نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- غیرقانونی تعمیرات پنجاب میں بھی ہیں،سعیدغنی
  • بریکنگ :- شہریوں سےگزارش کی غیرقانونی عمارتوں میں پیسےنہ لگائیں،سعیدغنی
  • بریکنگ :- کئی ایسی بلڈنگزہیں جنہوں نےرولزکی خلاف ورزی کی،سعیدغنی
  • بریکنگ :- عدالتی حکم پرعمل کریں گےتولاکھوں لوگ متاثرہوں گے،سعیدغنی
راہِ ہدایت
اورجو کافرہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تواس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں )کو جو ان سے پہلے کی ہیں۔اور کاش ان ظالموں کوتم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگارکے سامنے کھڑے ہونگے ۔ (سورۃ سبا:آیت31)
Coronavirus Updates

افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب نے او آئی سی کا اجلاس پاکستان میں طلب کر لیا


ریاض: (دنیا نیوز) سعودی عرب نے او آئی سی کے سربراہ کی حیثیت سے افغانستان کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر بحث کیلئے 17 دسمبر کو پاکستان میں خصوصی اجلاس طلب کر لیا ہے۔


اشتہار

20سالوں میں میری کئی بار کردار کشی کی گئی،سکینڈلز اور جعلی خبریں سامنے لا ئی گئیں ،زندگی میں بہت سی کامیابیاں سمیٹیں مگر دھچکے بھی لگے ،امیر وہ جو ضمیر کا سودا نہیں کرتا،خدا نے جدوجہد کی طاقت دی ، کامیابی اختیار میں نہیں، انا سب سے زیادہ تباہ کن خصلت ، مفاد کیلئے سیاست میں نہیں آیا ،انٹرویو ،وزیر اعظم آج جہلم میں یونیورسٹی کا افتتاح کرینگے

ویڈیو جعلی ، پیپلزپارٹی نے ماسک لگے افرادکولیگی کارکن بناکرووٹوں کی خریداری کی:علی پرویز،ووٹ خریدنا ن لیگ کاپرانا وتیرہ ہے :اسلم گل،پیمرا، پولیس اور کمشنر ویڈیو کافرانزک کرکے 30 نومبر تک رپورٹ دیں:آراو، یہ ہے ووٹ کی عزت؟ :فواد،شہباز گل،ضمیرکاسوداشرمناک:فرخ حبیب

سابق حکومتیں اوورسیز پاکستانیوں کو کھوکھلے نعروں سے بہلاتی رہیں، ہم نے یہ حق دیا، مخالفت کا دوغلا پن ،عمران خان کی قیادت میں تاریخ میں پہلی بار دیار غیر میں بسنے والوں کو ان کا حق واپس کیا گیا:وفد سے گفتگو

انسانی حقوق کا درس دینے والے مہاجرین کو داخل ہی نہیں ہونے دیتے ،اسلاموفوبیا کے تدارک کیلئے اقدامات کیے جائیں ،عارف علوی کی ایران، ازبکستان اور ترکی کے صدور سے ملاقاتیں ، تعاون بڑھانے ،تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

متفرقات

آدم بیزار

آدم بیزار

میری اس سے دوستی 2003ء میں شروع ہوئی جب یہ ایک بڑے میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ تھا۔ اس کا اور میرا دفتر آمنے سامنے تھے۔ ہم دونوں کے فرصت کے لمحات اکثر اکٹھے گزرتے۔ اگر اور کہیں نہیں تو لاہور پریس کلب ہی اکٹھے ہو جاتے کیونکہ یہ ہمارے دفتروں سے چند قدم کی دوری پر تھا۔ یہ نہ صرف ایک بہت اچھا لکھاری بلکہ کئی کتابوں کا مصنف بھی تھا۔ اس کو تاریخ بالخصوص تاریخ پاک و ہند اور حالات حاضرہ پر بڑا عبور حاصل تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ ایک قومی ادارے کی طرف سے تاریخ پاکستان کے موضوع پر کتاب تحریر کرنے پر اسے سیکنڈ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ بعدازاں اس نے ایک اور میڈیا گروپ جوائن کر لیا لیکن ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ جوں کا توں رہا۔ایک دن جب میں پریس کلب کی ایک تقریب سے فارغ ہوا تو ایک دم ذہن میں آیا کہ کیوں نہ اس سے ملتا چلوں کیونکہ اس کا دفتر یہاں سے کچھ زیادہ دور نہ تھا اس لئے تھوڑی ہی دیر میں میں اس کے دفتر جا پہنچا۔ خلاف توقع اس دن یہ مجھے کچھ ریلیکس دکھائی دیا۔ میں نے بیٹھتے ہی کہا یار اچھی سی کافی بنواؤ۔ کہنے لگا کیوں نہ آج باہر چل کے کسی اچھی جگہ بیٹھ کر گپ شپ کے ساتھ کافی پی جائے؟ تجویز اچھی تھی اس لئے تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں مال روڈ کے ایک کافی ہاؤس پہنچے ہوئے تھے۔ایسا بہت کم ہوتا کہ مال روڈ آ کر میں انارکلی کی ایک تنگ سی گلی میں واقع اولڈ بک شاپس نہ جاؤں۔ کسی زمانے میں اس گلی میں پرانی کتابوں کی بے شمار دکانیں ہوا کرتی تھیں جہاں ہر وقت کتابوں کے شائقین کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ مگر افسوس اب سوشل میڈیا اور دوسرے پرکشش ذرائع نے نوجوان نسل کو تو کتاب سے بالکل ہی لاتعلق کر کے رکھ دیا ہے۔ جس کے سبب اس ''کتاب دوست مارکیٹ‘‘ کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور معدودے چند دکانیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ ان دکانوں پر ایسی ایسی نایاب کتابیں بھی ملتی تھیں جن کا انسان تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ اس مارکیٹ کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ ہر موضوع حتیٰ کہ میڈیکل سے لیکر انجینئرنگ تک کی نصابی کتابیں ہمہ وقت انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہوتی تھیں۔ اور تو اور سیکڑوں ڈالرزکی غیر ملکی کتابوں کے ''پائریٹڈ ایڈیشن‘‘ کی کتابیں محض چند سو روپوں میں طالب علموں کو مل جاتی تھیں۔ گویا شائقین کتب کے ساتھ ساتھ طلباء کے لئے بھی یہ دکانیں کسی نعمت سے کم نہ تھیں۔کافی پیتے پیتے جب میں نے اپنے اس دوست کو اس کتاب گلی جانے کا کہا تو کہنے لگا یار میں تو یہاں بہت باقاعدگی سے آتا رہتا ہوں چلو اٹھو چلتے ہیں۔ کتاب گلی زیادہ دور نہ تھی چنانچہ ہم کچھ ہی دیرمیں وہاں پہنچ گئے۔ ہم مختلف دکانوں کی کتابیں کھنگالتے کھنگالتے اس مخصوص دکان پر آ گئے جسے میں ہمیشہ آخر میں وزٹ کیا کرتا تھا۔ یہ سب سے مختلف نوعیت کی دکان یوں تھی کہ اس پر کتابوں کا ذخیرہ دوسری دکانوں کی نسبت کہیں زیادہ گاہکوں کی تعداد محدود اور دکاندار کا رویہ انتہائی خشک اور بے لچک ۔ لیکن پھر بھی جانے کیوں ہمیشہ سے یہ دکان میری ترجیحات میں شامل رہتی۔ اس دکاندار کا مخصوص انداز یہ تھا کہ یہ ہمیشہ دکان کے داخلی راستے میں ایک سٹول نما نشست پر آڑھا ترچھا بیٹھا ہوتا تھا جس کی نظریں اندر آنے والے گاہکوں اور باہر گلی کے درمیان متواتر گھومتی رہتی تھیں۔ اگر آپ کسی کتاب بارے پوچھ بیٹھتے تو بنا آپ کی طرف رخ کئے جواب دیتا، ''خود ہی ڈھونڈ لو، آگے پیچھے کہیں پڑی ہو گی‘‘۔اگر آپ قیمت کا سوال کرتے تو اس کا جواب ہوتا، ''پہلے صفحے کے اوپر پینسل سے درج ہے‘‘۔ایک مرتبہ ایک نایاب کتاب جس کی مجھے عرصے سے تلاش تھی اچانک نظر آگئی۔ میں نے اس کی قیمت دیکھی تو لکھا تھا، سات سو روپے۔ میں نے کہا محترم یہ تو ''سیکنڈ ہینڈ‘‘ کتاب ہے جبکہ اصل کی قیمت ہی آٹھ سو روپے ہے۔ میری طرف دیکھے بغیر کہنے لگا،''بہتر ہو گا آپ جا کر نئی ہی خرید لیں‘‘۔اس کی شخصیت کا ایک اور پہلو کہ یہ جہاں دیکھ رہا ہوتا تھا دوسرے سے بات کرتے ہوئے بھی اپنا رخ تبدیل نہیں کرتا تھا خواہ اس کی نظریں سامنے دیوار پر ہی کیوں نہ مرکوز ہوتیں۔میں اکثر سوچتا کہ کبھی اس سے اس کی ''آدم بیزاری‘‘ کی وجہ پوچھوں لیکن یہ سوچ کر کہ جو اپنے کاروباری معاملات بارے روکھا سا جواب دیتا ہے، وہ بھلا اپنی ذات بارے کسی کو کیوں کر کچھ بتلائے گا۔آج جانے کیسے میں نے ہمت کر کے اس سے ایک سوال کر ہی ڈالا کہ یہ اتنی ساری کتابیں جو ایک عرصے سے نہیں بک پاتیں ہوں گی تو کیا آپ کو غصہ نہیں آتا؟ چہرے پے ہلکی سی ناگواری لا کر بولا،''بھائی کیوں نہیں آتا‘‘۔ ساتھ پڑی ایک کتاب کو ان دیکھے اٹھا کے ہوا میں لہراتے ہوئے کہنے لگا، ''یہ اور اس جیسی لاتعداد منحوس کتابیں برسوں میرا منہ چڑھاتی رہتی ہیں۔ جس سے مجھے ہمیشہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس نے کتاب واپس اپنی جگہ پر پٹخی اور دوبارہ گلی کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنا شروع کر دیا اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ کتاب میرے ساتھ آئے اسی دوست کی انعام یافتہ کتاب تھی جو کچھ عرصہ پہلے بہترین کتاب کا انعام حاصل کر چکی تھی۔خاورنیازی لاہور میں مقیم ایک سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں)

جب سورج ناراض ہوا! لوگ بدحواس ہوکر گھروں سے نکل آئے

جب سورج ناراض ہوا! لوگ بدحواس ہوکر گھروں سے نکل آئے

آپ نے دن کے وقت مکمل اندھیرے کا سامنا کیا ہے؟ ایسے میں سب کچھ بہت ہیبت ناک لگتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو انسان کو ہر دور میں پریشان کرتی آئی ہے اور اس کے حوالے سے ہمیشہ پراسراریت کو محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ آج بھی اگر دن کے اوقات میں کہیں سورج اپنی روشنی سے یکسر محروم ہو جائے تو ہم اس کے نتیجے میں حیران رہ جاتے ہیں اور خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔11اگست،1999ء کا دن بھی دنیا کیلئے ایسی ہی حیرت انگیز حقیقت لے کر آیا۔ اس دن جنوبی ایشیا میں سورج گرہن تھا اور تین سے چار منٹ کیلئے آسمان مکمل طور پربے سورج ہو گیا اور تارے نکل آئے۔ یہ منظر دیکھ کر بہت سوں پر ایسا خوف طاری ہوا کہ لوگ سجدے میں گر پڑے۔ پاکستان میں بھی سورج روشنی سے محروم ہوا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ ایسا موقع صدیوں میں کبھی ایک بار آیا کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ سورج کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کے ہوتے ہوئے آسمان تاریک کیوں ہو جاتا ہے؟ اس کی کئی وجوہ بیان کی جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی وجہ اتنی مستند نہیں کہ اس پر آنکھ بند کرکے یقین کر لیا جائے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ زمین 18ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خلا کی وسعتوں میں اڑی جا رہی ہے۔ اس کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے اور اس سفر کے دوران کئی سخت مقام بھی آتے ہیں۔ کبھی زمین کسی ستارے یا سیارے کی باقیات سے گزرتی ہے تو اس کے ذرات زمین کی فضا میں داخل ہو کر ایک فلٹر قائم کر دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایسا اندھیرا چھا جاتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس قسم کے کئی واقعات کا ریکارڈ دستیاب ہے اور اس ریکارڈ کا جائزہ بہت سی حیرت انگیز باتوں کو طشت ازبام کرتا ہے۔26اپریل 1884ء کا دن امریکی شہر پریسٹن کیلئے پریشانیاں لایا۔ دن کے وقت ایسا اندھیرا چھایا جیسے کسی نے پوری فضا پر کمبل ڈال دیا ہو۔ لوگ بدحواس ہو کر گھروں سے نکل آئے۔ جانور اپنے لئے مختص جگہوں پر دبک گئے۔ اس صورت حال نے ان لوگوں کو عبادت کرنے پر مجبور کر دیا جو مذہب کی جانب زیادہ جھکائو رکھتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ اب دنیا کا خاتمہ ہونے کو ہے! آٹھ دس منٹ کے بعد سورج کی روشنی بحال ہو گئی اور زندگی معمول پر آ گئی۔ اس واقعے کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جا سکی۔امریکی ریاست منیسوٹا کے مقام ایٹکن نے بھی 12اپریل1889ء کو یہی منظر دیکھا۔ اس دن سورج سر پر تھا اور اچانک ایسا گھنگھور اندھیرا چھایا کہ لوگ ڈر کے مارے گھروں میں دبک گئے۔19اگست 1763ء کی یہ بات ہے۔ لندن میں زندگی معمول پر تھی کہ اچانک سورج کی روشنی ماند پڑنی شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف ایسا اندھیرا چھایا کہ روشنی کئے بغیر کچھ بھی دیکھنا ممکن نہ رہا۔ ماہرین فلکیات نے حساب لگا کر بتایا کہ اس دن کوئی بھی گرہن نہیں تھا پھر بھی یہ کیوں ہوا، اس کا ماہرین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔19مارچ1886ء کو اوشکوش، وسکونسن (امریکہ) میں دن کے تین بج کر پانچ منٹ پر مکمل تاریکی چھا گئی اور یہ عالم دس منٹ رہا۔ تاریکی کا یہ سفر کئی شہروں پر محیط تھا۔ مغرب سے سلسلہ شروع ہوا اور کئی مشرقی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیتا رہا۔ تین گھنٹوں تک یہ آنکھ مچولی جاری رہی۔ کیا سورج کی راہ میں فلکی جسم آ گیا تھا؟ نہیں۔ تو پھر کیا فلکی جسم کی راکھ یا ملبہ؟ اس سوال کا جواب بھی ماہرین نے نفی میں دیا۔ قصہ مختصر یہ کہ اس معاملے کو بھی پراسرار قرار دے دیا گیا۔2دسمبر،1902ء کو میمفس، ٹینیسی(امریکہ)میں صبح کے دس بجے جب لوگ کام پر جانے کیلئے گھروں سے روانہ ہوئے تو اچانک انہیں مکمل تاریکی نے آ لیا اور ایسے میں لوگ اس قدر بدحواس ہوئے کہ بھگدڑ مچ گئی۔ سب ایک دوسرے کو دھکیل کر اپنے اپنے گھر پہنچنے کی فکر میں تھے کہ اگر دنیا کا خاتمہ ہونے کو ہے تو کم از کم گھر والوں کے سامنے تو مرنا نصیب ہو۔ یہ موقع بھی عبادات میں ڈوبنے کا تھا۔ اس کے بعد کئی دنوں تک گرجا گھروں میں حاضری غیر معمولی طور پر زیادہ رہی۔ اس واقعے کی کئی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ لوگوں کو نفسیاتی طور پر سکون فراہم کرنے کیلئے کہا گیا کہ جنگل میں لگنے والی آگ سے دھواں پھیلا اور بلند ہو کر اس نے سورج کے سامنے ایک انتہائی گھنیرا فلٹر قائم کر دیا اور اس کے نتیجے میں سورج کی روشنی کا زمین تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔ ایک اور نفسیاتی وجہ یہ پیش کی گئی کہ ریگستان سے اٹھنے والے ریتیلے بادلوں نے سورج کی روشنی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی۔24ستمبر1950ء کو پورے امریکہ میں سورج کی روشنی اچانک مدھم پڑ گئی اور پھر سورج نیلے رنگ کا دکھائی دینے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ کسی نے سورج کے سامنے فلٹر لگا دیا ہو۔26ستمبر کو یہی حال انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کا اور اس کے بعد ڈنمارک کا ہوا۔ ڈنمارک میں سورج دو گھنٹوں تک روشنی سے محروم رہا اور اس دوران لوگوں نے یہ سمجھا کہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور اسی لئے انہوں نے اپنی رقوم نکلوانے کیلئے بینکوں کے باہر قطاریں لگا دیں۔ چار ممالک میں سورج کے اس طرح روشنی سے محروم ہو جانے کی وجہ یہ پیش کی گئی کہ البرٹا، کینیڈا میں جنگل میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے اٹھنے والے دھویں نے یہ اندھیرا کیا، مگر یہ توجیہ غلط ثابت ہوئی ۔ ایک طرف تو دھواں مغرب کی سمت جا رہا تھا اور اسی دھویں نے مشرق کی جانب بھی سفر کیا۔یہ کیسی ہوا تھی جو بیک وقت دو سمتوں میں بہہ رہی تھی؟(محمد ابراہیم خان متعدد کتابوںکے مصنف ہیں،انہوں نے تحقیقی اور تاریخی موضوعات کا گہرا مطالعہ کررکھا ہے)

لامحدود ہوکر سوچئے! اہداف تعین آپ کی جسمانی و ذہنی توانائی کو بڑھاتا ہے

لامحدود ہوکر سوچئے! اہداف تعین آپ کی جسمانی و ذہنی توانائی کو بڑھاتا ہے

اپنے اہداف کے تعین کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اپنے ذہن میں موجود ہر قسم کی حدود کو ذہن سے باہر جھٹکنا ہوگا۔ آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ ممکنات کی کائنات میں آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ آپ کا پہلا کام یہ ہے کہ بڑے خواب دیکھیں اور وہی طے کریں جو آپ واقعی اپنی زندگی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں، خواہ اس کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے سے ہو۔ اس سے پہلے کہ آپ یہ سوچیں کہ کیا ممکن ہے، یہ طے کیجئے کہ کیا درست ہے۔ تصور کیجئے کہ آپ جو کچھ چاہتے ہیں، حقیقتاً وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، بن سکتے اور کر سکتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں۔اوّل، اپنے خوابوں کی فہرست بنایئے۔ عارضی طور پر یہ سوچئے کہ آپ کے پاس وقت، دولت، معلومات، تعلقات، تجربات اور تعلیم کی کوئی حد نہیں ہے۔ تصور کیجئے کہ آپ جو کچھ اس کاغذ پر لکھ سکتے ہیں وہ سب کچھ آپ کیلئے ممکن ہے۔ یاد رکھئے۔ آپ کاغذ پر جو کچھ واضح طور پر لکھتے ہیں وہ ممکن ہے، بشرطہ یہ کہ آپ اس کیلئے کافی طویل اور کافی سخت محنت اور قربانی کیلئے تیار ہیں۔بڑے اور چیلنج والے اہداف لکھنے کا عمل تین کام کرتا ہے۔اوّل: فوری طور پر آپ کے خیالات بہتر ہوتے ہیں اور آپ کی خود اعتمادی کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔اہداف کے تعین کا اقدام خود اعتمادی مانگتا ہے اور اس کے ساتھ خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ جو کچھ چاہتے ہیں، اسے لکھنے کی جرأت آپ کی اس لاشعوری شبیہ کو بہتر کرتی ہے جو آپ نے اپنے تئیں گھڑ رکھی ہے اور پھر خود توقیری (سیلف اسٹیم) میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اہداف لکھنے کا عمل بذات خود شخصی قوت اور قابلیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔دوم: آپ اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو جلاتے ہیں۔ اہداف کا تعین دراصل آپ کے جسمانی اور ذہنی توانائی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ آپ کے دل کی رفتار اور سانس کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ اہداف کے تعین کا اقدام بہت ہی ولولہ انگیز ہوتا ہے۔ گویا، آپ اپنی جسمانی اور ذہنی قوتوں کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ اگر آپ یہ کام روزانہ کریں تو نتیجہ حیران کن ہوگا۔سوم: کاغذ پر عہد کیجئے، کاغذ پر ہدف کے تعین کا عہد حیرت انگیز طور پر آپ کے اہداف کے حصول کے امکان میں اضافہ کر دیتا ہے۔ آپ کا ذہن اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ وہ ہدف کو واضح طور پر کاغذ پر (اور کمپیوٹر پر بھی) نہیں لکھ سکتا۔ ایسے میں جب آپ ہدف تحریر کرتے ہیں تو یہ اس کے حصول کی اہلیت بھی پیدا کر دیتا ہے۔ایسی کئی ذہنی مشقیں ہیں جو آپ اپنے اہداف کے تعین کیلئے کر سکتے ہیں۔-1تصور کیجئے کہ آپ کے پاس دس لاکھ کا کیش ہے اور آپ اس رقم سے جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کر سکتے ہیں۔ آپ سب سے پہلے کیا کریں گے؟ آپ کہاں جائیں گے؟آپ اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاںلائیں گے؟ اگر آپ کے پاس مکمل معاشی آزادی ہے تو آپ اب کے مقابلے میں کیا مختلف انداز سے کریں گے؟-2اپنی مثالی زندگی واضح کیجئے۔ تصور کیجئے کہ آپ اپنی مثالی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ ملک کے کس حصے میں رہنا پسند کریں گے؟ آپ کس قسم کی کمپنی میں کام کرنا پسند کریں گے؟ آپ کس قسم کی رہائش اور کار چاہیں گے؟ آپ اپنا وقت اور زندگی کیسے گزارنا چاہیں گے؟ آپ کس قسم کے تعلقات چاہیں گے؟-3اپنے آپ سے پوچھئے کہ اگر آپ کو پتا چلے کہ آپ کے پاس مزید زندہ رہنے کو صرف چھ ماہ باقی ہیں تو آپ کیسی زندگی گزاریں گے؟ اگر آپ کی زندگی میں کوئی حدود نہ ہوں تو آپ یہ چھ ماہ کیسے گزاریں گے؟ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ خود سے پوچھیں۔'' میرے لئے کیا اہم ہے‘‘؟ آپ یہ وقت کس کے ساتھ گزارنا پسند کریں گے؟ آپ کیا کرنا چاہیں گے؟-4اپنی زندگی کی تمام پریشانیوں اور مسائل کی فہرست بنایئے اور ایک ایسا ہدف لکھئے ۔ اگر پیسہ مسئلہ ہے تو وہ مقدار لکھئے کہ آپ کو کتنی رقم کی ضرورت ہے؟-5اپنی فیملی اور رشتے داروں کے بارے میں سوچئے اپنے خاندان کی مثالی کیفیت بیان کیجئے اور فرداً فرداً تمام رشتے داروں، خاص کر قریبی رشتے داروں سے اپنے تعلق کو واضح کیجئے کہ وہ کیسا ہونا چاہئے۔-6اپنی صحت کی طرف دیکھئے۔ بیان کیجئے کہ آپ کیلئے مثالی صحت اور تندرستی کیا معنی رکھتی ہے۔ پھر اس معیار کے مطابق اپنی صحت و تندرستی کے حصول کا پلان بنایئے۔-7اس شخصیت (ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر) کی وضاحت کیجئے جیسی شخصیت آپ خود کو بنانا چاہتے ہیں۔ پھر اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ نمو کیلئے پلان بنایئے کہ آپ کیوں کر مطلوبہ شخصیت پا سکتے ہیں۔ ان مشقوں کے بعد کہ جب آپ نے اپنے اہداف لکھ لئے ہیں۔ اگلا مرحلہ ان اہداف کو زندگی کے اہم شعبوں میں تقسیم کرنے کا ہے۔ انسانی زندگی کے چھ بنیادی شعبے ہیں ۔-1روحانی اہداف-2معاشی اور مادی اہداف-3خاندان اور ذاتی اہداف-4صحت اور تندرستی کے اہداف-5خود نموئی(سیلف امپروومنٹ) اور تعلیمی اہداف-6سماجی اور معاشرتی اہدافاپنی زندگی میں بہترین کرنے کیلئے آپ کو اپنی زندگی میں توازن رکھنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان تمام شعبوں میں آپ کے کچھ اہداف ضرور ہوں تاکہ آپ تمام اہم شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہوں۔

فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کا عالمی دن، 29 نومبر 1947 ،جب فلسطین کو تقسیم کرنے گھناؤنی سازش گھڑی گئی

فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کا عالمی دن، 29 نومبر 1947 ،جب فلسطین کو تقسیم کرنے گھناؤنی سازش گھڑی گئی

انبیاء علیہ السلام کی مقدس سر زمین فلسطین پرایک عالمی سازش کے تحت دنیا بھر سے اسلام دشمن شیطانی طاقتوں کو جمع کر کے ناقابل تسلیم ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس گھناؤنی سازش میں سرفہرست امریکہ اور برطانیہ تھے۔ ان طاقتوں کے زیر اثر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر 1947ء کو قرارداد 181 پاس کی، جس کے تحت سرزمین فلسطین کو غیر منصفانہ طریقے سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک حصے میں یہودی حکومت اور دوسرے حصے میں فلسطینی حکومت قائم کی جانا تھی۔اقوام متحدہ کی قرارداد اس قدر غیر منصفانہ تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر 1977ء کو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن قرار دیا۔ 1974ء میں یاسر عرفات نے فلسطین کے نمائندے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک قوم تسلیم کیا اور ان کے حق خود ارادیت کے لیے کئی قرار دادیں منظور کیں۔اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد نہتے فلسطینیوں کو صیہونی ظلم وجبر برادشت کرتے 69 سال بیت گئے لیکن عالمی برداری کی بے حسی کے باعث فلسطینی عوام صیہونی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کئی عشروں سے اسرائیل کی جارحیت کا شکار فلسطینی آج بھی اسرائیل کی دہشت گردی کے ہاتھوں اپنی ہی سر زمین پر قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیل کی بربریت اور وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف ہر سال 29نومبر کو اقوام متحدہ کے تحت فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں سیمینارز اور تقاریب میں اسرائیلی مظالم کی مذمت اور مظلوم فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہارکیا جاتا ہے۔اقوام متحدہ 1947ء سے فلسطین میں امن کے لئے کوشاں ہے مگر اسرائیل کے مظالم اسی طرح جاری ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اسرائیلی فوجی نہتے فلسطینیوں کو شہید کرتے رہتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہر سال اوسطاً 560 فلسطینی شہید ہوجاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کرنے کے واقعات گذشتہ برسوں کے مقابلے میں دگنے ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی دہشتگردی کی وجہ سے انفراسٹرکچر تباہ اور 20 لاکھ فلسطینی خراب معاشی صورتحال کا شکار ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے گھروں کو تباہ کئے جانے کے بعد ہزاروں فلسطینی کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اسرائیل اور یہودی طاقتیں دنیا کو ''ڈبل ایم‘‘ یعنی (Money and Media) کی پالیسی کے تحت خود کوتسلیم کروانے کیلئے انتھک کوششیں کر رہی ہیں۔ اسرائیل خود کو تسلیم کروانے کیلئے دنیا کو طرح طرح کے لالچ دیتا رہتا ہے۔ ان دنوں کورونا ویکسین مفت دینے اور کورونا کے باعث معاشی بدحالی میں مبتلا ممالک کو مالی امداد دینے کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ عالم اسلام کو انفرادی مفادکے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا چاہیے۔

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔

قوانین صرف خواتین کے حق میں، مظالم کا شکار مرد بھی!
2021-11-17

قوانین صرف خواتین کے حق میں، مظالم کا شکار مرد بھی!

شرکاء:شکیل خان (رکن گورننگ باڈی آرٹس کونسل کراچی)ڈاکٹر کلیم خان (اورل سرجن،کے ایم ڈی سی)ملکہ خان(صوبائی پروگرام منیجر ،عورت فائونڈیشن)صبیحہ شاہ ( سی ای او ویمن ڈیولپمنٹ فائونڈیشن)ایڈووکیٹ طلعت یاسمین(چیئرپرسن ویمن اسلامک لائرز فورم)فرحت پروین(ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل آرگنائزیشن فار ورکنگ کمیونیٹیزبابر سلیم(سربراہ بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی)ہمایوں نقوی(سماجی رہنما)

جیل میں قید مائیں بہنیں بیٹیاں۔۔ معاشرتی رویوں سے نالاں
2021-11-06

جیل میں قید مائیں بہنیں بیٹیاں۔۔ معاشرتی رویوں سے نالاں

شرکاء: شیبا شاہ ،ڈی آئی جی ویمن جیل کراچی ۔ڈاکٹر مسرور شیخ ، چیئرمین سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اقبال النساء، مرکزی نائب صدر ویمن ایڈ ٹرسٹ۔خیرالنساء ایگزیکٹو ممبر ویمن ایڈ ٹرسٹ اور ویمن جیل کی انچارج منجانب ویمن ایڈ ٹرسٹ۔زینب کوآرڈی نیٹر ویمن ایڈ ٹرسٹ۔ڈاکٹر حمیرا رسول ،میڈیکل آفیسر ویمن جیل خواتین قیدیوں کی بڑی تعداد شریک

شارٹ کٹ نہیں۔ صبر ، شکر ، محنت ، لگن۔۔ترقی کے ضامن
2021-10-23

شارٹ کٹ نہیں۔ صبر ، شکر ، محنت ، لگن۔۔ترقی کے ضامن

شرکاء: سید شجاعت علی ، سابق چیئرمین پاکستان لیدر گارمنٹس اینڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن۔ام سلمیٰ منصور ،رکن مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی آباد،چیئرپرسن باسودہ این کوروائی گروپ آف کمپنیز ۔ پروفیسر ڈاکٹر نصرت ادریس ،ڈین آرٹس فیکلٹی جامعہ کراچی۔ ڈاکٹر سہیل شفیق ، چیئرمین شعبہ اسلامی تاریخ جامعہ کراچی ۔ڈاکٹر سکینہ ریاض، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سوشل ورک۔ڈاکٹر ثمینہ ، لیکچرار نعمان شیخ طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد۔

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز