اگر آپ کے بچے کو بخار ہو جائے ؟

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ


ننھے منے پیارے بچوں کی صحت ماں باپ کے لیے تسلی کا باعث بنتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو بخار ہو جائے تو پورے خاندان کے لیے عموماً اور ماں کے لیے خصوصاً پریشانی کا سبب ہوتا ہے۔

 بعض اوقات بخار ایک آدھ دن میں خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے اور زیادہ پریشان نہیں کرتا لیکن بعض صورتوں میں یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہیــ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اگرآپ کے بچے کو بخار ہو جائے تو اس کا ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج کیا جائے۔ بخار عموماً کسی انفیکشن یا بیماری کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

بخار کی علامات

بخار ہونے سے بچہ کچھ بدلا بدلا نظر آتا ہے اور ایک سمجھ دار ماں بچے کے رویئے میں تبدیلی سے فوراً آگاہ ہو جاتی ہے کہ کوئی مسئلہ ہے۔ بخار میں بچے کا جسم گرم ہو جاتا ہے۔ وہ زیادہ رونے لگتا ہے اور دودھ پینے میں اس کی دلچسپی بالکل ختم ہو جاتی ہے۔

ٹمپریچر چیک کرنا

بچوں میں جسم کا درجہ حرارت چیک کرنا بھی مسئلہ ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے یا تو بغل میں تھرما میٹر رکھتے ہیں یا پھر مقعد (Rectum) میں۔ اس کے علاوہ آج کل پٹی نما تھرما میٹر بھی ملتے ہیں جو ماتھے پر لگانے سے فوراً ٹمپریچر بتا دیتے ہیں۔

ٹمپریچر کیسے کم کیا جائے؟

بچے کو بخار ہونے کی صورت میں فوری طور پر علاج کی فکر کرنا چاہیے۔ مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں:

1-تیز بخار ٹھنڈے پانی سے پٹیاں کرنے سے کم ہو جاتا ہے۔

2-ٹھنڈے پانی میں بھگو کر پٹیاں چھاتی کے علاوہ سارے جسم پر کریں۔

3-پٹیوں سے بخار کم ہوجائے تو اس کے ساتھ ساتھ بخار ختم کرنے والی کوئی دوا مثلاً پیرا سیٹا مول شربت وغیرہ دینا چاہیے۔

4-چھوٹے بچوں کو دوا دیتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بچوں کو اسپرین یا ڈسپرین بالکل نہ دی جائے کیونکہ اس سے دماغ کی بیماری ہوسکتی ہے۔

5- 6یا 7 ماہ کی عمر میں جب بچے دانت نکالنا شروع کرتے ہیں تو بخار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکے لگنے کے بعد بھی بخار ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ دونوں صورتوں میں بخار ایک دو دن کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے یا پھر بخار دور کرنے والی کسی دوا کے استعمال کرنے سے دور بھاگ جاتا ہے۔ اگر بخار زیادہ دن رہے تو پھر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

6-بخار کے دور ان بچے کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور اسے ہوا دار اور روشن کمرہ میں رکھا جائے۔

7-بخار کے دوران خود سے کسی قسم کی اینٹی بائیوٹک دوا کا استعمال ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔ اکثر اوقات ان کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔