اقبالؒ کی سائنسی فکر و تصورات
شاعر مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ ایک ایسے فلسفی اور مدبر ہیں جن کہ ہمہ جہت شخصیت کے مختلف رنگ ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ ہم نے ان کو محض شاعر سمجھ کر رٹ لیا ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ کئی صدیاں بھی اقبالؒ کی ہیں افسوس کا مقام ہے کہ ہماری نئی نسل اقبالؒ کے کلام کو نہیں سمجھ پا رہی لیکن وہ اقبالؒ سے بہت پیار کرتی ہے۔
ہم اپنی قومی زبان اردو کو اس کا اصل مقام اب تک نہیں دے پائے اور اس میں فارسی اور عربی کے الفاظ کم کرتے چلے گئے، اب انگریزی اور ہندی الفاظ زیادہ مستعمل ہیں جس کی وجہ سے نئی نسل کو اقبالؒ کا کلام سمجھنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقبالؒ کے کلام کو اساتذہ کرام میڈیا کے مختلف چینلز اور اخبارات میں آسان فہم انداز میں نوجوانوں کے سامنے پیش کریں تاکہ نوجوانوں کا شعور اقبالؒ کے کلام کی فراست سے آگاہ ہو سکے ۔ اقبالؒ ایک روشن خیال اور مستقبل پرست مفکر ہیں۔ان کی سائنسی علوم میں دلچسپی ان کی شاعری، خطبات اور دیگر تحریروں سے عیاں ہے۔ ان کی دانش بہت سے جدید علوم کی جامع تھی۔
علامہ کا دور وہ تھا جب سائنس نئی کروٹیں لے رہی تھی اور اس کی پرانی بنیادیں منہدم ہو رہی تھیں۔علامہ اقبالؒ ان تبدیلیوں کو بغور دیکھ رہے تھے اور انھیں سراہتے تھے۔ اگر ان کے کمرے میں پڑی کتابوں کی الماری میں جھانکا جائے تو یہ خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ اقبالؒ کا جدید سائنسی علوم کا مطالعہ کس قدر عمیق اور وسیع تھا۔ ان کتابوں میں آئن سٹائن، میکس پلانک، ہائزن برگ، وائٹ ہیڈ، اڈنگٹن اور دیگر سائنسدانوں اور سائنس سے متعلق لکھنے والے فلسفیوں کی بہت سی کتابیں نظر آئیں گی۔ جب ان کتابوں کی ورق گردانی کی جائے تو جگہ جگہ علامہ اقبالؒ نے اپنے قلم سے بہت سی سطروں کو نشان زد کیا ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ یقینا ایک کثیر المطالعہ اور جامع العلوم ہستی تھے۔
انھوں نے جس سائنسی شعبے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہے جدید طبیعیات، بالخصوص آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت۔ یہ نظریہ جب منظر عام پر آیا تو بہت کم لوگ اسے سمجھ سکے مگر علامہ اقبالؒ اس کے بہت سے اہم پہلوؤں سے کماحقہ واقف تھے اور اس کی فلسفیانہ موشگافیوں کا بھی پورا ادراک رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنے خطبات میں کئی جگہ اس نظریے کے حوالے سے بات کی ہے۔زمان و مکاں علامہ کا محبوب موضوع تھا اور اس کے سائنسی تناظرات پر وہ پورا ادراک رکھتے تھے۔ علامہ کی اس دلچسپی پر اقبالیات کے حوالے سے معروف ڈاکٹر اعجاز الحق اعجاز کی کتاب ’’اقبالؒ اور سائنسی تصورات‘‘ میں بھی پہلی مرتبہ اس حوالے سے گراں قدر معلومات دی گئی ہیں ۔ ستاروں پہ کمندیں ڈالنے سے اقبال کی مراد یہی تھی کہ نوجوان سائنس کی زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقبالؒ اردو کے پہلے بڑے شاعر تھے جنھوں نے گہرے سائنسی شعور کا مظاہرہ کیا۔اگراقبال سے پہلے کی اردو شاعری کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سائنس کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے اور اگرکہیں ملتا بھی ہے تو بے حد سرسری انداز میںجبکہ اقبالؒ کے ہاں سائنسی شعور بہت پختہ اور وسیع ہے۔اقبال نے جاوید نامہ میں مریخ کے جس مثالی شہر مرغدین کا ذکر کیا ہے تو اس کے جس مرد دانا سے اقبال کی ملاقات ہوتی ہے وہ ایک سائنسی اور روحانی شخصیت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبالؒ سائنس اور روحانیت کی ہم آہنگی کے قائل تھے جو ایک انوکھا اور قابل قدر تصور ہے۔
اقبالؒ زندگی کے ارتقا کیلئے سائنس کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک زندگی کا ارتقا اس تعلق پر منحصر ہے جو اس نے خارجی حقائق سے استوار کیا ہے۔ وہ قرآن کی بنیادی روح کو بھی استقرائی قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کا بنیادی سبب استقرائی استدلال سے دوری ہے جو سائنس کی بنیاد ہے۔ اقبالؒ سمجھتے تھے کہ جدید طبیعیات دراصل روحانیت کی طرف ہی محو سفر ہے کیوں کہ یہ مادیت سے اپنا رشتہ توڑتی چلی جا رہی ہے اور اس سفر میں یہ منزل ضرور آئے گی جب طبیعیاتی اور مابعدالطبیعیاتی حقائق ایک ہو جائیں گے۔ اقبال ؒکا فکر و فلسفہ مذہب، فلسفہ اور سائنس کے بہترین عناصر کی ہم آہنگی پر مشتمل ہے اور اس کا ایک واضح مقصد انسان کی مکمل اور ہمہ گیر فلاح ہے۔ اقبالؒ زمان کی آزاد حیثیت کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک زمان کا مسئلہ انسانی خودی اور تقدیر سے گہرا انسلاک رکھتا ہے۔
اقبالؒ ہائزن برگ کے نظریہ لاتعین کو بھی سراہتے ہیں کیوں کہ یہ میکانکی جبریت کی بجائے آزاد ارادے کی طرف دلالت کرتا ہے۔اقبالؒ کائنات کے مسلسل تخلیقی عمل کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک دمادم صدائے کن فیکوں آرہی ہے۔ اقبالؒ پلانک کے کوانٹم نظریے کو بھی ستائش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ اب ہم شاعر مشرق کے ان سائنسی انداز فکر کے تناظر میں ان کا مطالعہ کریں۔