لاہور کی اہم شاہراہوں کے نام بدلنے کے باوجود آج بھی قانونی منظوری کے منتظر

لاہور:(دنیا نیوز) صوبائی دارالحکومت کی اہم شاہراہوں کے نام بدل دیے گئے مگر قانونی منظوری نہ مل سکی۔

ڈی سی لاہور نے انکشاف کیا ہے کہ شہر کی متعدد معروف شاہراؤں کے نام بلدیاتی ریکارڈ میں سرکاری حیثیت ہی نہیں رکھتے، لاہور کی سڑکوں کے نام عوامی استعمال، سائن بورڈز اور پرانے نقشوں کے ذریعے چلتے رہے، قانونی نوٹیفکیشن موجود نہیں ہے۔

ضلعی حکام کا کہنا تھا کہ صرف نکلسن روڈ سے نوابزادہ نصراللہ خان روڈ کی تبدیلی باضابطہ طور پر نوٹیفائی ہوئی، ایبٹ روڈ کو افتخار حسین ممدوٹ روڈ کہا جاتا رہا مگر سرکاری منظوری نہ ہوسکی۔

اِسی طرح بیڈن روڈ کا نام مولانا محمد علی جوہر روڈ رکھا گیا مگر قانونی حیثیت نہ مل سکی، برانڈرتھ روڈ کو سردار عبدالرب نشتر روڈ کہا جاتا رہا،چئیرنگ کراس کو فیصل چوک قرار دیا گیا مگر باقاعدہ قانونی منظوری نہ دی گئی۔

دوسری جانب کوپر روڈ، خواجہ ناظم الدین روڈ کے نام سے منسوب کی گئی، ڈیورنڈ روڈ کا نام سر سید محمد خان روڈ رکھا گیا ایجرٹن روڈ کو خلیفہ شجاع الدین روڈ کہا جاتا رہا مگر مگر سرکاری ریکارڈ خاموش ہے۔

ایمپریس روڈ کو شاہراہِ ابنِ بادس کہا گیا ، فیروزپور روڈ کو شاہراہِ رومی قرار دیا گیا مگر سرکاری دستاویزات میں منظوری موجود نہیں، ہال روڈ کو بہادر یار جنگ روڈ کہنے کی تجویز بھی باضابطہ شکل نہ اختیار کرسکی۔

جیل روڈ کو غوث الاعظم روڈ کہا جاتا رہا مگر قانونی حیثیت واضح نہ ہوسکی، لارنس روڈ، لیاقت علی خان روڈ کے نام سے منسوب کیا گیا مگر نوٹیفکیشن سامنے نہ آسکا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور کی متعدد تاریخی سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آگئی

میکلوڈ روڈ کو مولانا ظفر علی خان روڈ قرار دیا گیا مگر ریکارڈ میں خامیاں برقرار ہیں ، مال روڈ کو شاہراہ قائداعظم کہا گیا مگر متعدد مقامات پر پرانا نام آج بھی موجود ہے، کوئینز روڈ کو فاطمہ جناح روڈ کہا جاتا رہا مگر سرکاری منظوری نہ مل سکی۔

مزید برآں ریس کورس روڈ کو حسین شہید سہروردی روڈ کہا گیا، ٹیمپل روڈ کو حمید نظامی روڈ کا نام دیا گیا مگر باضابطہ منظوری نہ مل سکی۔

علاوہ ازیں لاہور کی تاریخی شناخت بحال کرنے کیلئے اہم اجلاس ہوا جس میں سابق ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری، کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور سمیت متعلقہ افراد شریک ہوئے۔

اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ علی اعجاز کا کہنا تھا کہ لاہور میں مختلف اوقات میں کئی معروف شاہراہوں کے نام تو تبدیل ہوئے مگر قانونی منظوری نہ مل سکی۔

اس کے علاوہ ترجمان لہر اتھارٹی نے اجلاس میں پرانی سڑکوں اور علاقوں کے اصل نام بحال کرنے پر غور کیا گیا اور لاہور کی تاریخی شاہراہوں، گلیوں اور مقامات کے اصل نام دوبارہ بحال کرنے کی تجویز پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں