راہِ ہدایت
اورہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا۔اے پہاڑو!ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم ہے اوران کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا۔ (سورۃ سبا:آیت10)

نوشکی: 9 پنجابی مزدور اغواء کے بعد قتل، گاڑی پر فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، 5 زخمی


نوشکی: (دنیا نیوز) نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے مسافر بس سے پنجاب کے 9 افراد کو اغواء کرنے کے بعد قتل کر دیا جبکہ فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور رکن صوبائی اسمبلی کے بھائی سمیت 5 زخمی ہو گئے ہیں۔



اشتہار

اسلام آباد ،لاہور(اپنے رپورٹرسے ،سیاسی رپورٹرسے ،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) حکومتی اتحاد کے نامزد وپاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی بلا مقابلہ چیئرمین اور مسلم لیگ (ن)کے سیدال خان ناصر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے جنہوں نے اپنے عہدوں کا حلف بھی اٹھا لیا ۔

اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے )ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں زیر سماعت دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں میں وکلاء کے دلائل جاری رہے جبکہ شکایت کنندہ کے وکیل راجہ رضوان عباسی کی عدم پیشی پر ایک بار پھر سماعت ملتوی کردی گئی۔

لاہور (سیاسی رپورٹرسے )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے عیدالفطر پر فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ہر صورت یقینی بنائے جائیں۔

اسلام آباد(خصو صی نیوز رپورٹر ، اے پی پی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے دنیا کی کوئی قوم تعلیم اور شعور کے بغیر ترقی وخوشحالی کی منزل حاصل نہیں کرسکتی جب تک قوم کے کروڑوں بچوں کیلئے تعلیم کابندوبست نہیں کیا جاتا اس وقت تک قائداعظم کے پاکستان کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

متفرقات

عثمانی ترکوں کی بحریہ

عثمانی ترکوں کی بحریہ

تاریخ اسلام میں عربوں کے بعد بحری قوت کو سب سے زیادہ ترقی عثمانی ترکوں نے دی۔ عثمانی مملکت کا آغاز شمالی مغربی ترکی کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جو چاروں طرف خشکی سے گھرا ہوا تھا اس لئے ابتداء میں بحری قوت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ سلطان اور خان (1259ء تا1326ء ) کے زمانے میں جب عثمانی مملکت کی حدود بحیرہ مرمرہ تک پہنچ گئیں تو پہلی مرتبہ عثمانیوں کو بحری بیڑے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کی بحریہ چودھویں صدی عیسوی کے اوائل میں تشکیل دی گئی۔ اس کی سربراہی قیودان پاشا (گرینڈ ایڈمرل) کرتا تھا۔ اس عہدے کو 1867ء میں ختم کر دیا گیا۔1308ء میں بحیرہ مرمرہ میں جزیرہ امرالی کی فتح عثمانیوں کی پہلی بحری فتح تھی۔ 1321ء میں اس کے جہاز پہلی بار جنوب مشرقی یورپ کے علاقے تھریس میں لنگر انداز ہوئے اور بعد ازاں براعظم یورپ میں فتوحات میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ عثمانی بحریہ دنیا کی پہلی بحریہ تھی جس نے بحری جہازوں پر توپیں نصب کیں۔ 1499ء میں لڑی گئی جنگ زونکیو تاریخ کی پہلی بحری جنگ تھی جس کے دوران بحری جہازوں پر لگی توپیں استعمال کی گئیں۔ عثمانی بحریہ نے ہی شمالی افریقہ میں فتوحات کا آغاز کیا اور 1517ء میں الجزائر اور مصر کو سلطنت میں شامل کیا۔ 1538ء میں جنگ پریویزا اور 1560ء میں جنگ جربا بحیرۂ روم میں عثمانی بحریہ کی طاقت اور وسعت کا ثبوت ہیں۔ علاوہ ازیں عثمانی بحری جہازوں نے 1538ء سے 1566ء کے درمیان بحر ہند میں گوا کے قریب پرتگیزی جہازوں کا مقابلہ بھی کیا۔ 1553ء میں عثمانی امیر البحر صالح رئیس نے مراکش اور آبنائے جبل الطارق سے آگے کے شمالی افریقہ کے علاقے فتح کیے اور عثمانی سلطنت کی سرحدیں بحر اوقیانوس تک پہنچا دیں۔ 1566ء میں آچے (موجودہ انڈونیشیا کا ایک صوبہ) کے سلطان نے پرتگیزیوں کے خلاف عثمانیوں کی مدد طلب کی اور خضر رئیس کی قیادت میں ایک بحری بیڑا سماٹرا بھیجا گیا۔ یہ بیڑا 1569ء میں آچے میں لنگر انداز ہوا اور اس طرح یہ سلطنت کا مشرقی ترین علاقہ قرار پایا جو عثمانیوں کی زیر سیادت تھا۔ اگست 1625ء میں مغربی انگلستان کے علاقوں سسیکس، پلائی ماؤتھ، ڈیوون، ہارٹ لینڈ پوائنٹ اور کورن وال پر چھاپے مارے۔ 1627ء میں عثمانی بحریہ کے جہازوں نے جزائر شیٹ لینڈ، جزائرفارو، ڈنمارک، ناروے اور آئس لینڈ تک اور 1627ء سے 1631ء کے دوران آئرستان اور سویڈن تک بھی چھاپے مارنے میں کامیاب ہوئے۔ 1827ء میں جنگ ناوارینو میں برطانیہ، فرانس اور روس کے مشترکہ بحری بیڑے کے ہاتھوں شکست اور الجزائر اور یونان کے کھو جانے کے بعد عثمانی بحریہ کا زوال شروع ہو گیا اور اس طرح سلطنت سمندر پار مقبوضات پر گرفت کمزور پڑتی چلی گئی۔ سلطان عبد العزیز اوّل ( 1861ء تا 1876ء) نے مضبوط بحریہ کی تشکیل کیلئے از سر نو کوششیں کیں اور کثیر سرمایہ خرچ کرنے کے بعد برطانیہ اور فرانس کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا بحری بیڑا تشکیل دیا لیکن زوال پذیر معیشت ان بحری جہازوں کے بیڑے کو زیادہ عرصے برقرار نہ رکھ سکی۔ سلطنتِ عثمانیہ کی بحریہ اٹھارہویں صدی میں جمود کا شکار ہو گئی تھی۔ اس صدی میں جہاں اس بحریہ نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں وہیں اسے بہت سی شکستیں بھی ہوئیں۔ انیسویں صدی میں عثمانی بحریہ کا زوال شروع ہوا۔ تاہم یہ سرگرم رہی۔ جنگ عظیم اوّل میں عثمانی بحریہ نے اکتوبر 1914ء میں بحیرہ اسود میں روسی ساحل پر اچانک حملہ کیا۔ اس کے بعد نومبر میں روس اور اس کے اتحادیوں برطانیہ اور فرانس نے باقاعدہ جنگ شروع کردی۔ جنگ عظیم اوّل میں عثمانی بحریہ خاصی سرگرم رہی۔جدید ترکی کے قیام کے بعد بحریہ کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ عثمانی بحریہ کا امیر قپودان پاشا ( کپتان پاشا) کہلاتا تھا۔ ان میں معروف نام خیر الدین باربروسا، پیری رئیس، حسن پاشا، پیالے پاشا، طرغت پاشا اور سیدی علی عثمانی ہیں۔ بحری فتوحات کے علاوہ ان کے علمی کارنامے بھی نمایاں ہیں۔ 

رمضان کے خصوصی پکوان

رمضان کے خصوصی پکوان

چٹپٹے شامی کباباجزاء:گوشت آدھا کلو،چنے کی دال آدھی پیالی،ادرک دو انچ کا ٹکڑا،لہسن چھ سے آٹھ جوئے،ثابت لال مرچیں دس سے بارہ عدد، سفید زیرہ دو کھانے کے چمچ،پیاز دو عدد درمیانی، دہی دو کھانے کے چمچ، انڈے تین عدد، پسا ہوا ناریل دو کھانے کے چمچ، ہری مرچیں باریک کٹی ہوئی تین سے چار عدد، ہرادھنیا آدھی گھٹی،پودینہ آدھی گھٹی،کوکنگ آئل تلنے کیلئےترکیب: دال کو دھو کردوپیالی گرم پانی میں آدھے گھنٹے کیلئے بھگو کررکھ دیں۔ ناریل، ہرا دھنیا، پودینہ اور ہری مرچوں کی چٹنی پیس لیں۔پین میں دال کو (اسی پانی سمیت جس میں دال کو بھگو کر رکھا گیا تھا) ڈال کر ابالنے رکھ دیں، جب ابال آ جائے تو اوپر سے جھاگ نکال دیں۔اس دال میں گوشت، ادرک، لہسن ، لال مرچیں، زیرہ اورپیاز ڈال دیں۔ اتنی دیر پکائیں کہ گوشت اچھی طرح گل جائے اور پانی مکمل خشک ہو جائے۔ٹھنڈا کرکے پیس لیں اور اس میں دہی، انڈے اور نمک ڈال کر اچھی طرح ملا لیں۔ کباب بناتے ہوئے اس کے درمیان میں ایک چائے کا چمچ چٹنی رکھ کر بنالیں۔دس سے پندرہ منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں پھر فرائنگ پین میں کوکنگ آئل ڈال کردرمیانی آنچ پر تین سے چارمنٹ گرم کریں اور کبابوں کو سنہری فرائی کر لیں۔ ہری مرچوں کی چٹنی کو دہی میں ملا کر رائتہ بنالیں اور گرم گرم کبابوں کے ساتھ پیش کریں۔ گشتابےاجزاء:بکرے کا گوشت ایک کلو، نمک حسب ذائقہ، سونٹھ (خشک ادرک) ایک چائے کاچمچ، کشمیری مرچ ایک عدد، سونفدو چائے کے چمچ،دھینا پسا ہوا ایک چائے کاچمچ، کالی مرچ پسی ہوئی ایک چائے کاچمچ،دہی آدھی پیالی، دودھ ایک پیالی، کھویا آدھی پیالی، چینی ایک چائے کا چمچ، بڑی الائچی تین سے چار عدد،پسا ہوا گرم مصالحہ ایک چائے کاچمچ،بناسپتی گھی تین کھانے کے چمچترکیب: اس ڈش کو بنانے کیلئے چربی والا گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔ گوشت کو دھو کر چھلنی میں رکھ کر اچھی طرح خشک کر لیں۔ پھر اسے چاپر میں ڈال کر اس میںکشمیری مرچ، سونٹھ، دو عدد بڑی الائچی، سونف، دھنیا اور گرم مصالحہ ڈال کر پیسیں۔پیستے ہوئے ساتھ ہی ایک کھانے کا چمچ بناسپتی گھی اور دو کھانے کے چمچ دہی کو تھوڑا تھوڑا کرکے شامل کرتے جائیں۔جب گوشت اچھی طرح پس جائے تو اس میںنمک ملا کراس کے درمیانے سائز کے کوفتے بنائیں اور اسے دس سے پندرہ منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ دہی میں کھویا، نمک، چینی اور کالی مرچ ملا کر رکھ لیں، پین میں بناسپتی گھی کو درمیانی آنچ پر گرم کریں۔اب اس میں الائچی ڈال کر کڑکڑا لیں، پھر اس میں دہی کا مکسچر ڈال کر بھونیں۔ اس میں تھوڑا تھوڑا کرکے دودھ شامل کردیں، جب دودھ کو ابال آنے لگے تو آنچ ہلکی کرکے اس میں کوفتے ڈال دیں۔ ڈھک کر ہلکی آنچ پردم پر رکھ دیں جب دودھ خشک ہو جائے تو ہلکا سا بھون کرچولہے سے اتارلیں۔گرم گرم ڈش میں نکال کر ان مزیدار گشتابے کا لطف اٹھائیں۔ 

مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے

مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے

الخوارزمی غالباًدنیا کا پہلا موجد مقالہ نویسی ہےالرازی نے چیچک پر دنیا کی پہلی کتاب لکھی  یورپ سے کئی سو سال قبل اسلامی دنیا میں گھڑیاں استعمال ہوتی تھیں۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے ہم عصر فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو گھڑی (واٹر کلاک ) تحفہ میں بھیجی تھی۔ محمد ابن علی خراسانی (لقب الساعتی 1185ء) گھڑی بنانے کے ماہر تھے۔ انہوں نے دمشق کے باب جبرون میں ایک گھڑی بنائی تھی۔ اسلامی سپین کے انجینئر المرادی نے ایک واٹر کلاک بنائی جس میں گیئر اور بیلنسگ کیلئے پارے کو استعمال کیا گیا تھا۔ مصر کے ابن یونس نے گھڑی کی ساخت پر رسالہ لکھا جس میں ملٹی پل گیئر ٹرین کی وضاحت ڈایاگرام سے کی گئی تھی۔ جرمنی اور برطانیہ میں گھڑیاںسولہویں صدی میں بننا شروع ہوئی تھیں۔الجبرا پر دنیا کی پہلی شہر آفاق کتاب عراق میں مقیم سائنس دان الخوارزمی (780ء تا 850ء) نے لکھی تھی۔ اس نے 1-9 اور صفر کے اعداد 825ء میں اپنی شاہکار کتاب الجبرو المقابلہ میں پیش کئے تھے۔ اس سے پہلے لوگ حروف استعمال کرتے تھے۔ اس کتاب کے نام سے الجبرا کا لفظ اخذ ہے۔ اس کے تین سو سال بعد اطالین ریاضی داں فیبو ناچی نے الجبرا یورپ میں متعارف کیا تھا۔ الخوارزمی کے نام سے الگورتھم یعنی ایسی سائنس جس میں 9 ہندسوں اور 0 صفر سے حساب نکالا جائے کا لفظ بھی اخذ ہوا ہے۔الخوارزمی غالباًدنیا کا پہلا موجد مقالہ نویسی ہے۔ ہوا یہ کہ اس نے علم ریاضی پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا اور بغداد کی سائنس اکیڈیمی کو بھیج دیا۔ اکیڈیمی کے سائنسدانوں کا ایک بورڈ بیٹھا جس نے اس مقالے کے بارے میں اس سے سوالات کئے۔ اس کے بعد وہ اکیڈیمی کا رکن بنا دیا گیا۔ یونیورسٹیوں میں مقالہ لکھنے کا یہ طریق اب تک رائج ہے۔مصر کے سائنسداں ابن یونس (1009ء950-ء ) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے وقت کی پیمائش کیلئے پینڈولم کو استعمال کیا۔ اسی طریقے پر بعدازاں مکینکل کلاک وجود میں آئی۔ایران کا محقق زکریا الرازی (854ء- 925ء ) دنیا کا پہلا کیمیا دان تھا جس نے سلفیورک ایسڈ تیار کیا جو جدید کیمسٹری کی بنیادی اینٹ تسلیم کیا جا تا ہے۔ اس نے ایتھونول بھی دریافت کیا اور اس کا استعمال ادویات میں کیا۔ اس نے کیمیائی مادوں کی درجہ بندی (نا میاتی اور غیر نا میاتی ) بھی کی۔زکریا ا لرازی پہلا آپٹو میٹر سٹ تھا جس نے بصارت فکر اور تحقیقی انہماک سے نتیجہ اخذ کیا کہ آنکھ کی پتلی روشنی ملنے پر رد عمل ظاہر کرتی ہے۔ الرازی نے اپنے علمی شاہکار کتاب ''الحاوی‘‘ میں گلاؤ کوما کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں اس بیماری کا شکار ہو گیا تھا۔زکریا الرازی نے چیچک پر دنیا کی پہلی کتاب ''الجدری والحسبہ‘‘ لکھی جس میں اس نے چیچک اور خسرہ میں فرق بتلایا تھا۔ وہ ابتدائی طبی امداد (فرسٹ ایڈ) کے طریقے کا اجرا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے عمل جراحی کیلئے ایک خاص آلۂ نشتر بنایا تھا۔ اس نے ادویہ کے درست وزن کیلئے میزانِ طبی ایجاد کیا۔ یہ ایسا ترازو ہے جس سے چھوٹے سے چھوٹا وزن معلوم کیا جا سکتا ہے۔  

آج کا دن

آج کا دن

بوئنگ737نے پہلی اڑان بھری 9اپریل 1967ء کوبوئنگ 737 نے اپنی پہلی اڑان بھری۔ یہ ایک تنگ جسامت والا ہوائی جہاز تھا، جسے بوئنگ کمپنی کی جانب سے واشنگٹن میں تیار کیا گیا۔ فروری 1968ء میں Lufthansa کی طرف سے اسے کمرشل سروس میں شامل کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب لمبی جسامت والا 737 کمرشل سروس میں شامل ہوا۔ یہ چار مختلف اقسام میں تیار کیا گیا۔ جس میں 85 سے 215 مسافروں تک کو لے جانے والی مختلف اقسام مارکیٹ میں پیش کی گئیں۔امریکی اٹامک انرجی کمیشن کا قیام1945ء میںآج کے دن امریکی اٹامک انرجی کمیشن کا قیام عمل میں آیا۔اسے عام طور پر ''AEC‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ایک ایجنسی تھی جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی کانگریس نے ایٹمی سائنس اور ٹیکنالوجی اور امن کو فروغ دینے اور کنٹرول کرنے کیلئے قائم کیا تھا۔ صدر ہیری ایس ٹرومین نے 1946ء میںاٹامک انرجی ایکٹ پر دستخط کیے اور جوہری توانائی کا کنٹرول فوج سے سویلین حکومت کو منتقل کردیا۔یہ حکم یکم جنوری 1947 سے نافذ العمل ہے۔جارجیا نے آزادی کا اعلان کیا9 اپریل 1991ء کو جارجیا نے سوویت یونین سے آزادی کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سوویت یونین کے ٹوٹنے سے کچھ دیر پہلے کیا گیا۔ جارجیا کی سپریم کونسل نے 31 مارچ 1991ء کو منعقدہ ریفرنڈم کے بعد پوری دنیا کے سامنے خود کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے پیش کیا۔26 مئی 1991 ء کو '' زویاد گامسخردیا‘‘ آزاد جارجیا کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ جارجیا مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔جرمنی کاڈنمارک پر قبضہ9 اپریل 1940ء کو جرمنی نے ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کرتے ہوئے ڈنمارک پر قبضہ کر لیا۔ بظاہر یہ حملہ ایک منصوبہ بندی کے مطابق کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ جرمنی نے ناروے پر فرانس اور برطانیہ کے قبضے کو دیکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے حملہ کیا ہے۔اس منصوبے کو ''پلان4R‘‘کا نام دیا گیا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان جغرافیہ، محل وقوع اور آب و ہوا میں نمایاں فرق نے فوجی کارروائیوں کو بھی بہت مختلف بنا دیا۔اس حملے کے دوران جرمنی کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 

عید الفطر:نعمت الہٰی پر شکر اور بخشش کا دن

عید الفطر:نعمت الہٰی پر شکر اور بخشش کا دن

نبی کریم ﷺ نے ماہ رَمضان المبارک کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنَّم سے آزادی کا ہے‘‘ (صحیح ابن خُزَیمہ:1887)۔ معلوم ہوا کہ رمضان المبارک رحمت و مغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینہ ہے، لہٰذا اِس رحمتوں اور برکتوں بھرے مہینے کے فوراً بعد ہمیں عید سعید کی خوشی منانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

عید شکرانہ نعمت

عید شکرانہ نعمت

ہمارا مذہب اسلام ایک جامع اور مکمل دستور حیات ہے جو زندگی کے ہر ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے ۔خوشی و مسرت کا لمحہ ہو یا رنج و الم کا مرحلہ اس کا دامن ہدایت سے خالی نہیں اور اسلام تو خوشیوں کا مذہب ہے۔ یہ خوشی کے لمحات میں مسرت کے اظہار پر کوئی قدغن نہیں لگاتا مگر اتنا ضرور ہے کہ خوشی و شادمانی کے حوالے سے اس کا اپنا ایک خاص زاویہ نظر ہے۔

عید الفطر:مسلمانوں کا عظیم تہوار

عید الفطر:مسلمانوں کا عظیم تہوار

دنیاکے تمام مسلمان خواہ وہ کسی بھی خطے میں رہتے ہوں۔ اجتماعی خوشی عید کا دن عقیدت و احترام سے مناتے ہیں کیونکہ عید الفطرمسلمانوں کاایک مقدس اور عظیم تہوارہے ۔

عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت

عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت

عید الفطر خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ اس دن روزہ رکھنا منع ہے۔ یہ دن کھانے پینے اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا دن ہے۔ خو شی کے اظہار کیلئے چاند رات سے ہی مساجد، بازاروں، راستوں اور گھروں میں تکبیرات بلند کرنی چاہئیں۔ صدقہ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے خواہ اُس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں یا نہیں۔

توانائی اور معاشی بہتری کیلئے عوام کو بدلنا ہوگا
2023-09-16

توانائی اور معاشی بہتری کیلئے عوام کو بدلنا ہوگا

شرکاء: پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت ،ماہر معاشیات اورڈین کالج آف اکنامکس اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ آئی او بی ایم کراچی۔انجینئر خالد پرویز،چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئرز(آئی ای ای ای پی)۔انجینئر آصف صدیقی،سابق چیئرمین آئی ای ای ای پی ۔پروفیسر ڈاکٹر رضا علی خان، چیئرمین اکناکس اینڈ فنانس این ای ڈی ۔ڈاکٹر حنا فاطمہ ،ڈین بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی۔سید محمد فرخ ،معاشی تجزیہ کار پاکستان اکنامک فورم۔ احمد ریحان لطفی ،کنٹری منیجر ویسٹنگ ہائوس۔

گھریلو ملازمین پر تشدد معاشرتی المیہ،تربیت کی اشدضرورت
2023-09-02

گھریلو ملازمین پر تشدد معاشرتی المیہ،تربیت کی اشدضرورت

شرکاء: عمران یوسف، معروف ماہر نفسیات اور بانی ٹرانسفارمیشن انٹرنیشنل سوسائٹی ۔ اشتیاق کولاچی، سربراہ شعبہ سوشل سائنس محمد علی جناح یونیورسٹی ۔عالیہ صارم برنی،وائس چیئرپرسن صارم برنی ٹرسٹ ۔ ایڈووکیٹ طلعت یاسمین ،سابق چیئرپرسن ویمن اسلامک لائرز فورم۔انسپکٹر حناطارق ، انچارج ویمن اینڈ چائلڈ پرو ٹیکشن سیل کراچی۔مولانا محمود شاہ ، نائب صدرجمعیت اتحادعلمائے سندھ ۔فیکلٹی ارکان ماجو اورطلبہ و طالبات

درسگاہوں کا احترام لازم،پراپیگنڈا خطرناک ہوسکتا ہے
2023-08-16

درسگاہوں کا احترام لازم،پراپیگنڈا خطرناک ہوسکتا ہے

شرکاء:پروفیسر ڈاکٹر طلعت وزارت ماہر تعلیم آئی بی اے ۔ مظہر عباس،معروف صحافی اور تجزیہ کار۔ ڈاکٹر صائمہ اختر،سربراہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹرایس ایم قیصر سجاد،سابق جنرل سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ۔ پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹر مانا نوارہ مختار ،شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ اساتذہ اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز