مہنگائی سے گاہک محد ود،عید سیزن مایوس کن، تاجروں کو خسارہ

کراچی(رپورٹ:حمزہ گیلانی )ملکی تاریخ میں پہلی بار تجارتی حب کراچی میں عید سیزن نے مندی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔
صدر آل کراچی تاجراتحاد ایسوسی ایشن عتیق میرنے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس بار عید سیزن نے مہنگائی کی وجہ سے گاہکوں اور قوی خریدی محدود ہونے کی وجہ سے تاجروں کی امنگوں پر مکمل پانی پھیر دیا ہے ۔ عتیق میرکہتے ہیں حیران کن طور پر تجارتی مراکز میں چہل پہل گزشتہ عیدسیزن کے مقابلے میں خاصی کم رہی۔ ایسوسی ایشن کے صدر نے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ بمشکل عید شاپنگ سیزن کا تجارتی حجم 15 ارب روپے کے لگ بھگ رہا ہے ، جو گزشتہ سال 17 ارب روپے تھا۔دوسری جانب تاجروں کے خسارے کا مداوا بھی کسی صورت ممکن نہیں۔ عتیق میر کہتے ہیں کہ 70 فیصد خریدا ہوا مال اس بار فروخت نہیں ہوا ،سمجھ سے بالاتر ہے کہ تاجربعد از عید خریدے ہوئے مال کی رقم پر کیسے تصفیہ کریں گے ۔
ماضی کے اوراق پر روشنی ڈالتے ہوئے تاجر رہنما مزید کہتے ہیں کہ سال 2015 میں کراچی کے تاجربہت خوش تھے کیونکہ عید سیزن سے ریکارڈ 70ارب روپے کی کمائی ہوئی تھی، یعنی 9 سال کے دوران عید سیزن میں خریداری، فروخت اور منافع کا تناسب بتدریج کم ہوکر صرف 15ارب روپے رہ گیا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے ۔ عتیق میر نے عید سیزن میں خرید و فروخت کے اعدادوشمار کو طشت ازبام کرتے ہوئے مزید بتایاکہ اہلیان کراچی کی آبادی تقریباً 3کروڑ ہے لیکن اس بارخریداری کا تناسب 40 فیصد گھٹ کر تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد تک محدود رہا ،یعنی اس بار متوسط اور نچلا طبقہ تجارتی مراکز سے کتراتا رہا اور صرف زیادہ آمدنی والے اشخاص اور اعلی طبقہ ہی عیدسیزن میں خریداری کے طور پر نمایاں رہا ۔
دوسری جانب اکثر تجارتی مراکز میں دکاندار عید سیزن کے آخری دن اور آخری رات تک پیچ و تاب کھاتے رہے اوربالآخر یہ کہنے پرمجبورہوگئے کہ رواں سال کاعیدسیزن ناقابل فراموش اورمایوس کن رہاہے ۔عیدسیزن کے موقع پرحیدری ، لیاقت آبادمارکیٹ ، طارق روڈ ، صدر ،گول مارکیٹ ، بہادرآباد، مینا بازار اور چاؤلہ مارکیٹوں میں سرگرمیاں شدید متاثر رہی جبکہ لائٹ ہاؤس سمیت غریب شاہ مارکیٹوں میں استعمال شدہ کپڑوں کی خریداری کاتناسب قدرے بہتر رہا ،تاہم گزشتہ سال کی نسبت استعمال شدہ اشیاء کے بازاروں کا تجارتی حجم بھی کم رہا ہے ۔دوسری جانب معاشی ماہرین کے بقول تجارتی سرگرمیوں کا مسلسل متاثر ہونا اورعید سیزن کاناکام ہونا ناصرف تاجر برادری کی حوصلہ شکنی کرگیا ہے بلکہ اسکے منفی اثرات ملکی محصولات کے حجم پربھی اثرانداز ہونگے ،اسکے علاوہ معاشی ماہرین کے مطابق آن لائن خریداری سے بھی بازاروں میں عید شاپنگ کھٹائی کا شکار رہی ہے ۔