بچوں کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس سے بچائیں

تحریر : حافظ بلال بشیر


دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس کی بڑی مقدار مختلف امراض کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے،لیکن اب بھی یہ ادویات انسانی جسم میں موجود جراثیم کو ڈھیٹ اور مزاحم بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔جس کے لیے ماہرین نے بچوں کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس سے بچانے کے چھ طریقے وضع کیے ہیں۔

امریکا میں اسٹونی بروکس یونیورسٹی کے طبی ماہرین نے والدین کے لیے رہنما ہدایات دی ہیں جن کے ذریعے وہ بہت چھوٹے بچوں کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس سے بچا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین پہلے اینٹی بائیوٹکس کی افادیت اور استعمال کے بارے میں معلومات حاصل کر یں کیونکہ یہ بیکٹیریا کے انفیکشن کو ختم کرتی ہیں نہ کہ وائرل انفیکشن کو جن میں فلو اور عام سردی شامل ہیں۔اسی طرح بہتی ناک،کھانسی اور گلے کی نالیوں کی سوزش کے لیے بھی کار گر نہیں ہوتیں کیونکہ اس کی وجہ وائرس ہوتے ہیں۔اسی لیے وائرس کے امراض میں اینٹی بائیوٹکس کے مقابلے میں احتیاط زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ مرض دوسروں تک با آسانی پھیل سکتا ہے۔

اگرچہ اینٹی بائیوٹکس سے آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا بھی ختم ہو جاتے ہیں اور اس طرح خطر ناک بیکٹیریا مزید فروغ پاتے ہیں۔اس لیے خیال رہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے معاملے پر ڈاکٹر کے مشورے پر سختی سے عمل کریں۔ڈاکٹر کی مقرر کردہ مقدار ہی استعمال کریں اور جب وہ منع کرے تو اس کا استعمال ترک کر دیں۔

سردی،کھانسی اور سانس کی نالی کے انفیکشن اور دیگر بیماریوں کے لیے پہلے گھریلو نسخے آزمائیں،انہیں اینٹی بائیوٹکس سے قبل پہلے پرہیز اور احتیاط سے کم کرنے کی کوشش کریں۔بچے ہوں یا بڑے جس قدر ہو سکے آرام کریں،سگریٹ نوشی اور آلودگی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور ہلکی پھلکی آزمودہ دوائیں کھائیں جو بخار اور سردی کم کرنے کے لیے موجود ہیں۔ غرارے کرنے اور جوشاندہ وغیرہ پینے سے بھی گلے کی خراش اور سوزش کو کم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسی ادویہ دستیاب ہیں جو بغیر نسخے کے کھائی جا سکتی ہیں۔ان میں کئی ادویات ہیں جو بچوں اور بڑوں میں سردی،بخار،درد اور دیگر عارضوں کو دور کر سکتی ہیں۔چھ ماہ تک کے بچوں میں درد دور کرنے کے لیے ایسیٹمائنوفین مرکبات کی دوا دی جا سکتی ہے،لیکن ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔چھوٹے بچوں کو ایسپرین نہ دیں کیونکہ اس سے رائی سنڈروم پھیل سکتا ہے جو جگر کو متاثر کر تا ہے۔ بچے اور بڑے بھاپ لے کر بعض بیماریوں سے نمٹ سکتے ہیں۔بہت ضرورت کی صورت میں ہی اینٹی بائیوٹکس کی ان اقسان کو استعمال کریں۔اسی طرح اپنے بچوں کی اینٹی بائیوٹکس کسی دوسرے بچے کو نہ دیں خواہ علامات کتنی ہی مماثل کیوں نہ ہوں اور نہ ہی اینٹی بائیوٹکس مستقبل کے لیے بچا کر رکھیں۔

بچوں کو وقت پر ویکسین لگوانے سے موسمی امراض اور عارضوں سے نجات دلائی جا سکتی ہے،ڈاکٹروں کے کہنے پربچوں کو حفاظتی ٹیکے اور ویکسین لگوانا ضروری ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پی ایس ایل11: تنازعات کا شکار

نظم وضبط کاشکنجہ یا انتظامی سختی؟کھلاڑیوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر انتظامیہ کے سخت فیصلے :فخرزمان کو بال ٹمپرنگ پر دو میچوں کی پابندی اور حسن علی کوکوڈآف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیاگیا:نسیم شاہ کو متنازع ٹوئٹ پر دو کروڑ روپے اورسکندر رضا کے مہمانوں کی ہوٹل آمد پر شاہین آفریدی کو جرمانہ

پی ایس ایل11کے ریکارڈز

کراچی کنگز سب سے اوپر

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غرور کا انجام

گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

کوے ہیں سب دیکھے بھالےچونچ بھی کالی ، پر بھی کالے