مصنوعی ذہانت سے اب سال کا کام گھنٹوں میں ممکن، ڈوگن کا دعویٰ
ٹیکساس:(دنیا نیوز) منصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور حالیہ انکشاف نے اس پیشرفت کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
گوگل جیمنی سے وابستہ ایک پرنسپل انجینئر ڈوگن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ٹیم نے کلاڈ کوڈ کی مدد سے ایسا مسئلہ حل کر لیا جس پر وہ تقریباً ایک سال سے کام کر رہی تھی۔
انجینئر کے مطابق اے آئی نے محض ایک گھنٹے میں ایک ایسا قابل استعمال پروٹوٹائپ تیار کر دیا جو اس حل سے کافی حد تک مماثل تھا جسے تیار کرنے میں گوگل کی ٹیم کو 12 ماہ کی منصوبہ بندی اور اندرونی رابطہ کاری درکار تھی، یہ تجربہ اس وقت شروع ہوا جب انجینئر ڈوگن نے اے آئی کو ایک ایسے مسئلے کی بنیادی وضاحت فراہم کی جس سے ان کی ٹیم طویل عرصے سے نبرد آزما تھی۔
یہ مسئلہ دراصل ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریشن سسٹم کی تیاری سے متعلق تھا جسے سادہ الفاظ میں ایک ایسا ٹریفک کنٹرول سسٹم کہا جا سکتا ہے جو بیک وقت کام کرنے والے کئی اے آئی ایجنٹس کو منظم کرتا ہے، صرف 3 پیراگراف پر مشتمل ایک مختصر پرامپٹ کے ذریعے اور بغیر کسی اندرونی بحث یا تاخیر کے اے آئی نے ایسا پروٹوٹائپ تیار کیا جو گوگل کے سال بھر میں تیار کردہ حل کے قریب تر تھا۔
ڈوگن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ میں مذاق نہیں کر رہی ہم گوگل میں گزشتہ سال سے ڈسٹری بیوٹڈ ایجنٹ آرکسٹریٹرز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
خیال رہے یہ واقعہ اے آئی کے ارتقا میں ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں 2022 میں اے آئی محض کوڈ کی چند سطریں لکھنے تک محدود تھی جبکہ اب وہ پیچیدہ سافٹ ویئر آرکیٹیکچر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔