راولپنڈی: (دنیا نیوز) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار ہیں، دونوں ملکوں کی دوستی بدلتے علاقائی و عالمی حالات کے باوجود ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔
راولپنڈی: (دنیا نیوز) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار ہیں، دونوں ملکوں کی دوستی بدلتے علاقائی و عالمی حالات کے باوجود ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔
عوام کی رائے لی جانی چاہیے،وہ گورننس سے مطمئن ہیں تو تھیک،نہیں تو آئین کے مطابق فیصلہ کریں،دہشتگردوں کو ہتھیار ڈالنا ہونگے یا ہم انھیں ختم کردینگے،ایلیٹ کلاس اور سردار بلوچستان کی ترقی کے مخالفمولانافضل الرحمٰن کا شہدا بارے بیان ناقابل فہم،یہ بیانیہ ہندوستان چلانا ہے،محسن نقوی کے بیان سے مایوسی نہیں پھیلے گی،نوجوان کہیں گے کہ دیر آئے،درست آئے،ریاست ہے تو سیاست ہے،نام ہے،پہچان ہے:پریس بریفنگ1973سے آج تک اسمبلیوں میں وہی خاندان،جاگیردار،نوابزدے اور پارٹیاں نظر آتی ہیں،جیت جائیں تو جمہوریت،ہار جائیں تو آمریت،بھارت،افغانستان کا ایجنڈا د ہشتگردی:ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف
شہبازشریف سے کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کی ملاقات ،مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے پر رپورٹ پیش، تقابلی جائزہ لائق تحسین ،تفصیلی جائزے کیلئے کمیٹی بنا نیکی ہدایت ایندھن کی منصفانہ قیمتوں پر فراہمی ترجیح ،عوام کی پائی پائی کا تحفظ کرینگے ،بندرگاہوں ، ریفائنریوں سے پٹرول پمپس تک سپلائی کی ڈیجٹیل مانیٹرنگ کی جائے :وزیراعظم
پولنگ سٹیشنوں کے نتائج، بیلٹ پیپرز بھی عوام کے سامنے پیش کریں ،کسی کو کامیاب کرانا آپ کی ذمہ داری نہیں وادی کشمیر کو’’ جنت بینظیر‘‘بنانا چاہتا ہوں،فوج ہماری ریڈ لائن ،سیاسی بحث کا نشانہ نہ بنایا جائے ،سپاہی قوم کا فخر ہیں
جیسے جیسے غیر مسلح کرنیکا عمل مکمل ہوتا جائیگا، اسرائیلی افواج غزہ سے انخلا کرینگی، امریکی صدر، 14روز میں ٹائم فریم تیار پھر قومی کمیشن انتظام سنبھالے گاپہلے اسرائیل قتل و غارت بندکرے، حماس،غیرمسلح ہونے تک یلو لائن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اسرائیل،2حملوں میں ایک فلسطینی جاں بحق ،کئی زخمی
منصوبہ میرے دل کے قریب ، غفلت برداشت نہیں،ستھرا پنجاب کی طرز پرصاف پانی اتھارٹی کو فعال بنایا جا ئیگاصاف پانی کیلئے جاپانی اور چینی ٹیکنالوجی متعارف:وزیر اعلیٰ، کان دھماکے میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس
اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں،سیاست کبھی کبھی کو ئی شرم کو ئی حیا بھی مانگ لیتی ہے ہائبرڈ نظام کی کامیابی میں ہماری نجات، موجودہ سیٹ اپ کے جا نیکی نشانیاں نہیں
محسن نقوی کی باتیں وقت کی ضرورت ،صوبوں کو 3، 3حصوں میں تقسیم کرنیکی تجویز نئے صوبے بننے سے عوامی مسائل دہلیز پر حل ہوں تو آخر کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے ؟
انتظامی یونٹس کی بات کرنے والے بتائیں کیا آپ کے پاس اس کا مینڈیٹ ہےفوری قومی حکومت بنا کر الیکشن کروائیں،پیپلزپارٹی کو مناظرے کا چیلنج دیتا ہوں
مصنوعی ذہانت کا حیران کن کارنامہمصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا روز بروز ایسے حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہی ہے جو چند برس پہلے تک صرف سائنسی فلموں اور تصوراتی کہانیوں کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ اب ایک ایسا جدید روبوٹ متعارف کرایا گیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں انسان کو کپڑے پہنا سکتا ہے۔ یہ منفرد ایجاد نہ صرف ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کا مظہر ہے بلکہ معمر افراد، جسمانی معذوری کا شکار مریضوں اور روزمرہ زندگی میں دوسروں کی مدد کے محتاج افراد کیلئے بھی ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں گھریلو روبوٹس انسانی زندگی کا معمول بن سکتے ہیں، جو صرف گھریلو کام ہی نہیں بلکہ ذاتی نگہداشت کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے۔ یہ تصور سب سے پہلے اینیمیشن فلم ''والیس اینڈ گرومٹ‘‘ (Wallace & Gromit) میں دکھایا گیا تھا، جہاں ایک شخص بغیر ہاتھ لگائے کپڑے تبدیل کر لیتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے ایسا خودکار روبوٹک لباس تیار کر لیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں خود ہی جسم پر چڑھ جاتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی لباس کے اندر پھولنے والی باریک ''بیل نما نالیاں‘‘ (Vines Inflatable) نصب کی گئی ہیں، جو آہستہ آہستہ پھیلتے ہوئے لباس کو پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس یہ نیا نظام اس وقت بھی کام کرتا ہے جب لباس پہننے والا شخص حرکت کر رہا ہو، یعنی اسے کپڑے پہننے کیلئے ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بزرگ افراد، جسمانی معذوری کا شکار لوگوں اور ایسے مریضوں کیلئے انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے وہ دوسروں کی مدد کے بغیر خود لباس پہن سکیں گے۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں فائر فائٹرز، ریسکیو اہلکاروں اور طبی عملے کو بھی چند سیکنڈ میں حفاظتی لباس پہننے میں یہ ٹیکنالوجی مدد فراہم کر سکتی ہے، جس سے قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔تحقیقی ٹیم نے اپنے مقالے میں، جو سائنسی جریدے میں شائع ہوا، لکھا ہے کہ ہم نے ایک نیا نرم روبوٹک لباس پہنانے والا نظام پیش کیا ہے، جسے ''سیلف ویئرنگ ایڈاپٹو گارمنٹ‘‘ (SWAG) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام کھلنے اور بتدریج پھیلنے کے منفرد طریقۂ کار کے ذریعے خودکار انداز میں لباس پہننے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ محققین کے مطابق روایتی روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس ''SWAG‘‘ انسانی جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ اس کا منفرد انفولڈنگ بیسڈ ڈیپلائمنٹ طریقہ لباس اور جلد کے درمیان رگڑ کو تقریباً ختم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں لباس پہننے کا عمل محفوظ، آرام دہ اور مؤثر بن جاتا ہے۔اس منفرد روبوٹک لباس کو تیار کرنے والی تحقیقی ٹیم، جس میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دان شامل ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں اس ایجاد کا خیال اس بیل سے ملا جو دیواروں پر آہستہ آہستہ چڑھتی جاتی ہے۔ جب لباس کے اندر موجود نرم اور لچکدار ''بیل نما نالیاں‘‘ ہوا کے دباؤ سے پھولتی ہیں تو وہ لباس کو پہننے والے کے جسم کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف سرکاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بیل کسی دیوار یا سہارے پر چڑھتی ہے۔تحقیق کے مرکزی مصنف کم نامگیون نے بتایا کہ انہیں اس ایجاد کا خیال ایک بار بارش کے دوران آیا۔ میں سائیکل چلا رہا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ اسی لمحے میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر برساتی کوٹ سائیکل چلاتے ہوئے خود بخود پہنایا جا سکے تو یہ کتنا مفید ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بیل نما روبوٹ انسان کے جسم کے قریب رہتے ہوئے لباس کو حرکت کے دوران اندر سے باہر کی جانب پلٹتے ہوئے پہناتا ہے، جس سے وہ جسم کی ساخت کے مطابق مستحکم انداز میں اوپر کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ لباس پہننے والے شخص کو بالکل ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ یہ نظام کسی پیچیدہ کنٹرول الگورتھم کے بغیر بھی مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ روبوٹ اپنے اگلے حصے کو مسلسل آگے بڑھاتے ہوئے کام کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پارٹی میں استعمال ہونے والی کاغذی سیٹی میں پھونک مارنے پر وہ کھل کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہوا بھرنے کے ساتھ یہ بیل نما نالیاں جسم کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور اسی دوران لباس کو اندر سے باہر کی طرف پلٹتے ہوئے پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نظام پورے جسم کا لباس تقریباً 10 سیکنڈ میں پہنا سکتا ہے۔ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر ریو جی ہوان کے مطابق یہ روبوٹک نظام تنگ جگہوں سے آسانی سے گزر سکتا ہے، اپنے اردگرد کے ماحول اور جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے آگے بڑھتا ہے، اور سطح چاہے پھسلن والی ہو، چپکنے والی ہو یا ڈھلوان پر مشتمل ہو، ہر حالت میں مؤثر انداز سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات صرف بزرگ اور جسمانی معذوری کا شکار افراد تک محدود نہیں، مستقبل میں اسے ایسے تمام مواقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں کسی شخص کو اپنے ہاتھ استعمال کیے بغیر نہایت تیزی سے لباس پہن کر فوری طور پر کام پر روانہ ہونا ہو۔ اسی طرح آگ بجھانے والا عملہ، ریسکیو اہلکاروں، طبی امدادی کارکنوں اور دیگر ہنگامی خدمات انجام دینے والے افراد بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں چند سیکنڈ میں ذاتی حفاظتی لباس پہننے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانی زندگی کو مزید آسان بنائیں گے یا مستقبل میں انسانوں کی بہت سی روایتی ذمہ داریوں کی جگہ لے لیں گے۔
کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے بچے ہوتے ہیں۔ یہی بچے مستقبل کے معمار، سائنس دان، اساتذہ اور رہنما بنتے ہیں۔ مگر ذرا ایک لمحے کیلئے اُس بچے کا تصور کیجیے جس کی زندگی کتابوں، کھیل کے میدانوں اور خوابوں کے بجائے اسپتال کے بستروں، خون کی بوتلوں اور سوئیوں کے گرد گھومتی ہو۔ جو ہر پندرہ سے بیس دن بعد صرف زندہ رہنے کیلئے خون لگوانے پر مجبور ہو۔ پاکستان میں ہزاروں بچوں کی زندگی اسی کربناک حقیقت کی عکاس ہے اور یہی حقیقت تھیلیسیمیا کو ہمارے ملک کے سب سے بڑے مگر سب سے زیادہ نظرانداز کیے جانے والے عوامی صحت کے مسائل میں شامل کرتی ہے۔تھیلیسیمیا کوئی لاعلاج یا ناقابلِ روک تھام بیماری نہیں۔ جدید طبی سائنس نے برسوں پہلے ایسے مؤثر طریقے فراہم کر دیے ہیں جن کے ذریعے اس بیماری کے نئے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔ مسئلہ بیماری نہیں بلکہ ہماری غفلت، کمزور پالیسی سازی اور صحت کے نظام کی ناکامی ہے۔پاکستان میں ساٹھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ مریض تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً چھ ہزار نئے بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں نہیں بلکہ ایک کروڑ سے زائد افراد تھیلیسیمیا جین کے کیریئر ہیں۔ یہ لوگ مکمل طور پر صحت مند دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اپنی کیفیت کا علم بھی نہیں ہوتا۔ یہی خاموشی اس بیماری کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔جب دو ایسے افراد، جو بظاہر صحت مند ہوں مگر دونوں تھیلیسیمیا جین کے حامل ہوں، آپس میں شادی کرتے ہیں تو ہر حمل میں پچیس فیصد امکان ہوتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مریض ہوگا۔ پچاس فیصد امکان یہ ہوتا ہے کہ بچہ بھی صرف کیریئر ہوگا، جبکہ صرف پچیس فیصد امکان رہ جاتا ہے کہ بچہ مکمل طور پر محفوظ ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ تر والدین کو اس حقیقت کا علم اُس وقت ہوتا ہے جب ان کی گود میں ایک متاثرہ بچہ آ چکا ہوتا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ تھیلیسیمیا صرف مریض کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ ایک بچے کے مسلسل علاج کیلئے والدین کو بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے، ملازمت سے چھٹیاں لینا پڑتی ہیں، معاشی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور خاندان کے دیگر بچوں کی تعلیم اور ضروریات بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یوں یہ بیماری صرف جسمانی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اگر پاکستان واقعی صحت مند اور مضبوط معاشرہ بنانا چاہتا ہے تو ہمیں بیماری کے علاج سے زیادہ اس کی روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک نے یہی راستہ اختیار کیا اور کامیاب ہوئے، جبکہ ہم اب بھی اُن بچوں کا انتظار کرتے ہیں جو ہر سال اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔تھیلیسیمیا میجر کے مریض کی زندگی ایک مستقل آزمائش ہوتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی آسان علاج نہیں بلکہ مریض کو پوری زندگی باقاعدگی سے خون کی منتقلی اور خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت رہتی ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد خون نہ لگایا جائے تو جسم میں خون کی شدید کمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف مسلسل خون لگنے سے جسم میں آئرن کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جسے کم کرنے کیلئے آئرن چیلیشن تھراپی ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر یہ علاج بروقت نہ ہو تو دل، جگر اور دیگر اہم اعضا نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس بیماری کا معاشی بوجھ بھی کسی سانحے سے کم نہیں۔ مختلف مطالعات کے مطابق پاکستان میں تقریباً 85 فیصد متاثرہ خاندان علاج کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ نجی اسپتال میں صرف ایک مرتبہ خون کی منتقلی پر ہزاروں روپے خرچ ہو جاتے ہیں، جبکہ ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ، سفر اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ بہت سے والدین اپنی جمع پونجی ختم کر دیتے ہیں، قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا اپنے دوسرے بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات قربان کر دیتے ہیں تاکہ ایک بچے کی زندگی بچائی جا سکے۔دنیا کے کئی ممالک نے ثابت کیا ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی اور سیاسی عزم کے ذریعے تھیلیسیمیا کے نئے کیسز میں حیرت انگیز حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ایران اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ 1990ء کی دہائی میں وہاں شادی سے قبل لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ کا قومی پروگرام متعارف کرایا گیا۔ شادی کے خواہشمند جوڑوں کے ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ کیریئر ثابت ہونے والے جوڑوں کو جینیاتی مشاورت فراہم کی گئی۔ مسلسل حکومتی سرپرستی، عوامی آگاہی اور مؤثر نظام کی بدولت ایران نے تھیلیسیمیا میجر کے نئے کیسز کو تقریباً ختم کر دیا۔ اس کامیابی نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ بیماری کے علاج سے کہیں زیادہ مؤثر اور کم خرچ راستہ اس کی بروقت روک تھام ہے۔اسی طرح سعودی عرب نے بھی 2004ء میں تھیلیسیمیا اور سکل سیل بیماری کیلئے شادی سے قبل لازمی اسکریننگ کا پروگرام نافذ کیا۔ حکومت نے صرف قانون سازی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علماء، طبی ماہرین، میڈیا اور کمیونٹی کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا۔ نتیجتاً عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا اور موروثی خون کی بیماریوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔یہ دونوں مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ تھیلیسیمیا کے خلاف کامیابی صرف اسپتالوں میں نہیں بلکہ مؤثر پالیسی، عوامی شعور، سیاسی عزم اور معاشرتی تعاون سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان کو تھیلیسیمیا کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے کسی نئے معجزے یا مہنگی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس قابل ڈاکٹرز، تربیت یافتہ طبی عملہ، تشخیصی لیبارٹریاں اور سائنسی مہارت موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو ایک انفرادی بیماری نہیں بلکہ قومی ترجیح کے طور پر دیکھا جائے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ایک جامع قومی پالیسی مرتب کرے جس میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا کیریئر اسکریننگ کو مرحلہ وار قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جینیاتی مشاورت کی سہولت ہر ضلع تک پہنچائی جائے، تاکہ نوجوان اور ان کے خاندان سائنسی معلومات کی بنیاد پر باخبر فیصلے کر سکیں۔ اسکریننگ کا مقصد کسی کی شادی روکنا یا سماجی رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک موذی مرض سے محفوظ رکھنا ہے۔اس کے ساتھ محفوظ خون کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ ملک بھر میں جدید بلڈ بینکنگ سسٹم، رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی ثقافت اور خون کی سخت جانچ کے نظام کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ تھیلیسیمیا کے تمام مریضوں کو معیاری خون، آئرن چیلیشن ادویات اور خصوصی طبی مراکز تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ علاج کسی خاندان کی مالی حیثیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر مریض کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔اگر ہم نے آج احتیاط، آگاہی اور سائنسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی تو ہم آنے والی نسلوں کو ایک ایسی بیماری سے محفوظ بنا سکتے ہیں جو بڑی حد تک قابلِ روک تھام ہے۔ لیکن اگر ہم نے مزید تاخیر کی تو ہر سال ہزاروں نئے بچے اور ان کے خاندان اسی اذیت ناک سفر کا آغاز کریں گے جسے ہم آج بھی خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم یا تو ایک قابلِ روک تھام بحران کو مسلسل برداشت کرتے رہیں یا پھر قومی عزم، سائنسی شواہد اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں کسی بچے کا مستقبل ہر پندرہ دن بعد خون کی ایک بوتل کا محتاج نہ ہو۔اب صرف آگاہی کافی نہیں، عمل کا وقت آ چکا ہے۔
کے ٹو پر بدترین سانحہیکم اگست 2008ء کو دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو (K2) پر بین الاقوامی مہماتی ٹیموں کے 11 کوہ پیماؤں کی موت واقع ہوئی۔ یہ حادثہ کے ٹو کی کوہ پیمائی کی تاریخ کا بدترین سانحہ قرار دیا جاتا ہے۔ بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کے مشن پر نکلنے والے ان کوہ پیماؤں کو شدید موسمی حالات، برفانی تودوں اور خطرناک راستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حادثے نے دنیا بھر میں کوہ پیمائی کی خطرناک نوعیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا۔پیراگوئے: سپر مارکیٹ آتشزدگی 2004ء میں آج کے روز پیراگوئے کے دارالحکومت کی ایک سپر مارکیٹ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 424 افراد ہلاک جبکہ 360 دیگر زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ ملک کی تاریخ کے بدترین آتشزدگی کے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ آگ لگنے کے بعد عمارت کے اندر موجود لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بڑی تعداد میں افراد جان بچانے میں ناکام رہے۔جرمنی میں سمر اولمپکسیکم اگست1936ء کو جرمنی میں'' سمر اولمپکس‘‘ کا آغاز ہوا جسے ''نازی اولمپکس‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔یہ ایک بین الاقوامی ملٹی سپورٹس ایونٹ تھا۔ جس میں دنیا بھر سے سیکڑوں اتھلیٹ شریک ہوئے۔ یہ ہٹلر کے دور حکومت میں ہونے والے چند سپورٹس ایونٹس میں سے ایک تھا جس کیلئے جرمن حکومت نے نئے سٹیڈیم، جم اور ٹریک تعمیر کئے۔ یہ پہلا ایونٹ تھا جس کو ٹیلی ویژن کے ذریعے41ممالک میں نشر کیا گیا۔جرمن اولمپک کمیٹی نے 7ملین ڈالر میں کھیلوں کی کوریج کا ٹھیکہ دیا۔''آپریشن ٹائیڈ ویو‘‘''آپریشن ٹائیڈ ویو‘‘ دوسری عالمی جنگ کے دوران کیا جانے والے ایک اہم امریکی آپریشن تھا۔ یکم اگست 1943ء کو رومانیہ کے ارد گرد نو آئل ریفائنریوں پر لیبیا میں مقیم ریاستہائے متحدہ امریکہ کی فضائیہ کے بمباروں کا حملہ تھا۔ یہ ایک اسٹریٹجک بمباری کا مشن تھا اور محوری طاقتوں کو پیٹرولیم پر مبنی ایندھن سے انکار کرنے کیلئے ''تیل کی مہم‘‘ کا حصہ تھا۔ اس مشن کے نتیجے میں ''مصنوعات کی مجموعی پیداوار میں کوئی کمی نہیں آئی‘‘۔اس لڑائی کو دوسری عالمی جنگ کے دوران بڑے محاذوں میں شمار کیا جاتا ہے۔سائنس فکشن ناول ''ڈیون‘‘ کی اشاعتیکم اگست 1965ء میں امریکی مصنف فرینک ہربرٹ کا شہرہ آفاق سائنس فکشن ناول ''ڈیون‘‘ (Dune) پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ یہ ناول مستقبل کی ایک خیالی دنیا، سیاست، ماحولیات اور انسانی بقا کے موضوعات پر مبنی تھا۔ اپنی منفرد کہانی، گہرے تصورات اور تخلیقی انداز کے باعث ''ڈیون‘‘نے دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ 2003ء میں اسے دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سائنس فکشن ناول قرار دیا گیا۔سانحہ یونیورسٹی آف ٹیکساسچارلس جوزف سفید فارم ایک امریکی قاتل تھا جو ''ٹیکساس ٹاور سنائپرک‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ یکم اگست 1966ء کو چارلس جوزف نے اپنی ماں اور بیوی کوچاقو کے وار کر کے قتل کیا اور اس کے بعد آتشیں اسلحہ کے ساتھ یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن میں گھس کرلوگوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔اس نے مرکزی بلڈنگ کے اندر تین افراد کو گولی ماری پھر عمارت کے کلاک ٹاور میں رسائی حاصل کی، وہاں بھی اس نے گھنٹوں تک لوگوں پر فائرنگ کی۔ اس سانحہ میں 17افراد ہلاک اور 31افراد زخمی ہوئے۔
کائنات کے راز ہمیشہ سے انسان کے لیے تجسس کا باعث رہے ہیں۔ انہی رازوں میں بلیک ہولز اور زمین سے باہر ذہین مخلوق (Extraterrestrial Intelligence) کا موضوع بھی شامل ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے معروف ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں سائنسدانوں کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں اس غیر معمولی سوال پر غور کیا گیا کہ کیا ممکن ہے کہ انتہائی ترقی یافتہ خلائی مخلوقات بلیک ہولز کے گرد اپنی جدید ٹیکنالوجی قائم کر چکی ہوں؟ اس نشست میں کسی دریافت کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ یہ اس بات پر سائنسی غور و فکر تھا کہ اگر ایسی ٹیکنالوجی موجود ہو تو اسے دریافت کرنے کے لیے کن طریقوں سے تحقیق کی جا سکتی ہے۔بلیک ہولز کیوں اہم ہیں؟بلیک ہولز کائنات کے وہ اجسام ہیں جن کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ سائنسدانوں کے مطابق خاص طور پر گھومنے والے بلیک ہولز اپنے اردگرد بے پناہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ نظریاتی طور پر اگر کوئی مخلوق انسانوں سے لاکھوں یا کروڑوں گنا زیادہ ترقی یافتہ ہو تو وہ اس توانائی کو استعمال کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔یہ تصور محض سائنسی تخیل نہیں بلکہ طبیعیات کے بعض اصولوں پر مبنی ایک نظریاتی امکان ہے۔ اسی وجہ سے محققین نے اس موضوع کو سنجیدگی سے زیرِ بحث لایا۔ایم آئی ٹی کی نشست کا سوال؟اس سال جون میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں فلکیات، طبیعیات، بلیک ہولز اور SETI (Search for extraterrestrial intelligence) کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد ماہرین شریک ہوئے۔ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ خلائی مخلوق کے وجود کو ثابت کریں بلکہ یہ جاننا تھا کہ اگر ایسی تہذیبیں واقعی موجود ہوں تو ان کے آثار کیسے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔سائنسدانوں نے مختلف نظریات، مشاہداتی طریقوں اور مستقبل کی تحقیق کے امکانات پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق جدید دوربینیں اور فلکیاتی مشاہدات اب اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ پہلے سے جمع شدہ ڈیٹا کو بھی نئے زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ٹیکنوسگنیچر کیا ہوتے ہیں؟روایتی طور پر خلائی مخلوق کی تلاش میں ریڈیو سگنلز پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے لیکن اب سائنس دان ٹیکنوسگنیچر (Technosignatures) کے تصور پر زیادہ کام کر رہے ہیں۔ٹیکنوسگنیچر سے مراد ایسے غیر معمولی آثار یا اشارے ہیں جو قدرتی فلکیاتی عمل سے مطابقت نہ رکھتے ہوں اور جنہیں کسی ذہین تہذیب کی ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا سکے۔مثال کے طور پر غیر معمولی روشنی کے نمونے، غیر متوقع انفرا ریڈ شعاعیں یا بلیک ہول کے گرد ایسے ڈھانچے یا سرگرمیاں جو قدرتی قوانین سے مختلف نظر آئیں۔اگر مستقبل میں ایسے شواہد ملتے ہیں تو ان کا انتہائی احتیاط سے تجزیہ کیا جائے گا تاکہ پہلے تمام قدرتی وضاحتوں کو جانچا جا سکے۔کیا بلیک ہول توانائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟طبیعیات کے بعض نظریات کے مطابق گھومنے والے بلیک ہولز سے توانائی حاصل کرنا اصولی طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی انتہائی ترقی یافتہ تہذیب اس قابل ہو تو وہ ایسی ٹیکنالوجی بنا سکتی ہے جو بلیک ہول سے توانائی حاصل کر کے اپنی ضروریات پوری کرے۔یہ تصور انسانی ٹیکنالوجی سے بہت آگے ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ناممکن اور غیر دریافت شدہ چیز میں فرق ہوتا ہے۔ آج کی بہت سی سائنسی حقیقتیں بھی کبھی صرف نظریات سمجھی جاتی تھیں۔موجودہ مشاہدات سے کیا معلوم ہو سکتا ہے؟ایم آئی ٹی کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ کیا موجودہ فلکیاتی مشاہدات خصوصاً ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ اور دیگر رصدگاہوں کا ڈیٹا دوبارہ جانچنے سے کوئی غیر معمولی اشارہ سامنے آ سکتا ہے۔محققین کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی عجیب یا غیر متوقع مشاہدہ سامنے آئے تو اس کا مطلب فوری طور پر خلائی مخلوق نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے اس کی قدرتی وجوہات تلاش کی جائیں گی اور صرف تمام سائنسی امکانات ختم ہونے کے بعد ہی کسی غیر معمولی وضاحت پر غور کیا جائے گا۔کیا خلائی مخلوق دریافت ہو گئی ہے؟اس سوال کا واضح جواب نہیں ہےایم آئی ٹی کی اس نشست میں ایسی کوئی دریافت یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ یہ صرف ایک تحقیقی اور فکری نشست تھی جس کا مقصد مستقبل کی تحقیق کے نئے راستے تلاش کرنا تھا۔سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ غیر معمولی دعووں کے لیے غیر معمولی اور مضبوط شواہد درکار ہوتے ہیں۔ جب تک قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہ ہوں، کسی بھی امکان کو حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔مستقبل کی تحقیقکائنات کے بارے میں ہماری معلومات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ نئی دوربینیں، طاقتور کمپیوٹرز اور مصنوعی ذہانت فلکیاتی ڈیٹا کے تجزیے کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں سائنس دان بلیک ہولز، کہکشاؤں اور دیگر فلکیاتی اجسام میں ایسے اشارے تلاش کر سکیں جو آج ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔اگرچہ خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی ثبوت ابھی تک نہیں ملا، لیکن سائنس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر قابلِ آزمائش امکان کی تحقیق کی جائے۔ اسی سوچ کے تحت ایم آئی ٹی کی یہ نشست منعقد ہوئی، جس نے سائنس دانوں کو نئی تحقیق، نئے سوالات اور نئی حکمتِ عملیوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ایم آئی ٹی میں ہونے والی اس سائنسی نشست نے یہ واضح کیا کہ جدید سائنس صرف معلوم حقائق تک محدود نہیں بلکہ نامعلوم امکانات کی بھی منظم اور منطقی تحقیق کرتی ہے۔ بلیک ہولز کے گرد ممکنہ خلائی ٹیکنالوجی کا تصور فی الحال ایک نظریاتی امکان ہے،حقیقت۔ تاہم اس موضوع پر ہونے والی گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ مستقبل میں اگر کوئی غیر معمولی ثبوت سامنے آتا ہے تو وہ سائنسی دنیا کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی، لیکن فی الحال یہ موضوع تحقیق، تجسس اور سائنسی جستجو کا حصہ ہے۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی، سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی، گورنمنٹ ہائی سکول کے سرسبز میدان میں دوڑ مقابلہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شہر کے مختلف اسکولوں سے منتخب کیے ہوئے بہترین طالب علم حصہ لے رہے تھے۔
میڈیکل کالج کا پروفیسر زبانی امتحان لے رہا تھا۔ اس نے طالب علم سے پوچھا ’’تم ان میں سے کتنی گولیاں اس شخص کو دو گے جس کو دل کا دورہ پڑا ہو‘‘ طالب علم نے جواب دیا ’’چار‘‘۔
گرمیوں کے خوش ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور پھلوں میں ناشپاتی بھی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ نرم، رسیلی اور میٹھے ذائقے کی وجہ سے یہ پھل بچوں کو بہت پسند آتا ہے۔