ملتان ٹیسٹ میں بننے والے منفرد ریکارڈز

تحریر : روزنامہ دنیا


پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کیخلاف پاکستان کے متعدد نئے ریکارڈ بنے، جو درج ذیل ہیں۔

٭… تاریخ میں پہلی بار کسی ٹیم نے پاکستان کیخلاف ایک اننگ میں 800 رنز بنائے۔ یوں انگلینڈ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کیخلاف 800رنز بنانے والی پہلی ٹیم بن گئی ہے۔ انگلینڈ سے قبل پاکستان کے خلاف ایک اننگ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے پاس تھا جس نے 1958ء میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 790 رنز بنائے تھے۔ 2004ء میں ملتان میں ہی کھیلے گئے ٹیسٹ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف 5 وکٹوں پر 675 رنزبنائے تھے۔

٭…اس میچ میں انگلینڈ کی طرف سے پاکستان کے خلاف سب سے بڑی پارٹنرشپ کا ریکارڈ بھی قائم ہوا جو انگلش بلے باز جوروٹ اور ہیری بروک نے 452 رنز کی ریکارڈ پارٹنر شپ قائم کی جو انگلش ٹیم کی جانب سے کسی بھی وکٹ کیلئے سب سے بڑی پارٹنرشپ ہے۔ 

٭…ہیری بروک نے 317رنز اور جوروٹ نے 262رنز کی اننگز کھیلی، یعنی ان دونوں کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 578 رنز بنائے جو پاکستان کی پوری ٹیم کی طرف سے پہلی اننگز میں بنائے گئے مجموعے 556سے بھی زیادہ ہے۔

٭…ہیری بروک نے 34 سال بعد انگلینڈ کی طرف سے ٹرپل سینچری بنائی۔ انہوں نے 310گیندوں پر ٹرپل سینچری بنائی جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ٹرپل سینچری ہے۔

٭…پاکستان کی طرف سے 6 بائولروں نے رنز دینے کی سینچریاں بنائیں۔ ایسا بھی کرکٹ کی تاریخ میں دوسری بار ہوا ہے۔ 

٭…ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اب تک صرف 4 بار ایسا ہوا کہ ایک اننگز میں 800 سے زیادہ رنز بنے ہوں۔ اس سے قبل آخری مرتبہ 800 سے رنز بنانے کا اعزاز سری لنکا کے پاس تھا جس نے 1997ء میں بھارت کے خلاف 6 وکٹوں کے نقصان پر 952 رنز بنائے تھے۔ چار میں سے تین بار 800 سے زائد رنز بنانے والی واحد ٹیم انگلینڈ کی ہے جس  نے 1938ء میں آسٹریلیا کے خلاف 903 رنز بنائے جبکہ 1930ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 849 رنز بنائے تھے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 29)

سورۃ الملک: حدیث پاک میں سورۃ الملک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں، اسے ’’المنجیہ‘‘ (نجات دینے والی) اور ’’الواقیاہ‘‘ (حفاظت کرنے والی) کہا گیاہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت عذاب قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے، اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا مقصد بندوں کی آزمائش ہے کہ کون عمل کے میزان پر سب سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 29)

سورۃ الملک:انتیسویں پارے کا آغاز سورۃالملک سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زندگی اور موت کو اس لیے بنایا تاکہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 28)

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 28)

سورۃ المجادلہ:قرآنِ پاک کے 28ویں پارے کا آغاز سورۃ المجادلہ سے ہوتا ہے۔ سورۂ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ جن کے شوہر نے ناراضی میں ان کو کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

انسانی شکل میں فرشتے:اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے، تو ابراہیم ؑ نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیا ہے، اُنہوں نے کہا: ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اُن پر مٹی سے پکے ہوئے پتھر برسائیں، جو آپ کے رب کے نزدیک حد سے تجاوز کرنے والوں کیلئے نشان زدہ (Guided) ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم اہل ایمان کو صحیح سلامت اُس بستی سے باہر نکال دیں گے اور اُس میں مسلمانوں کا ایک ہی گھر ہے، یعنی حضرت لوط علیہ السلام کا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

مقصدِ تخلیقِ انسان و جن:قرآن پاک کے ستائیسویں پارے کا آغاز سورۃ اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کے مقصد کا بھی ذکر کیا ہے کہ جنات اور انسان کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھانا مانگا ہے۔