این سی سی آئی اے ودیگر ملازمین کی مستقلی کیس میں فریقین کو نوٹس جاری
اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے 43 افسران و ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواست پر وفاق سمیت متعلقہ اداروں کو جواب کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔
جسٹس محمد اعظم خان نے درخواست گزاروں کی جانب سے دائر پٹیشن پر سماعت کے بعد وفاقی حکومت، ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور وفاقی وزارت قانون کو ہدایت کی کہ پیراوائز کمنٹس عدالت میں جمع کرائے جائیں اور ان کی نقول درخواست گزاروں کو بھی فراہم کی جائیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کنٹریکٹ ختم کرنے کے احکامات جاری کرنے سے روکے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی جاری رکھنے کا حکم دے، استدعا کی گئی کہ متعلقہ آسامیوں کو خالی قرار دے کر دوبارہ ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی سے روکا جائے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کو ان کا سروس ریکارڈ ایف پی ایس سی کو بھجوانے کا حکم دیا جائے اور ایف پی ایس سی کو قانون کے مطابق قواعد بنا کر ان کی ترقی اور مستقلی کے لیے اقدامات کا پابند کیا جائے۔
پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کو باقاعدہ اشتہار، ٹیسٹ، انٹرویو اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں ایف آئی اے سے ڈیپوٹیشن پر این سی سی آئی اے بھیجا گیا۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے اٹھائے گئے نکات غور طلب ہیں لہٰذا فریقین کو جواب کے لیے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔