یوکرینی حملے میں مسافر بس نشانہ بن گئی، لڑکی سمیت 9 روسی ہلاک، 6 زخمی
لوگانسک: (شاہد گھمن) لوگانسک پیپلز ریپبلک میں مسافر بس پر یوکرینی حملے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک جبکہ 6 زخمی ہوگئے، علاقائی سربراہ لیونید پاسیچنک نے دعویٰ کیا ہے کہ مسافر بس کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
روسی حکام کے مطابق مسافر بس لیسیچانسک سے ستاخانوف جا رہی تھی کہ زولوتوئے اور پروومائسک کے درمیان شاہراہ پر اسے حملے کا نشانہ بنایا گیا، بس میں ڈرائیور کے علاوہ 15 مسافر سوار تھے۔
لوگانسک پیپلز ریپبلک کے سربراہ لیونید پاسیچنک کے مطابق حملے میں 8 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ 6 مسافر زخمی ہوئے، شدید زخمی ہونے والی 20 سالہ لڑکی کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی کوشش کی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والی نوجوان لڑکی کی والدہ بھی حملے میں زخمی ہوئیں جبکہ ایک 18 سالہ لڑکی کو بھی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، مزید تین مسافروں اور بس ڈرائیور کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
روسی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینکو کے مطابق تفتیشی ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کی قسم اور ماڈل کا تعین کرنے کے ساتھ واقعے کی مکمل تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیونید پاسیچنک نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسافر بس پر حملہ دانستہ طور پر کیا گیا۔
روسی فوجی ماہر آندرے ماروچکو نے بھی دعویٰ کیا کہ مسافر بس کو نشانہ بنانا محض غلطی نہیں ہوسکتی کیونکہ ڈرون آپریٹر حملے کے وقت ہدف کو براہ راست دیکھ سکتا ہے۔
یوکرینی حکام کی جانب سے اس واقعے اور روسی حکام کے الزامات پر فوری طور پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments