چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کی یادداشت پیش

اسلام آباد:(دنیا نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے لیے رجسٹرار سپریم کورٹ کو پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کی یادداشت پیش کردی گئی۔

یادداشت کے متن میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی پمز میں خفیہ اور عجلت میں طبی عمل کی خبریں سامنے آئیں، حکومت نے پانچ دن تک رپورٹس کی تردید کے بعد تسلیم کیا۔

اِس طرح جیل قوانین کے برخلاف بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کو طبی صورتِ حال سے لاعلم رکھا گیا، بشریٰ بی بی کو 4 نومبر 2025 کے بعد پہلی بار ملاقات کی اجازت دی گئی، بشریٰ بی بی نے ملاقات میں انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی دو ہفتوں تک مسلسل آنکھ میں تکلیف کی شکایت کرتے رہے، چیک اپ نہیں کرایا گیا۔

متن میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی تکلیف میں بہت زیادہ شدت آئی تب پمز کے ڈاکٹر نے اُن کا معائنہ کیا۔

پمز کے ڈاکٹر نے رائے دی کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری علاج کے لیے ہسپتال داخلے کی ہدایت دی، پمز کے ڈاکٹر کی رائے پر بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا،ذاتی معالجین کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

علاوہ ازیں گزشتہ جمعہ کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سیکڑوں اراکین پارلیمنٹ کے ہمراہ سپریم کے باہر پہنچے، سلمان اکرم راجہ کی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات ہوئی، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے بات کرنے کے بعد طبی رپورٹس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود طبی رپورٹس اہلِ خانہ کو فراہم نہ ہوئیں، عدالتی حکم کے باوجود منگل کو اہلِ خانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی، بانی پی ٹی آئی کی بہن کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی، بانی پی ٹی آئی 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

یادداشت کے متن میں یہ بھی لکھا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے بطور قیدی بنیادی اور انسانی حقوق مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو طویل عرصے سے اہلِ خانہ، وکلا اور دوستوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، تنہائی میں رکھنا بین الاقوامی قانون اور پاکستانی قانون کے تحت تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔

دوسری جانب اعلیٰ عدلیہ بالخصوص اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا، توہینِ عدالت کی درخواستوں کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ نے کارروائی نہیں کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کی عدم کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔

پی ٹی آئی کی یادداشت  میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے اپیل وفاقی آئینی عدالت میں دائر کرنے کی ہدایت کی، وفاقی آئینی عدالت میں دائر اپیل پر تاحال سماعت مقرر نہیں ہو سکی، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے بنیادی حقوق سے متعلق درخواستیں بھی سماعت کے بغیر ہیں، بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

متن میں اِس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواستیں اعتراض کے تحت غیر مقرر ہونے کی اطلاع مل رہی ہیں ،سزا معطلی کی درخواستوں پر ایک سال سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا، سزا معطلی کی درخواستوں پر تاخیر کو جابرانہ قرار دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں