نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 777 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 42 ہزار 944 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 336 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.78 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 10 اموات
Coronavirus Updates

قرارداد تاسیس یوم سیاہ کی بنیاد

خصوصی ایڈیشن

تحریر : جسٹس (ر) منظور گیلانی


سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لئے خصوصی تحریر

1947ء کی جس قرار دادکو آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کے طور منایا جاتا ہے اس کے اغراض و مقاصد کی مختصر تلخیص اور ’’اساس‘‘ یہ الفاظ ہیں۔ ’’عبوری حکومت ریاست کی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے ہندو، مسلم اور سکھوں کی اجتماعی آواز کے ترجمان ہے، جس کا مقصد امن و امان قائم کر کے لوگوں آزادانہ ووٹ سے قبول عام حکومت قائم کرے۔ عبوری حکومت ہمسایہ ممالک ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی کے جذبات اور ان سے کشمیری عوام کی فطری آرزوئے آزادی کے ہمدردی کی خواہش مند ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ غیر جانبدار مبصرین کی موجودگی میں آزادانہ رائے شماری کے ذریعہ ہوگا‘‘۔

ریاست جموں و کشمیر کی ایک باغی حکومت کی بنیاد چار اکتوبر 1947ء کوانور نامی ایک شخص نے ڈالی تھی۔ پاکستان کے معتبر   اخبارات نے اسے شائع بھی کیا۔

22 اکتوبر 1947ء کو صوبہ سرحد کے قبائل لشکر کی مدد سے مقامی لوگوں نے  مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کو دست بدست جنگ کے ذریعہ ان علاقوں سے پسپا کیا۔ جن پر 24اکتوبر 1947ء کو با ضابطہ طور پر آزاد حکو مت ریاست جموں و کشمیر کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس کے پہلے صدر، ریاستی اسمبلی کے ممبر سردار محمد ابراہیم منتخب کئے گئے۔ ان کے  انتخاب کی توثیق آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے ان علاقوں میں رہنے والے ارکان نے کی۔

آزاد کشمیر اور پوری دنیا میں بسنے والے ریاستی باشندے اس دن کو ’’آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کے طور‘‘ پر مناتے ہیں۔ میرے نزدیک اس ’’یوم تاسیس کی تاسیس‘‘ فی الواقع اس قرار داد کے الفاظ ہیں۔ 

 ہندوستان کے 27 اکتوبر کو سرینگر میں فوجیں اتارنے کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ ہندوستانی فوج کے آزاد علاقوں کی طرف پیش قدمی کے تدارک کے طور پر پاکستانی فوج نے آزاد فوج کے دستوں کی کمان سنبھال لی اور جنگ بندی کے بعد اس کی تنظیم بندی اور بالآخر اس کا پاکستانی فوج کے اندر انضمام ہوگیا۔ اس طرح آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کی’’ تاسیسی دستاویز‘‘ جس کے تحت آزاد کشمیر کی حکومت ریاست بھر کے عوام کے ترجمان کے طور، آزاد، خود مختار اور سیکولر ریاست کے طور عمل میں لائی گئی تھی، کسی رسمی اعلان کے بغیر ہی تحلیل ہوگئی اور آزاد کشمیر کا نمائندہ کردار بھی اختتام پذیر ی کے مراحل میں داخل ہوگیا۔ 

اس کی تحلیل کے ساتھ ہی ہندوستان نے  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رجوع کرلیا جس نے رائے شماری کے ذریعہ مسئلہ کے حل کی قرار داد پاس کی۔یکم جنوری 1949ء کو جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آیا جس کے تحت دو ملکوں کے کنٹرول والے علاقے کی حد بندی کو’’جنگ بندی لائن‘‘ قرار دیا گیا۔ 1972ء کے شملہ معاہدہ کے تحت ’’جنگ بندی لائن‘‘ کو ’’لائن آف کنٹرول‘‘ میں بدل دیا گیا۔ ہندوستان نے اگست 2019ء کو ہندوستانی آئین کے تحت ریاست کو جو خصوصی حیثیت حاصل تھی اس کو ختم کرکے ریاست کو تحلیل اور ہندوستانی اقتدار اعلیٰ کے تحت مرکزی کنٹرول میں لے لیا۔

ادھر جنگ بندی معاہدے کے فوراً بعد آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان 28 اپریل 1949ء کو کراچی معاہدہ طے پایا جس کی خصوصی بات گلگت بلتستان، جو پہلے   پاکستان کے کنٹرول میں تھا، مکمل طور پاکستان کے نظم و نسق میں آگیا۔ 

کراچی معاہدہ کے تحت ہی حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان آزاد کشمیر کے نظم و نسق کے بارے میں    اختیارات کے حدود کی تقسیم بھی عمل میں آئی۔ کراچی معاہدہ1950ء کے رولز آف بزنس کے نافذ ہونے کے بعد ختم ہوگیا۔ 1958ء میں رولز آف بزنس میں ترمیم ہوئی اس کے ساتھ ہی 1960ء،1964ء، 1968ء ، 1970ء ،1974ء کی آئینی دستاویزات کے ذریعے بھی بالواسطہ اور بلاواسطہ اختیارات کی تقسیم عمل میں آتی رہی۔ اس وقت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے تحت عمرانی معاہدہ جملہ ترامیم کے ساتھ صرف عبوری آئینی1974ء ہے۔

آزاد کشمیر کے آئین میں تیرہویں ترمیم کے ذریعہ کشمیر کونسل کے مالی اور انتظامی اختیارات تو ختم کئے گئے لیکن کشمیر کونسل اپنی جگہ موجود ہے جس پر اٹھنے والے اربوں روپے کے اخراجات حکومت آزاد کشمیر برداشت کرتی ہے۔ گوکہ ’’ٹیکس‘‘ اور ان سے جڑے معاملات  حکومت آزاد کشمیر کی حدود میں آگئے ہیں، لیکن کشمیر کونسل کے قانون سازی اور ان کے تحت تمام انتظامی اختیار وزیر اعظم پاکستان کو منتقل کئے گئے ہیں۔ یہ سب مرکزی نوعیت کے معاملات ہیں جو پاکستان کے متعلقہ اداروں کے پاس ہی رہنے چاہئیں، وزیر اعظم پاکستان کے پاس نہیں۔ تاہم ان کے تحت پالیسی سازی، فیصلہ سازی، قانون سازی اور نفاذ میں آزاد کشمیر کے لوگوں کو نمائندگی کا حق ملنا چاہئے۔ 

کشمیر کا متنازعہ ہونے کا مطلب جمہوری حقوق کا بھی متنازعہ ہونا نہیں، 24 اکتوبر 1947ء کی آزاد کشمیر اور اس کی حکومت کی تاسیسی قرار داد کی تحلیل بہتری پہ منتج ہونی چاہئے، جمہوری حقوق کے انحراف پہ نہیں۔ نئی نسل کو ریاست کی تاسیسی مقام سے موجودہ سیاسی سطح پر پہنچانے کی وجوہات سمجھانے کی ضرورت ہے جو اس سلسلے میں ذہنی انتشار کا شکار ہے۔ سطحی اور جذباتی نعرہ بازی سیاسی، سفارتی اور آئینی دلائل کا جواب نہیں ہو سکتے۔ اس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کا مفاد، آزاد کشمیر کے بہتر نظم و نسق، ملازمین کی استعداد کار اور مجموعی طور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے  ایک بہتر قدم ہے۔ اکیسویں صدی میں اس کا ادراک کرنا ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جونیئرہاکی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی، ہاکی کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔۔۔

4 بارکا عالمی چیمپیئن 2014ء میں ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکا تھاجونیئرہاکی ورلڈکپ کاتاج کس کے سر سجے گا اس کافیصلہ آج ارجنٹائن اور جرمنی کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کے بعدہوگا۔ دونوں ٹیمیں آج ٹائٹل ٹرافی کیلئے دوسری بارمدمقابل ہوں گی۔آج کون سی ٹیم اچھا کھیلتی ہے اورکس کومایوسی کاسامنا کرنا پڑتاہے، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ پاکستان میں قومی کھیل ہاکی مسلسل تنزلی کاشکار ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام محض سیاست، اختیارات اور فنڈز کے حساب کتاب میں لگے رہتے ہیں اورکسی کو سبزہلالی پرچم کی سربلندی کااحساس نہیں ہے۔ ہمیں تو یہی افسوس ہے کہ ماضی میں ہاکی کے بے تاج بادشاہ پاکستان کی جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ،جس کاتسلسل درجہ بندی کے لیے کھیلے جانے والے میچز میں بھی جاری رہا اورپاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ سے شکست کھا کر ٹاپ ٹین میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت میں کھیلے جانے والے ہاکی کے جونیئر عالمی کپ میں جنوبی افریقہ نے قومی ٹیم کو شوٹ آئوٹ پر ہرادیا۔پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ مقررہ وقت میں 3،3گول سے برابر رہا تھااور فیصلہ شوٹ آئوٹ پر ہوا جس میں جنوبی افریقہ نے1-4 سے کامیابی حاصل کی۔

تلاش

افریقہ کے دور دراز گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ وہ ایک خوش مزاج، خوشحال اور قناعت پسند انسان تھا اور پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔

شریر چوہا

جمیلہ کا گھر ایک خوبصورت باغ کے درمیان تھا۔اطراف میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں۔ ان کے علاوہ اس میں آم، امرود، کیلے، چیکو اور ناریل وغیرہ کے درخت بھی تھے۔ جمیلہ بڑی اچھی لڑکی تھی۔ صبح سویرے اٹھتی نماز اور قرآن پڑھتی اور پھر باغ کی سیر کو نکل جاتی۔ گھر آکر اپنی امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر سکول چلی جاتی۔ اس کی استانیاں اس سے بہت خوش رہتی تھیں، کیوں کہ وہ ماں باپ کی طرح ان کا کہنا بھی مانتی تھی اور خوب جی لگا کر پڑھتی تھی۔ جمیلہ کے کمرے میں کتابوں اور کھلونوں کی الماریاں خوب سجی ہوئی تھیں۔ فرصت کے اوقات میں وہ کتابیں پڑھتی اور کبھی نت نئے کھلونوں سے بھی کھیلتی۔

چرواہے کا احسان

انگریز جب ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ مشینیں بھی لائے۔ اس وقت تک یورپ میں ریل اور دوسری مشینیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں ریلوں کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ریل کی پہلی لائن بمبئی سے تھانے تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد مختلف حصوں میں پٹریاں بچھائی جانے لگیں۔ پہاڑی علاقوں میں پٹریوں کا بچھانا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ انجینئروں نے پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر لائنوں کو گزارا۔ ہمارے ہاں کوئٹہ لائن اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

پہیلیاں

گونج گرج جیسے طوفان،چلتے پھرتے چند مکانجن کے اندر ایک جہان،پہنچے پنڈی سے ملتان(ریل گاڑی)