راولپنڈی:(دنیا نیوز) فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
راولپنڈی:(دنیا نیوز) فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
نمازِ جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی ،مصلیٰ امام خمینی کھچا کھچ بھر گیا ، لاکھوں افراد شریک ،تقریباً100ممالک کے سرکاری وفود بھی موجودتھے ،رقت آمیز مناظر صاحبزادی ،داماد ،بہواور نواسی کے جنازے بھی پڑھائے گئے ، شہید امام کے افکار و اہداف کی تکمیل کرینگے ،اسرائیلی کارروائیوں پر عالمی خاموشی انتہائی افسوسناک :مسعودپزشکیان
کاروباری مراکز، سرکاری و نجی دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہے ، امن کیساتھ کھڑے ہیں:شہری،25 نقاب پوش ناصر اور حسام پر تشددکے بعدسڑک پرپھینک کر فرار دھرنے ، ہڑتال کی کال میں ناکامی پر ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے انتشار پھیلانے کیلئے کانسٹیبل شاہد ، صغیر، اشتیاق اور ذیشان کو ڈیوٹی سے واپس جاتے اغوا کرلیا:پولیس حکام
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز سے چھوٹے شہروں اور قصبات تک ا لیکٹروبسیں پہنچنے سے عوام خوشی سے نہال وزیراعظم ، فیلڈ مارشل نے پا ک ا مریکا تعلقات کو تقویت بخشی:مریم نواز،یوم آزادی پر مبارکباد
بل کا مقصد تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی، نجی پراپرٹیز کے حوالے سے کیٹگریز طے کی جائیں گی :وزیر انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نجی پراپرٹی سے فائبر بچھانے کیلئے مالک کی اجازت لازم ، کمیٹی کو کسی کمپنی کو نوازنے کے شواہد نہیں ملے :اعظم نذیر تارڑ
خواتین پولیس کارروائی سے مطمئن ،رضا ڈار کے علاوہ کسی ملزم کا سیاسی پس منظر نہیں ، ’’باس‘‘سمیت 8 ملزم گرفتارہیں وزیراعلیٰ نے کیس کی مکمل میرٹ پر تفتیش کی ہدایت کی،ایس ایچ او کی غلط حرکت پر عدلیہ سے معذرت کی :فیصل کامران
کراچی میں سب سے زیادہ مہنگا،اسلام آباد، کوئٹہ ،خضدارمیں 2800،راولپنڈی 2747 روپے میں مل رہا ملتان 2420 ، گوجرانوالہ،بہاولپور 2400 ،سیالکوٹ2333 ،لاہور میں 2250 میں دستیاب: ادارہ شماریات
گروپ کیپٹن عاصم کے نمرہ نامی لڑکی کو اغوا سے بچانے کیلئے مداخلت پرملزم سعد نے فائرنگ کر دی سعد، نمرہ ایک ہی جگہ ملازم تھے ،سیف سٹی کیمروں، اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم گرفتارکرلیا :آئی جی
پاکستان سے شکست کے بعد مودی کی ساکھ مسلسل گر رہی ہے :وزیر دفاع میرے خلاف ذاتی حملے کرنے یا نشانہ بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا:بیان
چین نے سائنس کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دیسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری حاصل کرنا آج کی دنیا میں معاشی اور صنعتی طاقت کی علامت بن چکا ہے۔ جو ممالک جدید تحقیق، مصنوعی ذہانت، خلائی سائنس اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ مستقبل کی عالمی قیادت کیلئے اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس تیار کرکے ایک ایسا سنگ میل عبور کیا ہے جسے نہ صرف سائنسی دنیا میں غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے مستقبل میں صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے ''مصنوعی سورج‘‘ منصوبے کے تحت تیار کیے گئے فیوژن ری ایکٹر کے دو اہم سپر کنڈکٹنگ مقناطیسی نظام کامیابی سے تمام تکنیکی اور عملی آزمائشوں میں سرخرو رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ''ٹورائیڈل فیلڈ‘‘ (TF) سپر کنڈکٹنگ مقناطیس ہے، جو اب تک کسی بھی فیوژن ری ایکٹر کیلئے تیار کیا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا مقناطیس بن چکا ہے۔یہ عظیم الشان مقناطیس اپنے حجم اور صلاحیت کے لحاظ سے بھی حیران کن ہے۔ اس کی لمبائی 21 میٹر، چوڑائی 12 میٹر اور اونچائی 3.3 میٹر ہے، جبکہ اس کا مجموعی وزن 582 ٹن ہے۔ اس کا حجم بین الاقوامی فیوژن منصوبے (ITER )میں استعمال ہونے والے ٹورائیڈل مقناطیس سے تقریباً 1.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ یہ تین گنا زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس منصوبے کی تکنیکی پیچیدگی اور چین کی انجینئرنگ مہارت کا واضح ثبوت ہیں۔سپر کنڈکٹنگ مقناطیس دراصل ٹوکامک فیوژن ری ایکٹر کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنا ہے، جو ایک کروڑ نہیں بلکہ دس کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت پر موجود پلازما کو قابو میں رکھتا ہے۔ اگر یہ مقناطیسی میدان نہ ہو تو پلازما کو کسی مادی برتن میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ اتنی شدید حرارت ہر مادے کو پگھلا سکتی ہے۔ اسی لیے سپر کنڈکٹنگ مقناطیس کو فیوژن ری ایکٹر کا دل تصور کیا جاتا ہے۔اس منصوبے کی تیاری محض ایک صنعتی کامیابی نہیں بلکہ مسلسل چھ برس پر محیط تحقیق، ڈیزائننگ، انجینئرنگ اور سخت آزمائشوں کا نتیجہ ہے۔ اس دوران چینی سائنس دانوں نے 47 نئے پیٹنٹس حاصل کیے اور 14 تکنیکی معیارات بھی مرتب کیے، جو مستقبل میں اسی نوعیت کے منصوبوں کیلئے رہنما اصول ثابت ہوں گے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ چین بنیادی تحقیق کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اسی منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہائی ٹمپریچر سپر کنڈکٹنگ سینٹرل سولینائیڈ کوائل بھی کامیابی سے مکمل بوجھ کی آزمائش سے گزر چکا ہے۔ یہ نظام 60 کلو ایمپئر کے مستحکم برقی رو پر کام کرتا ہے اور 6.03 میگا جولس(megajoules) توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کارکردگی کو عالمی معیار کے مطابق بلکہ کئی حوالوں سے دنیا میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کوائل پلازما کرنٹ پیدا کرنے، اسے برقرار رکھنے اور اس کی ساخت کو کنٹرول کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ دونوں سپر کنڈکٹنگ نظاموں کی بنیادی ٹیکنالوجی مکمل طور پر چین میں تیار کی گئی ہے۔ اس سے بیرونی ممالک پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی اور سپلائی چین سے وابستہ خطرات بھی کم ہوں گے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی مسابقت اور برآمدی پابندیوں کے تناظر میں کسی بھی ملک کیلئے اپنی بنیادی ٹیکنالوجی میں خود کفالت غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔فیوژن توانائی کو مستقبل کی توانائی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ایندھن نسبتاً وافر مقدار میں دستیاب ہے اور اس سے طویل المدتی تابکار فضلہ بھی روایتی جوہری ری ایکٹروں کے مقابلے میں بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ اگر سائنس دان تجارتی پیمانے پر فیوژن توانائی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا کو توانائی کے بحران، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں بے حد مدد مل سکتی ہے۔چین کا ''CRAFT‘‘ (Comprehensive Research Facility For Fusion Technology) پروگرام اسی بڑے مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسی جدید ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے جو مستقبل میں تجارتی فیوژن بجلی گھروں کی بنیاد بن سکیں۔ اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کیلئے ابھی مزید تحقیق، تجربات اور سرمایہ کاری درکار ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین اس دوڑ میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔بلاشبہ دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس صرف ایک سائنسی آلہ نہیں بلکہ جدید تحقیق، قومی خود انحصاری، انجینئرنگ مہارت اور مستقبل کی صاف توانائی کے خواب کی علامت ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں فیوژن توانائی انسانیت کیلئے ایک ایسے دور کا آغاز کر سکتی ہے جہاں توانائی کی فراوانی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی ایک ساتھ ممکن ہو سکیں۔
اسلام آباد، جو اپنی ہریالی اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے، کئی ایسے مناظر اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جو انسانی آنکھ کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک راول ڈیم یا راول جھیل ہے جو وفاقی دارالحکومت کی آبی ضروریات پوری کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ سیاحت، تفریح اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ مصنوعی جھیل فطرت کے حسن کی بہترین مثال ہے۔راول ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1960ء میں ہوا اور یہ 1962ء میں مکمل ہوا۔ اس وقت کے صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اس کا افتتاح کیا۔ اس ڈیم کی تعمیر کا بنیادی مقصد نو تعمیر شدہ شہر اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زرعی زمینوں کی آبپاشی تھا۔ یہ ڈیم دریائے کورنگ پر بنایا گیا ہے جو مری کی پہاڑیوں سے بہتا ہوا آتا ہے۔اس کی تعمیر میں انجینئرنگ کے اعلیٰ اصولوں کو مدنظر رکھا گیا تاکہ یہ پانی ذخیرہ کرے بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بھی سمجھا جا سکے۔ تقریباً 8.8 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط یہ جھیل اپنے اندر کروڑوں گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتی ہے۔راول ڈیم کا محل وقوع اسے منفرد بناتا ہے۔ اس کے ایک طرف مارگلہ کی بلند و بالا پہاڑیاں ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد کے جدید علاقے جیسے بنی گالہ اور ملوٹ واقع ہیں۔ جھیل کا نیلا پانی، دور تک پھیلی ہوئی ہریالی اور پس منظر میں پہاڑوں کے سائے مل کر ایسا سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔موسم سرما میں جب مارگلہ کی چوٹیوں پر ہلکی برف باری ہوتی ہے یا بادل نیچے اتر آتے ہیں تو راول جھیل کا منظر یورپی ملک کی وادی کا گماں دیتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی نارنجی شعاعیں جب جھیل کی لہروں سے ٹکراتی ہیں تو پانی پر سونے کی چادر بچھی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔راول ڈیم پاکستان کے بہترین سیاحتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کیلئے مختلف نوعیت کی تفریحی سہولیات موجود ہیں۔ جھیل کے کنارے واقع لیک ویو پارک جدید طرز کی تفریح کا مرکز ہے۔ یہاں خوبصورت باغات، بچوں کیلئے جھولے، اور پرندوں کیلئے بہت بڑا پنجرہ موجود ہے جو ایشیا کے بڑے پنجروں میں شمار ہوتا ہے۔ سیاحوں کیلئے موٹر بوٹس اور چپو والی کشتیاں دستیاب ہیں، جن کے ذریعے جھیل کے وسط تک جا کر قدرتی حسن کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں خاندانوں کیلئے پکنک منانے کے مخصوص مقامات ہیں جہاں لوگ کھانا پکاتے ہیں اور خوشگوار وقت گزارتے ہیں۔ فوٹوگرافرز اور فنکاروں کیلئے یہ مقام جنت سے کم نہیں۔ یہاں پرندوں، پانی اور پہاڑوں کے عکس کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا مقبول مشغلہ ہے۔راول جھیل کا ماحولیاتی نظام انتہائی زرخیز ہے۔ یہاں کے ارد گرد موجود جنگلات میں مختلف قسم کے درخت جیسے کچنار، املتاس اور چیڑ پائے جاتے ہیں۔ جنگلی حیات میں گیدڑ، لومڑی، اور جنگلی سور کے علاوہ کئی قسم کے رینگنے والے جانور بھی یہاں کا حصہ ہیں۔اس جھیل کی ایک بڑی خاصیت یہاں ہجرت کر کے آنے والے پرندے ہیں۔ ہر سال موسمِ سرما میں سائبیریا اور وسطی ایشیا کے سرد علاقوں سے ہزاروں پرندے اڑ کر یہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہ پرندے جھیل کی رونق میں اضافہ کر دیتے ہیں اور پرندوں کے مشاہدے کے شوقین افراد کیلئے یہ بہترین موقع ہوتا ہے۔راول ڈیم کی معاشی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ راولپنڈی کے باسیوں کیلئے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ، یہاں سے نکالی جانے والی نہریں قریبی دیہاتوں کی زمینوں کو سیراب کرتی ہیں، جس سے مقامی زراعت کو فروغ ملتا ہے۔مچھلی کا شکار بھی یہاں کی معیشت کا حصہ ہے۔ محکمہ ماہی پروری یہاں باقاعدگی سے مچھلیوں کے بیج ڈالتا ہے، جس سے مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے بلکہ مقامی شکاریوں کو روزگار کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ یہاں کی مچھلی جس میں راہو اور مہاشیر نمایاں ہیں اپنے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔جہاں راول ڈیم خوبصورت مقام ہے، وہیں اسے کچھ سنگین خطرات کا بھی سامنا ہے۔ جھیل کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کا سیوریج اور فضلا براہِ راست جھیل میں گرنے سے پانی کی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بارشوں کے ساتھ پہاڑوں سے آنے والی ریت اور مٹی جھیل کی تہہ میں جمع ہو رہی ہے، جس سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ جھیل کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات نے اس کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور سی ڈی اے نے ان مسائل پر قابو پانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب پر کام جاری ہے تاکہ گندا پانی جھیل میں جانے سے پہلے صاف کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ جھیل کے گرد شجرکاری کی مہم چلائی جاتی ہے تاکہ زمین کے کٹاؤ کو روکا جا سکے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کئی بار جھیل کی صفائی اور تجاوزات کے خلاف احکامات جاری کیے ہیں۔راول ڈیم اسلام آباد کا ایسا ورثہ ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے آبِ حیات اور سکون کا پیغام ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، یہاں گندگی نہ پھیلائیں اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس قومی اثاثے کی حفاظت کریں۔ اگر ہم نے اس کی حفاظت نہ کی تو ہم خوبصورت تفریحی مقام کھو دیں گے بلکہ آبی قلت کے بہت بڑے بحران کا بھی شکار ہو جائیں گے۔
میں تو اخبار اس لیے پڑھتا تھا کہ دنیا کے بارے میں میری معلومات اپ ٹوڈیٹ رہیں۔ آج کا اخبار پڑھ کر پتہ چلا کہ میری تو اپنے بارے میں معلومات اپ ٹوڈیٹ نہیں ہیں۔ امریکی ڈاکٹروں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ میں تو روزانہ کئی سگریٹ پھونک جاتا ہوں۔ یہی نہیں انہوں نے تو ہماری خواتین کو بھی نہیں بخشا۔ ان کے حساب سے ہماری بیشتر خواتین سگریٹ نوش ہیں۔ہوا یوں کہ امریکی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ایک خاتون کے معائنے کے بعد کہا کہ اسے سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا ہے۔ مگر اس خاتون نے بتایا کہ میں نے تو کبھی سگریٹ نہیں پی۔ تحقیق پر پتہ چلا کہ خاتون ٹھیک کہہ رہی تھی مگر غلط ڈاکٹروں نے بھی نہیں کہا تھا، کیوں کہ اس عورت کا خاوند سگریٹ پیتا تھا اور جب کوئی آپ کے سامنے سگریٹ کی ایک ڈبی پیتا ہے تو در اصل اس میں سے دو سگریٹ آپ بھی بذریعہ سانس پی جاتے ہیں۔ یوں ہماری ہر وہ عورت جس کا خاوند، بھائی یا باپ سگریٹ پیتا ہے، وہ سگریٹ نو ش ہے۔ ایک ایسی ہی محترمہ نے خاوند کو کہا، ''سگریٹ پینا چھوڑ دو یا مجھے۔‘‘ خاوند سوچ میں پڑگیا تو بیوی نے پوچھا، ''اب سوچنے کیا لگے ہو؟‘‘ تو خاوند بولا، ''سوچ رہا ہوں اب کھانا کون پکایا کرے گا؟‘‘۔میں نے سگریٹ کے بارے میں ایک کالم لکھا تھا۔ ایک خط آیا کہ آپ کا کالم پڑھ کر ہمیں سگریٹ No شی اتنی بری لگی کہ ہم نے توبہ کرلی کہ آئندہ کبھی آپ کے کالم نہیں پڑھیں گے۔ ظاہر ہے بندہ وہی کام کر سکتا ہے جو اس کیلئے آسان ہو۔ جیسے مارک ٹوئن نے کہا تھا کہ میرے لیے سگریٹ پینا نہ پینے کی نسبت آسان ہے کیونکہ سگریٹ سے جان چھڑانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ کہتا ہے، ''مجھے ایک بار پرانی چھتری سے جان چھڑانا تھا، کوڑے کے ڈرم میں پھینکی تو صفائی کرنے والا پہچان کر واپس کر گیا۔ سڑک پر پھینکی تو محلے دار پہچان کر دے گئے۔ آخر کار ایک دوست کو ادھار دے دی۔ اس کے بعد میں نے اس چھتری کی شکل نہیں دیکھی۔‘‘ویسے ٹی وی پر سگریٹ کے اشتہار دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم سگریٹ پئے بغیر زندہ کیسے ہیں؟ ایک اشتہار میں ایک شخص مخصوص برانڈ کا سگریٹ پی کر شکار کو نکلتا اور شیر کو مار کر لوٹتا۔ ففٹی ففٹی پروگرام میں اس کی پیروڈی کی گئی کہ ایک دن وہ اسی طرح سگریٹ پی کر شیر کے شکار کو نکلتا ہے مگر واپس آتا ہے تو زخمی اور بدحال ہوتا ہے۔ ایک شخص پوچھتا ہے، ''آج تم شیر کو نہیں مار سکے کیا وجہ ہوئی؟‘‘ تو وہ کہتا ہے، ''آج شیر نے بھی اسی برانڈ کا سگریٹ پی رکھا تھا۔‘‘ ویسے سگریٹ پینا کوئی کام نہیں ہے کیونکہ یہ کام ہوتا تو بڑے بڑے افسروں اور سربراہوں نے سگریٹ پینے کیلئے الگ ملازم رکھے ہوتے۔حال ہی میں بین الاقوامی مشاورتی فرم پیٹ ماورک نے روس جانے والوں کیلئے جو ہدایات نامہ مرتب کیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ روس میں دعوت کے دوران ریستوران میں گول میز منتخب کریں کیونکہ روسیوں کے ہاں کونے بدقسمی کی علامت ہوتے ہیں اور آخر میں بہترین سروس پر بیرے کوٹپ میں سگریٹ دیں۔ اگرچہ یسی ٹپ تو اس بیرے کو دینی چاہیے جو اچھی سروس نہ کرے۔ لیکن ایلین بینٹ نے کہہ رکھا ہے کہ روس میں رہنے کا صرف ایک ہی فائدہ ہے کہ یہ ان جگہوں میں سے ایک ہے، جہاں سگریٹ کینسر نہیں کرتا کیونکہ کے جی بی کا حکم نہیں۔ اس وقت تک روس میں کے جی بی کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ اس لحاظ سے تو کے جی بی پر پابندی کے بعد روس میں کینسر کا خطرہ بڑھ گیا ہوگا، مگر پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ کہتے ہیں،''Cancer Cures Smoking‘‘ ۔سگریٹ کے شروع میں سگ آتا ہے سو اسے کسی ریٹ پر بھی منہ نہیں لگانا چاہیے۔ سگریٹ پینے والوں سے پوچھا جائے کہ میں صحت مند ہوں، یہ کون سا فعل ہے؟ حال، ماضی یا مستقبل؟ تو جواب ہوگا فعل ماضی۔ مشہور اداکار گریگری پیکر اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ میرے ڈاکٹر نے مجھے نصیحت کی کہ آپ کی صحت کیلئے یہی بہتر ہے کہ فوراً سگریٹ نوشی چھوڑ دیں۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں آج سے سگریٹ نوشی ترک کر رہا ہوں تو وہ بولا، ''چونکہ اب تم سگریٹ نوشی چھوڑ ہی رہے ہو تو یہ سونے کا لائٹر مجھے گفٹ کر دو‘‘۔کہتے ہیں پہلے آدمی سگریٹ کو پیتا ہے، پھر سگریٹ سگریٹ کو پیتا ہے اورآخر میں سگریٹ آدمی کو پیتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ اتنے لوگ سگریٹ سے نہیں مرتے جتنے سگریٹ پر مرتے ہیں۔ انگریزی میں اسے سموکنگ کہتے ہیں لوگوں کو شاید سموکنگ پسند ہی اس لیے ہے کہ اس میں کنگ آتا ہے لیکن اس دور میں کنگ کہیں کے نہیں رہے۔ سو لگتا ہے عنقریب دھواں دینے والی گاڑیوں کی طرح دھواں دینے والے افراد کابھی چوراہوں میں چالان ہوا کرے گا۔اس تازہ تحقیق سے پہلے ہم سگریٹ پینے کیلئے دوسروں کے محتاج ہوتے تھے۔ اب سگریٹ پینا ترک کرنے کیلئے بھی دوسروں کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے کہا، ''میرے بچے کو اخبار منہ میں ڈالنے کی بڑی بری عادت تھی مگر اب نہیں رہی۔‘‘ پوچھا، ''تم نے یہ عادت کیسے چھڑوائی؟‘‘ بولا ''میں نے اخبار لینا بند کر دیا۔‘‘ سو سگریٹ پینے کی عادت بھی ایسے ہی چھڑوائی جا سکتی ہے۔ لیکن لوگ سگریٹ نوشی کو عادت ہی نہیں مانتے۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے، ''سگریٹ پینے سے عادت نہیں پڑتی کیونکہ میں گزشتہ بیس سالوں سے سگریٹ پی رہا ہوں، مجھے تو عادت نہیں پڑی۔‘‘ میں نے کہا، ''پھر تم سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ بولے، ''سبھی کہتے ہیں سگریٹ نہ پینا سودمند ہے اور میں سود کے بہت خلاف ہوں۔‘‘
٭...1920ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، اصل نام ظفر احمد بٹ تھا۔ ٭...غریب گھرانے سے تعلق کے باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ٭...جنگ عظیم دوئم میں وہ برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ ملازمت کے دوران انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔ ان میں مشرقِ وسطیٰ بھی شامل تھا۔ ٭...جنگ عظیم دوئم کے بعد فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ سیالکوٹ واپس چلے گئے۔ روزی کمانے کیلئے انہوں نے ٹانگہ چلانا شروع کر دیا۔٭...1950ء میں کراچی شفٹ ہوئے، جہاں ایک معمار اور پینٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ ٭...کراچی میں فلم ''کارنامہ‘‘ میں اداکار کی حیثیت سے کریئر کا آغاز کیا۔٭... صحافیوں کے مشورے پر لاہور چلے آئے اور پنجابی فلموں میں قسمت آزمائی کی۔آغا حسینی کی فلم ''سولہ آنے‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار دیا گیا۔٭... فلم ''سورج مکھی‘‘ نے انہیں مقبولیت بخشی اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ٭...اپنی گرجدار آواز اور ڈیل ڈول کی وجہ سے وہ پنجابی فلموں میں جلد اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔٭...ایک ایکسٹرا سے چوٹی کے ولن بنے اور پھر کریکٹر ایکٹر زمیں صف اوّل کے اداکار ثابت ہوئے۔٭...ان کی شخصیت اور ڈیل ڈول کچھ ایسا تھا کہ وہ الگ ہی دکھائی دیتے تھے۔ ان کے گھنے سیاہ اور گھنگھریالے بال بھی ان کی خاص پہچان تھے۔٭...60ء اور 70ء کے عشرے میں پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ساون کا نام ایک بہترین اداکار اور مقبول ویلن کے طور پر لیا جاتا تھا۔٭...6 جولائی 1998ء کو فرشتہ اجل آن پہنچا اور ساون اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔مقبول پنجابی فلمیںبابا دینا، مالی، خزانچی، ذیلدار، ہاشو خان، خان چاچا، جگری یار، گونگا، پہلوان جی ان لندن‘‘، ''شیراں دے پتر شیر، جانی دشمن، ملنگی، ڈولی، چن مکھناں، سجن پیارا، بھریا میلہ، پنج دریا‘‘
رائونڈ آف32 اختتام پذیر:پہلے ناک آئوٹ مرحلہ میں میسی ،صلاح اور ڈیاز نمایاں رہے ،رائونڈ آف 16 کا آغاز
تپتی دوپہر میں ریاض نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی۔ اس کے دوست پسینے سے شرابور، تھکے ہارے بیٹھے تھے۔
پاکستان تاریخی ورثے سے مالا مال ملک ہے اور لاہور کا شاہی قلعہ ان تاریخی یادگاروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔