یورپی رہنماؤں نے جرمنی سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ غیر متوقع قرار دیدیا

برلن: (ویب ڈیسک) یورپی رہنماؤں نے جرمنی سے امریکی فوجیوں کے واپس بلانے کا فیصلہ غیر متوقع قرار دے دیا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پانچ ہزار فوجی جرمنی سے نکالے گا لیکن صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ ہم نمایاں کمی کرنے جا رہے ہیں اور پانچ ہزار سے کہیں زیادہ فوجی نکالے جائیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی جس پر نیٹو ممالک نے حیرت کا اظہار کیا، یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جنگ پر اختلاف بڑھ رہا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر بھی برہم تھے کہ یورپی اتحادی مشرق وسطیٰ کے اس تنازع میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی سے فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کے بارے میں ناروے کے وزیراعظم جونس گاہر سٹورے کا کہنا ہے کہ میں مبالغے سے کام نہیں لوں گا کیونکہ میرا خیال ہے کہ یورپ اپنی زیادہ تر سکیورٹی خود سنبھالنے جا رہا ہے۔

انہوں نے آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ان اعداد و شمار کو ڈرامائی نہیں سمجھتا لیکن میرا خیال ہے کہ اس معاملے کو نیٹو کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہم آہنگ طور پر نمٹایا جائے۔

یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف کایا کالاس کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے یورپ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی بات ہو رہی تھی تاہم اس کا اعلان یقیناً حیران کن ہے، میرے خیال میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں نیٹو میں یورپی ستون کو واقعی مضبوط بنانا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں