راہِ ہدایت
(ذوالقرنین نے اس قوم سے) کہا جوان میں سے ظلم کرے گا اسے ہم سزادیں گے پھر(جب)وہ اپنے پروردگارکی طرف لوٹایاجائے گا تووہ بھی اسے زیادہ سخت عذاب دیگا۔ (سورۃ الکہف:آیت87)

8500 ارب خسارے کیساتھ 25-2024 کیلئے 18 ہزار 877 ارب کا بجٹ پیش


اسلام آباد: (دنیا نیوز) قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے لیے8500 ارب خسارے پر مشتمل 18 ہزار 877 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا گیا، سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں 25، پنشن میں 15 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے جبکہ کم از کم تنخواہ 32 سے بڑھا کر 37 ہزار کرنے کی تجویز ہے۔


اشتہار

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)آئندہ مالی سال 2024-25 کیلئے 18 ہزار 5 سو ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا،تنخواہوں میں اضافہ ہوگا ، پنشن اصلاحات کی جائیں گی،کھاد ، بیجوں ، ٹریکٹر،زرعی اشیا ء پر سیلزٹیکس بڑھانے ، خوراک ، ادویات، سٹیشنری پر 10 فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ، صنعتوں کیلئے پیکیج ، نوجوانوں کیلئے قرض پروگرام شروع کیا جائیگا۔

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں ملاقات کی ،ملک کی معاشی ومالی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

اسلا م آباد(نامہ نگار،نیوز رپورٹر،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 24-2023 کا اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)کے ساتھ سٹینڈ بائی معاہدہ کیا تھا۔

لاہور(اے پی پی )پنجاب میں ہر شہری کو صحت کی عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے بڑے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ۔ شہروں اور دیہات میں رہنے والے عوام کو بلاامتیاز صحت کی مساوی سہولیات کی فراہمی کے لئے وزیراعلی مریم نواز نے گرینڈ ہیلتھ پیکیج کا اعلان کر دیا۔

متفرقات

ان گرمیوں سے کہ دو کہیں دورجاپڑیں

ان گرمیوں سے کہ دو کہیں دورجاپڑیں

ابھی ہم ٹھنڈ گُزیدہ لوگ جاڑوں کی زم حریریوں اور ان کے آفٹر شاکس سے بمشکل سنبھل پائے تھے کہ گرمی کے عذاب نے آن لیا ۔سردی میں بھی تنگ رہے ،اب گرمی سے بھی نالاں ہیں ۔ یوں ہم کوئی بھی موسم سہنے کے لائق ہی نہیں رہے ۔جب جنوری میں سردی سے پالا پڑتا ہے تو ہر مرد وزن ،پیرو جواں یخ یخاہٹ،دندناہٹ اور کپکپاہٹ میں مبتلا رہتا ہے۔ شاعروں اور عاشقوں کے واسطے سردیاں نعمت جبکہ عمر رسیدہ جوڑوں اور عوام کیلئے زحمت بن جاتی ہیں۔سب نے ٹھنڈ کو اتنا برا بھلا کہا،اتنی بد دعائیں دیں کہ مئی میں وہ ہم کو بے رحم گرمی کے سپرد کرکے نو دو گیارہ ہوئی ۔گرمی سے تو عشاق اور شعراء بھی تنگ ہوتے ہیں ۔گرمی دانے اور موسلا دھار پسینے عاشق و معشوق دونوں کو نا قابل دید بنا دیتے ہیں اور کسی سے لَو لگ جانے کے باوجود لُو لگنے کے خوف سے صحرانوردی ناممکن ٹھہرتی ہے۔ اندر کی آتش ِعشق پر جون کی دھوپ نارِ جہنم کا استعارہ نہیں تو کیا ؟یخ بستہ فروری میں جو بات پینتالیس،چھیالیس اور سینتالیس تک پہنچی تھی اب مئی جون میں اڑتالیس سے بھی آگے دِکھ رہی ہے ۔پورا زمستاں بغیر نہائے گزارنے والے آج ٹیوب ویلوں، کھالوں اور جوہڑوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ۔سردیوں میں مقوی ٹوٹکے آزمانے والے احباب اب راتوں کو آلو بخار ا، املی اور کاسنی بھگو کر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ گرم انڈوں کے دلدادہ آج قلفی،تربوزاور گنے کا رس ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔البتہ اشرف المشروبات( چائے) ایسی ہے کافرہے جو اس دوزخ نما ماحول میں بھی منہ سے لگی نہ چھوٹے۔ بہت سے جوان دستِ حسرت ملتے ہیں کہ ان کے اجداد بٹوارے کے وقت روس کی ٹرین میں کیوں نہ بیٹھے۔ارے ان پاکستانی سردیوں سے مرے پڑوں کو بتلائو کہ روس میں ٹمپریچرمنفی چالیس تک گر جاتا ہے۔کچھ دانشوروں کی رائے ہے کہ مئی جون اورجولائی کو کیلنڈر سے نکالنے پر گرمی میں افاقہ ہو سکتا ہے ۔چند مردو زن کو شکوہ ہے کہ کپڑے دھوئیں تو فوراَ سوکھ جاتے ہیں اور پہن لیں تو اسی وقت گیلے ہو جاتے ہیں۔ سردی، خصوصاً دسمبر کی مدح میں شاعروں نے بہت کچھ لکھا مگر گرمیوں سے فقط گلہ ہی کیا ۔لگتا ہے میر تقی میر نے یہ شعر مئی جون میں ہی لکھا تھا ، گور کس دل جلے کی ہے یہ فلکشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے البتہ حسرت موہانی کو دوپہر کی کڑکتی دھوپ میں محبوب کا ننگے پائوں چھت پر آنا مرتے دم تک یاد رہا ۔گرمیوں میں شاعروں کو محبوبائوں کے ساتھ ساتھ کالی گھٹائوںکا انتظار بھی رہتا ہے، جیسے!تپتے ہوئے صحرا سے جو بن برسے گزر جائیں ایسی بھی نہ مغرور ہوں ساون کی گھٹائیںگویا سردی وگرمی ہمیں راس نہیں،برسات سے ہمارے مکانوں کی دیواروں کا گرنا لوگوں کے رستوں پر منتج ہوتا ہے ۔خزاں ویسے کم نصیب موسم ہے ۔باقی رہا موسم بہار ،جو ہماری کج ادائی اور نازک ومتلون مزاجی کے موجب مکھی مچھر اور پولن الرجی کی آماجگاہ ہے، لہٰذاہماراکسی حال اور کسی موسم میں خوش نہ رہنا ہمارا بنیادی حق اور قومی مزاج بنتا جا رہا ہے۔ موسموں کی سختی پہلے بھی ایسے ہی ہوا کرتی تھی۔ ہمارے بچپن میں راتوں کو گرم لُوچلا کرتی اور سردیوں میں میدانی کھالوں میں پانی جم جایا کرتا تھا، مگر اس وقت وسائل کی کمی کے باعث ہمارا لائف سٹائل پُر تعیش نہ تھا۔ہر چیز قابلِ برداشت تھی ۔میعار زندگی بہت بہتر ہونے اور سائنسی ایجادات و سہولیات کی بھرمار نے ہمیں کاہل اور کم ہمت بنا دیا ہے (شایداسی لیے مولوی سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں)۔ اوپر سے درختوں اور فصلوں کی جگہ رہائشی سکیموں کا رجحان دیس کو صحرا بنانے کے مترادف ہے۔ آم کے ہزاروں باغات کا '' قتلِ آم ‘‘ قومی المیہ ہے۔ فطرت سے دور بھاگنے کا خطرناک کھیل جاری ہے۔یاد رکھو فطرت بہترین دوست ہے مگر بد ترین دشمن بھی بن سکتی ہے ۔طرز حیات بہتر ہوگا تو کارخانوں، ٹریفک وغیرہ کے اثرات بھی بھگتنا ہوں گے۔ صفائی نصف ایمان والی بات تو ویسے ہی قصہ پارینہ ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خوشحالی کے باوجود ہم تکلیف دہ زندگی گزار نے پر ہیں ۔پرانے دور میں سہولیات کم تھیں تو مدافعت بھی بہتر تھی۔ اب معاملات حیات میں اعتدال،ٖ فضول خرچی کی روک تھام اور ڈھیر ساری شجر کاری ہمارے مسائل کا دیر پا حل ہیں۔ آٹھ بڑے درخت نہ صرف آکسیجن کی بڑی فیکٹری ہیں بلکہ ایک ائیر کنڈیشنر کے برابر ماحول کو ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں ۔ ایسی قانون سازی لازم ہے کہ ملک میں ہر گھر اپنے سامنے دو درخت لگاکر پروان چڑھائے ورنہ جرمانہ عائد ہو ۔اگر ہم اپنی کاہلی اور مجرمانہ غفلت کی روش نہ بدلی اور صرف بے کار وبے کیف ترقی و خوشحالی میں مست رہے تو واقعی ہم کسی موسم میں خوش رہنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔پھر بہادر شاہ ظفر جیسا بادشاہ اور شاعر کبھی'' ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں‘‘ لکھا کرے گا تو کبھی یوں رقم طراز ہوگا ! ان گرمیوں سے کہہ دو کہیں دور جا پڑیں اتنی سکت کہاں ہے طبعِ ریگزار میں 

جھیل سرال تک مشکل کے بعد حیرت

جھیل سرال تک مشکل کے بعد حیرت

کئی دن برف مزید رکاوٹ بنی رہتی تو ہم وہ تمام جھیلیں اور چراگاہیں دیلھ لیتے جنہیں چھوڑ کر ہم کبھی خلطی جھیل تک چلے جاتے ہیں اور کبھی پھنڈر لیک ہماری منزل ہوتی ہے۔ ناران میں طویل قیام ہمیں جھیل سرال تک لئے جاتا ہے کیونکہ اس سے آگے ہمیں بابوسر کی برف جانے نہیں دیتی۔ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کی حدود پر واقع جھیل سرال اپنے قریب آنے والے سیاحوں کو کئی بار مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ پہلی مشکل تو یہ ہے کہ جھیل سرال تک کیسے پہنچا جائے۔ براستہ ناران یا پھر مظفر آباد سے شاردہ، یہ دوسری مشکل ہے۔ تیسرا امتحان وہاں تک ہائیکنگ کرنا ہے۔ خوبصورت منزل تک پہنچنا جتنا مسرور کرتا ہے اس سے زیادہ لطف تو راستے کی دشواریوں سے ملتا ہے۔ حسن فطرت تک جاتے جاتے جو مراحل طے ہوتے ہیں وہ بھی کم د لکش نہیں ہوتے۔ اسلام آباد سے گلگت جانے والے ہوائی مسافر جانتے ہیں کہ جہازی کپتان جن جھیلوں کا تعارف کرواتا ہے ان میں ایک جھیل سرال بھی ہے جو دن کی روشنی میں نگینے کی طرح گزرتے جاتے مناظر میں سے کچھ لمحے آنکھ میں ٹھہرتی ہے اور پھر اوجھل ہو جاتی ہے۔ یہ جھیل دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی نیلگوں جھیلوں کے درمیان پہاڑی دیواروں کے بیچ یوں رکھی ہوئی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ جڑا ہو۔ جھیل سیف الملوک ، آنسو جھیل ، دودی پت لیک اور رتی گلی کے پہلو میں موجود جھیل سرال اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ ناران سے بابو سر جانے والے سیاح جلکھڈ سے بذریعہ جیپ سرگن تک جا سکتے ہیں۔ سرگن سے نوری ٹاپ ٹریک پر جیپ چھوڑ کر پیدل چلتے ہوئے تین سے چار گھنٹے کی ہائیکنگ کے بعد تیرہ ہزار آٹھ سو فٹ بلند جھیل سرال آپ کے سامنے ہو گی۔جھیل کے ساتھ پہاڑی حصار تیرہ ہزار چھ سو فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں۔ سرال جھیل اور رتی گلی جھیل کے درمیان صرف نوری ٹاپ کا جیپ ٹریک اور پانچ گھنٹے کی پیدل مسافت ہے۔ جھیل سرال سے نانگا پربت کا بیس کیمپ بھی دور نہیں۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے گاؤں شاردہ سے تیتس کلومیٹر جبکہ وادی کاغان کی بستی جل کھڈ سے سترہ کلومیٹر دور یہ جھیل وادی کشمیر کی جھیل تسلیم کی جاتی ہے ، جس کے پاس جو چراگاہیں ہیں وہ ہر وقت گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کا رزق بنتی ہیں۔ قدرتی حسن سے بھرپور یہ جھیل برف لہجوں کے ساتھ اپنے کناروں پر اترنے والے کو خوش آمدید کہتی ہے۔ جون کے آخری ہفتے سے لے کر اگست کے آخری عشرے تک یہ جھیل اپنا نقاب ہٹاتی ہے۔ جھیل کے اطراف میں پھول ایسے کہ انہیں کم انسانی آنکھ نے دیکھا ہو گا اور رنگ اتنے کہ شمار سے باہر۔ جھیل کا بدن دور سے گول مٹول نظر آتا ہے اور قریب سے بے ترتیب بکھر چکا حسن۔ بیشمار جھیلوں کے لمس سے ذرا مختلف احساس اس جھیل کا ہے ، وہ اس لئے کہ یہاں بہت کم لوگ پہنچتے ہیں اور جو پہنچتے ہیں ان کے پاس پھیلانے کیلئے گند بہت کم ہوتا ہے۔ جس جس قدرتی شاہکار کی رسائی عام ہوئی لوگوں نے اس وادی کو دھندلا دیا۔ جھیل سیف الملوک جیسی پاکیزہ لیک کو آلودہ کرنے والے اگر گاڑیاں اور جیپیں لے کر سرال جھیل پہنچ جائیں تو جھیل کے پہلو میں آباد بے شمار رنگوں والے پھولوں کو مسل ڈالیں اور زعفرانی گھاس کچلی جائے۔ پاکستان میں گندگی اور آلودگی سے محفوظ وہی چراگاہیں اور جھیلیں رہ گئی ہیں جہاں تک راستہ آسان نہیں ہے ، ورنہ لوگوں نے تو فیری میڈوز کو بھی ریلوئے سٹیشن کی انتظار گاہ میں بدل ڈالا ہے۔ سرال لیک اب تک اس لئے قدرتی حسن سے مالا مال ہے کہ یہاں تک پہنچنا مشکل اور بدن توڑ کام ہے۔      

سیچوان کاتاریخی خزانہ

سیچوان کاتاریخی خزانہ

چین میں 3ہزار قبل دریائے مین جن کے کنارے سان ژن ژوئی تہذیب آباد تھی۔مشہور ہے کہ اس تہذیب کی نسل نے بھاری خزانہ کہیں چھپا رکھا تھا۔ اس خزانے کا معمولی سا حصہ چین کے صوبے سیچوان (Sichuan) میں بھی دریافت ہوا ہے۔وہاں قیمتی پتھروں ، ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے خوبصورت نمونوں اور کانسی کی اشیاء سے بھرے ہوئے ''صندوق‘‘ملے ہیں۔خزانے کے پہلے حصے کی دریافت 1939ء میں اور پھر 1986ء میں ہوئی تھی۔ ان کے نزدیک یہ نمونے اہم نہیں، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کس نسل نے، کس تہذیب کے لوگوں نے کب بنائے؟ماہرین آثار قدیمہ کواس بارے میںصحیح طور پر کچھ بھی معلوم نہیں۔وہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید ان کا تعلق دریائے من چن پر آباد ترقی یافتہ من چن قوم سے ہو سکتا ہے، دریا کے کنارے ہی انہوں نے ترقی کی پھر اچانک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ وہ کیوں غائب ہوئے ، کوئی نہیں جانتا۔ ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دان اس تہذیب کے خاتمے کی وجوہات کو روایتی جنگوں یا خشک سالی میں تلاش کرتے رہتے ہیں مگر دریا کے قریب آباد قوم قحط کا شکار کیسے ہوئی؟ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ قوم جنگجو قبیلوں پر مشتمل تھی اور علاقائی جنگوں کا شکار ہو کرمر مٹ گئی ۔ چند برس قبل ماہرین نے زلزلے کو بھی اس قوم کی تباہی کی وجہ قرار دیا ہے۔ زلزلوں کے خوفناک جھٹکوں نے دریائے من چن کو لینڈ سلائیڈ سے بھر دیا، یوں یہ قوم یا قبائل پانی کی تلاش میں نقل مکانی کر گئے۔  

آج کا دن

آج کا دن

برطانوی افواج نے ہتھیار ڈالےدوسری عالمی جنگ کے دوران 12جون 1940ء میں برطانیہ اور فرانس کے 13ہزار فوجیوں نے جرمن جرنیل اریرون رومیل جسے صحرائی لومڑی بھی کہا جاتا تھا کہ سامنے ہتھیار ڈا ل دئیے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہتھیار ڈالنے کے بعد افواج کا مورال زوال پذیر ہو گیا۔سینٹ ویلری کے مقام پر جرمنی نے فرانسیسی افواج کو شکست سے دوچار کیا اور اس کے فوراً بعد اس علاقے پر قبضہ کر لیا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران یہ اتحادی افواج کی بہت بڑی شکست تھی۔سری لنکا میں قتل عام12جون 1991ء کو سری لنکا کے مشرقی صوبے کے قصبے بٹیکالوا کے قریب گاؤں کوکڈی چچولائی میں لنکن تامل شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس قتل عام سے سری لنکا میں امن و اما ن کی صورتحال بگڑنے لگی جس کے بعد قتل عام کی تحقیقات کیلئے ایک تحقیقاتی صدارتی کمیشن بنا یا گیا۔ جس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قتل عام کی وجہ کمانڈنگ افسر کی لاپرواہی اور اپنے اہلکاروں کو قابومیں نہ رکھنا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے بعداسے عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔قتل عام میں ملوث دیگر 19 اہلکاروں کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔روس کا قومی دنیومِ روس کو 2002ء سے پہلے ریاستی خودمختاری کے اعلان کو اپنانے کا دن کہا جاتا ہے، ان دن قومی تعطیل بھی منائی جاتی ہے۔ یہ دن 1992 ء سے ہر سال 12 جون کو منایا جاتا ہے۔ 12 جون 1990 کو روسی سوویت فیڈریٹو سوشلسٹ ریپبلک (RSFSR) کے ریاستی خودمختاری کے اعلان کو اپنانے کی یاد میں مناجاتا ہے۔ عوامی نمائندوں کی پہلی کانگریس کے اس اعلامیے کی منظوری نے روسی سوویت ریاست میں آئینی اصلاحات کا آغاز کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس دن جدید روس کی بنیاد رکھی گئی تو بالکل غلط نہ ہو گا۔فرانس کے فضائی حادثاتدو ایئر فرانس ڈگلس ڈی سی ۔4 طیارے جون 1950 میں دو دن کے وقفے سے ایک دوسرے سے چند میل کے فاصلے پر ایک ہی طرح کے حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوئے۔ یہ دو حادثات، 12 اور 14 جون کو اس وقت ہوئے جب طیارے سائیگون سے پیرس جا رہے تھے۔دونوں طیارے کراچی ایئرپورٹ پر رکے تھے اور بحرین جاتے ہوئے سمندر میں گر کر تباہ ہو گئے۔دونوں حادثات میں کل 86 مسافر اور عملہ ہلاک ہوئے۔ 12 جون کو 46 اور 14 جون کو 40افراد ہلاک ہوئے۔12 جون کو 6 اور 14 جون کو 13افراد زندہ بچ گئے ۔

عید کی خریداری خواتین کی سب سے بڑی پریشانی

عید کی خریداری خواتین کی سب سے بڑی پریشانی

عید کا کوئی دوسرا نام سوچا جائے تو وہ خوشی ہی ہو سکتاہے ،چاند رات کے گزرنے کے بعد آنے والی صبح وہ نوید لے کر آتی ہے جسے عید کہا جاتا ہے۔جب چہرے جگمگانے لگتے ہیں،ہتھیلیوں پر مہندی کے گہرے رنگ دیکھے جاتے ہیں، کپڑوں کی بہار اور چمک چہروں پر بھی نظر آنے لگتی ہیں۔بچے،خواتین اور مرد، بڑے ،بوڑھے سبھی اپنے اپنے انداز میںخوشی کے اظہار کے طریقے سوچنے لگتے ہیں۔

موسم گرما کی عید:میک اپ کیساکیا جائے !

موسم گرما کی عید:میک اپ کیساکیا جائے !

ماہ ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی عید کی تیاریوں میں تیزی آجاتی ہے۔عید کے دن ہر کسی کی کوشش اور خواہش یہ ہی ہوتی ہے کہ اس کی ڈریسنگ اورمیک اپ اچھے سے اچھا ہو تاتاکہ وہ سب سے خوبصورت اور الگ نظرآسکیں۔اس لیے آج ہم آپ کوچند ایسی باتیں بتائیں گے جن پر عمل کر کے آپ سب سے الگ اور منفرد نظر آ سکیں گی۔

آج کا پکوان

آج کا پکوان

عید کی خاص بریانی اجزاء: چکن1/2کلو،نمک ایک چائے کا چمچ، لونگ دس سے بارہ عدد،دہی ایک کپ،ثابت گرم مصالحہ دو چائے کے چمچ،ادرک حسبِ ضرورت، کُٹی لال مرچ ایک چائے کا چمچ،ہری الائچی چار عدد،کالی الائچی چار عدد،ٹماٹر دو عدد،ہری مرچ چھ سے آٹھ عدد،کالا زیرہ 1/4 چائے کا چمچ،لہسن حسبِ ضرورت، کھانے کا پیلا رنگ ایک چُٹکی،کیوڑا 1/2چائے کا چمچ،گھی یا تیل ایک کپ،پیاز دوعدد،دودھ حسبِ ضرورت، چاول دو کپ،نمک حسبِ ذائقہ،دار چینی ایک ٹکڑا، لونگ چار عدد

حفیظ تائب :نعت کی شیریں آواز

حفیظ تائب :نعت کی شیریں آواز

کہ آپ اپنا تعارف۔۔۔۔ اُردو کے جدید نعت گو شعرا میں حفیظ تائب کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ان کا اصل نام عبدالحفیظ تھا ۔ وہ 14 فروری 1931ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے نعتیہ مجموعوں میں ’’صلو علیہ و آلہ‘‘، ’’سک متراں دی‘‘، ’’وسلمو تسلیما‘‘، ’’وہی یٰسیں وہی طہٰ‘‘، ’’لیکھ، تعبیر‘‘ اور ’’بہار نعت‘‘ وغیرہ شامل ہیں جبکہ ان کے علاوہ متعدد نثری کتب بھی شامل ہیں، جن میں تحقیق ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی ’’تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘‘عطا کیا تھا۔وہ 12 اور13جون 2004 ء کی درمیانی شب لاہور میں وفات پاگئے اوراسی شہر میں مدفون ہیں۔

توانائی اور معاشی بہتری کیلئے عوام کو بدلنا ہوگا
2023-09-16

توانائی اور معاشی بہتری کیلئے عوام کو بدلنا ہوگا

شرکاء: پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت ،ماہر معاشیات اورڈین کالج آف اکنامکس اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ آئی او بی ایم کراچی۔انجینئر خالد پرویز،چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئرز(آئی ای ای ای پی)۔انجینئر آصف صدیقی،سابق چیئرمین آئی ای ای ای پی ۔پروفیسر ڈاکٹر رضا علی خان، چیئرمین اکناکس اینڈ فنانس این ای ڈی ۔ڈاکٹر حنا فاطمہ ،ڈین بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی۔سید محمد فرخ ،معاشی تجزیہ کار پاکستان اکنامک فورم۔ احمد ریحان لطفی ،کنٹری منیجر ویسٹنگ ہائوس۔

گھریلو ملازمین پر تشدد معاشرتی المیہ،تربیت کی اشدضرورت
2023-09-02

گھریلو ملازمین پر تشدد معاشرتی المیہ،تربیت کی اشدضرورت

شرکاء: عمران یوسف، معروف ماہر نفسیات اور بانی ٹرانسفارمیشن انٹرنیشنل سوسائٹی ۔ اشتیاق کولاچی، سربراہ شعبہ سوشل سائنس محمد علی جناح یونیورسٹی ۔عالیہ صارم برنی،وائس چیئرپرسن صارم برنی ٹرسٹ ۔ ایڈووکیٹ طلعت یاسمین ،سابق چیئرپرسن ویمن اسلامک لائرز فورم۔انسپکٹر حناطارق ، انچارج ویمن اینڈ چائلڈ پرو ٹیکشن سیل کراچی۔مولانا محمود شاہ ، نائب صدرجمعیت اتحادعلمائے سندھ ۔فیکلٹی ارکان ماجو اورطلبہ و طالبات

درسگاہوں کا احترام لازم،پراپیگنڈا خطرناک ہوسکتا ہے
2023-08-16

درسگاہوں کا احترام لازم،پراپیگنڈا خطرناک ہوسکتا ہے

شرکاء:پروفیسر ڈاکٹر طلعت وزارت ماہر تعلیم آئی بی اے ۔ مظہر عباس،معروف صحافی اور تجزیہ کار۔ ڈاکٹر صائمہ اختر،سربراہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹرایس ایم قیصر سجاد،سابق جنرل سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ۔ پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹر مانا نوارہ مختار ،شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ اساتذہ اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز