زیارت: (دنیا نیوز) بلوچستان کے ضلع زیارت دہشت گردوں نے پولیس چوکی پر حملہ کر دیا جس سے 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جوابی کارروائی میں 15 دہشت گرد مارے گئے۔
زیارت: (دنیا نیوز) بلوچستان کے ضلع زیارت دہشت گردوں نے پولیس چوکی پر حملہ کر دیا جس سے 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جوابی کارروائی میں 15 دہشت گرد مارے گئے۔
پائیدار امن افغان طالبان رجیم کے زیر کنٹرول علاقوں کو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے استعمال سے روکنے سے ہی ممکن،غضب للحق کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گیشورش زدہ علاقوں میں فوری مضبوط حکومتی ڈھانچے قائم کیے جائیں:شرکا کانفرنس، ہائبرڈ خطرات کیخلاف مربوط ردعمل یقینی بناتے ہوئے ہر قیمت پر قومی مفادات کا تحفظ کریں:فیلڈ مارشل
غزہ حکومتی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا مستعفی ،ٹیکنوکریٹک حکومت کی راہ ہموار، اسرائیل کے پاس نسل کشی کا جوازنہیں رہا:ترجمان حماسغزہ کے انتظامات سنبھالنے کیلئے تیار ہیں :فلسطینی قومی کمیٹی کا اعلان ،حماس سے تمام اسلحہ قبضے میں لینا ہوگا:بورڈ آف پیس
کوشش اگر کامیاب ہو گئی تو پاکستانی سفارتی وقار مزید بڑھ جائیگا، امریکا پوری طرح باخبر ،سعودی حمایت حاصلیہ کوششیں گزشتہ سال شروع ہوئی تھیں ،فریقین نے پاکستان سے ثالثی کی درخواست کی تھی:پاکستانی ذرائع
ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب اراضی اور وسائل کی نشاندہی سمیت تمام امور ایک ہی پلیٹ فارم سے انجام دے گیاراضی کی الاٹمنٹ میرٹ اور شفاف قرعہ اندازی سے کی ،مضبوط دیہی معیشت ہی ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد :وزیراعلیٰ
پبلک سروس کمیشن کا تقرر وزیراعلیٰ کے مشورہ سے ہوگا، انتظامی امور میں گورنر، وزیراعلیٰ کے مشورے پر عمل کرینگے ، لفظ گورنر کی جگہ حکومت استعمال لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور ،5 سال میں وفاق نے صوبے کو این ایف سی کے 31کھرب 14 ارب ، وار آن ٹیرر کی مد میں 3 کھرب 74 ارب د یئے
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصر جاوید ، شان گل، غلام سرور نہنگ ودیگر شامل،1 ایڈیشنل جج کی تقرری کی توثیق کا بھی جائزہ لیا جائیگا20 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کیلئے شاہ رخ ارجمند، واجد حسین ودیگر پر غور ،پشاور،سندھ ،بلوچستان کے ججز کا بھی فیصلہ ہوگا
قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ پر نہیں ہو سکتا، مارکیٹ ویلیو و ترقی امکانات مدنظر رکھنا ضروری:صوابی اراضی کیس معاوضہ کا اصول سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں ہونا چاہیے :تحریری فیصلہ، پختونخوا حکومت کی اپیلیں مسترد، فیصلہ برقرار تاخیر سے دیئے گئے بیانات قابلِ اعتماد نہ ہی الزامات پرسزابرقراررکھی جاسکتی ہے :بلدیہ فیکٹری کیس کا تحریری فیصلہ
ہماری افواج نے بھارت کو جنگ میں عبرتناک شکست دی، مودی کی سازش جانتے ، پاکستانی عوام سیسہ پلائی دیوار ہیںوہ دن دیکھنا چاہتے ہیں جب جی بی اور آزاد کشمیر کے نمائندے وفاق میں مؤثر نمائندگی حاصل کریں:چیئرمین پیپلزپارٹی
ذائقے، تاریخ اور تہذیب کا دلکش سفرہر سال 7 جولائی کو دنیا بھر میں چاکلیٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن چاکلیٹ کی دلچسپ تاریخ، اس کی ثقافتی اہمیت، معاشی کردار اور دنیا بھر میں اس کی غیر معمولی مقبولیت کو اجاگر کرنے کیلئے مخصوص ہے۔7 جولائی کو ورلڈ چاکلیٹ ڈے منانے کی روایت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس دن 1550ء میں چاکلیٹ یورپ میں متعارف ہوئی تھی ‘ تاہم چاکلیٹ کے عالمی دن کا انعقاد 2009 سے شروع ہوا اور اب یہ دنیا کے متعدد ممالک میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ چاکلیٹ صرف ایک میٹھی غذا نہیں بلکہ خوشی، محبت، دوستی اور جشن کی علامت بھی بن چکی ہے۔قدیم تہذیبوں سے جدید دنیا تک چاکلیٹ کی کہانی ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس کی ابتدا وسطی اور جنوبی امریکہ کی قدیم تہذیبوں خصوصاً مایا اور ازٹیک اقوام سے ہوئی۔ ان تہذیبوں میں کوکو کے درخت کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کے بیجوں سے ایک مشروب تیار کیا جاتا تھا جو مذہبی رسومات، شاہی تقریبات اور خصوصی مواقع پر استعمال ہوتا تھا۔ ازٹیک حکمران کوکو کے بیجوں کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ انہیں بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپی مہم جو جب امریکہ پہنچے تو وہ کوکو کے بیج اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ ابتدا میں چاکلیٹ صرف شاہی خاندانوں اور امرا تک محدود تھی لیکن بعد میں اس میں چینی، دودھ اور مختلف ذائقے شامل کیے گئے جس سے یہ زیادہ خوش ذائقہ اور مقبول ہوگئی۔ انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے چاکلیٹ کی تیاری کو آسان، تیز اور نسبتاً سستا بنا دیا جس کے بعد یہ عام لوگوں کی دسترس میں بھی آگئی۔آج چاکلیٹ دنیا کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی غذاؤں میں شامل ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ سالگرہ، شادی، عید، کرسمس اور دیگر خوشی کے مواقع پر چاکلیٹ بطور تحفہ پیش کرنا ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے۔کوکو کی پیداوار میں مغربی افریقہ کے ممالک خصوصاً آئیوری کوسٹ اور گھانا قابل ذکر ہیں۔صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کا استعمال اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیونوئیڈز فراہم کرتا ہے جو دل کی صحت اور خون کی گردش کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔ تاہم چینی اور چکنائی سے بھرپور چاکلیٹ کا زیادہ استعمال موٹاپے، ذیابیطس اور دانتوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔ چاکلیٹ ڈے کی تقریبات اور مقبولیتچاکلیٹ ڈے کے موقع پر مختلف ممالک میں چاکلیٹ فیسٹیول، نمائشیں، کوکنگ مقابلے اور خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں نئی مصنوعات متعارف کراتی ہیں اور صارفین کے لیے خصوصی رعایتوں کا اعلان بھی کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی پسندیدہ چاکلیٹس، گھریلو ترکیبیں اور تصاویر شیئر کرکے اس دن کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی چاکلیٹ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی برانڈز کی مصنوعات ہر بڑے شہر میں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ بیکریوں، کیفیز اور گھروں میں چاکلیٹ سے تیار کردہ کیک، براونیز، ڈیزرٹس اور دیگر اشیا کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔خوشیوں کا عالمی ذائقہورلڈ چاکلیٹ ڈے صرف ایک میٹھی چیز سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں اس طویل سفر کی بھی یاد دلاتا ہے جو کوکو کے ایک چھوٹے سے بیج نے قدیم امریکی تہذیبوں سے شروع کیا اور آج پوری دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ دن اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ذمہ دارانہ خریداری کی حوصلہ افزائی کرنے اور اعتدال کے ساتھ اس لذیذ نعمت سے لطف اندوز ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ چاکلیٹ بلاشبہ ذائقے، خوشی، تہذیب اور انسانوں کو قریب لانے والی ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جسے دنیا بھر میں یکساں محبت سے سمجھا جاتا ہے۔
کیا سائنس نے ایک نئی منزل عبور کر لی؟کائنات کے سب سے پراسرار اور طاقتور اجسام میں بلیک ہولز کو ہمیشہ ایک منفرد مقام حاصل رہا ہے۔ ان کی کششِ ثقل اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ کئی دہائیوں تک بلیک ہول صرف نظریاتی طبیعیات اور فلکیات کا موضوع رہے لیکن اب سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایک ایسا تجربہ کیا ہے جس نے بلیک ہول کے رویے کو سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جرمنی کی پیڈربورن یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے بلیک ہول کی ایک تجرباتی نقل تیار کی جس میں ایسے آثار دیکھے گئے جو معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کے پیش کردہ ''ہاکنگ ریڈی ایشن‘‘ اور بلیک ہول کے آہستہ آہستہ ختم ہونے کے تصور سے مطابقت رکھتے ہیں۔یہ خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ سائنسدانوں نے لیبارٹری میں حقیقی بلیک ہول بنا لیا ہے حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ دراصل محققین نے ایک ایسا تجرباتی نظام تشکیل دیا جو بلیک ہول کی بعض طبیعی خصوصیات کی نقل کرتا ہے۔ اس نظام میں روشنی اور جدید آپٹیکل فائبر ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس میں روشنی کا رویہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے مشابہ ہو جاتا ہے۔بلیک ہول کیا ہے؟بلیک ہول خلا کا وہ خطہ ہے جہاں مادہ انتہائی کثافت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔ اس کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ کوئی بھی شے حتیٰ کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔ بلیک ہول کی سرحد کو ایونٹ ہورائزن کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز اس حد کے اندر داخل ہو جائے تو اس کا واپس آنا ممکن نہیں رہتا۔طویل عرصے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ بلیک ہول صرف مادے اور توانائی کو نگلتے ہیں مگر 1974ء میں برطانوی طبیعیات دان سٹیفن ہاکنگ نے ایک انقلابی نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق کوانٹم طبیعیات کے قوانین کے تحت بلیک ہول مکمل طور پر سیاہ نہیں ہوتے بلکہ نہایت معمولی مقدار میں تابکاری خارج کرتے ہیں، جسے Hawking Radiationکہا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہے تو انتہائی طویل مدت کے بعد بلیک ہول اپنی توانائی کھو کر مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں۔لیبارٹری میں کیا کیا گیا؟اس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک حقیقی بلیک ہول بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک ایسا تجرباتی ماڈل تیار کیا جس میں روشنی کی لہروں کو اس انداز سے کنٹرول کیا گیا کہ وہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن جیسا رویہ اختیار کریں۔تجربے کے دوران محققین نے دیکھا کہ یہ مصنوعی نظام بھی توانائی خارج کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں خود اس نظام کی حالت میں معمولی تبدیلی آتی ہے۔ طبیعیات کی زبان میں اسے بیک ری ایکشن(Backreaction) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس تجربے کو منفرد بناتا ہے کیونکہ اس سے پہلے ہاکنگ ریڈی ایشن کے نظریے کے اس حصے کا براہِ راست تجرباتی مشاہدہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔اس تحقیق کی اہمیتیہ کامیابی اس لیے اہم ہے کہ حقیقی بلیک ہول تک پہنچ کر ان پر تجربات کرنا ممکن نہیں۔ ان کا مشاہدہ صرف دوربینوں اور فلکیاتی آلات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس لیبارٹری میں تیار کیے گئے ایسے اینالاگ نظام سائنسدانوں کو بلیک ہول کے نظریات کو عملی طور پر جانچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔یہ تحقیق کوانٹم میکینکس اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ جدید طبیعیات کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات الگ الگ حالات میں تو انتہائی کامیاب ہیں لیکن انہیں ایک متحد نظریے میں یکجا کرنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ بلیک ہول اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے بہترین قدرتی تجربہ گاہ سمجھے جاتے ہیں۔کیا حقیقی بلیک ہول بخارات بن جاتے ہیں؟سائنسی نظریے کے مطابق ہاں، لیکن یہ عمل ناقابلِ یقین حد تک سست ہوتا ہے۔ ایک ستارے کے انہدام سے بننے والے بلیک ہول کو مکمل طور پر ختم ہونے میں موجودہ کائنات کی عمر سے بھی کھربوں کھربوں گنا زیادہ وقت درکار ہوگا۔ اس لیے کسی حقیقی بلیک ہول کا بخارات بننا انسان شاید کبھی براہِ راست نہ دیکھ سکیں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے مزید تجربات نہ صرف ہاکنگ ریڈی ایشن بلکہ بلیک ہول انفارمیشن پیراڈوکس جیسے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے کئی دہائیوں سے ماہرین فزک کو حیران کر رکھا ہے کہ اگر بلیک ہول بخارات بن کر ختم ہو جائے تو اس میں گرنے والے مادے کا کیا ہوتا ہے؟لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل تیار کرنے کا یہ تجربہ فلکیاتی طبیعیات اور کوانٹم سائنس کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اگرچہ یہ حقیقی بلیک ہول نہیں تھا لیکن اس نے سٹیفن ہاکنگ کے تقریباً نصف صدی پرانے نظریات کو سمجھنے کے لیے ایک راہ ہموار کی ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ سائنس میں بعض اوقات سب سے بڑی پیش رفت براہِ راست کائنات میں نہیں بلکہ ایک لیبارٹری کے محدود ماحول میں ہوتی ہے۔ مستقبل میں اسی نوعیت کے تجربات شاید ہمیں کائنات کے ان رازوں تک پہنچا دیں جو آج بھی انسانی فہم سے باہر ہیں۔
چین جاپان جنگ کا آغاز7 جولائی 1937ء کو بیجنگ کے قریب واقع مارکو پولو پل پر جاپانی اور چینی افواج کے درمیان ایک فوجی جھڑپ ہوئی جو بعد میں دوسری چین جاپان جنگ کا آغاز ثابت ہوئی۔ ابتدا میں یہ ایک محدود تصادم تھا لیکن چند ہی دنوں میں یہ ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہوگیا جو 1945ء تک جاری رہی اور بعد ازاں دوسری جنگ عظیم کے ایشیائی محاذ کا اہم حصہ بن گئی۔اس جنگ میں کروڑوں چینی شہری متاثر ہوئے مورخین کے مطابق مارکو پولو پل کا واقعہ بیسویں صدی کے اہم ترین عسکری اور سیاسی واقعات میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس نے ایشیا میں ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی بنیاد رکھی۔ ہوائی کا الحاق7 جولائی 1898ء کو امریکی صدر ولیم میک کنلے نے نیولینڈز ریزولوشن پر دستخط کیے جس کے ذریعے آزاد جمہوریہ ہوائی کو باضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے چند سال قبل 1893ء میں ملکہ لیلی اوکالانی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا اور امریکی مفادات کے حامی افراد نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ہسپانوی۔امریکی جنگ کے دوران بحرالکاہل میں ہوائی کی تزویراتی اہمیت بڑھ گئی، جس کے باعث امریکی کانگریس نے اس کے الحاق کی منظوری دی۔ بعد ازاں پرل ہاربر امریکی بحریہ کا سب سے اہم اڈہ بن گیا جہاں 1941ء میں جاپانی حملے نے امریکہ کو دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ برائیونی معاہدہ 7 جولائی 1991ء کو کروشیا کے جزائر برائیونی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس نے سلووینیا کی آزادی کے بعد شروع ہونے والی دس روزہ جنگ کا خاتمہ کیا۔ اس معاہدے میں سلووینیا، کروشیا، یوگوسلاویہ اور یورپی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔معاہدے کے مطابق سلووینیا اور کروشیا نے اپنی آزادی کے اعلان پر تین ماہ تک عملدرآمد مؤخر کرنے پر اتفاق کیا تاہم عملی طور پر یہ سقوطِ یوگوسلاویہ کی شروعات ثابت ہوا۔ اگرچہ اس معاہدے نے سلووینیا میں فوری خونریزی روک دی لیکن بعد میں کروشیا اور بوسنیا میں شدید جنگیں شروع ہوگئیں جن میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ مریخ روور اپرچونیٹی7 جولائی 2003ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے مشہور مریخی روور اپرچونیٹی (Opportunity) کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا۔جنوری 2004ء میں مریخ پر کامیاب لینڈنگ کے بعد اس روور نے اپنی متوقع 90 روزہ مدت کے بجائے تقریباً پندرہ برس تک کام جاری رکھا جو خلائی تحقیق کی تاریخ کی غیر معمولی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے ہزاروں تصاویر اور سائنسی معلومات زمین پر بھیجیں جن سے معلوم ہوا کہ مریخ پر ماضی میں مائع پانی موجود تھا۔ اس دریافت نے مریخ پر زندگی کے امکانات سے متعلق تحقیق کو نئی جہت دی۔ 2018ء میں طوفان کے باعث اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ لندن 7/7 حملے7 جولائی 2005ء کو لندن میں ٹرانسپورٹ سسٹم پر چار خودکش بم حملے کیے گئے۔ تین دھماکے زیرزمین ٹرینوں میں جبکہ چوتھا ایک ڈبل ڈیکر بس میں ہوا۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ۔یہ برطانیہ کی جدید تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ تھا۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین سخت کیے، انٹیلی جنس اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا اور عوامی مقامات کی سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس سانحے نے پوری دنیا میں شہری سلامتی، شدت پسندی کے انسداد اور بین الاقوامی تعاون پر نئی بحث چھیڑ دی۔
چین نے سائنس کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دیسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری حاصل کرنا آج کی دنیا میں معاشی اور صنعتی طاقت کی علامت بن چکا ہے۔ جو ممالک جدید تحقیق، مصنوعی ذہانت، خلائی سائنس اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ مستقبل کی عالمی قیادت کیلئے اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس تیار کرکے ایک ایسا سنگ میل عبور کیا ہے جسے نہ صرف سائنسی دنیا میں غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے مستقبل میں صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے ''مصنوعی سورج‘‘ منصوبے کے تحت تیار کیے گئے فیوژن ری ایکٹر کے دو اہم سپر کنڈکٹنگ مقناطیسی نظام کامیابی سے تمام تکنیکی اور عملی آزمائشوں میں سرخرو رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ''ٹورائیڈل فیلڈ‘‘ (TF) سپر کنڈکٹنگ مقناطیس ہے، جو اب تک کسی بھی فیوژن ری ایکٹر کیلئے تیار کیا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا مقناطیس بن چکا ہے۔یہ عظیم الشان مقناطیس اپنے حجم اور صلاحیت کے لحاظ سے بھی حیران کن ہے۔ اس کی لمبائی 21 میٹر، چوڑائی 12 میٹر اور اونچائی 3.3 میٹر ہے، جبکہ اس کا مجموعی وزن 582 ٹن ہے۔ اس کا حجم بین الاقوامی فیوژن منصوبے (ITER )میں استعمال ہونے والے ٹورائیڈل مقناطیس سے تقریباً 1.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ یہ تین گنا زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس منصوبے کی تکنیکی پیچیدگی اور چین کی انجینئرنگ مہارت کا واضح ثبوت ہیں۔سپر کنڈکٹنگ مقناطیس دراصل ٹوکامک فیوژن ری ایکٹر کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنا ہے، جو ایک کروڑ نہیں بلکہ دس کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت پر موجود پلازما کو قابو میں رکھتا ہے۔ اگر یہ مقناطیسی میدان نہ ہو تو پلازما کو کسی مادی برتن میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ اتنی شدید حرارت ہر مادے کو پگھلا سکتی ہے۔ اسی لیے سپر کنڈکٹنگ مقناطیس کو فیوژن ری ایکٹر کا دل تصور کیا جاتا ہے۔اس منصوبے کی تیاری محض ایک صنعتی کامیابی نہیں بلکہ مسلسل چھ برس پر محیط تحقیق، ڈیزائننگ، انجینئرنگ اور سخت آزمائشوں کا نتیجہ ہے۔ اس دوران چینی سائنس دانوں نے 47 نئے پیٹنٹس حاصل کیے اور 14 تکنیکی معیارات بھی مرتب کیے، جو مستقبل میں اسی نوعیت کے منصوبوں کیلئے رہنما اصول ثابت ہوں گے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ چین بنیادی تحقیق کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اسی منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہائی ٹمپریچر سپر کنڈکٹنگ سینٹرل سولینائیڈ کوائل بھی کامیابی سے مکمل بوجھ کی آزمائش سے گزر چکا ہے۔ یہ نظام 60 کلو ایمپئر کے مستحکم برقی رو پر کام کرتا ہے اور 6.03 میگا جولس(megajoules) توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کارکردگی کو عالمی معیار کے مطابق بلکہ کئی حوالوں سے دنیا میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کوائل پلازما کرنٹ پیدا کرنے، اسے برقرار رکھنے اور اس کی ساخت کو کنٹرول کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ دونوں سپر کنڈکٹنگ نظاموں کی بنیادی ٹیکنالوجی مکمل طور پر چین میں تیار کی گئی ہے۔ اس سے بیرونی ممالک پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی اور سپلائی چین سے وابستہ خطرات بھی کم ہوں گے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی مسابقت اور برآمدی پابندیوں کے تناظر میں کسی بھی ملک کیلئے اپنی بنیادی ٹیکنالوجی میں خود کفالت غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔فیوژن توانائی کو مستقبل کی توانائی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ایندھن نسبتاً وافر مقدار میں دستیاب ہے اور اس سے طویل المدتی تابکار فضلہ بھی روایتی جوہری ری ایکٹروں کے مقابلے میں بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ اگر سائنس دان تجارتی پیمانے پر فیوژن توانائی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا کو توانائی کے بحران، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں بے حد مدد مل سکتی ہے۔چین کا ''CRAFT‘‘ (Comprehensive Research Facility For Fusion Technology) پروگرام اسی بڑے مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسی جدید ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے جو مستقبل میں تجارتی فیوژن بجلی گھروں کی بنیاد بن سکیں۔ اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کیلئے ابھی مزید تحقیق، تجربات اور سرمایہ کاری درکار ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین اس دوڑ میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔بلاشبہ دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس صرف ایک سائنسی آلہ نہیں بلکہ جدید تحقیق، قومی خود انحصاری، انجینئرنگ مہارت اور مستقبل کی صاف توانائی کے خواب کی علامت ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں فیوژن توانائی انسانیت کیلئے ایک ایسے دور کا آغاز کر سکتی ہے جہاں توانائی کی فراوانی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی ایک ساتھ ممکن ہو سکیں۔
20 ویں برسی:ان کی شاعری اور افسانوں میں فکری گہرائی اور وسعت کے ساتھ تاریخی اور عمرانی شعور بھی نمایاں ہے:قاسمی صاحب نے لکھا ہے کہ زندگی کے کر بناک حالات انہیں فنکار بنایا، ان کی جگہ کوئی معمولی اور عمومی ذہن کا بچہ ایسے حالات میں پرورش پاتا تو وہ کوئی بھی منفی قدم بھی اٹھا سکتا تھا
رائونڈ آف32 اختتام پذیر:پہلے ناک آئوٹ مرحلہ میں میسی ،صلاح اور ڈیاز نمایاں رہے ،رائونڈ آف 16 کا آغاز
تپتی دوپہر میں ریاض نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی۔ اس کے دوست پسینے سے شرابور، تھکے ہارے بیٹھے تھے۔