امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک اور شہری ہلاک
منیاپولس: (دنیا نیوز) امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ ایجنٹ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص ہلاک ہوگیا، واقعے کے خلاف بڑی تعداد میں امریکی شہری سڑکوں پر نکل آئے۔
خبر ایجنسی کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، سکیورٹی فورسز مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کر رہی ہیں۔
منیاپولس میں 7 جنوری کو بھی امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے خاتون ہلاک ہو گئی تھی جس کے بعد مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
صدر ٹرمپ فوراً امیگریشن آپریشن ختم کریں، گورنر منی سوٹا
منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے کہا ہے کہ وفاقی ایجنٹ کی فائرنگ کے ایک اور ہولناک واقعے پر وائٹ ہاؤس سے بات کی ہے، صدر ٹرمپ ہزاروں پر تشدد، غیر تربیت یافتہ امیگریشن افسران کو منی سوٹا سے واپس بلائیں۔
منی سوٹا کے گورنر کی بیان بازی بغاوت کو ہوا دے رہی ہے، ٹرمپ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منی سوٹا کے میئر اور گورنر پر بغاوت کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ منیاپولس میں شہری کی ہلاکت پر مقامی قیادت کا رد عمل خطرناک ہے، منی سوٹا کے میئر اور گورنر کی بیان بازی بغاوت کو ہوا دے رہی ہے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی منی سوٹا میں بغاوت ایکٹ نافذ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔