چھبیسویں پارے کاخلاصہ

تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر


سورۃ الاحقاف: قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحقاف سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شرک کرتے ہیں‘ ان کو کہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی سابقہ کتاب یا علم کا ٹکڑا اپنے موقف کی دلیل کے طور پر لے کر آئیں۔ مزید ارشاد ہوا کہ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا‘ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارتا ہے‘ جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے اور وہ ان کے پکارنے سے غافل ہیں۔

جنتی لوگ

اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارارب اللہ ہے‘ پھر اس پر استقامت کو اختیار کیا تو نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ غم اور یہی لوگ جنتی ہیں‘ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ان کو ان کے نیک اعمال کی جزا ملے گی۔

والدین سے حسن سلوک

 اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین سے اچھے برتاؤ کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو اٹھائے رکھا اور تکلیف کے ساتھ اسے جنم دیا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ پینے کی مدت تیس ماہ ہے‘ یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کی انتہا کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوا تو اس نے کہا: اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو دی اور مجھے توفیق دے کہ میں ایسے نیک اعمال کروں‘ جنہیں تو پسند کرتا ہے اور تو میری اولاد کی اصلاح کر دے‘ میں تیری بارگاہ میں آکر توبہ کرتا ہوں اور بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں‘ جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی خطاؤں کو معاف کرتے ہیں اور یہی لوگ جنتی ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے دنیا میں کیا جاتا تھا۔

نبی کریم ؐ کو صبرکی تلقین 

 اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریمﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آپ ویسے صبر فرمائیں‘ جس طرح آپ سے قبل اولو العزم انبیاء کرام‘ یعنی نوح‘ ابراہیم‘موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام اجمعین صبر فرماتے رہے۔ جب رسول اللہ حضرت محمدﷺ نے دعوت دین پر صبر کیا تو آپﷺ کا صبر تمام انبیائے سابقہ کے صبر پر سبقت لے گیا۔ ایک حدیث شریف میں خود آپﷺ نے فرمایا کہ جس قدر تکالیف مجھ پر نازل ہوئیں‘ مجھ سے پہلے کسی نبی پر اتنی مصیبتیں نہیں آئیں۔ 

سورہ محمد

سورۃ الاحقاف کے بعد سورہ محمد ہے۔ اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ان کے اعمال گمراہ کن ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور رسول اللہﷺ پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لائے، جس کو اللہ نے حق کے ساتھ نازل فرمایا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی خطائوں کو معاف کر دیا اور ان کے معاملات کو سنوار دیا ہے۔

منکرین کا ذکر

 اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے منکروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل کفر کا رہن سہن اور کھانا جانوروں کے کھانے کی مانند ہے اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے۔ جس طرح جانور حلال وحرام کی تمیز کے بغیر کھاتے ہیں‘ اسی طرح کافر بھی حلال و حرام کی تمیز کے بغیر کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کیلئے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں کو تیار کر دیا ہے‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگ قرآن مجید پر کیوں غور نہیں کرتے؟ کیا ان کے دل پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکتے رہے اور ہدایت واضح ہو جانے کے باوجود رسول کریمﷺ کی مخالفت کی، وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان کے اعمال برباد ہو چکے ہیں۔ 

سورہ فتح 

 اس کے بعد سورہ فتح ہے۔ سورہ فتح میں رسول کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین کی بشارت دی تھی۔ اس فتح مبین کا پس منظر یہ ہے کہ رسول کریمﷺ اپنے 1400 رفقاء کے ہمراہ عمرہ کرنے کیلئے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ جب منزل قریب آئی تو مشرکین مکہ نے نبی کریمﷺ اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ 

قصاص عثمانؓ

آپﷺ نے مذاکرات کیلئے جناب عثمان غنیؓ کو سفیر بنا کر روانہ فرمایا۔ جب آپؓ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو یہ افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ سے قصاصِ عثمانؓ کیلئے بیعت کا تقاضا کیا تو صحابہ کرام ؓنے فوراً سے پہلے نبی رحمتﷺ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ ان مومنوں سے راضی ہے‘جنہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ کچھ دیر بعد حضرت عثمانؓ بخیرو عافیت واپس آ گئے، البتہ اس بیعت کی خبر مکہ والوں کو ہو گئی اور انہوں نے مسلمانوں کو جنگ کیلئے تیار پایا تو صلح پر آمادہ ہو گئے۔

صلح حدیبیہ

 اس موقع پر رسول کریمﷺ نے مکہ والوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے صلح حدیبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی کچھ شرائط ایسی تھیں جو بظاہر مسلمانوں کے خلاف محسوس ہوتی تھیں جس کی وجہ سے کچھ لوگوں میں غصہ بھی پایا جاتا تھا کہ اگر ہم کفارمکہ کے مقابلے میں کمزور نہیں ہیں تو ایسا معاہدہ کیوں قبول کر رہے ہیں جس کی تمام شرائط کا بظاہر فائدہ اہل مکہ کو جاتا ہے۔ اس مو قع پر اللہ تعالیٰ نے سورہ فتح نازل فرما کر رسول کریمﷺ کو فتح مبین کی بشارت دی اور ان آیات کے نزول کے بعد رسول کریمﷺ اور صحابہ کرامؓ کے دل خوشی سے معمور ہو گئے۔ اللہ نے فرمایا کہ جن شرائط کو تم اپنے خلاف سمجھ رہے ہو درحقیقت یہ مسلمانوں کی کھلی فتح کے مترادف ہیں۔ اور حقیقتاً ایسا ہی ہوا کہ صرف دو برس کے قلیل عرصے میں مسلمانوں کو فتح مکہ جیسی عظیم کامیابی حاصل ہو گئی۔ 

سورۃ الحجرات

 اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہلِ ایمان کو اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے ایمان والو! نبی ﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو اور ان کے سامنے بلند آواز سے اس طرح بات نہ کرو‘ جس طرح تم میں سے بعض‘ بعض کے سامنے اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ ورنہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں گے اور تمہیں اس کا پتا بھی نہیں چلے گا۔

صلح کرانے کا حکم

اس سورہ میں فرمایاگیا کہ اگر مومنوں کے دو گروہوں کی آپس میں جنگ ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کروا دینی چاہیے‘ اگر ایک گروہ سرکشی پر تلا رہے تو ایسی صورت میں باغی گروہ کیخلاف جنگ کرنی چاہیے‘ یہاں تک کہ وہ صلح پر آمادہ ہو جائے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ بیشک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں‘ ان کی صلح صفائی کروا دیا کرو۔

بدگمانی گناہ

 اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تجسس کی بھی شدت سے مذمت کی ہے اور بدگمانی کو گناہ قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیںاس سورہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قبائل‘ قومیں اور گروہ تمہارے تعارف کیلئے بنائے گئے ہیں جبکہ فضیلت کا سبب تقویٰ ہے۔ جو پر ہیزگارہے‘ وہی اللہ کی نظروں میں عزت دار ہے۔ 

سورہ ق

  سورہ ق میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق ارض و سماوات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا اور چھ دن میں کائنات کی تخلیق کے بعد اس کو تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا احسا س تک بھی نہیں ہوا۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ جہنم میں جب جہنمی ڈال دیے جائیں گے تو جہنم کہے گی کہ میرے اندر اور لوگوں کو ڈالا جائے۔ جہنم سے بچ نکل کرجنت میں داخل ہوجانے والے خوش نصیب وہی ہوں گے جنہوں نے تقویٰ اور پرہیز گاری کو اختیار کیا ہو گا۔ 

سورۃ الذاریات

  اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی قسمیں اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ 

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

انتیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ الملک : حدیث پاک میں سورۃ الملک کے بڑے فضائل بیان کیے گئے ہیں، اسے ’’المنجیہ‘‘ (نجات دینے والی) اور ’’الواقیاہ‘‘ (حفاظت کرنے والی) کہا گیاہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی تلاوت عذاب قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے، اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا مقصد بندوں کی آزمائش ہے کہ کون عمل کے میزان پر سب سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمانوں کی تخلیق کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی تخلیق میں تمہیں کوئی عیب یا نقص نظر نہیں آئے گا، ایک بار پھر نظر پلٹ کر دیکھ لو، کیا اس میں تمہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے، پھر بار بار نظر اٹھا کر دیکھ لو (اللہ کی تخلیق میں کوئی عیب یا جھول تلاش کرنے میں) تمہاری نظر تھک ہار کر ناکام پلٹ آئے گی۔

انتیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ المُلک: انتیسویں پارے کا آغاز سورۃالملک سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زندگی اور موت کو اس لیے بنایا تاکہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قوتِ تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس نے سات آسمان بنائے اور اس نے اس انداز میں ان کو بنایا کہ اس کی تخلیق میں کسی بھی قسم کی کوئی کمزوری نظر نہیں آتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آسمان دنیا کو ستاروں کے چراغوں سے مزین کیا اور یہ شیطانوں کو مارنے کے بھی کام آتے ہیں۔

صدقہ فطر، مقصد و احکام

جس نے نماز عید سے پہلے اسے ادا کیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہے

جمعتہ الوداع ! ماہ مبارک کے وداع ہونے کا وقت قریب آ گیا

ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو جمعۃالوداع کہتے ہیں۔ الوداع کے لغوی معنی رخصت کرنے کے ہیں چونکہ یہ آخری جمعۃ المبارک ماہ صیام کو الوداع کہتا ہے اس لئے اس کو جمعۃ الوداع کہتے ہیں۔ جمعۃ الوداع اسلامی شان و شوکت کا ایک عظیم اجتماع عام ہے۔ یہ اپنے اندر بے پناہ روحانی نورانی کیفیتیں رکھتا ہے اور یہ جمعہ اس لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اب ان ایام گنتی کے وداع ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ جس میں مسلمانوں کیلئے عبادات کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

سجدہ تلاوت کے چند مسائل

قرآن منبع ہدایت ہے، جب اس کی تلاوت تمام آداب، شرائط اور اس کے حقوق ادا کر کے نہایت غور و خوض سے کی جائے تو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرماتے ہیں اور علم و حکمت کے دریا بہا دیتے ہیں۔ قرآن کریم کی تلاوت کے احکام میں سے ایک حکم سجدہ تلاوت بھی ہے کہ متعین آیات کریمہ کی تلاوت کرنے اور سننے کے بعد سجدہ کرنا واجب ہوتا ہے۔

اٹھائیسویں پارے کاخلاصہ

سورۃ المجادلہ: اس سورۂ مبارکہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ صحابیہ خولہؓ بنت ثعلبہ کے ساتھ ان کے شوہر اوسؓ بن صامت نے ظِہار کر لیا تھا۔ ظِہارکے ذریعے زمانۂ جاہلیت میں بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی تھی۔ حضرت خولہؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: پہلے میں جوان تھی‘ حسین تھی اب میری عمر ڈھل چکی ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ انہیں شوہر کے پاس چھوڑتی ہوں تو ہلاک ہو جائیں گے اور میرے پاس کفالت کیلئے مال نہیں ہے۔