بنگلادیش سے شکست، شاہد آفریدی کی سلیکشن کمیٹی پر شدید تنقید
لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست اور ٹی 20 ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد قومی سلیکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا لیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ ٹیم کی حالیہ ناکامیوں کی بنیادی ذمے داری سلیکشن کمیٹی پر عائد ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں شامل افراد نے خود بہت کرکٹ کھیلی ہے مگر اس کے باوجود انہیں یہ اندازہ نہیں کہ کس فارمیٹ کے لیے کون سا کپتان موزوں ہے۔
آفریدی نے کہا کہ ٹیم میں مسلسل تبدیلیاں اور مبینہ طور پر سرجری کے نام پر تجربات ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں، ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے جنہوں نے ڈومیسٹک یا فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہت کم میچز کھیلے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مریضوں کو بچانے کے لیے طبی عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ریسکیو کارروائی کی۔ اس دوران عملے کے بعض افراد بھی زخمی ہوگئے جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
سابق آل راؤنڈر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار اتنا بلند نہیں کہ وہاں سے آنے والے کھلاڑی فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ پکی کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بار بار نئے کھلاڑیوں کو کیپ دینا دراصل مسئلے کا حل نہیں بلکہ ٹیم کے استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔
شاہد آفریدی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ون ڈے فارمیٹ میں اچھا ریکارڈ رکھنے والے سینئر کھلاڑیوں کو بھی نظر انداز کیا گیا، حالانکہ انہیں ٹیم میں برقرار رکھا جانا چاہیے تھا۔