ایران، امریکہ جنگ: برطانیہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد ملازمتوں سے محروم
لندن: (ویب ڈیسک) برطانیہ میں ایک ماہ کے دوران تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑ گیا۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کو ٹرمپفلیشن اور لیبرز ٹیکس میں اضافے کے باعث کاروباروں پر شدید دباؤ کی وجہ سے ملازمتوں کی کمی کا سامنا ہے۔
یوکے میں کورونا بحران کے بعد بیروزگاری کی سب سے بڑی شرح سامنے آئی ہے جہاں آسامیاں 5 سال میں کم ترین سطح پر ہیں، مہمان نوازی اور خوردہ فروشی کے شعبہ جات سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ کی سہ ماہی میں بیروزگاری کی شرح غیر متوقع طور پر 5 فیصد تک بڑھی ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کی کمائی میں کمی دیکھی گئی ہے، لیبر حکومت کے مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے دوران اخراجات اور مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔
عوام کو جنگی صورتحال کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ، بیروزگاری اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، باور کیا جا رہا ہے کہ اگر مستقبل قریب میں مشرقِ وسطیٰ جنگ ختم نہ ہوئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔