روس کی امریکا کی وینزویلا کیخلاف مسلح جارحیت کی شدید مذمت

ماسکو: (شاہد گھمن) روس کی وزارتِ خارجہ نے وینزویلا کے خلاف امریکا کی جانب سے کی گئی مسلح کارروائی پر گہری تشویش اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔

ماسکو سے جاری ایک سرکاری بیان میں روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی یہ کارروائی کھلی مسلح جارحیت کے زمرے میں آتی ہے، جس کا کوئی قابلِ قبول جواز موجود نہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل ناقابلِ قبول ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ عملی اور سفارتی سوچ پر نظریاتی دشمنی کو فوقیت دی گئی۔

روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق اعتماد اور پیش گوئی پر مبنی تعلقات قائم کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کیا گیا۔

روسی وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں سب سے اہم بات مزید کشیدگی کو روکنا اور صورتحال کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جن فریقین کے درمیان اختلافات ہیں، انہیں طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور روس اس عمل میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

ماسکو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وینزویلا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی، خاص طور پر فوجی مداخلت کے بغیر اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرے۔

روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق لاطینی امریکا کو 2014 کے اعلان کے مطابق امن کا خطہ رہنا چاہیے اور وینزویلا کی خودمختاری اور قومی مفادات کا احترام ناگزیر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ روس وینزویلا کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ملک کی بولیوارین قیادت کی اس پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا جس کا مقصد قومی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی کہ کاراکاس میں روسی سفارت خانہ وینزویلا کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور موجودہ صورتحال کے باوجود سفارت خانہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں