بالائی علاقوں میں برفباری سے نظام زندگی مفلوج، لوگ محصور، مری میں داخلہ بند

اسلام آباد، دیامر، نیلم، ایبٹ آباد: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے سیاح محصور ہوکر رہ گئے ہیں، مری سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا، مختلف واقعات میں 2 افراد کے جاں بحق بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، آج بھی مختلف علاقوں میں بارش اور برف باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ملکہ کوہسار مری میں 15 گھنٹے سے برف باری 

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ملکہ کوہسار مری میں گزشتہ رات سے وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے، مری میں اس وقت بھی برف باری جاری ہے۔

ملکہ کوہسار میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور شدید برفباری کی پیشگوئی ہے، مری میں غیر مقامی افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا، مقامی افراد کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ہی انٹری کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ دیگر ہر قسم کی ٹریفک کو مری میں داخلے سے روکا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر مری میں داخلے سے قبل تمام گاڑیوں میں سنو چین اور ونٹر ٹائر کا ہونا لازمی ہے اور حفاظتی انتظامات کے بغیر مری میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

بلوچستان

بلوچستان کے شمالی بالائی علاقوں میں برفانی طوفان جاری ہے، زیارت جانے والی درجنوں گاڑیاں کوئٹہ زیارت شاہراہ پر پھنس گئی ہیں جب کہ چمن کے گردونواح میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں موجود ہیں، این 50 شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک متاثر ہوئی ، جس سے بین الصوبائی آمدورفت معطل ہو گئی۔

این 50 شاہراہ پر برف اور شدید پھسلن کے باعث 9 مختلف حادثات پیش آئے جن میں 27 افراد زخمی ہوئے، کوژک ٹاپ پر سائیبرین ہواؤں کے باعث این 25 چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ پر درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گر گیا، جس سے سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

شیلاباغ کے قریب پھسلن کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، حادثے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔ کوئٹہ میں بھی موسم سرما کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی جس سے سردی میں اضافہ اور شہری علاقوں میں مشکلات پیدا ہوئیں۔

زیارت ، چمن، کوئٹہ، قلات ، ژوب ، قلعہ سیف اللہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا، ٹھنڈ کے باعث پائپوں کا پانی جم گیا ، شدید سردی سے سڑکوں پر کھڑا پانی بھی برف میں تبدیل ہو گیا، شدید سردی میں گیس نہ ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر میں بھی شدید برفباری ہوئی، ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بارش اور برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں جب کہ 35 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

شانگلہ میں 20 سال بعد برفباری کے باعث بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا جب کہ چترال میں متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں، ناران میں 6 انچ اور شوگران میں ڈیڑھ انچ برف پڑچکی ہے، جہاں سیاح برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے علاقوں انگوراڈا، نیزی نرائی اور خامرنگ میں برفباری سے کاروبار زندگی معطل ہو گیا جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقوں میران شاہ اور میر علی میں بارہ سال بعد برف باری سے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

گلیات

نتھیاگلی، ایوبیہ، جانسپور اور چھانگلہ گلی میں 4 فٹ، ایوبیہ میں 3 فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، ایبٹ ریسکیو 1122 ضلعی انتظامیہ پولیس گلیات ڈوپلمنٹ اتھارٹی کا عملہ ہائی الرٹ، چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں، ہیوی مشینری سے گلیات کے ٹاؤنز میں برف ہٹانے کا کام جاری ہے، گلیات کی سڑکیں جلد ٹریفک کے لیے بحال کر دی جائیں گی۔
گلگت بلتستان نے سفید چادر اوڑھ لی

گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں 2 سے 3 فٹ تک برفباری ہوچکی ہے جس کے باعث زمینی رابطے منقطع ہوگئے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، ہنزہ اور نگر میں بھی برفباری ہوئی جب کہ چیپورسن میں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔

چلاس، بابوسر ٹاپ، نانگا پربت، بٹوگاہ، داریل اور تانگیر میں برفباری سے سردی کی شدت بڑھ گئی، برف باری کے باعث دیامر کے بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہیں، دیامر اور داریل و تانگیر تھور کے بالائی علاقوں میں برف نے سفید چادر اوڑھ لی ، بابوسر ٹاپ پر برفباری سے ہر طرف سفیدی چھا گئی۔

آزاد کشمیر

علاوہ ازیں آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جب کہ مری میں برفباری کے باعث مری ایکسپریس وے جزوی طور پر بند کر دی گئی۔

تحصیل ہیڈ کوارٹر شاردہ میں رواں سال کی پہلی برفباری ہوئی، علاقہ کیل میں 3 فٹ، ہلمت گریس ویلی، کریم آباد نیکرڑوں میں4 فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، بجلی کی لائنیں اور پول گرنے سے مواصلاتی نظام متاثر ہو گیا۔

برفباری کے باعث تعلیمی اداروں میں دو روزہ تعطیلات کردی گئی، برفباری کا سلسلہ آئندہ چوبیس گھنٹے تک بلا تعطل جاری رہنے کا امکان ہے، ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں اور شہریوں کو برفباری میں غیر ضروری سفر سے روک دیا ہے۔

وادی تیراہ

دوسری جانب وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں ریسکیو1122 ٹیموں کا متاثرین کے لیے آپریشن جاری ہے ، جہاں اہل کار برف میں پھنسے افراد اور گاڑیوں کو نکالنے میں مصروف ہیں، علاقہ سندانہ کے مقام پر پھنسے تقریباً 20 گاڑیوں میں سوار 55 متاثرین کو ریسکیو کرلیا گیا، ان کارروائیوں میں خیبر، پشاور، صوابی اور نوشہرہ کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

ریسکیو1122 خیبر کے مطابق باڑہ بٹہ تل میں سخی گل نامی شخص کے مکان کا کمرہ بارش کے باعث گر گیا، جس کے نتیجے میں 5 افراد ملبے تلے دب گئے، ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی سرگرمیاں کرتے ہوئے ملبے تلے تمام افراد کو نکال کر طبی امداد فراہم کی۔

میدانی علاقوں میں بارش 

کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں میں بادل برسے، حیدر آباد، لاڑکانہ، ٹھٹھہ میں باران رحمت ہوئی، لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں بھی بارش ہوئی، لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش، جل تھل ایک ہوگیا، شہر میں اوسطاً 2.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، لاہور میں آج بھی وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی ہے۔

فیصل آباد، سرگودھا، وہاڑی، پیر محل میں بھی بادل برستے رہے، راولپنڈی، اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بھی بوندا باندی ہوئی، پشاور میں بھی بارش ہوئی، چشتیاں، بہاولنگر، شور کوٹ، خان پور، منچن آباد میں بادلوں کی اننگز ہوئی۔

ہری پور میں بھی موسلادھار بارش ہوئی، ندی نالوں میں طغیانی، گلیاں بازار تالاب کا منظر پیش کرنے لگے۔

ملک بھر میں بارش سے کئی شہروں میں بجلی کے فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کے باعث مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا۔

محکمہ موسمیات

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آج ملک کے بالائی علاقوں میں تیز بارش اور شدید برفباری کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، میدانی علاقوں میں بھی 24 گھنٹے کے دوران بارش کی پیشگوئی ہے۔

ناران، کاغان، دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، اسکردو، مری، گلیات، وادیٔ نیلم، باغ، پونچھ، حویلی اور راولاکوٹ میں سڑکوں کے بند ہونے، پھسلن اور ٹریفک کی روانی میں خلل کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق تیز بارش اور شدید برفباری کے نتیجے میں بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ بھی موجود ہے، اس دوران سیاحوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں