نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ٹی 20ورلڈکپ،سری لنکانےآئرلینڈکو 70 رنزسےہرادیا
  • بریکنگ :- آٹھواں میچ، 172رنزکاسری لنکن ہدف،آئرش ٹیم 101رنزپرآؤٹ ہوگئی
  • بریکنگ :- آئرش کپتان اینڈی بالبرنی کے 41 رنزبھی شکست سےنہ بچاسکے
  • بریکنگ :- سری لنکن بلےبازہاسارنگا 71 رنزکےساتھ ٹاپ اسکورر
  • بریکنگ :- ٹی 20 ورلڈکپ،گروپ اےمیں سری لنکاکی ٹاپ پوزیشن مستحکم
Coronavirus Updates

مسائل اور ان کا حل

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مفتی محمد زبیر


قرض دی گئی رقم پرمشروط نفع کی شرعی حیثیت،سوال:۔بخدمت جناب مفتی صاحب !براہِ مہربانی درج ذیل بیان کی روشنی میں ہمارے لئے بصورت فتویٰ رہنمائی فرمائیں:فریق اول زیدنے فریق دوم بکر کو پانچ لاکھ روپے اس شرط کے ساتھ دیئے کہ بکر اس سے کاروبار کرتا رہے مگر اس میں سے صرف پانچ ہزار ہر ماہ دو سال تک زید کو ادا کرے اور دوسال بعد جب اسکا کاروبار سیٹ ہوجائے تو وہ پانچ لاکھ واپس کر دے۔ دونوں فریق اس پر راضی اور عمل پیرا ہیں،شرعا ًاس صورت کا کیا حکم ہے؟جواب:۔صورت مسئولہ میں رقم قرض دیکراس پرنفع لینے کامعاملہ شرعاًسودہے ۔اس معاہدہ اورلین دین کی وجہ سے فریقین گناہگارہوئے ہیں ،دونوں پراس معاملہ کوختم کرنااورتوبہ واستغفارکرنالازم ہے۔

طلاق کے بعدبرادری کاایک لڑکی

 سے جہیزلیکردوسری لڑکی کودینا

سوال:۔(۱)زید جوکہ انتہائی غریب تھا،اس کی تین بیٹیوں کی شادی برادری کے بڑے بکرنے برادری سے چندہ اکٹھا کرکے ایک ہی خاندان میں کروائی تھی،کچھ عرصہ بعدکسی وجہ سے ایک لڑکی کواس کے شوہرنے طلاق دی تو دوسری دونوں لڑکیوں کوبھی ان کے شوہروں نے طلاق دیدی، تینوں لڑکیوں کوجہیزمیں دیئے گئے۔ سامان کے بارے میں برادری کے چندہ دینے والے افراد کا کہناہے کہ یہ جہیزہم نے اللہ کیلئے ان لڑکیوں کودیاتھالہذایہ جہیزان لڑکیوں کاہے جبکہ برادری کا جوبڑاہے بکر،اُس کاکہناہے کہ یہ جہیز کا سامان مجھے دیا جائے۔ میں کسی اورغریب لڑکی کو شادی میں یہ جہیزدے دوں گا۔ اب آپ سے گزارش ہے کہ شرعی طورپررہنمائی فرمائیں کہ بکرکی بات صحیح ہے یاغلط؟اور جہیز کا حقدار کون ہے؟

جواب:۔(۱)جہیزمیں جس لڑکی کوجوسامان دیا گیا اس کی مالک وہی لڑکی ہے ،لہٰذابکرکیلئے یہ سامان لیکرکسی اورلڑکی کوجہیزمیں دیناشرعاًجائزنہیں ،اس سے احترازکرنالازم ہے۔

فی الدرالمختار(۳؍۱۵۵)جھزابنتہ بجھازوسلمھاذلک لیس لہ الاستردادمنھاولالورثتہ بعدہ۔

طلاق دینے پرجرمانہ مقررکرنا

سوال:۔(۲)مفتی صاحب میرادوسراسوال یہ ہے کہ ان تینوں لڑکیوں کے شوہروں پر2لاکھ روپے جرمانہ مقررکیاگیا، اس جرمانہ کی رقم کاشرعاًحقدارکون ہے؟

جواب:۔(۲)صورت مسئولہ میں لڑکوں سے جرمانہ کے طورپر2لاکھ کامطالبہ کرنا شرعاًجائزنہیں۔ اس سے احتراز کرنا لازم ہے نیزاگریہ رقم لڑکوں سے لی گئی ہو تو اب انہیں واپس کرنالازم ہوگا۔

فی مشکوۃ المصابیح (۲۵۵) الالاتظلمواالا لایحل مال امریٔ الابطیب نفس منہ۔فی ردالمحتار (۴؍۶۲)۔۔۔۔۔ وفی شرح الآثار:التعزیربالمال کان فی ابتداء الاسلام  ثم  نسخ والحاصل ان المذھب عدم  التعزیر بالمال وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(۶؍۲۰۱)

مشروط طلاق کاشرعی مسئلہ

سوال:۔میں بکرکانکاح ایک لڑکی کے ساتھ تقریباً15سال قبل ہواتھااورہمارے3بچے بھی ہیں ،ابھی ایک سال قبل بہن کے ساتھ کسی معاملہ پرمیں نے بہن کویہ الفاظ کہے:’’میں نے آئندہ اگرآپ سے گلہ کیاتووائف طلاق‘‘ واضح رہے کہ یہ الفاظ میں نے صرف ایک مرتبہ کہے ہیں اوراس کے بعدابھی تک بہن سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا۔لیکن ابھی اڑھائی مہینہ قبل ایک معاملہ میں بہن ایک بھائی کے بارے میں کہہ رہی تھی کہ بھائی صحیح نہیں کررہاتواس کے جواب میں والدہ کومخاطب کرکے میں نے کہاکہ بھائی اپنی جگہ صحیح ہے،واضح رہے کہ میں نے اس کے علاوہ کبھی کوئی زبانی یاتحریری طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کئے۔اب آپ سے شریعت کی روشنی میں مجھے دوباتوں کے متعلق رہنمائی درکارہے:

(۱)کیامذکورہ الفاظ سے یابہن کے جواب میں والدہ کویہ کہنے سے کہ بھائی اپنی جگہ صحیح ہے،میری بیوی پرکوئی طلاق توواقع نہیں ہوئی؟

(۲)اگرآئندہ میں نے بہن سے کوئی گلہ کیا تو ایسی صورت میں میرے لئے شرعی حکم کیاہوگا؟

جواب:۔(۱،۲)صورت مسئولہ میں فی الحال آپ کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تاہم آپ نے جوخط کشیدہ الفاظ استعمال کئے ہیں یہ تعلیق (مشروط) طلاق ہے جس کاحکم یہ ہے کہ آئندہ اگرآپ نے اپنی مذکورہ بہن سے کوئی گلہ کیاتوآپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی،جس میں آپ کوبیوی کی عدت کے دوران رجوع کا اختیار ہو گا ۔ اگر عدت کے دوران آپ نے رجوع کر لیا تونکاح حسب ِسابق برقرار رہے گا۔ عدت میں رجوع نہیں کیا تو نکاح ختم ہو جائے گا اور تجدیدنکاح کے بغیردوبارہ ساتھ رہنے کی گنجائش نہیں ہوگی،تاہم آئندہ آپ کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگااسلئے احتیاط کی جائے، واضح رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس سے قبل یابعدآپ نے کبھی کوئی زبانی یاتحریری طلاق نہ دی ہو بصورت دیگریہ حکم نہیں ہوگا۔ایسی صورت میں تفصیل لکھ کرمسئلہ دوبارہ معلوم کرلیا جائے۔

فی الھندیۃ(۱؍۴۴۰)واذاطلق الرجل امرأتہ تطلیقۃرجعیۃ اوتطلیقتین فلہ ان یراجعھافی عدتھارضیت بذلک اولم ترض۔وفی الھندیۃ (۱؍۴۲۰) واذااضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط۔

زندگی میں جائیدادتقسیم کرنے کاشرعی

 طریقہ اورزیرِکفالت یتیم نواسی کاحق

سوال:۔ جناب مفتی صاحب !میرے 5 بیٹے اور7بیٹیاں ہیں اوربیوی کاانتقال ہو چکا ہے،نیز7میں سے ایک بیٹی کابھی انتقال ہو گیا ہے ، مرحومہ کی ایک بیٹی ہے اور اپنے نانا کے زیرکفالت ہے ۔ اس کی عمرتقریباً12سال ہے، میری جائیدادمیں ایک ذاتی مکان ہے جس کی قیمت بیس لاکھ روپے ہے ،میں اپنی جائیداد اپنی زندگی میں اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہوں، آپ سے گذارش ہے کہ شریعت محمدیؐ اور فقہ حنفی کے مطابق میرا اور ساری اولادکافی کس حصہ بتا دیں تاکہ انصاف کے ساتھ سب کو ان کاحصہ مل جائے اورکوئی شکایت نہ ہو،عین نوازش ہوگی۔

جواب:۔ آپ اپنی زندگی میں اپنے     مال وجائیداد کے خود مالک ہیں اورجائیدادتقسیم کرنے یانہ کرنے کابھی آپ کواختیارہے، لیکن تقسیم کرنا شرعاً آپ پرلازم نہیں اورنہ ہی اولادکووالد کی جائیدادمیں کسی حصے کے مطالبہ کاحق ہے تاہم اگرآپ بخوشی اپنی زندگی میں بحالت صحت اپنی جائیداد تقسیم کرناچاہتے ہیں تواس میں بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی بقیہ زندگی کیلئے کچھ مناسب حصہ الگ کرلیں پھرباقی کو بیٹے اور بیٹیوں میں تقسیم کردیں ۔ لڑکے اور لڑکی کو برابر دیں اور بلاوجہ اپنی اولادمیں سے کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دیں،واضح رہے کہ کسی بیٹے یابیٹی کی زیادہ فرمانبرداری یا مالی اعتبارسے کمزور ہونے یاغیرشادی شدہ ہونے یا فیملی کے بڑا ہونے کی بنا پراگر اسے دوسروں کی نسبت کچھ زیادہ دیدیں یابیٹے کوبیٹی کی نسبت دگنادیدیں تو اس میں بھی شرعی طور پرکوئی حرج نہیں ،بشرطیکہ اس میں دوسروں کو نقصان پہنچانے کی نیت نہ ہو محض نقصان پہنچانے کی غرض سے کسی کوزیادہ اور کسی کو کم دینا گناہ ہے ،نیزآپ اپنی مذکورہ نواسی کوبھی اپنی مرضی سے جتناچاہیں دے سکتے ہیں،نیزجس کوجوکچھ دیں باقاعدہ تقسیم کرکے ہرایک کے حصہ پرعملی طورپرمالکانہ قبضہ کرادیں، محض زبانی یاتحریری طور پر یاسرکاری کاغذات میں محض نام کرا دینے سے شرعی طور پرکوئی مالک نہیں بنتا۔

وفی الدرالمختار( ۵؍۶۹۶): لاباس بتفضیل الاولاد فی المحبۃ لانھا عمل القلب ،وکذا فی العطایا اذالم یقصد بہ الاضراروان قصد فسوی بینھم یعطی البنت کالابن عندالثانی وعلیہ الفتوی،ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم،وکذا فی الخانیۃ ۳؍۲۷۹،وتکملہ فتح الملھم )

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ﷺجس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

سرور کونین ﷺکی آمد سے عرب سے جہالت کے اندھیرے چھٹےآپ ﷺ کی تعلیمات کی بدولت خون کے دشمن بھائی بھائی بن گئے،اللہ نے آپ ﷺ کو تما م جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاآپ ﷺ بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف فرما دیا کرتے تھے

اتباع مصطفیٰ ﷺ کی برکات ،آپ ﷺ کا پیروکار اللہ تعالیٰ کا مجبوب ہے

’’اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (آل عمران: آیت31)محبت ایک مخفی چیز ہے کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں اور کم ہے یا زیادہ، اس کا کوئی پیمانہ بجز اس کے نہیں کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے۔ محبت کے کچھ آثار اور علامات ہوتی ہیں ان سے پہچانا جائے، یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں اپنی محبت کا معیار بتایا ہے۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس کو اتباعِ محمدیﷺکی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔

آمد مصطفیٰ ﷺ مرحبا مرحبا ،نبی کریم ﷺ کی آمد تمام جہانوں کے لئے رحمت

’’اور بیشک آپﷺ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں‘‘۔ (القلم ۶۸:۴)اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاوّل شریف ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا، یہ مہینہ فیوض وبرکات کے اعتبار سے بہت ہی افضل و اعلیٰ ہے کیوں کہ اس ماہ مبارک میں باعث تخلیق کائنات فخر موجودات حضور ﷺ نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاوّل بروز پیر مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپﷺ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔

نعت ِ شریف

رہتے تھے ان کی بزم میں یوں با ادب چراغ,جیسے ہوں اعتکاف کی حالت میں سب چراغ,جتنے ضیا کے روپ ہیں، سارے ہیں مستعار

بگل بج گیا،سٹیج سج گیا، 20 ورلڈ کپ کا آغاز،27 روزہ ٹورنامنٹ میں 45 میچ کھلیے جائیں گے،فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے

’’آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ2021ء ‘‘16ٹیموں پر مشتمل ہے، جو ٹاپ ٹین ٹیموں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کوالیفائر کے ذریعے منتخب ہونے والی چھ دیگر ٹیموں پر مشتمل ہے۔یہ ایونٹ عام طور پر ہر دو سال بعدہوتا ہے، ٹورنامنٹ کا 2020ء کا ایڈیشن بھارت میں شیڈول تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے ٹورنامنٹ کو 2021 ء تک ملتوی کرکے متحدہ عرب امارات اوراومان منتقل کر دیا گیا۔

شہید ملت لیاقت علی خان،عظیم رہنما،صاحب فراست حکمراں

آپؒ نے تمام معاشی پالیسیوں کا رخ امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی طرف منعطف کردیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان میں دوسرا بڑا نام لیاقت علی خانؒ کا ہے