آج بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان متوقع، وزیراعظم کاروباری شخصیات سے ملاقات کرینگے

آج بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان متوقع، وزیراعظم کاروباری شخصیات سے ملاقات کرینگے

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی سے متعلق آج اہم اعلان متوقع ہے۔ وزیر اعظم شہبازشریف آج پاور سیکٹر کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے، اجلاس کے شرکا اور کاروباری شخصیات کو اصلاحات پر اعتماد میں لیں گے اور قوم سے خطاب کرینگے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے مختلف مراحل میں اقدامات کیے ہیں جن کا فائدہ صارفین کو اب منتقل کیا جائے گا، ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق بجلی 6 روپے فی یونٹ تک سستی ہوسکتی ہے ،ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت اور اس سے ہونے والی بچت سے متعلق اعلان کرینگے ، اس کے علاوہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ یعنی بجلی کی قیمتوں میں ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی مد میں حکومت نے تین ماہ کیلئے 1 روپے 71 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست نیپرا میں دائر کی ہے جس پر نیپرا کل چار اپریل کو سماعت کرے گی، یہ وہ ریلیف ہے جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو منتقل نہیں کیا گیا اس کا فائدہ اب بجلی کے نرخوں میں دیا جائے گا، جولائی 2024 میں آئی پی پیز کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات کا فائدہ بھی عوام کو منتقل کیا جائے گا ۔حکومت نے 1994 کی پالیسی کے تحت لگنے والے 6 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کیے ہیں جن سے 64 ارب روپے سے زائد ریلیف ملے گا اور یہی ریلیف سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں عوام کو منتقل کیا جائے گا، حکومت نے 8 بگاس پاور پلانٹس کے رعایتی معاہدے کیے اس کا فائدہ بھی عوام کو منتقل ہوگا۔ وفاقی حکومت اس وقت سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کررہی ہے ان کا ریٹرن ان ایکویٹی کم کیا جارہا ہے جس سے قیمتوں پر اثر پڑے گا اس کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جائے گا، حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جو آئی پی پیز بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں ان کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔

ذرائع پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایک آئی پی پی کا فرانزک آڈٹ حکومت کرنے جارہی ہے ۔ اسی طرح کچھ چھوٹے سولر اور ونڈ کے آئی پی پیز سے مذاکرات جاری ہیں اس کا فائدہ بھی منتقل ہوگا۔آنے والے دنوں میں حکومت ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نرخوں کی کمی کو بھی منتقل کرے گی، سولر نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر دوبارہ نظر ثانی کے لیے پاور ڈویژن کو ہدایات جاری کی ہے اس کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ نئی سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت عوام سے بجلی خریدنے کے نرخوں کو 27 روپے سے کم کرکے دس روپے کیا گیا تھا لیکن اب اس پردوبارہ غور ہوگا تاکہ صارفین پر بوجھ نہ پڑے ۔ حکومت نے الیکٹرک وہیکل پالیسی کا بھی اعلان کیا ہے ۔ حکومت نے چارجنگ سٹیشنز کے لیے بجلی قیمتوں میں 44 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا اور فی یونٹ بجلی 71 روپے دس پیسے سے کم کرکے 39.70 روپے فی یونٹ کی تھی۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ جو 2400 ارب روپے سے زائد ہے اس کو ختم کرنے کے لیے اقدامات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کاروباری برادری سے بھی ملاقات کرینگے اور ان کے تحفظات دور کرینگے۔

اسلام آباد(نامہ نگار،خصوصی نامہ نگار) وزیراعظم شہباز شریف لاہور میں عید منانے ، اہم ملاقاتیں کرنے اور قومی و عالمی رہنمائوں سے ٹیلیفونک رابطے کرنے کے بعد واپس اسلام آباد چلے گئے ۔شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں عیدالفطر کی نماز ادا کی، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور سابق وزیر اعلٰی پنجاب حمزہ شہباز، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ نماز عید میں شریک ہوئے ۔نماز کے بعد وزیراعظم نے ملک کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی۔عید کے اجتماع میں مظلوم کشمیری اور فلسطینی عوام کے لیے بھی خصوصی دعا کی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم نے لوگوں سے ملاقات کی اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔بعد ازاں وزیر اعظم جاتی امرا رائیونڈگئے اور اپنے بڑ ے بھائی مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے عید ملے ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے وزیراعظم کی آمد پران کا پرتپاک استقبال کیا اور وہ عید کی خوشیوں میں خاندان کے ساتھ شامل ہوئیں،اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، کیپٹن (ر) صفدر، سلیمان شہباز اور دیگر اہل خانہ بھی موجود تھے ۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے والدین ، بھائی اور بھابی بیگم کلثوم نواز کی قبروں پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ صدر ن لیگ نواز شریف سے ملاقات میں اہم ملکی معاشی اور پارٹی معاملات پر بات چیت کی گئی جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے پارٹی صدر نوازشریف کو اہم معاملات سے آگاہ کیا،وزیر اعظم نے نواز شریف کو بلوچستان اور ملکی امن و امان کے حوالے سے بریفنگ دی،اپنی گفتگو میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سے تفصیلی گفتگو ہوئی، بلوچستان میں ہر حال میں امن قائم ہو گا۔نوازشریف نے دوران گفتگو وزیراعظم کو ہدایت کی کہ پنجاب بڑا بھائی ہے ، ہر طرح کی مدد کریں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں۔قبل ازیں وزیراعظم سے وزیر داخلہ محسن رضا نقوی نے ملاقات کی اور ملک میں سکیورٹی کیلئے اقدامات اور افغان باشندوں کی وطن واپسی کے عمل میں پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا،شہباز شریف نے عید الفطر کے موقع پر ملک میں امن و امان کی صورتحال پر اظہار اطمینان کیا، ملاقات میں متعلقہ وزارت کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم سے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی ملاقات کی اس دوران بلوچستان کی موجودہ اقتصادی، سماجی اور امن وامان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی، ملاقات کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کیلئے جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی ۔ بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے عید کی مبارکباد دی اور کشمیر کاز کے حل کے حوالے سے نیک جذبات کا اظہار کیا ۔وزیراعظم نے امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن، صدر عوامی نیشنل پارٹی ایمل ولی ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر انوار الحق ، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان،گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور عیدالفطر کی مبارکباد دی۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہبازشریف نے بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے رکن ایوان صدر ڈاکٹر ڈینس بیکیرووچ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے وطن کے دورے کی دعوت دی۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کو ٹیلیفون پر عید کی مبارکباد دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے وہ تجارت میں اضافے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف کے ساتھ ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے عید کی مبارکباد دی، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کی مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے زراعت، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ ،ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف،ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم ،بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کر کے عید کی مبارکباد دی اور باہمی تعلقات کے فروغ پر بات چیت کی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں