ملتانی مٹی چہرے کی بہترین محافظ

تحریر : مہوش اکرم


موسم میں تبدیلی، فضائی آلودگی اور مضر صحت غذائوں کے منفی اثرات سب سے پہلے چہرے پر آتے ہیں جس کے نتیجے میں چہرے پر دانے، ایکنی، کیل مہاسے اور اُن کے سبب بد نما داغ دھبے بننے لگتے ہیں جن سے نہایت آسانی اور بغیر بھاری بھرکم رقم خرچ کیے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ملتانی مٹی کا قدیم زمانے سے استعمال چلا آ رہا ہے،

 خواتین چہرے کی خوبصوتی بڑھانے کیلئے اس کا استعال اپنے چہرے سمیت بالوں پر بھی کرتی ہیں، جس کے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ملتانی مٹی تقریباً ہر قسم کی جلد اور جلد سے جڑی متعدد بیماریوں کا موزوں علاج ہے۔ 

اگر اسے دوسرے اجزاء کے ساتھ ملا کر لگایا جائے تو اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے اور چہرے کی خوبصورتی میں ناصرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے استعمال سے دیر پا جِلدی بیماریوں سے بھی دور رہا جا سکتا ہے۔ یہ ناصرف جِلد بلکہ سر کے بالوں کی صفائی اور سر کی جلد کی صحت کیلئے بھی نہایت مفید ہے۔

ملتانی مٹی کے فوائد

ملتانی مٹی کے فوائد بڑھانے کیلئے اس میں ایلوویرا جیل (گھیکوار)، روغن بادام، عرق گلاب، شہد، انڈے کی سفیدی، دودھ، لیموں کا عرق، کینو کے چھلکوں کا پاؤڈر اور بیسن وغیرہ شامل کیا جا سکتا ہے۔ ملتانی مٹی میں ان اجزاء کے استعمال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جبکہ بالوں کی خوبصورتی اور سر کی جلد سے چکناہٹ کے خاتمے کیلئے ملتانی مٹی میں عرق گلاب اور لیموں کا رس ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے اور بعدازاں جیسے سر سے مہندی دھوئی جاتی ہے۔ ایسے ہی ملتانی مٹی بھی با آسانی دھل جاتی ہے۔

مَڈ ماسک

ملتانی مٹی کی افادیت اب سائنس نے بھی مان لی ہے اسی لیے مختلف کاسمیٹک برانڈ کی بھی اب ملتانی مٹی سے تیار شدہ پراڈکٹس یا مَڈ ماسک کے نام سے مختلف ماسک مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں۔ملتانی مٹی سے بنایا گیا ماسک چہرے پر لگانے سے قبل چہرے کی جِلد کا صاف اور دھلا ہوا ہونا لازمی ہے، اسی لیے اگر ممکن ہو تو ملتانی مٹی کا ماسک لگانے سے قبل چہرے پر 5 سے 7 منٹ کیلئے کسی مائلڈ کلینزنگ سے مساج کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔ ملتانی مٹی کا ماسک دھونے کے بعد چہرے کی جلد یا بالوں کو موسچرائز بھی کرنا چاہیے تاکہ اس کی افادیت مزید گنا بڑھ جائے۔

خشک جلد کیلئے

خشک جلد کیلئے ملتانی مٹی، کچا دودھ، چند قطرے زیتون کا تیل، صندل کی لکڑی کا پائوڈر اور کینو کے خشک چھلکوں کا پائوڈر حسب ضرورت لے لیں۔  اب ان سب اجزا ء کو کانچ کے برتن میں عرق گلاب کی مدد سے مکس کر لیں اور 20 سے 25 منٹ کیلئے چہرے پر لگا لیں۔ 

نارمل جلد کیلئے 

نارمل جلد کیلئے کھیرے کا رس یا گاجر کا جوس لے لیں، ملتانی مٹی، صندل لکڑی کا برادہ، کینو کے خشک چھلکوں کا سفوف، ان سب اجزا ء کو مکس کر لیں اور چہرے پر لگا لیں۔

چکناہٹ اور کیل مہاسوں کا خاتمہ

چکنی جِلد سے اضافی چکناہٹ اور کیل مہاسوں کے خاتمے کیلئے ایلوویرا یا لیموں کا عرق ( عرق گلاب بھی لیا جا سکتا ہے )۔ ملتانی مٹی، انڈے کی سفیدی، صندل لکڑی کا برادہ، کینو کے خشک چھلکوں کا سفوف لے لیں۔ ان سب اجزا ء کو یک جان ملائیں اور چہرے پر لگا لیں اور 20 سے 25 منٹ کیلئے سکون سے لیٹ جائیں، جلد کو پر سکون وقت دیں، سوکھنے پر چہرہ دھو لیں۔

جِلد ٹائٹ کرنے کیلئے 

جھریوں والی جِلد کو ٹائٹ کرنے کیلئے انڈے کی سفیدی، پھٹکری کا پاؤڈر، روغن بادام ، عرق گلاب، ملتانی مٹی، صندل کی لکڑی کا پائوڈر اور کینو کے چھلکوں کا سفوف یک جان ملائیں اور چہرے پر لگا لیں۔سوکھنے پر اس ماسک کو پانی کی مدد سے گیلا کریں اور چہرے پر ہلکے ہاتھ سے مساج کرتے ہوئے اتار لیں۔ ملتانی مٹی کا ماسک چہرے کیلئے بہترین سکرب بھی ثابت ہوتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خوداعتماد خواتین کامیاب اور مضبوط معاشرے کی بنیاد

خوداعتمادی انسان کی شخصیت کا وہ جوہر ہے جو اسے زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

گرمیوں کی چھٹیاں کیسے گزاریں؟

گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کے لیے ایک خوشگوار وقفہ ہوتی ہیں لیکن یہ وقت صرف آرام یا کھیل کود تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

آج کا پکوان:بھرے ہوئے کریلے

اجزا:قیمہ: ایک کلو ،چکن یا بیف ، کریلے: ایک کلو، پیاز: دو عدد باریک کٹی ہوئی، ٹماٹر: چار عدد باریک کٹے ہوئے، ہری مرچیں: چار عدد باریک کٹی ہوئی،

سید ضمیر جعفری اُردوادب کا چھتناور درخت

آ ج27ویں برسی:اُنہوں نے مزاح سے زیادہ سنجیدہ ادب لکھا مگر شہرت مزاحیہ کلام کی وجہ سے حاصل ہوئی :یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر جعفری نے اپنی آخری سانس تک قوم کو ہنسایا بھی ، گرمایا بھی اور اسے سنجیدگی سے سوچنے پر بھی آمادہ کیا، وہ ادب میں ہمیشہ نیا پن لے کر آتے رہے‘ پرانے پنجابی پوٹھوہاری الفاظ کو موتیوں کی طرح جڑتے تھے اور لفظ کو معنی کو وقت کی قید سے آزاد کر دیتے تھے

پاکستانی ادب کا اختصاص

اردو ادب میں پاکستانیت کے اظہار کی بات کی جائے تو نظم میں ان اثرات کا ذکر ضروری ہو جاتا ہے۔

معرکہ حق: تاریخی فتح کا ایک سال مکمل

پاکستان نے چند گھنٹوں میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا:مئی 2025 کا وہ تاریخی معرکہ جس میں پاک فضائیہ نے دشمن کے نام نہاد ناقابل تسخیر طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا کر فضائی برتری کا لوہا منوایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت نے پوری قوم کو’’ایک پیج‘‘پر لا کر دفاعِ وطن کو ناقابل تسخیر بنادیا۔ معرکہ حق کے بعد پاکستان خطے میں صرف ایک عسکری قوت ہی نہیں بلکہ امن و ثالثی کا وہ محور بن چکا ہے جس کی مرضی کے بغیر جنوبی ایشیا کا کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔