نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیر اعظم عمران خان کارحمت اللعالمین ﷺکانفرنس سےخطاب
  • بریکنگ :- نوجوان نسل کونبی کریم ﷺکی سیرت کاعلم ہوناچاہیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- آپ ﷺدنیامیں تلوارکےذریعےنہیں،اپنی سوچ سےانقلاب لائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ریاست مدینہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہرمعاشرےکیلئےمثالی نمونہ بنی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اگرہمیں عظیم قوم بنناہےتواسلامی اصولوں پرچلناہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انصاف ہمیشہ کمزورکوچاہیے،طاقتورخودکوقانون سےاوپرسمجھتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- آپ ﷺکی تعلیمات سےہمیں رہنمائی لینےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اللہ نےسب کچھ دیا،ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مدینہ کی ریاست ہمارےلیےرول ماڈل ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- انصاف اورانسانیت کی وجہ سےقوم مضبوط ہوتی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہماری جدوجہدملک میں قانون کی بالادستی کیلئےہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بزدل انسان کبھی لیڈرنہیں بن سکتا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- آپ ﷺنےاپنی سیرت مبارکہ کےذریعےانصاف کادرس دیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- آپ ﷺنےمعاشرےمیں اچھےبرےکی تمیزرکھی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- حضوراکرم ﷺنےخواتین،بیواؤں اورغلاموں کوحقوق دیئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- صرف اسلام نےیہ حق دیاکہ کئی غلام حکمران بن گئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ریاست مدینہ میں میرٹ کاسسٹم تھا،باصلاحیت افراداوپرآتےتھے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- عزت،رزق اورموت صرف اللہ تعالیٰ کےہاتھ میں ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام نےپہلی بارخواتین کووراثت میں حقوق دیئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پناماکیس میں کیابتاؤں کس طرح کےجھوٹ بولےگئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کیس برطانوی عدالت میں ہوتاتوان کواسی وقت جیل میں ڈال دیاجاتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنےکاتصوربھی نہیں کیاجاسکتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سب کوپتہ ہےکہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برطانیہ میں چھانگامانگاجیسی سیاست نہیں ہوتی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اخلاقیات کامعیارنہ ہوتوجمہوریت نہیں چل سکتی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- قانون کی بالادستی کےبغیرخوشحالی کاخواب پورانہیں ہوسکتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمیں عظیم قوم بنناہےتواسلامی اصولوں پرچلناہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ملک کانظام تب درست ہوگاجب قانون کی حکمرانی ہوگی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دنیامیں امیراورغریب کافرق بڑھتاجارہاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سالانہ ایک ہزارارب ڈالرچوری ہوکرآف شورکمپنیوں میں چلاجاتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انصاف کانظام نہیں ہوگاتوخوشحالی نہیں آئےگی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- طاقتوراورکمزورکیلئےالگ الگ قانون سےقومیں تباہ ہوجاتی ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- 50سال پہلےپاکستان خطےمیں تیزی سےترقی کررہاتھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمیں اپنی سمت درست کرنی ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- ملکی ترقی کیلئےنظام درست کرنےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- قانون کی حکمرانی کیلئے آوازبلندکرتارہوں گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- طاقتورکوقانون کےنیچےلاناہوگا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- فلاحی ریاست بنانےکےلیےکوشاں ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- احساس پروگرام کےتحت سواکروڑخاندانوں کوسبسڈی دیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- معاشرےمیں جنسی جرائم کابڑھنابہت خطرناک ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- نوجوانوں کوسود کےبغیرقرضےدیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اپنے نوجوانوں کوبےراہ روی سےبچاناہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہالی ووڈکلچرہمارےنوجوانوں کوتباہ کرے گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خاندانی نظام میں بہتری لانےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ٹی وی چینلزکےپروگراموں کومانیٹرکرنےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بچوں سےموبائل نہیں چھین سکتےکم ازکم تربیت توکرسکتےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مغرب کونہیں پتاہم اپنےنبی ﷺسےکتنی محبت کرتےہیں،وزیراعظم
راہِ ہدایت
ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیااوراگریہ(دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں توجن سے ان کو منع کیا گیا تھا تووہی پھر کرنے لگیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔ (سورۃالانعام:آیت28)
Coronavirus Updates

جب تک زندہ ہوں انصاف اور قانون کی حکمرانی کیلئے لڑتا رہوں گا: وزیراعظم عمران خان


اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک زندہ ہوں انصاف اور رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) کے لیے لڑتا رہوں گا۔


اشتہار
تمام کالمز

پہیہ جام، ہڑتالیں ہونگی ،لانگ مارچ تک معاملات جائیں گے ،انتخابی اصلاحات کیلئے ترامیم مسترد ، نئے الیکشن چاہتے ہیں ، فضل الرحمن ،قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا مہنگائی کیخلاف احتجاج،سیاہ پٹیاں باند ھ کرشرکت،حکومت ملک کو تباہی کے دہانے پرلاچکی :شہبازشریف

عمران خان ،جنرل قمر باجوہ کا این سی او سی کا دورہ ، وائرس کاپھیلاؤ روکنے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا،سپہ سالا ر آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز گئے ،امریکی ناظم الامورجنرل باجوہ سے ملیں، افغان صورتحال ، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال، وزیر اعظم ، آرمی چیف میں بھی ملاقات ہوئی،فواد

6 بڑی یونیورسٹیوں میں سیرت چیئر کے تحت محققین کو ریسرچ کیلئے معاونت فراہم کی جائے گی، کانفرنس سے خطاب ،اپوزیشن منفی سیاست کی خاطر ملکی مفادات سے کھیل رہی، حسان خاور سے گفتگو،سکولز کرکٹ چیمپئن شپ کا فائنل دیکھا

وزیرداخلہ شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن احتجاج کی بجائے ملک و قوم پر رحم کرے ،مہنگائی پر جلد قابو پالیا جائیگا

متفرقات

عمالقہ قوم ،سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے

عمالقہ قوم ،سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے

تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کو ان کے اعمال و کردار کے بل بوتے اگر سنبھالا ہے تو انہیں اپنے انجام تک پہنچایا بھی ہے۔ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اٹھا گئیں وہی فائدے میں رہیں اور جو احکام الٰہی سے سرکشی کی مرتکب رہیں ان کے لئے پھر رب نے ذلت اور رسوائی ہی لکھ دی۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی قوم گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سفاک اور جابر حکمرانوں کو ہی مسلط کیا۔ حضرت موسی ؑکے دور میں ایسی ہی ایک قوم عمالقہ تاریخ کی کتابوں میں سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔عمالقہ کون تھے؟تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ قوم عاد اور ثمود کے بعد کے دور میں ظاہر ہوئے تھے۔ مؤرخین بتاتے ہیں کہ عمالقہ قوم کے لوگ انتہائی دراز قد ، خون خوار اور وحشی فطرت کے تھے۔ عمالقہ قوم کے لوگ بنیادی طور پر عراق کے آس پاس کے علاقوں سے اٹھے اور رفتہ رفتہ مصر سے شام اور فلسطین تک خون خرابہ کرتے کرتے چاروں طرف پھیل گئے۔ قرآن کریم میں اس گروہ کو ''جبارین ‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکے دور میں یہ بحیرہ مردار کے مغرب میں آباد تھے۔ چونکہ یہ جہاں بھی گئے اپنی سفاکیت اور حرکتوں سے باز نہ آئے جس کی وجہ سے عراق کے اشوری بادشاہوں نے انہیں صحرائے سینا کی جانب دھکیل دیا تھا ، اس دور میں ان کی اکثریت بھیڑ بکریاں پالا کرتی تھی۔بنی اسرائیل نے جب اپنے رب کے احکامات کو فراموش کر کے بتوں کی پوجا شروع کر کے سفاکی ، سرکشی اور بدفعلی کو اپنا شعار بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ''جالوت ‘‘ نامی ایک قوم جسے ''عمالقہ ‘‘ کہتے ہیں ، مسلط کر دی۔ جالوت جو عملیق بن عاد کی اولاد میں سے تھا ، ایک سفاک اور جابر بادشاہ کی شہرت رکھتا تھا۔ عملیق بنیادی طور پر انفر کا بیٹا ، عیص کا پوتا اور حضرت اسحاق ؑ کا پڑپوتا تھا۔ اور کون نہیں جانتا کہ حضرت اسحاق ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے تھے۔ عمالیق اور دیگر اولاد ابراہیم ؑ ، کنعان میں شہ زوری کی شہرت بھی رکھتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ عمالیق نسل فطرتاً خون خواری اور جنگجو خصلتوں کی حامل تھی۔ جالوت جو عمالقہ کا بادشاہ تھا۔ کہتے ہیں پندرہ فٹ طویل قد آور اس شخص کا سایہ ایک میل لمبا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قوم بر بر کا تعلق بھی عمالقہ قوم سے ملتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس کی فوج تین لاکھ گھڑ سواروں پر مشتمل تھی۔عمالقہ نے اشوری بادشاہوں کے دورمیں فلسطین اور شام پر بزور بازو اپنا قبضہ جما لیا تو حضرت موسی ؑ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ارض مقدس کو عمالقہ کے قبضے سے آزادی دلاؤ۔ چنانچہ جب حضرت موسی ؑ فلسطین کے قریب پہنچے تو انہوں نے بنی اسرائیل کے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا،'' اے قوم بنی اسرائیل! ارض مقدس میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے،اور پیٹھ نہ دکھاؤ ورنہ خسارے میں رہو گے۔‘‘اس پر بنی اسرائیل کے یہ لوگ بولے، '' اے موسی ! تم اور تمہارا پرور دگار لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ وہاں تو ایک طاقتور قوم عمالقہ آباد ہے جس کا ہم مقابلہ کرنے کی قطعاً سکت نہیں رکھتے، صرف اس صورت ہم وہاں داخل ہو سکتے ہیں کہ وہ از خود اپنے وطن کو چھوڑ کر کہیں چلے جائیں۔ ‘‘چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سرکشی کی سزا کے طور پر بنی اسرائیل کو صحرائے تیہ میں قید کردیا اور یہ لوگ چالیس سال تک اسی مختصر سے صحرا میں بھٹکتے رہے۔میدان ِتیہ کا پس منظرمیدان ِ تیہ بنیادی طور پر شام اور مصر کے درمیان پانچ چھ فرسخ ( لگ بھگ موجودہ تیس کلومیٹر) کا ایک کھلا میدان تھا جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسی ؑ بنی اسرائیل کے ایک لشکر کے ساتھ قوم عمالقہ سے بیت المقدس کو آزاد کرانے نکلے تھے۔ لیکن فلسطین پہنچ کر بنو اسرائیل عمالقہ کی دہشت کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ کو جو سزا دی اس کے تحت یہ چالیس برس تک تقریباً تیس کلومیٹر کے میدان تیہ سے باہر نکلنے کے لئے صبح سے شام تک بھٹکتے لیکن باہر نہیں نکل سکتے تھے۔اس وادی کا یہ عالم تھا کہ یہاں نہ تو کوئی سایہ دار درخت تھا اور نہ ہی کوئی عمارت ، نہ ہی پینے کا پانی اور نہ ہی کھانے کی کوئی چیز بلکہ یہاں انسانی ضرورت کی کسی بھی چیز کا وجود تک نہ تھا۔ اگرچہ حضرت موسی ؑ اپنی قوم سے ناخوش تھے لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس قوم کے کھانے کیلئے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے آسمان سے من و سلوی نازل فرمایا، دھوپ سے بچاؤ کیلئے بادل بطور سائبان مہیا کئے اور پانی کی ضرورت کیلئے جب حضرت موسی ؑ نے پتھر پر عصا ماری تو آناًفاناً پانی کے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔بنی اسرائیل کی تنظیم ِنوحضرت موسی ؑ ، حضرت ہارون ؑ اور حضرت یوشع بن نونؑ بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس طویل عرصے کے دوران بنی اسرائیل کے وہ تمام لوگ ، جنہوں نے جہاد سے انکار کیا تھا اس جہان فانی سے رفتہ رفتہ کوچ کرتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ حضرت موسی ؑ کو حکم خداوندی ہوا کہ بنی اسرائیل کو بارہ قبائل میں تقسیم کر کے ان کی تنظیم نو کر کے ہر قبیلے کا الگ الگ سربراہ مقرر کریں جو اپنے قبیلے کے لوگوں کو دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ جہاد کی تربیت کی ذمہ داری بھی سونپے۔ دراصل یہ ساری تیاری بیت المقدس کی عمالقہ قوم سے رہائی کی پیش بندی کے طور پر کی جارہی تھی۔ چنانچہ حضرت موسی ؑ نے حکم الٰہی کی تعمیل میں بنی اسرائیل کو بارہ قبائل میں تقسیم کر کے حضرت یوشع ؑ کو ان بارہ قبائل کا سردار مقرر کر دیا۔ بنی اسرائیل کے لوگوں کی وادیٔ تیہ کی سزا ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ حضرت موسی ؑ رحلت فرما گئے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت یوشع ؑ نے جہاد کے لئے اپنے زیر اثر تمام قبائل کی جنگی تربیت کا آغاز کیا۔ ویسے بھی چونکہ اس وادی میں اللہ کی طرف سے من و سلوی کی فراہمی کے باعث کسی قسم کی معاشی سرگرمیاں تو تھیں نہیں۔ جس کے سبب ان لوگوں نے خوب دل جمعی سے جنگی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔بیت المقدس کی رہائی کا حکمبنی اسرائیل کے صحرائے تیہ میں سزا کے جب چالیس سال پورے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع ؑ کو حکم صادر کیا کہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور بیت المقدس کو عمالقہ قوم کے غاصبوں سے آزاد کراؤ۔چونکہ بنی اسرائیل کی نئی نسل ماضی میں اپنے بزرگوں کی جہاد سے چشم پوشی کی غلطیوں سے آگاہ تھی اور اپنی مقدس سرزمین کی آزادی کیلئے بے تاب بھی ، اس لئے انہوں نے حضرت یوشع ؑ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔چنانچہ بارہ قبائل پر مشتمل جہاد کے جذبے سے سرشار بنی اسرائیل کے چھ لاکھ افراد نے حضرت یوشع ؑ کی سپہ سالاری میں '' اریحا ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ بنی اسرائیل کا یہ محاصرہ چھ ماہ تک جاری رہا۔بالآخر ایک دن بنی اسرائیل کے جاں نثار عمالقہ کے قلعہ کی دیوار کو گرا کر شہر کے اندر داخل ہو گئے اور اریحا شہر میں اپنا پرچم لہرانے میں کامیاب ہو ئے۔اس کے بعد کنعان کے شہر فتح کرتے ہوئے آخر میں ارض فلسطین اور شام کا پورا علاقہ فتح کرلیا۔ یوں رب نے اس روئے زمین پر ایک جابر اور سفاک قوم کو اپنے انجام تک جا پہنچایا۔(خاور نیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں۔تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں) 

گم شدہ اشیاء ڈھونڈنے والا روبوٹ

گم شدہ اشیاء ڈھونڈنے والا روبوٹ

کمال ہوگیا۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا روبوٹ بنالیا ہے جو بڑی تیزی سے گم شدہ چیزوں کے مقام کا تعین کرسکتا ہے اور اس طرح گم شدہ اشیاء دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ روبوٹ بکھری ہوئی چیزوں کے ڈھیر سے گم شدہ اشیاء کو ڈھونڈ کر باہر نکال سکتا ہے۔ یہ بھی بڑی حیران کن بات ہے۔ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے ماہرین نے ایک ماڈل تیار کیا ہے جس کے روبوٹک بازو ہیں جس کے ہاتھ پر ایک کیمرہ ہے اور اس کے ساتھ ریڈیو انٹینا فریکویسی ہے ۔یاد رہے کہ ریڈیو فریکونسی ہر قسم کی سطح پر سفر کرسکتی ہے۔مال چوری ہونے سے بچنے کے لیے ایئر لائنز بھی انہیں استعمال کرتی ہیں تاکہ مسافروں کے سامان کی گزر گاہ کا پتہ چل سکے۔یہ کہا جاتا ہے کہ اس افراتفری کی دنیا میں اشیاء کی تلاش کسی مسئلے سے کم نہیں۔ ایم آئی ٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹس کا ہونا جو بکھری ہوئی چیزوں کے ڈھیر سے نیچے گم شدہ اشیاء کو تلاش کرلے، آج کی صنعت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ محققین کے مطابق ایک دن ان کا نظام ایک ویئر ہائوس میں بھی چیزوں کے ڈھیر سے بہت کچھ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگا۔ کار بنانے والے پلانٹ میں ضروری اجزا نصب بھی کیے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ ان ضروری اجزا کی شناخت بھی ممکن ہوگی۔ مزید برآں ایک ضعیف آدمی کی گھر کے کاموں میں مدد بھی کی جاسکتی ہے۔محققین نے روبوٹ کو سکھانے کے لئے اعصابی نیٹ ورک کو استعمال کیاجس کا مقصد روبوٹ کی رفتار کو بہتر بنانا تھا۔ مختلف ہدایات کی روشنی میں اس کی تربیت کی جاتی ہے۔اس سے ہمارا دماغ بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ہمیں اپنے والدین اور اساتذہ کی طرف سے تحسین کی شکل میں بہت کچھ ملتا ہے۔ اسی طرح ہمیں کمپیوٹر گیمز بھی ''انعامات‘‘ دیتی ہیں۔ سیکھنے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ MIT کے ایک اور پروفیسر کا کہنا تھا ''ہم ایجنٹ کو غلطیاں کرنے دیتے ہیں یا پھر کوئی کام درست کرنے دیتے ہیں پھر اس کے بعد ہم نیٹ ورک کو سزا دیتے ہیں یا انعام۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے نیٹ ورک کچھ سیکھتا ہے۔ آر ایف یوزٹن سسٹم کے لیے پیش کارکردگی ایلگورتھم کو انعام دیا گیا جب اس نے ان حرکات کو محدود کردیا جو اسے کسی گم شدہ شے کے مقام کا تعین کرنے میں کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس فاصلے کو بھی محدود کردیا جو اسے اس چیز کو اٹھانے کیلئے طے کرنا پڑا۔ جب ایک دفعہ سسٹم درست جگہ کی شناخت کرلیتا ہے تو پھر اعصابی نیٹ ورک آ رایف اور تصویری معلومات کو اکٹھا کرکے استعمال کرتا ہے۔ اس سے اسے اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ روبوٹک بازو کو کب چیز کو اپنے قابو میں کرنا ہے۔ یہ نظام گم شدہ چیز کے لیبل کو بھی جانچ لیتا ہے تاکہ یہ یقین ہوجائے کہ اس نے درست شئے کو اٹھایا ہے۔محققین نے اس سسٹم کو کئی بار ٹیسٹ کیا اور ان کے مطابق انہیں 96 فیصد کامیابی ملی۔ انہوں نے اس سسٹم کے ذریعے ان چیزوں کو ڈھونڈ نکالا جو بکھری ہوئی اشیاء کے ڈھیر کے نیچے چھپی ہوئی تھیں یا جنہیں چھپایا گیا تھا۔محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کبھی کبھی جب آپ صرف آ رایف کی پیمائشوں پر انحصار کرتے ہیں تو اس سے یہ ہوتا ہے کہ بیرونی حصوں کی پیمائش ہوتی ہے اور اگر آپ صرف تصویر پر بھروسہ کرتے ہیں تو اس میں یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ کیمرے سے کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ لیکن اگر آپ ان دونوں کو اکٹھا کردیں تو پھر یہ ہوگا کہ دونوں ایک دوسرے کو ٹھیک کردیں گے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ سسٹم کتنا مضبوط ہے۔ محققین کو امید ہے کہ مستقبل میں اس نظام کی رفتار بڑھا دی جائے گی تاکہ یہ آسانی سے حرکت کرے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ یہ سسٹم وقتاً فوقتاً پیمائشیں لینے کیلئے رک جاتا ہے۔ اس کیلئے مناسب یہی ہے کہ اس سسٹم کو وہاں نصب کیا جائے جہاں اشیاء کی پیداوار کے عمل کی رفتار بہت تیز ہو یا پھر اس مقصد کیلئے کسی ویئر ہائوس کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اور انہوں نے اردو کے افسانوی ادب کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے۔ دوکتابوں کے مصنف بھی ہیں) 

ناکامی :ایک تحفہ

ناکامی :ایک تحفہ

آپ بھی سوچ رہے ہوں گہ بھلا ناکامی تحفہ کیسے ہو سکتی ہے،کیونکہ لفظ ناکامی کے ساتھ تو مایوسی، اداسی اور نا امیدی وابستہ ہے۔جہاں تمام راستے بند دکھائی دیتے ہیں۔ کسی بھی کام میں ناکامی کے بعدنہ صرف دل ٹوٹ جاتا ہے بلکہ اس کو دوبارہ کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔یہ صرف آپ کے سوچنے کا انداز ہے اور کچھ بھی نہیں ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ ناکامی کس طرح ہمارے لئے بہت قیمتی تحفہ ہے۔ناکامی ہمیں عمل کا درس دیتی ہےمشہور موجد ٹامس ایڈیسن نے 5ہزار سے زائد بار کوشش کے بعد بجلی کا بلب بنایا تھا۔ایک انٹرویو میں اس سے پوچھا گیا۔ 5ہزار بار آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑاآپ کو کیسا محسوس ہوتا تھا۔ایڈیسن نے جواب دیا '' میں ناکام نہیں بلکہ میں نے 5ہزار ایسے طریقے سیکھے ہیں جن سے بجلی کا بلب نہیں بن سکتا‘‘۔ناکامی ہمیں ایک نیاراستہ دکھاتی ہے، ایسا راستہ جو اب تک ہماری نظروں سے اوجھل تھا۔ جس طرح کوئی سیلز پرسن اپنی پروڈکٹ فروخت کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ کوئی اور نیا طریقہ استعمال کرتا ہے۔ایک نیا طریقہ سیکھتا ہے کہ نئی حکمت عملی استعمال کر کے اپنی کاکردگی میں بہتری لاسکتا ہے۔جس طرح ہم اگر نوکری کے لئے کہیں انٹرویو دینے جاتے ہیں تو ہم سیکھتے ہیں کہ اگلی بار ہم اس میں مزید کیا بہتری لا سکتے ہیں کہ ہمارا انٹرویو اس سے بھی زیادہ بہتر ہو۔ناکام ہونے کے بعد ہمیں بہت سے ایسے مختلف اور نئے راستے ملتے ہیں جن کے بارے میں پہلے ہم نے کبھی سوچا نہیں ہوتا۔ ناکامی ہمیں نئے راستوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ نئی تراکیب اپناکر ان پر عمل پیرا ہونے سے ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ ناکامی ہمارے راستے بند نہیں کرتی بلکہ یہ ہمارے لئے بہت سے نئے راستے اور حل وضع کرتی ہے۔ناکامی ہمیں سمجھنے کا موقع دیتی ہےچالیس کی دہائی میں ایک نوجوان نے اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر اپنا خواب پورا کرنے کی غرض سے اپنے والدین کی مرضی کیخلاف ایک میوزیکل بینڈ جوائن کیا۔گلوکاری اور موسیقی کا اسے شوق ضرور تھالیکن یہ اس کی فطرت نہیں تھی۔ابھی اس کا ٹیلنٹ اتنا بلند نہیں تھا کہ وہ اسے ایک پروفیشن کی طرح استعمال کر سکتا۔جلدی ہی اس کے دوسرے ساتھیوں کو بھی اندازہ ہو گیالیکن وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کی نسبت اپنا پیسہ بہت اچھے طریقے سے خرچ کرتا اور بچت کرتا تھا۔ بے روزگاری کے دور میں اس کی وہی بچت اس کے کام آئی۔اس کے دوسرے ساتھیوں کو بھی اس کی خوبی کا علم ہو گیاکہ یہ پیسے کو بہت اچھا مینج کرلیتا ہے تو انہوں نے اسے اپنا فنانس منیجر رکھ لیا۔اپنی اسی خوبی کو دیکھتے ہوئے اس لڑکے نے اپنے کرئیر کے بارے میں ایک مرتبہ پھر سوچا کہ کیا کام وہ بہتر طور پر کر سکتا ہے اور اس نے اپنا کرئیرتبدیل کر لیا۔اس لڑکے کا نام ہے ایلن گرین سپین ،جوکہ فیڈرل ریزرو امریکہ کا چیئرمین رہا۔ جس نے اپنی عمدہ کارکردگی سے اپنی کمپنی کو اقتصادی بحران سے بچایا اور اسے ترقی دی۔اس کی ایک ناکامی نے اسے سکھایا کہ قدرت نے اس کے اندر کیا خصوصیات رکھی ہیں جنہیں وہ زیادہ بہتر طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ جو اس کی اپنی ذات اور معاشرے کے لئے سود مند ہیں۔جب تک آپ ناکامی کا سامنہ نہیں کریں گے ،آپ کوپتہ نہیں چل سکتا کہ آپ میں کون سی خوبیاں اور خصوصیات ہیں۔ ایک پیشے میں ناکامی کے بعد ہی ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم کون سا دوسرا کام زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ناکامی نیا انداز فکر دیتی ہےبار ہا ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ہدف یا مقصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہمارے لیے بہت اہم ہوتا ہے ،ہزار کوششوں کے باوجود اس کے ہمیں مطلوبہ نتائج نہیں ملتے۔دراصل ایسی ناکامی ہماری اقدار کا پتہ دیتی ہے۔یہ ناکامی ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری زندگی میں سب سے اہم کیا ہے۔جو شخص اپنی زندگی میں اپنے خاندان کو اوّلیت دیتا ہے ،اپنی فیملی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے وہ شائد اپنے کرئیر میں بہت اوپر نہیں پہنچ سکتا لیکن وہ ایک بہترین شوہر،ایک بہترین باپ ضرور بن سکتا ہے۔ایک عورت جو اپنے کام کو ہفتے کے 80گھنٹے دیتی ہے۔ وہ مالی طور پر مستحکم اور کامیاب ہوگی لیکن شاید وہ دوسرے رشتے نبھانے میں اتنی کامیاب نہ ہو۔ہماری ناکامی ہمیں ایک ہدف پر توجہ مرکوز کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔اس ہدف کو پانے کے لئے ہم اپنی پوری توانائی صرف کر کے اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ایک سب سے بڑا اور اہم تحفہ جو ناکامی ہمیں دیتی ہے وہ یہ علم ہے کہ '' ناکامی کبھی بھی حتمی نہیں ہوتی‘‘۔ ناکامی کبھی بھی زندگی یا اور مواقعوں کا اختتام نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ہم خود ہی ہار نہ مان لیں یا جب تک ہم خود ناکامی کا انتخاب نہ کر لیں۔ اب انتخاب آپ کا ہے کہ آپ اپنے لئے کیا منتخب کرتے ہیں۔٭٭٭(بینش جمیل پشاور کے ایک تعلیمی ادارے میں معلمہ ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ مندرجہ بالا مضمون ان کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے)۔

کرائسٹ دی ریڈیمر ،عجائبات عالم میں شامل 125 فٹ بلند مجسمہ

کرائسٹ دی ریڈیمر ،عجائبات عالم میں شامل 125 فٹ بلند مجسمہ

حضرت عیسیٰ ؑ سے منسوب یہ مجسمہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی مشہور ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ اس مجسمے کی کل اونچائی 125 فٹ (30میٹر) ہے، 8 میٹر پیڈسٹل کو چھوڑ کر، ہاتھوں کی چوڑائی 28 میٹر تک ہے، وزن تقریباً 6 635 ٹن ہے۔یہ مجسمہ دنیا کے نیو سیون ونڈرز کی فہرست میں بھی شامل ہے، یہ مجسمہ سازی اور فن تعمیر کا ایک انوکھا کارنامہ ہے۔ اس مجسمے کا افتتاح 12 اکتوبر 1931ء میں ریو کے ماؤنٹ کورکاویدو کی چوٹی پر کیا گیا اور یہ دنیا کا آرٹ ڈیکو سٹائل مجسموں میں سب سے بڑا مجسمہ ہے۔ یہ مجسمہ برازیل کے مشہور ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یاد رہے کہ آرٹ ڈیکو کی تحریک جنگ ِعظیم اوّل کے بعد شروع ہوئی اور 1930ء سے 1940ء تک اس کے عروج کا زمانہ تھا جس کے بعد جنگ ِعظیم دوم نے اس کا خاتمہ کیا۔یہ ایک ٹھوس مجسمہ ہے جس میں ٹیلکم کلورائید شامل ہے، چہرہ کیتھولک تاثر کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔یہ مجسمہ بنانے کا منصوبہ 1922ء میں برازیل کی آزادی کی صد سالہ تقریب کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس وقت ریاست کا دارالحکومت ریو ڈی جنیرو تھا، اسی وجہ سے اس مجسمے کو یہاں نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ چونکہ خود حکومت کے پاس عالمی تعمیراتی منصوبوں کے لئے فنڈز موجود نہیں تھے، سیاحت کے خرچ پر رہنے والے زیادہ تر مقامی باشندے ایک ایسی قومی یادگار بنانے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے جو توجہ اپنی طرف راغب کر سکے، لہٰذا ''کروزیرو میگزین‘‘ نے مجسمے کی تعمیر کے لئے فنڈ اکٹھے کیے۔اسی میگزین نے ایک سروے شروع کیا تاکہ ''کرائسٹ دی ر یڈیمر‘‘ کی تعمیر کے لئے بہترین جگہ کا انتخاب کیا جا سکے۔ قریبی ضلع کا سب سے اونچا مقام ہونے کی وجہ سے کورکووادو کی چوٹی کو اکثریت کے ووٹوں نے منتخب کیا۔مجسمے کے انفرادی حصے فرانس میں بنائے گئے، اور پھر ریلوے کا استعمال کرتے ہوئے انہیں برازیل پہنچایا گیا۔ اس سلسلے میں ''کرائسٹ دی ریڈیمر‘‘ امریکی ''مجسمہ آزادی‘‘ کا بھائی ہے۔ یہ مجسمہ بنانے میں نو سال لگے۔2003 میں برقی زینہ یادگار کے دامن پر نصب ہوا، جس نے ڈیک پر چڑھائی کو بہت آسان بنا دیا۔2010ء میں پہلی اور آخری بار توڑ پھوڑ ہوئی۔ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کس نے اور کیوں کی تھی۔اس کے بعد مجسمے کی تزین و آرائش کی گئی اور تب سے مجسمے کے آس پاس باقاعدگی سے حفاظت کی جارہی ہے اور کیمروں کی مدد سے اس کی نگرانی کی جارہی ہے۔اس مجسمے کو متعدد بار مختلف فلموں اور کارٹونز میں بھی دکھایا جا چکا ہے۔ اس مجسمے کو دیکھنے کے لیے ہر سال بیس لاکھ سیاح آتے ہیں۔ برازیل کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے خلائی تحقیق کے مطابق اس مجسمے پر سال میں پانچ بار سے زیادہ آسمانی بجلی گرتی ہے۔ 2013ء اور 2014ء میں مجسمے کی انگلیوں کو آسمانی بجلی سے نقصان پہنچا تھا لیکن بعد میں ان کو ٹھیک کر دیا گیا تھا۔ 

وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ﷺجس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

وہ دانائے سبل ،ختم الرسل، مولائے کل ﷺجس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

سرور کونین ﷺکی آمد سے عرب سے جہالت کے اندھیرے چھٹےآپ ﷺ کی تعلیمات کی بدولت خون کے دشمن بھائی بھائی بن گئے،اللہ نے آپ ﷺ کو تما م جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاآپ ﷺ بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف فرما دیا کرتے تھے

اتباع مصطفیٰ ﷺ کی برکات ،آپ ﷺ کا پیروکار اللہ تعالیٰ کا مجبوب ہے

اتباع مصطفیٰ ﷺ کی برکات ،آپ ﷺ کا پیروکار اللہ تعالیٰ کا مجبوب ہے

’’اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (آل عمران: آیت31)محبت ایک مخفی چیز ہے کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں اور کم ہے یا زیادہ، اس کا کوئی پیمانہ بجز اس کے نہیں کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے۔ محبت کے کچھ آثار اور علامات ہوتی ہیں ان سے پہچانا جائے، یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں اپنی محبت کا معیار بتایا ہے۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس کو اتباعِ محمدیﷺکی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔

آمد مصطفیٰ ﷺ مرحبا مرحبا ،نبی کریم ﷺ کی آمد تمام جہانوں کے لئے رحمت

آمد مصطفیٰ ﷺ مرحبا مرحبا ،نبی کریم ﷺ کی آمد تمام جہانوں کے لئے رحمت

’’اور بیشک آپﷺ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں‘‘۔ (القلم ۶۸:۴)اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاوّل شریف ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا، یہ مہینہ فیوض وبرکات کے اعتبار سے بہت ہی افضل و اعلیٰ ہے کیوں کہ اس ماہ مبارک میں باعث تخلیق کائنات فخر موجودات حضور ﷺ نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاوّل بروز پیر مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپﷺ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔

نعت ِ شریف

نعت ِ شریف

رہتے تھے ان کی بزم میں یوں با ادب چراغ,جیسے ہوں اعتکاف کی حالت میں سب چراغ,جتنے ضیا کے روپ ہیں، سارے ہیں مستعار

سعودی جامعات میں پاکستانی طلبہ وطالبات کیلئے وسیع مواقع
2021-10-18

سعودی جامعات میں پاکستانی طلبہ وطالبات کیلئے وسیع مواقع

شرکاء:(بذریعہ ویڈیو لنک) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے پاکستانی سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) بلال اکبر ۔ مشیر تعلیم نادر عالم ۔ جدہ سے قونصل جنرل خالد مجید ۔پاکستان جرنلسٹ فورم کے چیئرمین امیر محمد خان۔ سعودی عالمی نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رویشد الصحفی کا خصوصی ویڈیو پیغام کراچی سے شرکاء: وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرسروش حشمت لودھی۔ وائس چانسلر اور صدر محمد علی جناح یونیورسٹی ڈاکٹر زبیر احمد شیخ ( بذریعہ وڈیو لنک )۔اساتذہ اور طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد کی شرکت بمقام:کانفرنس ہال این ای ڈی یونیورسٹی کراچی

 ’’ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘مگر عوام خوف زدہ کیوں؟
2021-09-25

’’ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘مگر عوام خوف زدہ کیوں؟

شرکاء:انسپکٹر ضیاء اللہ، انچارج پولیس ٹریننگ اسکول گارڈن۔انسپکٹر لبنیٰ ٹوانہ،انچارج وومن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن کراچی۔سب انسپکٹر شبانہ جیلانی۔انسپکٹر غزالہ پروین۔انسپکٹرشجاعت حسین ۔ انسپکٹر سرور۔انسپکٹر فصیح اللہ ۔انسپکٹر خالد مصطفی ۔محمد علی جناح یونیورسٹی شعبہ نفسیات کی لیکچرار مریم فردوس طلباء وطالبات کی کثیر تعداد

مینگروز کے جنگلات،حسن ،سیاحت اور ضرورت
2021-09-18

مینگروز کے جنگلات،حسن ،سیاحت اور ضرورت

شرکاء:ڈاکٹر معین احمد، ماہر نباتیات ۔ڈاکٹر طاہر رشیدریجنل ڈائریکٹر ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ڈاکٹر کنول ناظم ، ماہر ماحولیات اور صدر سوسائٹی فار انوائرمنٹ اینڈ مینگروز پروٹیکشن ویلفیئر ایسوسی ایشن۔ڈاکٹر محمد عذیر خان، ماہر نباتیات و صنفیات( ٹیکسومونسٹ )جامعہ کراچی ۔ عبدالرحمن ،انچارج ڈبلیو ڈبلیو ایف ویٹ لینڈ سینڈپٹ سینٹر

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز