بدلتے موسم میں پہناوئوں کے انداز!

تحریر : سارہ خان


بدلتے موسم کے ساتھ ہی لباس کے رنگ اور انداز بھی بدل جاتے ہیں،گرمیوں کے رنگ اور ہوتے ہیں تو سردیوں میں مختلف اور شوخ رنگوں کو پسند کیا جاتا ہے۔

کچھ خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے، کہ وہ جوانی میں بھی اپنے اوپر بڑھاپا طاری کئے رکھتی ہیں، پھیکے اور سادہ لباس کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوتا ہے۔لیکن کچھ خواتین اپنی عمر کو بھلا کر ایسے فیشن کو اپنانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتیں جو ان کی عمر اور مرتبے کو سوٹ نہیں کرتا۔جبکہ ذہانت کا امتحان اسی بات میں ہے کہ اپنی عمر،رنگت،اور مرتبے کے مطابق لباس ، جیولری اورجوتوں کا انتخاب کیا جائے،جیسے یہ کتنا عجیب لگے گا کہ آپ چوتھی کی دلہن ہیں محض اسی لئے 6انچ کی ہیل پہن کر کچن میں کھانا بنانے کھڑی ہو جائیں کہ آپ کو سج بن کے کھڑا ہونا چاہئے۔ اپنے آپ کو بدلتے تقاضوں کے ساتھ ڈھالتی رہیں لیکن اتنا بھی مت بدلیں کہ آپ کے اپنے بھی آپ کو پہچان نہ پائیں۔اب موسم میں ہلکی سی خنکی آ رہی ہے،لیلن پہنی جائے گی یا پھر کاٹن مگر سب سے اچھی بات یہ ہے اس موسم میں شوخ و شنگ کپڑے پہنے جا سکتے ہیں اس لئے جارجٹ اور شیفون کی بہار بھی دکھائی جا سکتی ہے۔ حسین رنگوں کا انتخاب کریں، انہیں اچھا سا ڈیزائن کروائیں، اور پہنیں۔ شادیوں کا سیزن بھی ہے تو ایسے لباس سلوائیں جو آپ شادیوں کے علاوہ بھی پہن سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر: اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کو جھٹلانے والے کو جہنمی قرار دیا گیا اور سچے دین کو لے کر آنے والے‘ یعنی رسول اللہﷺ اور ان کی تصدیق کرنے والے (مفسرین نے اس سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مراد لیا ہے) کو متقی قرار دیا گیا ہے۔ آیت 38 میں بتایاکہ اللہ کی قدرت پر کسی کا بس نہیں چلتا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 24)

سورۃ الزمر:چوبیسویں پارے کا آغاز سورۂ زمر سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس تک پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔

صدقہ فطر

اسلامی معاشرتی نظام کا ایک خوبصورت مظہر

رمضان کا آخری عشرہ

’’رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی ﷺ عبادت کیلئے کمر بستہ ہو جاتے‘‘ (صحیح البخاری)رسول اللہ ﷺعام دنوں کی نسبت آخری عشرے میں خوب محنت اورکوشش کرتے (صحیح مسلم2788)

مسائل اور ان کا حل

پلاٹ کی زکوٰۃ ادا کرنے کا مسئلہ :سوال: تین دوستوں نے مل کرتجارت کی نیت سے ایک پلاٹ خریدا، پھر اس کی پوری کنسٹرکشن کروائی اب اسے فروخت کر رہے ہیں۔اس پر زکوۃ کا کیا طریقہ کار ہو گا اس کی مالیت پر ہوگی یاجب یہ فروخت ہو جائے گا تب ہو گی ؟ (عثمان بھٹی،جدہ )

خلاصہ قرآن(پارہ 23)

معبودِبرحق: اس پارے کی ابتدا میں بجائے اس کے کہ مشرکین کے باطل معبودوں کی مذمت کی جاتی‘ نہایت حکیمانہ انداز میں فرمایا: ’’میں اس معبود کی عبادت کیوں نہ کروں‘ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم بھی اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘ کیا میں معبودبرحق کو چھوڑ کر ان (بتوں) کو معبود قرار دوں کہ اگر رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت میرے کسی کام نہ آئے اور نہ ہی وہ مجھے نجات دے سکیں‘‘۔