اسرائیلی وزیراعظم اور ان کے اتحادیوں کی عرب سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنیکی مہم تیز
تل ابیب: (دنیا نیوز) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے اتحادی انتخابات میں پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد عرب سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنے اور ان کے انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت مشکوک بنانے کی مہم چلا رہے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے رشوت، غیر ملکی فنڈنگ اور انتخابی دھاندلی کے ذریعے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
ان حلقوں کی جانب سے تحقیقات، گرفتاریوں اور بعض صورتوں میں انتخابات منسوخ کرکے دوبارہ کرانے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔
نیتن یاہو کے مرکزی سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے انتخابی دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا یہ دعوے انتخابی شکست کے بعد سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے عرب ووٹرز کو نشانہ بنانے کا معاملہ نیا نہیں، 2015 میں بھی انہوں نے انتخابات کے روز ایک ویڈیو جاری کرکے خبردار کیا تھا کہ عرب شہری بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکل رہے ہیں۔
اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل میں منظم مداخلت کے کوئی شواہد موجود نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments