سندھ سپیشل گیمز 2026 کا سکھر میں آغاز، 800 سے زائد خصوصی کھلاڑی شریک
سکھر: (دنیا نیوز) سندھ حکومت کے زیرِ اہتمام تین روزہ سندھ سپیشل گیمز 2026 کا سکھر میں باقاعدہ آغاز ہوگیا، وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش خان مہر نے گیمز کا افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب میں سیکرٹری کھیل منور علی مہیسر، سیکرٹری ڈی پی ڈی طحہٰ فاروقی، ڈائریکٹر کھیل اسد اسحاق، کمشنر سکھر سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
صوبائی وزیر کھیل کے مطابق سندھ اسپیشل گیمز 6 نومبر تک سکھر سپورٹس کلب میں جاری رہیں گے، جن میں صوبے بھر سے 800 سے زائد خصوصی کھلاڑی 10 سے زائد کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں، ان میں 550 کھلاڑی بااختیار افراد کی کیٹیگری جبکہ 250 کھلاڑی اوپن کیٹیگری میں شریک ہیں۔
سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ خصوصی افراد کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی سٹالز بھی قائم کیے گئے ہیں، سندھ حکومت خصوصی افراد کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے سندھ یوتھ کارڈ خصوصی افراد کو بھی دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہیل چیئر کرکٹ ٹیم نے بھارت کو شکست دی ہے۔ یہی خصوصی بچے ہمارے صوبے اور ملک کا نام روشن کریں گے۔
دریں اثنا کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، کرکٹ کا پورا نظام ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جسے کرکٹ کا علم اور اس سے لگن ہو اور جو نوجوانوں کو مواقع دینے پر یقین رکھتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کیے جائیں، پی سی بی میں بہت محدود سوچ اور دائرہ کار نظر آتا ہے، سندھ سمیت دیگر صوبوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے لیکن ریجنل کرکٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سردار محمد بخش مہر کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کو بارہا کہا ہے کہ ہمیں کب تک روکا جائے گا، سندھ کے نوجوانوں کو کھیلوں کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم میں شمولیت کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، بغیر کارکردگی کے کھلاڑیوں کو راتوں رات ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے جبکہ پرفارم کرنے والوں کو باہر کر دیا جاتا ہے۔
سردار محمد بخش مہر نے ڈومیسٹک اور ریجنل کرکٹ کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا قانون دیکھا جائے جس کے تحت سندھ اپنا الگ کرکٹ بورڈ بنا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments