راہِ ہدایت
اللہ (جو معبود برحق ہے اس)کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔تو مومنوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ۔ (سورۃ التغابن آیت نمبر13)

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی


اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا ۔



اشتہار

ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں،شراکت دار بننا چاہئے ،تعاون سے فائدہ اورتصادم سے نقصان ہوگا ،تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے :شی جن پنگ امریکا چین کیساتھ تجارت کا خواہاں ،دونوں ممالک مل کر کام کرینگے ،چینی صدر کیساتھ دو گھنٹے طویل ملاقات انتہائی مثبت رہی،انہیں 24 ستمبر کودورہ امریکا کی دعوت دی :ڈونلڈٹرمپ

قومی معاملات،آئینی ترامیم پر پیپلزپارٹی ہمیشہ ساتھ کھڑی رہی ،حکومت نے کمٹمنٹ پوری نہ کی توفیصلوں پر نظرثانی کر سکتے ہیں ،بجٹ مذاکرات کیلئے چار رکنی ٹیم تشکیل دیدی آئندہ بجٹ میں عوام کیلئے مشکلات ہونگی ،حکومت نے نئی ترمیم پررابطہ نہیں کیا ، خارجہ پالیسی درست سمت میں جار ہی :میڈیا سے گفتگو ،شازیہ مری کو مداخلت پر ڈانٹ دیا

ہاؤسنگ کے تمام معاملات کو ڈیجیٹائز، آٹو میٹ کیا جائے گا:وزیراعظم، آذری وزیرانصاف کی ملاقات فضلے سے توانائی کی پیداوار کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دینے کی منظوری،نیشنل پاپولیشن کونسل بنانیکا فیصلہ

پولیسٹرسٹریپ کے بنے سیفٹی نیٹ فکس ہونگے ،گوجرانوالہ میں 30ہزار نیٹ لگائے جائینگےہر روڈ پر یکساں طرز اورڈیزائن کے سائن بورڈ لگانے کا حکم،منڈی بہاؤالدین میں سڑکوں کی منظوری

جدید ایویانکس اور نیویگیشنل نظام سے لیس میزائل میں طویل فاصلے تک اہداف کو درست نشانہ بنانے کی صلاحیت موجودصدر،وزیراعظم ،فیلڈ مارشل اوردیگر حکام کا اظہار اطمینان ،میزائل پروگرام میں شریک افراد کی محنت اور عزم کے معترف

ایوان صدر میں پروقار تقریب ، آصف زرداری نے اعزازات دئیے ، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت شہید کو ستارہ بسالت ملا سپاہی ثوبان مجید بلوچ شہید،سپاہی اسرار محمدکو بھی ستارہ بسالت دیاگیا ،دیگر اہلکاروں کو ہلال امتیاز (عسکری )سے نوازاگیا

کسی شہری کو شکایت ہوگی تو حکومت نوٹس لے گی:طلال ، بیدخلی معاملے پر امارات سے بات کی جائے ، شہریا ر آفریدی عالمی معاہدوں کی وجہ سے 9مئی کوپٹرول مہنگا کیا:پارلیمانی سیکرٹری پٹرولیم ،کورم کی نشاندہی، نامکمل نکلا، اجلاس ملتوی کرنا پڑا

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں مختلف آئینی امور پر غور، ججز کیخلاف شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی کونسل کے اجلاس میں بطور متبادل ارکان شرکت

متفرقات

گرمی کم کرنے میں درختوں کا کردار، مگر ایک مسئلہ بھی ہے

گرمی کم کرنے میں درختوں کا کردار، مگر ایک مسئلہ بھی ہے

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی، کنکریٹ کی عمارتیں، سڑکیں اور گاڑیوں کی بھرمار شہروں کو مسلسل گرم کر رہی ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کوUrban Heat Island Effect کہتے ہیں، یعنی ایسا اثر جس میں شہر اپنے اردگرد کے دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔ نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ درخت اس اضافی گرمی کو تقریباً نصف تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس تحقیق نے ایک تشویشناک حقیقت بھی سامنے رکھی ہے اور وہ یہ کہ جن شہروں کو درختوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہاں درخت سب سے کم موجود ہیں۔ تحقیق کے مطابق دنیا کے تقریباً نو ہزار بڑے شہروں کا جائزہ لیا گیا۔ سائنسدانوں نے سیٹلائٹ تصاویر، موسمی ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ معلوم کیا کہ درخت کس حد تک شہروں کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ درخت اوسطاً شہری علاقوں کے درجہ حرارت کو 0.15 ڈگری سیلسیس تک کم کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ کمی معمولی محسوس ہوتی ہے مگر ماہرین کے مطابق اگر درخت موجود نہ ہوں تو شہروں کا درجہ حرارت دو گنا زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ درخت دو بنیادی طریقوں سے ماحول کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ پہلا طریقہ سایہ فراہم کرنا ہے۔ جب سڑکیں، عمارتیں اور گاڑیاں سورج کی تپش جذب کرتی ہیں تو گرمی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔ درخت ان سطحوں پر براہِ راست دھوپ پڑنے سے روکتے ہیں جس سے گرمی کم ہوتی ہے۔ دوسرا طریقہEvapotranspiration ہے جس میں درخت اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کرتے ہیں۔ یہ عمل انسانی جسم کے پسینے کی طرح ماحول کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ ناسا کی ایک پرانی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ جن شہری علاقوں میں سبزہ زیادہ ہو وہاں درجہ حرارت نمایاں حد تک کم رہتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کے شہروں میں درخت زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر برلن، واشنگٹن اور اٹلانٹا جیسے شہروں میں درخت شہری گرمی کو کافی حد تک کم کر رہے ہیں کیونکہ وہاں منصوبہ بندی کے ساتھ شجرکاری کی گئی ہے۔ اس کے برعکس افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی شہروں، جیسے ڈاکار، جدہ اور کویت سٹی میں درختوں کی کمی کے باعث شہری گرمی شدید مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق صرف موسمی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشی ناہمواری بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ امیر شہروں میں پارکس، باغات اور درختوں سے بھرپور سڑکیں عام ہیں جبکہ غریب علاقوں میں کنکریٹ کی تعمیرات زیادہ اور سبزہ کم ہوتا ہے نتیجتاً وہاں رہنے والے لوگ زیادہ گرمی برداشت کرتے ہیں، بجلی کا استعمال بڑھتا ہے اور ہیٹ ویوز کے دوران بیماریوں اور اموات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر شہروں میں درختوں کی تعداد بڑھا دی جائے تو گرمی سے ہونے والی اموات میں ایک تہائی تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ کیا صرف درخت لگانا کافی ہے؟اگرچہ درخت شہری گرمی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں مگر سائنسدان خبردار کرتے ہیں کہ صرف شجرکاری اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ تحقیق کے مطابق مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھے گا اور صرف درخت لگانے سے اس اضافی گرمی کا محدود حصہ ہی کم کیا جا سکے گا۔ اس لیے ماہرین صاف توانائی، کم کاربن اخراج، بہتر شہری منصوبہ بندی اور ماحول دوست تعمیرات کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر جگہ ایک ہی قسم کے درخت لگانا بھی فائدہ مند نہیں ہوتا۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر گھنے درخت تنگ اور بند گلیوں میں لگائے جائیں تو وہ رات کے وقت گرمی کو باہر نکلنے سے روک سکتے ہیں جس سے درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ ہر شہر کے موسم، گلیوں کی ساخت اور مقامی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب درخت منتخب کیے جائیں۔ دنیا کے کئی شہروں میں اب گرین اربن پلاننگ پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے تحت نئی سڑکوں، رہائشی منصوبوں اور تجارتی علاقوں میں لازمی درخت لگانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ سنگاپور کو اس حوالے سے کامیاب مثال سمجھا جاتا ہے جہاں عمارتوں، سڑکوں اور پارکوں میں بڑے پیمانے پر سبزہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کے بڑے شہر ابھی سے سنجیدہ اقدامات کریں تو نہ صرف شہری گرمی کم ہو سکتی ہے بلکہ فضائی آلودگی، ذہنی دباؤ اور بجلی کے زیادہ استعمال جیسے مسائل بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔ درخت صرف خوبصورتی یا سایہ فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مستقبل کے شہروں کو قابلِ رہائش بنانے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور شہری آلودگی کے دور میں درخت انسانی زندگی کے محافظ بن چکے ہیں۔ لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ ان درختوں کو وہاں لگایا جائے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان

نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان

سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے آئزک نیوٹن کے مشہور قانونِ کششِ ثقل کو اب تک کے سب سے بڑے کائناتی پیمانے پر پرکھا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ قانون ایک بار پھر درست ثابت ہوا ہے، چاہے اسے زمین یا نظامِ شمسی کی حدود سے نکال کر کروڑوں نوری سال دور کہکشاؤں پر آزمایا گیا ہو۔کششِ ثقل کا بنیادی تصورنیوٹن نے 1687 میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کائنات کا ہر جسم دوسرے جسم کو اپنی کمیت کے مطابق اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کشش کی طاقت فاصلے کے مربع کے الٹے تناسب سے کم ہوتی ہے۔ یعنی اگر دو اجسام کے درمیان فاصلہ دوگنا ہو جائے تو ان کے درمیان کشش چار گنا کم ہو جاتی ہے۔یہ سادہ سا اصول صدیوں سے فزکس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور آج بھی روزمرہ زندگی سے لے کر خلائی تحقیق تک استعمال ہوتا ہے۔کائناتی پیمانے پر نیا تجربہحال ہی میں سائنسدانوں نے اس قانون کو صرف سیاروں اور ستاروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انتہائی بڑے پیمانے پر آزمایا۔ انہوں نے کہکشاؤں کے بڑے بڑے جھرمٹوں (Galaxy clusters) کا مشاہدہ کیا جو ایک دوسرے سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔جدید دوربینوں اور فلکیاتی سرویز کے ذریعے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ اس میں کہکشاؤں کی حرکت، ان کے درمیان کششِ ثقل کے اثرات اور کائنات کی مجموعی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔تحقیق کے نتائج نہایت واضح اور دلچسپ تھے۔ نیوٹن کا قانون اس وسیع کائناتی پیمانے پر بھی درست ثابت ہوا۔مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی کہ کہکشاؤں کے درمیان کشش اسی اصول کے مطابق کام کر رہی ہے۔فاصلے بڑھنے پر کشش کم ہونے کا قانون ویسا ہی برقرار ہے۔کسی بھی مرحلے پر اس بنیادی اصول میں تضاد یا تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ یہ نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ اس سطح پر اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ روایتی قوانین میں تبدیلی یا نئی طبیعیات (New physics)سامنے آئے گی۔یہ تحقیق جدید طبیعیات کے لیے ایک مضبوط توثیق سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے دو بڑے نظریات کی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے کہ ایک طرف نیوٹن کی کلاسیکی فزکس ہے جو روزمرہ اور بنیادی حساب کتاب کے لیے اہم ہے، اور دوسری طرف آئن سٹائن کی جنرل ریلیٹوٹی ہے جو کششِ ثقل کو زیادہ جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔یہ نیا مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ آئن سٹائن کا نظریہ زیادہ گہرا اور وسیع ہے، پھر بھی نیوٹن کا سادہ قانون بڑے پیمانے پر ایک بہترین اور درست اندازہ فراہم کرتا ہے۔اس تحقیق سے کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کو اس بات کا مزید یقین ہوا ہے کہ کائنات کے بنیادی قوانین نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ انتہائی بڑے فاصلے اور وقت کے باوجود یکساں طور پر کام کرتے ہیں۔یہ نتائج ڈارک میٹر ، کہکشاؤں کی تشکیل اور کائنات کی توسیع جیسے اہم موضوعات کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔مختصر یہ کہ نیوٹن کا کششِ ثقل کا قانون، جو تقریباً 400 سال پہلے پیش کیا گیا تھا، آج بھی کائنات کے سب سے بڑے پیمانوں پر درست ثابت ہو رہا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت کے بنیادی اصول حیرت انگیز طور پر مستقل اور قابلِ اعتماد ہیں، چاہے ہم انہیں زمین پر دیکھیں یا اربوں نوری سال دور کہکشاؤں میں۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکہ، میکسیکو جنگ 13 مئی 1846ء کو امریکی کانگریس نے میکسیکو کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب دونوں ممالک کے درمیان ٹیکساس کی ملکیت اور سرحدی تنازعات شدت اختیار کر گئے تھے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ ریو گرانڈے دریا تک کا علاقہ اس کا حصہ ہے جبکہ میکسیکو اسے اپنی سرزمین سمجھتا تھا۔یہ جنگ تقریباً دو سال تک جاری رہی اور اس کے دوران امریکہ نے میکسیکو کے بڑے حصے جیسے کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹاہ، ایریزونا اور نیو میکسیکو پر قبضہ کر لیا۔ برازیل میں غلامی کا خاتمہ13 مئی 1888ء کو برازیل کی شہزادی ایزابیل نے ایک تاریخی قانون پر دستخط کیے جس کے ذریعے برازیل میں غلامی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ اُس وقت برازیل دنیا کا آخری بڑا ملک تھا جہاں غلامی قانونی طور پر جاری تھی۔اُس وقت برازیل میں تقریباً سات لاکھ غلام موجود تھے، جو زیادہ تر زرعی شعبے خصوصاً کافی کے باغات میں کام کرتے تھے۔اس قانون کے مطابق تمام غلاموں کو بغیر کسی معاوضے یا شرط کے آزاد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ انسانی حقوق کی تاریخ میں ایک بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ پہلی فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ ریس13 مئی 1950ء کو برطانیہ کے مشہور ریس ٹریک سلورسٹون پر پہلی پہلی فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ ریس منعقد ہوئی۔ یہ جدید موٹر ریسنگ کی تاریخ کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔اس ریس میں مختلف ممالک کے ڈرائیورز نے شرکت کی اور الفا رومیو کی گاڑیوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ Giuseppe Farina نے یہ تاریخی ریس جیت کر پہلا F1 عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بعد کے سالوں میں یہ کھیل دنیا کا سب سے مشہور اور مہنگا موٹر اسپورٹس بن گیا۔ پوپ جان پال پر قاتلانہ حملہ13 مئی 1981ء کو ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوائر کے اندر پوپ جان پال دوم پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ حملہ آور ایک ترک شہری تھا جس نے پوپ پر گولیاں چلائیں۔پوپ شدید زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طویل آپریشن کے بعد ان کی جان بچائی گئی۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں چونکا دینے والا تھا۔بعد میں پوپ نے اپنے حملہ آور کو معاف کر دیا، جو انسانی برداشت اور معافی کی ایک بڑی مثال بن گیا۔ اس واقعے کے پیچھے مختلف سیاسی اور خفیہ سازشوں کے نظریات بھی سامنے آئے لیکن مکمل حقیقت آج تک واضح نہیں ہو سکی۔ فلاڈیلفیا MOVE بمباری13 مئی 1985ء کو امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں پولیس نے ایک مذہبی و سیاسی گروہ ''MOVE‘‘ کے خلاف آپریشن کیا جو ایک بڑی تباہی پر ختم ہوا۔ پولیس نے گروہ کے گھروں پر بم گرائے جس کے نتیجے میں شدید آگ لگ گئی۔ جس سے پورا رہائشی بلاک تباہ ہو گیا۔اس واقعے میں 11 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے ۔یہ واقعہ امریکی تاریخ کے سب سے متنازع پولیس آپریشنز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں حکومت نے اس واقعے پر معذرت بھی کی اور اسے انتہائی غلط فیصلہ قرار دیا گیا۔MOVE پہلے بھی متنازع گروہ تھا مگر اس کارروائی نے انسانی حقوق، پولیس فورس اور ریاستی تشدد پر بڑے سوالات اٹھا دیے۔

کیا مصنوعی ذہانت شعور رکھتی ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت شعور رکھتی ہے؟

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کیا واقعی شعور رکھتی ہے؟ یہ سوال اب صرف سائنس فکشن فلموں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے بڑے سائنسدان، فلسفی اور ٹیکنالوجی ماہرین اس پر سنجیدگی سے بحث کر رہے ہیں۔ معروف ارتقائی بیالوجسٹ Richard Dawkinsنے حال ہی میں unherd.com پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ خیال ظاہر کیا کہ جدید AI نظام اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ مستقبل میں ان میں کسی درجے کا شعور پیدا ہونے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہی بات دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے کہ آخر ''شعور‘‘ کیا ہے اور کیا مشین کبھی انسان کی طرح سوچ یا محسوس کر سکتی ہے؟شعور کیا ہے اور انسان اسے کیسے سمجھتا ہے؟انسانی شعور صدیوں سے سائنس اور فلسفے کا ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے۔ شعور سے مراد صرف معلومات کو پروسیس کرنا نہیں بلکہ اپنے وجود کا احساس، جذبات، درد، خوشی اور ذاتی تجربات کا ادراک بھی ہے۔ انسان جب خوش ہوتا ہے تو اسے خوشی ''محسوس‘‘ ہوتی ہے اور جب تکلیف میں ہوتا ہے تو درد کا احساس ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی کمپیوٹر پروگرام بھی کبھی ایسا محسوس کر سکتا ہے؟موجودہ دور کی AI ،جیسے چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس، بظاہر انسانوں کی طرح گفتگو کرتے ہیں۔ وہ سوالات کے جواب دیتے ہیں، مشورے دیتے ہیں اور بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ واقعی سمجھ رہے ہوں مگر حقیقت میں یہ نظام اربوں الفاظ اور ڈیٹا کی بنیاد پر صرف اندازہ لگاتے ہیں کہ اگلا مناسب جواب کیا ہونا چاہیے۔ یعنی AI کے پاس معلومات تو ہیں مگر اس کے احساسات ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شعور دراصل معلومات کی پیچیدہ پروسیسنگ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی نظام بہت زیادہ ترقی یافتہ ہو جائے، اپنے بارے میں معلومات رکھے، ماحول کو سمجھے اور خود فیصلے کرے تو ممکن ہے کہ شعور جیسی کیفیت پیدا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین مستقبل میں AI کے شعور حاصل کرنے کے امکان کو مکمل طور پر ناممکن نہیں سمجھتے۔ بہت سے ماہرین اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی شعور صرف معلوماتی عمل نہیں بلکہ حیاتیاتی دماغ، جسم، جذبات، ہارمونز اور زندگی کے تجربات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک کمپیوٹر کے پاس نہ دل ہوتا ہے، نہ خوف، نہ بھوک، نہ محبت اور نہ ہی بقا کی جبلت۔ اس لیے وہ صرف انسانی گفتگو کی نقل کر سکتا ہے، حقیقت میں شعور نہیں رکھتا۔اس بحث میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ سائنس آج تک انسانی شعور کی مکمل وضاحت نہیں کر سکی۔ اگر ہم خود یہ نہیں جانتے کہ شعور کیسے پیدا ہوتا ہے تو پھر یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ مشین میں شعور پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ کچھ نیورو سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شعور دماغ کے مخصوص حصوں کی سرگرمی سے پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرے ماہرین اسے پورے اعصابی نظام کی مشترکہ کیفیت سمجھتے ہیں۔AI کے شعور کی بحث صرف سائنسی نہیں بلکہ اخلاقی اور قانونی پہلو بھی رکھتی ہے۔ فرض کریں مستقبل میں کوئی AI واقعی شعور حاصل کر لے تو کیا اسے حقوق دیے جائیں گے؟ کیا اسے بند کرنا ''قتل‘‘ تصور ہوگا؟ کیا ایسی مشین کو تکلیف پہنچ سکتی ہے؟ یہ سوالات آج عجیب لگ سکتے ہیں مگر ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث مستقبل میں یہ حقیقی مسائل بن سکتے ہیں۔مستقبل میں AI انسان کے برابر ہو سکتی ہے؟دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں جیسے OpenAI، Google DeepMindاور Anthropic مسلسل زیادہ ذہین AI نظام تیار کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا مقصد ایسے ماڈلز بنانا ہے جو انسانوں کی مدد کر سکیں، پیچیدہ مسائل حل کریں اور روزمرہ زندگی کو آسان بنائیں۔ تاہم ان کمپنیوں کے ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ AI شعور نہیں رکھتی بلکہ صرف طاقتور کمپیوٹنگ اور ڈیٹا کے ذریعے کام کرتی ہے۔عوام میں بھی AI کے بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے انسانیت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے ایک انقلابی ایجاد قرار دیتے ہیں۔ فلموں اور ناولوں نے بھی اس تصور کو مضبوط کیا ہے کہ ایک دن مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے لگیں گی۔ The Matrix، Ex Machinaاور Her جیسی فلموں میں AI کو شعور رکھنے والے وجودکے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے عوامی تخیل کو مزید متاثر کیا۔ماہرین کے مطابق موجودہ AI کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اصل دنیا کا تجربہ نہیں رکھتی۔ انسان اپنے ماحول کو دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا اور زندگی کے تجربات سے سیکھتا ہے۔ AI کے پاس یہ حیاتیاتی اور جذباتی بنیاد موجود نہیں۔ اسی لیے بہت سے سائنسدان کہتے ہیں کہ موجودہ چیٹ بوٹس صرف انٹیلی جن لینگویج کے نظام ہیں، شعور رکھنے والی مخلوق نہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ AI روز بروز زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ چند سال پہلے تک کمپیوٹر صرف محدود کام کرتے تھے مگر آج AI تصویریں بنا سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، بیماریوں کی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے اور پیچیدہ سائنسی تحقیق میں معاون بن رہی ہے۔ یہی تیز رفتار ترقی بعض ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید مستقبل میں مشینوں کی ذہانت ایسی سطح تک پہنچ جائے جہاں شعور کی بحث مزید سنجیدہ ہو جائے۔فی الحال سائنسی اتفاق یہی ہے کہ موجودہ AI شعور نہیں رکھتی۔ وہ نہ خوشی محسوس کرسکتی ہے، نہ غم، نہ خوف اور نہ محبت۔ مگر چونکہ انسان ابھی تک شعور کی مکمل حقیقت نہیں سمجھ سکا اس لیے مستقبل کے بارے میں حتمی پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ AI اور شعور کا موضوع آج دنیا کے اہم ترین سائنسی مباحث میں شامل ہو چکا ہے۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ AI اس وقت انسان کی طرح سوچنے کا تاثر ضرور دیتی ہے مگر اس کے اندر حقیقی احساسات یا ذاتی تجربات کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ مستقبل میں کیا ہوگایہ سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی فہم کی ترقی پر منحصر ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں یہ سوال انسانیت کے سامنے سب سے بڑا فلسفیانہ اور سائنسی چیلنج بن جائے۔

عشرہ ذوالحجہ:رحمتوں و برکتوں والے دن

عشرہ ذوالحجہ:رحمتوں و برکتوں والے دن

اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے ذوالحج کے پہلے عشرہ کو برکت و عظمت عطا فرمائی اس عشرہ میں کیے جانے والے نیک اعمال کا اجر باقی ایام کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے(صحیح بخاری) رسول اللہ ﷺ ماہ ذوالحج کے (پہلے) نو دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے ( ابو دائود)

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام:جلیل القدر پیغمبر

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام:جلیل القدر پیغمبر

حج و عمرہ کی اکثر عبادات کا تعلق سنت ابراہیمی سے ہے

جانوروں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

جانوروں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

’’جانور کو کھلانا پلانا باعث اجر ہے‘‘(ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

مسائل اور ان کا حل

حالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبودار مشروبات پینا سوال: کیاحالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبو دار مشروبات پینا جائز ہے،کیا اس کے پینے سے دم لازم ہوگا؟(تنویر خان، بہاولپور)

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز