مکھن ٹیکس

تحریر : ملک احسن اعوان، راولپنڈی


ایک بادشاہ بہت سی جائیداد کا مالک تھا۔ ہر سال بادشاہ مقامی لوگوں سے مکھن کا ٹیکس وصول کرتا تھا۔ اگر وہ مکھن کا ٹیکس ادا نہ کرتے تو وہ انھیں سخت سزائیں دیتا تھا۔

 اسی وجہ سے مقامی لوگ بادشاہ کو پسند نہیں کرتے تھے۔

ایک دن انکل دُنبا اپنے بیٹے کے ساتھ بادشاہ کے محل کے پاس پہنچا اور اس نے اپنے بیٹے کو مارنا شروع کر دیا۔

 جب بادشاہ نے یہ منظر دیکھا تو اس نے انکل دْنبا سے پوچھا:تم اپنے بیٹے کو کیوں مار رہے ہو؟

انکل دْنبا نے افسردگی سے جواب دیا: میرے بیٹے نے میرا گدھا مار ڈالا ہے۔ اب میں اپنا مکھن کا ٹیکس ادا نہیں کرسکتا۔

بادشاہ نے کچھ دیر توقف کیا، پھر بولا: تم اپنا ٹیکس گدھے کے مکھن سے ادا کرو گے؟جی ہاں، انکل دُنبا نے کہا۔

بادشاہ انکل دُنبا کو اپنے گودام میں لے گیا اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ گدھے کا مکھن کون سا ہے؟ 

جی ہاں، انکل دُنبا نے جواب دیا.۔

بادشاہ نے کہا: میں گدھے کا مکھن نہیں کھاتا،براہِ کرم اپنا گدھے کا مکھن میرے گودام سے نکال لو۔

انکل دْنبا نے سب سے اچھا مکھن چنا اور خوشی خوشی اپنے گھر واپس چلا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔