نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اوپنرشان مسعود نے 26 رنزبنائے
  • بریکنگ :- پی ایس ایل7 ، عمران طاہر مین آف دی میچ قرار
  • بریکنگ :- ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو 7 وکٹ سے ہرا دیا
  • بریکنگ :- ملتان سلطانزنے 125 رنزکاہدف 19 ویں اوور میں پوراکرلیا
  • بریکنگ :- فاتح کپتان محمد رضوان 52 رنزکےساتھ ناٹ آؤٹ رہے
  • بریکنگ :- ملتان سلطانزکےصہیب مقصود نے 30 رنز بنائے
راہِ ہدایت
جولوگ زمین میں ناحق غرورکرتے ہیں ان کواپنی آیتوں سے پھیردونگا۔اگریہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ (سورۃ الاعراف:آیت146)
Coronavirus Updates

کیچ: دہشتگردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، پاک فوج کے 10 جوان شہید


کوئٹہ: (دنیا نیوز) بلوچستان میں دہشتگردوں کیساتھ لڑائی میں پاک فوج کے 10 جوان وطن پر قربان ہو گئے۔


اشتہار
تمام کالمز

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر، اے پی پی، دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز ملاقات کی۔

کراچی، اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر، دنیا نیوز، نیوز ایجنسیاں) ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی قانون کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا توپولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ، آنسوگیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جس کے باعث علاقہ میدان جنگ بن گیا، شیلنگ سے ریلی میں موجود خواتین اوربچوں کی حالت غیر ہو گئی، جب کہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔

لاہور(سیاسی رپورٹر سے ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتا ہوں کہ ا س نے ‘نیا پاکستان قومی صحت کارڈ’ کے ذریعے ہمیں عوام کی خدمت کی توفیق دی ۔

لاڑکانہ (نیوز ایجنسیاں )پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سازش کرنے والوں کو اپنا کام کرنے دیں ہم اپنا کام کریں گے ، ہم اپنے شہر کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا، ہم نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ساتھ مل کر کچرا صاف کرنے کا کام شروع کیا ہے۔

متفرقات

سمندروں پر دوڑائیں یا ہوا میں اڑائیں  سولر لگژری کشتی تیار

سمندروں پر دوڑائیں یا ہوا میں اڑائیں سولر لگژری کشتی تیار

سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم لوگ حیرت کا مجسمہ بنے کھڑے ہیں کہ دنیا کیا ہے، کیا ہو رہی ہے۔"اٹلی کی ایک فرم نے حال ہی میں ایک تفریحی کشتی (Luxury Yacht)کا ڈیزائن تیار کیا ہے جو دنیا کے تمام سمندروں پر تیر بھی سکتی ہے اور اونچا اُڑ بھی سکتی ہے۔ اسے لگژری بوٹ بھی کہا جا رہا ہے۔ اس مہنگی کشتی کا ڈیزائن روم میں موجود ایک فرم "لذارینی ڈیزائن سٹوڈیو" نے بنایا ہے۔ یہ خشک کاربن فائبر ڈھانچہ 60گرہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اور اس کی وجہ شمسی توانائی سے چلنے والے چار پنکھے اور ہیلیم گیس سے بھرے ہوئے دو چھوٹے ہوائی جہاز ہیں۔ اس کشتی کی رفتار کی تیزی میں شمسی توانائی کے پنکھے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہ کشتی اُڑ بھی سکتی ہے اور پانی پر تیرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہ تفریحی ہوائی کشتی ہوا میں رہتی ہے کیونکہ اس کے چھوٹے ہوائی جہاز ایک ایسی گیس سے بھرے ہوتے ہیں جو ہوا سے ہلکی ہوتی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ان چھوٹے ہوائی جہازوں کی قیمت کیا ہوگی؟ اس کا پتہ تو اس وقت چلے گا جب یہ بنائے جائیں گے۔ اگرچہ فرم کا یہ کہنا ہے کہ یہ چھوٹے جہاز پرائیویٹ مالکوں کو ذہن میں رکھ کر ڈیزائن کیے گئے ہیں۔خشک کاربن فائبر ڈھانچے کی مجموعی طور پر لمبائی 300فٹ کے قریب ہوگی جبکہ مرکزی ڈیک150میٹر لمبا اور 80میٹر چوڑا ہوگا۔ ہوائی کشتی کے دو جڑواں چھوٹے ہوائی جہاز چار لاکھ کیوبک میٹر ہیلیم گیس پر مشتمل ہیں۔ یہ دبی ہوئی گیس (Compresser gas)ہے جو عام طور پر مائع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہاں اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ہیلیم وہ گیس ہے جو بڑی مشکل سے مائع میں تبدیل ہوتی ہے اور اسے آٹھ گھومنے والے انجن آگے بڑھاتے ہیں۔ان انجنوں کو پاورفل بیٹریاں اور شمسی پینلز(Solar Panels)طاقت فراہم کرتے ہیں۔لزارانی فرم کے مطابق یہ جہاز زیادہ سے زیادہ 70میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑیں گے اور اس کا دورانیہ 48 گھنٹوں سے زیادہ ہوگا۔ فرم کا کہنا ہے کہ ہوائی یا تفریحی کشتی گھومنے پھرنے کے شوقین لوگوں کیلئے بہترین ایجاد ثابت ہوگی۔ ہوائی یا تفریحی کشتی کی اڑان کافی زیادہ ہوگی۔ اس کا بڑا سبب دو چھوٹے ہوائی جہاز ہوں گے۔ اس کی خاصیت یہ ہوگی کہ اس میں تین کمرے ہوں گے جہاں مسافروں کی رسائی نہیں ہوگی کیونکہ ان میں ہیلیم گیس ہوگی۔ ہر چھوٹے ہوائی جہاز پر مسافروں کیلئے پانچ نوکر چاکر ہوں گے اور مسافر کھڑکی سے آسمان کا نظارہ کر سکیں گے۔ ہر چھوٹے جہاز کی پچھلی طرف ایک ایسا کھلا پلیٹ فارم ہوگا جہاں کھڑکی کے بغیر باہر دیکھا جا سکتا ہے۔ مسافر ان لہروں کو دیکھ سکیں گے جن کا نظارہ وہ اپنے نیچے کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ جب یہ کشتی اُڑے گی تو مسافر پانچ ہزار فٹ کی بلندی تک تازہ ہوا سے لطف اندوز ہوں گے۔دونوں چھوٹے ہوئی جہازوں کو چار کاربن پل مرکزی کمرے سے جوڑیں گے جن کے ذریعے مسافر چل پھر سکیں گے۔ یہ مرکزی کمرہ دراصل وہ اجتماعی جگہ ہوگا جہاں مسافر اکٹھے ہو سکیں گے، آرام کر سکیں گے اور کھانا کھا سکیں گے۔ مسافروں کیلئے یہ جگہ خوبصورت نظارے دیکھنے کیلئے بہت زبردست ہو گی۔ اس کی ایک اور خاصیت یہ ہوگی کہ اس میں سوئمنگ پول ہوگا، ایک لاؤنج ہوگا جس میں قالین بچھا ہوگا اورایک وسیع رہنے کا کمرہ ہوگا جس میں مسافر رات کا کھانا کھا سکیں گے۔ ہر چھوٹے ہوائی جہاز کے نیچے ایسے تہہ خانے ہوں گے جن میں گیس یا ہوا بھری جا سکتی ہے۔ یہ تہہ خانے ہوا سے بھر جاتے ہیں جب پانی ان کے نزدیک پہنچتا ہے۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہ کشتی تیربھی سکتی ہے۔لزارانی فرم کہتی ہے کہ انجنوں کی حرکت ہوائی کشتی کو دھکیلے گی۔ یہ کشتی خاموشی سے پانی پر تیر سکتی ہے۔ لزارانی وہ فرم ہے جو کثرت سے ایسے شاہانہ تصورات پیش کرتی رہتی ہے۔ لیکن ان تصورات کو عملی شکل میں پیش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ یہ ہوائی کشتی اتنی مہنگی ہو کہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔ اس سے پہلے بھی یہ فرم بہت مہنگے تصورات پیش کر چکی ہے۔عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ "دنیا"سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں

 عقاب کے پروں سے لکڑی کی تراشیدہ شاخ تک قلم کی داستان جدید ٹیکنالوجی سے وجود خطرے سے دوچار

عقاب کے پروں سے لکڑی کی تراشیدہ شاخ تک قلم کی داستان جدید ٹیکنالوجی سے وجود خطرے سے دوچار

میں اپنی کروڑوں سال پر پھیلی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزرتے ہوئے اپنی داستان حیات سنانا چاہتا ہوں کہ شائد اب میں زیادہ دن جی نہ سکوں اور جدت کے نام پر ارتقائی سفر کے ہاتھوں مارا جاؤں۔ عقاب کے نوکیلے پروں سے لکڑی کی تراشیدہ شاخ تک،کوئلے کی لکیروں سے سکے کے نقش ہوتے جاتے حروف تک،چاک کی سفیدی سے دوات کے سیاہ رنگ تک کا سفر بہت خوشگوار تھا۔ میں جب تیز دھار چاقو سے تراشا جاتا تھا تو اپنے وجود سے اٹھنے والی درد کی ٹیسوں کو صرف اس لئے برداشت کرتا تھا کہ مجھ سے لیا جانے والا کام مجھے مقدس مقام تک پہنچارہا تھا۔پھر میری شکل بدلتی رہی اور میں رنگدار لبادوں میں لپیٹا جانے لگا۔ سرخ اور سبز روشنائی میرے جسم میں اتاری جاتی رہی،میں سرکار کی ترجمانی سے ہوتا ہوا صاحب علم طبقات کے ہاتھوں سے گزارا گیا تو میرے اوپر کشیدہ کاری، خودکار بٹن،گھڑیاں اور کیمرے نصب کردئیے گئے۔میں اپنی اس مشکل کو تکلیف سے برداشت کررہا تھا کہ پھر رفتہ رفتہ میرا وجود ہی خطرے میں ڈال دیا گیا مجھے چھوڑ کر لفظ تخلیق کرنے والے اپنی انگلیوں کی پوروں سے ٹچ سکرین کو چھو کر جملے ترتیب دینے لگے، الفاظ کی خوبصورتی اپنی جگہ مگر لفظ کی وہ حرمت باقی نہ رہی جو سیاہ روشنائی سے میں سفید کاغذ پر ثبت کرتا تھا۔اپنی داستان کے بہت سے گوشے میں چاہتے ہوئے بھی بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میری وجہ سے کتنے تخلیق کاروں کے سر پر ان کی تصنیف کردہ کتب کے مسودے اس شدت سے مارے گئے کہ وہ جان دے کر لفظوں کی بقا پر نئی سرخی مرتب کرگئے۔میں عینی شاہد تھا جب غاروں میں بیٹھ کر ریاضی، فلکیات، الجبرا، ارضیات اور فلسفہ پر تحقیق کی گئی تو اس کا نچوڑ میری نوک سے صفحات کی زینت بنا۔ پھر وقت کے بادشاہوں، پادریوں، راہبوں، پوپ جان پالوں اور قاضیوں نے روشنی دینے والے قلم کاروں کی آنکھیں نکال کر عمر بھر کے اندھیرے انہیں تحفے میں عطا کئے، ابن الہیشم،بو علی سینا، الخوارزمی، ف لیمنگ، گلیلیو اور قلم کے ہر پاسبان کو زندہ در گور کردیا گیا۔میں سب کچھ کہنے سے قاصر ہوں کہ اب میرا وجود اپنی زندگی کی آخری سانس کھینچ رہا ہے۔میرے اندر موجود روشنائی کو شہید کے خون سے زیادہ مقدس رتبہ دیا گیا،مگر مجھے دولت کے عوض بیچا جاتا رہا۔ مجھ سے انبیا کے قتل کے فتاوے لکھوائے گئے، میں نے الہامی کتب کو تحریر کیا،صحیفے لکھے،معتبر بیانات کو امر کیا مگر پھر دوسری طرف مجھ سے جھوٹی تاریخ لکھی گئی،ناحق قتل کے فیصلے لفظوں میں ڈھالے گئے۔میں نے فرعون کے قلم سے بچوں کے قتل عام کے احکامات ترتیب دئیے،میں نے عیسیٰ کو سولی پر چڑھانے میں اپنا حصہ ڈالا، میں نے بادشاہوں کے تنخواہ دار مورخین کے ہاتھوں یرغمال بن کر قتل آل رسولؐ تک کو جائز قرار دینے کے فتوے تحریر کئے۔اب تک مجھے بے گناہوں کو سزا اور گناہگاروں کو باعزت رہائی کے حکم نامے لکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور میں لرزتے ہوئے،نہ چاہتے ہوئے بھی حکم ماننے کا پابند رہتا ہوں، مجھے میری روشنائی چیخ چیخ کر میرا مقام یاد دلاتی ہے مگر میں لا چار گی کا سہارا لے کر خاموش ہوجاتا ہوں۔مجھے یاد ہے کہ میرے خالق نے میری قسمیں کھاتے ہوئے مجھے سرفراز کیا مگر میں صاحبان علم و ہنر کے ہاتھوں سے نکل کر اقتدار کے پجاریوں کے پاس آگیا۔مجھے جھوٹ لکھنے اور جبر کی دستاویزات پر دستخط کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔میں غلط ضمنیوں، خود ساختہ تفسیروں اور متعصب پریس ریلیزوں میں استعمال ہو ہوکر تنگ آ چکا ہوں۔میں دست بستہ اپنی سیاہی کا وہی تقدس واپس مانگتا ہوں جو شہید کے خون سے زیادہ پاک تھا۔ میں دانشوروں سے ملتمس ہوں کہ سچ لکھنے کی قیمت میں سر کٹوانے کی رسم پھر سے تازہ کریں۔ مجھے میرا مقام لوٹا دیں مجھے ان قلم کاروں میں لے چلیں جو کہتے تھے۔مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کیجو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہےمرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کاجو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہےقیصر عباس صابر کا شمار اردو ادب کے معتبر تخلیق کاروںمیں ہوتا ہے،سفر ناموں،ناول اور تجزیوں پر مشتمل ان کی 20کتب شائع ہو چکی ہیں

آج کا دن

آج کا دن

سالگرہ: سدھیر(پاکستانی اداکار)پاکستان فلم انڈسٹری کے مایہ ناز اداکار سدھیر 25 جنوری 1922ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شاہ زمان تھا، فلمی دنیا میں انہیں "لالہ" اور "جنگجو ہیرو" کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے پہلے ایکشن ہیرو کا خطاب بھی پایا۔ چار دہائیوں تک فلمی صنعت سے وابستہ رہے اور اس دوران 200 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی مقبول فلموں میں "دوپٹہ، سسی، کرتار سنگھ، بغاوت، یکے والی، جی دار، حکومت، چاچا خوامخواہ، ڈاچی، ماں پتر، چٹان، جانی دشمن، لاٹری اور ان داتا" شامل ہیں۔ سدھیر 19 جنوری 1997ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔انور پیرزادو(شاعر و ادیب)سندھی اور انگریزی زبان کے مشہور شاعر، ادیب اور صحافی انور پیرزادو 25 جنوری 1945ء کو سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ 1969ء میں انگریزی ادبیات میں ایم اے کے بعد سندھ یونیورسٹی میں بطور لیکچرار عملی زندگی کا آغاز کیا، بعد میں صحافت سے وابستہ ہو گئے۔ انور پیرزادو کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے آزادیِ صحافت کی جدوجہد میں حصّہ لیا اور دو مرتبہ جیل بھی جانا پڑا۔ ان کی سندھی شاعری کا مجموعہ "اے چند بھٹائی کھے چھیجن" کے نام سے شائع ہوا۔ ان کی مرتب کردہ انگریزی کتب میں "سندھ گزیٹئر"، "لاڑکانہ گزیٹئر" اور "بے نظیر بھٹو اے پولیٹیکل بائیو گرافی" شامل ہیں۔ 7 جنوری 2007ء کو انتقال ہوا۔برسی: فاطمہ علی (پاکستانی شیف)چٹخارے دار کھانوں سے امریکیوں کو اپنا گرویدہ بنانے والی پاکستانی شیف فاطمہ علی کا شمار نیویارک کے ٹاپ کلاس شیفس میں ہوتا تھا۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ ان چند پاکستانی خواتین میں شامل تھیں جو امریکہ میں کوکنگ کے سب سے معتبر ادارے "کلنری انسٹی ٹیوٹس آف آرٹس" سے فارغ التحصیل تھیں۔ "ٹاپ شیف" کا ٹائٹل جیت کرشہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ فاطمہ نے کئی غیر ملکی مقابلوں میں حصہ لے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ آخری مرحلے پر کینسر کی تشخیص ہوئی،دنیا بھر کے کھانے چکھنے کی خواہش پر امریکی میزبان ایلن ڈی جینرس نے اپنے شو میں انہیں مدعو کر کے 50 ہزار ڈالر کا چیک دیا۔25جنوری 2019ء کو صرف 29سال کی عمر میں انتقال ہوا۔پرویزرانا (پاکستانی فلم ڈائریکٹر)ہدایتکار پرویز رانا کا شمار 80ء اور 90ء کی دہائی کے صف اوّل کے ہدایتکاروں میں ہوتا ہے۔ 1976ء میں پنجابی فلم "چراغ بہادر" بنا کر پاکستانی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور اس کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ان کے کریڈٹ پر 46 پنجابی اور 6 اردو فلمیں ہیں جبکہ بطور پروڈیوسر فلم "مافیا" بنائی جو 1997ء میں ریلیز ہوئی۔ انہوں نے ناصرف اپنے دور کے نامور فنکاروں کے ساتھ کام کیا بلکہ بیشمار نئے فنکار بھی متعارف کرائے۔اہم واقعات : سرب جنگ،عثمانی فوج کی فتح1364ء میں آج کے دن عثمانی فوج اور صلیبی اتحاد کے درمیان ہونے والی "سرب جنگ" کا خاتمہ عیسائیوں کی شکست پر ہوا۔ اس جنگ کا مقصد عثمانیوں کو بلقانی علاقوں سے بے دخل کرنا تھا جس میں صلیبی اتحاد بری طرح ناکام ہوا۔

نیل آرمسٹرانگ کون تھا؟ چاند پر قدم رکھنے والاپہلا انسان

نیل آرمسٹرانگ کون تھا؟ چاند پر قدم رکھنے والاپہلا انسان

بچپن سے آپ اور ہم چاند کا دنیاوی نام ''چندا ماموں‘‘ ہی سنتے آئے ہیں۔ ظاہر ہے یہ نام چاند سے پیار کی علامت ہے۔ ''ماموں کے گھر ‘‘ سب سے پہلے جانے والا ایک امریکی خلاء باز تھا، جسے چاند پر قدم رکھنے والا دنیا کا پہلا انسان قرار دیا جا چکا ہے۔اس انسان نے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ زمین کو چھوڑ کر کسی سیارے یعنی چاند کو چھو کر نہ صرف دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ تاریخ میں چاند پر قدم رکھنے والے پہلے شخص کی حیثیت سے اپنا نام درج کرا لیا۔ تاریخ اس شخص کو نیل آرم سٹرانگ کے نام سے جانتی ہے۔امریکی ایک عرصہ تک فخر سے اس بات کا اعادہ کرتے رہے کہ نظام شمسی کے سیارے زمین کے گرد گھومنے والے چاند کی سطح پر پہلا قدم ایک امریکی کا تھا جس کا نام نیل آرم سٹرانگ تھا۔نیل آرم سٹرانگ 5 اگست 1930ء کو امریکی ریاست اوہایو میں پیدا ہوئے تھے۔ بنیادی طور پر ان کے خاندان کا تعلق جرمن سے تھا۔ نیل نے صرف 15سال کی عمر میں اپنی بے پناہ خود اعتمادی اور ذہانت کے سبب ہوا بازی کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا تھا جبکہ عمر پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ اس وقت تک ڈرائیونگ لائسنس بھی حاصل نہ کر پائے تھے۔ 26 جنوری 1949ء کو نیل نے نیوی جوائن کر لی اور 16اگست 1950 جب نیل ابھی بیس برس کے تھے وہ ایک مکمل پائلٹ بن چکے تھے۔ چنانچہ 29 اگست 1951ء کو نیل نے پہلی مرتبہ کورین جنگ میں اپنی مہارت کے جوہر دکھائے۔ ان کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 3 ستمبر 1951ء کو وونسن کے مغربی حصہ میں انہوں نے 560 کلو میٹر کی رفتار سے سطح زمین کے انتہائی قریب آ کر بمباری کی جس سے ان کی مہارت اور دلیری کا پتہ چلتا تھا۔ کوریا کی اس جنگ میں نیل نے 121 گھنٹے ہوا میں گزارے۔ اس جنگ میں انہوں نے کل 78 اڑانیں بھریں۔ ان کی دلیری اور پیشہ ورانہ کارکردگی کے باعث انہیں متعدد اعزازات اور انعامات سے نوازا گیا۔ آرم سٹرانگ ابھی 22سال کے تھے جب 23 اگست 1952ء کو انہوں نے نیوی کو خیر آباد کہہ دیا۔نیوی چھوڑنے کے بعد نیل واپس پرڈیو آگئے۔جہاںانہوںنے یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا سے گریجویشن کرنے کے بعد انڈیانا کی پرڈیو یونیورسٹی سے ایروناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد یونیورسٹی آف انجینئرنگ سدرن کیرولینا سے ایروسپیس انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔آرم سٹرانگ نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1962ء میں ناسا جوائن کر لیا اور پہلی بار 1966ء میں ناسا کی خلائی مہم ''جیمینائے 8‘‘ میں اپنا پہلا خلائی سفر شروع کیا۔ یوں نیل اپنے پہلے خلائی سفر میں بھیجے گئے امریکہ کے پہلے شہریوں میں سے ایک بنے۔ اس مہم میں انہوں نے ساتھی پائلٹ ڈیوڈ اسکاٹ کے ساتھ دو انسان بردار خلائی جہازوں کو متصل کرنے کا کام سر انجام دیا۔نیل آرم سٹرانگ کا دوسرا خلائی سفر 20 جولائی 1969ء ''اپالو 11‘‘ کا وہ تاریخی مشن تھا جس میں انہوں نے اپنے ساتھی ہزایلڈرن کی رفاقت میں لگ بھگ اڑھائی گھنٹے چاند پر چہل قدمی کی تھی۔ اس دوران ان دونوں نے چاند کی سر زمین کا جائزہ لیا، تصاویر لیں، مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع کئے۔ اس کے بعد انہوں نے چاند پر امریکی پرچم لہرایا اور وہاں پر ایک تختی نصب کی جس پر یہ تحریر درج تھی''یہ وہ جگہ ہے جہاں سیارہ زمین سے آکر انسان نے پہلی مرتبہ قدم رکھا، جو پوری انسانیت کیلئے امن کا پیغام لے کر یہاں آیا‘‘نیل آرم سٹرانگ نے جب پہلی مرتبہ چاند پر قدم رکھا تو ان کے الفاظ جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، تاریخ کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے الفاظ تھے ''ایک انسان کا یہ چھوٹا سا قدم انسانیت کے لئے ایک لمبی جست ہے‘‘۔اس کے بعد دونوں خلاباز خلائی گاڑی ''ایگل‘‘ کے ذریعے چاند کا چکر لگاتے ہوئے واپس ''اپالو 11‘‘ جہاز تک پہنچے اور پھر 24جولائی 1969ء کو واپس زمین پر اترے۔''اپالو11‘‘ نیل کا آخری خلائی سفر تھا۔ اس کے بعد انہیں ناسا کے ایڈوانس ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ یہ عہدہ تکنیکی کے بجائے خالصتاً دفتری امور سے متعلق تھا۔ جو نیل کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ چنانچہ ایک سال بعد ہی نیل نے اس عہدے کو خیر آباد کہہ دیا اور سنسناٹی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خلائی انجینئرنگ خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں۔25اگست 2012ء کو نیل آرم سٹرانگ جو پچھلے کچھ عرصہ سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے 82 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا '' آنجہانی نیل آرمسٹرانگ نہ صرف اپنے دور بلکہ ہر دور کے ہیرو تھے، جنہیں رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا‘‘۔مائیکل کولنز جو اپالو مشن 11میں نیل کے معاون پائلٹ اور ساتھی تھے نے کہا ''وہ ایک نفیس اور شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ میں ان کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔‘‘ناسا کے سربراہ چارلس بولڈن نے کہا ''وہ امریکہ کے عظیم محققین میں سے تھے۔ اور جب بھی خلائی سائنس کی تاریخ لکھی جائے گی، نیل آرم سٹرانگ کا نام اس تحریک میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔‘‘

شہرِاقتدار: افواہوں کی ز‏د میں۔۔۔

شہرِاقتدار: افواہوں کی ز‏د میں۔۔۔

اگست2018ء کے بعد جب سے تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے، ہر مہینے حکومت کے جانے کی خبریں گردش کرنا شروع کر دیتی ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

ٹرانسپیرنسی رپورٹ: حکومت دباؤ میں

ٹرانسپیرنسی رپورٹ: حکومت دباؤ میں

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس نااہل حکومت سے نجات حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

سیاسی رسہ کشی جاری، عوام پریشان

سیاسی رسہ کشی جاری، عوام پریشان

صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا راج ہے۔وفاق میں پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں ہے۔

سیاسی جوڑ توڑ پھر عروج پر

سیاسی جوڑ توڑ پھر عروج پر

رواں ہفتے کے دوران بھی بلوچستان کے سیاسی میدان میں ہلچل کم نہ ہو سکی ۔

برطانیہ کی ترقی کا اہم راز،مضبوط بلدیاتی نظام،پاکستان میں بھی عمل ہوسکتا ہے
2022-01-18

برطانیہ کی ترقی کا اہم راز،مضبوط بلدیاتی نظام،پاکستان میں بھی عمل ہوسکتا ہے

شرکاء: گوہر الماس ، لیڈز سٹی کونسلر لیبر پارٹی برطانیہ ۔ مشتاق لاشاری ،سابق ڈپٹی میئر دی رائل بورواورکمانڈر آف برٹش ایمپائر۔ ڈاکٹر افضل خان ایم پی،کمانڈرآف برٹش ایمپائر ۔ قیصر عباس لیبر کونسلر سائوتھ اسٹیفرڈ (بذریعہ وڈیو لنک) شریک ہوئے ۔کراچی سے ڈاکٹر سعدیہ جاوید رکن صوبائی اسمبلی پاکستان پیپلزپارٹی ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی ، نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ۔ اسسٹنٹ پروفیسر حنا خان ،انچارج شعبہ تاریخ جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹر محمد معیز خان ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ ۔ طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد

پاگل کون! معاشرہ یا وہ جو زیرعلاج ہیں؟
2022-01-08

پاگل کون! معاشرہ یا وہ جو زیرعلاج ہیں؟

شرکاء: ڈاکٹرسید عامر دبیر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اورڈائریکٹر کاؤ س جی جہانگیرانسٹیٹیوٹ آف ائیکاٹری(گدواسپتال) ۔ ڈاکٹر قلب حیدر ، ماہر نفسیات گدو اسپتال ۔ڈاکٹر احسان الہٰی،ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور سیکیورٹی انچارج ۔مریم حنیف غازی چیئر پرسن شعبہ نفسیات محمد علی جناح یونیورسٹی ۔شمائلہ امتیاز لیکچرار محمد علی جناح یونیورسٹی ۔ اساتذہ اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد

نیا بلدیاتی ترمیمی بل2021:شہر قائد میں نئی جنگ کا آغاز؟
2021-12-18

نیا بلدیاتی ترمیمی بل2021:شہر قائد میں نئی جنگ کا آغاز؟

شرکاء:اسامہ رضی، نائب امیر جماعت اسلامی کراچی۔ارشد وہرہ، وائس چیئرمین پاک سرزمین پارٹی اورسابق ڈپٹی میئر کراچی۔نیر رضا ، سینئر رہنما متحدہ اورسابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کورنگی۔نادر گبول ، صدر پاکستان پیپلزپارٹی یوتھ ونگ سندھ ۔طلبہ وطالبات اور اساتذہ کی کثیر تعداد

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز