بوچا واقعات مغربی منصوبہ بندی سے کی گئی اشتعال انگیزی تھے، ماریہ زخارووا
ماسکو: (شاہد گھمن سے) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ یوکرین کے شہر بوچا میں مبینہ ہلاکتوں سے متعلق روس کی درخواستوں پر اقوام متحدہ کا جواب نہ دینا ایک مرتبہ پھر ثابت کرتا ہے کہ یہ واقعہ مغرب کی منصوبہ بندی سے کی گئی اشتعال انگیزی اور روس مخالف عالمی اطلاعاتی مہم کا حصہ تھا۔
ماریہ زخارووا نے یہ بات روسی خبر رساں ادارے میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہی، جہاں یوکرینی نو نازیوں کے جرائم سے متعلق بین الاقوامی عوامی ٹریبونل کی بوچا واقعات کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بوچا واقعات کی مبینہ جعل سازی کیف حکومت کے مغربی سرپرستوں، بالخصوص برطانیہ، کی جانب سے شروع کی گئی کیونکہ وہ استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور طے پانے والے سمجھوتوں سے مطمئن نہیں تھے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق مغربی ممالک کو مذاکرات ناکام بنانے کی ضرورت تھی اور بوچا واقعات کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا کہ دستیاب اعداد و شمار اور حقائق سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بوچا سے متعلق پوری کہانی برطانیہ کی ہدایت پر تیار کی گئی ایک بڑی جعل سازی تھی، جس میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور دیگر مغربی ذرائع ابلاغ کو اہم کردار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بوچا واقعات سامنے آنے کے بعد اس مقام کو مغربی رہنماؤں، بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان اور مغربی صحافیوں کے دوروں کا مرکز بنا دیا گیا، تاہم کئی برس گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ، دیگر بین الاقوامی اداروں، مغربی ذرائع ابلاغ یا کیف حکام نے مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے افراد کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی۔
روسی ترجمان نے کہا کہ ان شہریوں کے نام بھی سامنے نہیں لائے گئے جنہیں مغربی ممالک نے مبینہ طور پر روسی فوجی کارروائیوں کا نشانہ قرار دیا تھا۔
ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا کہ کیف حکومت نے یوکرین کی فوج اور قوم پرست آزوف بٹالین کے مارے جانے والے جنگجوؤں کو بوچا میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے ناموں اور شناخت کے معاملے میں بھی تضادات پائے گئے، جبکہ بوچا میں قائم یادگار پر درج ناموں کے بارے میں سوالات کے باوجود کیف حکومت نے مرنے والوں کی مصدقہ فہرست جاری نہیں کی۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ ماسکو نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے عوامی بیانات اور تحریری خطوط کے ذریعے متعدد مرتبہ مطالبہ کیا کہ بوچا میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے افراد کی فہرست فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی ادارے کے دیگر عہدیداروں نے بوچا کا دورہ کیا اور وہاں متاثرین کی یاد میں تقاریب میں شرکت کی، لیکن روس کو آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تقاریب میں کن افراد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے روسی درخواستوں کا جواب نہ دینا اس مؤقف کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ بوچا واقعات کیف حکومت کی ایک اشتعال انگیزی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر چلائی گئی منظم اطلاعاتی مہم بھی تھے۔
ماریہ زخارووا نے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے روس مخالف مہم کا ساتھ دے کر بوچا اشتعال انگیزی میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا طرزعمل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے لیے بنیادی اہمیت رکھنے والے غیر جانب داری کے اصول کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
روسی ترجمان نے دسمبر 2022 میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کی جاری کردہ رپورٹ کو بوچا سے متعلق اہم من گھڑت ذرائع میں سے ایک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں روس پر الزامات عائد کیے گئے، لیکن اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے نہ اس کے نتائج پر سوال اٹھایا اور نہ ہی بعد کے برسوں میں ان کی دوبارہ جانچ کرانے کی کوشش کی۔
ماریہ زخارووا کے مطابق نامعلوم افراد کے انٹرویوز کسی تحقیقات کے لیے واحد اور حتمی ذریعہ نہیں بن سکتے، لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انہیں بنیادی ماخذ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنے کے بجائے مغربی ممالک، نیٹو اور کیف حکومت کی حمایت کرنے والے فریق کے طور پر سامنے آیا۔
روسی ترجمان نے خبردار کیا کہ بوچا معاملے میں اقوام متحدہ سیکرٹریٹ کے کردار کو نتائج کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا اور نئی معلومات سامنے آنے کے بعد عالمی ادارے کو اپنی غلطی تسلیم کرنا پڑے گی۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس نے 2022 میں ہی بوچا واقعات کو اشتعال انگیزی اور روسی مسلح افواج کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلانے کی مہم قرار دے دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو نے اس وقت بھی بین الاقوامی تنظیموں کو آگاہ کیا تھا کہ اس واقعے میں منصوبہ بند کارروائی کے واضح آثار موجود ہیں اور اسے بعد میں ایک وسیع اطلاعاتی مہم کی شکل دی جا رہی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اعلان کیا کہ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی سربراہی میں روسی وفد بوچا واقعات سے متعلق نئی رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پیش کرے گا۔
ان کے مطابق روس اس مقصد کے لیے دستیاب تمام مواقع استعمال کرے گا، جبکہ رپورٹ کو ’’ڈائیلاگ اباؤٹ فیکس 4.0‘‘ فورم میں بھی پیش کیا جائے گا۔
ماریہ زخارووا نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ نئی معلومات کی روشنی میں بوچا واقعات کی تحقیقات جاری رکھیں، تاہم انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ایسی تحقیقات پہلے بھی روکی جاتی رہی ہیں، اس لیے ماسکو کو اس معاملے میں زیادہ توقعات نہیں ہیں۔
بوچا واقعات سے متعلق رپورٹ یوکرینی نو نازیوں کے جرائم کے بارے میں بین الاقوامی عوامی ٹریبونل کے سربراہ میکسم گریگوریف نے پیش کی۔
رپورٹ میں دستاویزات اور عینی شاہدین کے بیانات شامل کیے گئے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مارچ 2022 کے بوچا واقعات کی مبینہ جعل سازی کو بے نقاب کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کیف حکومت نے بوچا میں مبینہ واقعات کی منظرکشی کے لیے نازی جرمنی کے دور میں استعمال کیے جانے والے طریقے اپنائے اور لڑائی میں مارے جانے والے اپنے فوجیوں کو عام شہریوں کے طور پر پیش کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرینی گولہ باری میں ہلاک ہونے والے افراد کو روسی فوج کا نشانہ قرار دیا گیا، بیماریوں سے وفات پانے والے معمر شہریوں کو مبینہ طور پر روس کے ہاتھوں ہلاک شدگان میں شامل کیا گیا اور بعض یوکرینی شہریوں کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا تاکہ ملکی اور غیر ملکی صحافی انہیں روسی کارروائیوں کے متاثرین کے طور پر پیش کر سکیں۔
روسی مؤقف کے مطابق 30 مارچ 2022 کو استنبول مذاکرات کے دوران روسی افواج خیرسگالی کے اقدام کے طور پر کیف کے گردونواح اور بوچا سے نکل گئی تھیں۔ مقامی انتظامیہ کے سربراہ نے 31 مارچ کو روسی فوج کے انخلا کی تصدیق کی، تاہم چند روز بعد مغربی ذرائع ابلاغ نے سڑکوں پر لاشوں کی تصاویر نشر کرکے انہیں مبینہ طور پر روسی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد قرار دیا۔
ماسکو نے بعد میں اس معاملے پر روسی مسلح افواج کے بارے میں دانستہ طور پر جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزام میں فوجداری مقدمہ درج کیا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments