نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 3582 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 10 لاکھ 43 ہزار 277 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 75 ہزار 373 ہے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 67 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 23 ہزار 529 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1355 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 9 لاکھ 44 ہزار 375 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 49 ہزار 798 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 61 لاکھ 58 ہزار 330 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 3398 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 3 لاکھ 58 ہزار 387،سندھ میں 3 لاکھ 87 ہزار 261 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 45 ہزار 306،بلوچستان میں 30 ہزار 627 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد 88 ہزار 344،گلگت بلتستان میں 8 ہزار 318 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 25 ہزار 34 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 7.19 فیصدرہی،این سی اوسی
راہِ ہدایت
اور(اس دن کو یادکرو)جس دن ہم ہرامت میں سے خود ان پر گواہ کھڑے کرینگے ۔ اور (اے پیغمبر)آپ کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ (سورۃ النحل:آیت89)
Coronavirus Updates

کورونا کا زور: مزید 67 افراد جان سے گئے، 24 گھنٹے میں 3582 نئے مریض


اسلام آباد: (ویب ڈیسک) کورونا وائرس سے 67 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 23 ہزار 529 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ 43 ہزار 277 ہوگئی۔



اشتہار
تمام کالمز

لوٹ مار سے کبھی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ،روٹی ، کپڑا ، مکان کی بات ہوتی رہی مگر کبھی عملی کام نہیں ہوا ،پاکستان ایٹم بم بنا سکتا ہے تو چھوٹی چیزیں کیوں نہیں بنا سکتا ،40فیصد آبادی کو غربت سے نکالنا، ملکی دولت کو بڑھانا ،ماحولیاتی تحفظ میرے وژن ، نیا پاکستان ہاؤسنگ سے 40 قسم کی انڈسٹری چلنا شروع ہو گی، تقریب سے خطاب

بسال شریف میں منتخب نمائندوں کی وزیراعلیٰ سے ملاقات، اٹک کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی،خواجہ امیر چشتی ؒ کے مزار پر حاضری ، ایک قوم، ایک نصاب سے طبقاتی تقسیم کا خاتمہ ہو گا:وزیراعلیٰ ، سعودی سفیر بھی ملے

ن اور ش لیگ میں مفاہمت اور مزاحمت کی جنگ جاری ، انکا کوئی سیاسی مستقبل نہیں، یہ اپنی انگلیاں خود کاٹیں گے ، عمران کواپوزیشن سے کوئی تھریٹ نہیں،افغان سفیر کی بیٹی کے کیس کے حقائق افغان ٹیم سے شیئرکرینگے :پریس بریفنگ

مانسہرہ میں 2005کے زلزلہ میں منہدم سکول تعمیر کیوں نہیں ہوئے ، پختو نخوا حکومت سے جواب طلب، جبری ریٹائر ڈ خاتون ٹیچر کو اپیل منظورکر کے بحال ، سکول تعمیر نہ کرنے پر چیف سیکرٹری اور دیگر کو نوٹس جاری

متفرقات

قصہ مسلمانوں کے وفد کی لارڈ منٹو سے ملاقات کا

قصہ مسلمانوں کے وفد کی لارڈ منٹو سے ملاقات کا

محمڈ ن ایجوکیشنل کانفرنس ڈھاکہ کے بعدہند کے مسلمانوں کے زعماء کی ایک سپیشل میٹنگ منعقد کی گئی تاکہ ہند کے مسلمانوں کی سیاسی تنظیم کی تشکیل ہو سکے۔ نواب وقار الملک نے صدارت فرمائی اور اُردو ز بان میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:''وقت اور حالات نے ہمارے لیے اب ضروری کر دیا ہے کہ ہند کی مسلم قوم ایک ایسوسی ایشن کی تشکیل کے لیے اکٹھی ہو جائے، تاکہ اُن کی اپنی ایک آواز ہو اور سُنی بھی جائے۔ بلکہ اِس آرگنائزیشن کا اِتنا جلال ہو کہ سمندر پار تک مسلمانوں کے مطالبات سنُے جائیں۔‘‘نواب آف ڈھاکہ نے کہا کہ حالات نے ہمیں اب مجبور کر دیا ہے کہ ہماری ایک تحریک یا پلیٹ فارم ہو کیونکہ اب تک انگلستان والوں کو مسلمانانِ ہند کے مسائل اور ناانصافیوں کی خبر نہیں کیونکہ اب تک انڈیا کے سیاسی مشاہیر یہ ہی کہتے چلے آرہے ہیںکہ اُن کی سیاسی جماعت (کانگریس)مسلمانوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اصلی مسائل نہ تو سمجھے گئے ،نہ پیش کیے گئے اور اب اُن ہی لوگوں کی بات سُنی جاتی ہے جو سیاسی پلیٹ فارم سے اُونچی آواز میں بولتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان مجبوراً پیچھے رہ گئے۔ اپنے تمدّنی وقار اور فطرت پر ڈٹے رہے اور موقع پرست آگے بڑھ گئے اور دوسری قومیں اپنے مقاصد کی خاطر آگے بڑھ گئیں۔اس سے قبل یکم اکتوبر1906 ء کو 35 مضبوط ترین مسلم شرکاء کے وفد نے وائسرائے ہند لارڈ منٹو کیساتھ آغا خان کی سربراہی میں شملہ میںملاقات کی اور مسلمانانِ ہند کی جانب سے وائسرائے ہند کو خطاب کیا اور اپنے مطالبات پیش کیے ۔اِس وفد میں35ممبران تھے۔ بنگال صوبہ سے 5نمائندہ تھے۔ ایک نمائندہ آسام مشرقی بنگال سے تھا۔ اِن میں :1۔صاحبزادہ بختیار شاہ سربراہ میسور نواب فیملی2۔نواب بہادر سعید امیر حسین خان آف کلکتہ بنگال3۔نصیر حسین خیال کلکتہ بنگال4۔خان بہادر مرزا شجاعت علی کونسل جنرل مرشدآباد5۔عبدالرحیم بار ایٹ لاء کلکتہ6۔خان بہادر سید نواب علی چوہدری میمنمسلمانوں کے نمائندگان نے تحریری خطاب میں ہند کے مسلمانوں کے تمام سیاسی معاملات واضح کیے۔ مسلمانوں کے سماجی حقوق مثلاًسرکار ی دفاتر میں ملازمت مسلمانوں کے لیے بند تھی۔ اِسی طرح صوبائی سطح اور مرکز میں یونیورسٹی نہیں،میونسپل کمیٹی میں مسلمانوں کے راستے بند تھے۔مسلمانوں کی نہ تو کسِی بورڈ میں نمائندگی تھی اور نہ کسی یونیورسٹی ،سینٹ میں حصہ تھانہ ہی وائسرائے کونسل میں مسلمانوںکی شمولیت تھی اور خاص کر مشرقی بنگال آسام میں تو کیفیت 1905 ء کی تقسیم بنگال کے بعد مزید خراب ہو گئی اور مسلمانوں کے ساتھ ،برتائو غیرمناسب ، متصبانہ اور تفریق والا تھا۔خطاب کے دوران وضاحت کی گئی کہ جن ضلعوں یا صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ اُن علاقوں کے مسلمانوں کیساتھ حکومت کابرتائو اور سلوک مناسب نہیں ہے اور کانگریس لیڈروں کارویہّ غیر منصفانہ ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ہر لحاظ سے پیچھے رکھا جا رہا ہے۔ اِسی طرح صوبہ سندھ اور پنجاب کاحال ہے۔مسلمانوں کے اِس اجلاس میں نواب سلیم اللہ خان اور سید نواب علی چوہدری تقسیم بنگال کے معاملے میں بضد تھے کہ اِس خطاب کی تحریر میں یہ بھی درج کیا جائے کہ مسلم آف بنگال کی بڑی خواہش ہے کہ تقسیم بنگال کو پروان چڑھایا جائے۔ لیکن پنجاب سے میاں محمد شفیع اور میاں شاہ دین اِس معاملہ کے حق میں نہ ہو سکے۔ لہٰذا خطاب میں بنگال کی تقسیم کا مسئلہ شامل نہ ہو سکا۔نواب محسن الملک بھی ہندوئوں کی مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں کے حق میں نہ تھے کہ اس سے مسئلہ پیچیدہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وفد تیار ہواتونواب سر سلیم اللہ خان جونواب سراسد اللہ خان کے فرزند ارجمند تھے اپنے باپ کی وفات1901 ء کے بعد نواب ہوئے اور 1903 ء میں نواب بہادر بنے وہ وفد میں شامل نہ ہوئے۔ سرسلطان آغا خان سوئم نے وفد کی قیادت کی۔جب یہ وفد شملہ میں منٹو وائسرائے ہند سے ملاِتووفد کو وائسرائے نے یقین دلایا کہ مسلمانوں کے مسائل کو ہمدردی سے سُنا جائے گا اور اُن کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔4 اکتوبر1906 ء کو وائسرائے ہند لارڈ منٹو نے لارڈ مورلے کو لندن میں وفد کے بارے میں آگاہ کیااور تفصیلات کے ساتھ اسلامیان ہند کے مسائل اوردیگر سیاسی حالات سے آگاہ کیا۔ مورلے نے منٹو کی تجاویز اور سفارش کوپسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور لارڈ منٹو کی تعریف کی کہ آپ نے ایک نازک مسئلہ کو نہایت ذہانت اور قابلیت سے حل کیا۔لارڈ منٹو نے تمام35 بڑی شخصیتوں کا جائزہ لیا اور حکومت برطانیہ کی کوتاہیوں اور کانگریس کی پوشیدہ گمراہیوں سے آگاہی حاصل کی ۔کیونکہ خطاب میں نہایت استدلال اور عالمگیر قانون کا حوالہ دیا گیاتھا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے مطالبات کے تاثرات نے وائسرائے کا ذہن پوری طرح سے صاف کر دیا ۔ لارڈ منٹو نے لارڈ مورلے کو واضح طور پر اطلاع کی:''ہند کے مسلمانوں کا وفد آیا اُن کی تکالیف ، شکایات جائز ہیں۔ غور طلب ہیں ۔ اُن کا ازالہ کرنا ضروری ہے اور حکومت برطانیہ کی جانب سے اُن کو حوصلہ اور تسلّی دی گئی ہے۔‘‘گویا نواب محسن الملک نے مسلمانانِ ہند کی پوری ترجمانی کی ۔ہند کے مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں صاف ستھری اپیل پیش کی گئی اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کا جواب لارڈ منٹو نے دیا۔اِس ملاقات کا بڑا اہم نتیجہ مسلم لیگ کی تخلیق کی صورت میں برآمد ہوا۔ مسلمانوں کو حوصلہ میسّر آیا اور اُن میں خود اعتمادی کی لہرپیدا ہوئی کہ ان کی شکایات اور باتیں اچھی طرح سنی جا سکتی ہیں۔اگر ہم کسی مقام پر کھڑے ہو جائیںاور30 دسمبر 1906ء کا تاریخی دن ہمیں تمام معاملات کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح اِس تنظیم نے محنت کی اور جُدا ملک حاصل کیا۔ مسلم لیگ کی تشکیل میں بنگال کے مسلمانوں کا بڑا کردار رہا اور سب سے زیادہ خلوص نواب سرسلیم اللہ خان آف ڈھاکہ کی طرف سے رہا۔(جاری ہے)(کتاب ''مسلم لیگ اورتحریک پاکستان‘‘ سے اقتباس)اس سے قبل نواب سرسلیم اللہ خان نے آل انڈیا محمڈن کنفیڈریشن کی سکیم تیار کی اور مسلمانوں کے اہم لیڈرز اورجماعتوں کو ارسال کی۔ اس کا مقصد ایک ہی تھا کہ ہند کے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے اورانڈین نیشنل کانگریس کے بڑھتے ہوئے اثر سے مسلمانوں کو بچایا جائے اور نوجوان مسلم نسل کے لیے مواقع پیدا کیے جائیں کہ جو سیاست میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیںایک سیاسی پلیٹ فارم پر ہی وہ ا پنامافی الضمیر بیان کر سکیں گے۔ اگر مسلم قوم کا کوئی سیاسی موثر پلیٹ فارم نہ ہوا تو مسلمان نوجوان کانگریس کی طرف رُخ کریں گے اور پھروہ برطانیہ کا آلہ کاربن کر رہ جائیں گے۔لہٰذا نواب سرسلیم اللہ خان نے مسلم زعماء کو ایک تحریر روانہ کی جس میں کنفیڈریسی (Confedracy) آف مسلم ڈھاکہ کی تشکیل کا ذکر تھا کہ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بعد دسمبر1906 ء میں مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم تیار ہونا چاہیئے۔ وہ تقسیم بنگال کے بڑے حامی تھے اور مشرقی بنگال کو مسلم بنگال بنانا چاہتے تھے۔ اُن کی سعی جمیلہ سے ڈھاکہ یونیورسٹی کا اعلان 1911ء دہلی دربار میں ہوا تھا۔نواب سلیم اللہ خان نے اپنے رفقاء کی مدد سے کنفیڈریسی آف مسلم ڈھاکہ کے حوالے سے اس میں کافی تبدیلیاں لائی گئیں۔ تاہم مسلم کنفیڈریسی کی رُوح اور مقصد کی تعریف کی گئی۔ نواب آف ڈھاکہ کا مسلمانوں کی اِس سیاسی جماعت کی تشکیل میں بڑ ا حصہ تھا کہ ہند کے اتنے بڑے زعماء کو ڈھاکہ میں مدعو کرنے کا اہتمام کیا تاکہ مسلمانوں کے لیے ایک بااثر سیاسی پلیٹ فارم مضبوط بنیادوں پر مہیا کیاجائے۔اس طرح آل انڈیامسلم لیگ کی بنیاد30 دسمبر1906 ء میں سرنواب سلیم اللہ خان کی رہائش گاہ پررکھی گئی اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بعد نواب وقار الملک کی صدارت میں سیاسی تنظیم کے بنانے کا فیصلہ ہوااور مسلم لیگ کی تشکیل پر اتفاق رائے ہوا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے مقاصد میں سے اوّلین مسلمانوں کے لیے مذہب میں آزادی اور مذہب کی مذہبی ترقی و تشریح تھی۔اخلاقی قدروں کی تقویت سیاسی اور مالی حالات کے پیش نظر اخلاقی قدرو ں کے استحکام پر تبدیلی کا اظہار کیا گیا۔ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اچھے ،مناسب تعلقات ،پرُ امن زندگی اور برطانوی حکومت کی رضامندی کو شامل کیاگیااور پہلے ریزولیشن میں صاف صاف تحریر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ترقی اور فوائد کے لیے جماعت تشکیل دی گئی ہے۔ قرارد اد میں ظاہر کیا گیا کہ یہ مسلمانانِ ہند کی میٹنگ جو ڈھاکہ میں 30 دسمبر1906 ء کو منعقد ہوئی ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ ہند کے مسلمانوں کی رہنمائی اور حفاظت کے لیے ایک سیاسی ایسوسی ایشن آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے معرضِ وجود میں آگئی ہے۔جس کے فی الحال یہ مقاصد ہوں گے:1۔اسلامیانِ ہند کی طرف سے برٹش حکومت کے لیے اچھے فرمانبرداری جذبات و واقعات ہوں گے۔ یہ اس لیے کیا گیاکہ نئی تنظیم سے حکومت برطانیہ کو غلط فہمی میسّر نہ آ جائے۔2۔ہند کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور مسائل کی حفاظت کرنا اور حکومت برطانیہ کو آگاہ کرنا ۔3۔ مسلمانوں کے تعلقات دوسری تحریکوں کے ساتھ استوار کرنا،یہ لیگ کے مقاصد تھے۔آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں سر سلیم اللہ خان کی رہائش گاہ پر30دسمبر1906 ء کو رکھی گئی اور دو ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی بشمول نواب وقار الملک اور نواب محسن الملک تشکیل دی گئی تاکہ لیگ کا آئین تیار کیا جائے جو آئندہ کراچی کے سیشن میں پیش کیا جائے۔ لہٰذا کمیٹی کی رپورٹس اور کارکردگی 29 دسمبر1907 ء کو لیگ کے سیشن میں پیش کی گئیں اور آل انڈیا مسلم لیگ کے عہدیداروں کا انتخاب مارچ1908 ء میں لکھنؤ میں ہوا۔اِسی اثناء میں بنگالی بیرسٹر امیر علی نے جو لندن میں سکونت اختیار کر چکے تھے، لندن برانچ آف آل انڈیا مسلم لیگ تخلیق کی۔ اس کی افتتاحی تقریب Caxton ہال لندن ویسٹ منسٹر6 مئی1908 ء کو ہوئی ۔ جسٹس امیر علی لندن میں اس کے صدر چُنے گئے۔ وہ واحد جوشیلے ،ذہین وکیل مسلمان تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کا اظہار کُھل کر کیا۔ اس برانچ نے ہند کے مسلمانوں کے لیے کافی اچھے اثرات مرتب کیے اور یہاں سے علیٰحدگی کی تحریک کی ابتداء ہوئی اور کانگریس کی لیڈر شپ میں ڈر اور خوف مسلمانوں کی ایک علیحدہ سیاسی تنظیم کے وجود میں آنے سے پیدا ہونے لگا۔ کانگریس مسلمان لیڈر بھی مسلم لیگ کے نام،وجود،عمل،ترقی سے خوف کھانے لگے۔جسٹس امیر علی وہی تو تھے جنہوں نے سنٹر ل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کلکتہ میں بنائی تھی اور تعلیمی اعتبار سے مسلمانوں میں شعور کو اُجاگر کیا۔ حسن علی آفندی آف کراچی کی امیر علی سے علیگڑھ میں ملاقات ہوئی اور حسن علی آفندی کو اپنی ایسوسی ایشن سندھ کراچی میں بنانے کی ترغیب دی۔ چنانچہ حسن علی آفندی نے نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کراچی بنائی۔ خود صدر چُنے گئے۔ آپ نے سندھ مدرسۃ الاسلام کی بنیاد رکھی اور اِسی سندھ مدرستہ الاسلام سے قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے تعلیم حاصل کی۔ گویا نواب سرسلیم اللہ خان ، میاں عبدالطیف اور جسٹس امیر علی بنگال صوبہ کے ایسے نامورشاہین ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے بہت کچھ کیا ۔ سرسید احمد خان نے بھی مردانہ وار تعلیم کے میدان میں جنگ لڑی اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 10 اکتوبر1913 ء کو مسلم لیگ میں شمولیت حاصل کی اور1923 ء کو کانگریس سے علیٰحدگی اختیار کی۔ علامہ اقبال ؒ کا الہٰ آباد کا خطبہ 1930 ء کا بھی آزاد مملکت حاصل کرنے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔کتاب ''مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان ‘‘ سے اقتباس  (بقیہ اگلے ڈائجسٹ میں یوم آزادی کے حوالے سے لگا نا ہے) 

دنیا کا پہلا ریڈیو براڈکاسٹر

دنیا کا پہلا ریڈیو براڈکاسٹر

ریجنالڈ فیسینڈین کا تعلق برمودا سے تھا۔ ریجنالڈ کی وجہ شہرت دنیا کے پہلے ریڈیو براڈکاسٹر کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔ ریجنالڈ کو یہ اعزاز 1900 میں ریڈیو کے ذریعے کامیابی سے پہلا صوتی پیغام منتقل کرنے اور 1906 میں براڈکاسٹنگ کی دنیا کا پہلا باقاعدہ براڈکاسٹر مقرر ہونے پر دیا گیا۔ریجنالڈ جب ہائی سکول کا طالب علم تھا تو ایک دن اس کے سائنس کے ٹیچر نے اسے کہا کہ تم نے کیاسوچ کے سائنس کے مضامین کا انتخاب کیا ہے، میرے خیال میں تم سے مضامین کے چناؤ میں غلطی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کہ ریجنالڈ اپنے ٹیچر کے سوال کا جواب دیتا، ٹیچر نے نہ جانے کیا سوچ کے طنز کرتے ہوئے ایک اورسوال کر ڈالا کیا تم سائنسدان بننا چاہتے ہو؟ریجنالڈ جو بنیادی طور پر کم گو اور حساس طبیعت کا مالک تھا بولا''جی ہاں سر آپ نے صحیح سوچا ہے میں ایک سائنس دان بننا چاہتا ہوں۔میں کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں‘‘۔اس جواب پر نہ صرف ٹیچر ہنس دیا بلکہ پوری کلاس میں قہقہے گونج اٹھے۔ریجنالڈ جو تھامس ایڈیسن سے حد درجہ متاثر تھا اور اس نے اسے اپنا آئیڈیل بنا رکھا تھا تک کسی نہ کسی طور رسائی چاہتا تھا۔چنانچہ اس نے سکول کی ملازمت سے علیحدگی اختیار کر لی۔تھامس ایڈیسن بارے لوگ محض اتنا جانتے ہیں کہ یہ برقی قمقمے یعنی الیکٹرک بلب کا موجد ہے جبکہ الیکٹرک بلب سے لیکر ٹیلی گرافک کے شعبے تک ایڈیسن کی ایجادات کی تعداد 1093 ہیں۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکی تمام ترایجادات ''پیٹنٹ ‘‘ ہیں۔ ( پیٹنٹ بین الاقوامی طور پر موجدوں کے تصورات اور کام کو تحفظ فراہم کرنے والے ان قوانین کا ایک حصہ ہے جنہیں املاک دانش یا آئی پی آر کہا جاتاہے)۔سکول کی ملازمت چھوڑنے کے بعد یہ تھامس ایڈیسن کے پاس ملازمت کا خواب دیکھتے دیکھتے نیویارک آن پہنچا۔ اس نے ابتدائی طور پرہر وہ حربہ استعمال کیا جو ایڈیسن کے ہاں ملازمت حاصل کرنے کے لئے کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اسے مسلسل مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر اس نے ایڈیسن کے نام ایک خط لکھ ڈالا جس میں اس نے اس کے ساتھ بجلی کے شعبے میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس خط میں اس نے شروع ہی میں یہ لکھا کہ'' اگرچہ وہ سردست بجلی کے متعلق کچھ نہیں جانتا لیکن وہ یقین دلاتا ہے کہ یہ کام وہ جلد سیکھ جائے گا‘‘۔ابتدائی طور پر ایڈیسن نے اس کی درخواست کو رد کر دیا۔ لیکن ریجنالڈ نے ہمت نہ ہاری اور کچھ عرصہ بعد ''ایڈیسن مشین ورکس ‘‘ میں بطور ٹیسٹر خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ اسکی'' ایڈیسن نیٹ ورک ‘‘ میں داخلے کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ریجنالڈ نے کچھ عرصے بعد کیمسٹ کے عہدے پر کام شروع کر دیا اور وقت نے ثابت کر دکھایا کہ ایڈیسن کا چناؤ صحیح تھا۔ریجنالڈ ایک بہترین کیمسٹ نکلا جو بجلی کی تاروں کی موصلیت کا کام کر رہا تھا۔ اس نے یہاں مسلسل تین سال تک کام کیاجس کے بعد اسے وہاں سے فارغ کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے نیو یارک میں ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کمپنی اور میسا چوسٹس میں اسٹینلے کمپنی میں کام کیا۔چونکہ ریجنالڈ پہ ہر وقت کچھ کرنے کی دھن سوار رہتی تھی اس لئے یہ ''ایڈیسن‘‘ چھوڑنے سے پہلے ہی ٹیلی فونک اور ٹیلی گرافک کے شعبے سمیت بہت ساری اپنی ایجادات کو پیٹنٹ کرا نے میں کامیاب ہو چکا تھا۔اس کی سب سے کامیاب ایجادات میں ''ریڈیو لہروں کی تشکیل اور'' ہیٹرو ڈین اصول‘‘کی ایجادات شامل تھیں۔ان ایجادات سے فضائی لہروں کے رستے میں مداخلت کے استقبال اور منتقلی کی راہیں کھل گئی ہیں۔ریجنالڈ نے 1900میں تاریخ کا پہلا صوتی پیغام فضا میں منتقل کیا۔ اس کے چھ سال بعد اس نے اپنی ہی اس ایجاد کو مزید بہتر بنا کے بحراو قیانوس کے ساحل سے بحری جہازوں کے ذریعے اپنے ٹرانس بحراوقیانوس کی آواز اور موسیقی کی نشریات نشر کرنے کے لئے اپنا سامان استعمال کیا۔ چنانچہ 1920تک ہرطرح کے جہازوں نے ریجنالڈ فیسینڈین کی'' گہرائی سے چلنے والی ٹیکنالوجی ‘‘ پر انحصار کرنا شروع کر دیا۔1929 میں اس نے جہاز کے اندر بیٹھ کر جہاز سے نیچے کی گہرائی ماپنے کا آلہ '' فیتھو میٹر‘‘ایجاد کر کے امریکن سائنس سوسائٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ریجنالڈ فیسنڈین نے اپنی ایجادات کی 500سے زائد پرپیٹنٹ حاصل کیا۔

زود ہضم غذائیں کھائیں

زود ہضم غذائیں کھائیں

موسم گرما میںبھوک مر جاتی ہے کچھ کھانے کو جی نہیں کرتا، دل چاہتا ہے کہ ٹھنڈا ٹھار پانی ہر وقت حلق سے نیچے اترتا رہے۔ صبح بھوک نہیںلگتی اس کمی کو رات کے کھانے میں پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے نیند اڑ سکتی ہے۔ کیونکہ مرغن غذائوں سے خوب پیاس لگتی ہے جس سے رات کو بار بار آنکھ کھل سکتی ہے۔اس موسم میں خواتین کو کھانوں میں بھی معمولی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اب زیادہ بھاری اورہضم نہ ہونے والی غذائوں سے گریز کرنا ہی بہتر رہے گا۔خاص طور پر کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی پر نظر رکھناضروری ہے، ان کی مقدار ہرگز نہ بڑھنے پائے۔گرمیوں میں چکنائی میں متعدد اقسام کے بیکٹیریاز نہایت تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں۔اسی لئے بدہضمی کی شکایت عام رہتی ہے۔ لہٰذااس موسم میں غذائوں کوفرج میں رکھنے کی بجائے کسی غریب کے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے استعمال کیجئے۔ خود بھی تازہ خوراک کھائیے اوربچ جانے والی تازہ خوراک اپنے ملازم یا کسی اور کو دے کر نیکیاں کمائیے ۔دلیہ ، مکئی ، چاول اس موسم گرما کی بہترین غذائوں میں شامل ہیں۔یہ غذائیں آسانی سے ہضم ہو جاتی ہیں، انہیں زود ہضم غذائیں بھی کہا جاتا ہے۔ناشتہ کیلئے ایسے مشروبات مفید رہیں گے ۔ آپ کو مائع سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دینا چاہئے۔ سبزیوں والی غذائیں بہتررہیں گی۔ خام یعنی کچی سبزیاں کھائی جا سکتی ہیں جن میں ٹماٹر، ککڑی ا ور کھیرا بھی شامل ہیں۔ ان میں پائی جانے والی سیال حیاتیات کی جسم کو ضرورت پڑتی ہے۔ دوپہر کے کھانے میں پتلی کٹی سبزیاں استعمال کی جا سکتی ہیں ۔ لیکن ان میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار مناسب نہیں ہوتی۔ جس سے صحت پر اثر پڑ سکتا ہے لہٰذا کاربوہائیڈریٹس والی غذائیں بھی لیجئے۔سلاد کی تیاری کرتے وقت مایئونیز کو کم سے کم استعمال کیجئے۔ اس کی جگہ زیتون کے تیل اور لیموںکے رس کو اہمیت دیجئے۔ناشتے میں آڑو، ناشپاتیاں، سیب ، سٹرابیری، راسبر ی کو اہمیت دیجئے۔ دود ھ کی مصنوعات ( مکھن، دہی گھر بنایا ہوا پنیر) کو استعمال کرنا چاہئے ۔یہ زود ہضم اور مکمل غذائیں ہیں ۔ تازہ لیموں کا رس، سبزیوں کو مزید زود ہضم بنا سکتا ہے۔اس موسم میں اگر سبز چائے پینا ضروری ہو تو راسبری کی پتیوں کے ساتھ ہربل چائے پینا بہتر رہے گا۔گوشت اور میٹھی کی روٹی کو خوراک سے خارج کرنا ضروری ہے۔گرمیوں میں مصالحے کے استعمال سے ذائقہ تو مل جاتا ہے لیکن بہت زیادہ مصالحوں کا استعمال حدت اور پسینے کا باعث بن سکتا ہے ۔مزید پیاس لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ان کے مقابلے میں جیسا کہ میں کہہ چکی ہوں سبزیوں کو فوقیت دینا چاہئے ۔زیادہ نمکین غذائوں سے بھی گریز اچھا ہے۔ کیونکہ اس قسم کی غذائوں سے گرم موسم میں منہ پر دانے نکل سکتے ہیں۔اس لئے خوراک میں نمک کی مقدار کم کر دی جائے ۔ چینی کا استعمال بھی کم کیا جا سکتا ہے۔اس موسم میں کافی اور سوڈا کو بھی اپنی فہرست سے خارج کردینا چاہئے۔ کیونکہ یہ غذائیں انہضام کے نظام کی خرابی کا باعث بن سکتی ہیں۔موسم گرما میں انجیراور سٹرابری بھی بہترین غذاء کاحصہ بن سکتے ہیں۔یہ مزیدار اور صحت مند پھل ہیں۔'' بیریز‘‘ مفید معدنیات ، وٹامن سی اور حیاتین ای سے بھرپور ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ''بیریز‘‘ موٹاپا کم کرنے میں بھی مفید ہوتی ہیں۔ یہ پھل اضافی وزن سے چھٹکارا پانے میں آپ کی مدد کر سکتاہے۔ بیر انفیکشن کو بھی روکتا ہے۔ انجیر کو دہی یا گھر میںبنائے گئے پنیر کے ساتھ ملاکر کھانے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔ ناشتہ کے لئے، راسبریوں کو زیتون آئل یا پانی میں ملا کر کھائیے ۔

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے،محمد رفیع ۔۔فلمی دنیا نے تم سا نہیں دیکھا

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے،محمد رفیع ۔۔فلمی دنیا نے تم سا نہیں دیکھا

1952 ء میں ہندوستان میں ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا نام تھا ''بیجوباورا‘‘ اس فلم کی موسیقی نوشاد صاحب نے مرتب کی تھی اور اس کے شاہکار گیت شکیل بد ایونی نے تحریر کئے تھے۔ اس سے پہلے نوشاد صاحب استاد بڑے غلام علی خان سے محمد رفیع کا ذکر کر چکے تھے، لیکن انہوں نے رفیع صاحب کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ لیکن جب استاد بڑے غلام علی خان نے ''بیجوباورا‘‘ کے گیت سنے تو وہ حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے۔ اس فلم کے ان گیتوں نے تو استاد بڑے غلام علی خان پر سحر طاری کردیا۔ ان گیتوں کا ذکر ذیل میں کیا جارہا ہے۔1-اے دنیا کے رکھوالے،2 من تڑپت ہری درشن کو آج،3-تو گنگا کی موج میں جمنا کا دھاراان گیتوں میں رفیع صاحب نے جس خوبصورتی سے کلاسیکل گائیکی میں بھی اپنے فن کا چراغ جلایا ، اس کی مثال کمی ہی ملتی ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان نے نوشاد صاحب سے کہا کہ وہ محمد رفیع سے ملاقات کے آرزو مند ہیں۔ جب رفیع صاحب کو علم ہوا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ مٹھائیوں کے ٹوکرے لے کر استادمحترم کے پاس پہنچ گئے۔ استاد محترم نے انہیں چاندی کا روپیہ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ استاد نے انہیں ایک مستند گائیک تسلیم کرلیا ہے۔ اس سے پہلے وہ میڈم نور جہاں اور لتا منگیشکر کو بھی چاندی کا روپیہ دے چکے تھے۔ محمد رفیع کو 1947ء میں ریلیز ہونے والی شوکت حسین رضوی کی فلم ''جگنو‘‘ سے بریک مل چکا تھا۔ اس فلم میں انہوں نے میڈم نور جہاں کے ساتھ ایک دوگانا بھی گایا تھا جو سپر ہٹ ہوا تھا۔ اس دوگانے کے بول تھے''یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘‘۔محمد رفیع نے ''جگنو‘‘ میں مہمان اداکار کے طورپر بھی کام کیا تھا۔محمد رفیع 24 دسمبر 1924ء کو ضلع امرتسر کے گائوں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حاجی علی محمد تھا۔ چھ بھائیوں میں سے ان کا نمبر دوسرا تھا۔ 1935ء میں محمد رفیع کے والد لاہور آگئے اور بھاٹی گیٹ میں کام کرنے لگے۔ محمد رفیع نے کلاسیکی موسیقی استاد عبدالواحد خان،پنڈت جیون لال مٹو اور فیروز نظامی سے سیکھی۔13 برس کی عمر میں لاہور میں انہوں نے عوام کے سامنے گائیکی کا مظاہرہ کیا۔ اس تقریب میں کے ایل سہگل بھی موجود تھے۔1944ء میں انہوں نے سب سے پہلے زینت بیگم کے ساتھ پنجابی فلم''گل بلوچ‘‘ کیلئے یہ دوگانا گایا''سونئے نی ہیرئے نی‘‘ اس کی موسیقی شیام سندر نے ترتیب دی تھی۔ اسی سال آل انڈیا ریڈیو سٹیشن نے انہیں گانے کی دعوت دی۔1945ء میں انہوں نے اپنی پہلی ہندی فلم'' گائوں کی گوری‘‘ کیلئے گیت گایا۔ ممبئی میں مشہور نغمہ نگار تنویر نقوی نے محمد رفیع کا تعارف نامور فلمسازوں سے کرایا، جن میں عبدالرشید کاردار ، محبوب خان ، اور اداکار و ہدایتکار نذیر شامل ہیں۔ شیام سندر بھی ممبئی میں تھے۔ انہوں نے محمد رفیع اور جی ایم درانی سے ایک دوگانا گوایا جس کے بول تھے۔''اجی دل ہوقابو میں تو دلدار کی ایسی تیسی‘‘ نوشاد صاحب نے جو ان سے جو پہلا گیت گوایا اس کے بول تھے'' ہندوستان کے ہم ہیں‘‘ اس میں ان کے ساتھ شیام کمار ، علائو الدین اور دوسرے بھی شامل تھے۔ یہ گیت اے آر کاردار کی فلم ''پہلے آپ‘‘ کیلئے گایا گیا۔''جگنو‘‘ سے پہلے وہ فلم ''لیلیٰ مجنوں‘‘ 1945ء میں بھی سکرین پر نمودار ہوئے۔ انہوں نے نوشاد صاحب کیلئے کئی کورس گائے جن میں ان کا ساتھ کے ایل سہگل نے دیا۔ ان میں1946 میں ریلیز ہونے والی فلم ''شاہ جہاں‘‘ بھی شامل تھی جس میں یہ کورس شامل تھے۔''میرے سپنوں کی رانی‘‘ ،''روحی ، روحی‘‘ 1946ء میں محبوب خان کی فلم ''انمول گھڑی‘‘ کیلئے انہوں نے یہ انمول گیت گایا''تیرا کھلونا ٹوٹا بالک‘‘ اس کے بعد 1947ء میں میڈم نور جہاں کے ساتھ ان کا دوگانا بڑا مشہور ہوا جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد رفیع صاحب نے بھارت میں قیام کو ترجیح دی، میڈم نور جہاں پاکستان آگئیں۔1949ء میں موسیقاروں نے رفیع صاحب سے سولو گیت گوائے۔ ان موسیقاروں میں نوشاد صاحب ، شیام سندر اور حسن لال بھگت رام شامل تھے۔ محمد ر فیع کے پسندیدہ گلوکارکے ایل سہگل تھے۔ ان کے علاوہ وہ جی ایم درانی سے بھی بہت متاثر تھے۔ وہ پہلے درانی کے سٹائل میں گاتے تھے بعد میں وہ اپنے انداز میں گانے لگے۔ انہوں نے درانی کے ساتھ بھی کچھ نغمات بھی گائے جیسے ''ہم کو ہنستے دیکھ زمانہ جلتا ہے‘‘ اور ''خبر کسی کو نہیں وہ کدھر دیکھتے ‘‘ (فلم بے قصور1950ء) 1948ء میں رفیع صاحب کو پنڈت جواہر لعل نہرو نے گائیکی کے لئے اپنے گھر بلایا تھا۔ 1948ء میں ہی بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر پنڈت نہرو نے انہیں سلور میڈل سے نوازا۔50ء اور60ء کی دہائی میں محمد رفیع نے بھارتی فلم صنعت پر راج کیا، انہوں نے نوشاد صاحب کے علاوہ جن موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ان میں مدن موہن ، ایس ڈی برمن ، لکشمی کانت پیارے لال ، کلیان جی آنند جی، روی ،شنکر جے کشن اور او پی نیئر کے نام لئے جاسکتے ہیں۔ آرڈی برمن نے بھی ان سے خاصے گیت گوائے لیکن انہوں نے 70ء کی دہائی میں کشور کمار سے زیادہ گیت گوائے۔ اصل میں آر ڈی برمن، کشور کمار اور راجیش کھنہ کی ایک تکون بن گئی تھی۔ محمد رفیع صاحب اس لئے منظر عام سے غائب ہوگئے۔ آرڈی برمن کو پہلا بریک'' تیسری منزل‘‘ سے ملاتھا جس میں رفیع صاحب نے بڑے دلکش گیت گائے تھے اور اس فلم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ رفیع صاحب کے خلاف سازش کی گئی تھی اور انہیں گلوکاری کے میدان سے ہٹانے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ۔ لیکن پھر بھی جہاں کوئی مشکل گیت ہوتا تھا ، رفیع صاحب کو ہی یاد کیا جاتا۔ 1964ء میں راجکپور نے اپنی فلم ''سنگم‘‘ کا ایک گیت رفیع صاحب سے گوایا تھا کیونکہ وہ گیت کوئی اور نہیں گا سکتاتھا۔ راجکپور نے ہمیشہ مکیش کو ترجیح دی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ مکیش کی آواز ان کے لئے بہت مناسب ہے۔ بہر حال شنکر جے کشن نے یہ گیت رفیع صاحب سے گوایا جو سپر ہٹ ہوگیا۔ رفیع صاحب کی آواز جن اداکاروں کیلئے بہت مناسب خیال کی جاتی تھی ان میں دلیپ کمار ، دیوآنند، شمی کپور، راجندر کمار، جے مکر جی خاص طورپر قابل ذکر ہیں، شمی کپور کی مقبولیت کا ایک راز یہ بھی تھاکہ ان پر رفیع صاحب کے شاندار گانے عکس بند ہوئے تھے۔ بلکہ شمی کپور کی اپنی خواہش بھی یہ ہوتی تھی کہ ان پر رفیع صاحب کے گائے گیت فلمبند کئے جائیں۔ اسی طرح راجندر کمار پر بھی رفیع صاحب کے بڑے دلکش گیت فلمبند کئے گئے۔رفیع صاحب نے طربیہ اور المیہ گیت بڑی تعداد میں گائے۔ اس کے علاوہ انہیں کورس گانے میں بھی مہارت حاصل تھی انہوں نے غزلیں بھی گائیں اور بھجن بھی گائے۔انہوں نے شکیل بدایونی ، ساحر لدھیانوی ، آنند بخشی، مجروح سلطانپوری ، اسد بھوپالی، گلزار ، راجندر کرشن اور اندیور کے لکھے ہوئے گیتوں کو بڑی خوبصورتی سے گایا۔ 50ء اور 60ء کی دہائی میں دیو آنندپر بھی زیادہ تر رفیع صاحب کے گائے ہوئے گیت عکس بند کئے جاتے تھے اور ان میں بے شمار گیت سپر ہٹ ہوئے۔محمد رفیع نے لتا منگیشکر ، آشابھونسلے، گیتادت اور ثمن کلیان پور کے ساتھ سب سے زیادہ گیت گائے۔ لتا منگیشکر کے ساتھ انہوں نے بہت گایا۔ لکشمی کانت پیارے لال نے440 دوگانے رفیع صاحب اور لتا منگیشکر سے گوائے۔ ایس ڈی برمن اور او پی نیئر نے ان کی آواز کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا۔ او پی نیئر نے ایک بار کہا تھا کہ اگر محمد رفیع نہ ہوتا تو پھر اوپی نیئر بھی نہ ہوتا۔ محمد رفیع ، آشا بھونسلے اور او پی نیئر نے شاہکار گیت تخلیق کئے۔ ان کی فلموں میں ''نیا دور‘‘(1957ء) ، ''تم سا نہیں دیکھا‘‘(1957ء) ، ''ایک مسافر ایک حسینہ‘‘ (1962ء) اور ''کشمیر کی کلی‘‘ شامل ہیں۔ رفیع صاحب نے ''برہمچاری‘‘ کے لئے شنکر جے کشن کی موسیقی میں روک این رول (Rock`n Roll) گایا۔ اس زمانے میں یہ موسیقی کی جدید قسم تھی جسے مغرب میں ایلوس پریسلے نے متعارف کرایا تھا۔ مذکورہ بالا موسیقاروں کے علاوہ رفیع صاحب نے اوشا کھنہ، سانک روی، ایس ابن تری پاٹھی اور این دتا کے ساتھ بھی کام کیا۔ رفیع صاحب کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ فلمسازوں کے ساتھ بہت تعاون کرتے تھے۔ معاوضے کے معاملے میں ان کا کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ جتنا کسی نے دے دیا انہوں نے قبول کرلیا۔ وہ عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھے۔انہوں نے کبھی رائلٹی کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔ حالانکہ اس مسئلے پر ان کا دیگر گلوکاروں سے جھگڑا بھی ہوا اور وہ ان سے ناراض ہوگئے۔ آج بھی بھارتی میڈیا محمد رفیع کو ہندوستان کا سب سے سریلا گلوکار تسلیم کرتا ہے۔ویسے تو رفیع صاحب کے گائے ہوئے شاہکار گیتوں کی تعداد ان گنت ہے لیکن ہم ذیل میں قارئین کیلئے ان کے کچھ لازوال گیتوں کا ذکر کر رہے ہیں۔1-اے دنیا کے رکھوالے۔ 2-کھویا کھویا چاند۔ 3-یاد نہ جائے۔ 4-سوبار جنم لیں گے۔5-بار بار دیکھو۔6-ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے۔7-تیرے بن سونے نین ہمارے۔8-مدھو بن میں رادھیکا ناچے رے۔9-ہوئے ہم جن کے لئے برباد۔10-دل میں چھپا کے پیار کا۔11-مانگ کے ساتھ تمہارا۔12 - نین لڑ گئے رے۔13-ہم توچلے پردیس ۔14-چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے۔15-آج پرانی راہوں سے۔اس کے علاوہ ان کے بے شمار دوگانے اور کورس بھی انتہائی مقبول ہوئے۔ انہیں پدما شری کے علاوہ کئی فلم فیئر ایوارڈ اور نیشنل ایوارڈ بھی دیئے گئے۔31 جولائی 1980ء کو یہ عظیم گلوکار55 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔ان جیسا کوئی دوسرا گلوکار اب شاید کبھی نہ آئے۔

ساون بھادوں ایک ہی موسم ، یہ موسم ہے دل کا موسم

ساون بھادوں ایک ہی موسم ، یہ موسم ہے دل کا موسم

میر،غالبؔ ، انیسؔ و دبیرؔسمیت رومانوی شعراء نے اس موسم کو دل وجان سے چاہا ہے

مجید امجد۔۔۔۔’’احساس کا شاعر ‘‘

مجید امجد۔۔۔۔’’احساس کا شاعر ‘‘

انفرادیت، مخصوص تمثال نگاری اور لفظوں کی ملائم ترتیب و تنظیم ان کے اعلیٰ شعری مرتبے کی عکاس ہیں’’مجید امجد نے خارج کی مادی دنیا کو باطن کی غیر مادی دنیا سے مربوط کرنے میں فنی بالیدگی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ڈاکٹروزیر آغا

عید ملن ادبی بیٹھک،راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے  ادیبوں اور شاعروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

عید ملن ادبی بیٹھک،راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

محترمہ قیصرہ علوی کے خاندان کا یہ امتیاز رہا ہے کہ وہ ہر دور میں اپنے ہاںاسلام آباد میں ادبی محفلوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں،یہ سلسلہ آج سے نہیں کئی دہائیوں پر محیط ہے ، اِن کے ہاں فیض احمد فیض سے لے کر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ، انتظار حسین اور ہر دور کے نامور دانشور شاعر، قلم کار ، خواتین و حضرات شرکت کر تے رہیں ۔

کورونا نے بدلا کیا کچھ ۔۔۔شادی پر خرچے ہوگئے کم

کورونا نے بدلا کیا کچھ ۔۔۔شادی پر خرچے ہوگئے کم

کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد کیا کچھ نہیں بدلا ، گھر ، دفتر کا ماحول ،عزیز و اقارب اور ہمسایوں سے میل ملاپ حتیٰ کہ شادی بیاہ کی تقریبات بھی کافی حد تک بدل چکی ہیں ۔ایک طرف مہمانوں کی گہما گہمی کم ہو چکی ہے تو دوسری جانب شادی بیاہ کے بڑھتے اخراجات کو بھی بریک لگ چکی ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ متوسط اور غریب گھرانوں کیلئے اب بیٹیوں کی ڈولی اٹھانا مشکل نہیں رہا اس میں کچھ آسانیاں آ گئی ہیں۔ ان آسانیوں اور تبدیلیوں کو صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں محسوس کیا جا رہا ہے ۔ آج ہم انہی معاملات پر مختصراً بات کریں گے ۔کورونا وباء کے باعث لگائی جانے والی پابندیوں سے معاشرتی روایات بدل سی گئی ہیں۔ ان میں شادی کی تقریبات سرفہرست ہیں کیونکہ یہ لوگوں کے جمع ہونے کی سب سے بڑی جگہ ہوتی ہیں مختلف جگہوں کے لوگ اور خاندانوں کے افراد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں جس کی وجہ سے کورونا پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اسی بارے میں ایک غیر ملکی جریدے نے شادیوں کے حوالے سے خصوصی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وباء سے قبل شادی کی تقریب کا انعقاد مالی لحاظ سے ایک مشکل کام تھا کیونکہ شادی میں ایسے نئے نئے رواج داخل ہوچکے تھے جو بہت مہنگے تھے۔ کسی عام شخص کیلئے شادی کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔کورونا کے پھیلنے کے بعد شادی کے انتظامات اور پروٹوکول میں خاصا بدلاؤ آ گیا ہے۔ ہم ذیل میں کورونا وائرس کے شادی کی تقریبات پر اثرات کو واضح کرتے ہیں۔

افغانستان میں امن ،پاکستان وخطے کیلئے ضروری،حالات تشویشناک ہیں
2021-07-26

افغانستان میں امن ،پاکستان وخطے کیلئے ضروری،حالات تشویشناک ہیں

شرکاء: بریگیڈیئر(ر) حارث نواز معروف دفاعی تجزیہ کار۔پروفیسر ڈاکٹر طہٰ چیئرمین شعبہ تاریخ جامعہ کراچی۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حنا خانشعبہ تاریخ جامعہ کراچی ۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نوشین وصی شعبہ بین الاقوامی تعلقات جامعہ کراچی۔ اسسٹنٹ پروفیسر آفاق علی خان ، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی ۔

سہولت کی قربانی ضروری, سرکاری طور پر مقررہ مقامات پر جانور ذبح کریں
2021-07-12

سہولت کی قربانی ضروری, سرکاری طور پر مقررہ مقامات پر جانور ذبح کریں

شرکاء:طارق علی نظامانی ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آپریشن سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ۔مفتی احمدعفنان ، ڈائریکٹر کلیۃ الشریعہ جامعتہ الرشید ۔ مولانا فیاض حسین مطاہری،رکن شیعہ علماء کونسل و زہرہ اکیڈمی۔ ڈاکٹر مریم حنیف غازی،ماہر نفسیات سربراہ شعبہ نفسیات محمد علی جناح یونیورسٹی۔ڈاکٹر سکینہ ریاض ، ماہر سماجیات اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سوشل ورک، جامعہ کراچی۔بینش ضیاء کلینیکل سائیکالوجسٹ اورٹریننگ کنسلٹنٹ ۔ مریم فردوس لیکچرارشعبہ سائیکالوجی محمدعلی جناح یونیورسٹی ۔

سائرن بجاتی ،چنگھاڑتی جعلی ایمبولینس سروسز۔۔عوام میں خوف کا باعث
2021-07-05

سائرن بجاتی ،چنگھاڑتی جعلی ایمبولینس سروسز۔۔عوام میں خوف کا باعث

شرکاء:مسرت نسرین ،ڈائریکٹر کراچی ڈویژن سوشل ویلفیئرڈپارٹمنٹ حکومت سندھ عبدالشفیق سولنگی ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئرڈپارٹمنٹ حکومت سندھ۔معین خان، سیکریٹری اطلاعات اور ٹرسٹی المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی۔ شہزاد آدم جی ٹرانسپورٹ انچارج المصطفیٰ ویلفیئرٹرسٹ۔مرتضیٰ عباس،ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ کمیونی کیشن امن فائونڈیشن ۔انیل میر ،منیجر آپریشنز امن ہیلتھ کیئر سروس ۔سرفراز شیخ ، منیجر والنٹیراینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ الخدمت کراچی۔ کاشف انصاری ،انچارج ایمبولینس سروسز عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ۔کنور وسیم، صوبائی سیکریٹر ی ریڈکریسنٹ پاکستان سندھ ۔

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز