لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان میں پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ روز کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، 5 ستمبر کے مقابلے میں 10 ستمبر تک پٹرول کی قیمت 21.88 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 14.62 روپے فی لیٹر بڑھ گئی ہے۔
لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان میں پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ روز کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، 5 ستمبر کے مقابلے میں 10 ستمبر تک پٹرول کی قیمت 21.88 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 14.62 روپے فی لیٹر بڑھ گئی ہے۔
تہران کا 2امریکی بحری جہازوں،8ٹینکروں،اردن میں فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ،آبنائے ہرمز کا ممنوعہ علاقہ خلیج عمان اور بحیر عرب تک وسیع کرنیکا اعلان،5ایرانی آئل ٹینکر ڈبو دئیے :امریکا،تیل مزید مہنگادبئی کے قریب ٹینکر پر سوار 1 بحری کارکن ہلاک، دوسرا لاپتا،عراقی بندرگاہ کے قریب ٹینکرمیں آگ لگی، کویتی و بحرینی بندرگاہوں پر آئل ٹینکرز کو بھی دھمکی،سعودی عرب کے یمن میں جوابی حملے ،درجنوں ہلاکتیں
الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس صرف ایک فیصد ، ایکسائز ڈیوٹی، سی وی ٹی ، ودہولڈنگ ٹیکس معاف کرنیکی تجویز ، عام گاڑیوں پر ڈیوٹی میں 5 سال کے دوران 80 فیصد تک کمی کی جائیگیبجلی والی گاڑیوں کیلئے قرض حد بڑھا کر1 کروڑ کرنیکی سفارش ،بکنگ کے بعد گاڑی کی قیمت بڑھانے پر کمپنی ذمہ دار، ڈیلیوری تاریخ بتانا لازمی ،وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دیدی
زرعی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ، ترقی کیلئے اقدامات قومی ذمہ داری ،قرض فراہمی میں موثرکردار ادا کرنیوالے بینکوں کی حوصلہ افزائی کرینگے، شہبازشریف ،اجلاس سے خطاب اپنا گھر پروگرام کے تحت ایک لاکھ 47 ہزار 504 درخواستیں موصول، 53 ہزار 127 منظور، وزیراعظم کو بریفنگ، نئی آٹو پالیسی 2026 منظور، کابینہ اورپارلیمنٹ میں پیش کی جائیگی
بسوں کاپہلا بیچ جنوری 2027ء میں آئیگا،جنوری میں سروس کا آغاز،ہر تحصیل کیلئے بس ڈپومنظور لاہور آلودہ شہروں میں سولہویں نمبر پر ،فضائی آلودگی پھیلاؤ کے ذرائع کو روکا جائے :وزیراعلیٰ
تفتیش،شہادتیں جمع کرنے میں پولیس کی کارکردگی انصاف پر اثرانداز ہوتی ہے معیاری قانونی تعلیم بار،عدالتی نظام کی مضبوطی میں اہم ہے ،جسٹس یحییٰ آفریدی
خاران میں دہشت گردوں نے سڑک بلاک کر کے ٹریفک معطل کرنا چاہی،فائرنگ کے تبادلے میں 8مارے گئےواشک میں کارروائی کے دوران 3 دہشتگرد ہلاک، دیسی ساختہ بم بنانے میں استعمال ہونیوالا 2.9ٹن دھماکا خیز مواد برآمد
ستھرا پنجاب کارکن خودکشی معاملہ :عابد شیر علی، ایمل ولی کیساتھ تلخ کلامی ، آپ کون، آپ کون، کی للکار، ماحول کشیدہ
دہشت گردوں کیخلاف یوکرین کی حکمت عملی کا استعمال ، اہلکاروں کو جیمرز کی بھی تربیت دی جارہی ڈرونز بازاروں میں باآسانی دستیاب ، گولہ بارود گرانے کا نظام نصب کیا جا سکتا:پولیس افسرجالوں اور حفاظتی دیواروں نے ڈرون حملوں کے خطرے کو ’’نمایاں حد تک‘‘ کم کر دیا
ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والا دنہر سال 9 ستمبر کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے (International Sudoku Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا کے مقبول ترین ذہنی کھیلوں میں شمار ہونے والے سوڈوکو کی اہمیت، مقبولیت اور ذہنی سرگرمی کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سوڈوکو بظاہر اعداد کاایک سادہ سا کھیل ہے لیکن اسے حل کرنے کے لیے توجہ، منطقی سوچ، صبر اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کا انتخاب بھی دلچسپ وجہ سے کیا گیا۔ روایتی سوڈوکو 9×9 خانوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے 9 ستمبر یعنی 9؍9 اس کھیل کے لیے ایک علامتی تاریخ بن جاتی ہے۔ ورلڈ پزل فیڈریشن نے 2013ء میں 9 ستمبر کو انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کے طور پر مقرر کیا تھا۔سوڈوکو کیا ہے؟سوڈوکو ایک منطق پر مبنی عداد کا کھیل ہے جس میں 9×9 کا گرڈ ہوتا ہے۔ یہ گرڈ مزید نو چھوٹے 3×3 خانوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ کھلاڑی کو ایک سے 9 تک کے اعداد اس طرح رکھنے ہوتے ہیں کہ ہر قطار، ہر کالم اور ہر 3×3 خانے میں کوئی عدد دوبارہ نہ آئے۔ کچھ اعداد پہلے سے درج ہوتے ہیں اور انہی اشاروں کی مدد سے باقی خانے مکمل کیے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوڈوکو کو حل کرنے کے لیے ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل ضرورت منطق اور مشاہدے کی ہوتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے بچوں، نوجوانوں اور بڑوں سب کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے۔سوڈوکو کی تاریخاگرچہ سوڈوکو کی موجودہ شکل نسبتاً جدید ہے لیکن اس کے بنیادی تصورات کا تعلق عداد پر مبنی پرانے کھیلوں سے ملتا ہے۔ 19ویں صدی کے آخر میں فرانس کے اخبارات میں ایسے معمے شائع ہوتے تھے جن میں موجودہ سوڈوکو سے کچھ مماثلت پائی جاتی تھی۔جدید سوڈوکو کے قریب ترین معمے کو Howard Garnsنے 1979ء میں Number Placeکے نام سے تخلیق کیا۔ بعد میں یہ جاپان پہنچا جہاں اسےSudoku کا نام دیا گیا۔ جاپانی پزل پبلشر اور سوڈوکو کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والےMaki Kaji نے اس کھیل کو جاپان میں مقبول بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔1990ء کی دہائی کے آخر اور 2000ء کی دہائی کے آغاز میں سوڈوکو نے برطانیہ سمیت مغربی دنیا میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ اخبارات نے اسے روزانہ شائع کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک عالمی سطح پر معروف ذہنی کھیل بن گیا۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کی اہمیتاس دن کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ لوگوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ ذہنی سرگرمی میں حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب موبائل فون، سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیوز نے ہماری روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ لے لیا ہے، سوڈوکو جیسی سرگرمی انسان کو کچھ دیر کے لیے پرسکون انداز میں سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیتی ہے۔سوڈوکو حل کرتے ہوئے کھلاڑی کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک غلط عدد کئی دوسرے خانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ کھیل انسان کو جلد بازی کے بجائے غور و فکر اور صبر سے کام لینے کی عادت ڈالتا ہے۔یہ بچوں کے لیے بھی مفید سرگرمی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ منطقی انداز میں مسائل کو حل کرنے، امکانات کا جائزہ لینے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی مشق کرتے ہیں۔ بالغ افراد بھی اسے اپنے فارغ وقت میں ایک دلچسپ ذہنی مشق کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔سوڈوکو صرف اعداد کا کھیل نہیںبہت سے لوگ سوڈوکو کو ریاضی کا کھیل سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں اسے حل کرنے کے لیے اعلیٰ درجے کی ریاضی ضروری نہیں۔ اس کا اصل تعلق منطق سے ہے۔مثلاً اگر کسی قطار میں ایک سے 9 تک آٹھ اعداد موجود ہوں تو کھلاڑی آسانی سے معلوم کر سکتا ہے کہ خالی خانے میں کون سا عدد ہونا چاہیے۔ مشکل پہیلیوں میں یہی عمل متعدد قطاروں، کالموں اور 3×3 خانوں کے درمیان تعلق کو سمجھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔اس طرح سوڈوکو توجہ، یادداشت، مشاہدے اور مسئلہ حل کرنے کی ذہنی مشق فراہم کرتا ہے۔ انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کیسے منایا جاتا ہے؟سوڈوکو ڈے منانے کے لیے کسی بڑی تقریب یا خاص انتظام کی ضرورت نہیں، اس دن کو انتہائی سادہ انداز میں بھی منایا جا سکتا ہے۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک سوڈوکو پزل حل کیا جائے۔ سکولوں میں سوڈوکو مقابلے بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ طلبہ کو مختلف سطح کے پزل دیے جا سکتے ہیں۔ اس سے بچوں میں منطقی سوچ اور مسائل حل کرنے کا شوق پیدا ہو گا ۔گھروں میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سوڈوکو حل کر سکتے ہیں۔ یہ خاندان کے افراد کو ایک مشترکہ ذہنی سرگرمی میں شامل کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔آج سوڈوکو صرف اخبارات اور کتابوں تک محدود نہیں رہا، موبائل فون اور کمپیوٹر پر بے شمار سوڈوکو ایپس اور آن لائن پلیٹ فارم دستیاب ہیں جہاں آسان سے لے کر انتہائی مشکل پزل تک حل کیے جا سکتے ہیں۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تفریح ہمیشہ سکرین، ویڈیو یا گیمز تک محدود نہیں ہوتی۔ ایک کاغذ پر بنے 81 خانے بھی انسان کو گھنٹوں مصروف رکھ سکتے ہیں اور اسے سوچنے، غور کرنے اور مسئلہ حل کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔
ملبے سے ملنے والے نئے راز6 اگست 1945ء کو جاپانی شہر ہیروشیما پر گرایا جانے والا ایٹم بم انسانی تاریخ کے تباہ کن ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس ایک دھماکے نے ہزاروں جانیں لیں، شہر کا بیشتر حصہ تباہ کردیا اور انسانی تاریخ پر ایک ایسا زخم چھوڑا جو آج بھی تازہ ہے۔ لیکن آٹھ دہائیوں بعد سائنسدانوں نے اس سانحے کے ملبے میں ایک ایسا غیر معمولی مادہ دریافت کیا ہے جو اس دھماکے کے انتہائی عجیب و غریب طبعی اثرات کی نئی تصویر پیش کرتا ہے۔محققین نے ہیروشیما کے ساحل کی ریت میں موجود شیشے جیسے انتہائی چھوٹے ذرات کا تجزیہ کیا۔ ان ذرات میں ایک تقریباً 10 مائیکرومیٹر چوڑا دھاتی دانہ ملا جس کی کیمیائی ترکیب اور ایٹمی ساخت پہلے کسی معلوم صنعتی مرکب یا سابقہ ایٹمی دھماکے کے ملبے میں رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکے صرف تباہی ہی نہیں بلکہ انتہائی مختصر وقت کے لیے ایسے حالات بھی پیدا کرسکتے ہیں جن میں غیر معمولی مادے وجود میں آجاتے ہیں۔ہیروشیما کے ملبے میں چھپے شیشے کے ذراتایٹمی دھماکے کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت نے شہر کی عمارتوں، دھاتوں، مٹی، شیشے اور دیگر مواد کو پگھلا کر یا بخارات میں تبدیل کرکے ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا۔ دھماکے کے بعد یہ مواد ٹھنڈا ہوا اور انتہائی چھوٹے شیشے جیسے ذرات کی شکل میں زمین پر واپس آیا۔ ان ذرات کو سائنسدان Hiroshimaites کہتے ہیں۔یہ ذرات دراصل ماضی کے اس تباہ کن لمحے کا ایک طرح کا مادی ریکارڈ ہیں۔ ان کے اندر مختلف دھاتوں اور دیگر مواد کے ذرات محفوظ رہ گئے جن سے سائنسدان یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دھماکے کے دوران مادے کے ساتھ کیا ہوا تھا۔حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ایسے 34 شیشہ نما ذرات کا جائزہ لیا۔ ان میں زیادہ تر دھاتی ٹکڑے لوہے اور کرومیم پر مشتمل تھے اور ان کی ساخت عام فولاد سے مشابہ تھی۔ لیکن ایک چھوٹا سا دانہ باقی سب سے مختلف نکلا۔اس دانے میں بنیادی طور پر آئرن، کرومیم، سلیکان، نکل، مولیبڈینم، مینگنیز اور ایلومینیم موجود تھے۔ صرف یہ بات اسے غیر معمولی نہیں بناتی کیونکہ مختلف دھاتوں پر مشتمل مرکبات پہلے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ اصل حیرت اس وقت سامنے آئی جب سائنسدانوں نے دیکھا کہ ان عناصر کے ایٹم کس انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ منظم ہوئے تھے۔عام فولاد سے بالکل مختلف ایٹمی ترتیبمحققین نے ان انتہائی چھوٹے ذرات کو خصوصی آلات کی مدد سے الگ کیا اور پھر ان کی اندرونی ساخت کا جائزہ لیا اور ایسے عناصر کا ایک ایسا غیر معمولی امتزاج اور ایٹمی انتظام دریافت کیا جو پہلے معلوم نہیں تھا۔سائنسدانوں کے مطابق اس غیر معمولی مرکب کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے دھماکے کے چند لمحوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات کو دیکھنا ہوگا۔ہیروشیما کے ایٹمی دھماکے میں درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ اس شدید توانائی نے آس پاس موجود مختلف مواد کو پگھلا دیا یا بخارات میں تبدیل کردیا۔ مختلف ذرائع سے آنے والے دھاتی ایٹم ایک انتہائی گرم بادل میں آپس میں مل گئے۔عام حالات میں مختلف عناصر کو اس طرح یکجا کرکے ایک خاص کرسٹل ساخت بنانا مشکل ہوسکتا ہے ۔ ایٹمی دھماکے کے بعد بننے والا آگ کا گولا تیزی سے پھیلنے اور ٹھنڈا ہونے لگا، اس عمل میں مخلوط دھاتی بخارات دوبارہ ٹھوس ذرات میں تبدیل ہوئے اور انتہائی تیز رفتار ٹھنڈک نے ان کے ایٹمی نظم کو تقریباً اسی حالت میں منجمد کردیا جس میں وہ اس مختصر لمحے میں موجود تھا۔ اسی عمل کوUltrafast quenching کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق نیا مرکب غالباً مخلوط دھاتی بخارات کے گاڑھے ہونے اور پھر انتہائی تیزی سے ٹھنڈا ہونے کے نتیجے میں تشکیل پایا۔ ایٹمی دھماکہ اگرچہ ایک تباہ کن تجربہ تھا لیکن طبیعیات کے نقطہ نظر سے اس نے انتہائی کم وقت کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جو عام تجربہ گاہ میں پیدا کرنا بہت مشکل ہیں۔ایک تباہ کن واقعے سے مستقبل کی سائنس تکاس دریافت کی اہمیت صرف اس عجیب و غریب دھاتی دانے تک محدود نہیں، یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ انتہائی شدید توانائی، درجہ حرارت اور تیز رفتار ٹھنڈک کے امتزاج سے مادے کی ایسی شکلیں پیدا ہوسکتی ہیں جو عام حالات میں نظر نہیں آتیں۔تحقیق کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب کسی ایٹمی دھماکے کے ملبے میں غیر معمولی مادہ دریافت ہوا ہو، اس سے قبل امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 1945ء کے ٹرینٹی نیوکلیئر ٹیسٹ سے بننے والے شیشے نما ملبہ، جسے trinitite کہا جاتا ہے، میں بھی ایک غیر معمولی کرسٹل دریافت کیا جاچکا ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے ملبے میں مزید ایسے نایاب اور انتہائی چھوٹے مادے موجود ہوسکتے ہیں جنہیں ابھی سائنسدانوں نے دریافت نہیں کیا۔تاہم اس دریافت کو فوری طور پر کسی نئے صنعتی مادے یا مستقبل کی ٹیکنالوجی کا حل سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔اس دریافت کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ مادہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ہی عنصر مختلف حالات میں مختلف ساختیں اختیار کرسکتا ہے جبکہ کئی معروف عناصر انتہائی غیر معمولی حالات میں مل کر ایسی ترتیب بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی مشاہدے میں نہ آئی ہو۔ہیروشیما کا ملبہ انسانی تباہی کی ایک دردناک یادگار ہے لیکن اس میں محفوظ یہ خوردبینی ذرات سائنسدانوں کو یہ سمجھنے کا ایک نیا موقع فراہم کررہے ہیں کہ انتہائی شدید حالات میں مادہ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔ تقریباً 81 سال پہلے رونما ہونے والے ایک تباہ کن واقعے کے اندر چھپا یہ 10 مائیکرومیٹر کا ذراتی راز آج جدید مواد کی سائنس کے لیے ایک حیران کن سوال بن چکا ہے۔
امریکہ کا نیا نام9 ستمبر 1776ء کو دوسری کانٹی نینٹل کانگریس نے نئی قائم ہونے والی ریاست کے لیے سرکاری طور پر یونائیٹڈ سٹیٹس کا نام اختیار کیا۔ اس سے پہلے امریکی نوآبادیوں کے اتحاد کے لیے یونائیٹڈ کالونیزکی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔ جولائی 1776ء میں تیرہ برطانوی نوآبادیوں نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اعلانِ آزادی میں بھی ''یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی تھی لیکن 9 ستمبر کو کانگریس کے فیصلے نے اسے سرکاری استعمال کے لیے واضح طور پر اختیار کرلیا گیا۔ نام کی تبدیلی اس بات کی علامت تھی کہ یہ علاقے اب خود کو برطانوی سلطنت کی نوآبادیاں نہیں بلکہ آزاد اور متحد ریاستیں سمجھ رے تھے۔ کیلیفورنیا 31ویں ریاست 9 ستمبر 1850ء کو کیلیفورنیا امریکہ کی 31ویں ریاست بن گیا۔ یہ واقعہ امریکی تاریخ میں اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ کیلیفورنیا نے عام نوآبادیاتی یا علاقائی مرحلے سے گزرے بغیر نسبتاً مختصر مدت میں ریاست کا درجہ حاصل کرلیا۔ اس وقت کیلیفورنیا میں سونے کی دریافت کے نتیجے میں آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور دنیا کے مختلف حصوں سے ہزاروں لوگ دولت اور نئے مواقع کی تلاش میں وہاں پہنچنے لگے۔ اس عمل کو ''کیلیفورنیا گولڈ رش‘‘ کہا جاتا ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافے نے علاقے کو باقاعدہ ریاست بنانے کی ضرورت پیدا کردی۔ 9 ستمبر کو ریاست بننے کے بعد کیلیفورنیا نے امریکی سیاست، معیشت اور مغربی علاقوں کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ شمالی کوریا کا قیام9 ستمبر 1948ء کو جزیرہ نما کوریا کے شمالی حصے میں ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا یعنی شمالی کوریا کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ واقعہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی عالمی سیاسی کشمکش اور سرد جنگ کے اہم نتائج میں شمار ہوتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام سے پہلے پورا کوریا جاپانی قبضے میں تھا۔ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد کوریا کو عارضی طور پر 38ویں متوازی لکیر کے قریب دو انتظامی علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔ شمالی حصے میں سوویت یونین کا اثر قائم ہوا جبکہ جنوبی حصے میں امریکہ کا اثر بڑھ گیا۔اگست 1948ء میں جنوبی حصے میں جمہوریہ کوریا قائم ہوئی تو اس کے تقریباً ایک ماہ بعد 9 ستمبر کو شمالی حصے میں نئی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔ کِم اِل سنگ اس نئی ریاست کے مرکزی رہنما بنے۔اٹیکا جیل بغاوت9 ستمبر 1971ء کو امریکہ کی ریاست نیویارک میں واقع اٹیکا جیل میں قیدیوں کی ایک بڑی بغاوت شروع ہوئی۔ یہ واقعہ بعد میں امریکی تاریخ میں قیدیوں کے حقوق، جیلوں کے حالات اور ریاستی طاقت کے استعمال کے حوالے سے ایک انتہائی اہم مثال بن گیا۔ اس روز قیدیوں نے جیل کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا اور درجنوں جیل اہلکاروں کو یرغمال بنالیا۔ بغاوت کے پیچھے جیل کے خراب حالات اور قیدیوں کی شکایات بنیادی عوامل تھے۔ قیدی بہتر طبی سہولتوں، مناسب رہائش، مذہبی آزادی، ملاقات اور خط و کتابت کی سہولت، بہتر خوراک اور انسانی سلوک کا مطالبہ کر رہے تھے۔اٹیکا بغاوت کے بعد امریکی جیلوں کے نظام، قیدیوں کے بنیادی حقوق اور پولیس و ریاستی اداروں کے اختیارات پر طویل بحث شروع ہوئی۔ ماؤ زے تنگ کا انتقال9 ستمبر 1976ء کو چین کے انقلابی رہنما اور عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کا انتقال ہوگیا۔ وہ 20ویں صدی کی عالمی سیاست کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت نے چین کی سیاست، معیشت، سماج اور خارجہ پالیسی پر کئی دہائیوں تک گہرا اثر ڈالا۔ماؤ زے تنگ چینی کمیونسٹ تحریک کے اہم رہنما تھے۔ چینی خانہ جنگی کے دوران انہوں نے کمیونسٹ تحریک کی قیادت کی اور 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد ملک کے سب سے طاقتور سیاسی رہنما بن گئے۔ ان کی حکومت نے چین کے معاشی اور سماجی نظام میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ماؤ کے دور کی دو بڑی مہمات ''گریٹ لیپ فارورڈ‘‘ اور ''کلچرل ریوولوشن‘‘ تھیں۔
پاکستان میں تعلیم کی روشنی کہاں تک؟ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محض ایک تعلیمی ہنر نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یونیسکو کے مطابق خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع حاصل کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ عالمی یومِ خواندگی کا آغاز 1967ء میں ہوا اور رواں سال اس دن کی 60ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔اس سال دنیا بھر میں خواندگی کو بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ آج صرف حروف پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ انسان کے لیے معلومات کو سمجھنا، درست اور غلط خبر میں فرق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور بنیادی حساب کتاب جاننا بھی ضروری ہو چکا ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی صورتحالپاکستان کے لیے عالمی یومِ خواندگی محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک اہم قومی یاد دہانی ہے۔ ملک نے گزشتہ برسوں میں خواندگی کے میدان میں کچھ پیش رفت ضرور کی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حالات تشویش کا باعث ہیں۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں پاکستان کی شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تعلیمی مواقع میں صنفی فرق اب بھی واضح ہے۔شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ شہری خواتین میں خواندگی 68 فیصد ہے جبکہ دیہی خواتین میں یہ شرح تقریباً 44 فیصد ہے۔صوبائی سطح پر بھی صورتحال یکساں نہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب تقریباً 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا تقریباً 58 فیصد کے قریب ہیں جبکہ بلوچستان تقریباً 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔لڑکیوں کی تعلیم اور دیہی علاقوں کے چیلنجزپاکستان میں خواندگی کے فروغ کی سب سے بڑی ضرورت دیہی علاقوں اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے۔ غربت، سکولوں کا دور ہونا، محفوظ سفری سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی، کمزور تعلیمی انفراسٹرکچر اور بعض علاقوں میں سماجی رکاوٹیں بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا مسئلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی صحت، صفائی، تعلیم اور مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے کر سکتی ہے اس لیے خواتین کی خواندگی میں اضافہ اگلی نسل کی تعلیم پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 ء کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے سکول سے باہر بچوں کا تناسب 2023 ء کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 28 فیصد رہ گیا۔تاہم یہ صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔اس لیے صرف نئے سکول بنانے، بچوں کو سکول تک لانے، انہیں سکول میں برقرار رکھنے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔خواندگی کی نئی توجیہاتموجودہ دور میں خواندگی کا تصور روایتی پڑھنے لکھنے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا نام لکھ سکتا ہے لیکن کسی بینک فارم، دوا کی ہدایت، سرکاری دستاویز یا آن لائن معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کی عملی خواندگی محدود ہے۔پاکستان جیسے ملک میں صحت، مالیات اور ڈیجیٹل خواندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلومات تک رسائی آسان تو کی ہے لیکن غلط معلومات، جعلی خبروں اور آن لائن فراڈ کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں لہٰذا نئی نسل کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور درستگی کو جانچ سکے۔ کیا کرنا ہوگا؟پاکستان میں خواندگی بڑھانے کے لیے سب سے پہلے تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ حکومت کو سرکاری سکولوں کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، بنیادی سہولیات اور سکولوں تک رسائی پر مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔دیہی علاقوں میں بالخصوص لڑکیوں کے لیے قریبی سکول، محفوظ ٹرانسپورٹ، وظائف اور والدین کی حوصلہ افزائی مؤثر اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ جو بچے کسی وجہ سے رسمی سکول کا حصہ نہیں بن سکے ان کے لیے بالغ خواندگی مراکز، غیر رسمی تعلیم اور کمیونٹی لرننگ پروگراموں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں پیش رفت کو تیز کیسے کیا جائے۔ایک ایسا پاکستان جہاں ہر بچہ سکول جائے، ہر نوجوان کو معیاری تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کا موقع ملے، ہر عورت پڑھ لکھ سکے اور ہر شہری جدید معلومات کو سمجھ کر اپنے فیصلے کر سکے، صرف ایک تعلیمی خواب نہیں بلکہ مضبوط، خوشحال اور بااختیار معاشرے کی بنیاد ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ توقع سے زیادہ تیزی پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ملکی سیاست میں بڑا ارتعاش پیدا ہو چکا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کھل کر سامنے آچکی ہے جس نے سندھ میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے خیال کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
ملکی سیاسی محاذ پرنئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس حوالہ سے اپنی آرا اور تجاویز دیتی نظر آ رہی ہیں ۔ان تجاویزو آرا کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ ملک کو جس طرح چلایا جا رہا ہے اس میں کم از کم قومی و عوامی مسائل کے حل بارے سنجیدگی نہیں۔
سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے نئے صوبے بنانے کے خلاف ایک بار پھر قرارداد منظور کرالی ہے۔ اپوزیشن نے تقاریر کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ کا دورہ مکمل کرلیا ہے لیکن کیایہ دورہ کامیاب رہا؟سہیل آفریدی کے ساتھ ان کے وزرا اور سوشل میڈیا ٹیم بھی تھی۔