امریکی یونیورسٹی میں فائرنگ: ملزم کے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لینے کی تحقیقات شروع

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا کی فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی میں فائرنگ کرنے والے ملزم کے اس حملے میں چیٹ جی پی ٹی سے مدد لینے کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی گئی۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بات سامنے آنے کے بعد کہ حملہ آور نے حملے کے مقام اور وقت کا تعین کرنے کے لئے چیٹ جی پی ٹی کی مدد لی تھی فلوریڈا کے اٹارنی جنرل نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کے خلاف غیر معمولی تحقیقات کا آغاز کیا ہے، اس واقعہ میں دو افراد ہلاک اور 6 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

اٹارنی جنرل جیمز اتھمیئر نے کہا کہ استغاثہ نے چیٹ جی پی ٹی اور ملزم فینکس ایکنر کے درمیان چیٹ لاگز کا ابتدائی جائزہ لیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس اے آئی ایپ نے کسی جرم کو انجام دینے میں مدد، حوصلہ افزائی یا مشورہ دیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ استغاثہ کا خیال ہے کہ چیٹ بوٹ نے ملزم کو یہ مشورہ دیا کہ کس قسم کی بندوق اور گولہ بارود استعمال کیا جائے، کیا بندوق مختصر فاصلے پر کارآمد ہوگی اور دن کا کون سا وقت اور کون سا مقام زیادہ سے زیادہ افراد کو نشانہ بنانے کے لئے موزوں ہو گا۔

اٹارنی جنرل جیمز اتھمیئر نے ٹامپا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ میرے پراسیکیوٹرز نے اس کو دیکھا ہے اور انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اگر چیٹ جی پی ٹی کی طرف سے یہ معاونت کرنے والا کوئی شخص تھا، تو ہم اس پر قتل کا الزام عائد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ چیٹ جی پی ٹی کوئی شخص نہیں ہے لیکن یہ ہمارے دفتر اور میری پراسیکیوشن ٹیم کو اس بات کی تحقیقات کرنے سے نہیں روکتا کہ آیا یہ کوئی جرم ہے۔

اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق فلوریڈا کے اسٹیٹ وائیڈ پراسیکیوشن کے دفتر نے اوپن اے آئی کو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے خطرات سے متعلق اپنی پالیسیوں اور تربیتی مواد کے ریکارڈ کے لئے اور ممکنہ ماضی، حال یا مستقبل کے جرائم کی اطلاع دینے کی پالیسیوں کے لئے پیش کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں