اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے گرین سگنل دے دیا۔
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیلئے گرین سگنل دے دیا۔
افغان طالبان دہشتگرد تنظیمیں پال رہے ، مودی ان کا ہیرو ہے ،دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کے پی کے میں ہوئے ،صوبائی حکومت آپریشن نہیں چاہتی، وزیر اعلیٰ افغانستان سے مدد مانگتے ہیں، پچھلے سال 75 ہزار آپریشنز کئے کسی کی ذات وطن سے بڑھ کرنہیں،فوجی ،سیاسی قیادت ایک پیج پر ،معر کہ حق میں بھارت کا منہ کالاکیا اس نے دہشت گردی کو ہوا دی،جھڑپوں کے دوران طالبا ن وزیر خارجہ کہاں تھا؟ان کا اسلام کہتا ہے بھارت کے پائوں پڑ جائوایک لیڈر اپنی جماعت آمر کی طرح چلاتا رہا، سابق ڈی جی آئی ایس آئی کوسیاست کیلئے استعمال کیا ،بے اختیار ہونے کا بیانیہ مضحکہ خیز ، کسی جماعت سے مسئلہ نہیں،بات کرنی ہے توحکومت سے کریں:لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی بریفنگ
ائیرچیف حسن محمود کی سربراہ پاک فضائیہ کو فضائی بیڑے کی دیکھ بھال و مرمت، ایئر ڈیفنس راڈار سسٹم کو ایئر سرویلنس سسٹم سے منسلک کرنے میں معاونت کی بھی درخواست ظہیربابر کی تربیتی تعاون،مشاق طیاروں کی جلد فراہمی کی یقین دہانی، جے ایف تھنڈر قیمت، سیاسی لچک اور دستیابی کی وجہ سے خریدار ممالک کیلئے پرکشش :دفاعی ماہرین
نجکاری کمیشن میں شفافیت کیلئے آڈٹ کا فیصلہ،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے منصوبے پر غور زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد ، برآمدات بڑھانے کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے :وزیر اعظم
ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ سے الیکٹرک اور میٹرو بس کو سستی بجلی فراہم کی جائیگی، وزیر اعلیٰ کو بریفنگ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ، منصوبوں کا جائزہ ،پنجاب بھر میں پی ایچ اے قائم کرنے کیلئے پلان طلب
دھرنے کی جگہ پانی چھوڑ اگیا ، پولیس سے رات گئے مذاکرات کامیاب پولیس غیرقانونی احکامات نہ مانے :علیمہ، 10 ہزار کارکن آنے چاہئیں :اچکزئی
باجوہ کو قوم کا باپ کی بات عمران سے منسوب کرنا حقائق مسخ کرنے کے مترادف ملٹری آپریشن کی مخالفت کو دہشتگردوں کی حمایت قرار دینا زمینی حقائق کے منافی:بیان
وینزویلا کے صدر کے اغوا کے بعد دنیا میں پھر نو آبادیاتی نظام مسلط کیا جارہا ہےامریکی من مانی زور پکڑتی جارہی،انسانیت دوست قوتوں کو اٹھ کھڑا ہونا پڑیگا:بیان
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے )جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے نام جاری پیغام میں یمن کے حوالے سے سعودی عرب کے اقدامات اور قومی سلامتی کے دفاع کے فیصلوں کی مکمل حمایت کی ہے۔
مصنوعی ذہانت نے انسانی تاریخ کے تخلیقی عمل میں ایک غیر معمولی مداخلت کی ہے۔ یہ مداخلت بیک وقت امکانات سے بھرپور بھی ہے اور خطرات سے لبریز بھی۔ ایک طرف اے آئی نے اظہار کے نئے ذرائع فراہم کیے ہیں، تو دوسری طرف اس نے ڈیجیٹل دنیا کو ایسے غیر معیاری، بے روح اور خودکار مواد سے بھر دیا ہے جسے ماہرین ''اے آئی سلاپ‘‘ (AI Slop) کا نام دیتے ہیں۔ Merriam-Webster ڈکشنری نے Slop کو 2025 ء کا Word of the Year قرار دیا ہے۔جس کا مطلب ہے مصنوعی ذہانت کے ذریعے عام طور پر بڑی مقدار میں تیار کردہ کم معیار کا ڈیجیٹل مواد۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری کے حالیہ بیانات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔پی سی میگ (PC Mag) کو دیے گئے انٹرویو میں موسری نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اصلی اور مصنوعی مواد کے درمیان حدِ فاصل تیزی سے مٹتی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اے آئی مواد تخلیق کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ یہ مواد انسانی تخلیق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور یہی دھوکا پورے ڈیجیٹل ماحول کو کھوکھلا کر رہا ہے۔مواد کی بہتات،معیار کی قلتآج انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ایسی تصاویر، ویڈیوز اور تحریریں عام ہو چکی ہیں جو چند لمحوں میں الگورتھمز کے ذریعے تیار ہوتی ہیں۔ یہ مواد بظاہر دلکش، چمک دار اور متاثر کن ہوتا ہے مگر اس میں انسانی تجربے، احساس اور فکری گہرائی کا فقدان نمایاں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسری اس دور کوAI Slop Era قرار دیتے ہیں،ایک ایسا دور کہ جس میں مواد کی کثرت نے معیار اور معنویت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان بلا روک ٹوک جاری رہا تو سوشل میڈیا انسانی اظہار کا پلیٹ فارم نہیں رہے گا بلکہ ایک خودکار مشین بن جائے گا جہاں تخلیق نہیں بلکہ محض پیداوار ہو گی۔ ایسے ماحول میں حقیقی تخلیق کار جو وقت، محنت اور مہارت سے اپنا کام کرتے ہیں آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے۔شناخت کا نیا زاویہایڈم موسری نے اس بحران کے حل کے لیے ایک نسبتاً حقیقت پسندانہ اور تکنیکی تجویز پیش کی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی مواد کو پہچاننے اور روکنے سے زیادہ مؤثر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسانی تخلیق کی تصدیق کی جائے۔ یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ کوئی تصویر، ویڈیو یا پوسٹ واقعی کسی انسان نے تخلیق کی ہے نہ کہ کسی خودکار سسٹم نے۔یہ تصور ڈیجیٹل دنیا میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب تک کوشش یہ رہی ہے کہ جعلی یا مصنوعی مواد کو شناخت کر کے ہٹایا جائے مگر موسری کا خیال ہے کہ مستقبل میں توجہ ''اصلی‘‘ مواد کی فنگر پرنٹنگ پر ہونی چاہیے۔ اگر انسانی تخلیق کو کسی مستند تکنیکی نشان کے ذریعے ممتاز کر دیا جائے تو صارف خود یہ فیصلہ کر سکے گا کہ وہ کس مواد پر اعتماد کرے۔انسانی تخلیق کاروں کے لیے نئے ٹولزانسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صرف لیبلنگ یا تصدیق کافی نہیں ہو گی، اسی لیے انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ پلیٹ فارم پر ایسے نئے تخلیقی ٹولز متعارف کرائے جائیں گے جو انسانی تخلیق کاروں کو اے آئی کے مقابل کھڑا کر سکیں، نہ کہ انہیں مکمل طور پر بے دخل کر دیں۔اُن کے مطابق مستقبل کا ماڈل یہ نہیں ہو گا کہ اے آئی انسان کی جگہ لے لے بلکہ یہ ہو گا کہ اے آئی انسان کی معاون بنے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، مواد کی پیشکش اور سٹوری ٹیلنگ میں ایسے ٹولز فراہم کیے جائیں گے جن میں کنٹرول انسان کے ہاتھ میں رہے، تاکہ تخلیق کا مرکزی کردار برقرار رہے۔اخلاقی اور سماجی مضمراتیہ معاملہ محض ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی سوال کا بھی ہے۔ اگر ہر خوبصورت تصویر، ہر متاثر کن ویڈیو اور ہر جذباتی تحریر کے پیچھے الگورتھم ہو تو پھر انسانی محنت کی قدر کہاں باقی رہے گی؟ نوجوان تخلیق کار جو برسوں مشق کر کے اپنی شناخت بناتے ہیں وہ کیسے ان مشینوں کا مقابلہ کرسکیں گے جو سیکنڈوں میں ہزاروں پوسٹس تیار کر سکتی ہیں؟پاکستان جیسے ممالک میں جہاں سوشل میڈیا صحافیوں، فوٹوگرافروں، فنکاروں ، وی لاگرز اور دیگر حلقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ اگر پلیٹ فارمز نے انسانی تخلیق کو تحفظ نہ دیا تو ڈیجیٹل معیشت چند بڑی اے آئی کمپنیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو کر رہ جائے گی۔ایڈم موسری کے بیانات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا انڈسٹری اب خطرے کو سنجیدگی سے محسوس کرنے لگی ہے۔ ''اے آئی سلاپ‘‘ کے خلاف یہ پہلا واضح اعتراف ہے کہ بے قابو مصنوعی مواد نہ صرف صارف کے تجربے کو متاثر کر رہا ہے بلکہ پلیٹ فارمز کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا انسٹاگرام اپنے وعدوں کو عملی شکل دے پائے گا؟ کیا واقعی انسانی تخلیق کو تکنیکی طور پر محفوظ اور ممتاز کیا جا سکے گا؟ یا پھر 'ویری فیکیشن‘ کا دعویٰ بھی ماضی کی طرح محض ایک پالیسی بیان بن کر رہ جائے گا؟فی الحال ایک بات طے ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کو انسانی اظہار کا بامعنی اور زندہ پلیٹ فارم بنانا ہے تو ''اصلیت‘‘ کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی اصول بنانا ہو گا۔ یہی وہ امتحان ہے جس کا سامنا اب انسٹاگرام سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہے اور اسی کے نتائج آنے والے ڈیجیٹل عہد کا تعین کریں گے۔
نئے سال کا آغاز عموماً نئی امیدوں، تازہ ارادوں اور بہتر زندگی کے خوابوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ آنے والا سال گزشتہ مشکلات، ذہنی دباؤ اور بے چینی کو پیچھے چھوڑ دے۔ تاہم تجربہ بتاتا ہے کہ مثبت تبدیلیوں کا ارادہ کرنا تو آسان ہے مگر ان پر مستقل عمل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیق ہمیں ایسے عملی اور مؤثر طریقے فراہم کرتی ہے جو واقعی ہماری ذہنی کیفیت، جذباتی توازن اور مجموعی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔کمال پسندی کی زنجیر توڑیںکامل دکھائی دینے کی خواہش بظاہر ایک خوبی محسوس ہوتی ہے مگر نفسیاتی تحقیق کے مطابق یہ رویہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور افسردگی کو جنم دیتا ہے۔ کمال پسند افراد اپنے لیے ناقابلِ حصول معیار مقرر کر لیتے ہیں اور معمولی لغزش پر خود کو سخت ملامت کا نشانہ بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس خودساختہ اذیت سے بچنے کا مؤثر طریقہ خود سے نرمی اور شفقت کا رویہ اپنانا ہے۔ غلطیوں کو انسانی فطرت کا حصہ سمجھا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ نامکمل ہونا ہی انسان ہونے کی اصل پہچان ہے۔دوستی میں خلوص اور استحکام سائنس یہ کہتی ہے کہ مضبوط سماجی رشتے نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ مخلص دوستیاں مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی اور دل کے امراض کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی دوسروں کے لیے سہارا بنیں۔ دوسروں کی کامیابی پر خلوص دل سے خوش ہونا ان کی بات غور سے سننا اور مثبت ردعمل دینا تعلقات میں گرمجوشی اور اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔سماجی مشاغل اپنائیںنیا شوق یا سرگرمی اختیار کرنا محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ذہنی سکون کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ مصوری، موسیقی، کھیل یا کوئی سماجی سرگرمی انسان کو تنہائی کے خول سے نکال کر سماج سے جوڑ دیتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ مشترکہ مقصد کے تحت کی جانے والی سرگرمیاں انسانوں کے درمیان قربت پیدا کرتی ہیں اور جسمانی مشقت کو بھی خوشگوار بنا دیتی ہیں۔غصے کو تعمیری قوت میں بدلیںغصہ بلاشبہ ایک شدید اور خطرناک جذبہ ہو سکتا ہے لیکن اگر اسے بروقت پہچان لیا جائے تو یہی جذبہ تعمیری طاقت میں ڈھل سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق غصے کو دبانے کے بجائے اسے مثبت سرگرمیوں جیسے ورزش، تخلیقی کام یا کسی بامقصد جدوجہد میں صرف کرنا زیادہ مفید ہے۔ شرط یہ ہے کہ جذبات کے اظہار میں ضبط اور حکمت کو ملحوظ رکھا جائے۔شکرگزاری کو معمول بنائیںروزانہ چند لمحے نکال کر زندگی کی اچھی باتوں پر غور کرنا ذہنی صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب کرتا ہے۔ سائنسی مطالعات کے مطابق روزانہ تین نعمتوں یا خوشگوار لمحات کو قلم بند کرنے سے خوشی میں اضافہ اور افسردگی میں نمایاں کمی آتی ہے۔ یہ عادت انسان کی توجہ محرومیوں سے ہٹا کر موجود نعمتوں کی طرف مبذول کرتی ہے۔موبائل فون سے فائدہ اٹھائیںجدید دور میں سمارٹ فون ذہنی انتشار کی بڑی وجہ بن چکا ہے تاہم درست اور شعوری استعمال سے یہی آلہ کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ غیر ضروری اطلاعات کو محدود کرنا، یادداشت محفوظ کرنے کے لیے نوٹس کا استعمال اور سکرین کے استعمال کو نظم و ضبط میں لانا توجہ، یادداشت اور ذہنی سکون میں بہتری لا سکتا ہے۔ کبھی کبھار فون سے مکمل لاتعلقی بھی ذہن کو تازگی بخشتی ہے۔سردیوں سے ہم آہنگی پیدا کریںسردیوں کے چھوٹے دن اور طویل راتیں کئی افراد کو اداسی اور سستی میں مبتلا کر دیتی ہیں مگر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر موسمِ سرما کے حسن ،قدرتی مناظر، گھریلو محفلوں اور سکون بھرے لمحات کو مثبت نظر سے دیکھا جائے تو ذہنی کیفیت بہتر ہو سکتی ہے۔ یوں سردی کو بوجھ کے بجائے موقع سمجھا جا سکتا ہے۔مختصر قیلولہ، بڑی توانائیدن کے اوقات میں مختصر نیند ذہنی کارکردگی کو فوری طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق 10 سے 20 منٹ کا قیلولہ دماغی تازگی اور توجہ میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ البتہ اس کا درست وقت اور دورانیہ اہم ہے تاکہ رات کی نیند متاثر نہ ہو۔یاد رکھیں کہ خوشی کوئی اتفاقی لمحہ نہیں بلکہ شعوری طرزِ زندگی کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ان سادہ مگر مؤثر عادات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو نیا سال نہ صرف ذہنی سکون بلکہ ایک متوازن اور بامقصد زندگی کی نوید بن سکتا ہے۔
گیلیلیو کی دریافت7 جنوری 1610ء کو اطالوی سائنسدان گیلیلیو گیلیلی نے فلکیات کی تاریخ میں ایک انقلابی دریافت کی۔ انہوں نے اپنی ایجاد کردہ طاقتور دوربین کے ذریعے سیارہ مشتری (Jupiter) کے گرد گردش کرنے والے چار بڑے چاندوں کا مشاہدہ کیا۔ یہ دریافت اس لحاظ سے نہایت اہم تھی کہ اس نے اس قدیم نظریے کو چیلنج کیا جس کے مطابق تمام اجرامِ فلکی زمین کے گرد گردش کرتے ہیں۔ اس وقت چرچ اور ارسطو کے نظریات کے مطابق زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھامگرگیلیلیو کی یہ دریافت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ ہر چیز زمین کے گرد نہیں گھومتی۔ ان کو نظر بندی کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ ان کا مشاہدہ درست تھا۔ امریکہ میں پہلا صدارتی انتخاب 7 جنوری 1789ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پہلا صدارتی انتخابی عمل باضابطہ طور پر شروع ہوا۔ اس دن مختلف ریاستوں نے اپنے الیکٹورل کالج کے ارکان کا انتخاب شروع کیا جو بعد ازاں ملک کے پہلے صدر کا فیصلہ کرنے والے تھے۔ یہ انتخابی عمل کئی ہفتوں تک جاری رہا اور بالآخر جارج واشنگٹن کو متفقہ طور پر امریکہ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔جارج واشنگٹن کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھے اور انہیں قومی اتحاد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پہلی ٹرانس اٹلانٹک کال7 جنوری 1927ء کو دنیا میں مواصلاتی انقلاب کا ایک اور باب رقم ہوا جب پہلی ٹرانس اٹلانٹک ٹیلی فون کال امریکہ اور برطانیہ کے درمیان کی گئی۔ یہ کال نیویارک اور لندن کے درمیان ہوئی اور اس میں امریکی اور برطانوی حکام نے شرکت کی۔اس سے قبل بحرِ اوقیانوس کے آرپار رابطہ صرف ٹیلی گراف کے ذریعے ممکن تھا، مگر اس فون کال نے ثابت کر دیا کہ انسانی آواز کو ہزاروں میل دور تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ تکنیکی کامیابی جدید عالمی مواصلاتی نظام کی بنیاد بنی۔ ہائیڈروجن بم بنانے کا اعلان7 جنوری 1953ء کو امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ہائیڈروجن بم تیار کر لیا ہے۔ یہ اعلان سرد جنگ کے دور میں سامنے آیا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایٹمی برتری کی دوڑ عروج پر تھی۔ اس اعلان نے دنیا بھر میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑا دی کیونکہ اب انسان کے پاس خود کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ مزید تیز ہو گئی۔ بعد ازاں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) اور دیگر عالمی معاہدے سامنے آئے۔ شہنشاہ ہیروہیتو کا انتقال7 جنوری 1989ء کو جاپان کے شہنشاہ ہیروہیتو کا انتقال ہوا، جس کے ساتھ ہی جاپانی تاریخ کے ایک طویل اور متنازع دور کا خاتمہ ہوا۔ ہیروہیتو 1926ء سے 1989ء تک تخت پر فائز رہے اور ان کا دور شووا دور کہلاتا ہے۔ہیروہیتو کے عہد میں جاپان نے دوسری جنگِ عظیم میں شرکت کی جس کے نتیجے میں ایٹمی حملے، شکست اور بعد ازاں تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوا۔
رواں صدی کے پہلے پچیس برس میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جس تیزی سے بدلا ہے اس کی مثال ماضی میں مشکل سے ملتی ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز پر انٹرنیٹ ڈائل اَپ کنکشن کے ذریعے استعمال ہوتا تھا، موبائل فون محض کال اور میسج تک محدود تھے اور مصنوعی ذہانت ایک تصوراتی اور خیالی چیز سمجھی جاتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور نینو ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2050ء تک دنیا یکسر مختلف ہو گی۔انسان اور مشین کا ملاپ2050ء کی دنیا میں انسان اور مشین کے درمیان فرق خاصا دھندلا ہو سکتا ہے۔ نینو ٹیکنالوجی جو انتہائی باریک سطح پر انجینئرنگ کا نام ہے، پہلے ہی ہماری جیب میں موجود سمارٹ فون کے اندر کام کر رہی ہے۔ مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی انسانی جسم کے اندر استعمال ہونے لگے گی۔ ماہرین کے مطابق نینو امپلانٹس کے ذریعے نہ صرف انسانی صحت کی مسلسل نگرانی ممکن ہو گی بلکہ ادویات کو براہ راست متاثرہ عضو تک پہنچایا جا سکے گا۔سائبرنیٹکس کے ماہرین کا خیال ہے کہ دماغ میں لگائے جانے والے الیکٹرانک امپلانٹس دماغی بیماریوں جیسے شیزوفرینیا کے علاج میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مستقبل میں صرف دواؤں پر انحصار کم ہو سکتا ہے اور براہِ راست دماغی تحریک (Deep Brain Stimulation) ایک متبادل علاج بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے تجربات بھی ممکن ہوں گے جن میں انسان اپنے دماغ کے ذریعے دور مشینوں یا روبوٹس کو کنٹرول کر سکے گا۔ڈیجیٹل ٹوئنز 2050ء کی ایک حیران کن پیش رفت ڈیجیٹل ٹوئن( Twins) کا تصور ہے۔ اس سے مراد کسی انسان کا ڈیجیٹل یا ورچوئل نمونہ ہے جو رئیل ٹائم ڈیٹا سے مسلسل اَپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ہر انسان کے کئی ڈیجیٹل ٹوئنز ہوں گے، جن پر مختلف ادویات، غذائی منصوبے یا طرزِ زندگی آزما کر یہ دیکھا جا سکے گا کہ ان کا اصل جسم پر کیا اثر پڑے گا۔ اس طرح علاج سے پہلے اثرات کا اندازہ ممکن ہو سکے گا۔مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگمصنوعی ذہانت آنے والے وقت میں انسانی معاشرے کا مرکزی ستون بن سکتی ہے۔ تاہم AI کی اگلی بڑی جست کوانٹم کمپیوٹنگ کے ذریعے متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے بیس برسوں میں کوانٹم کمپیوٹنگ عملی طور پر مفید شکل اختیار کر سکتی ہے جس سے ادویات کی تیاری، موسمیاتی ماڈلز اور سائنسی تحقیق میں انقلاب آ جائے گا۔تعلیم کا نیا تصور2050 ء میں تعلیم کا نظام موجودہ نصابی ڈھانچے سے یکسر مختلف ہو گا۔ ماہرین کے مطابق کتابوں کی جگہ مصنوعی ذہانت پر مبنی اساتذہ لیں گے جو ہر طالب علم کی ذہنی صلاحیت، حیاتیاتی ساخت اور سیکھنے کے انداز کے مطابق مواد فراہم کریں گے۔ تعلیم ورچوئل اور حقیقی دنیا کے امتزاج سے حاصل کی جائے گی جہاں طلبہ محض پڑھیں گے نہیں بلکہ عملی طور پر تجربات کا حصہ بنیں گے۔ اس طرح تعلیم زیادہ ذاتی، لچکدار اور مؤثر ہو گی۔ خودکار گاڑیاںٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ خودکار یا ڈرائیور لیس گاڑیاں عام ہو جائیں گی جس سے ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔ یہ گاڑیاں آپس میں رابطے کے ذریعے نہایت کم فاصلے پر تیز رفتاری سے سفر کر سکیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص شاہراہوں پر 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار بھی محفوظ ہو سکتی ہے، کیونکہ انسانی غلطی کا عنصر ختم ہو جائے گا۔خلا میں صنعت اور چاند پر آبادی2050ء تک خلائی دوڑ بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چاند پر قابلِ رہائش بیس قائم ہو جائے گی جبکہ کچھ صنعتیں مکمل طور پر خلا میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر ادویات سازی میں مائیکرو گریوٹی ماحول فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بننے والے کرسٹل زمین کے مقابلے میں زیادہ معیاری ہوتے ہیں۔سائنس فکشن سے حقیقت تکماضی کی کئی سائنس فکشن فلمیں جیسے Minority Report مستقبل کی ٹیکنالوجی کی جھلک دکھا چکی ہیں۔ آج ان میں دکھائے گئے کئی تصورات حقیقت بنتے نظر آ رہے ہیں جیسا کہ اشاروں سے چلنے والی سکرینیں اور پیشگی ڈیٹا پر مبنی فیصلے۔ اگرچہ کچھ ماہرین مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سائنس نے انسانیت کو بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔
پچھلی ایک دہائی کے دوران خوبصورتی کے عالمی تصورات میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ وہ دور تیزی سے گزر گیا ہے جب بھاری فاؤنڈیشن، گہرے شیڈز، نمایاں کانٹورنگ اور فل میک اَپ کو خوبصورتی کی واحد علامت سمجھا جاتا تھا۔
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی کبھی گھروں میں ایک خاص رونق ہوا کرتی تھی۔ رنگ برنگے اون کے گولے ، خواتین کے ہاتھوں میں چلتی سلائیاں اور نت نئے ڈیزائن سیکھنے اور تخلیق کرنے کی لگن۔ یہ سب اُس دور کی یادیں ہیں جب سوئٹر ہاتھ سے بُنے جاتے تھے۔
اجزا:مٹن قیمہ : آدھا کلو،مٹن کلیجی (چھوٹے ٹکڑے ) : ایک پاؤ،مٹن چانپ : ایک پاؤ،لہسن (پسا ہوا ) :ایک چمچ،ادرک (پسا ہوا ) : ایک چمچ،ادرک (باریک کٹا ہوا )
انہوں نے اپنی شاعری میں کسی قسم کا دعویٰ کیا اور نہ ہی کسی کی اندھی تقلید کی:ان سے ملنے والوں کے بقول ایسا لگتا تھا کہ جیسے آپ کسی درویش سے مل رہے ہیں‘ ایسے درویش سے جسے اپنے عہد کے وجدان نے بھی عجیب تر بنا دیا ہے،ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کہتے ہیں کہ رسا کے خیالات میں ایک اجتماعی شعور ہے‘ اپنے دور کے مسائل اور معاملات ان کے سامنے ہیں اور ان سب کے بارے میں ان کا ایک اپنا ردعمل ہے