واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی پرچم والے مال بردار جہاز کو روک لیا ہے۔
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی پرچم والے مال بردار جہاز کو روک لیا ہے۔
ایرانی بحریہ اپنے دُشمنوں کو ’ نئی عبرت ناک شکست‘ دینے کے لیے تیار :مجتبیٰ خامنہ ای ،2انڈین جہازوں پر فائرنگ ، ایران کے سفیر کی بھارتی وزارت خارجہ میں طلبی ،امریکا کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں :سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل امن مذاکرات کے اگلے دور کی کوئی تاریخ طے نہیں ، پہلے فریم ورک پر متفق ہونا ضروری : ایرانی نائب وزیر ، بہت اچھی اورذہین شخصیت وائٹ ہاؤس آرہی ، کوئی سرپرائز ہوسکتا ،امن معاہدہ نہ ہوا تو لڑائی دوبارہ شروع : امریکی صدر
چیف آف ڈیفنس فورسزنے ایرانی صدرمسعود پزشکیان ،سپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور کمانڈر خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز میجر جنرل علی عبداللہی سے ملاقاتیں کیںملاقاتوں کے دوران خطے میں پائیدار امن کے قیام، بدلتی سکیورٹی صورتحال، سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، وزیر داخلہ محسن نقوی اور اعلیٰ سطح وفد بھی ہمراہ تھا
1217مراکز صحت کی ری ویمپنگ مکمل ،30ہزار مریضوں کو انسولین، ہیپاٹائٹس، ٹی بی ادویات گھر پہنچا ئی گئیں :حکام وزیراعلیٰ کی اجلاس میں پوری ہیلتھ ٹیم کو شاباش ، نرسنگ ڈگری کیلئے ہسپتالوں میں نشستیں بڑھانے کیلئے اقدامات کا حکم
کسی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا،عالمی سطح پر امن کیلئے سیاسی و عسکری قیادت کی کاوشیں قابل ستائش پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا :ظہیر بابر سدھو کاکاکول میں خطاب، دوست ممالک کے کیڈٹس بھی شامل
پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریے اور اصلاحات کی رفتار ریٹنگ میں بہتری کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیںاضافی مالی معاونت اور ڈیپازٹ مدت میں توسیع سے مالی پوزیشن مضبوط:ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نمائندگان سے گفتگو
شہبازشریف کی سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورہ میں اہم ملاقاتیں ہوئیںوزیرداخلہ محسن نقوی کی وزیراعظم سے ملاقات،اپنے حالیہ دورہ پر اعتماد میں لیا
ہو سکتا ہے اگلا ہفتہ معاہدے پر دستخط کی تقریب کا ہو:مشیر وزیراعظم
ظلم اور ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے 25اپریل سے ملک گیرممبرسازی مہم شروع کر رہے :امیر جماعت اسلامی
آج کے ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فون ہماری ذاتی زندگی کا اہم ترین حصہ بن چکے ہیں، جن میں محفوظ معلومات، تصاویر، بینکنگ ایپس اور دیگر حساس ڈیٹا شامل ہوتا ہے۔ ان معلومات کے تحفظ کیلئے چہرہ شناسی (فیشل ریکگنیشن) جیسی جدید ٹیکنالوجی کو نہایت محفوظ سمجھا جاتا تھا، مگر حالیہ تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق متعدد معروف اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والا فیشل ریکگنیشن سسٹم اتنا ناقابلِ تسخیر نہیں جتنا کہ خیال کیا جاتا تھا، بلکہ بعض صورتوں میں اسے سادہ پرنٹ شدہ تصاویر کے ذریعے بھی باآسانی دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ اس انکشاف نے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ہماری ذاتی معلومات واقعی محفوظ ہیں یا نہیں۔ چہرہ شناسی (Facial recognition) بظاہر آپ کے فون کو محفوظ رکھنے کیلئے سب سے محفوظ طریقوں میں سے ایک محسوس ہوتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کا آلہ ہیکرز کیلئے آسان شکار بن سکتا ہے۔ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ 60 فیصد مقبول موبائل فونز کو پرنٹ شدہ تصاویر کے ذریعے آسانی سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔اس میں کئی بڑی کمپنیوں کے سمارٹ فونز بھی شامل ہیں۔حتیٰ کہ جدید اور مہنگے فلیگ شپ ماڈلزبھی کاغذ کے ٹکڑوں کو حقیقی انسانی چہرہ سمجھ بیٹھا۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ چور اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کی ای میلز پڑھ سکتے ہیں، حساس اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ری سیٹ کر سکتے ہیں، آپ کی تصاویر تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور حتیٰ کہ آپ کے گوگل والٹ کی ہسٹری بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ٹیک ایڈیٹر لیزا باربر کہتی ہیں کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ فون کے کیمرے کو ایک پرنٹ شدہ تصویر سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔گزشتہ چار برسوں میں ہم نے جتنے بھی اینڈرائیڈ فونز کا جائزہ لیا، ان کی اکثریت کو ٹوڈی تصویر کے ذریعے آسانی سے اَن لاک کیا جا سکتا ہے، اور کچھ کمپنیاں اب بھی صارفین کو اس بارے میں مناسب طور پر آگاہ کرنے میں ناکام ہیں۔ہم متاثرہ صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سکیورٹی کے متبادل طریقے، جیسے فنگر پرنٹ یا PIN، اختیار کریں کیونکہ یہ کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔محققین نے اکتوبر 2022ء کے بعد جاری ہونے والے 208 فون ماڈلز کا تجربہ کیا، جن میں سے 133 کو ایک سادہ تصویر کے ذریعے دھوکہ دیا جا سکتا تھا۔ اگرچہ ہر سال فون ٹیکنالوجی مزید جدید ہو رہی ہے۔2024ء میں حیران کن طور پر 72 فیصد فونز ٹیسٹ میں فیل ہو گئے اور وہ پرنٹ آؤٹ جعل سازی کو پہچان نہ سکے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ تھا، جب 53 فیصد فونز ناکام ہوئے تھے۔2025 ء میں یہ شرح کچھ کم ہو کر 63 فیصد رہی، لیکن اس کے باوجود زیادہ تر ڈیوائسز اب بھی دھوکہ کھا سکتی ہیں۔بہت سے فونز کو اس لیے آسانی سے فریب دیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ 2ڈی فیشل ریکگنیشن سسٹم پر انحصار کرتے ہیں، جو صرف صارف کے چہرے کی ایک فلیٹ تصویر کو دیکھتے ہیں۔چونکہ ان تصاویر میں گہرائی (depth) موجود نہیں ہوتی، اس لیے یہ سسٹم ایک حقیقی انسانی چہرے اور اس کی پرنٹ شدہ تصویر کے درمیان فرق نہیں کر پاتے۔اس کے برعکس جدید ترین گوگل پکسل 8، گوگل پکسل 9، گوگل پکسل 10 اور ''سام سنگ گلیکسی 26ایس‘‘ نے یہ ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا۔اسی طرح ایپل کا ''فیس آئی ڈی‘‘ اور کچھ Pro اینڈرائیڈ ڈیوائسزکے ماڈلز بھی دھوکہ دینا زیادہ مشکل ثابت ہوئے۔کیونکہ یہ ڈیوائسز پیچیدہ 3D میپنگ سسٹمز استعمال کرتی ہیں جو صارف کے چہرے پر ہزاروں غیر مرئی نقطے (invisible dots) پروجیکٹ کرتی ہیں تاکہ گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکے۔اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ڈیوائس کو کسی عام سی چیز، جیسے مالک کی تصویر، کے ذریعے ہائی جیک نہ کیا جا سکے۔ چونکہ اتنی زیادہ ڈیوائسز جعل سازی کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں، اس لیے محققین کو تشویش ہے کہ کمپنیاں صارفین کو ان خطرات سے آگاہ کرنے میں ناکام ہیں۔ان کے مطابق مناسب وارننگ وہ ہے جو سیٹ اپ کے دوران واضح اور نمایاں طور پر دکھائی جائے، اور صارف کو صاف طور پر بتایا جائے کہ ان کا فون 2D تصویر یا کسی مشابہ چہرے کے ذریعے بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ معلومات سکیورٹی سیٹ اپ کے دوران ہی واضح انداز میں دی جانی چاہیے، نہ کہ کسی الگ شرائط و ضوابط کے طویل دستاویز میں چھپا دی جائے۔کچھ ڈیوائسز سیٹ اپ کے دوران آن اسکرین پیغامات دکھاتی ہیں جن میں صارف کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ فیشل ریکگنیشن کو مکمل سکیورٹی کیلئے نہ سمجھیں، لیکن زیادہ تر ڈیوائسز ایسا نہیں کرتیں۔اسی طرح Nothing نے 2022ء کے بعد جاری کی گئی اپنی پانچ ایسی ڈیوائسز کے صارفین کو مناسب وارننگ فراہم نہیں کی جو آسانی سے دھوکہ کھا سکتی ہیں۔اس کے جواب میں Motorola کے ایک ترجمان نے کہا: فیس ان لاک ٹیکنالوجی فون کو آسانی سے کھولنے میں مدد کیلئے تیار کی گئی ہے، تاہم Motorola صارفین کو یاد دلاتا اور مشورہ دیتا ہے کہ وہ بہتر سکیورٹی کیلئے PIN، پاسورڈ یا پیٹرن استعمال کریں۔مزید یہ کہ اگر کوئی صارف سہولت کیلئے فیس ان لاک استعمال کرنے کا انتخاب کرتا ہے ، تو اسے اپنے آلے کو محفوظ بنانے کیلئے لازماً پیٹرن، PIN یا پاسورڈ بھی منتخب کرنا ہوگا۔محققین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ کچھ برانڈز نے اس معاملے میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔مثال کے طور پر Xiaomi نے 26 ایسے کمزور ہینڈ سیٹس میں 2D تصویر سے متعلق سکیورٹی خطرات کو واضح طور پر اجاگر کیا جن کا محققین نے ٹیسٹ کیا تھا، جبکہ سام سنگ نے اپنی نو ڈیوائسز میں واضح پیشگی وارننگز فراہم کی ہیں۔
شکر پڑیاں اسلام آباد کا تاریخی اور قدرتی حسن سے مالا مال مقام ہے، جسے وفاقی دارالحکومت کا دل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ تفریحی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور جرات مندانہ فیصلوں کا امین ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 1,995 فٹ کی بلندی پر واقع یہ پہاڑی سلسلہ اسلام آباد کے جنوب میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔ شکر پڑیاں کا نام دو الفاظ کا مجموعہ ہے، شکر اور پڑیاں۔ پوٹھوہاری زبان میں پڑیاں سے مراد چھوٹی پہاڑی یا ٹیلہ ہے۔ روایات کے مطابق قیامِ پاکستان سے قبل یہاں ایک بزرگ رہا کرتے تھے جو آنے جانے والوں کو شکر بانٹا کرتے تھے جس کی وجہ سے یہ مقام شکر پڑیاں کے نام سے مشہور ہوا۔تاریخی لحاظ سے اس مقام کی اہمیت اس وقت دوچند ہوگئی جب 1960ء میں صدر ایوب خان کی صدارت میں یہاں کابینہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کراچی کے بجائے نئے شہر اسلام آباد کو دارالحکومت بنانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔ وہ جگہ جہاں یہ تاریخی فیصلہ ہوا، آج بھی یادگار کی صورت میں محفوظ ہے۔ شکر پڑیاں کی سب سے نمایاں پہچان پاکستان یادگار ہے۔ یہ جدید طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے جو دور سے کھلتے ہوئے پھول کی مانند نظر آتا ہے۔ اس کی چار بڑی پنکھڑیاں پاکستان کے چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، اور بلوچستان کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ تین چھوٹی پنکھڑیاں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور قبائلی علاقوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ یادگار کی اندرونی دیواروں پر مغل طرز کے نقش و نگار اور تحریک پاکستان کی جدوجہد کی تصاویر کندہ ہیں جو ہر پاکستانی کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرتی ہیں۔ شکر پڑیاں کے پہلو میں واقع لوک ورثہ پاکستان کا سب سے بڑا ثقافتی عجائب گھر ہے۔ یہاں پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف تہذیبوں، دستکاریوں، موسیقی اور طرزِ زندگی کو انتہائی مہارت سے محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ میوزیم سیاحوں کیلئے کشش کا باعث تو ہے ہی، محققین کیلئے بھی یہاں معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں ہونے والا سالانہ لوک میلہ ملک بھر کے فنکاروں اور دستکاروں کو اپنا ہنر دکھانے کا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔شکر پڑیاں کی بلندی سے اسلام آباد اور راولپنڈی کا نظارہ سحر انگیز ہوتا ہے۔ ایک طرف فیصل مسجد کا سفید گنبد اور مارگلہ کی ہریالی نظر آتی ہے تو دوسری طرف راول جھیل کا نیلا پانی چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کی ٹھنڈی ہوائیں اور گھنے درخت گرمیوں کے موسم میں بھی سکون کا احساس دلاتے ہیں۔ یہاں کی ہریالی کو برقرار رکھنے کیلئے مختلف ادوار میں شجرکاری مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ شکر پڑیاں میں مخصوص علاقہ ان درختوں کیلئے وقف ہے جو مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت نے لگائے ہیں۔ جب بھی کوئی غیر ملکی صدر یا وزیراعظم پاکستان کا دورہ کرتا ہے، وہ یہاں اپنی دوستی کی یاد میں ایک پودا لگاتا ہے۔ آج یہ پودے تناور درخت بن چکے ہیں جو پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی امن کی علامت ہیں۔سیاحوں کیلئے یہاں وسیع پارک، بچوں کیلئے جھولے اور کھانے پینے کے اسٹالز موجود ہیں۔ یہاں کی چائے اور پوٹھوہاری کھانے سیاحوں میں بے حد مقبول ہیں۔ شام کے وقت جب شہر کی روشنیاں جلتی ہیں تو شکر پڑیاں سے نظر آنے والا منظر خوابناک وادی سے کم نہیں ہوتا۔ شکر پڑیاں پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل سے جڑی خوبصورت علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھر سے لوگ جب کسی کام سے یا سیاحت کیلئے اسلام آباد آتے ہیں تو یہ جگہ پر ضرور جاتے ہیں۔ یہ جگہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنی ثقافت اور جڑوں سے جڑے رہنا کتنا ضروری ہے۔ پاکستان کے استحکام اور وحدت کی علامت یہ مقام ہمیں امن، اتحاد اور خوبصورتی کا درس دیتا ہے۔
٭...سید امتیاز علی 13 اکتوبر 1900ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، سنٹرل ماڈل سکول سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا۔٭...ان کے والد سید ممتاز علی ایک بلند پایہ مصنف جبکہ والدہ محمدی بیگم مضمون نگار تھیں۔٭...تاج ایک معتبر اور مستند صحافی بھی تھے،صحافتی سفر ''تہذیب نسواں‘‘ سے شروع کیا تھا۔ 18سال کی عمر میں ''کہکشاں‘ ‘کے نام سے ایک ماہنامہ رسالہ بھی شائع کیا۔٭...ان کی شخصیت بڑی متنوع تھی،مختلف میدانوں میں اپنی ذہانت کے ثبوت دیئے، ریڈیو فیچر لکھے، فلمیں لکھیں، ڈرامے لکھے مگر سب سے زیادہ شہرت انہیں ڈرامہ سے ملی۔٭... ان کوڈراما نگاری کا شوق کالج میں پیدا ہوا۔وہ گورنمنٹ کالج کی ڈرامیٹک کلب کے سرگرم رکن تھے۔٭...ان کا تحریر کردہ ڈراما ''انارکلی‘‘ جدید اُردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں نقش ِاوّل اور سنگ ِمیل تصور کیا جاتا ہے۔٭...ان کے مشہور ڈراموں میں '' ستارہ، ورجینیا، دلھن، قسمت، روشن آرا،شاہ جہاں، چچا چھکن اور قرطبہ کا قاضی‘‘ سرفہرست ہیں۔٭... بہت سے انگریزی اور فرانسیسی زبان کے ڈراموں کا ترجمہ کیا اور یہاں کے ماحول کے مطابق ڈھالا۔٭... ''چچا چھکن‘‘امتیاز علی تاج کی مزاح نگاری کی عمدہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ان کا ناول''محاصرہ غرناطہ‘‘ اور'' ہیبت ناک افسانے ‘‘بھی مشہور ہیں۔ ٭... ادبی اور سوانحی نوعیت کے مضامین بھی لکھے ہیں۔ گاندھی ، محمد حسین آزاد، حفیظ جالندھری اور شوکت تھانوی پر ان کے مضامین بہت اہمیت کے حامل ہیں۔٭... ڈراموں کے علاوہ فلموں میں بھی دلچسپی لی، کہانیاں، منظرنامے اورمکالمے لکھے،فلمیں بھی بنائیں۔ ان کی فلم کمپنی کا نام 'تاج پروڈکشن لمیٹڈ ‘تھا۔٭... مجلس ترقی ادب، لاہور سے بھی وابستہ رہے۔ اْن کی زیر نگرانی مجلس نے بیسیوں کتب شائع کیں۔٭...اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت ِپاکستان نے انھیں ''ستارہ امتیاز‘‘ اور ''تمغہ برائے حسن ِکارکردگی‘‘ سے نوازا۔٭... 2001 ء میں پاکستان پوسٹ نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ ٭...19 اپریل 1970ء کو دو نقاب پوشوں نے ان کے گھر میں انہیں قتل کیا ۔٭...ان کی اہلیہ، حجاب امتیاز علی خود ایک معروف اردو ناول نگار اور شاعرہ تھیں، اور 1936ء میں ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون پائلٹ بنیں۔٭... ان کی بیٹی یاسمین طاہر مرحومہ بھی فنونِ لطیفہ سے وابستہ تھیں۔
مریخ پر ہیلی کاپٹرکی پرواز2021ء میں آج کے روز''انگینیوٹی‘‘ (Ingenuity) ہیلی کاپٹرنے تاریخ رقم کرتے ہوئے مریخ پر پہلی کامیاب پرواز کی۔ جہاں اس نے نہایت محدود وسائل اور مشکل فضائی حالات کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ یہ کارنامہ ناسا کے مشن کا حصہ تھا، جس کا مقصد مستقبل میں دیگر سیاروں پر فضائی تحقیق کے امکانات کو جانچنا تھا۔ اس کامیاب پرواز نے سائنسی دنیا میں ایک نئی راہ کھولی اور خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی، جس سے مستقبل کے مزید جدید مشنز کی بنیاد رکھی گئی۔امریکی جنگ آزادی19اپریل 1775ء کو امریکہ کی جنگ آزادی کا آغاز ہوا۔ یہ ایک تاریخی سنگ میل تھا جس نے دنیا کی پہلی بڑی نوآبادیاتی بغاوت کو جنم دیا۔ 18ویں صدی میں امریکہ کی 13 برطانوی نوآبادیاں (colonies) برطانیہ کی حکومت سے نالاں تھیں، خاص طور پر ٹیکسوں اور نمائندگی کے فقدان پر۔ یہ جنگ 8 سال جاری رہی۔ جنگ کا اختتام 1783ء کے معاہدہ پیرس سے ہوا، جس کے تحت برطانیہ نے امریکہ کی آزادی تسلیم کر لی۔دنیا کا پہلا خلائی سٹیشن1971 میں ''سلیوٹ1‘‘ کو خلا میں بھیجا گیا، جو انسانی تاریخ کا پہلا خلائی اسٹیشن تھا۔ اسے سوویت یونین کے خلائی پروگرام کے تحت لانچ کیا گیا۔ اس کا مقصد خلا میں طویل مدت تک قیام، سائنسی تجربات اور تحقیق کو ممکن بنانا تھا۔ سلیوٹ پروگرام کے اس ابتدائی منصوبے نے خلائی تحقیق میں ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بعد میں آنے والے خلائی اسٹیشنز اسی بنیاد پر تیار کیے گئے۔ یہ لانچ انسان کے خلا میں مستقل موجودگی کے خواب کی پہلی عملی شکل تھی۔کینیڈا فائرنگ19اپریل2020ء کو گیبریل ورٹ مین نے کینیڈا کے صوبے نووا سکوشیا میں 16مقامات پر متعدد مرتبہ فائرنگ کی اور اس کے بعد آگ لگادی۔ اس واقع کے نتیجے میں 22افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ ورٹ مین نے یہ کارروائی تقریباً13گھنٹے تک جاری رکھی جس میں اس نے پولیس کی وردی اور گاڑی کا استعمال بھی کیا۔اس کارروائی کے دوران عوام کو ریڈ الرٹ کے ذریعے خبر دار نہ کرنے پر پولیس پر بہت زیادہ تنقید بھی کی گئی۔ایک طویل مقابلے کے بعد کینیڈا کی پولیس نے ورٹ مین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ بیلجیئم کی آزادی معاہدہ لندن، 19 اپریل 1839ء کو کنسرٹ آف یورپ، یونائیٹڈ کنگڈم آف نیدرلینڈز اور کنگڈم آف بیلجیئم کے درمیان ہوا ۔ یہ 1831ء کے آرٹیکلز کے معاہدے کی براہ راست پیروی تھی، جس پر نیدرلینڈز نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ معاہدے کے تحت، یورپی طاقتوں نے بیلجیئم کی آزادی اور غیر جانبداری کو تسلیم کیا اور اس کی ضمانت دی اور لکسمبرگ کے جرمن بولنے والے حصے کو مکمل آزادی قائم کرنے کی اجازت د ی گئی۔فلپائن فضائی حادثہ19اپریل2000ء کو ایئر فلپائنز کی فلائٹ 541 حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس المناک حادثے میں جہاز میں سوار تمام 131 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ سانحہ فلپائن کی فضائی تاریخ کے بڑے حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خراب موسم اور تکنیکی مسائل کو اس حادثے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا۔ اس سانحے نے ہوابازی کے حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور مستقبل میں مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
پشاور زلمی کے کوشل مینڈس بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ دونوں شعبوں میں سرفہرست، بائولنگ میں سفیان مقیم سب سے آگے، آل رائونڈ کاردگی کے لحاظ سے شاداب خان پہلے نمبرپر:بابراعظم نے پی ایس ایل میں 4ہزار رنز جبکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 100نصف سنچریوں کا سنگ میل عبور کر لیا، رائلی روسو پی ایس ایل میں 100 میچ کھیلنے والے پہلے غیرملکی کھلاڑی بن گئے
22 سے 30 اپریل تک ہونیوالی گیمز میں 45ممالک کے 1790کھلاڑی قسمت آزمائیں گے:پاکستان کا40رکنی قومی دستہ چین کے شہر سانیا میں شیڈول 6 ویں ایشین بیچ گیمزمیں اتھلیٹکس، ہینڈبال، جوجتسو، کبڈی ،ٹرائی تھلون اور ریسلنگ میں حصہ لے گا
سکول کے صحن میں ہلکی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور بچے اپنی اپنی کلاسوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔
ایک سہانی صبح کو سورج کی پہلی کرن زمین پر پڑی تو اس کی ملاقات بارش کی ننھی سی بوند سے ہوئی۔ ہوا آج بہت خوش تھی، وہ کبھی درختوں کے پتوں سے ٹکراتی تو کبھی پھولوں کو چھیڑتی۔