راہِ ہدایت
کہہ دیجئے کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے ۔ (سورۃ الاعراف آیت نمبر188)

پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری و سلامتی کیلئے شانہ بشانہ کھڑا ہے: وزیراعظم


اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کیلئے برادر ملک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔



اشتہار

دیر کالونی کے سکول میں اوپر نیچے تین کلاسز ، 110بچے پڑھ رہے تھے ،ایک چھت دوسری پر گرنے سے عمارت بیٹھ گئی،جاں بحق بچوں کی عمریں 6 سے 14سال کے درمیان،53زخمیتنگ گلیوں کے باعث5گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن، پرنسپل گرفتار، سکول پچھلے سال رجسٹرڈ ،تکنیکی معائنہ نہ ہوا:ذرائع،تحقیقاتی کمیٹی قائم،نماز جنازہ ادا، لواحقین کیلئے 10،10لاکھ امداد کا اعلان

اچکزئی قسم کھا ئیں کیا آپ جیت کر آئے ،سہیل آفریدی نے فوج کیساتھ کھڑاہونا گوارا نہ کیا:وزیر داخلہ،کابل میں چائے کے بعد دہشتگردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی:اسحاق ڈارسیاست پر ریاست کو ترجیح دینی چاہیے :اعظم نذیر،دہشتگردی کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے :طارق فضل،معاہدہ ہوتا تو بانی پی ٹی آئی کی سہولتیں یقینی بناتے :شیری رحمنگورنر راج عوامی مینڈیٹ کیخلاف :ناصر عباس،وہ رپورٹ دکھائیں جس پر حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کیا:علی ظفر، تحریک کے حق میں 214ووٹ،56کی مخالفت،نعرے بازی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پہنچنے پر اپوزیشن لیڈر سے ان کی سیٹ پر ملے

محمود خان اچکزئی ،اختر مینگل سمیت تین لوگ سینئر شہری کی حیثیت سے حکومتی اقدام کوپشاورہائیکورٹ میں چیلنج کرینگے 11اکتوبر کے بعد سہیل آفریدی سے کوئی رابطہ نہیں ،کھوکھلے نعروں اور محض پیشکشوں سے مذاکرات نہیں ہوتے :بیرسٹرگوہر

یونیورسٹی آف ساہیوال کا قیام نواز شریف کی کوششوں کا نتیجہ،اساتذہ کے تباد لے کارکردگی کی بنیاد پر میرٹ پر ہونگے طلبہ کو1 لاکھ الیکٹرک بائیکس دی جا رہیں:ساہیوال یونیورسٹی میں خطاب ، پشاور میں طلبہ کی ہلاکتوں پر اظہارافسوس

احد چیمہ کی چیئرمین اسلامی ترقیاتی بینک ،عالمی بینک کی ایم ڈی سے ملاقات، ایم ایل ون، ایم 6 موٹروے کیلئے معاونت کو سراہا وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف سربراہ سے ملاقات، معاشی اہداف پر عملدرآمد کی یقین دہانی، اے ڈی بی سے ایم ایل ون پر تعاون پر اتفاق

کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے شہدا کیلئے 1کروڑ 70 لاکھ ، ڈی ایس پی ،اے ایس پی شہدا کا معاوضہ ڈھائی کروڑ مقرر گریڈ 18 اور 19 کے شہدا کا معاوضہ 3 کروڑ ، گریڈ 20 اس سے اوپر کے شہداء کے ورثا کو ساڑھے تین کروڑ ملے گا تنخواہوں میں بھی اضافہ ، زخمی اہلکاروں کیلئے 15 لاکھ ،مستقل معذوری پر 50 لاکھ ، پلاٹ کے بجائے رقم دی جائیگی

معاملہ بڑا حساس نوعیت کا ، سارے محکمے بے خبر سو رہے تھے ، کیا حکومت کو نہیں پتا ملک میں کیا چل رہا ، جسٹس عالیہ نیلم عدالت کی ممبر کسٹم کے پیش نہ ہونے پر ناراضی ،15 روز میں تفصیلی پیشرفت اورکابینہ سمری سے متعلق رپورٹ طلب

متفرقات

 کیا مصنوعی ذہانت نے انسانی ذہانت کا مقام حاصل کر لیا ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت نے انسانی ذہانت کا مقام حاصل کر لیا ہے؟

جی پی ٹی 6 آسٹرا اور اے جی آئی کا دعویٰمصنوعی ذہانت کی ترقی نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ایسے نظام جو کبھی صرف سوالات کے جواب دینے یا مختصر تحریریں لکھنے تک محدود تھے اب ریاضی کے پیچیدہ مسائل حل کرنے، سافٹ ویئر تیار کرنے، سائنسی تحقیق میں مدد دینے اور کمپیوٹر پر متعدد مراحل پر مشتمل کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی پس منظر میں اوپن اے آئی کے نئے ماڈل جی پی ٹی 6 آسٹرا (GPT-6 Astra) کے بارے میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے ایک نئے دور یعنی آرٹیفشل جنرل انٹیلی جنس (AGI) کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا جدید اے آئی ماڈلز کی غیر معمولی کارکردگی واقعی انسانی ذہانت جیسی عمومی صلاحیت کا ثبوت ہے یا ہم ابھی ایسے ماڈلز کے دور میں ہیں جو مخصوص حالات میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن حقیقی دنیا کے غیر متوقع مسائل میں ان کی صلاحیتیں محدود ہو سکتی ہیں؟ اے جی آئی کیا ہے؟آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس سے مراد ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو مختلف شعبوں میں سیکھنے، تجزیہ کرنے، نئے مسائل سمجھنے اور حاصل شدہ علم کو نئی صورت حال میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ موجودہ اے آئی ماڈلز بہت سے کاموں میں غیر معمولی مہارت دکھاتے ہیں لیکن کسی ایک یا کئی مخصوص امتحانات میں کامیابی لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ہر طرح کے مسئلے کو انسان کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔تاہم اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے جی پی ٹی 6 آسٹرا کی رونمائی کے موقع پر اس امکان کا اظہار کیا کہ مستقبل میں لوگ موجودہ دور کو AGI کے آغاز کے طور پر یاد کر سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل سافٹ ویئر انجینئرنگ، ریاضی، کمپیوٹر کے خودکار استعمال اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھاتا ہے۔اس کی صلاحیتوں کی مثالوں میں تھری ڈی ڈیزائن کے لیے کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (CAD) کوڈ تیار کرنا، الیکٹرانک سرکٹ بورڈز کی ترتیب میں مدد دینا، تھری ڈی ماڈلز کو ڈیجیٹل ماحول میں تبدیل کرنا اور تحریری ہدایات کی بنیاد پر ویب ایپلی کیشنز تیار کرنا شامل ہیں۔یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ اے آئی اب محض معلومات فراہم کرنے والا نظام نہیں رہی بلکہ ایسے کاموں میں بھی حصہ لے رہی ہے جن کے لیے منصوبہ بندی، مختلف ٹولز کا استعمال اور کئی مراحل کو مربوط کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شاندار بینچ مارک نتائج اور ان کی حقیقتمصنوعی ذہانت کی صلاحیت جانچنے کے لیے مختلف بینچ مارک استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ ایسے معیاری ٹیسٹ ہوتے ہیں جن کے ذریعے ماڈلز کی ریاضی، منطق، پروگرامنگ اور نئے مسائل حل کرنے کی صلاحیت کا موازنہ کیا جاتا ہے۔جی پی ٹی 6 آسٹرا نے ARC-AGI-3 ٹیسٹ میں مخصوص جانچ کے طریقے کے تحت 99.9 فیصد سکور حاصل کیا۔ یہ ٹیسٹ ایسے نئے ماحول میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت جانچتا ہے جہاں نظام کو خود تجربات کرکے قواعد سمجھنے اور اگلا قدم طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بینچ مارکس، شفافیت اور مصنوعی ذہانت پر اعتماداے آئی کی دنیا میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات ماڈل کے نتائج بہتر بنانے کے لیے سوالات کی عبارت، اضافی ہدایات، کمپیوٹنگ وسائل یا سافٹ ویئر کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ اگر ان تبدیلیوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہ کی جائیں تو دوسرے ریسرچرز کے لیے انہی نتائج کو دہرانا اور ان کی درستگی جانچنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس عمل کو Benchmaxxing کہتے ہیں۔ اس سے مراد ٹیسٹ کے طریقوں میں بار بار تبدیلی کرکے زیادہ سے زیادہ سکور حاصل کرنے کی کوشش ہے۔جی پی ٹی 6 آسٹرا کے حوالے سے بھی مختلف ٹیسٹ نتائج اور بعض اعدادوشمار میں تبدیلیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اے جی آئی کے امکانات، خطرات اور مستقبل کی ذمہ داریاںاے آئی کی ترقی کے ساتھ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ ماڈلز اب صرف سوالات کے جواب دینے کے بجائے صارف کی ہدایات کے مطابق متعدد مراحل پر مشتمل کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ صلاحیت تعلیم، تحقیق، صنعت، کاروبار اور روزمرہ زندگی میں نمایاں فوائد پیدا کر سکتی ہے۔لیکن خودمختاری میں اضافے کے ساتھ خطرات بھی بڑھتے ہیں۔ اگر اے آئی کسی ہدایت کو غلط سمجھے، نامکمل معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرے یا مقررہ حدود سے باہر کارروائی کرنے کی کوشش کرے تو نقصان ہو سکتا ہے۔ سائبر سکیورٹی کے شعبے میں طاقتور نظاموں کے غلط استعمال کا خدشہ بھی موجود ہے۔اسی لیے اے آئی کی ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات، واضح اجازتوں، انسانی نگرانی اور مؤثر قانونی و اخلاقی اصولوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

  مستقبل کی گاڑیاں

مستقبل کی گاڑیاں

خودکار ڈرائیونگ، شمسی توانائی اور ایک دوسرے سے رابطہآنے والی دہائی میں ہماری سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آج کے مقابلے میں بالکل مختلف ہو سکتی ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں مگر سٹیئرنگ سنبھالنے اور بار بار بریک لگانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی گاڑی نہ صرف خود راستہ پہچانتی ہے بلکہ آس پاس چلنے والی دوسری گاڑیوں سے بھی رابطے میں رہتی ہے۔ اس کی چھت اور باڈی پر موجود سولر سسٹم سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ ضرورت سے زائد انرجی کو برقی نظام میں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔یہ محض سائنس فکشن کی کہانی نہیں۔ معروف سائنسی ویب سائٹ 'لائیو سائنس‘ پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ان میں سے بعض ٹیکنالوجیز عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ سولر انرجی سے چلنے والی گاڑیاںالیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک چارجنگ کا وقت، بیٹری کی قیمت اور چارجنگ سٹیشنوں کی دستیابی ہے۔سولر انرجی ان مسائل کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔ مستقبل میں گاڑی کی چھت، بونٹ اور دیگر حصوں پر ایسے سولر سیل نصب کیے جا سکتے ہیں جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کریں۔ امریکی کمپنی اپٹیرا نے 2024ء میں ایسی گاڑی کا پروٹوٹائپ پیش کیا تھاجس میں چھت، بونٹ اور دوسرے حصوں پر سولر پینل لگائے گئے تھے۔ کمپنی کے بیان کردہ اندازوں کے مطابق موزوں حالات میں یہ گاڑی روزانہ تقریباً 64 کلومیٹر تک سولر انرجی کی مدد سے سفر کر سکتی ہے جبکہ مکمل چارج پر اس کی بتائی گئی حد تقریباً 640 کلومیٹر ہے۔ ایک اور دلچسپ پیش رفت فوٹو وولٹائک پینٹ ہے۔ مرسڈیز بینز نے 2024ء میں ایسی ٹیکنالوجی پر تحقیق کا ذکر کیا تھا جو گاڑی کی باڈی پر رنگ کی تہہ کے ذریعے سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کر سکے۔ کمپنی کے مطابق لاس اینجلس جیسے دھوپ والے شہر میں اس سے سالانہ تقریباً 12 ہزار کلومیٹر کے سفر کے مساوی توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ آپس میں بات کرتی گاڑیاںمستقبل کی گاڑیوں میں ایک اہم تبدیلی ان کا باہمی رابطہ ہو گا۔ گاڑی سے گاڑی اور گاڑی سے سڑک کے نظام تک رابطے کی ٹیکنالوجی کوV2VاورV2X کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے گاڑیاں اپنی رفتار، سمت اور بریک لگانے جیسی معلومات ایک دوسرے تک پہنچا سکتی ہیں۔ بعض موجودہ نظام مختصر فاصلے کے ریڈیو سگنلز کے ذریعے تقریباً 300 میٹر تک معلومات پہنچا سکتے ہیں حتیٰ کہ ایسی گاڑیوں سے بھی جو ڈرائیور کو براہ راست دکھائی نہ دے رہی ہوں۔اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں اسے استعمال کریں اور مختلف کمپنیوں کے نظام ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں۔ خودکار ڈرائیونگ: ڈرائیور کی ذمہ داری کتنی کم ہو گی؟مصنوعی ذہانت، کیمروں، ریڈار اور کمپیوٹرز کی مدد سے گاڑیاں اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور راستے کا فیصلہ کرنے کے قابل ہو رہی ہیں۔ آج بھی کئی گاڑیوں میں لین سے باہر نکلنے کی وارننگ اور خودکار رفتار برقرار رکھنے جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ اگلے دس سالوں میں ایسی خصوصیات مزید بہتر ہو سکتی ہیں۔مکمل خودکار گاڑی پیدل چلنے والوں، اچانک سامنے آنے والی رکاوٹوں، تعمیراتی کام اور سڑک پر غیر متوقع حالات کو پہچاننے کی کوشش کرے گی۔ بعض نظام ڈرائیور کی آنکھوں اور سر کی حرکت پر بھی نظر رکھیں گے تاکہ غفلت یا تھکن کی صورت میں اسے خبردار کیا جا سکے۔ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق مخصوص علاقوں اور حالات میں وسیع خودکار صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں 2035ء تک مارکیٹ کا تقریباً چار فیصد ہو سکتی ہیں۔امکانات اور چیلنجزپاکستان جیسے ممالک کے لیے ان ٹیکنالوجیز کی اہمیت خاص طور پر زیادہ ہے۔ یہاں پٹرول اور ڈیزل پر انحصار، فضائی آلودگی، ٹریفک حادثات اور بڑے شہروں میں ٹریفک جام اہم مسائل ہیں۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں الیکٹرک بسوں، ٹیکسیوں اور سرکاری گاڑیوں سے آغاز نسبتاً عملی قدم ہے۔پاکستان میں دھوپ کی وافر دستیابی سولر چارجنگ کے لیے ایک بڑا موقع ہے لیکن گاڑی کی باڈی پر لگے پینلز ہر وقت پوری توانائی فراہم نہیں کر سکتے۔ موسم، گردوغبار، پارکنگ کا سایہ، گاڑی کا استعمال اور بیٹری کی گنجائش نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے گھر، دفتر اور عوامی مقامات پر شمسی چارجنگ سٹیشنز بھی اہم ہوں گے۔اسی طرح خودکار گاڑیوں کے لیے واضح قوانین، معیاری سڑکیں، قابل اعتماد انٹرنیٹ یا مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور تربیت یافتہ تکنیکی عملہ درکار ہو گا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ حادثے کی صورت میں ذمہ داری ڈرائیور، گاڑی بنانے والی کمپنی یا سافٹ ویئر فراہم کرنے والے پر کیسے عائد ہو گی۔

آج کا دن

آج کا دن

معرکہ ہیسٹنگزمعرکہ ہیسٹنگز انگلستان کی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جنگ انگلستان کے بادشاہ ہیرلڈ دوم کی فوج اور نارمنڈی کے ڈیوک ولیم کی افواج کے درمیان لڑی گئی۔1066ء میں انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ دی کنفیسر کی وفات کے بعد تخت کی جانشینی کا تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ہیرلڈ دوم نے بادشاہت سنبھالی لیکن ولیم آف نارمنڈی نے بھی انگلستان کے تخت پر اپنا حق جتایا۔ 14 اکتوبر کو دونوں افواج موجودہ مشرقی سسیکس کے علاقے میں آمنے سامنے آئیں۔ اس فتح کے نتیجے میں ولیم نے انگلستان پر اپنی حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کی اور دسمبر 1066ء میں بادشاہ بن گیا۔ آواز کی رفتار سے تیز پرواز 14 اکتوبر 1947ء کو فضائی تاریخ میں ایک انقلابی کامیابی ہوئی جب امریکی پائلٹ چک ییگر نے تجرباتی راکٹ طیارے بیل ایکس-1 میں پرواز کرتے ہوئے آواز کی رفتار عبور کی۔ اس کامیابی نے تیز رفتار طیاروں کی تحقیق کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ چک ییگر نے اس طیارے میں کیلیفورنیا کے راجرز ڈرائی لیک کے اوپر پرواز کی۔ یہ کامیابی صرف ایک پائلٹ کا ریکارڈ نہیں تھی بلکہ جدید فضائی انجینئرنگ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تھی۔ اس نے یہ ثابت کرنے میں مدد دی کہ مناسب ڈیزائن، طاقتور انجنوں اور سائنسی تحقیق کے ذریعے سپرسونک پرواز ممکن ہے۔ اس کے بعد فوجی طیاروں، تجرباتی جہازوں اور بالآخر مسافر طیاروں کی تیز رفتار پرواز سے متعلق تحقیق کو نئی تحریک ملی۔ مارٹن لوتھر کنگ ، نوبیل انعام 14 اکتوبر 1964ء کو نسلی امتیاز کے خلاف پرامن جدوجہد کے اعتراف میں امریکی شہری حقوق کی تحریک کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو امن کے نوبیل انعام کے لیے منتخب کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر امریکا میں سیاہ فام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے۔ ان کی تقریر ''آئی ہیو اے ڈریم‘‘ نے نسلی مساوات کے مطالبے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔14 اکتوبر 1964ء کو امن کے نوبیل انعام کے اعلان نے ان کی جدوجہد کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 35 برس تھی۔انعام کی باقاعدہ تقریب دسمبر میں اوسلو، ناروے میں منعقد ہوئی۔ کنگ نے انعام کی رقم بھی شہری حقوق کی تحریک کے لیے وقف کر دی۔ کیوبا میزائل بحران 14 اکتوبر 1962ء کوسرد جنگ اور جوہری تصادم کا خطرہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی جاسوس طیارے یو2 نے کیوبا میں سوویت میزائل تنصیبات کی تصاویر حاصل کیں۔ ان شواہد نے اس بحران کو جنم دینے میں بنیادی کردار ادا کیا جس نے دنیا کو جوہری جنگ کے قریب پہنچا دیا۔ ان تصاویر کا تجزیہ کرنے کے بعد امریکی حکام کو کیوبا میں سوویت جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کی موجودگی کے شواہد ملے۔ کئی دن تک امریکا اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی برقرار رہی اور جوہری جنگ کا خطرہ حقیقی محسوس ہونے لگا۔ بالآخر سفارتی مذاکرات کے نتیجے میں سوویت یونین نے کیوبا سے میزائل ہٹانے پر اتفاق کیا جبکہ امریکا نے کیوبا پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ڈیزرٹ فاکس کی موت 14 اکتوبر 1944ء کو جرمن فیلڈ مارشل ایرون رومیل جو ڈیزرٹ فاکس کے نام سے مشہور تھا، ہٹلر کے خلاف سازش کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں خودکشی کر کے ہلاک ہوا۔ایرون رومیل دوسری عالمی جنگ کے معروف جرمن فوجی کمانڈروں میں شامل تھا۔ شمالی افریقہ کی مہم میں اس کی فوجی حکمت عملی اور تیز رفتار کارروائیوں کے باعث اسے ڈیزرٹ فاکس کا لقب دیا گیا۔ جون 1944ء میں اتحادی افواج نے فرانس کے نارمنڈی ساحل پر اتر کر مغربی یورپ میں جرمن قبضے کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی۔ اسی سال 20 جولائی کو ہٹلر کو قتل کرنے کی ناکام سازش کے بعد جرمن حکومت نے فوجی اور سیاسی حلقوں میں وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دیں۔رومیل کی موت فوجی قیادت، سیاسی وفاداری اور آمریت کے دباؤ پر تاریخی بحث کا موضوع ہے۔

پراسرار ذرات کی کھوج

پراسرار ذرات کی کھوج

فرانسس ہالزن کی تحقیق، کائنات کو سمجھنے کی کوشش 2026 ء کا فزکس کانوبل انعام امریکی یونیورسٹی وسکانسن میڈیسن سے وابستہ بیلجیئم نژاد پروفیسر فرانسس ہالزن کو دیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز انٹارکٹیکا میں قائم آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی تیاری اور کائناتی ماخذ رکھنے والے انتہائی توانائی کے حامل نیوٹرینو ذرات کی دریافت میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔ ان کی تحقیق نے سائنسدانوں کو کائنات کے ان گوشوں کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جہاں تک روایتی دوربینوں کی رسائی محدود ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے انسان نے کائنات کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے دور دراز علاقوں سے آنے والے انتہائی چھوٹے ذرات کا سراغ لگانے کا ایک نیا طریقہ حاصل کیا ہے۔ نیوٹرینو کیا ہیں اور ان کی دریافت کیوں اہم ہے؟نیوٹرینو انتہائی چھوٹے بنیادی ذرات ہیں جو برقی چارج نہیں رکھتے اور ان کی کمیت بھی نہایت معمولی ہوتی ہے۔ یہ ذرات سورج، دوسرے ستاروں اور کائنات میں ہونے والے انتہائی توانائی بخش واقعات کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ذرات ہمارے جسم اور زمین میں سے گزرتے ہیں لیکن ہمیں ان کا احساس نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیوٹرینو عام مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ روشنی کے ذرات یا برقی چارج رکھنے والے ذرات کے برعکس نیوٹرینو کائنات میں طویل فاصلے طے کرتے ہوئے گیس، گردوغبار اور دوسرے مادے سے تقریباً غیر متاثر رہ سکتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں سائنسی تحقیق کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی دور دراز کہکشاں کے مرکز میں بلیک ہول کے گرد مادہ انتہائی تیزی سے حرکت کر رہا ہو تو وہاں پیدا ہونے والی روشنی اور دوسری شعاعیں گردوغبار یا گرم مادے میں جذب ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس وہاں پیدا ہونے والے نیوٹرینو نسبتاً آسانی سے باہر نکل کر زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے منبع اور وہاں ہونے والے طبیعی عمل کے بارے میں معلومات اپنے ساتھ لاتے ہیں۔تاہم ان ذرات کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہ شاذونادر ہی کسی دوسرے ذرے سے ٹکراتے ہیں۔ اسی لیے سائنسدانوں کو ایسے غیر معمولی بڑے آلات کی ضرورت پڑی جو بہت بڑی مقدار میں مادے کے اندر ان کے انتہائی نایاب تعاملات کو ریکارڈ کر سکیں۔ آئس کیوب آبزرویٹری، برف میں چھپی ہوئی ایک عظیم تجربہ گاہفرانسس ہالزن کی نمایاں سائنسی بصیرت یہ تھی کہ انٹارکٹیکا کے جنوبی قطب پر موجود صاف اور گہری برف کو نیوٹرینو کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 1980 ء کی دہائی کے آخر میں اس تصور پر کام شروع کیا۔ بعد ازاں اس خیال کو عملی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر طویل تحقیق، انجینئرنگ اور مالی وسائل درکار ہوئے۔اس منصوبے کا نتیجہ آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی صورت میں سامنے آیا جس کی تعمیر 2011ء میں مکمل ہوئی۔ یہ دنیا کے منفرد ترین سائنسی آلات میں سے ایک ہے۔ اس کے تقریباً ایک مکعب کلومیٹر کے حجم میں پھیلی ہوئی برف کے اندر پانچ ہزار سے زیادہ حساس سینسر نصب ہیں۔ یہ سینسر سطح زمین سے تقریباً 1450 سے 2450 میٹر کی گہرائی میں موجود ہیں۔ برف نیوٹرینو کو کیسے پکڑ سکتی ہے؟جب کوئی نیوٹرینو انتہائی کم امکان کے باوجود برف میں موجود کسی ایٹمی نیوکلیس یا دوسرے ذرے سے تعامل کرتا ہے تو اس عمل کے نتیجے میں دوسرے چارج شدہ ذرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات برف میں سفر کرتے ہوئے ایک مخصوص قسم کی نیلی روشنی خارج کرتے ہیں جسے چیرینکوف روشنی کہا جاتا ہے۔ آبزرویٹری میں نصب سینسر اس روشنی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ سائنسدان ان روشنی کے سگنلز کے وقت، سمت اور شدت کا تجزیہ کرکے اندازہ لگاتے ہیں کہ نیوٹرینو کہاں سے آیا، اس کی توانائی کتنی تھی اور اس نے کس قسم کا تعامل کیا۔ نیوٹرینو کی دریافت نے کیا بدلا؟آئس کیوب آبزرویٹری نے 2013ء میں دور دراز کائناتی ذرائع سے آنے والے انتہائی توانائی کے حامل نیوٹرینو کی موجودگی کے شواہد پیش کیے۔ یہ کامیابی نیوٹرینو فلکیات کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس کے بعد سائنسدانوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ صرف روشنی یا دوسری برقی مقناطیسی شعاعوں کی مدد سے نہیں بلکہ نیوٹرینو کے ذریعے بھی کائنات کا مطالعہ کریں۔ 2026ء کا نوبل انعام اسی سائنسی بصیرت، قیادت اور نیوٹرینو فلکیات کے میدان میں ان کے فرانسس ہالزن کے کردار کا اعتراف ہے۔یہ دریافت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات کے راز صرف روشنی سے نہیں کھلتے۔ نیوٹرینو کی مدد سے سائنسدان اب ان دور دراز مقامات کا مطالعہ کر سکتے ہیں جہاں کائنات کے انتہائی توانائی بخش واقعات جنم لیتے ہیں۔ مستقبل میں یہ تحقیق بلیک ہولز، کہکشاؤں اور کائنات کی بنیادی طبیعیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔

حکمرانی ایک عظیم امانت!

حکمرانی ایک عظیم امانت!

احادیث نبویﷺ کی روشنی میں حقوقِ رعایا اور اعلیٰ قیادت کے رہنما اصول مسلمان پر سننا اور حکم بجا لانا واجب ہے خواہ وہ کام اسے پسند ہو یا نہ پسند، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے(صحیح مسلم) خبردار ! تم سب راعی ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا(صحیح بخاری)

عمرہ کی فضیلت روحانی برکات

عمرہ کی فضیلت روحانی برکات

’’اور اللہ کیلئے حج اور عمرہ پورا کرو‘‘ (سورۃ البقرہ:196) عمرہ صرف سفر نہیں، توبہ، عبادت اور اصلاحِ زندگی کا ایک عظیم موقع ہے ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں(صحیح بخاری)

مساجد سے محبت، جنت کی بشارت

مساجد سے محبت، جنت کی بشارت

’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کیلئے اُس سے (بھی) زیادہ وسیع گھر تیار فرماتے ہیں‘‘(صحیح بخاری و مسلم) ’’نبی کریمﷺ نے اِس بات کا حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اُن کی صفائی کی جائے اور اُنہیں معطر رکھا جائے‘‘(ابو دائود، ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

مسائل اور ان کا حل

لے پالک شرعاً وارث نہیں ہوتا سوال: کیا قرآن وسنت کی روشنی میں لے پالک کو اپنی جائیداد سے حصہ دینا مناسب ہے؟اگر دے دیا ہو اور بھائیوں کو محروم کیا گیا ہو اور بھائی اعتراض کر رہے ہوں تو کیا حکم ہے؟ جبکہ قانون یہ ہے کہ بیٹا نہ ہو تو بیٹیوں کو حصہ دے کر باقی جائیداد بھائیوں کو جاتی ہے، اس طرح بھائیوں کو بھی لاوارث کیا گیا، شریعت کے مطابق مسئلہ کا حل بتا دیں۔ (عرفان، شیخوپورہ)

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز