پٹرولیم مصنوعات: قیمتیں جنگ سے قبل کی سطح پر واپس نہ آسکیں، عوام پر اضافی بوجھ برقرار

لاہور: (دنیا نیوز) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی مگر قیمتیں امریکا ایران جنگ کے آغاز سے قبل کی سطح پر واپس نہ آئیں، عوام کو دیا جانے والا یہ ریلیف اضافے کی نسبت ناکافی ہے۔

عوام پر اب بھی فی لٹر 16 روپے 24 پیسے کا اضافی بوجھ موجود ہے، پاکستان میں پٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے کے بجائے 283 روپے 26 پیسے ہونا چاہئے تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق ستائیس فروری دو ہزار چھبیس کو برینٹ خام تیل کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ پاکستان میں پٹرول 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔

اٹھائیس فروری کو جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ہفتے کا دن ہونے کے باعث عالمی مارکیٹ بند تھی اور برینٹ آئل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن پاکستان میں پٹرول کی قیمت 8 روپے بڑھا کر 266 روپے 17 پیسے کر دی گئی، یعنی عالمی مارکیٹ کی نسبت پاکستانی عوام پر 3 فیصد اضافی بوجھ ڈال دیا گیا۔

7 مارچ تک برینٹ آئل تقریباً 30 فیصد مہنگا ہوکر 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، ادھر پاکستان میں پٹرول کی قیمت21 فیصد اضافے کے ساتھ 55 روپے بڑھ کر 321 روپے 17 پیسے ہو گئی، مقامی اضافہ عالمی اضافے سے 9 فیصد کم تھا۔

3 اپریل کو برینٹ آئل 36 فیصد مزید بڑھ کر 128 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، ادھر پاکستان میں پٹرول کی قیمت 43 فیصد ریکارڈ اضافے کے ساتھ 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی، پٹرول عالمی مارکیٹ کی نسبت 7 فیصد زیادہ مہنگا ہوا۔

5 اپریل کو عالمی منڈی میں برینٹ آئل 6 فیصد کمی سے 8 ڈالر گر کر 120 ڈالر پر آگیا، پاکستان میں پٹرول 18 فیصد کمی سے 378 روپے فی لیٹر تک آگیا۔

11 اپریل کو برینٹ آئل 11 فیصد مزید کمی سے 107 ڈالر پر آگیا مگر پاکستان میں پٹرول صرف تین فیصد یعنی صرف 11 روپے 42 پیسے کم ہو کر 366 روپے 58 پیسے پر آیا۔

18 اپریل کو برینٹ آئل12 فیصد یعنی 95 ڈالر تک گر گیا لیکن پاکستان میں پٹرول سستا ہونے کے بجائے19 فیصد مہنگا ہوگیا یعنی قیمت 26 روپے 77 پیسے اضافے سے 393 روپے 35 پیسے تک پہنچ گئی۔

25 اپریل کو برینٹ آئل 90 ڈالر تک گر گیا یعنی مزید 5 فیصد کمی آئی مگر پاکستان میں پٹرول کی قیمت جوں کی توں 393 روپے 35 پیسے پر برقرار رہی۔

یکم مئی کو عالمی منڈی میں برینٹ آئل گیارہ فیصد اضافے سے 100 ڈالر تک پہنچ گیا، ادھر پاکستان میں پٹرول کی قیمت 2 فیصد یعنی 6 روپے 51 پیسے بڑھ کر 399 روپے 86 پیسے ہو گئی۔

9 مئی کو برینٹ آئل 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، عالمی اضافہ 5 فیصد رہا جبکہ پاکستان میں پٹرول تقریباً 15 روپے یعنی 4 فیصد بڑھ کر 414 روپے 78 پیسے تک جا پہنچا۔

16 مئی کو برینٹ آئل 105 ڈالر پر برقرار رہا لیکن پاکستان میں پٹرول کی قیمت 5 روپے یعنی 1 فیصد کمی سے 409 روپے 78 پیسے ہوگئی، 23 مئی کو برینٹ آئل 5 فیصد کمی سے 100 ڈالر پر آ گیا، پیٹرول اس بار بھی 1 فیصد یعنی 6 روپے کم ہو کر 403 روپے 78 پیسے پر آگیا۔

30 مئی کو برینٹ آئل 10 فیصد مزید گر کر 90 ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ پاکستان میں پٹرول صرف 22 روپے کم ہو کر 381 روپے 78 پیسے کا فی لیٹر ہو گیا، یعنی تقریباً 5 فیصد کمی۔6 جون کو برینٹ آئل7 فیصد کمی سے 84 ڈالر پر آ گیا، مگر پاکستان میں پٹرول کی قیمت صرف1 فیصد یعنی 4 روپے کم ہو کر 377 روپے 78 پیسے رہی۔

13 جون کو عالمی منڈی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور برینٹ آئل 84 ڈالر پر برقرار رہا لیکن پاکستان میں پٹرول مزید4 فیصد یعنی 4 روپے کم ہوکر 373 روپے 78 پیسے ہوگیا اور آخر میں 19 جون کو برینٹ آئل 79 ڈالر فی بیرل تک گر گیا، یعنی تقریباً 6 فیصد کمی ہوئی۔

پاکستان میں بھی بڑی کمی کا اعلان کیا گیا اور پٹرول کی قیمت 74 روپے کم کر کے 299 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی جو تقریباً 20 فیصد کمی بنتی ہے۔

28 فروری سے 19 جون تک آئل کی قیمتوں میں کمی بیشی کا سلسلہ جاری رہا، برینٹ آئل 72 ڈالر سے بڑھ کر 128 ڈالر تک گیا اور پھر واپس 79 ڈالر تک آ گیا۔

دوسری طرف پاکستان میں پٹرول 258 روپے سے بڑھ کر 458 روپے تک پہنچا اور اب 299 روپے 78 پیسے تک واپس آیا یعنی اس دوران مجموعی طور پر انٹرنیشنل مارکیٹ میں برینٹ آئل کی قیمت میں 9.72 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ پاکستان میں پٹرول 16.12 فیصد مہنگا ہوا۔

اس تناسب سے آج پاکستان میں پٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے کے بجائے 283 روپے 26 پیسے ہونا چاہئے تھی، یوں عوام پر فی لیٹر 16 روپے 24 پیسے کا اضافی بوجھ آج بھی موجود ہے۔
 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں