مریم نواز کی حکومت کے لئے چیلنجز

تحریر : سلمان غنی


مسلم لیگ(ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد حکومتی محاذ پر سرگرم عمل ہیں۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ کی مسلسل میٹنگز کا عمل ظاہر کر تا ہے کہ تعلیم، صحت، صفائی نوجوانوں کے امور اور گورننس کے مسائل پر بہت سا ہوم ورک جو انہوں نے کر رکھاہے اب اس پر عمل درآمد کیلئے اقدامات کرتی دکھائی دے رہی ہیں ۔

بیوروکریسی بھی پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کے احکامات اور ہدایات پر سرگرم نظر آ تی ہے ۔ پنجاب کے عوام ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہونے پر بہت سی توقعات لگائے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نوازشریف اور شہبازشریف کی طرح مریم نواز کا دور بھی عوامی مسائل کے حل اور عوام کیلئے ریلیف کا باعث بنے گا۔ مہنگائی کے طوفان کے آگے بند باندھا جائے گا اور صوبہ  میں پولیس کلچر میں تبدیلی اور انصاف کی فراہمی کیلئے اقدامات ہوں گے ۔ نوجوانوں اورخواتین کی اہمیت اور حیثیت کے باعث ان کیلئے بھی اصلاحات اور اقدامات کرتی نظر آئیں گی، لہٰذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ مریم نواز  کی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش ہوں گے اور خصوصاً مشکل حالات میں وہ اپنی اپوزیشن کا مقابلہ کر پائیں گی ؟

 بظاہر نظر آ رہا ہے کہ انہیں ہر طرف سے ہر طرح کی مدد اور سپورٹ حاصل ہو گی، لیکن اس کے باوجود انہیں کئی بڑے چیلنجز در پیش ہوں گے اور وزارت اعلیٰ کا عہدہ اُن کی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا۔ ماہرین اس حوالے سے ان کے ابتدائی سو ایام کو ان کی حکومت کے مستقل کے حوالے سے اہم قرار دے رہے ہیں۔ مریم نواز کو ان حالات میں ایک ایڈوانٹیج اگرچہ یہ ہے کہ وفاق میں اُن کی پارٹی کی حکومت ہو گی۔ دوسری جانب جاتی عمرہ میں بیٹھے ان کے والدِ محترم کی بڑی خواہش بھی یہی ہو گی کہ مرکز میں اُن کے بھائی اور پنجاب میں اُن کی بیٹی کی حکومتیں کامیابی کی منازل طے کرے اور خود اُن کی اپنی اہمیت و حیثیت اور طاقت بھی اسی سے مشروط ہو گی ۔ بلاشبہ وزارت اعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کا طویل تجربہ رکھنے والے والد اور چچا مریم نواز اور ان کی حکومت کیلئے بڑی نعمت ثابت ہوسکتے ہیں ۔ یہ بھی بڑی حقیقت ہے کہ پنجاب کی سطح پر (ن) لیگ کی نہ صرف ایک  متحرک تجربہ کار سیاسی ٹیم موجود ہے بلکہ انتظامی حوالے سے بھی بااعتمادبیورو کریٹس اس حکومت کی پشت پر ہیں اوربھاری بھر کم سیاسی انتظامی طاقت اور تجربہ مریم نواز کا ایسا اثاثہ ہوگا جو یہاں کسی وزیر اعلیٰ کو حاصل نہیں رہا۔ ویسے بھی مریم نواز کیلئے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بطور وزیراعلیٰ اُن کی کارکردگی کا موازنہ اُن کے والدِ محترم اور چچا کی پنجاب حکومتوں سے ہوگا۔اس سے قطع نظر کہ آج کے حالات ماضی سے بہت مختلف ہیں اور سیاسی محاذ پر (ن) لیگ اور خصوصاً پنجاب کے محاذ پر ان کا سامنا تحریک انصاف سے ہوگا جس نے مشکل حالات میں نہ صرف اچھے نتائج حاصل کئے بلکہ غیر معمولی صورتحال میں بھی ان کی لیڈر شپ اور کارکنوں نے اپنا احتجاجی اور مزاحمتی کردار جاری رکھا ۔ نئے حالات میں یہ نظر آ رہا ہے کہ وہ وفاق کی سطح پر وزیراعظم شہبازشریف کو کم اور پنجاب کی سطح پر وزیراعلیٰ مریم نواز کو زیادہ ٹارگٹ کرتے نظر آئیں گے کیونکہ وہ مریم نواز کو(ن) لیگ کی متبادل لیڈر شپ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اس صورتحال میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز پر دہری ذمہ داریاں عائد ہو ں گی کہ انہیں حکومتی محاذ پر بھی ڈیلیور کرنا ہوگا اور خود اپنی جماعت کو بھی مضبوط اور مؤثر بنانا ہوگا۔ (ن) لیگ ماضی قریب تک پنجاب کی سب سے مضبوط قوت تھی لیکن حالیہ انتخابات کے نتائج نے اس تاثر کو متاثر کیا ہے۔ یہاں جس طرح(ن) لیگ کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے بڑے بڑے برج الٹ گئے اس سے مریم نواز کے پیش نظر یہ بھی ہوگا کہ اپنی جماعت کی سابقہ حیثیت کو بحال کریں اور (ن) لیگ کی مقبولیت بڑھائیں۔ شہبازشریف کی وزارت اعلیٰ کو پنجاب میں ایک اچھی حکومت کے طور پر لیا جاتا ہے اور ان کی حکومت کو عالمی رپورٹس میں گورننس کے حوالے سے اہم قرار دیا جاتا تھا، مگر مسائل تھے اور ہیں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ نئے حالات میں مسائل کے کوہ ہمالیہ ہیں جو مریم نواز کو سر کرنا ہوں گے۔

 مریم نواز کیلئے بڑے مسائل کے ساتھ مضبوط اپوزیشن بھی بڑا چیلنج ہوگی۔ اس لئے کہ اپوزیشن کئی اعتبار سے زخمی نظر آ رہی ہے ، اس انہیں بہتر طور وزیراعلیٰ اپنے مزاج میں سیاسی حریفوں کیلئے تلخی کم کرنا ہو گی اور اُن کی جانب سے یہ ایک اچھا اقدام تھا کہ انہوں نے اپنے انتخاب کے فوری بعد ایوان میں یہ اعلان کیا کہ وہ سب کی وزیراعلیٰ کے طور پر کام کرنا چاہتی ہیں۔ اچھے اور شائستہ الفاظ سے انہوں نے اپوزیشن کو اچھا پیغام دیا ،لیکن جواباً ان کیلئے ایسے جذبات نظر نہیں آ تے، البتہ اس وقت اپوزیشن لیڈر کے طور پر ذمہ داری رانا آفتاب احمد خان کے کاندھوں پر ہے جو ایک منجھے ہوئے پارلیمنٹرین ہیں، متعدد بار پنجاب سمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اچھی سیاسی سوچ اور اپروچ کے حامل ہیں، لیکن محسوس ہو رہا ہے کہ انہیں بھی خود کو تحریک انصاف کے رنگ میں رنگنا پڑے گا اور یہ اُن کی سیاسی مجبوری ہو گی۔تاہم گزشتہ روز اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپوزیشن لیڈر کی سیٹ پر جا کر اُن سے ملاقات کرکے اچھا تاثر دیا۔ یہ سیاسی رواداری کی عمدہ مثال ہے اور اس سے ایوان کے اندر ساز گار ماحول قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

شہبازشریف نے اپنے دس سالہ دورِ وزارت اعلیٰ میں اپنی حکمرانی کو ترقی کے عمل سے جوڑا اور اپوزیشن کو ٹارگٹ کرنے سے گریزکیا۔ شہبازشریف کی کامیابیوں کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مرکز میں ان کے بڑے بھائی کی حکومت تھی لیکن اب مرکز میں شہبازشریف کی مخلوط حکومت ہوگی، وہاں بھی (ن)لیگ کے پاس فیصلہ سازی کا بڑا اختیار حاصل نہیں ہوگا ۔اس لیے مرکز کو بھی پنجاب سے تقویت درکار ہو گی۔ پنجاب کی سیاسی مضبوطی ہی مرکز میں حکومت کو جم کر کھڑا رہنے میں مدد دے گی اوریہ  تب ہی ممکن ہوگا جب (ن) لیگ کی حکومت پنجاب میں ڈیلیور کرتی نظر آئے گی۔ مہنگائی کا مسئلہ بنیادی طور پر گورننس کا مسئلہ ہے اور مہنگائی میں بڑی وجہ گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کا بڑا کردار ہے،جسے توڑنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ اس عمل کو رمضان پیکیچز اور رمضان بازاروں تک محدود کرنے کی بجائے مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے تو یہ عمل عوام کیلئے ریلیف کا باعث بنے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

حکومت کے معاشی و سیاسی چیلنجز

الیکشن اور حکومت سازی میں مشکلات کو عبور کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو اب حکومت چلانے میں نئی مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے بڑا چیلنج ہے معاشی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔حال ہی میں ختم ہونے والے آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی شرائط خصوصاً ًپٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے مہنگائی میں جو اضافہ کیا ہے اس سے مہنگائی کے شعلے کچھ ایسے بے قابو ہوئے ہیں کہ یہ اب ہر سمت پھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے ۔

حکومت مخالف تحریک اور حکومتی صف بندی

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بنے ہوئے ابھی دو ماہ ہی ہوئے ہیں اور حکومت خود کو ملک کے حالات کے تناظر میں سنبھالنے کی کوشش کررہی ہے مگر اس کو مختلف محاذوں پر مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ۔

الزامات لگاتے رہو،کام نہ کرو!

سندھ کی سیاست بڑی عجیب ہے، یہاں ایک دوسرے پر الزامات اور پھر جوابی الزامات کا تسلسل چلتا رہتا ہے۔ اگر نہیں چلتی تو عوام کی نہیں چلتی۔ وہ چلاتے رہیں، روتے رہیں، ان کی پکار سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی میں البتہ ایک صلاحیت دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہے، اور وہ یہ کہ کم از کم عوام کو بولنے کا موقع تو دیتی ہے۔ شاید وہ اس مقولے پر عمل کرتی ہے کہ بولنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، اور عوام بھی تھک ہار کر ایک بار پھر مہنگائی اور مظالم کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کرلیتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں سیاست کی۔

خیبر پختونخوا کے دوہرے مسائل

خیبرپختونخوا اس وقت بارشوں،مہنگائی، چوری رہزنی اور بدامنی کی زد میں ہے ۔حالات ہیں کہ آئے روز بگڑتے چلے جارہے ہیں۔

بلوچستان،صوبائی کابینہ کی تشکیل کب ہو گی ؟

آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ صوبائی حکومت اور کابینہ کی تشکیل تین ہفتوں تک کردی جائے گی اور انتخابات کی وجہ سے التوا کا شکار ہونے والے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا جائے گا مگر دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے میں اب تک صوبائی اسمبلی کے تعارفی اجلاس اور وزیر اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوسکا۔

آزادکشمیر حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

20 اپریل کو آزاد جموں وکشمیر کی اتحادی حکومت کا ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ گزشتہ سال آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو نا اہل قرار دیا گیا تو مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کے ارکان نے مشترکہ طور پر چوہدری انوار الحق کو وزیر اعظم بنالیا جو اُس وقت آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر تھے۔ حلف اٹھانے کے بعد چوہدری انوار الحق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں تعمیر وترقی، اچھی حکمرانی ، میرٹ کی بالادستی اور کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کی عملی کوشش کریں گے۔