سانحہ پمز پر حکمران طبقہ زیادہ دیر نہیں چھپ سکتا: حافظ نعیم الرحمان
لاہور: (دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ پمز پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سانحے کے بعد کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں اور پھر معاملہ ختم ہوجاتا ہے، لیکن اب حکمران طبقہ زیادہ دیر تک حقائق نہیں چھپا سکتا۔
صوبائی دارالحکومت میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت کے لیے مختص بجٹ کہاں اور کیسے استعمال ہوتا ہے، اس کا حساب قوم کے سامنے آنا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم نے پاکستان کو برباد کردیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نورا کشتی کرنے والی پیپلزپارٹی کا گورنر دھرنا ختم کرنے کا کہتا ہے، لیکن عوام اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی سازشوں کے ذریعے اقتدار میں آنے پر یقین نہیں رکھتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم کبھی فارم 47 کے ذریعے انقلاب نہیں لائیں گے، حقیقی تبدیلی کے لیے عوام کو منظم کرنا ہوگا، عوامی طاقت اور منظم جدوجہد کے ذریعے ہی ملک میں حقیقی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر پمز میں سیاست دانوں اور طاقتور لوگوں کے بچے زیرِ علاج ہوتے تو آج حالات ایسے نہ ہوتے۔ ملک میں سانحات کے بعد صرف کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، لیکن ان کی تحقیقات کے نتائج صفر رہتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں پمز اسپتال میں جاں بحق ہونے والے بچوں کا حساب چاہیے، عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے بقول یہ ایک ہی ٹولہ ہے جس نے عوام کو عرصہ دراز سے مسائل میں الجھا رکھا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے عوام کو کچھ نہیں دیا، جماعت اسلامی دھرنوں، مہنگائی، پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے ناجائز معاہدوں کے خلاف ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments