ڈرامے معاشرے کے عکاس یا بگاڑ کا باعث…فیصلہ کون کرے گا؟

دنیا فورم

تحریر : میزبان : مصطفیٰ حبیب صدیقی ایڈیٹرفورم رو زنامہ دنیا کراچی رپورٹ:اعجازالحسن۔ عکاسی :محمد مہدی لے آئوٹ :توقیر عباس


شرکاء:انجینئر ایاز خان معروف مزاحیہ فنکاروڈرامہ رائٹر۔ پروفیسرڈاکٹر فرحانہ سرفرازانچارج شعبہ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔ڈاکٹر سکینہ ریاض ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔محمد نعمان شیخ ،اسسٹنٹ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔

میڈیا جو دکھا رہا ہے وہ ہماری اقدارکے خلاف ہے،پروفیسر ڈاکٹر فرحانہ 

ڈرامے ہماراآئینہ ہیں، انہیں بہتر بنایا جائے،انجینئر ایاز خان

اساتذہ بچوں کے مسائل سمجھیں اور تربیت کریں،پروفیسر ڈاکٹر سکینہ 

ہم سب کہیں نہ کہیں استاد او ر فنکار ہوتے ہیں، نعمان شیخ

 

موضوع: ’’ اساتذہ اور فنکار ٹوٹتے خاندان کیسے بچاسکتے ہیں ؟ـ‘‘

 

 80اور90کی دہائی میں پی ٹی وی پر آنے والے ڈراموں کی پسندیدگی کا یہ عالم تھا کہ گلیاں سنسان ہوجایا کرتی تھیں،شادی بیاہ کی تقریبات کیلئے تاریخیں رکھتے ہوئے ڈراموں کی فہرست سامنے رکھی جاتی تھی کہ کہیں ایسا ڈرامہ نہ ہو کہ مہمان نہ آئیں،اس زمانے میں اکثر چوری کی وارداتیں بھی شام 8سے9کے درمیان جب ڈرامہ آتا تھا اسی وقت ہوا کرتی تھیں کیونکہ عموماً گلیاں خالی ہوتی تھیں،یہ ڈراموں کی پسندیدگی کا عالم تھا،پھر نجی چینلوں کا دور آیا،گلیمر میں اضافہ ہو ا اور سیکڑوں ڈرامے ایک ہی وقت نشر ہونے لگے،ڈراموں میں دکھائے جانے والے سازشی کردار وں ،جرائم کی بھرمار حد تو یہ ہے کہ شراب نوشی اور نائٹ کلب کے سینز عام ہوگئے۔پہلے ڈرامے گھر بناتے،تربیت کرتے،بڑے چھوٹے کی تمیز سکھاتے،

رشتوں کا احترام بتاتے تھے اور پھر یہ ہوا کہ نشے میں دھت بیٹا گھر میں داخل ہوتا ہے اور باپ بے بس نظر آتا ہے جہاں ایک وقت تھا کہ سگریٹ نوشی بھی دکھانا سینسر کی ناکامی قرار پاتا تھا اب سب کچھ حدسے باہرہوگیا،ہم نے ان ہی عوام کو سامنے رکھتے ہوئے جامعہ کراچی کے شعبہ سوشل ورک کے تعاون دنیا فورم کا انعقاد کیا،کئی باتیں ہوئیں ،پری زاد جیسی کچھ ڈراموں کی تعریف بھی کی گئی لیکن بعض ڈرامے شدید تنقید کی زد میں رہے ،طلبہ وطالبات بھی ان ڈراموں سے نالاں نظر آئے،محسوس ہوا کہ نوجوان آج بھی مثبت سرگرمیوں کو پسند کرتے ہیں ،دنیا فورم میں طلبہ وطالبات نے کھل کر اظہار خیال کیا۔امید ہے کہ قارئین کو دنیا فورم کی رپورٹ پسند آئے گی،ہمیشہ کی طرح آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔شکریہ

مصطفیٰ حبیب صدیقی(ایڈیٹر فورم دنیا اخبار کراچی)

برائے رابطہ:0092-3212699629،0092-3444473215

ای میل mustafa.habib@dunya.com.pk 

 انور مقصود ،معین اختر ،ایاز خان نے مزاحیہ ڈراموں اور جملوں کا معیار رکھا  جسے گھر والوں کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا تھا آج کے مزاحیہ ڈرامے گھروالوں کیساتھ نہیں دیکھے جاسکتے ،انچارج شعبہ سماجی بہبود جامعہ کراچی

 آج کے بچے بہت ذہین ہوگئے ہیں ،کسی ڈرامے میں کوئی ایسا ویسا سین آجائے تو والدین بچوں سے کہتے تھے آپ کا سونے کا وقت ہوگیا آج بچے کہتے ابو آپ کی دوا کا وقت ہوگیاہے،معروف فنکار وڈرامہ رائٹر

  ڈراموں میں گلیمر کی وجہ سے بعض طلبہ و طالبات میں منفی احساس پیدا ہوا ۔ڈرامے میں بہو کا جو کردار دکھایا جارہاہے وہ ہمارے معاشرے کا عکاس نہیں،مشترکہ خاندانی نظام کو خطرہ ہے،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سماجی بہبود

 ہر کوئی اپنی کہانی میں ہیرو اور ولن ہوتا ہے۔ ڈرامے بہت کچھ سکھاتے ہیں ہمیں مثبت چیزوں کو اپناتے ہوئے معاشرے میں اچھا کردارادا کرنے کی ضرورت ہے،اسسٹنٹ شعبہ سماجی بہبود

 

 دنیا:خاندانی نظام بچانے میں اساتذہ اور سماجی بہبود کے ادارے کیا کردار ادا کررہے ہیں؟

 ڈاکٹر فرحانہ سرفراز : ہمارے شعبے سماجی بہبود میں طالب علم 60فیصد تھیوری اور 40فیصد پریکٹیکل کام کرتے ہیں۔اس شعبے میںبچے براہ راست معاشرے میں گھرے ہوئے لوگوں سے رابطے میں آتے ہیں اور مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آج کا نوجوان کئی چیزوں کو دیکھ کر طرز ز ندگی اپنانے کی کوشش کرتاہے۔کچھ ڈراموں کو دیکھتے ہوئے اداکاروں کی نقل کرتے ہیں۔ زیادہ ترنوجوان بچے اداکاروں کو آئیڈیل بناتے ہیں او ر ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بدقسمتی سے میڈیا میں انہی چیزوں کو پروان چڑھایا جاتاہے جس میں گلیمر اور نمودو نمائش زیادہ ہو،جو تصویر دکھائی جاتی ہے اس کو فالو کرتے ہیں، ہمیں ان کی زندگی کی حقیقت کا معلوم نہیں ہوتا،اب لوگو ں نے اپنی چیزیں بنانا شروع کردیںہیں۔اپنا لائف اسٹائل شیئر کرتے ہیں ،چیزوں کی خریدو فرخت اور مارکیٹنگ کرتے ہیں جو،غریب اور متوسط طبقے اور سماجی اقدار کیلئے بہت بڑی دھمکی ہے۔بچپن میں بانو قدسیہ کا ڈرامہ دیکھا تھا جس میں ایک لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ کسی گھر میں ملازمت کرتی تھی اور گھر میں شادی ہورہی تھی جہاں بہت دھوم دھا م تھا اور پیسے کی کمی نہیں تھی ،شادی پربہت پیسہ لگایا گیا اور دکھایا بھی گیا۔

اسی گھرمیں نوکرانی کی بیٹی کی بھی شادی ہورہی ہے جس نے مشکل سے پرانے کپڑ ے جمع کرکے شادی کے انتظامات کیئے، لیکن اس لڑکی نے خود کشی کرلی۔ا س ڈرامے میں معاشرے کی تربیت کی گئی کہ دکھاوا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے،وہ ڈرامے معاشرے کی عکاسی کرتے تھے ،ایک اور ڈرامہ آنچ جس نے معاشرے میں اپنا بہت اثر چھوڑا،اگر میڈیا میں اچھی چیزیں دکھائی جائیں تو معاشرے پر اچھے اثرات سامنے آتے ہیں۔جھوٹی چیزوں اور برائی کو جتنا پھیلا یاجائے گا معاشرہ تباہی کی طرف ہی جائے گا،دین بھی کہتا ہے برائی کے بجائے اچھائی کو پھیلاؤ تاکہ لوگ اچھے کام کریں۔اسی طرح ڈرامہ پنجرہ جس میں نوجوانوں کے موجود مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ۔اچھی چیزیں بھی بن سکتی ہیں،انور مقصود ،معین اختر ،ایاز خان اور دیگر سینئر اداکاروں نے اپنے مزاحیہ ڈراموں اور جملوں کا معیار رکھا جسے گھر والوں کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا تھا اور معاشرے کی عکاسی کرتے تھے، آج کے مزاحیہ ڈرامے گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھے جاسکتے یہ کامیڈی نہیں بے عزتی ہے۔آ ٓ ج میڈیا جو دکھا رہا ہے وہ حقیقت ا ورہماری سماجی اقدار کے خلاف ہے۔ ا س کی شدید الفا ظ میں مذمت کرتے ہیں۔میڈیا کا اہم کردار ہے وہ معاشرے کے بگاڑکو سدھارنے کی کوشش کرے تو معاشرہ بہتر ہوسکتاہے۔ 

دنیا: پہلے ڈارمے معاشرے کو سدھارنے میں کردار ادا کرتے تھے اب ایسا نظر نہیں آتا کیا وجہ ہے؟

 فنکار انجینئرایازخان : ہم مثبت کے بجائے منفی کرداروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جس سے معاشرہ بہتر نہیں ہورہا۔آج ڈراموں میں جو دکھایا جارہاہے وہ ہمارا کلچر نہیں،آج بھی ڈرامے میں جہاںمجھے اندازہ ہوتا ہے یہ جملے نہیں بولنا چاہیئں اس پر بحث کرکے ایڈٹ کراتا ہوں ۔اس وقت ایک ڈرامہ ایسا چل رہا ہے جو فیملی کیساتھ نہیں دیکھ سکتے ۔حسینہ معین ،بانوقدسیہ ،انور مقصود اوردیگر کے ڈراموں کے جملے آج بھی ہمارے معاشرے اور دلوں میں بسے ہوئے ہیں۔وہ ڈرامے معاشرے کا عکاس اور بچوں کی تربیت کرتے تھے ہم دوسروں کی نقالی کرتے کرتے اپنی روایات بھول گئے ۔خواتین معاشر ے کو بہتر بنانے میںاہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔آج ڈراموں میں جو دکھایا اور لکھا جارہا ہے ا س کے پیچھے ایک سوچ ہے جو بگاڑ پیدا کررہی ہے۔بد قسمتی سے میڈیا اچھی باتیں اجاگر نہیں کرتا۔ معاشرے میں اچھی ماں بہن اور بیوی کی ضرورت ہے ،عام طور پر لوگ مردوں کے متعلق کہتے ہیں کہ شادی کے بعد ٹھیک ہوجائے گا،ہم ساری ذمہ داری خواتین پر ڈال دیتے ہیں،ایک ڈرامہ چل رہا ہے،اللہ معاف کرے ،ایسی عورتیں اور چیزیں ہمارے معاشرے میںکہاں ہوتی ہیں اگر ہوتی ہیںتو اب تک اس کو گولی کیوں نہیں ماری،برائی میں کشش ہے اور یہ جلدی پھیلتی ہے لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں ان کو روکنا ہے۔اس وقت ہم کراچی کے بڑے علمی ادارے کراچی یونیوسٹی میںموجود اور پڑھے لکھے لوگ ہیں معاشرے کو بدلنے اور بہتر کرنے میں ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ۔

آج بچے پہلے زمانے سے زیادہ ذہین ہیں۔خواتین معاشرے کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ،ہم ادارکاروں اوردیگر شخصیات کو اپنا آئیڈیل بناتے اور نام لیتے ہیں لیکن پیارے نبی ﷺ اور صحابہ کرام کو اپنا آئیڈیل بنانے کی بات نہیں کرتے ۔بحیثیت مسلمان ہمیں بچوں کی اسلامی ،اخلاقی تربیت کرنی چاہیے ،جو چیز ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں اس کو میڈیا پر نہیں دکھانا چاہیے اگر دکھایا جارہا ہے تو اس کی مذمت کریں ۔المیہ ہے لوگ اموات پر بھی سیلفیاں بنارہے ہوتے ہیں ،ابا کا جنازہ رکھا ہوا ہے اور سیلفی بنائی جارہی ہے اور کہا جاتا ہے یار ابا چلے گئے ان کے جانے کے بعد کافی لائک آگئے ہیں۔بد قسمتی سے یہ ہمار ا معاشرہ ہے ہم کس طرف جارہے ہیں،ہمیں پرانی روایات کو برقرار اور معاملات بگڑنے سے روکنے ہوں گے۔ معاشرے سے بزرگ کہاں چلے گئے ،پہلے دادا، دادی ، نانا،نانی قصے سنایا کرتے تھے،مجھے آج بھی دادی کی کہانیاں اور پٹائی یاد ہے۔

آج ہمارے پاس ان کے ساتھ بیٹھنے اور تربیت لینے کا وقت نہیں ۔گوگل سے سب کچھ مل جاتا ہے، موبائل میں سب کچھ ہے لیکن احساس نہیں ۔اللہ نے دماغ ،کان آنکھ دیئے اس کا صحیح استعمال کریں،سوشل ورک مثبت کاموںکو نمایاں کرتاہے اس پر توجہ دیں اور معاشرے کی برائیوںکو سامنے رکھتے ہوئے حل نکالیں تو بہتری آسکتی ہے۔ڈرامے ہماراآئینہ ہوتے ہیں انہیں بہتر کرنا ضروری ہے۔جب ہم ففٹی ففٹی ڈرامہ کرتے تھے تو پورا ڈرامے کا اسکرپٹ نہیں پڑھتے تھے بس چند جملے دیکھتے اور اداکاری شروع کردیتے تھے ،معاشرے کے مسائل سمجھ آجائیںتو کوئی بھی کام مشکل نہیںآسان ہوتا چلاجاتا ہے،

سوشل ورک شعبہ نام مثبت کام کرنے کا ہے اس میں کہیں بھی منفی چیزیں شامل نہیںہونی چاہیے ۔طلباء کی اہم ذمہ داری ہے وہ معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔کراچی یونیورسٹی کا دنیا بھر میں نام ہے ،ہم فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے کراچی یونیورسٹی سے پڑھا ہے ،اس کی قدر کریں اور معاشرے میں اچھے کام کریں ۔ طالب علم معاشرے میں سوشل ورک کرتے ہو ئے لوگوں کی تربیت کریں۔آپ لوگ معاشرے کی برائیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ا ن کا حل نکالیں یہ آپ کی ذمہ داری ہے،کبھی یہ نہ سوچیں ہم یہ نہیں کرسکتے ، کامیابی کے راستے میں نہیں کے لفظ کو اپنی ڈکشنری سے نکال دیں آپ چاہیں تو بہت کچھ کرسکتے ہیں اور کرنا ہے۔

دنیا : پہلے اور اب کے ڈراموں میں کیا فرق ہے، ڈراموںکے دوران گھروں کا ماحول کیا ہوتا تھا؟

ڈاکٹر سکینہ ریاض : بچپن میں آنگن ٹیڑھاا،تنہائیاں ،دھوپ کنارے اور ایسے کئی ڈرامے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد تھے ان سے سیکھنے کو بہت کچھ ملتا تھا،اسی طرح دھواں ڈرامہ تھا ،ہر ڈراموں میں ایک کہانی اور سماجی مسائل اجاگر ہوتے تھے جن کا معاشرے پر اثر ہوتا تھا اور مسائل حل ہوتے تھے،ڈرامہ ختم ہونے کے بعداگلی قسط کا انتظار رہتاتھا۔کچھ ڈرامے ایسے ہوتے تھے شروع ہوتے ہی کراچی کی سڑکیں سنسان ہوجاتی تھیں اور گھر کے افراد ایک ساتھ ڈرامے دیکھا کرتے تھے جوہماری اقدار اور اخلاقیات کو بہتر کرنے میں اہم کردار اد ا کرتے تھے ۔ڈرامے اور ادیب معاشرے کا عکاس ہوتے ہیں۔آج میڈیا نوجوانوںکو گلیمردکھاتا ہے جس سے بچے وہی کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ملنے پر مایوس ہوجاتے ہیں۔بچوں کو ایسے ڈرامے دکھائے جائیں جن سے کردار سازی اور مثبت سرگرمیوں کو فوقیت ملے۔

آج ڈراموں سے نوجوان و بچے اضطراب کا شکار ہورہے ہیں۔بچے شارٹ کٹ کے چکر میں لمبی جمپ مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور طرززندگی تبدیل کررہے ہیں۔ انہیںروکنے اور بہتر کرنے میں میڈیا کردار ادا کرے۔ یونیورسٹی میں معاشرے کے مختلف علاقوں اور کلچر کے لوگ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں ایک استاد کی حیثیت سے ہمیںطلباء کے مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کی تعلیم اور تربیت کرنی چاہیے اور جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس کے نقصانات اور فائدے کے متعلق طلباء کو بتانا چاہے یہ ہماری ذمہ داری ہے،کیونکہ مستقبل میں انہی بچوں نے ملکی معاملات سنبھالنے ہیں ان کی تربیت اچھی اور سوچ صاف ہوگی تو ملک کو بھی فائدہ ہوگا۔ اپنی جامعہ میں محسوس کرتی ہوں کہ ڈراموں میں دکھائے جانے والے گلیمر کی وجہ سے بعض طلبہ وطالبات میں منفی احساس پیدا ہواہے ۔بڑے بڑے گھر اور ان میں رکھا ڈیکوریشن کا سامان،بڑی اور مہنگی گاڑیاں دکھائی جاتی ہیں،ڈرامے میں بہو کا جو کردار دکھایا جارہاہے وہ ہمارے معاشرے کا عکاس نہیں،پہلے گھروں میں بہو کا خاندان اور گھر سازی میں کردار ہوتا تھا،اس کردار کی نفی کی گئی ہے ،آج میڈیا کی وجہ سے مشترکہ خاندانی نظام ختم ہوتاجارہاہے۔

اس نظام میں سب کا تحفظ ہوتا تھا ،آج میڈیا خواتین کو خود مختاری کے نام پر آزادی کی بات کر کے مشترکہ خاندانی نظام کو تبادہ کررہا ہے ۔طلاق اور خلاء کا تناسب بڑھتا جارہا ہے ۔حسینہ معین کے ڈراموں میں اگر عورت کا بولڈ کردار دکھا یا گیا تواس میں بھی خاندانی نظام کو دکھایا جاتاتھا۔ ڈیجیٹل میڈیا نے ہماری بہت ساری روایات اور اقدار کو تبدیل کرکے رکھ دیا ۔جب ڈرامے اس طرح کا لائف اسٹائل دکھائیںگے تو عوام میں احساس محرومی پیدا ہوگا جس کے معاشرے پر منفی اثرات سامنے آتے ہیں ۔عام طورپر بچے اس طرح کے سوال کرتے ہیں ہمارے والدین محنت کرکے پڑھاتے اور حلا ل کمائی سے کھلاتے ہیںا ور لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ شمار ہی نہیں اس طرح کی چیزیں بچوں کو مایوس کرتی ہیں،ہمیں معاشرے کاعکاس اور حقیقی زندگی پرمبنی ڈرامے بھی دکھانے چاہیں۔آج ڈراموں میںحلال کمائی کا تصور نظر نہیں آتا۔ایک نجی چینل پر جاری ڈرامہ میں ایک خاتون بہت تیز اور چالاکی سے سارے کام کرتی ہے اور پکڑ بھی نہیں ہوتی حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ،ایسا انسان کہیں نہ کہیں چوٹ ضرور کھاتا ہے لیکن وہ نہیں دکھایا جارہا جس سے بعض لڑکیاں ان عادتوں کو اپنالیتی ہیں ۔ایسے ڈرامے نہیں دکھانے چاہئیں۔ مصنف اور ہدایت کاروں کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے،حکومتی سطح پر ریگولیٹر ی اتھارٹی ہوتی ہے جو ان چیزوں کو کنٹرول کرتی ہے،حکومت چاہے تو کنٹرول کرسکتی ہے بدقسمتی سے حکومت کو جو کام کرنے چاہیں وہ نہیں کرتی ؟،تفریح کا مقصد تفریح ہونا چاہیے مایوسی نہیں۔

اداکار ایازخان :آج کے بچے بہت ذہین ہوگئے ہیں ،پہلے بچے ڈرامہ دیکھ رہے ہوتے تھے توان کے سوالات بھی معصومانہ ہوتے تھے ، ہمار ے والدین اگر کوئی فلم دیکھ رہے ہوتے تو بچوں سے کہتے تھے آپ کا سونے کا وقت ہوگیا جائیں آرام کریں ،آج بچے ہمارے ساتھ بیٹھے ہیں اور ڈرامہ یافلم میں کوئی ایس چیز آجائے جو بڑوں کے ساتھ دیکھنا مناسب نہیں تو بچے کہتے ابو آپ کی دوا کا وقت ہوگیاہے۔یہ فرق ہے کل ا ور آج کے بچوں میں۔مذکورہ ڈرامہ اس لیے بحث بنا ہوا ہے کہ اس میں منفی کردار زیادہ دکھایا جارہا ہے اور منفی چیزیں مشہور ہوتی ہیں،میں نے ڈرامہ رائٹر سے کہا ڈارمہ میں کیا دکھارہے ہو انہوںنے کہا اس کا اختتام دیکھئے بہت زبردست ہے ان سے کہا اختتام سے پہلے پوری قوم خراب کردوگے ۔واقعی اس ڈرامے کو دیکھتے ہوئے بہت غصہ آتاہے۔ یہ جلد ختم ہوجانا چاہے لیکن چلتا جارہا ہے۔ ان ڈراموں کی وجہ سے بچوں کے سوالات کے جوابات دینا مشکل ہوجاتاہے،ہمیں اچھے معیاری اور تربیت والے ڈرامے بنانے چاہیے ۔

دنیا: آج کے ڈارمے طلباء پر کیا اثرات مرتب کررہے ہیں؟

 اسسٹنٹ پروفیسرمحمد نعمان شیخ : ہم سب کہیں نہ کہیں استاد او ر فنکار ہوتے ہیں۔ہم اپنی زندگی میں وہ تمام کردار نبھا رہے ہوتے ہیں جو ٹی وی کی اسکرین پر دیکھ رہے ہوتے ہیں،ہر کوئی اپنی کہانی میں ہیرو اور ولن ہوتاہے،لیکن ولن کے کر دار کو دیکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔ڈرامے بہت کچھ سکھاتے ہیں ہمیں مثبت چیزوں کو اپناتے ہوئے معاشرے میں اچھا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ہم جو کردار اپنائیں گے اس کے اثرات سامنے آئیں گے۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم کون سا کرداراپناتے ہیں۔ ڈراموں میںاصل کامیابی کو غلط طریقے سے پیش کیاجارہاہے ،جس سے معاشرے میں مثبت کی بجائے منفی چیزیں زیادہ نظر آتی ہیں۔

 

طلبہ وطالبات نے کیا کہا اور کیا پوچھا؟

 ’’پری زاد‘‘سے بہت کچھ سیکھا ،ڈرامے ایسے ہی ہونے چا ہئیں،خان محمد

آج کے ڈرامے معیاری نہیں،کون ٹرینڈ سیٹ کرتا ہے،رضوانہ جمیل

بعض ڈراموں سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھتی ہے ،کیسے کم کریں؟ کاظم رضا

 عام طورپر ڈراموں میں جو دکھایاجاتاہے وہی ہورہا ہوتاہے ،ماہم وارثی 

اب ڈراموں میں پہلے جیسی کامیڈی کیوں نہیں؟مہوش

ڈرامے بہتر کرنے کیلئے کوئی فورم یا کمیٹی بنا ئی جائے،رابعہ اقبال

پاکستان میں بھی ارطغل غازی جیسے ڈرامے بنائے جائیں،نعمان

کالاجادو حرام ہے،ڈرامے میں کیوں دکھایاجارہا ہے،عائشہ

 

دنیا فورم میں طلباء وطالبات کے سوالات اور تجاویز

دنیا فورم کے دوران طلبہ و طالبات نے شرکاء سے سوالات کیئے اور تجاویز دیں ۔شعبہ سوشل ورک تھرڈ ایئر کے طالب علم خان محمد نے کہا کہ ڈرامے زیادہ نہیں دیکھتا لیکن فیملی نے کہا ایک ڈرامہ پری زاد چل رہاہے اس کو دیکھو اچھا ہے،اس کو دیکھنے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ،ڈرامے ایسے ہی ہونے چا ہییں جو اچھی تربیت کریں اور معاشرے میں بہتری لائیں۔ فائنل ایئر کی طالبہ رضوانہ جمیل نے کہا ڈرامے دیکھنے سے وقت ضائع ہوتا ہے اس لیے کم دیکھتی ہوں،شعبہ کی ضرورت کے پیش نظر تحقیق کیلئے دیکھ لیتی ہوں،ایک ڈرامہ دیکھا کہ اس میں لڑکیاں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں اور اختتام دکھایا گیا کہ وہ خالی ہاتھ رہ جاتی ہیں،اسی طرح ہم بھی حقیقی زندگی میں انجام کی پرواہ کیے بغیر بھاگ رہے ہوتے ہیں ،اس ڈرامے سے یہ سبق ملا ہمیں نتیجے کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنے چاہیے۔ایک اور سوال ہے آ ج چینلز کی بھرمار ہے اس کے باوجود و معیاری ڈرامے نہیں دکھائے جاتے ،ڈراموںمیں ٹرینڈسیٹ کون کرتاہے۔

اداکار ایاز خان نے کہا کہ کہنے کو یہ جملہ بہت اچھا لگتا ہے کہ میرے پاس تم ہو،لیکن اس ڈرامے میں حقیقت میں ایسا نہیںدکھایا ،ہم لوگوںمیں اچھے بری چیزوںکی سمجھ ہے جو ڈرامے یا ٹی وی پروگرام سمجھ نہیں آتے ان کو نہ دیکھیں ۔فارورڈکرکے نکال دیں جو اچھے ہیںان کو دیکھیں اور سیکھیں۔طالب علم کاظم رضا نے سوال کیا کہ بعض مرتبہ ڈراموں سے نوجوانوں میں مایوسی اور اضطراب بڑھ جاتا ہے اس کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟،اداکار ایاز خان نے کہا کہ مایوسی اور پریشانی کی حالت میں اچھے دوستوں اور بڑوںسے مشورہ کریں وہ حل بتائیں گے،بعض مرتبہ منفی سوچ رکھنے والے دوست بھی غلط رہنمائی کردیتے ہیںاور مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں،چیزوں کو سمجھیں اور صحیح فیصلہ کریں ۔ڈرامے دیکھنے کا مقصد ہرگز یہ نہیںہوتا کہ فوری عمل کیا جائے اپنی مثبت سوچ سے چیزیں بہتر کریں ۔طالبہ ماہم وارثی نے کہاکہ عام طورپر ڈراموں میں دکھایاجاتاہے وہی ہورہا ہوتاہے اس کو بہتر کیسے کیا جائے؟۔اداکار ایازخان نے کہا کہ ایسا نہیںجو دکھایا جارہا ہے وہی ہو،پڑوسی ملک کی مثال نہ دیں ان کے ڈراموں میں گلیمر اور خواتین کے حقوق میں جو کچھ دکھایا جارہا ہوتاہے وہ ہمارے مذہب اور کلچر کا حصہ نہیں،اور نہ ہمیں ان سے موازنہ کرنا چاہے،ان کے کلچر کو اپنائیں گے تو معاشرہ خراب ہوگا۔

ہمارے جو رائٹر ان کو کاپی کررہے ہیں غلط کررہے ہیں،طالبہ مہوش نے کہا کہ اب ڈراموں میں پہلے جیسی مزاحیہ کامیڈی کیوں نہیں بنائی جارہی ہے ؟۔اداکار ایاز خان نے کہا کہ انور مقصود،معین اختر،لہری اور بھی بڑے فنکاروں کے ساتھ کام کیاان کے کام خوبصورت اور تہذیب والے انداز میں مزاحیہ پروگرا م ہوتے تھے ،جیسے لوز ٹاک اس میں معلومات اور تربیت نظر آئے گی کہیں بے ہودگی والے جملے نظر نہیں آئیںگے،ہمیں اسکرپٹ دکھایا جاتا ہے اس کو دیکھ کر فیصلہ کرتاہوں کردار ادا کرنا ہے یا نہیں،

میں نہیں چاہتالوگ بعد میں کہیں آپ کے کردار سے معاشرے میں منفی چیز سامنے آئیں ،فیصلہ ہمارے ہاتھ میں صحیح چیزوں کو لے کر چلیں۔طالبہ رابعہ اقبال نے کہا کہ پرانے اور نئے ڈراموںمیں فاصلے کی وجہ کیا ہے؟،تجویز ہے کوئی فورم یا کمیونٹی ہونی چاہے جو ان چیزوں کو بہتر کرنے میں کردار ادا کرے۔طالب علم نعمان نے کہا ہمارے ڈراموں میں تاریخی مواد شامل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے آج کے نوجوان کو ہماری مذہب اور تاریخ کا صحیح علم نہیں ہوتا جس طرح ترکی کا تاریخی ڈرامہ ارطغل غازی سیرئل چلی ہمارے یہاں بھی ایسے ڈرامے بننے چاہیے ۔ایڈیٹر فورم نے کہا میڈیا کا اصل کام ہی یہی ہے وہ قوم کو اپنی روایات اور تاریخ سے جوڑے رہے ۔یہ کام حکومت کے ہوتے ہیں ،ارطغل ڈرامے کیلئے ترک حکومت نے اہم کردار اد ا کیا ۔

ہماری حکومت ان چیزوں پر کام نہیںکررہی جو کرنا چاہیے۔ شعبہ سوشل ورک کی انچارج ڈاکٹر فرحانہ نے کہا ان چیزوں کوبہتر کرنے میں قومی بیانیہ کا اہم کردارہوتا ہے ۔قومی بیانیہ اسکالر زاو رمعا شرے کے پڑھے لکھے لوگ بناتے ہیں،اس کو سامنے رکھتے ہوئے تما م ادارے اپنا مینو فیسٹو بناتے ہیں۔ اس وقت معاشرے کو قومی بیانیے کی اشد ضرورت ہے،ہم نے اپنی روایات،اقدار اوراخلاقیات کو گروی رکھ دیا ہے۔طالبہ عائشہ نے سوال کیا بعض ڈراموں میںکالا جادو اور اس سے متعلق کئی چیزیںدکھائی جارہی ہوتی ہیں،یہ کام کرنا اور دکھانا حرام ہے پھربھی ڈرامے بن رہے ہیں یہ کنٹرول کیوں نہیں ہورہے؟۔

ڈاکٹر فرحانہ نے کہا کہ غلط چیز غلط ہ ہوتی ہے چاہے وہ دنیا میںکہیں بھی ہو ۔ اداکاروں کی ایسوسی ایشن اور بیانیہ ہوتو معاشرے میں بہتری آسکتی ہے جبکہ اداکاروں کو بھی مدد مل سکتی ہے۔ استاد اور فنکار دونوں ہی معاشرے بنانے اور بگاڑنے کا باعث بن سکتے ہیں۔دونوں کو اپنی ذمہ داریوں کو پہنچاننے کی ضرورت ہے۔فورم کے دوران اداکار ایازخان نے مزاحیہ خاکہ سنایا کہ لیاری کے علاقے میں ایک صاحب گاڑی میں جارہے تھے ،ایک غریب آدمی جو گدھا گاڑی چلارہا تھااس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی اور گدھا گاڑی میں کیا فرق ہوتا ہے،اس نے کہا گاڑی اور گدھا گاڑی میں زیادہ فرق نہیں ہوتا،گدھا گاڑی میں گدھا باہر ہوتا ہے ،جس پر فورم کے شرکاء اور طلبہ و طالبا ت نے زور دار قہقہ لگایا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

معاشی بہتری کیلئے بڑے فیصلے کئے جائیں،ماہرین کا مشورہ

شرکاء:مسعود نقی ، سابق چیئرمین کاٹی ۔دانش خان، سابق چیئرمین پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفیکچر زاینڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن۔ماہین سلمان، سابق سینئر نائب صدر کاٹی ۔ستائش عاصم ، جوائنٹ ڈائریکٹر پلیسمنٹ اینڈ انڈسٹریل لنکیج آئی سی ایم اے ، پاکستان ۔علی ارش خان ،جنرل سیکریٹری پاکستان بزنس گروپ ۔ سمیر یعقوب عباسی ،سی ای اودی ریسورسز ایکسپرٹ اور چیئرمین ایچ آر کمیٹی پاکستان بزنس گروپ ۔ طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد شریک تھی ۔

توانائی کامسئلہ حل ہوسکتاہے،دنیافورم میں ماہرین کی تجاویز

شرکاء: پاکستانی سفیر آفتاب کھوکھر آسٹریا سے بذریعہ وڈیولنک ۔یوسف صدیقی،سی ای او اینگروانرجی ۔عاصم مرتضیٰ خان، سابق سی ای او پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور پی آئی پی ۔سید سعودالظفر،منیجر ریزروائرانجینئرنگ یونائیٹڈ انرجی ۔ڈاکٹرجاویدحنیف ،چیئرمین شعبہ پٹرولیم انجینئرنگ اور شریک چیئرمین شعبہ الیکٹریکل این ای ڈی ۔ڈاکٹر محسن امان ، ڈائریکٹر سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان رینیویل انرجی اور شریک چیئرمین شعبہ الیکٹریکل انرجی این ای ڈی ۔

فٹ بال صحت مند اور سستا کھیل،حکومتی توجہ کا منتظر

شرکاء: گلفراز احمد خان صدر کالونی اسپورٹس یوتھ کلب۔ضمیر الاسلام،سابق فیفا ریفری۔سید احمد علی واسطی،سابق بین الاقوامی فٹ بال کھلاڑی اور سابق کپتان قومی فٹ بال ٹیم۔ایم اے خالد،سابق کھلاڑی نیشنل بینک پاکستان۔ ریحان علی خان،قومی فٹ بالر۔نسیم اختر،قومی فٹ بالر۔فرقان احمد خان،قومی فٹ بالر۔ پرویز ،کوچ فٹ بال ٹیم ۔زاہد رحیم سماجی کارکن

ٹریفک حادثات:نوجوان ہی نہیں بڑے بھی متاثر،حل قانون کی عملداری

شرکاء: احمد نواز ،ڈی آئی جی ٹریفک کراچی۔پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین وائس چانسلر سرسید یونیورسٹی ۔ڈاکٹر سیمی جمالی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال ۔پروفیسر ڈاکٹر میرشبرعلی ڈین سول انجینئرنگ سرسید یونیورسٹی ۔پروفیسر ڈاکٹر عدنان قادر ،چیئرمین شعبہ اربن اینڈ انفرااسٹرکچر این ای ڈی یونیورسٹی۔ڈاکٹر افضل احمد ،شریک چیئرمین اینڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اربن اینڈ انفرااسٹرکچر این ای ڈی۔ سراج خلجی مشیر برائے چانسلر سرسید یونیورسٹی ۔

دماغ ٹھنڈا رکھیں،جسم توانا رہے گا…ماہرین کا مشورہ

شرکاء:سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی۔ ڈاکٹر حیدر علی نقوی،چیئرمین شعبہ نفسیات ڈائو یونیورسٹی اسپتال ۔ڈاکٹر قلب حیدر، ماہر نفسیات سرکائوس جی اسپتال حیدرآباد گدوبندر۔ڈاکٹر عظمیٰ علی ،ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف کلینکل سائیکالوجی جامعہ کراچی۔ مریم حنیف غازی،چیئرپرسن شعبہ نفسیات محمد علی جناح یونیورسٹی۔بینش ضیاء،منیجر چارٹر فارکمپیشن پاکستان ،روح برو۔ڈاکٹر ثنا ء سعدیہ،ایسوسی ایٹ پروفیسر کلینکل سائیکالوجسٹ سی بی ایم۔ ڈاکٹر محمد ادریس ،ماہر نفسیات سول اسپتال۔

پاکستان :خلائی ٹیکنالوجی میں بھی کامیاب،تحقیق جاری

شرکاء:(بذریعہ وڈیولنک) ڈاکٹر نجم عباس نقوی ،چیئرمین سینٹرل پراجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل سینٹر فار جی آئی ایس اینڈ اسپیس ایپلی کیشن اسلام آباد ڈاکٹر محمد شفیق، ایسوسی ایٹ پروفیسر نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس ان جیالوجی پشاور یونیورسٹی ڈاکٹربختیار خان کاسی ،ڈین فیکلٹی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی بلوچستان یونیورسٹی آف آئی ٹی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ ڈاکٹر عدنان ،ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ایری گیشن اورڈرینج زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹرسمیع اللہ ، نیشنل سینٹر آف جی آئی ایس اینڈ اسپیش ایپلی کیشن اسلام آباد دنیا فورم کراچی سے پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی ،وائس چانسلر این ای ڈی