فرعون نے کہا کہ کیا تو میرے علاوہ کسی اور کو بھی رب مانتی ہے؟ اس عورت نے دلیری سے جواب دیا کہ ہاں جو میرا اور تیرا رب ہے۔ فرعون نے طیش میں آ کر ایک بڑے برتن میں پانی گرم کرایا اور حکم دیا کہ ماشاطہ اور اس کی اولاد کو کھولتے ہوئے پانی میں پھینک دیا جائے۔ اس دوران فرعون نے پوچھا تیری کوئی خواہش ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں میری اور میری اولاد کی ہڈیاں اکٹھی کر کے ایک جگہ دفنا دینا۔فرعون نے اس کی بات مان لی اور اس کی اولاد کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا گیا۔ جب اس کے شیر خوار بچے کی باری آئی تو خاتون کی ممتا نے جوش مارا اور وہ ذرا پیچھے ہٹی تو  بچے نے کہا: اماں جان بے خوف و خطر اس میں کود جاؤ! آخرت کا عذاب اس سے زیادہ سخت ہے۔ چنانچہ وہ ماشاطہ اس کھولتے ہوئے پانی میں کود گئی۔

مجاہدین اسلام کا اعزاز

آپ ﷺنے چند اہل جنت کے احوال بھی مشاہدہ فرمائے۔ آپ ﷺکا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو ایک ہی دن میں بیج بوکر فصل کاشت کر رہے تھے۔ جبرائیلؑ نے بتایا کہ یہ آپﷺ کی امت کے مجاہدین ہیں ان کی ایک نیکی سات سو نیکیوں سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اللہ ان کو اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے۔

انبیاء کرامؑ کی امامت

آپ ﷺبیت المقدس پہنچے جہاں پہلے سے انبیاء کر ام علیہم السلام اور ملائکہ آپ ﷺکے انتظار میں تھے۔ حضرت جبرائیل ؑنے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور مصلیٰ امامت پر کھڑا کر دیا۔ آپ ﷺنے ان سب کو دو رکعات نماز پڑھائی اور ’’امام الانبیاء‘‘کے شرف سے مشرف ہوئے۔ بیت المقدس سے عرش معلی تک کا سفر شروع ہوا۔ بالترتیب پہلے تا ساتویں آسمان پر آپﷺنے حضرت آدمؑ، حضرت عیسیٰؑ،حضرت یوسف ؑ، حضرت ادریس ؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات فرمائی۔  

سدرۃ المنتہیٰ

آپﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ ’’سدرہ‘‘ بیری کا نام ہے اور منتہیٰ کہتے ہیں اختتام کو۔یہ وہ مقام ہے کہ جہاں نیچے والے اعمال پہنچتے ہیں تو اوپر والے فرشتے یہاں سے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں اور اوپر والے احکام وہاں آتے ہیں تو نیچے والے فرشتے وہاں سے نیچے لاتے ہیں۔ آپﷺ کیلئے ایک سواری رف رف آئی وہاں سے اوپر گئے ،آپﷺ عرش معلی تک پہنچے۔

ذاتِ باریٰ تعالیٰ کی زیارت

آپ ﷺ عرش پر گئے ہیں، خدا سے بات بھی کی اور دیدار بھی کیا، اللہ کی بات کو سنا بھی، اللہ کی ذات کو دیکھا بھی۔ حضرت ابن عباس ؓسے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔ انس بن مالک ؓفرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں نے نور اعظم (اللہ)کو دیکھا ہے۔ 

بارگاہ خداوندی میں ہدیہ نبویؐ

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پوچھا: میرے پیغمبر آپ مہمان بن کر آئے ہیں، ہمارے لیے کیا لے کر آئے ہیں؟ آپﷺ نے عرض کی: اے اللہ! اَلتَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ میری زبانی، بدنی اور مالی عبادت آپ کیلئے ہیں۔

بارگاہ الٰہی سے ملنے والے انعامات

اللہ تعالیٰ نے تین انعامات عطا فرمائے، فرمایا ’’اے نبی! اگر آپ کی زبانی عبادت میرے لیے ہے تو پھر: ’’اَلسَّلَام عَلیک ایھا النبیُ‘‘میرا زبانی سلام بھی آپ ﷺکیلئے،اگر آپﷺ کی بدنی عبادت میرے لیے ہے تو وَرَحمَۃُ اللّہِ،میری رحمتیں بھی آپﷺ کیلئے۔اگر آپﷺ کا مال میرے لیے ہے تو وَبَرکاتُہ: اس مال میں برکات میری طرف سے ہیں‘‘۔

 نمازیں اور سورۃ البقرہ کی آخری آیات

 اسی موقع پر پانچ نمازوں کی فرضیت کا حکم بھی ہوا۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ البقرہ کی آخری چند آیات بھی اسی سفر معراج میں بطور تحفہ آپﷺ کو عنایت کی گئیں۔

طویل ترین سفر مختصر ترین وقت میں

آپﷺنے رات کے مختصر وقت میں تاریخ انسانی کا سب سے طویل سفر طے کیا۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس جانا، انبیاء کرام ؑو ملائکہ کی امامت، وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے جانا، انبیاء کرامؑ سے ملاقات اور سدرۃ المنتہی،قاب قوسین تک رسائی اور اللہ جل شانہ کی زیارت، جنت ودوزخ کا مشاہدہ کر کے واپس تشریف لائے۔

نماز سے غفلت کی سزا؎

 آپﷺ کو ایسے لوگ دیکھائے گئے جن کے سروں کو پتھر مار کر کچلا جارہاتھا۔ پتھر مارنے والا اس زور سے مارتا کہ بھیجا نکل کر بکھر جاتا اور پتھردور جا پڑتا، جونہی وہ پتھر اٹھا کر واپس آتا سر صحیح سلامت ہو جاتا۔ یہ عمل مسلسل دھرایا جارہا تھا، پوچھنے پر جبرائیل ؑنے بتایا کہ یہ وہ بد قسمت لوگ ہیں جن کو نماز سے غفلت پر سزا مل رہی ہے۔ 

 فتنہ و فسادپھیلانے والوں کا انجام

آپﷺ نے کچھ لوگوں کو دیکھا ان کی زبان اور ہونٹ آگ کی کینچیوں سے کاٹے جارہے ہیں۔ دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ یہ غیر ذمہ دار اور بے لگام مقرر اور وعظ ہیں جو بغیر سوچے سمجھے یا بغیر علم کے اوٹ پٹانگ فتوے جاری کیا کرتے تھے، جو امت میں فتنہ و فساد کا باعث ہواکرتے۔

لعن طعن کی سزا

ایک اور مقام پر آپﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ اپنا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں۔ آپ ﷺنے جبرائیل امین ؑسے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جودوسروں پر لعن طعن کرتے تھے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غرور کا انجام

گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

کوے ہیں سب دیکھے بھالےچونچ بھی کالی ، پر بھی کالے

سنہری باتیں

٭…تم خدا کو راحت میں نہ بھولو، وہ تمہیں مصیبت میں نہیں بھولے گا۔٭…ایمان کے ساتھ صبر کی وہی حیثیت ہے جو سر کی تن کے ساتھ۔

دریا ئوں کی تہہ میں پتھر کیوں ہوتے ہیں؟

ڈھلوان پہاڑوں پر کشش ثقل کی وجہ سے پانی نیچے کی طرف بہت تیزی سے بہتا ہے۔ پانی میں کاٹ دینے اور توڑ پھوڑ کرنے کی زبردست طاقت ہوتی ہے۔