اب کپڑے بھی روبوٹ پہنائے گا
اسپیشل فیچر
مصنوعی ذہانت کا حیران کن کارنامہ
مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا روز بروز ایسے حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہی ہے جو چند برس پہلے تک صرف سائنسی فلموں اور تصوراتی کہانیوں کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ اب ایک ایسا جدید روبوٹ متعارف کرایا گیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں انسان کو کپڑے پہنا سکتا ہے۔ یہ منفرد ایجاد نہ صرف ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کا مظہر ہے بلکہ معمر افراد، جسمانی معذوری کا شکار مریضوں اور روزمرہ زندگی میں دوسروں کی مدد کے محتاج افراد کیلئے بھی ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں گھریلو روبوٹس انسانی زندگی کا معمول بن سکتے ہیں، جو صرف گھریلو کام ہی نہیں بلکہ ذاتی نگہداشت کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے۔
یہ تصور سب سے پہلے اینیمیشن فلم ''والیس اینڈ گرومٹ‘‘ (Wallace & Gromit) میں دکھایا گیا تھا، جہاں ایک شخص بغیر ہاتھ لگائے کپڑے تبدیل کر لیتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے ایسا خودکار روبوٹک لباس تیار کر لیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں خود ہی جسم پر چڑھ جاتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی لباس کے اندر پھولنے والی باریک ''بیل نما نالیاں‘‘ (Vines Inflatable) نصب کی گئی ہیں، جو آہستہ آہستہ پھیلتے ہوئے لباس کو پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس یہ نیا نظام اس وقت بھی کام کرتا ہے جب لباس پہننے والا شخص حرکت کر رہا ہو، یعنی اسے کپڑے پہننے کیلئے ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بزرگ افراد، جسمانی معذوری کا شکار لوگوں اور ایسے مریضوں کیلئے انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے وہ دوسروں کی مدد کے بغیر خود لباس پہن سکیں گے۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں فائر فائٹرز، ریسکیو اہلکاروں اور طبی عملے کو بھی چند سیکنڈ میں حفاظتی لباس پہننے میں یہ ٹیکنالوجی مدد فراہم کر سکتی ہے، جس سے قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔
تحقیقی ٹیم نے اپنے مقالے میں، جو سائنسی جریدے میں شائع ہوا، لکھا ہے کہ ہم نے ایک نیا نرم روبوٹک لباس پہنانے والا نظام پیش کیا ہے، جسے ''سیلف ویئرنگ ایڈاپٹو گارمنٹ‘‘ (SWAG) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام کھلنے اور بتدریج پھیلنے کے منفرد طریقۂ کار کے ذریعے خودکار انداز میں لباس پہننے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ محققین کے مطابق روایتی روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس ''SWAG‘‘ انسانی جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ اس کا منفرد انفولڈنگ بیسڈ ڈیپلائمنٹ طریقہ لباس اور جلد کے درمیان رگڑ کو تقریباً ختم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں لباس پہننے کا عمل محفوظ، آرام دہ اور مؤثر بن جاتا ہے۔
اس منفرد روبوٹک لباس کو تیار کرنے والی تحقیقی ٹیم، جس میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دان شامل ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں اس ایجاد کا خیال اس بیل سے ملا جو دیواروں پر آہستہ آہستہ چڑھتی جاتی ہے۔ جب لباس کے اندر موجود نرم اور لچکدار ''بیل نما نالیاں‘‘ ہوا کے دباؤ سے پھولتی ہیں تو وہ لباس کو پہننے والے کے جسم کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف سرکاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بیل کسی دیوار یا سہارے پر چڑھتی ہے۔تحقیق کے مرکزی مصنف کم نامگیون نے بتایا کہ انہیں اس ایجاد کا خیال ایک بار بارش کے دوران آیا۔ میں سائیکل چلا رہا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ اسی لمحے میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر برساتی کوٹ سائیکل چلاتے ہوئے خود بخود پہنایا جا سکے تو یہ کتنا مفید ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیل نما روبوٹ انسان کے جسم کے قریب رہتے ہوئے لباس کو حرکت کے دوران اندر سے باہر کی جانب پلٹتے ہوئے پہناتا ہے، جس سے وہ جسم کی ساخت کے مطابق مستحکم انداز میں اوپر کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ لباس پہننے والے شخص کو بالکل ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ یہ نظام کسی پیچیدہ کنٹرول الگورتھم کے بغیر بھی مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ روبوٹ اپنے اگلے حصے کو مسلسل آگے بڑھاتے ہوئے کام کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پارٹی میں استعمال ہونے والی کاغذی سیٹی میں پھونک مارنے پر وہ کھل کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہوا بھرنے کے ساتھ یہ بیل نما نالیاں جسم کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور اسی دوران لباس کو اندر سے باہر کی طرف پلٹتے ہوئے پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نظام پورے جسم کا لباس تقریباً 10 سیکنڈ میں پہنا سکتا ہے۔
ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر ریو جی ہوان کے مطابق یہ روبوٹک نظام تنگ جگہوں سے آسانی سے گزر سکتا ہے، اپنے اردگرد کے ماحول اور جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے آگے بڑھتا ہے، اور سطح چاہے پھسلن والی ہو، چپکنے والی ہو یا ڈھلوان پر مشتمل ہو، ہر حالت میں مؤثر انداز سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات صرف بزرگ اور جسمانی معذوری کا شکار افراد تک محدود نہیں، مستقبل میں اسے ایسے تمام مواقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں کسی شخص کو اپنے ہاتھ استعمال کیے بغیر نہایت تیزی سے لباس پہن کر فوری طور پر کام پر روانہ ہونا ہو۔
اسی طرح آگ بجھانے والا عملہ، ریسکیو اہلکاروں، طبی امدادی کارکنوں اور دیگر ہنگامی خدمات انجام دینے والے افراد بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں چند سیکنڈ میں ذاتی حفاظتی لباس پہننے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانی زندگی کو مزید آسان بنائیں گے یا مستقبل میں انسانوں کی بہت سی روایتی ذمہ داریوں کی جگہ لے لیں گے۔