راہِ ہدایت
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے ہیں اور (احکام الٰہی )کو صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں۔ (سورۃ البقرہ آیت نمبر:160)

احتجاج کی سیاست مسترد، آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجر نشستوں پر حکومتی مؤقف درست قرار


مظفرآباد: (دنیا نیوز) آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر دی گئی آئینی رائے نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست ثابت کیا اور احتجاجی سیاست مسترد کر دی، عدالت نے قرار دیا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کیلئے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔



اشتہار

وفاقی وزیر داخلہ شہباز شریف کی خصوصی ہدایات لیکر تہران پہنچے ، ایرانی ہم منصب سے ملاقات، سپریم لیڈر کیلئے پیغام پہنچایا ، منجمد فنڈز پر پیشرفت:عرب میڈیا،ایران نے امریکی مال بردار جہاز قبضے میں لے لیاتہران کے پاس اب بھی 21 سے 22 فیصد میزائل، 60 دن سے زیادہ مذاکرات نہیں ہوں گے ، ایران تیزی سے جواب دے :ٹرمپ،24ارب ڈالر بحال کریں،یہ سمجھوتے کیلئے بڑی رقم نہیں:محسن رضائی

گرفتار افرادسے اسلحہ، مواصلاتی آلات ، غیر ملکی افراد سے روابط کے اشارے ملے :پولیس آزاد کشمیرسپریم کورٹ نے ریاستی صدر کو اپنی آئینی رائے سے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی

7خواتین ،266آزاد امیدوار شامل،پی پی ،ن لیگ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع480 پولنگ سٹیشن انتہائی حساس، دیامر میں دفعہ 144کا نفاذ ، گلگت میں انٹرنیٹ سروس بند

ملتان، بہاولپور، ساہیوال اور سرگودھا میں ماڈل ایگریکلچر مالز فعال کسانوں کی سہولت اور خوشحالی کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا :وزیراعلیٰ

مشترکہ مجرمانہ مقصد ثابت نہ ہونے پر قتل کی سزا برقرار نہیں رکھی جاسکتی:تحریری فیصلہ ،غلام رسول چھوٹو کے 11ساتھی قتل وزخمی کرنے کے الزام سے بری، اغوا ودیگر جرائم میں سزائیں برقرار

امریکا ایران کشیدگی کے دوران 373ارب اضافی پٹرولیم لیوی وصول کرکے محصولات میں بڑا اضافہ کیا گیا ایف بی آر نے 1576 غیر قانونی پٹرول پمپس پکڑے ، 1442 سیل، سمگلنگ کم ہونے سے لیوی وصولی مزید بڑھی

حکومت اپنی شاہ خرچیاں کم نہیں کرتی،توانائی کی قیمتیں 3سال کیلئے منجمدکی جائیں سوا لاکھ ماہانہ تنخواہ والے شخص کو ٹیکس فری کیا جائے :منصورہ میں پریس کانفرنس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور ایران امریکا کے درمیان مصالحتی کردار جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔ ابھی تک جنگ کے ترسیلات زر یا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر اثرات سامنے نہیں آئے تاہم بحران طویل ہوا تو منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔

متفرقات

’’کونکورڈ کا جانشین‘‘ناسا کا نیا سپرسونک طیارہ ’’ایکس59‘‘

’’کونکورڈ کا جانشین‘‘ناسا کا نیا سپرسونک طیارہ ’’ایکس59‘‘

247 ملین ڈالر مالیت کے طیارہ کی پہلی سپرسونک آزمائشی پروازانسان نے ہمیشہ فاصلے سمیٹنے اور سفر کو تیز تر بنانے کا خواب دیکھا ہے۔ بیسویں صدی میں کونکورڈ طیارے نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا، مگر شور، اخراجات اور ماحولیاتی خدشات کے باعث اس کی پروازیں بند ہو گئیں۔ اب ایک بار پھر تیز رفتار فضائی سفر کے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ ناسا کا جدید سپرسونک طیارہ، جسے ''کونکورڈ کا جانشین‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، نہ صرف آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ روایتی سونک بوم کی بلند اور پریشان کن آواز کو بھی نرم ''تھمپ‘‘ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں بین الاقوامی فضائی سفر پہلے سے کہیں زیادہ تیز، آرام دہ اور مؤثر ہو جائے گا۔ناسا کا 247 ملین ڈالر مالیت کا ''کونکورڈ کا جانشین‘‘ کہلانے والا طیارہ اپنی پہلی سپرسونک آزمائشی پرواز5جون کو کر چکا ہے۔ یہ طیارہ 1,218 میل فی گھنٹہ (1,960 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے، جس کی بدولت لندن اور نیویارک کے درمیان سفر کا دورانیہ صرف چار گھنٹے تک محدود ہو سکتا ہے۔ تاہم، کونکورڈ کے برعکس ناسا کے تجرباتی طیارے ''ایکس 59‘‘ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ سونک بوم کی کان پھاڑ دینے والی دھماکہ خیز آواز کے بجائے نسبتاً نرم ''تھمپ‘‘ پیدا کرے گا۔''ایکس59‘‘ گزشتہ سال اکتوبر میں پہلی بار متعارف کرائے جانے کے بعد سے مختلف آزمائشی پروازوں سے گزر چکا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ وہ طیارے کو زیادہ رفتار اور زیادہ بلندی پر پرواز کیلئے تیار کر رہا ہے، جس میں آواز کی رفتار سے تیز پہلی آزمائشی پرواز بھی شامل ہے۔رواں ماہ میں شروع ہونے والے نئے تجربات کے دوران خلائی ادارہ ''ایکس 59‘‘ کو 43 ہزار فٹ کی بلندی پر 630 میل فی گھنٹہ (1,014 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے زیادہ رفتار پر اڑانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے بعد ایک ''مشن کنڈیشنز فلائٹ‘‘ ہوگی، جس میں یہ طیارہ 50 ہزار فٹ کی بلندی پر 925 میل فی گھنٹہ (1,490 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار حاصل کرے گا۔ آخر میں پائلٹ 60 ہزار فٹ کی بلندی پر طیارے کو اس کی انتہائی حد تک لے جائیں گے۔ یہ بلندی اور رفتار عام مسافر بردار طیاروں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہوگی۔''ایکس59‘‘ کو خاص طور پر ایک ایسے بڑے مسئلے کے حل کیلئے تیار کیا گیا ہے جو اس وقت سپرسونک فضائی سفر کے وسیع استعمال کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جب کوئی طیارہ آواز کی رفتار سے کم (سب سونک) رفتار پر پرواز کرتا ہے تو وہ اپنے سامنے موجود ہوا کو اسی طرح دھکیلتا ہے جیسے پانی میں چلتی ہوئی کشتی پانی کو چیرتی ہے، جس سے آواز کی لہروں کی صورت میں ارتعاشات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شے آواز کی رفتار تک پہنچ جاتی ہے تو وہ ان آوازی لہروں سے آگے نکلنے لگتی ہے۔ نتیجتاً یہ لہریں ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو کر ایک طاقتور جھٹکوں والی لہر (شاک ویو) میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سپرسونک طیارے مسلسل شاک ویوز پیدا کرتے رہتے ہیں، جنہیں زمین پر موجود لوگ ایک انتہائی بلند اور دھماکے جیسی آواز، یعنی ''سونک بوم‘‘ کی صورت میں سنتے ہیں۔ چونکہ یہ سونک بوم تقریباً 110 ڈیسیبل تک بلند ہو سکتا ہے، جو کسی شور شرابے والے راک میوزک کنسرٹ کی آواز کے برابر ہے، اس لیے گنجان آباد علاقوں کے اوپر سپرسونک پروازوں پر عموماً پابندی عائد ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے ناسا نے ''کوائٹ سپرسونک ٹیکنالوجی‘‘ تیار کرنے پر کام کیا ہے، جس کا مقصد سونک بوم کی تیز دھماکہ خیز آواز کو کم کرکے ایک ہلکی اور مدھم ''تھمپ‘‘ میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ طیارہ امریکی فضائی و خلائی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا ہے، جسے 2016ء میں ناسا کی جانب سے 247.5 ملین ڈالر مالیت کا ڈیزائن کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔ ''ایکس59‘‘ کا ڈیزائن روایتی طیاروں سے یکسر مختلف ہے۔ اس کی ساخت کے ہر حصے کو اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ سونک بوم کی طاقت منتشر ہو جائے اور اس کی آواز نمایاں طور پر کم ہو جائے، جس سے مستقبل میں سپرسونک سفر کو زیادہ محفوظ، قابلِ قبول اور عام بنایا جا سکے گا۔ کونکورڈ کی تاریخکونکورڈ ایک ٹربو جیٹ سے چلنے والا سپرسونک مسافر طیارہ تھا، جو 1976ء سے 2003ء تک استعمال میں رہا۔ یہ طیارہ آواز کی رفتار سے دو گنا سے بھی زیادہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، یعنی میخ 2.04 کی رفتار سے پرواز کرتا تھا، جو تقریباً 1,354 میل فی گھنٹہ (2,180 کلومیٹر فی گھنٹہ) بنتی ہے۔ اس میں 128 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔کونکورڈ نے پہلی بار 1969ء میں پرواز کی، تاہم اسے بطور تجارتی مسافر طیارہ قابلِ استعمال بنانے کیلئے مزید آزمائشی مراحل سے گزرنا پڑا۔ 1976ء میں یہ باقاعدہ سروس میں شامل ہوا۔ یہ تاریخ میں صرف دو ایسے سپرسونک مسافر بردار طیاروں میں سے ایک تھا جنہیں تجارتی طور پر استعمال کیا گیا۔ دوسرا سوویت یونین کا تیار کردہ طیارہ ''ٹوپولیف ٹی یو144‘‘ تھا، جو 1970ء کی دہائی میں کچھ عرصے کیلئے مسافروں کیلئے استعمال ہوا لیکن تکنیکی مسائل کے باعث جلد ہی سروس سے ہٹا لیا گیا۔کونکورڈ کو مشترکہ طور پر فرانسیسی کمپنی ''Aérospatiale‘‘ اور ''برٹش ایئر کرافٹ کارپوریشن‘‘ نے ایک اینگلو فرنچ معاہدے کے تحت تیار کیا تھا۔ 2000ء میں اس کے واحد حادثے، 2001ء میں11 ستمبر کے حملوں کے بعد فضائی سفر کی طلب میں کمی، اور اس کے ساتھ ساتھ ایئر بس کی جانب سے مرمت اور سپورٹ بند کرنے کے فیصلے نے اس کی سروس کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ کونکورڈ کو 2003ء میں ریٹائر کر دیا گیا ۔یہ پہلا طیارہ نہیں تھا جس نے آواز کی رفتار کو عبور کیا ہو۔ یہ اعزاز امریکی طیارے ''بیل ایکس1‘‘ کو بھی حاصل ہے، جسے اکتوبر 1947ء میں کامیابی سے اڑایا گیا۔ راکٹ انجن سے چلنے والا یہ طیارہ 1945ء میں تیار کیا گیا تھا۔ اس نے تقریباً 700 میل (1,127 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔منفرد ڈیزائن''ایکس59‘‘ کا سب سے نمایاں فرق اس کا عام جیٹ طیاروں سے مختلف ڈیزائن ہے۔ خاص طور پر اس کی لمبی اور باریک نوکیلی ناک، جو طیارے کی مجموعی لمبائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتی ہے اور شاک ویو کو توڑنے کیلئے خاص طور پر تیار کی گئی ہے۔ اس منفرد ڈیزائن کا ایک بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ کاک پٹ طیارے کے درمیانی حصے میں واقع ہے اور اس میں سامنے کی طرف دیکھنے والی کوئی کھڑکی موجود نہیں۔ پائلٹ کو سامنے کا منظر دیکھنے کیلئے کیمروں اور آگمینٹڈ ریئلٹی ڈسپلے پر مشتمل نظام استعمال کرنا پڑتا ہے، جسے ایکسٹرنل وژن سسٹم کہا جاتا ہے۔ رفتار اور بلندی کے نئے اہداف حاصل کرنا کوائٹ سپرسونک ٹیکنالوجی کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہی وہ معیار ہیں جن کے ذریعے ناسا اس طیارے کو مستقبل میں امریکی آبادیوں کے اوپر پرواز کیلئے تیار کرنا چاہتا ہے۔

خوبصورت لان، خوشگوار ماحول

خوبصورت لان، خوشگوار ماحول

باغبانی کے شوقین افراد کیلئے اہم مشورےسرسبز و شاداب باغ کسی بھی گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے اور انسان کو فطرت کے قریب لے آتا ہے۔ موسمِ گرما میں گھروں کے لان خصوصی توجہ کے متقاضی ہو جاتے ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی گرمی، تیز دھوپ اور پانی کی کمی پودوں کی نشوؤنما کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین باغبانی کے مطابق اگر گرمیوں میں چند ضروری اقدامات کر لیے جائیں تو نہ صرف پودے تندرست رہتے ہیں بلکہ پورا باغ موسم بھر اپنی دلکشی برقرار رکھتا ہے۔ مناسب آب پاشی، گھاس کی تراش خراش، کھاد کا استعمال اور موسمی پھولوں کی شجرکاری ایسے آسان کام ہیں جو باغ کو رنگوں اور خوشبوؤں سے بھر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے چند اہم تدابیر پر عمل کر کے ہر شخص اپنے باغ کو گرمیوں میں بھی خوبصورت اور خوشنما رکھ سکتا ہے۔موسمِ گرما وہ وقت ہوتا ہے جب گھر کا باغ واقعی گھر ہی کا ایک خوبصورت اور جاندار حصہ بن جاتا ہے۔ کھلے آسمان تلے کھانے کھانے ہوں، دوست احباب کے ساتھ باربی کیو کا اہتمام کرنا ہو یا دھوپ بھری شام میں جھولے پر بیٹھ کر سکون کے چند لمحات گزارنے ہوں، باغ اپنی پوری رعنائی کے ساتھ زندگی میں تازگی اور خوشی کے رنگ بھر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں باغ کی مناسب دیکھ بھال اور تیاری بے حد ضروری سمجھی جاتی ہے۔جون کا مہینہ باغبانی سے متعلق ان کاموں کو مکمل کرنے کا بہترین ہے جو آنے والے مہینوں میں باغ کو خوبصورت، پرسکون اور دلکش بنائے رکھتے ہیں۔ ماہرین باغبانی کے مطابق اگر چند ضروری اقدامات کر لیے جائیں تو پورے موسم میں رنگ برنگے پھولوں اور سرسبز پودوں کی بہار قائم رکھی جا سکتی ہے۔پودے مرحلہ وار لگائیںماہرین کے مطابق موسمِ گرما میں کھلنے والے پھولوں کے بلب ایک ہی وقت میں لگانے کے بجائے مرحلہ وار لگائیں۔ ہر ہفتے چند بلب لگانے سے پورے موسم میں مسلسل پھول کھلتے رہتے ہیں اور باغ کی رونق برقرار رہتی ہے۔ اگرچہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، تاہم ڈاہلیا اور گلیڈیولس جیسے خوبصورت اور مقبول پھول ابھی بھی لگائے جا سکتے ہیں، جو گرمیوں میں باغ کو رنگوں اور خوشبوؤں سے بھر دیتے ہیں۔غیر ضروری پودوں کو اکھاڑ دیں سوکھے یا غیر ضروری پودوں کو ہٹانا اور جڑی بوٹیوں کی صفائی کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت کم ہے تو کسی پیشہ ور مالی کی خدمات حاصل کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہر مالی خصوصی آلات کی مدد سے یہ کام زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں انجام دے سکتے ہیں، جس سے باغ کی صفائی اور تزئین و آرائش کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔پودوں کی تراش خراش کریںپودوں کی تراش خراش بھی اس موسم میں بہت ضروری ہے۔ دیر سے پھول دینے والے پودوں کی شاخوں کو ترتیب دینا اور غیر ضروری حصوں کو کاٹنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ مناسب تراش خراش سے پودوں کی نشوؤنما بہتر ہوتی ہے اور وہ زیادہ خوبصورتی کے ساتھ پھول دیتے ہیں۔لان کو بہترین حالت میں رکھیںخراب یا بے رونق پودے پورے لان کی خوبصورتی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لان کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تاکہ پورے موسمِ گرما میں یہ سرسبز اور دلکش نظر آئے۔لان کی اچھی نگہداشت کیلئے گھاس کو مناسب غذائیت فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے معیاری کھادوں اور منظور شدہ مصنوعات کا استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ گھاس کو درکار تمام غذائی اجزا مل سکیں۔ اس کے علاوہ باقاعدگی سے پانی دینا اور وقتاً فوقتاً گھاس کی کٹائی کرنا بھی اس کی صحت اور خوبصورتی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔مزید برآں، لان پر پڑے ہوئے خشک پتوں، ٹہنیوں اور دیگر کچرے کوصاف کرتے رہنا چاہیے کیونکہ یہ مٹی کی صحت اور گھاس کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ مناسب توجہ اور دیکھ بھال سے آپ کا لان پورے باغ کی دلکشی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ڈیک اور صحن کی صفائی کریںگھر کے بیرونی حصے میں موجود پختہ صحن اگر گندے یا خراب حالت میں ہوں تو وہ پورے باغ کی خوبصورتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی ان کی اچھی طرح صفائی کرنا ایک سادہ مگر مؤثر اقدام ہے۔ اگر میل کچیل بہت زیادہ جمع ہو چکا ہو یا اس سے سطح کو نقصان پہنچا ہو تو پیشہ ورانہ صفائی کروانا بہتر رہتا ہے۔ صفائی کے بعد لکڑی یا فرش پر تازہ رنگ، پالش یا دھوپ سے بچاؤ کیلئے مخصوص حفاظتی مواد لگانے سے نہ صرف جگہ کی خوبصورتی بحال ہوتی ہے بلکہ یہ گرمیوں کے موسم کے اثرات سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ کیاریوں اور کناروں کو سنواریںصاف ستھرے اور نفاست سے بنائے گئے کنارے لان کی مجموعی خوبصورتی میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ لان اور پھولوں کی کیاریوں کے درمیان بیلچے یا کنارے تراشنے والے آلے کی مدد سے واضح اور سیدھی لکیر بنائی جائے تو باغ فوراً زیادہ منظم اور پیشہ ورانہ انداز کا دکھائی دینے لگتا ہے۔اسی طرح کیاریوں میں درختوں کی چھال کی تازہ تہہ بچھانے سے مٹی کی بے ترتیبی چھپ جاتی ہے اور جڑی بوٹیوں کی افزائش بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہ سادہ سا اقدام باغ کو صاف، نفیس اور پورے موسمِ گرما کیلئے دلکش بنائے رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ باغبانی کے اوزار تیز کر لیں اپنے باغبانی کے اوزاروں کی دیکھ بھال کیلئے کچھ وقت ضرور نکالیں۔ خاص طور پر قینچیوں اور شاخ تراشنے والے آلات کو اچھی طرح تیز کر لیں، کیونکہ کند اوزار پودوں کی شاخوں کو صاف انداز میں کاٹنے کے بجائے انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس سے پودوں میں بیماریوں اور کیڑوں کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تیز اور معیاری اوزار نہ صرف کام کو آسان بناتے ہیں بلکہ پودوں کی صحت اور خوبصورتی برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

بحری جنگ ''مڈوے‘‘ کا خاتمہدوسری جنگ عظیم کے دوران ایک بہت بڑی بحری لڑائی لڑی گئی جسے ''مڈوے جنگ‘‘ بھی کہا جاتاہے۔اس جنگ کا آغاز پرل ہاربر پر جاپان کے حملے کے چھ ماہ بعد 4جون 1942ء کو ہوا۔امریکہ نے اپنے ماہر اور قابل ایڈمرلز کی سربراہی میں امپیریل جاپان کی بحریہ کو مڈوے اٹول کے شمال میں 7جون1942ء کوشکست دی۔جاپان کی شکست کے ساتھ ہی جنگ کا اختتام بھی ہوا۔فوجی تاریخ دان جان کیگن نے اسے بحری جنگ کی تاریخ کا سب سے حیران کن اور فیصلہ کن معرکہ قرار دیا۔جمیکا میں خوفناک زلزلہ7جون1692ء کو جمیکا میں ایک خوفناک زلزلہ آیا۔جس سے شہر کا بیشتر حصہ سمندر کے نیچے ڈوب گیا اور دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک جمیکا کی پورٹ رائل کو بھی شدید نقصان پہنچا۔اس خوفناک حادثے کے نتیجے میں تقریباً2ہزار افراد ہلاک ہوئے۔بعدازاں زخمی ہونے والے مزید3ہزار افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔جمیکا میں آنے والا یہ زلزلہ آج بھی اس خطے کا بدترین حادثہ تصور کیا جاتا ہے۔ویڈیو ریکارڈنگ نظام بیٹامیکس متعارفسونی نے بیٹا میکس کے نام سے ایک نیا ویڈیو ریکارڈنگ نظام متعارف کرایا۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت صارفین پہلی بار ٹیلی ویژن پروگراموں کو ریکارڈ کرکے بعد میں دیکھنے کے قابل ہوئے۔ بیٹا میکس اپنے دور میں اعلیٰ تصویری معیار کے باعث خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا، تاہم بعدازاں وی ایچ ایس (VHS) فارمیٹ کے ساتھ سخت مقابلے میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود بیٹا میکس کو ویڈیو ریکارڈنگ ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔اخبار ''گزیٹا دے بیونس آئرس‘‘ کی پہلی اشاعت1810ء میں آج کے روزاخبار ''گزیٹا دے بیونس آئرس‘‘ کا پہلا شمارہ شائع ہوا، جو ارجنٹینا کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ یہ اخبار مئی 1810ء کے انقلاب کے بعد نئی حکومت کے سرکاری ترجمان کے طور پر جاری کیا گیا تھا۔اخبار کا مقصد حکومتی فیصلوں، سیاسی حالات اور عوامی معاملات سے متعلق معلومات شہریوں تک پہنچانا تھا۔ ''گزیٹا دے بیونس آئرس‘‘ نے آزادی کی تحریک کے نظریات کو فروغ دینے اور عوامی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔المناک فضائی حادثہ1989ء میں سورینم ایئرویز فلائٹ 764‘‘ اس وقت تباہ ہو گئی جب وہ ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی کوشش کر رہی تھی۔ تحقیقات کے مطابق پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے طیارہ رن وے کے قریب زمین سے ٹکرا گیا اوراس میں آگ بھڑک اٹھی۔طیارے میں سوار 187 افراد میں سے 176 ہلاک ہو گئے۔ یہ سانحہ سورینام کی تاریخ کے بدترین فضائی حادثات میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے نے ہوا بازی کے شعبے میں حفاظتی اصولوں،پائلٹ کی تربیت اور لینڈنگ کے طریقہ کار پر ازسرِنو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

درختوں کا عاشق، زمین کا محافظ

درختوں کا عاشق، زمین کا محافظ

اکیلے شخص کا ایک دن میں 45 ہزار سے زائد پودے لگا نے کا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی آج دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔ ایسے حالات میں وہ افراد امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں جو ماحول کے تحفظ کیلئے غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ حال ہی میں کینیڈا کے ایک شہری نے ایک ہی دن میں 45 ہزار سے زائد مینگروو پودے لگا کر نیا ریکارڈ قائم کیا اور درختوں سے اپنی بے مثال محبت کا عملی ثبوت دیا۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ماہر ماحولیات انٹوئن موزیس (Antoine Moses ) کینیا کے ساحلی شہر ممباسا کے کیچڑ زدہ ساحلی علاقے میں تقریباً 24 گھنٹے مسلسل مینگروو کے پودے لگانے میں مصروف رہے۔ وہ جھکی ہوئی کمر اور تھکے ہوئے جسم کے باوجود ایک کے بعد ایک پودا زمین میں نصب کرتے رہے۔ سخت مشقت اور تھکا دینے والے کام کے باوجود ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ ہاتھوں میں مینگروو کے ننھے پودے اور سر پر دھوپ سے بچاؤ کیلئے ٹوپی سجائے، انہوں نے صبح سے رات تک مسلسل محنت جاری رکھی۔ انہوں نے 24 گھنٹوں کے دوران 47,460 مینگروو پودے لگا کر ایک فرد کے ہاتھوں سب سے زیادہ مینگروو درخت لگانے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔قدرت اور ماحول سے گہری محبت رکھنے والے انٹوئن موزیس کیلئے یہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کا دوسرا اعزاز ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2021ء میں بھی ایک منفرد عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جب انہوں نے کینیڈا کے صوبے البرٹا کے علاقے لاکریٹ میں 24 گھنٹوں کے دوران 23,060 درخت لگا کر ایک فرد کے ہاتھوں سب سے زیادہ درخت لگانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اب انہوں نے مینگروو کے 47,460 پودے لگا کر اپنا ہی ریکارڈ مزید شاندار انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ ان کی یہ کامیابی ماحولیات کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ اور زمین کو سرسبز بنانے کیلئے ان کی غیر معمولی وابستگی اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اپنی دوسری عالمی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انٹوئن موزیس نے گنیز ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو میں کہا کہ دوسرا عالمی اعزاز حاصل کرنا میرے لیے انتہائی خوشی اور اطمینان کا باعث ہے، خاص طور پر یہ جانتے ہوئے کہ اس منصوبے کے مقامی ساحلی آبادیوں، سمندری ماحولیاتی نظام اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ میرے لیے اس کامیابی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک ریکارڈ تک محدود نہیں بلکہ ایک بہت بڑے ماحولیاتی مشن کا حصہ ہے۔انٹوئن موزیس کے مطابق ان کا مقصد محض عالمی ریکارڈ قائم کرنا نہیں بلکہ شجرکاری اور مینگروو جنگلات کے فروغ کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی اور ساحلی علاقوں کے قدرتی نظام کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ ان کا یہ کارنامہ دنیا بھر کے لوگوں کیلئے ایک مثبت پیغام ہے کہ انفرادی کوششیں بھی ماحول کے تحفظ میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتی ہیں۔انٹوئن موزیس گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے شجرکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق عالمی ریکارڈ قائم کرنے کیلئے درکار رفتار اور مہارت حاصل کرنے میں انہیں چار سے پانچ سال لگے۔ انہوں نے 2023ء میں گنیز ورلڈ ریکارڈز کو بتایا کہ کینیڈا میں شجرکاری ایک بڑی صنعت کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے کاٹے جانے والے ہر درخت کے بدلے نیا درخت لگانا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے ان کے اندر فطرت اور ماحولیات سے محبت کو پروان چڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ 2021ء میں اپنی زندگی میں 15 لاکھ سے زائد درخت لگانے اور اپنی تکنیک، رفتار اور جسمانی برداشت کو بہتر بنانے کیلئے برسوں محنت کرنے کے بعد عالمی ریکارڈ توڑنا ایک ناقابلِ یقین احساس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں تھا کہ میں نے ایسا کارنامہ انجام دیا جو اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ درخت لگانا جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی مشقت طلب کام ہے، میری محنت، لگن اور عزم کو عالمی سطح پر سراہا جانامیرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔اپنا پہلا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد انٹوئن موزیس نے سوشل میڈیا پر اپنی شجرکاری کی سرگرمیوں اور سفر کی ویڈیوز شیئر کرنا شروع کیں۔ ان کے بقول لوگوں کی جانب سے ملنے والا ردِعمل ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔ آج انسٹاگرام پر ان کے 16 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں جو ان کے مشن، طرزِ زندگی اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ انٹوئن کا کہنا ہے کہ لوگوں کی زبردست پذیرائی نے مجھے احساس دلایا کہ میں اس کام کو کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر آگے بڑھا سکتا ہوں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ''انٹوموس‘‘ (Antomos) کے نام سے ایک منصوبے کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے وہ وہ مختلف اداروں اور برانڈز کو دنیا بھر میں شجرکاری اور ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد حقیقی ماحولیاتی بہتری کو مؤثر ابلاغ اور مکمل شفافیت کے ساتھ جوڑنا ہے، تاکہ لوگ نہ صرف درخت لگانے کے عمل میں شریک ہوں بلکہ اس کے مثبت اثرات کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔انٹوئن موزیس کی یہ کوشش اس بات کی مثال ہے کہ جدید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مثبت سماجی اور ماحولیاتی تبدیلی کیلئے کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ان کا یہ کارنامہ نہ صرف ایک عالمی ریکارڈ ہے بلکہ ماحول کے تحفظ، ساحلی علاقوں کی بقا اور آنے والی نسلوں کیلئے سرسبز و شاداب زمین چھوڑنے کے عزم کی بھی روشن مثال ہے۔انٹوئن موزیس کی داستان اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مستقل مزاجی، محنت اور ماحول سے محبت انسان کو غیر معمولی کامیابیوں تک پہنچا سکتی ہے، جبکہ شجرکاری نہ صرف زمین کو سرسبز بناتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر اور محفوظ ماحول بھی فراہم کرتی ہے۔

کینگروز کا سپن کے جال سے شکار

کینگروز کا سپن کے جال سے شکار

گرین شرٹس کی ہوم گرائونڈ پر تاریخی فتح:گرین شرٹس نے مسلسل تیسری ون ڈے سیریز اپنے نام کر کے تاریخ رقم کر دی

پاکستان کا ایٹمی سفر!

پاکستان کا ایٹمی سفر!

گرمیوں کا موسم اور شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ گھر کے صحن میں ارحم اور ارسل اپنے تایا ابو کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھوں میں اسکول کی کاپیاں تھیں۔

توبہ

توبہ

عامر انتہائی شریر لڑکا تھا۔ ہر وقت شرارتیں کرتا، دوسروں کو ستانے میں اُسے بڑا مزہ آتا تھا۔

آم — پھلوں کا بادشاہ

آم — پھلوں کا بادشاہ

گرمیوں کا موسم آتے ہی بازاروں میں خوشبودار آم نظر آنے لگتے ہیں۔ آم ایک ایسا پھل ہے جسے دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز