واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کے قریب ہے۔
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کے قریب ہے۔
رپورٹر کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے پہلے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا امکان نہیں ، پھر دوبارہ فون کر کے کہا اب یہ زیادہ ممکن ہے پکی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن خالی رکھے ہوئے ہیں:ایرانی ذرائع ، دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد واپس آنے کی دعوت دیدی گئی
شام 5 سے رات 1بجے تک سوا 2گھنٹے لوڈشیڈنگ ،بروقت اقدامات نہ کرتے تو بجلی 5 سے 6 روپے یونٹ مہنگی ہوجاتی :ترجمان پاور ڈویژن ، اسلام آباد سمیت پنجاب میں بدترین بندشایل این جی کی سپلائی رک گئی، گیس کی قلت ، بندش کا دورانیہ 20گھنٹے ہوگیا، راولپنڈی ،لاہور،شیخوپورہ، سرگودھا،فیصل آباد ،گجرات،اوکاڑہ ، قصور اور دیگر شہروں میں شہری پریشانی کاشکار
مشرق وسطیٰ جنگ نے عالمی معیشت کو متاثر کیا،پاکستان میں مہنگائی 7اعشاریہ2 فیصد تک جا سکتی :رپورٹ
3500 روپے من گندم خریداری شروع کرنیکی ہدایت ، 72گھنٹے کے اندر کاشتکار کو ادائیگی ضروری قرار خصوصی اجلاس میں ایس ایل فور لاہور رنگ روڈ منصوبہ و دیگر پراجیکٹس کی منظوری، 30جون تک تکمیل کا حکم
راولپنڈی (خبر نگار)بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی جبکہ بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہو سکی ۔ علیمہ خان اور کارکنوں نے فیکٹری ناکے پر چھ گھنٹے سے زائد دھرنا دیا،پولیس نے 10 کارکنوں کو پکڑنے کے بعدرات گئے رہا کر دیا ۔
11ملزم نامزد،3اشتہاری قرار،57صفحات کا چالان آج پیش کیے جانیکا امکان190 ملین پاؤنڈ میں عمران وبشریٰ کی سزا معطلی درخواستیں، سماعت کیلئے کوششیں
پاکستان نے پھر دنیا پر اپنی امن پسند ساکھ ثابت کر دی :صدرزرداری عوامی خدمت کے ایجنڈا کو مزید تیزی سے آگے بڑھا ئیں:شہباز شریف
کراچی سے صرف ایک دو بندے اٹھالیں تو پتہ چل جائیگا کہ یہ دولت کیسے منتقل ہوئی ،محسن نقوی منی لانڈرنگ پر معافی نہیں،تاجروں کے تحفظات دور کرینگے ،دنیا میں پاکستان جیسا منافع کوئی نہیں دیتا، ایف پی سی سی آئی میں خطاب
بیساکھی برصغیر کی ایک قدیم اور رنگا رنگ تہذیبی و مذہبی روایت ہے جو ہر سال اپریل کے وسط میں منائی جاتی ہے۔ یہ تہوار خاص طور پر پنجاب کے خطے میں نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور اس کی جڑیں زرعی، ثقافتی اور مذہبی روایات میں گہرائی تک پیوست ہیں۔ بیساکھی نہ صرف سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے ایک اہم دن ہے بلکہ یہ کسانوں کے لیے بھی خوشی کا موقع ہوتا ہے کیونکہ اس دن ربیع کی فصل، خاص طور پر گندم کی کٹائی مکمل ہوتی ہے۔بیساکھی دراصل فصلوں کا تہوار ہے جو بہار کے موسم میں نئی پیداوار کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ بیساکھی کا لفظ دیسی مہینے بیساکھ سے نکلا ہے جسے نئے سال کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یوں یہ دن ایک نئے دور، نئی امیدوں اور خوشحالی کی علامت بن جاتا ہے۔بیساکھی کی اہمیت مختلف طبقات کے لیے مختلف ہے۔ کسانوں کے لیے یہ دن محنت کے صلے کے طور پر منایا جاتا ہے جب وہ اپنی فصل کاٹ کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ خوشی، شکرگزاری اور جشن کا موقع ہوتا ہے۔سکھ برادری کے لیے بیساکھی کی مذہبی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ 1699ء میں اس دن سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھی تھی۔ اس واقعے نے سکھ مذہب کو ایک نئی شناخت اور قوت عطا کی۔ خالصہ پنتھ کے قیام کا مقصد سکھوں کو ایک منظم، باہمت اور خودمختار قوم بنانا تھا ۔تاریخی پس منظربیساکھی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور اس کا تعلق قدیم ہندوستانی تہذیب سے ہے۔ ابتدا میں یہ ایک زرعی تہوار تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مذہبی رنگ بھی شامل ہوتا گیا۔ سکھ تاریخ میں 1699ء کی بیساکھی کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جب آنند پور صاحب میں ایک عظیم اجتماع کے دوران گرو گوبند سنگھ نے پانچ پیاروں کو منتخب کیا اور خالصہ پنتھ کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ بیساکھی کا دن برصغیر کی تاریخ میں ایک اور اہم واقعے سے بھی جڑا ہے۔ 1919ء میں اسی دن جلیانوالہ باغ میں قتل عام کا اندوہناک واقعہ پیش آیا جب برطانوی فوج نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کر کے سینکڑوں افراد کو شہید کر دیا۔ اس سانحے نے آزادی کی تحریک کو مزید تقویت دی اور بیساکھی کے دن کو ایک دردناک یادگار بھی بنا دیا۔ بیساکھی کی اہمیت کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔یہ دن کسانوں کے لیے خوشی اور جشن کا موقع ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی محنت کا پھل حاصل کرتے ہیں۔ گندم کی سنہری فصلیں جب کھیتوں میں لہلہاتی ہیں تو یہ منظر خوشحالی کی علامت بن جاتا ہے۔ سکھ برادری کے لیے یہ دن نہایت مقدس ہے۔ گردواروں میں خصوصی دعائیں، کیرتن اور لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لوگ روحانی سکون حاصل کرنے کے لیے عبادات میں مصروف رہتے ہیں۔ ثقافتی اہمیتبیساکھی پنجاب کی ثقافت کا آئینہ دار ہے۔ اس دن لوگ روایتی لباس پہنتے ہیں، بھنگڑا اور گِدا جیسے رقص کرتے ہیں اور لوک گیت گاتے ہیں۔ میلوں ٹھیلوں کا انعقاد ہوتا ہے جہاں مختلف کھیل، کھانے اور ثقافتی سرگرمیاں پیش کی جاتی ہیں۔آج کے دور میں بیساکھی کی ثقافتجدید دور میں بیساکھی کی ثقافت نے ایک عالمی شکل اختیار کر لی ہے۔ پاکستان،بھارت، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں جہاں بھی پنجابی اور سکھ برادری آباد ہے وہاں یہ تہوار بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔پاکستان میں خاص طور پر ننکانہ صاحب اور حسن ابدال جیسے مقامات پر سکھ یاتری بڑی تعداد میں آتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اس موقع پر خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ زائرین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔بیساکھی کے میلوں میں روایتی کھانے جیسے مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ، لسی اور مٹھائیاں خاص طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ نوجوان نسل اس تہوار کو اپنی ثقافت سے جڑنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتی ہے جبکہ بزرگ اس میں اپنی روایات کی جھلک محسوس کرتے ہیں۔سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور نے بھی بیساکھی کی تقریبات کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ لوگ اپنی خوشیوں، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اس تہوار کو دنیا بھر میں متعارف کراتے ہیں جس سے ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔بیساکھی ایک ایسا تہوار ہے جو صرف ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایت، محنت کی قدر، مذہبی عقیدت اور ثقافتی رنگینیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی میں محنت، شکرگزاری اور اتحاد کتنے اہم ہیں۔ آج کے جدید دور میں بھی بیساکھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہے اور مختلف ثقافتوں کو قریب لانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔
کیا ہماری ڈیجیٹل سکیورٹی خطرے میں ہے؟سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث تیزی سے زور پکڑ رہی ہے کہ کوانٹم کمپیوٹرز کیاانکریپشن(Encryption) کو توقع سے کہیں زیادہ جلد توڑ سکتے ہیں؟ حالیہ سائنسی رپورٹس اور تحقیقاتی مضامین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ وقت جسے ماہرینQ-Day کہتے ہیں، ہماری توقع سے کہیں زیادہ قریب آ سکتا ہے۔موجودہ انکرپشن کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟آج کی ڈیجیٹل دنیا،چاہے وہ بینکنگ ہو، سوشل میڈیا، ای میلز یا آن لائن خریداریزیادہ تر پبلک کی کرپٹوگرافی پر انحصار کرتی ہے۔ اس میں RSA اورElliptic curve جیسے طریقے شامل ہیں۔ ان کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک پیچیدہ ریاضیاتی مسئلہ کو حل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے خاص طور پر جب اعداد بہت بڑے ہوں۔روایتی کمپیوٹرز کے لیے ایسے مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ہیکر کسی بینک کے سسٹم کو توڑنے کی کوشش کرے تو اسے اربوں سال لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اعتماد کے ساتھ آن لائن لین دین کرتے ہیں۔کوانٹم کمپیوٹرز کیوں مختلف ہیں؟کوانٹم کمپیوٹرز روایتی کمپیوٹرز سے بالکل مختلف اصولوں پر کام کرتے ہیں۔ عام کمپیوٹرز بِٹس استعمال کرتے ہیں جو یا تو 0 ہوتے ہیں یا 1۔ لیکن کوانٹم کمپیوٹرز کیوبٹس (Qubits) استعمال کرتے ہیں جو بیک وقت 0 اور 1 دونوں حالتوں میں ہو سکتے ہیں۔ اس خصوصیت کو سپرپوزیشن کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ کوانٹم کمپیوٹرز اینٹینگلمنٹ نامی خاصیت بھی رکھتے ہیں جس کے ذریعے مختلف کیوبٹس ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں اور پیچیدہ حسابات کو بیک وقت انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کچھ مخصوص مسائل کو انتہائی تیزی سے حل کر سکتے ہیں۔اصل خطرہ کہاں ہے؟کوانٹم کمپیوٹرز کی سب سے بڑی طاقتShor's algorithm جیسے الگورتھمز میں ہے جو بڑی عددی فیکٹرائزیشن کو بہت کم وقت میں حل کر سکتے ہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس پر موجودہ انکرپشن سسٹمز کی بنیاد ہے۔ماضی میں ماہرین کا خیال تھا کہ اس سطح کی طاقت حاصل کرنے کے لیے لاکھوں کیوبٹس درکار ہوں گے لیکن نئی تحقیق نے یہ اندازہ بدل دیا ہے۔ اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ صرف 10,000 سے 100,000 کیوبٹس ہی کافی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ کوانٹم کمپیوٹرز ہماری توقع سے کہیں پہلے اس قابل ہو سکتے ہیں۔Q-Day کیا ہے؟Q-Dayوہ دن، جب کوانٹم کمپیوٹرز موجودہ انکرپشن کو توڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کچھ نئی پیش گوئیوں کے مطابق یہ دن 2029 ء سے 2032ء کے درمیان آ سکتا ہے۔اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات بہت وسیع ہوں گے۔اس سے بینکنگ سسٹمز خطرے میں پڑ سکتے ہیں،حکومتی اور فوجی راز افشا ہو سکتے ہیں کرپٹو کرنسی، جیسے بٹ کوائن کی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے،انٹرنیٹ پر محفوظ مواصلات غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔Harvest now, decrypt later(HNDL)کا خطرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہیکرز آج ہی انکرپٹڈ ڈیٹا کو چوری کر کے محفوظ کر سکتے ہیں اور جب کوانٹم کمپیوٹرز دستیاب ہوں گے تو اسے آسانی سے ڈی کرپٹ کر لیں گے۔یعنی آج جو معلومات محفوظ سمجھی جا رہی ہیں وہ مستقبل میں غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اس میں سرکاری دستاویزات، مالی ریکارڈز اور ذاتی ڈیٹا شامل ہو سکتا ہے۔کیا فوری خطرہ ہے؟فی الحال کوانٹم کمپیوٹرز ابھی اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ عملی طور پر بڑے پیمانے پر انکرپشن کو توڑ سکیں۔ موجودہ کوانٹم مشینیں محدود صلاحیت رکھتی ہیں اور ان میں بہت سی تکنیکی رکاوٹیں موجود ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور حکومتیں اس میدان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں جس سے یہ پیش رفت تیزی سے ممکن ہو سکتی ہے۔حل کیا ہے؟خوش آئند بات یہ ہے کہ سائنسدان اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ ایک نیا میدان Post-quantum cryptography(PQC)کے نام سے ابھر رہا ہے۔ اس میں ایسے انکرپشن سسٹمز تیار کیے جا رہے ہیں جو کوانٹم حملوں کے خلاف محفوظ ہوں۔امریکہ اور دیگر ممالک میں اس حوالے سے نئے سٹینڈرڈز بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ڈیجیٹل سکیورٹی کو برقرار رکھا جا سکے۔کوانٹم کمپیوٹرز بلاشبہ مستقبل کی ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہیں لیکن ان کے ساتھ جڑے نئے خطرات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دنیا اس خطرے سے آگاہ ہو چکی ہے اور اس کے حل کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ تاہم وقت گزرتا جا رہا ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ہماری ڈیجیٹل دنیا کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے اور اس دوڑ کا نتیجہ ہماری ڈیجیٹل زندگیوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
میکڈونلڈز کی پہلی فرنچائز15 اپریل 1955ء کو رے کراک نے میکڈونڈلڈز کی پہلی فرنچائز امریکی ریاست الینوائے میں ڈیس پلینزمیں قائم کی۔ اگرچہ میکڈونلڈز کی بنیاد 1940ء میں رچرڈ اور مورس میکڈونلڈ نے رکھی تھی لیکن اس کی عالمی کامیابی کا سہرا رے کراک کے سر جاتا ہے۔رے کراک نے اس کاروباری ماڈل کو ایک منظم فرنچائز سسٹم میں تبدیل کیا۔ ان کی حکمت عملی میں تیز سروس، محدود مینو اور کم قیمتیں شامل تھیں۔ اس نے فاسٹ فوڈ انڈسٹری کی شکل بدل دی اور جدید کاروباری فرنچائزنگ ماڈل کو فروغ دیا۔اپالو 13 مشن کی واپسی15 اپریل 1970ء کو ناسا کا خلائی مشن اپالو 13 ایک بڑے حادثے سے بچتے ہوئے زمین کی طرف واپسی کے لیے اہم مرحلے میں داخل ہوا۔ یہ مشن 11 اپریل کو چاند کی طرف روانہ ہوا تھا مگر 13 اپریل کو ایک آکسیجن ٹینک میں دھماکے کے باعث شدید مسائل کا شکار ہو گیا۔خلاباز جم لوول، جیک سویگرٹ اور فریڈ ہائز نے انتہائی محدود وسائل میں اپنی جان بچانے کے لیے غیر معمولی ہمت اور ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ اس واقعے کو خلائی تاریخ میں ناکامی میں کامیابی کی ایک بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ ہلزبرو سٹیڈیم حادثہ15 اپریل 1989ء کو انگلینڈ کے شہر شیفلڈ میں واقع ہلز برو سٹیڈ یم میں ایک ہولناک حادثہ پیش آیا جس میں 96 فٹبال شائقین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ سٹیڈیم میں زیادہ ہجوم اور ناقص انتظامات تھے۔ پولیس نے شائقین کو ایک محدود حصے میں داخل ہونے کی اجازت دی جس سے شدید دباؤ پیدا ہوا اور لوگ ایک دوسرے کے نیچے دب گئے۔ اس سانحے نے برطانیہ میں کھیلوں کے میدانوں کی سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔بعد ازاں یہ ثابت ہوا کہ حادثے کی ذمہ داری انتظامیہ اور پولیس کی غفلت تھی۔بوسٹن میراتھن دھماکے15 اپریل 2013 ء کو امریکہ کے شہر بوسٹن میں ہونے والی مشہوربوسٹن میراتھن کے اختتامی لمحات میں دو زور دار دھماکے ہوئے جنہوں نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ دھماکے فِنش لائن کے قریب ہوئے جہاں سینکڑوں افراد موجود تھے، جن میں کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ، شائقین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے۔ان حملوں میں تین افراد ہلاک جبکہ 260 سے زائد زخمی ہوئے جن میں کئی افراد کے اعضا متاثر ہوئے۔ نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں آگ15 اپریل 2019ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع تاریخی گرجا گھر نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس نے اس عظیم الشان عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ کیتھیڈرل 12ویں صدی میں تعمیر ہوا تھا اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل تھا۔آگ کے باعث عمارت کی چھت اور مینار گر کر تباہ ہو گئے تاہم فائر فائٹرز کی بروقت کارروائی سے مرکزی ڈھانچہ اور کئی قیمتی نوادرات محفوظ رہے۔ فرانسیسی حکومت نے فوری طور پر اس کی بحالی کا اعلان کیا اور دنیا بھر سے اس کے لیے اربوں یورو کے عطیات موصول ہوئے۔
ہر سال 14 اپریل کو دنیا بھر میں ورلڈ کوانٹم ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا انتخاب بھی سائنسی بنیاد پر کیا گیا ہے کیونکہ 4/14 (اپریل کی 14 تاریخ) دراصل مشہور طبیعیاتی پلانک کانسٹنٹ (Planck constant) کی علامتی نمائندگی کرتا ہے، جو کوانٹم فزکس کی بنیاد ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں کوانٹم سائنس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اس کے حیرت انگیز امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔سادہ الفاظ میں کوانٹم سائنس مادے اور توانائی کے نہایت چھوٹے ذرات یعنی ایٹم اور ان سے بھی چھوٹے ذرات (جیسے الیکٹران، فوٹون وغیرہ) کے رویے کا مطالعہ ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں جو قوانین کام کرتے ہیں جیسے کششِ ثقل یا حرکت کے اصول، وہ بڑی اشیاکے لیے درست ہیں مگر جب ہم انتہائی چھوٹے پیمانے پر جاتے ہیں تو وہاں فطرت کے قوانین بدل جاتے ہیں۔ یہی عجیب و غریب دنیا ''کوانٹم ورلڈ‘‘ کہلاتی ہے۔کوانٹم سائنس میں کئی ایسے تصورات ہیں جو عام عقل کے خلاف محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سپرپوزیشن، جس کے مطابق ایک ذرہ بیک وقت ایک سے زیادہ حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یعنی ایک الیکٹران ایک ہی وقت میں دو مختلف جگہوں پر ہو سکتا ہے، جب تک کہ ہم اس کا مشاہدہ نہ کریں۔اس طرح اینٹینگلمنٹ (Entanglement) بھی ایک حیران کن مظہر ہے جس میں دو ذرات آپس میں اس طرح جڑ جاتے ہیں کہ ایک ذرہ پر ہونے والی تبدیلی فوری طور پر دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو۔ اسے آئن سٹائن نےSpooky action at a distance کہا تھا۔اس طرح کوانٹم ٹنلنگ (Quantum Tunneling) کے تحت ذرات بعض اوقات ایسی رکاوٹوں کو عبور کر لیتے ہیں جنہیں کلاسیکی فزکس کے مطابق عبور کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی اصول کئی جدید الیکٹرانک آلات میں استعمال ہوتا ہے۔کوانٹم سائنس کی اہمیتکوانٹم سائنس صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی دنیا میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ درحقیقت ہماری جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہی کوانٹم فزکس پر ہے۔آج کے کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں جو کوانٹم اصولوں کے بغیر ممکن نہیں تھی۔لیزر ٹیکنالوجی جو سرجری، انٹرنیٹ کمیونیکیشن اور صنعتی کاموں میں استعمال ہوتی ہے، کوانٹم میکینکس کی دین ہے۔کوانٹم کمپیوٹنگ بھی ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جو روایتی کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز پیچیدہ مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی، دواؤں کی دریافت اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں انقلاب لا سکتے ہیں۔کوانٹم کمیونیکیشن اور سکیورٹیکوانٹم سائنس کا ایک اور اہم پہلو کوانٹم کمیونیکیشن ہے۔ اس میں معلومات کو اس انداز میں منتقل کیا جاتا ہے کہ اسے ہیک کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیاد کوانٹم اینٹینگلمنٹ اور دیگر اصولوں پر ہے۔ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بینکنگ، دفاع اور ڈیٹا سکیورٹی کے نظام کو مزید محفوظ بنا سکتی ہے۔ورلڈ کوانٹم ڈے کی اہمیتاس دن کو منانے کا مقصد صرف سائنسدانوں تک محدود نہیں بلکہ عام لوگوں، طلبہ اور نوجوانوں کو اس میدان کی طرف راغب کرنا ہے۔ دنیا بھر میں اس دن سیمینارز، ورکشاپس اور تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ کوانٹم سائنس کو عام فہم انداز میں سمجھایا جا سکے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سائنس کی دنیا میں ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔ کوانٹم سائنس نہ صرف ہمارے موجودہ علم کو چیلنج کرتی ہے بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے دروازے بھی کھولتی ہے۔ کوانٹم سائنس بظاہر پیچیدہ ضرور ہے مگر اس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی میں واضح ہیں۔ ورلڈ کوانٹم ڈے ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس حیرت انگیز دنیا کو سمجھیں اور اس کے امکانات پر غور کریں۔ آنے والے برسوں میں کوانٹم ٹیکنالوجی انسانیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی اور شاید وہ دن دور نہیں جب ہم ایسی ایجادات دیکھیں گے جو آج ہمیں صرف سائنس فکشن لگتی ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ کوانٹم سائنس دراصل مستقبل کی سائنس ہے ایک ایسی دنیا جہاں ناممکن ممکن بن جاتا ہے۔ہمارے ملک میں بھی کوانٹم سائنس کے میدان میں تحقیق ہو رہی ہے، اگرچہ یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ مختلف جامعات اور تحقیقی ادارے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ اگر حکومتی سطح پر مزید توجہ دی جائے تو پاکستان بھی اس جدید سائنسی دوڑ میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔
خوبصورت اور صحت مند جلد ہر خاتون کی خواہش ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں موسم کی شدت، دھوپ، آلودگی اور طرزِ زندگی کے مسائل جلد پر اثر انداز ہوتے ہیں وہاں جلد کی مناسب دیکھ بھال نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ چند سادہ اور مؤثر اصول اپنا کر آپ اپنی جلد کو تروتازہ، صاف اور چمکدار بنا سکتی ہیں۔
اجزا: گائے کا قیمہ:آدھا کلو،سبز الائچی:3،4،نمک: 1چائے کا چمچ یا حسب ذائقہ، ثابت کالی مرچ:8،10،پسی ہوئی لال مرچ:1 چائے کا چمچ، لونگ:4،ہلدی پائوڈر:
علمی خدمات کا درخشاں باب، فکر و تحقیق کا معتبر حوالہ:انہیں ’’ تاریخ ادب اردو ‘‘لکھنے کا خیال5 196 ء کے آس پاس آیا تھا۔ اس کی پہلی جلد 1975ئمیں شائع ہوئی اس میں قدیم دور آغاز سے 1750ء تک کی داستان قلم بند ہے‘