نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسرائیل کی فلسطین کیخلاف ریاستی دہشت گردی جاری
  • بریکنگ :- اسرائیلی فورسزکی مغربی کنارےپرفائرنگ،مزید 3 فلسطینی شہید
  • بریکنگ :- رملہ:اسرائیلی حملوں میں شہیدفلسطینیوں کی تعداد 123 ہوگئی
راہِ ہدایت
مومنو،جوپاکیزہ اورعمدہ مال تم کماتے ہو اورجوچیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو ۔ (سورۃ البقرۃ:آیت267)
Coronavirus Updates

دہشت گردوں کو امن تباہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی: آرمی چیف


راولپنڈی: (دنیا نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو امن تباہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مقصد کے حصول تک ذمہ داری ادا کرتے رہیں گے۔



اشتہار

اجلاس 5 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا ،بلوچستان ،خیبر پختونخوا سے موصول شہادتوں پرکمیٹی ارکان کا اختلاف،دیگر شہادتوں کی بنیاد پر اعلان کیا:عبدالخبیرآزادسعودی عرب ،قطر، فلسطین،متحدہ عرب امارات،انڈونیشیا، ملائیشیا ،افغانستان ،برطانیہ ،فرانس ودیگر ممالک میں بھی آج عید،بھارت ،بنگلہ دیش میں چاند نظر نہ آیا

شہباز شریف، مریم نواز،اسد قیصر، قاسم خان سوری و دیگر کی عید کی مبارکباد

امریکی ناظم الامور کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات، افغان امن عمل، علاقائی صورتحال و دیگر امور پر تبادلہ خیالافغان امن عمل کی خلوص نیت کیساتھ حمایت کی:آرمی چیف، انگیلا ایگلر نے امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا

ذیلی کمیٹی کی سفارش پر حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی ، باہرجانیکی درخواست آئی نہ میڈیکل گرائونڈ بتائی گئی:شیخ رشیدحدیبیہ کیس میں بریت نہیں ہوئی،مقدمہ ٹیکنیکل بنیادوں پر بند ہوا،نئے شواہد پر کھولا جا سکتا :شہزاد اکبر،پریس کانفرنس

متفرقات

انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ  ،  سزائے موت سنانے والا انگریز جج ہلاک، کسی افسر کو پھانسی دینے کی جرأت نہ ہوئی

انگریز جج اور مولانا تھانیسری کا عجیب قصہ ، سزائے موت سنانے والا انگریز جج ہلاک، کسی افسر کو پھانسی دینے کی جرأت نہ ہوئی

بارہویں صدی ہجری کے آغاز میں برصغیر پاک و ہند کے افق پرگہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے،جہالت وبربریت کے بادل، وہ مسلمان جن کے دم سے یہاں صدیوں اللہ اور رسول پاک ﷺ کے نغمے گونجتے تھے وہ خود بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور ہو چکے تھے ،وہ مسلمان مدتوں جن کی عظمت کے قصے سنائے جاتے تھے ،جن کی عظمت و شہرت کے پرچم لہراتے رہے ،در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے۔ان کی سلطنت کا چراغ گل ہو چکا تھا، مسلمان بے انتہا زوال کا شکار ہو چکے تھے ۔ان حالات میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ نے تاریکیوں و گمراہیوں کے اس ظلمت کدہ میں حق کے چراغ روشن کئے۔لیکن دنیا ابھی ایک او رمرد میداں کی منتظر تھی اور وہ تھے حضرت مقام محمد اسمعٰیل شہید۔ان کی تحریک زور پکڑنے لگی اور انگریزوں نے گھبرا کر چن چن کر مسلمانوں کو شہید کرنا شروع کر دیا ، انڈیا ان کی قتل گاہ بنتا جا رہا تھا لیکن جانثاروں کے قدم ڈگمگائے نہ کوئی لغزش آئی۔ان رہنمائوں کے دم سے 1863ء میں ایک تحریک شروع ہوئی۔جسے معرکہ ''معرکہ امبیلا‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ امبیلے میں ہونے والی یہ لڑائی کئی مہینے تک جاری رہی، انگریز فوج کے سپاہ سالار جنرل چیمبرلین پرمجاہدین نے چاروں طرف سے دھاوا بول دیا اور وہ امبیلے کی ایک گھاٹی میں محصور ہو کر رہ گئے،انہوں نے پنجاب کی تمام چھائونیوں سے فوج طلب کرلی ،لیکن عوام کے سامنے بے بس رہے ، ان کے سات ہزار تربیت یافتہ گورے سپاہی ،غیر تربیت یافتہ مسلمان دیہاتیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔جنرل چیمبرلین خود بھی زخموں سے چور چور تھا۔ اس جنگ میں جگ ہنسائی کے بعد انگریز وائسرائے لارڈ ایلجن انڈیا سے لندن پدھار گیا۔1864ء میں انگریز انتظامیہ نے اس تحریک کے رہنمائوں کو چن چن کر گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ مولانا محمد جعفر تھانیسری بھی انگریزوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے۔ وہ بھی تحریک میں پیش پیش تھے۔ ان کے خلاف ایک سپاہی نے انگریز افسروں کے کان بھر دیئے تھے ۔غزن خان نامی ایک افغان پانی پتی کرنال چوکی میں بطور سپاہی تعینات تھا ۔ اس نے ترقی کے لالچ میں جعفر تھانیسری کے بارے میں کہانی گھڑ کر آگے بیان کر دیں۔ڈپٹی کمشنر نے اطلاع ملتے ہی تھانیسری کی تلاشی کا پروانہ روانہ کر دیا ۔تار کے انبالہ پہنچتے ہیڈ سپرٹنڈنٹ بھاری جمعیت کے ساتھ گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ پولیس کو وہاں سے دینی رہنمائوں کے کچھ خطوط ملے جنہیں وہ مشکوک جان کر ساتھ لے گئے۔بعد ازاں ان خطوط کی بناء پر ان کی گرفتاری کا بھی فیصلہ ہوا۔مگر اس وقت تک وہ فرار ہو چکے تھے۔ حکومت نے گرفتاری کیلئے سر کی قیمت دس ہزار روپے مقرر کر دی۔قیمت بہت زیادہ تھی، مخبری ہو نے پر جلد ہی علی گڑھ میں دھر لئے گئے ۔جیل کا کھانا دو روٹیوںاور ساگ پر مشتمل تھا، ساگ میں ڈنٹھل زیادہ تھے جنہیں چبانا بھی مشکل تھا۔ اسی لئے جب قیدیوں کو پیسنے کے لئے گندم دی جاتی تھی تو یا تو سیروں گندم ہی کچی چبا جاتے تھے یا پھر آتے کو پانی میں ملا کر پی لیتے تھے۔ اگلے روز تھانیسری کو ڈی سی کے بنگلے پر پیش کیا گیا۔انہوں نے سرکاری گواہ بنانے کے لئے ساتھیوں کے نام پوچھے ، اور رہائی کے بعد ایک بڑے عہدے پر لگانے کی پیش کش بھی کی مگر تھانیسری نے صاف انکار کیا۔ہر طرح سے مایوس ہونے کے بعد ڈی سی نے انہیں رات آٹھ بجے واپس جیل بھجوا دیا ۔علی گڑھ میں مظاہروں کا اندیشہ تھا لہٰذا مقدمہ انبالہ میں چلایا۔ان کے مقدمے کی کہانی بھی عجیب ہے، جعفر تھانیسری جو کچھ بھی کہتے، ریکارڈ کاحصہ ہی نہیں بنایا جاتا، جبکہ بے سر و پاء الزامات ان کے سر تھوپ دیئے گئے۔اس دوران ایشری پرشاد (استغاثہ)نے انہیںنپولین اور مہدی سوڈانی جیسا انگریزوں کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی۔کچھ عرصے بعد یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں پیش ہوا۔عدالت میں پیروی کے لئے مولاناعبدالرحیم، الہٰی بخش، میاں جان منشی عبدالغفور اور کئی دیگر قیدیوںنے حکومت کی جانب سے پیش کردہ وکیلوں کے وکالت ناموں پر دستخط کر دیئے مگر تھانیسری نے خود مقدمہ لڑنے کا قصد کیا۔جبکہ سرکاری وکیل میجرنکفیل اور پارسن تھے۔ان کے پاس تھانیسری کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔لوگ سرکاری وکلاء کی بے بسی پر ہنستے تھے۔جب کچھ نہ بن پڑا تو جج صاحب نے کہا، ''تمہارے جواب کا کوئی فائدہ نہیں ہے بہتر ہے کہ تم اپنا گناہ تسلیم کر لواور عدالت سے مہربانی اور رحم کی اپیل کر کے معافی مانگو‘‘۔ہمارے ساتھیوں کے وکیل بہت قابل تھے انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ جس جگہ کو وقوعہ کا مقام بتایا جا رہا ہے وہ حکومت کے دائرہ کار میں شامل ہی نہیں ہے۔اس لئے اسے کیس کی سماعت کا سرے سے اختیار ہی نہیں ہے۔ اس دوران وائسرائے سے بھی مشورہ کیا گیا انہوں نے ہر صورت میں سزا دینے پر زور دیا۔طریق کار کے مطابق 2مئی 1864ء کو تھانیسری نے اپنے گواہ پیش کئے تو انہیں سننے کی بجائے اچانک فیصلہ سنا دیا گیا۔ پھانسی کی سزا ہوئی، انگریز جج نے تمام جائیدادوں (جو زیادہ نہ تھیں) کی ضبطی کا حکم بھی صادر کیاتاکہ بچے بھی سڑکوں پر آجائیں اور کوئی کچھ نہ کر سکیں ۔ یوں اپیل کے راستے بھی بند کر دئیے گئے۔جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ '' تم بہت ذہین فطین، صاحب علم اور قانون دان ہو، شہر کے نمبردار اور رئیس ہونے کے باوجود تم نے اپنا علم وہنر اور دھن دولت کو سرکار کے خلاف استعمال کیا، اور عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی بجائے صرف انکار سے کام چلایا ۔لہٰذا پھانسی کے حقدار ہو، اور میں تمہیں پھانسی گھاٹ پر لٹکتا ہوا دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سمائوں گا‘‘۔جعفر تھانیسری سزا سننے کے بعد پرسکون رہے۔ بلکہ جج کی خوشی میں وہ خود بھی شریک تھے، انگریز حیران تھے کہ دنیامیں ایک شخص ایسابھی ہے جسے سزائے موت کا کوئی خوف نہیں بلکہ وہ اس حالت میں بھی مسکرا رہا ہے جس حالت میں دوسروں کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں ۔تھانیسری نے عدالت میں صرف اتنا کہا......''تم کیا میری جان لو گے ، جان دینا اور لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے،وہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے اس بات پر بھی کہ وہ میری موت سے پہلے تمہاری جان نکال لے‘‘۔ان کے اس جملے کی گونج دور دور تک سنی گئی۔ہر جگہ ان کی ہمت کے چرچے ہوئے۔اپیل کا حق بنتا تھا لیکن کرتے کس کے پاس؟ اور پیسے کہاں سے لاتے؟ پھر ہر جگہ ان کا سامنا الزامات سے کم اور ایک سوچ سے زیادہ تھا۔مسلمانوں کو کچلنے کی سوچ۔ پھانسی کی سزا سنانے کے بعد بھی انگریزوں نے معافی کی گنجائش رکھی، کئی طرح کے لالچ دیئے گئے، ساتھ دینے پر سزا کا پروانہ پھاڑنے کا بھی ذکر ہوا لیکن تھانیسری کہتے ہیں کہ ''میں گرفتاری کے خوف سے بھاگ نکلا تھا ،میرے اللہ کو اسلام کی راہ میں میرا ڈرجانااچھا نہیں لگا اور اس نے مجھے پکڑوا دیا۔ لہٰذ ا دوبارہ میں نے یہ حرکت نہ کرنے کی ٹھان لی تھی‘‘۔ان کی دلیری کا سن کر جیل میں انہیں دیکھنے کیلئے آنے والوں کاتانتا بندھ گیا۔ایک گورے نے سوال کیا کہ '' پھانسی کی سزا سننے کے بعد یہ مسرت کیسی؟ آپ نے کہا.... ''اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ مجھے اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو رہی ہے ؟اسی دوران ایک انہونی ہو گئی۔پھانسی کی سزا سنانے والا جج چند ہی دنوں میں قضائے الہٰی سے ہلاک ہو گیا۔اب پھانسی کی سزا پر عمل کرنے کی ہمت کسی انگریز میں نہ ہوئی ۔چنانچہ سزا کو فوراََ ہی عمر قید میں بدل دیا گیا۔فروری 1865ء تک انبالہ جیل میں رکھنے کے بعد لاہورکی جیل میں منتقل کر دیئے گئے۔ یہاں سے 22فروری کوملتان منتقل کئے گئے لیکن پھر سکھر ٹھٹھہ، کوٹری اور کراچی کی جیلوں کے رنگ بھی دیکھے ۔ ایک ہفتہ کراچی میں رکھنے کے بعد بذریعہ سمندری جہاز ممبئی روانہ کئے گئے۔ 8 دسمبر 1865 ء کو وہاں سے کہیں اور منتقل کرنے کے بعد 22جنوری 1868ء کو کالا پانی بھجوا دیئے گئے ۔ کالا پانی سے 17سال 10ماہ بعد ایک بیوی اور دس بچوں کے ساتھ ہندوستان روانہ ہوئے اور 20نومبر کو انبالہ پہنچئے!(مولانا جعفر محمد تھانیسری کی کتاب ''کالا پانی سے منقبس)

ہوائی جہازوں کی ریس، خواتین پائلٹس کی ریس کو سرخی پاؤڈر ریس کہا جانے لگا

ہوائی جہازوں کی ریس، خواتین پائلٹس کی ریس کو سرخی پاؤڈر ریس کہا جانے لگا

ہوائی جہازوں کی ریس کا کبھی آپ نے سنا ہے ؟12مارچ 2021ء کوسماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہوائی جہازوں کی ایک ریس اپ لوڈ ہوئی جسے ایک کروڑ پندرہ لاکھ افراد نے دیکھا۔ ایک مسافر ٹوہے میٹ ( TahoeMatt) نے دو جہازوں کی ریس کی وڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ ''دو طیاروں کی فضا میں ریس ابھی ابھی ختم ہوئی ہے‘‘۔ مسافر میٹ شیشے کے ساتھ تونہیں بیٹھے تھے لیکن بیرونی مناظر صاف نظر آ رہے تھے۔پھر ان کا شعبہ بھی ریکارڈنگ کرنا ہے اس لئے انہوں نے ریس بھی ریکارڈ کر لی۔اس روز وہ بوئنگ 787-8 میں سوار تھے،ان کے طیارے نے حسب معمول سان فرانسسکو کے ہوائی اڈے سے ٹیک آف کیا۔کیا دیکھتے ہیں کہ اسی ہوائی اڈے سے ٹیک آف کرنے والا ایک اور بوئنگ طیارہ بھی قریب ہی پرواز کر رہا ہے۔ ابھی وہ اسے نوٹ کر ہی رہے تھے کہ ایک آواز گونجی:'' لیڈیز اینڈ جینٹل مین !میری بات سنو ،میں طیارے کا کپتان ہوں۔اگر آپ مڑ کر اپنے دائیں جانب دیکھیں تو ایک اور طیارہ آپ کے سامنے ہو گا، یہ ہے فلائٹ 198 .... اس پرواز کا کپتان ہمیں ریس لگانے کے لئے چیلنج دے رہا ہے، کیا آپ تیار ہیں؟ سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے، کیونکہ یہ سب کچھ حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے‘‘۔اس کے ساتھ ہی طیارے میں سیٹ بیلٹ باندھنے کی بتیاں روشن ہو گئیں۔بس پھر کیا تھا دونوں طیارے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ،پہلو بہ پہلو ہوا میں اڑنے لگے ۔کچھ منٹ کے مقابلے کے بعددونوں اپنی الگ ہو گئے ۔اس ریس کے بارے میں سینڈرا پیڈرسن نے لکھا کہ ''مسافر ہوتی تو میرا دل ہی بند ہو جاتا‘‘ ۔انتیا نے ریمارکس دیئے کہ '' سبھی نے جہاز سے اترنے کے بعد شکرادا کیا ہوگا ،زندگی بچ گئی اور خطرناک سفر سے بھی لطف اندوز ہوئے ، ٹکٹ میں یہ نیا اضافہ ہے‘‘۔ہوائی جہازوں کی ریسیں کیوں بند ہوئیں : 2019ء تک ہوائی جہازوں کی ریسیں ہوا کرتی تھیں۔کورونا کی وجہ سے روک دی گئی ہیں۔کورونا وباء کے خاتمے کے ساتھ ہی ہوائی جہازوں کی ریسوں کا دوبارہ آغاز ہوگا ، پھر ''پائلٹ آف دی ایئر‘‘ کے انعامات دیئے جائیں گے۔دوسرے مقابلوں کی طرح اس کھیل میں بھی کئی پائلٹس نے جانیں گنوائیں ،کئی طیارے تباہ ہوئے لیکن کسی نے ہمت نہیں ہاری ۔سرخی پائوڈر ریس: کئی خواتین نے بھی عالمی سطح پر نام کمایا ۔ 1929ء میں ''ویمنز ڈربی ‘‘ کے نام سے خواتین کے مقابلے شروع کئے گئے تھے۔بعض افراد نے ان مقابلوں کو '' میک اپ ڈربی‘‘ کہنا شروع کر دیا اور کچھ نے ''سرخی پائوڈر ڈربی‘‘ کے نام سے یاد کیا۔ یہ مقابلے 1949ء تک جاری رہے۔1947ء میں ''آل وویمنز بین البراعظمی ایئر ریس ‘‘ بھی شروع ہو گئی۔یہ مقابلے 1977 تک جاری رہے ۔ جہازوں کی بربادی کے باوجود خواتین حصہ لیتی رہیں، ہوا باز فلورنس لوو پنچو بارنس نے بہت نام کمایا۔جہازوں کی پہلی ریس:پہلی دوڑ 23مئی 1909ء کو فرانس میں ''ایوی ایشن ائرپورٹ ‘‘پر ہوئی تھی، جس میں چار ہوا بازوں نے حصہ لیا تھا۔اس ریس میں لیپس فاتح قرار پائے۔ 22سے 29 اگست 1909ء تک فرانس کے ایک اور ہوئی اڈے پر بھی فضائی ریس کے مقابلے منعقد ہوئے جس میں مالی تعاون کیلئے طیارہ ساز کمپنیاں بھی شریک ہوئیں۔ چنانچہ پہلا اہم مقابلہ '' فرسٹ گارڈن بینٹ ٹرافی کمپی ٹیشن‘‘ کہلاتا ہے۔گلن کرٹس اس مقابلے کے فاتح قرار پائے۔لوئیس بلیرئٹ صرف پانچ سیکنڈ پیچھے رہنے کی وجہ سے مات کھا گئے۔چنانچہ کرس کو '' چیمپئن آف دی ایئر ریسر ورلڈ ‘‘ کا ٹائٹل مل گیا۔امریکہ میں جہازوں کی پہلی ریس: پہلی ریس 10 سے20جنوری 1910ء تک لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر منعقد ہوئی۔ریس کا اہتمام پائلٹس رائے نیبن شو اور چارلس وللرڈ نے ریلوے بزنس کے ٹائیکون ہنری ہنگٹن اورلاس اینجلس مرچنٹ اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ا یشن کے اشتراک سے کیا تھا۔43پائلٹس نے نام لکھوائے مگر مقابلے کے دن 16پائلٹس پیش ہوئے۔جنگ عظیم اول سے پہلے کا کھیل: جنگ عظیم اول سے پہلے یورپ میں ہوائی جہازوں کی ریسیں کافی مقبول ہو چکی تھیں ۔ان مقابلوں میں 1911ء میں شروع ہونے والے ''سرکٹ آف یورپ ریس ‘‘، ''دی ڈیلی میل سرکٹ آف بریٹن ایئر ریس ‘‘ اور ''ایرئیل ڈربی‘‘ کے مقابلے بھی شامل تھے ۔ 1913ء میں ''سی پلین ریس ‘‘ کے اولین مقابلے بھی منعقد ہوئے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران کچھ تعطل آ گیا۔جنگ بند ہوتے ہی مقابلے پھر شروع ہو گئے ،یہی وجہ ہے ، یورپ کو دوسری جنگ عظیم میں بہترین پائلٹس مل گئے تھے ۔بین البراعظمی ریس:19اکتوبر 1919ء میں بین البراعظمی ریس کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ ہوابازوں نے نیو یارک سے سان فرانسسکو تک 2700میل (4345کلومیٹر) کا فاصلہ طے کرنا تھا ۔ 1924ء میں امریکہ میں پہلی ''نیشنل ایئر ریس‘‘ کے مقابلے شروع ہوئے۔بعد ازاں کئی دیگر ممالک میں بھی قومی مقابلے شروع ہو گئے۔ 1970ء میں امریکہ کی ''فارمولہ ون ریسنگ ‘‘کو یورپ نے بھی اپنا لیا۔ اس میں ہر طیارے کو الگ الگ اڑانے کے بعد ان کا وقت نوٹ کیا جاتا ہے۔ 2019ء میں ''ریڈ بل ایئر ریس ورلڈ چیمپئن شپ ‘‘ اہم مقابلوں میں شامل تھی۔اہم ''ریسر‘‘:فضائی ریسنگ کے حوالے سے اینتونیو دی سینٹ، فلورنس ، پنجو بارنس ، لوول بیلز، آندرے بیومنٹ، جیکولین ککران، گلین کرٹس، پیٹر بیسینئی، ایلن کوبہن، جیفرے ڈی واوی لینڈ، پائول بونہومی، جمی ڈولٹل، ایملیا ایئرہارٹ، رولینڈ گراس، یوگین گلبرٹ، کلاڈ گراہم، ہنری ہاکر، فرینک ہاکس، ایلیکس ہین شاء، سکپ ہوم، ایمی جانسن،مارٹن سونکا، فلوریان برگر، مائیکل بریکجٹ، نائجل لیمب، مائیک مین گولڈ میتھیاز گوڈرر اور ہینس آرچ نامی پائلٹس اہم ہیں ۔

تھکن سے بچنے کے آسان طریقے

تھکن سے بچنے کے آسان طریقے

مسلسل کام کرنے سے تھکن اور اکتاہٹ فطری بات ہے، کام کرتے کرتے تھک جانا کوئی نئی بات نہیں ،لیکن مسلسل کام کرتے چلے جانا اچھی علامت نہیں ہے، یہ دراصل ایک ایسے مرض کی علامت ہے جس میں فرد یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ جیسے اسے کسی کام یا ادارے سے محبت سی ہو گئی ہے اور وہ وہی کام کرتا چلا جاتا ہے،تھک جاتیا ہے لیکن کرتا رہتا ہے۔ آپ اسے ''برن آئوٹ کی شروعات بھی کہہ سکتے ہیں۔بیماری کی علامت: ''عالمی ادارہ صحت‘‘ نے اس نئے مرض ''برن آئوٹ ‘‘ سے خبردار کیا ہے۔ اس مرض کا شکار لوگ کام کے دوران تھک جاتے ہیں لیکن کام ترک نہیں کرتے۔فرض کیجئے کہ ان کے ہاتھ میں موبائل ہے تو وہ موبائل پر کام کرتے ہی رہیں گے ۔خواہ کھانا کھا رہے ہوں یا پھر واش روم میں چلے جائیں، لیکن وہ موبائل کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہ محنتی ہونے کی نہیں بلکہ بیماری کی علامت ہے۔ کچھ اداروں نے اسے ''عالمی وبائی مرض ‘‘ قرار دیا ہے۔برن آؤٹ دراصل ایک وارننگ ہے جو دماغ دے رہا ہوتا ہے کہ اب کام روک دیا جائے ۔یہ مرض یکدم لاحق نہیں ہوتا ماہرین نے اس کے پانچ مرحلے بتائے ہیں۔مسلسل ذہنی دباؤ کا احساس: اس صورت میں فرد محسوس کرتا ہے کہ ابھی ڈھیر سارا کام باقی ہے، اسی خیال کے ساتھ آنکھ کھلتی ہے۔ نیند بھی اسی کیفیت میں آتی ہے۔دوسرا مرحلہ: فرد کام کر درمیان وقفہ لینا بند کر دیتا ہے ۔گھر میں اور چھٹی کے دن بھی کام جاری رہتا ہے۔تیسرا مرحلہ: جسمانی علامات آہستہ آہستہ بڑھنے لگتی ہیں۔ سر درد ،مگرین کی شکایت، جسم میں درد رہنااور بار بار زکام ہونا۔چوتھا مرحلہ:فرد غصے اور بے صبری کا شکار ہو جاتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض یا بحث میں پڑ جاتاہے۔ زیادہ غلطیاں کرنے لگناہے ۔ پیٹھ، کمر اور گردن میں درد بھی ہونے لگتا ہے۔پانچواں مرحلہ: گھبراہٹ ،تھکن ،ڈیپریشن پیدا ہو جاتی ہے۔تھکن کے باوجود کام کرنے کے نقصانات :یہ مرض فرد کوایسے کھوکھلا کر دیتا ہے جیسے لکڑی جل کر بھربھری ہو جاتی ہے۔مرض اگر بڑھنے لگے تو ڈپریشن یا دائمی سٹریس میں بدل سکتا ہے ۔ جاپان میں ا سی مرض کو خود کشی کا بڑا سبب سمجھا جا رہا ہے۔ایک سروے کے مطابق اس مرض یعنی ''برن آئوٹ ‘‘ کا سب سے زیادہ نشانہ برطانوی شہری بن رہے ہیں۔جہاں 57فیصد ملازمین نے یہ شکایت کی ہے۔پاکستان میں بھی یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔اس سے متلی کے علاوہ مگرین ،پیٹ میں شدید درد، جلد پر خراشوں اور ایکزیما کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔تھکن کا علاج:ماہرین نے ''برن آئوٹ‘‘ کا آسان سا حل ڈھونڈ لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کئی طریقوں سے آپ تھکے بغیر کام کی مقدار اور معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ہی ضروری ہیں۔ اس بات کا بھی خیال رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف بنایا ہے لہٰذا ہر کلیہ آپ پر فٹ نہیں آئے گا،بلکہ ہر ایک کو نیا انداز اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ٹھنڈے ملک میں رہنے والے لوگ ٹھنڈے پانی کا شاورلینا شروع کر دیں تو وہ خود کو مشکل میں ڈال دیں گے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے مقدار پر زور دیجئے کیونکہ مقدار بڑھنے کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ میعار خود ہی بہتر ہو جائے گا اس میں پختگی آجائے گی،سب سے پہلے وہ کام کیجئے جس میں آپ کی دلچسپی زیادہ ہو۔گھریلو کام کے دوران آرام کیسے؟: گھروں میں بچوں کے ساتھ والدین کو کسی نہ کسی حد تک ملٹی ٹاسکنگ کرنا ہی پڑتی ہے ،وہ اس سے بچ نہیں سکتے۔پھر چھوٹے گھروں یا چھوٹے کمروں میں کام مسلسل کرنے سے بھی گریز کیجئے،آپ کام کی جگہ بھی بدل سکتے ہیں، ایک ہی چھوٹی سی جگہ جم کر کام کرنے سے تھکن ہو سکتی ہے۔اگر آپ کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں تو گھر جاتے (یا آتے ) وقت کچھ دیر کسی باغ میں بیٹھ کر بھی کام کر سکتے ہیں جیسا کہ سوشل میڈیا کا استعمال یا وڈیوز کی اپ لوڈنگ۔ اپنی کوئی بات کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیجئے،اچھا لگے گااور کام کی مقدار بھی بڑھ جائے گی۔صاف ستھری اور ہوا دار جگہ پر کام :اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آفس یا گھر میں کام کی جگہ زیادہ صاف نہیں ہے تو کتنی دیر لگے گی؟آپ خود صاف کرلیجئے۔ گھرکے کچن کو بھی صاف ستھرا بنا ئیں گے تو آپ کا دل بھی وہاں کام کرنے کو چاہے گا۔ صرف پانچ منٹ میں آپ کے سامنے ایک اچھا صاف ستھرا کچن ہو گا۔اسی طرح آپ چند ایک برتنوں کی صفائی بھی کر سکتے ہیں ورنہ یہ سارا سارا دن (اگرآپ گھر پر کام کر رہے ہیں تو )آپ کا موڈ آف کرتے رہیں گے۔ آپ کی چھٹی خراب ہو گی۔ کام کی مقدار اور معیار کو بہتر بنانے کے لئے سب سے پہلے کام کی جگہ کو صاف ستھرا، ہوا دار اور اچھا رکھنا ضروری ہے۔گھٹن آپ کو تھکا دے گی۔ انجوائے منٹ بھی لازمی ہے اسے کام کاحصہ جانیے۔کام کے دوران وقفہ لے کر انٹرنیٹ پر ڈرامہ یا فلم بھی انجوائے کر سکتے ہیں، اس سے کام کی رفتار بھی بہترہو جائے گی اور خود کو وقت دینے کا موقع بھی مل جائے گا ۔گھریلو کام کرنے والوں کی صلاحیت میں اضافہ:میں آپ کو یونیورسٹی آف انڈیانا کی ایک شاندار تحقیق سے آگاہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں ۔ ان کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ '' گھروں میں کام کرنے والے افراد دوسروں کی بہ نسبت زیادہ متحرک اور خوشگوار موڈ میں رہتے ہیں۔ کیونکہ بے ترتیبی سے سٹریس ہارمونز کارٹیسول (cortisol) کا اخراج بڑھنے سے اہل خانہ کا موڈآف ہو سکتا ہے ، ڈپرپشن کا بھی اندیشہ ہے ۔ یہ ہارمونز خون میں شوگر کی مقدار میں اضافے کا موجب بنتے ہیں ۔40منٹ کام کے بعد 5منٹ کا آرام :ہر 40منٹ کام کے بعد 5منٹ آرام کیجئے۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ کمپیوٹر اور موبائل فون کی نیلی روشنی آنکھوں کے لئے نقصاندہ ہے ، پانچ منٹ کے وقفے کے دوران آدھے منٹ کے لئے کسی دور کی شے کو دیکھئے، اس سے نیلی روشنی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔اس ضمن میں فون میں ٹائمر بھی لگا سکتے ہیں۔

روم۔۔عظیم سلطنت سے شہر کیسے بنا؟    کئی موجودہ ممالک انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل ہوا کرتے تھے

روم۔۔عظیم سلطنت سے شہر کیسے بنا؟ کئی موجودہ ممالک انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل ہوا کرتے تھے

روم تاریخ عالم کا ایک قدیم ترین اور مختلف ثقافتوں کا حامل عظیم شہر گرداناجاتا تھا۔یہ مرکزی اٹلی کے علاقے لازیو میں واقع تھا۔ قدیم روایتوں کے مطابق 753 قبل مسیح میں روم کا شہر دیوتا مارس کے بیٹے رومولس نے اپنے بھائی ریموس کو قتل کر کے دریائے ٹیبر اور دریائے آنییے کے کنارے سات پہاڑوں پر بسایا تھا۔اس کی آبادی 5.7 کروڑ اور رقبہ 59 لاکھ مربع کلو میٹر تھا۔ وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی موجودہ ممالک جن میں انگلستان ، اسپین ، فرانس، اٹلی ، یونان ، ترکی اور مصر اس میں شامل تھے اس عظیم سلطنت کا حصہ ہوا کرتے تھے۔لیکن 286 قبل مسیح کے بعد سلطنت روم میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں تو شام اور مصر سلطنت روم کی دست برد سے باہر ہو گئیں۔ یہ یورپ میں سب سے قدیم اور مسلسل زیر قبضہ شہروں میں تصور ہوتا ہے۔اسکی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیسکو نے اسے عالمی ورثے میں شامل کر رکھا ہے۔509 قبل مسیح میں یہ رومن جمہوریہ میں تبدیل ہوا جس کی پارلیمنٹ دو منتخب شورائی نظام سینیٹ اور کونسل سے تشکیل پائی۔یہ دراصل جمہوریت کی ابتدائی شکل تھی جو آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک میں ملتے جلتے ڈھانچے کے ساتھ نافذ ہے۔ سینیٹ ،اسمبلیاں ، ووٹنگ سسٹم اور ویٹو پاور روم ہی کی اختراع تھی۔27قبل مسیح میں اس سلطنت کا پہلا بادشاہ آگسٹس سیزر تھاورنہ اس سے پہلے روم ایک جمہوری ملک تھا جو سیزر اور پومپئے کی خانہ جنگی اور گائس مارئیس اور سولا کے بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث کمزور ہوتا چلا گیا ۔مغربی رومی سلطنت 4 ستمبر 476 عیسوی کو جرمنوں کے ہاتھوں تباہ ہوئی جبکہ بازنطینی سلطنت 29 مئی 1453 ء کو عثمانیوں کے ہاتھوں فتح قسطنطنیہ کے ساتھ ختم ہو گئی ۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک زمانے میں روم جو ایک وسیع و عریض ملک اور سلطنت کی حیثیت سے اعلیٰ درجے کی تہذیب و تمدن کی شناخت رکھتا تھا اب نہ ہی ایک سلطنت اور نہ ہی ایک ملک رہا ہے بلکہ سکڑتے سکڑتے اٹلی کے دارالحکومت تک محدود ہو کے رہ گیا ہے۔روم اب ایک میٹروپولیٹن شہر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک سے شہر میں تبدیل ہو جانے والے شہر کے اندر ہی دو نئے خود مختار ملکوں '' ویٹی کن سٹی‘‘ '' ہولی سی ‘‘ نے جنم لیا ۔قدیم مذہب:قدیم رومی مذہب ریلیجیو رومانا تھا ۔ بعد میں جوں جوں روم کے اندر دوسری تہذیبیں ضم ہوتی چلی گئیں تو کئی دیگر مذاہب بھی شامل ہوتے چلے گئے۔اسی طرح تاریخ کی کتابوں میں قدیم ترین مذہب یہودیت کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ جب مسیحیت کا آغاز ہوا تو پہلے پہل اسے زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن چوتھی صدی عیسوی تک مسیحیت خاصی پھیل چکی تھی۔جبکہ روم میں 313 ء کے اوائل میں اسے قانونی تحفظ تو دے دیا گیا لیکن طویل عرصے تک مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 380 عیسوی میں عیسائیت کو باضابطہ مذہب کا درجہ ملنے سے یہ شہر عیسائیت کاپہلا اہم مرکز بنا۔ کچھ روایات کے مطابق یہیں پر پہلی صدی عیسوی میں سینٹ پیٹر ( پطرس)اور سینٹ پاول (پولس)کا قتل ہوا تھا۔ یہیں سے روم کے لاٹ پادری نے بعد میں پوپ یا پاپائے روم کا لقب اپنایا۔اور اس کو باقی تمام پادریوں پر برتری حاصل ہوئی۔رومی سلطنت کے زوال کے اسباب :رومی سلطنت کے زوال پر مور خین اور ناقدین بہت عرصے سے تجزئیے کرتے آ رہے ہیں لیکن سب سے اہم تجزیہ ایڈون گبن کاہے۔جس نے رومی دور کے کھنڈرات کی ''عظمت‘‘ سے متاثر ہو کر تباہی کی وجوہات جاننے کا تہیہ کیا تھا۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ اپنے زمانے کی وسیع و عریض اور مضبوط سلطنت رفتہ رفتہ کھنڈرات میں کیوںبدلتی چلی گئی؟۔وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اداروں کی سیاست میں بے جا مداخلت، اپنی مرضی کے حکمرانوں کومنتخب کرانے ، رومی شہنشاہوں کے یکے بعد دیگرے قتل ، سرحدوں پر حملوں اور زراعت کی تباہی کی وجہ سے یہ سلطنت سکڑتی چلی گئی۔ بے روزگار کسانوں کی شہروں کی طرف نقل مکانی اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے شہروں میں صفائی کا نظام قائم نہ کیا جا سکا ۔ رہی سہی کسر عوامی جھگڑوں اور فسادات نے پوری کر دی جن سے شہری غیر محفوظ ہوگئے تھے۔ امراء نے دیہات میں محلات بنا لئے تھے جس سے ریاست روم کی جڑیں کھوکھلی کرتے چلے گئے۔اس تبدیلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک جانب رومی معاشرہ ذہنی طور پربنجر ہو گیا تو دوسری طرف اس کی افواج اس قابل نہ رہیں کہ وہ باربیرین قبائل کا مقابلہ کرسکتیں۔چنانچہ 410 عیسوی میں ویزو گوتھ روم پر قابض ہوئے اور مغربی رومی ایمپائر کا خاتمہ ہو گیا۔کتنی عجیب بات ہے کہ ایک وقت میں رومیوں سے شکست کھانے والے شہر میں فاتح بن کر آئے۔اور یوں اپنے وقتوں کی وسیع و عریض رومن سلطنت اپنے انجام کو پہنچی۔ اپنے وقت کی ترقی یافتہ سلطنت نے دوسرے ملکوں کو بھی سائنس ، فن تعمیر، ریاستی ڈھانچے کے علوم اور فن حرب سمیت بے شمار شعبوں میں رہنمائی مہیا کی۔ لیکن تاریخ دان یورپ کے اس کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پڑوسی قبائل کو غیر مہذب اور وحشی کا لقب دے کر ان کا قتل عام کیا ۔ ان کو اپنا غلام بنایا اور ان کی دولت لوٹ کر محلات اور پر شکوہ عمارات تعمیر کیں ۔ یہ تاریخ کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ان کے پرامن ہمسایہ قبائل غیر مہذب ٹھہرے جبکہ بلا اشتعال حملے کر کے لوٹ مار کا بازارگرم کرنے والے مہذب گردانے گئے۔

علامہ اقبال کا خطبہ عید الفطر

علامہ اقبال کا خطبہ عید الفطر

9 فروری 1932ء کو عید الفطر کے موقع پر علامہ اقبال نے بادشاہی مسجد لاہور میں خطبہ دیا۔ لاؤڈ سپیکر کا انتظام تھا۔ذیل میں اس کی مکمل تفصیل شائع کی جا رہی ہے۔’’ملّتِ اسلامیہ!قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اُترا،لوگوں کیلئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں،تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے۔یہی ارشادِ خداوندی ہے جس کی تعمیل میں آپ نے ماہِ رمضان کے پورے مہینے روزے رکھے اور اس اطاعت ِ الٰہی کی توفیق پانے کی خوشی میں آج بحیثیت قوم خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لانے کیلئے جمع ہوئے ۔

شکر کا دن

شکر کا دن

عید کے دن نماز کی ادائیگی کیلئے عید گاہ کی طرف جانااور تمام مسلمانوں کا ایک امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنا اسلام کی شان و شوکت کا اظہار ہے

 عید الفطر

عید الفطر

ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کا صحیح شکراسی صورت میں بجالا سکتا ہے جبکہ وہ اس کے دئیے ہوئے رزق اور اس کی دی ہوئی نعمت ِہدایت پر بھی شکر ادا کرے جو قرآن کی شکل میں اس کو عطا ہوئی ہے

فیضان عید

فیضان عید

کرم بالائے کرم ہے کہ اللہ نے ہمیں رمضان کے فوراً بعد عید الفطر کی نعمت عظمیٰ سے سرفراز فرمایا زندگی کا بہترین دستور العمل (قرآن ) پاکر اور ایک مہینے کے سخت امتحان میں کامیاب ہوکر مسلمان کا خوش ہونا فطری بات ہے

عید !روایتیں برقرار،انداز بدل گئے
2021-05-08

عید !روایتیں برقرار،انداز بدل گئے

شرکاء شائستہ آپا ، نائب صدر اور ڈائریکٹر گل رعنا نصرت کمیونٹی سینٹر ۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان، صدرکوہی گوٹھ اسپتال اوروائس چانسلرملیر یونیورسٹی۔ احمد حسن ،ایڈیٹر روزنامہ دنیا کراچی۔گل رعنا ،معروف ٹی وی آرٹسٹ ۔ڈاکٹر عائشہ ،لیکچرار شعبہ اسلامک لرننگ جامعہ کراچی ۔ شکیل خان ،رکن گورننگ باڈی آرٹس کونسل اور چیئرمین ٹاک شو کمیٹی ۔شیریں ارشد ، مصنفہ اورہاؤس وائف ۔

 کراچی:بڑے دل والوں کا شہر
2021-04-24

کراچی:بڑے دل والوں کا شہر

شرکاءعنایت اللہ اسماعیل ، سینئر منیجر ریسورس موبلائیزیشن الخدمت کراچی معین احمد،منیجر آپریشن المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی ثمینہ اکسیر، سربراہ شعبہ فنڈریزنگ کوہی گوٹھ اسپتال ڈاکٹر سید نواز الہدیٰ، فاؤنڈرممبر ڈلیو رکراچی فورمریاض نوری ،جنرل سیکریٹری شیڈ فاؤنڈیشن عبدالرزاق پردیسی،صدر ڈائریکشن اسکول ڈاکٹر ثاقب خان ، ڈائریکٹر ڈائریکشن اسکول ڈاکٹر اخلاص احمد،صدراسٹائل ویلفیئر فاؤنڈیشن شکیل دہلوی ،جوائنٹ سیکریٹری عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ

’’نیلی معیشت‘‘۔۔۔۔۔پاکستان پر اللہ کا کرم
2021-04-17

’’نیلی معیشت‘‘۔۔۔۔۔پاکستان پر اللہ کا کرم

شرکاء ڈاکٹر نزہت خان، سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی ۔کمانڈرمحمد اختر ،پاکستان نیوی اور ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز۔پروفیسر کمانڈر(ر) محمدکامران لیکچرار بحریہ یونیورسٹی۔ نغمانہ ظفر، سینئرلیکچراراورآبی ماہر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز انچارج بلیو اکانومی ڈیسک۔خرم مرزا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) ۔ (وڈیو لنک ) ۔ طلباء وطالبات۔اسلام آباد سے بذریعہ ویڈیو لنک کموڈور (ر) علی عباس،ڈائریکٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئر ز۔ کموڈور (ر) محمد عبیداللہ۔ ڈاکٹر ملیحہ زیبا خان ،ریسرچ ایسوسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ، اسسٹنٹ پروفیسر بین الاقوامی تعلقات نمل یونیورسٹی ۔ نوفل شاہ رخ،جنرل منیجر آپریشن انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور جنرل سیکریٹری میری ٹائم اسٹڈیز فورم ۔اکرام الحق ،انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ۔طلباء وطالبات۔ وائس ایڈمرل (ر) افتخار کورونا کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے ،فون پر بلیواکانومی پر گفتگو کی

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز