نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان کی مقبوضہ کشمیرمیں مزید 3کشمیریوں کےقتل کی مذمت
  • بریکنگ :- کشمیریوں کےماورائےعدالت قتل کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا،ترجمان
  • بریکنگ :- رواں سال بھارتی فوج نے 55سےزائدکشمیریوں کوشہیدکیا،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- کسی بھی طرح کاتشددکشمیریوں کےجذبہ حق خودارادیت کودبانہیں سکتا،ترجمان
  • بریکنگ :- کشمیریوں کےماورائےعدالت قتل کی آزادانہ تحقیقات کامطالبہ کرتےہیں،ترجمان
راہِ ہدایت
اور زمین کو بالکل ہموار صاف کرکے چھوڑے گا۔جس میں نہ تم کجی (اور پستی) دیکھوگے نہ نیلا (اوربلندی)۔ (سورۃطٰہٰ:آیت107،106)
Coronavirus Updates

اپوزیشن کے سیاسی اختلافات ہوسکتے لیکن پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینگے: بلاول


مردان: (دنیا نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سینئر پی پی خورشید شاہ کے بیٹے ایم پی اے فرخ شاہ گرفتاری پر انتباہی انداز میں کہا ہے کہ جو پی پی کارکنوں کے بیٹوں کو پکڑے گا،اس کے بیٹے بھی پکڑے جائیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اختلافات ہوسکتے لیکن پارلیمنٹ میں ایک پیج پرہے حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے۔


اشتہار
تمام کالمز

خسارہ3990ارب،ترقی کاہدف4.8فیصدمقرر،کم ازکم اجرت20ہزار،اردلی الائونس14سے بڑھاکر17500کردیا گیا،1.1ارب ڈالرکی کورونا ویکسین درآمد،اگلے سال جون تک10کروڑافرادکی ویکسی نیشن کاہدف،سینکڑوں اشیاپرسیلزٹیکس کی رعایتی شرح ختم،درآمدی سگار،ای سگریٹس،کھل بنولہ،تمام اقسام کے آئل سیڈ،خام کپاس،لنڈے کے کپڑے ،مویشیوں کی پیک خوراک،شیمپو،پرفیوم،مکھن،دودھ،پنیر،دیسی گھی،امپورٹڈجام بھی مہنگے،ماہانہ25ہزاربجلی بل والے نان فائلر گھریلوصارفین پر7.5فیصداضافی ودہولڈنگ ٹیکس ،آئل فیلڈ،سکیورٹی،ٹریول اینڈٹورسروسزپر ٹیکس5فیصدکم،پھلوں کے رس پرفیڈرل ڈیوٹی ختم،کیپٹل گین ٹیکس،موبائل فون سروسزپرٹیکس میں بھی کمی،1ہزارسے 2100سی سی تک نئی گاڑیوں پر 2لاکھ تک ودہولڈنگ ٹیکس ،اشیا کی آن لائن فروخت پر17فیصدجی ایس ٹی،پٹرولیم مصنوعات پرودہولڈنگ ٹیکس واپس،تنخواہ دارطبقے پرنیاٹیکس نہیں لگایا،وزیرخزانہ،بجٹ تقریر،فنانس بل پیش

ڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی حکمت عملی بنائینگے ، اپوزیشن لیڈر ، لگتا ہے کسی اور ملک کا بجٹ پیش ہوا ،چیئرمین پی پی ،اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، شدیدہنگامہ ،(ن)لیگ اور پی ٹی آئی کے ارکان میں جھڑپ

بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف اور سہولتیں دی گئی ہیں،غریب اور کم وسیلہ طبقات پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا،حکومت کیساتھ معاشرے کے ہر طبقے کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے حصہ ڈالناہوگا،عالمی دن پر پیغام

تادیبی کارروائی سے 7روز پہلے آگاہ کریں:عدالت،ضمانت کی درخواستیں واپس،ایف بی آر نوٹسز کیخلا ف درخواست خارج،ہم خیال گروپ کا بجٹ کی حمایت کافیصلہ

متفرقات

چین کی شہنشاہیت کتنی امیر تھی ؟

چین کی شہنشاہیت کتنی امیر تھی ؟

کہا جاتا ہے کہ چین کی قدیم سلطنتیں دنیا کی امیر ترین سلطنتوں میں شامل تھیں۔ریشم، نمک اور لوہے کی تجارت پر ان کی اجارہ داری نے چین کو دنیا کادولت مند ترین ملک بنا دیا تھا۔چاول کی اہم ترین فصل کی بھی دنیا بھر میں مانگ تھی اسی لئے وہاں دولت مندوں کا ایک طاقت ور طبقہ حکمرانوں کی صف میں شامل ہو چکا تھا ۔118قبل مسیح میں بھی 28ارب سکے گردش میں تھے، محنت مزدوری بھی انہی سکوں میں ادا کی جاتی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قدیم چینی باشندے بھی معاشی ترقی کے رازوں سے واقف تھے۔اگر گزشتہ دو ہزار سال کے افراط زر کو شامل کر لیا جائے تو ہر سال جاری ہونے والے 28کروڑ سکوں کی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے۔ماہر معاشیات آگس میڈیسن کے مطابق 10صدی عیسوی میں چین کی فی کس جی ڈی پی 450ڈالرکے برابر تھی۔تاہم جوزف نیدھم نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے چینیوں کو اس سے کہیں امیر قرار دیا ہے۔چین کی شہنشاہیت یورپ کی شہنشاہیت سے کہیں بہتر اور دولتمند سمجھی جاتی رہی ہے ۔زمانہ قدیم میں چین کی شہنشاہیت نے دنیا کی معیشت پر اپنا بڑا اثرقائم رکھا۔چین آج بھی ایک معاشی سپر پاور ہے۔یورپ میں آج چین کو جدید، ہائی ٹیک، اور ترقی یافتہ معیشت سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے پیچھے ایک بڑی تاریخ ہے اور ماضی قدیم میں بھی چین کی معیشت دنیا بھر میں ٹاپ پر رہی تھی۔چینی تہذیب میں دیوار چین اور ممنوعہ شہر کا بہت اہم کردار ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین کی ایمپائر کو مغرب سے مقابلے کے بعد کچھ عرصہ زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ چین کئی صدیوں تک دنیا کا امیر ترین ملک رہا۔حتی کہ مغرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے استوار کرنے کے بعد بھی دنیا کی تجارت پر چین کا کافی قبضہ رہا۔ستارہویں اور اٹھارویں صدی میں مغرب سے تعلقات استوار ہونے سے پہلے بھی چین کی شہنشاہیت ایک امیر اور دولت مند شہنشاہیت تھی۔مغرب کے ساتھ کمرشل تعلقات کو فروغ دینے کا مقصد یہ تھا کہ آنے والے سالوں میں چین کا دنیا کی معیشت پر اثر برقرار رکھا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں مغرب کے بھی مفادات شامل تھے۔مغرب کا مشرق کی ایک امیر ترین شہنشاہیت کے ساتھ بہتر روابط رکھنا ،کہ جب وہ اپنی سلطنت کے دائرہ کار کو بڑھا رہا تھا ، ایک ضروری قدم تھا۔ افیون کی جنگ نے چین کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا اور اس دور میں جب یہ جنگ لڑی گئی چین کئی سال پیچھے چلا گیا۔ تاہم سولہویں صدی کو چین کیلئے بہت خوش آئند کہا جاتا ہے جب وہ دنیا کی 25سے30 فیصد معیشت تھی۔شروع میں چین کی اشیا بہت مہنگی تھی لیکن اٹھارویں صدی میں ان کی قیمتیں گر گئیں۔ مثال کے طور پر پورسلین برطانیہ کے درمیانے درجے کے تاجروں کی پہنچ میں ہوگیا۔ چائے بھی ان میں سے ایک تھی جو امیر اور غریب کی پہنچ میں ہوگئی۔چین کیلئے چاندی کی تجارت بہت اہم تھی اور چاندی کی تجارت سے اس نے اپنی معیشت کو مضبوط کیاکیونکہ اس دور میں یورپ اپنی کالونیوں کو ایک نئی دنیا میں بدل رہا تھا۔غلاموں کو چاندی کی کانوں میں جھونکا جارہا تھا جس سے چاندی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ، یہ چاندی چین کیلئے اہم تھی ۔ خاص طور پر جب چین کی ''منگ سلطنت ‘‘میں چاندی کا بہت استعمال ہوا کیونکہ یہ اس سلطنت کی پالیسی تھی۔اسی سلطنت نے پہلی مرتبہ سکوں کی جگہ کاغذ کی کرنسی متعارف کرائی۔لیکن یہ سکیم ناکام ہوگئی جس پر سلطنت کو چاندی کی ضرورت پڑی اور 1425میں چاندی کی کرنسی شروع کی گئی۔ پندرہویں اور اٹھارویں صدی میں دنیا کا بیشتر چاندی چین بھیجا جاتا تھا جبکہ اس کے متبادل کے طور پر چین کی اشیا یورپ میں آتی تھیں۔ ہسپانیہ کی چاندی بھی چینی ایمپائر کے لئے اہم تھی، اس کے سکوں کو ''بدھاز‘‘ کہا جاتا تھا۔سولہویں سے اٹھارویں صدی جو کہ ''ہائی قنگ دور ‘‘ کہلاتا ہے میں آبادی دگنی ہوگئی۔تاہم اس دوران مقامی مصنوعات اور پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔چینی ایمپائر کی معیشت کا زوال اٹھارویں صدی میں شروع ہوا جب یورپی طاقتوں نے محسوس کیا کہ چین کے ساتھ تجارت میں بہت خسارہ کما رہے ہیں۔آزاد تجارت کا نعرہ بلند ہوا۔یورپ کے تاجروں کو براہ راست چین میں اترنے کی اجازت نہیں تھی۔آزاد تجارت کو فروغ دینے کیلئے برطانیہ نے اپنا نمائندہ چین بھیجا۔ شہنشاہ چین کے پیدائش کے دن ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ تاہم معاہدہ نہ ہو سکا۔ معیشت میں تنزلی کی ایک اور وجہ افیون کی جنگ تھی۔یورپ کے تاجروں نے چین میں چاندی کی جگہ کسی اور متبادل چیز کو بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کا حل یہ سوچا گیا کہ افیون چین بھیجی جائے۔ایسٹ انڈیا کمپنی جو کہ اس وقت ایک طاقت ور کمپنی تھی نے 1730میں افیون امپورٹ کرنا شروع کردیا۔افیون دوائوں اور تفریح کیلئے کئی صدیوں سے چین میں استعمال ہوتی آ رہی تھی۔لیکن اس کا مجرمانہ استعمال اٹھارویں صدی کے ابتدا میں ہوا۔ جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگا دی گئی۔تاہم ایسٹ انڈیا کمپنی نے افیون کی امپورٹ جاری رکھی۔برطانیہ کے علاوہ امریکہ بھی چین میں افیون کی تجارت سے وابستہ تھا۔ 1830 تک افیون چین کے کلچر کاحصہ بن چکی تھی۔ سموکنگ شہروں میں تیزی سے پھیل چکی تھی۔ 1839میں بادشاہ ڈائوگوئنگ نے غیرملکی افیون کی امپورٹ پر پابندی لگا دی۔ برطانوی افیون کو بڑی مقدار میں ضائع کردیا گیا۔ جس کے بعد برطانوی جنگی بحری جہازوں اور چین کے درمیان افیون جنگ چھڑ گئی۔ برطانوی افواج جدید ہتھیاروں سے لیس تھی جس نے جلد ہی چین کے شہروں پر قبضہ کرلیا اور ایک اہم شہر چنکیانگ کو اپنے کنٹرول میں کرلیا۔جنگ میں کامیابی کے بعد برطانوی حکومت آزاد تجارت کی شرط عائد کرنے کے قابل ہوگئی۔1842میں نانکنگ معاہدہ پر دستخط ہوئے۔اس طرح پورٹ آزاد تجارت کیلئے کھول دیئے گئے۔افیون جنگ نے چین کی کمزور یوں کو آشکار کردیا جس سے مغربی افواج کی طاقت میں اضافہ ہوا۔آنے والے سالوں میں فرانس اور امریکہ نے بھی چین کے ساتھ اسی طرح کے معاہدے کئے۔چین اب بھی ایک آزاد ملک تھا لیکن اس کے بہت سے معاملات میں مغربی طاقتوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ شنگھائی کے بہت سے حصوں پر غیرملکی طاقتوں کا اثر رسوخ ہوگیا اور اس کے کاروبار اور انتظامی امور کے مالک بن گئے۔ اس طرح 1856میں دوسری افیون جنگ چھڑ گئی۔اس میں بھی برطانوی اور فرانسیسی افواج نے کامیابی حاصل کی اور بیجنگ کو تخت و تاراج کیا گیا۔اس طرح چین کی تجارت پر غیرملکی اثر ورسوخ بڑھ گیا۔اس طرح چین کی معیشت کو کمزور کردیا گیا اور جو شہنشاہیت میں ایک دولت مند ملک تھا اسے جھکنے پر مجبور کردیا گیا۔

ملکہ نیل : دو دہائیوں تک قصر حکمرانی میں رہنے والی

ملکہ نیل : دو دہائیوں تک قصر حکمرانی میں رہنے والی

مصر میں اپنے وقت کی مشہور اور خوبصورت ملکہ نیل نفرتیتی کا مقبرہ واقع ہے۔خوبصورت نقش و نگار اور اپنی لمبی صراحی دار گردن کی بدولت یہ ملکہ اپنے حسن کا ثانی نہیں رکھتی تھی اور مصر کے بازاروں میں سب جگہ اسی کے مجسمے پائے جاتے تھے۔ قلوپطرہ کے علاوہ بھی مصر کی ایک حسین ملکہ تھی۔ نام تو اس کا نفرتیتی تھا لیکن پیار سے لوگ اسے نیل کی ملکہ کہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اس کو سرکاری طور پر اس کے شوہر اور بادشاہ وقت فرعون آخینا تن نے کوئی درجن بھر القابات سے نوازا ہوا تھا۔ وہ قدیم مصری حسن کا ایک شاہکار تھی۔ آج تک مصر میں جتنے بھی اس ملکہ کے مجسمے بنائے اور خریدے جاتے ہیں وہ شاید ہی کسی اور کے ہوں۔ تقریباً ہر مجسمے میں وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں، صراحی دار گردن اور لمبے سے تاج کے ساتھ بہت ہی منفرد نظر آتی ہے۔ اس نے اپنے شوہر کے پہلو میں کھڑے ہو کر دو دہائیوں تک مصر پر حکومت کی۔ اس دوران اس کے خاوند نے فرعونوں کے تاریخی دارالخلافہ تھبیس سے کوئی سو کلومیٹر آگے امرنا کے مقام پر اپنا نیا دارالخلافہ بنا لیااور خود بھی وہاں منتقل ہوگیا ۔وہاں جا کر اس نے نئے سرے سے اپنے محلات اور مندروں وغیرہ کی تعمیر شروع کروائی۔ نفرتیتی بھی اسی کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہوئی اور کاروبار سلطنت چلانے میں اپنے شوہر کا خوب ساتھ نبھایا جودو سرے فرعونوں کے بر عکس حیرت انگیز طور پر صرف ایک خدا کو مانتا تھا ۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق وہ ایک وبائی مرض کا شکار ہو کر محض چالیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئی اور اپنی خوبصورتی کے علاوہ ذہانت اور عظمت کی بے شمار داستانیں مصریوں اور دنیا والوں کے لئے چھوڑ گئی۔حیرت انگیز طور پر اس کی موت کے بعد اس کا کوئی مقبرہ یا مدفن تاریخ دانوں کو نہ ملا۔ تاہم 1880ء میںامرنا کے رہائشیوں نے ایک بری طرح تباہ شدہ مقبرہ دریافت کیا جس پر تفصیلاً تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ مقبرہ اس کے شوہربادشاہ آخیناتن اور اس کی بیٹی کا تھا۔ ملکہ نفرتیتی کے مدفن کاپھر بھی علم نہ ہوسکا ۔ پھر اسی تحقیق کے دوران ڈرامائی طور پر بادشاہ کے اس مقبرے کے ساتھ بری طرح تباہ شدہ حالت میں ایک اورکمرہ دریافت ہو۔ا اس کو جب کھولا گیا تو اس میں سے تین خواتین کی ممیاں برآمد ہوئیں جس میں سے ایک بڑی عمر کی عورت اور دو نسبتاً جوان لڑکیوں کی تھیں۔ کافی بحث و مباحثے کے بعد ماہرین آثار قدیمہ نے یہ تسلیم کر لیا کہ بڑی عمر کی یہ خاتون ہی دراصل عظیم ملکہ نفرتیتی تھی۔

 میانداد کاچھکا اور بشریٰ انصاری کا گیت

میانداد کاچھکا اور بشریٰ انصاری کا گیت

یہ 18 اپریل1986 کی بات ہے ، موسم بہار اور گرمی کے موسم کے درمیان خوشگوار دن چل رہے تھے۔ ان دنوں میں محلے کے چند گھروں میں ہی ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ انٹینا کو ادھر ادھر گھما کر ٹی وی سکرین کلیئر کی جاتی تھی۔محلے کے ایک ہی گھر میں سب کرکٹ کے دیوانے جمع ہوجایا کرتے تھے۔ میزبان جو کہ خود بھی کرکٹ کا شوقین ہوتا تھا بھی خوش ہوتا تھا کہ اس کے گھر رونق لگی ہوئی ہے ۔شارجہ میں آسٹریلیشیا کپ کا پاکستان اور انڈیا کے درمیان فائنل میچ کھیلا جارہا تھا۔ میچ پر انڈیا کی مکمل گرفت تھی ، ہم سب نے زندگی کی سب سے زیادہ دعائیں اس دن مانگیں جب آخری اوور میں پاکستان کو جیت کیلئے 11رنز درکار تھے اور جاوید میانداد کریز پر موجود تھے۔ اس آخری ایک ہی اوور میں وسیم اکرم اور وکٹ کیپر ذوالقرنین آئوٹ ہوچکے تھے۔ توصیف احمدنے سنگل لے کر جاوید میانداد کو سٹرائیک دی۔ آخری گیند پر چار رنز درکار تھے ۔ جاوید میانداد چیتن شرما کا سامنا کررہے تھے۔کمنٹیٹر کی آواز گونجی۔۔۔''لاسٹ بال کمنگ اپ، فور رنز ریکوائرڈ، ہی ہٹ اے سکس اینڈ پاکستان ہیوو ون‘‘اور ہم سب خوشی سے اچھل پڑے۔ایک ناقابل یقین میچ جاوید میانداد نے پاکستان کی گود میں لاکر رکھ دیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی جیت کا اتنا جشن منایا گیا کہ شام تک شارجہ کی مٹھائی کی دکانیں ہر قسم کے میٹھے سے خالی ہو چکی تھیں۔یہ واقعہ کرکٹ کی تاریخ میں اس لئے بھی اچھوتا تھا کہ آج تک کسی بیٹسمین نے ون ڈے میں اس طرح آخری گیند پر چھکا مارکر میچ نہیں جتوایا تھا۔ 1986 میں ہونے والے آسٹریلیشیا کپ میں آسٹریلیا، انڈیا، نیوزی لینڈ، پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس فائنل میچ میں انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے245 رنز بنائے تھے اور پاکستان کو جیت کیلئے 246رنز کا ہدف دیا تویہ ایک بظاہر مشکل ٹارگٹ لگ رہا تھا۔ انڈیا کی طرف سے سنیل گواسکر ، دلیپ ونگسارکر اور کرس سری کانت نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔ جواب میں بھارتی بائولرز نے عمدہ بائولنگ کرائی اور کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کو ٹکنے نہ دیا سوائے جاوید میانداد کے کوئی بھی بلے باز قابل ذکر سکور نہ کرسکا۔ جاوید میانداد نے اس میچ میں 116رنز بنائے اور مین آف دی میچ رہے تھے ۔ حالانکہ چتن شرما نے اس میچ میں اچھی بائولنگ کرائی تھی اور تین کھلاڑیوں کو آئوٹ بھی کیا تھالیکن آخری گیند پر چھکا ان کے لئے بڑا برا ثابت ہوا جس نے زندگی بھر ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔چیتن شرما اب بھی کہتے ہیں کہ وہ چھکا آج بھی آسیب کی طرح میرا تعاقب کرتا ہے، اور شاید اس وقت تک کرتا رہے گا، جب تک کہ میں زندہ ہوں۔میں اس کو بھلا دینا چاہتا ہوں لیکن لوگ نہیں چاہتے کہ میں اسے بھلاؤں اور آخر وہ بھلائیں بھی کیسے ؟ یہ مقابلہ بھی تو پاکستان کے خلاف تھا اور ہندوستان کا کوئی شخص پاکستان سے ہارنا نہیں چاہتا۔ایک مرتبہ چیتن نے کہا تھا کہ لوگوں کو ورلڈ کپ 1987ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف میری ہیٹ ٹرک یاد نہیں، انگلستان کے خلاف اسی کے ملک میں شاندار کارکردگی یاد نہیں، یاد ہے تو وہ صرف ایک گیند جو میں نے شارجہ میں جاوید میانداد کو پھینکی تھی۔ لوگ شاید یہ بات بھول جاتے ہیں کہ میں اس وقت 20 سال کا نوجوان تھا، جبکہ میرے سامنے جاوید میانداد جیسے پائے کا بلے باز تھا، مجھ سے غلطی ہوئی اور انہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔جاوید میانداد نے اپنی سوانح حیات'' کٹنگ ایج‘‘ میں اس میچ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔میانداد نے تسلیم کیا کہ متواتر وکٹیں گرنے کے سبب وہ ایک مرحلے پر یقین کر چکے تھے کہ پاکستان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔میانداد لکھتے ہیں کہ جب عمران خان آؤٹ ہوئے تو انھوں نے سوچ لیا تھا کہ پاکستان کے جیتنے کی اب کوئی امید نہیں بچی اور اس وقت وہ ہارا ہوا میچ کھیل رہے تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ پورے 50 اوورز تک کھیل کر شکست کا مارجن کم سے کم کر سکیں۔میانداد کہتے ہیں جب 48 واں اوور شروع ہوا تو اس وقت انھیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ پاکستان یہ میچ جیت سکتا ہے۔پاکستان کو آخری تین اوورز یعنی 18 گیندوں پر 31 رنز درکار تھے۔جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ ''عقلمند بلے باز ہمیشہ بائولر کا دماغ پڑھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کیا کرے گا۔‘‘'مجھے پتا تھا کہ آخری گیند پر چیتن شرما یارکر کی کوشش کریں گے لہٰذا میں کریز سے تھوڑا سا آگے آکر کھڑا ہو گیا تھا تاکہ اگر وہ یارکر کرتے ہیں تو میں پیچھے ہٹ کر کھیل سکوں۔خوش قسمتی سے گیند پورے ریڈار پر آئی اور میں نے شارٹ کھیل دیا۔ گیند فل ٹاس تھی اور میری مڈ آن اور مڈوکٹ کے درمیان شارٹس لگ بھی رہی تھیں، اس لئے میں نے سوچا تھا کہ اسی ایریا میں شارٹ کھیلوں گا‘‘۔چیتن شرما نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ جو گیند کرنا چاہتے تھے وہ نہ ہو سکی۔ میری بدقسمتی کہ وہ گیند فل ٹاس ہو گئی۔چیتن شرما یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے آخری گیند کرنے سے قبل اپنا ذہن تبدیل کیا تھا کہ انھیں شارٹ پچ گیند کرنی چاہیے۔ آخری لمحے میں بائولر کے لیے ذہن تبدیل کرنا صحیح نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس وقت بہت ہی کم ہوتا ہے۔چیتن شرما کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر وہ بہت زیادہ خوفزدہ تھے کیونکہ وہ اپنے ملک کے لیے یہ میچ ہارنا نہیں چاہتے تھے۔ انڈیا کے عظیم بلے باز سنیل گواسکر کہتے ہیں کہ اس آخری گیند پر چیتن شرما کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔کریڈٹ جاوید میانداد کو جاتا ہے جنھوں نے انتہائی ذہانت سے وہ اننگز اور خاص کر آخری گیند کھیلی تھی۔جاوید میانداد نے جس بیٹ سے تاریخی چھکا لگایا وہ انھوں نے شارجہ کرکٹ کے روح رواں عبدالرحمن بخاطر کو تحفے میں دے دیا تھا۔تاہم جب ٹورنامنٹ کا آفیشل ڈنر ہوا تو اس یادگار بیٹ کو نیلام کرنے کا اعلان ہوا اور اسی وقت اس کا خریدار مل گیا ۔اس چھکے کے بعد جاوید میانداد کو ہر جانب سے قیمتی انعامات بھی ملے جن میں مرسڈیز کار بھی شامل تھی۔اس یادگار چھکے کے حوالے سے انور مقصود کا لکھا گیت جب بشریٰ انصاری نے پیروڈی میں گایا تو اس کی دھوم مچ گئی۔ بول تھے ''ایک چھکے کے جاوید کو سولاکھ ملیں گے، توصیف بچارے کو درھم آٹھ ملیں گے‘‘۔توصیف احمد نے بتایا کہ مجھے آٹھ درہم تو نہیں ملے لیکن اس گیت کے بعد انکم ٹیکس والے میرے گھر پہنچ گئے ۔جاوید میانداد کا بھی کہنا تھا کہ انہیں سو لاکھ نہیں ملے تھے اس دور میں کرکٹ میں اتنا پیسہ نہیں تھا۔

عمل کی شمع جلائیے

عمل کی شمع جلائیے

یہ گرمیوں کی ایک سہانی صبح تھی سورج کی کرنیں پہاڑوں کی اوٹ سے نکل رہی تھیں۔ سرگودھا ایک پروگرام پر جانا تھا۔ ٹیکسی کرائے پر لی اور لاری اڈے کی جانب عازم سفر ہوا۔ شہر کے صدر مقام پر پہنچا تو اشارہ بند تھا۔ قبل اس کے کہ ٹیکسی ڈرائیور اشارہ توڑتا میں نے رکنے کا کہہ دیا۔ میرے اس اچانک سے جملے پر اس نے مجھے آنکھوں کی کنکھیوں سے دیکھا اور چہرے کے تاثرات سے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اور لوگ بھی تو ٹریفک کا اشارہ توڑ رہے ہیں پھر ہم کیوں رک گئے۔ اگرچہ وہ اپنی بات میں سچا تھا اور جتنا وقت ہم رکے اتنے وقت میں اطمینان سے دیکھ چکے تھے کہ اشارہ توڑنے والوں میں ایک گوالا تھا جسے دودھ پہنچانا تھا۔ ایک پولیس کی وردی میں ملبوس موٹر سائیکل سوار جسے شاید ڈیوٹی پر جانا تھا۔اشارہ توڑنے کے ساتھ ساتھ ہیلمٹ بھی نہیں تھا اور ایک صاحب کی گاڑی میں ہم نے ڈاکٹروالا کوٹ بھی دیکھا اور ایک خاتون جن کو شاید آفس پہنچنا تھا۔ بس اب ایک پیدل چلتا گدا گر ہی باقی رہ گیا تھا جو پار کے اشارے پر خاموشی سے رک کر اشارہ کھلنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور اور میری نظر کا ایک ساتھ گدا گر پر پڑنا حسن اتفاق تھا اور پھر ہم دونوں کی نظروں کا ٹکرانا دوسرا حسن اتفاق تھا۔ شاید وہ مجھے بتانا چاہ رہا تھا کہ ہم میں اور اس گدا گر میں کوئی فرق باقی نہیں اور میں بتانا چاہتاتھا کہ دیکھو یہ گدا گر بھی کتنا اچھا ہے اپنی زندگی سے پیار کرتا ہے کہ اشارہ نہیں توڑتا۔ لیکن ہم دونوں کو یقین تھا کہ ہم ایک دوسرے کو ان اشاروں سے سمجھا نہیں پائے۔آج مجھے اس سوال کا جواب مل گیا کہ ہم ترقی کیوں نہیں کر پاتے۔ اسباب کے باوجود ترقی کانہ ہونا صرف ''ون ورڈ‘‘ جواب رکھتا ہے اور وہ ہے بے عملی۔ ہم نعمتوں کی قدر نہیں کرتے۔ بے عملی کا جواز تلاش کرتے ہیں اور پھر اس غلط کو درست ثابت کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ہمیں ضرورت پڑنے پر غلط کو درست اور درست کو غلط بنانے کی روش چھوڑنا ہو گی۔ برائی کو خوبصورت بنانے کی ملمع سازی کو روکنا ہو گا اور اس راہ کامسافربننے کا آغاز اپنے من کی دنیا سے کرنا ہوگا وگرنہ جو افراد اللہ کی عطا کردہ نعمتوں صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لاتے ان کا انجام بے وقعت ناکام اور شکستہ خورد ہ ہونے کے سوا کچھ نہیں، بے عملی کی فضا ہمارے رویوں کا اتنا گہرا حصہ بن چکی ہے کہ ہم برائی اور نیکی میں تمیز بھی نہیں کر پاتے۔ بے عمل انسان یا تو بہانے تراش کر خود کو تسلی دیتا ہے یا دوسروں پر الزامات لگا کر مگر اپنی واضح ناکامی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا آج اگر ہم اپنی عمومی زندگی پر غور و فکر کریں تو ہمیں اپنے رویوں کی بے عملی کی چند تصاویر یوں نظر آئیں گی جن سے ہم اپنے دل کو سکون دیتے ہیں۔ رشوت۔.۔۔''یہ تو تحفہ ہے۔‘‘موسیقی۔۔۔ ''یہ تو روح کی غذا ہے۔‘‘بدنظری۔۔۔۔ــ''ایک بار دیکھنا حلال ہے۔‘‘غیبت۔۔۔۔''میں اس کے منہ پہ بھی یہ بات کہہ سکتا ہوں۔‘‘سود کھانا۔۔۔ساری دینا کھاتی ہے۔‘‘بیہودہ ناول پڑھنا۔۔۔''ہم انہیں کچھ سیکھنے کیلئے پڑھتے ہیں۔‘‘تہمت۔۔۔۔یہ تو پوری دنیا کہہ رہی ہے۔‘‘حرام محفل۔۔۔۔بس ایک رات کی تو بات ہے۔‘‘بے پردگی۔۔۔۔'' پردہ تو آنکھ کا ہوتا ہے۔‘‘ترک نماز۔۔۔۔''فلاں نمازی ہزار گناہ بھی کرتا ہے۔‘‘شادیوں میں بے حیائی۔۔۔''یہ فاتحہ یا جنازہ تھوڑی ہے۔‘‘اسراف۔۔۔۔''لوگ کیا کہیں گے۔‘‘نماز باجماعت نہ پڑھنا۔۔۔''ٹائم نہیں ملتا۔‘‘آئیے آج خود سے عہد کیجیے کہ ہم خود کو بے عملی اور بد عملی سے بچائیں گے۔ چاہے اس عمل کا تعلق صرف ہماری ذات سے ہو یا قومی ملکی مفاد سے ہو۔ اس بدلائو کا آغاز ہم اپنی ذات سے ہی کر سکتے ہیں۔ اپنے حصے کا چراغ جلائیے۔ یاد رکھیں ایک برائی دوسری برائی کا جواز نہیں۔

بجٹ22-2021 کس کو کیا ملا؟

بجٹ22-2021 کس کو کیا ملا؟

پاکستان تحریک انصاف حکومت کے چوتھے وزیرخزانہ نے تیسرا بجٹ پیش کردیا ہے۔ اس بجٹ میں پاکستان کے کل سالانہ اخراجات کا تخمینہ 7523 ارب روپے لگایا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ملک کی کل آمدنی 7909 ارب روپے ہے، یوں ماضی کی طرح موجودہ بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہی ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 3412 ارب روپے منتقل کیے جانے کا تخمینہ ہے۔ اس قابل تقسیم محصولات میں ہے پنجاب کو 1691ارب روپے، سندھ کو 848 ارب روپے، خیبر پختونخوا کو 559 ارب روپے اور بلوچستان کو 313 ارب روپے دیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یوں صوبوں کو پیسوں کی ترسیل کے بعد وفاقی حکومت کے پاس 4497 ارب روپے رہ جاتے ہیں جن سے ملک کو چلایا جائے گا۔ موجودہ مالی سال میں ہونے والے اخراجات کی جانب نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سال مجموعی طور پر 3060 ارب روپے قرضوں پر سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے، جن میں سے اندرونی قرضوں پر سود کی مد میں 2757 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں پر سود کی مد میں 302 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔ اسی طرح وفاقی سول حکومت کو چلانے کے اخراجات کی مد میں 479 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ کی تفصیل میں جایا جائے تو موجودہ بجٹ میں دفاعی اخراجات کیلئے 1370 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ گزشتہ مالی بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 80 ارب زیادہ ہیں۔ اسی طرح حکومت کی جانب اس دفعہ پنشن کی مد میں 480 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ملٹری پنشن کیلئے 360 ارب روپے اور سول ملازمین کی پنشن کیلئے 120 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جو گزشتہ مالی بجٹ کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔ اب اگر وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا موازنہ کیا جائے تو موجودہ مالی سال میں حکومت نے سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کیلئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو 113 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی بجٹ سے 5 ارب روپے کم ہے۔ اس کے علاوہ آبی وسائل کی بہتری کیلئے 103 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں

بجٹ 22-2021ماہرین کی نظر میں

بجٹ 22-2021ماہرین کی نظر میں

یہ بجٹ غلط دعووں پر مبنی غلط اعدادوشمار پر مبنی بجٹ ہے۔ البتہ اس میں عوام کے لیے کچھ ریلیف ہے۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جس قدر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہے اس سے زیادہ عوام کی جیب سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ تو پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد ریویو ہوا کریں گی اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگا جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ہے جسے ہم بھتہ کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا تو اس کا نام تبدیل کردیا گیا۔

حسد سے بچیں

حسد سے بچیں

’’آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو۔ نہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھواور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلقی کرو اوربھائی بھائی ہو جاؤ۔‘‘ فرمانِ رسول ﷺ ’’حسد سے بچو! کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ حدیثِ رسولﷺ

سیرت مصطفٰیﷺ۔۔۔فلاح انسانیت کا ذریعہ

سیرت مصطفٰیﷺ۔۔۔فلاح انسانیت کا ذریعہ

فخرِ موجودات، باعثِ تخلیقِ کائنات، ہادیٔ برحق ،خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمد اللہ کا انسانیت پر اتنا بڑا احسان عظیم ہے ،جس کا احاطہ بڑے بڑے دانشور نکتہ داں مفکر نہیں کرسکتے ۔ذات مصطفی ؐ ہی خدا کی پہچان کا واحد ذریعہ ہے نبی کریم ﷺکی آمد کی پیش گوئیاں ہر نبی کرتا رہا ،خدا والوں کو بھی صدیوں سے آپؐ کا انتظار تھاصاحبانِ عرفان آپؐ کے کمالات معجزات نشانیاں جانتے تھے اور آپؐ کے شدت سے منتظر تھے ۔جہاں انتظار کرنے والوں نے آپؐ کی مدح سرائی کی وہاں جمالِ مصطفی ؐ کا مشاہدہ کرنے والوں نے بھی آپؐ کے مقام کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔انہی ہستیوں میں ایک سب سے نمایاں نام حضرت ابو طالبؓ کا بھی ہے ۔جنہوں نے نہ صرف مقام مصطفیؐ کو دنیا کے سامنے آشکار کیا بلکہ ذات مصطفیؐ کے تحفظ کیلئے ہر مصیبت و الم کو برداشت کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ام المومنین حضرت خدیجہؓ کے بعد حضرت ابو طالبؓ دنیا میں نہ رہے تو حضرت جبرئیلؑ نے آکر اللہ کے نبی ؐ کو وحی کی کہ اب مکہ چھوڑ دیں اس شہر میں آپکا پاسبان و مربی کوئی نہیں رہا ۔یوں حضرت ابو طالب ؓکے بعد مکہ چھوڑنا پڑ ااور ہجرت پر مجبور ہو نا پڑا۔

عمارتیں بنائیں مگر دیکھ بھال بھی کریں
2021-05-29

عمارتیں بنائیں مگر دیکھ بھال بھی کریں

شرکاء فیاض الیاس، چیئرمین ایسوسی ایشن بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) خواجہ محمد ایوب،سینئروائس چیئرمین آباد محمد عارف شیخانی،وائس چیئرمین آبادانجینئر دانش بن رئوف ،چیئرمین سائوتھ ریجن آبادانجینئرفرحان قیصر ، ڈائریکٹر اور ترجمان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے )خالد ظفر ہاشمی ،ڈائریکٹر لینڈ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی(کے ڈی اے )حبیب کھوکھر ڈائریکٹر میڈیا سیل سینئر صحافی نعیم کھوکھر

عید !روایتیں برقرار،انداز بدل گئے
2021-05-08

عید !روایتیں برقرار،انداز بدل گئے

شرکاء شائستہ آپا ، نائب صدر اور ڈائریکٹر گل رعنا نصرت کمیونٹی سینٹر ۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان، صدرکوہی گوٹھ اسپتال اوروائس چانسلرملیر یونیورسٹی۔ احمد حسن ،ایڈیٹر روزنامہ دنیا کراچی۔گل رعنا ،معروف ٹی وی آرٹسٹ ۔ڈاکٹر عائشہ ،لیکچرار شعبہ اسلامک لرننگ جامعہ کراچی ۔ شکیل خان ،رکن گورننگ باڈی آرٹس کونسل اور چیئرمین ٹاک شو کمیٹی ۔شیریں ارشد ، مصنفہ اورہاؤس وائف ۔

 کراچی:بڑے دل والوں کا شہر
2021-04-24

کراچی:بڑے دل والوں کا شہر

شرکاءعنایت اللہ اسماعیل ، سینئر منیجر ریسورس موبلائیزیشن الخدمت کراچی معین احمد،منیجر آپریشن المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی ثمینہ اکسیر، سربراہ شعبہ فنڈریزنگ کوہی گوٹھ اسپتال ڈاکٹر سید نواز الہدیٰ، فاؤنڈرممبر ڈلیو رکراچی فورمریاض نوری ،جنرل سیکریٹری شیڈ فاؤنڈیشن عبدالرزاق پردیسی،صدر ڈائریکشن اسکول ڈاکٹر ثاقب خان ، ڈائریکٹر ڈائریکشن اسکول ڈاکٹر اخلاص احمد،صدراسٹائل ویلفیئر فاؤنڈیشن شکیل دہلوی ،جوائنٹ سیکریٹری عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز