اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی۔
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی۔
دہشتگردی کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ سری لنکن کرکٹ کوسپورٹ کیا ، پاکستانی ٹیم کو یہ میچ کھیلنا چاہیے :سری لنکن صدر ،مشکل ادوار میں کولمبو نے بھی ہمارا بھرپور ساتھ دیا:وزیراعظم جب کوئی خود چل کر آجائے تو بہت سی باتیں بھول جانی چاہئیں،بنگلادیشی مؤقف کی مکمل حمایت کی :محسن نقوی،حکومت کی قومی کرکٹ ٹیم کو 15فروری کو میدان میں اترنے کی ہدایتبنگلادیش پرکوئی جرمانہ نہیں ہوگا، ایک ایونٹ کی میزبانی بھی ملے گی:آئی سی سی،مذاکرات کی تفصیلات جاری کر دیں ،سری لنکا سے دوستی وقت کی کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری :عطا تارڑ
سولرنیٹ میٹرنگ معاہدے کی مدت 5سال مقرر، پرانے معاہدے جاری رہیں گے ،صارفین 1کلوواٹ سے 1میگاواٹ تک بجلی پیداوار کے اہل،نئے ریگولیشنز فوری نافذ ٹرانسفارمر گنجائش کے 80فیصد تک کنکشن فراہم کر سکیں گے ،ڈسکوز 15دن بعد انٹرکنکشن فراہمی، نیپرا 7روز میں منظوری کا پابند، قوانین کا بائیوگیس صارفین پر بھی اطلاق
وفاقی تعلیمی اداروں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان ،بلوچستان میں اے آئی نصاب ، ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی سکالرشپس دینگے
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے مقابلے میں صفر سے ایک فیصد کے درمیان محدود رہ سکتا، جی ڈی پی نمو پونے 5 فیصد رہنے کی توقع ذخائر 18 ارب ڈالرتک پہنچ سکتے ،معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کیلئے ساختی اصلاحات ناگزیر،ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ
کراچی، کے پی کے ،کشمیر،گلگت بلتستان سے لوگ آئے ،جنریشن زی نے منفی رویوں کو چھوڑ کر مثبت کردار کو اپنایاپی ٹی آئی کی عیاری نہیں چلی، گلا کٹنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، اجلاس سے خطاب ، عالمی بینک کے صدر کی بھی ملاقات
چاہتے ہیں بل سے سزا ئوں کو ختم کیا جا ئے :سینیٹر سلیم مانڈوی والا، پھربل لانے کا کوئی فائدہ نہیں :افنان اللہ سینیٹ کمیٹی میں بل ملکیت پر تنازع ،کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، ورچوئل آرڈیننس کی مدت 3 مارچ کو ختم
بلند شرح سود اور کریڈٹ رسک دباؤ برقرار،2026 میں جی ڈی پی نمو 3.5 فیصد رہے گی:آؤٹ لک رپورٹبین الاقوامی اداروں کی رپورٹس و ریٹنگز پاکستان کی معاشی سمت کی درستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں :شہباز شریف
القادر ٹرسٹ ،توشہ خانہ میں بانی اور بشری ٰ کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں خارج ،سائفراور 9 مئی کیس پر بینچ بنانیکاحکمفوجداری درخواستوں پرحکمنامہ جاری ، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ، مقدمات کوجان بوجھ کر مقرر نہیں کیا جا رہا:سلمان راجہ
کائنات میں موجود ہر شے مادے (Matter) سے بنی ہے مگر اسی کائنات میں ایک ایسا مادہ بھی موجود ہے جو ہماری عام فہم دنیا کے بالکل برعکس ہے۔ اسے'' اینٹی میٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اینٹی میٹر کو آج تک انسان کا تخلیق کردہ سب سے مہنگا مادہ تصور کیا جاتا ہے تاہم اس کی قیمت دولت یا منڈی سے نہیں بلکہ اس کی تیاری، کنٹرول اور تحقیق کی غیر معمولی مشکل سے جڑی ہوئی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اینٹی میٹر فطرت میں آزاد حالت میں تقریباً نایاب ہے۔ اسے نہ کانوں سے نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قدرتی ذخیرے سے حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ صرف جدید ترین پارٹیکل ایکسیلیریٹرز میں انتہائی کنٹرول شدہ حالات کے تحت ذرہ بہ ذرہ تیار کیا جاتا ہے۔اینٹی میٹر کیا ہے؟سادہ الفاظ میں اینٹی میٹر عام مادے کا الٹ ہے۔ مثال کے طور پر اگر مادے میں الیکٹران منفی چارج رکھتا ہے تو اینٹی میٹر میں اس کا متبادل پوزیٹرون مثبت چارج رکھتا ہے۔ اسی طرح پروٹان کا اینٹی ذرہ اینٹی پروٹان کہلاتا ہے۔یہ تصور پہلی بار بیسویں صدی کے اوائل میں سامنے آیا تھاجب برطانوی سائنسدان پال ڈراک نے 1928ء میں مساواتوں کے ذریعے پیش گوئی کی کہ مادے کے ہر ذرے کا ایک مخالف ذرہ بھی ہونا چاہیے۔ بعد ازاں 1932ء میں پوزیٹرون کی دریافت نے اس نظریے کو حقیقت میں بدل دیا۔اینٹی میٹر اور توانائی کا تعلقاینٹی میٹر کو غیر معمولی بنانے والی سب سے بڑی وجہ اس کی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ جب اینٹی میٹر کسی عام مادے سے ٹکراتا ہے تو دونوں مکمل طور پر فنا ہو جاتے ہیں اور ان کا تقریباً سو فیصد mass توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ عمل آئن سٹائن کے مشہور فارمولےE = mc2 کی عملی مثال ہے۔یہی وجہ ہے کہ نظریاتی طور پر اینٹی میٹر کو توانائی کا سب سے طاقتور ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ ایک گرام اینٹی میٹر اگر مکمل طور پر مادے کے ساتھ فنا ہو جائے تو وہ اتنی توانائی پیدا کر سکتا ہے جو ایک بڑے ایٹمی دھماکے کے برابر ہو۔ تاہم یہ تصور ابھی عملی دنیا سے بہت دور ہے۔اینٹی میٹر کیوں اتنی مہنگا ہے؟اینٹی میٹر کی قیمت کا اندازہ لگانا خود ایک مشکل کام ہے مگر سائنسی اندازوں کے مطابق اس کے ایک گرام کی قیمت کھربوں ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تحقیقی ادارے، جیسے یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق (CERN) کئی سالوں کی محنت کے بعد بھی صرف نینوگرام (گرام کا اربواں حصہ) مقدار ہی تیار کر پاتے ہیں۔اینٹی میٹر کی تیاری میں بے پناہ توانائی، جدید مشینری اور انتہائی مہنگا انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو ذخیرہ کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اینٹی میٹر کسی بھی عام مادے سے چھوتے ہی فنا ہو جاتا ہے۔اینٹی میٹر کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے؟اینٹی میٹر کو محفوظ رکھنے کے لیے سائنسدان مقناطیسی جال (Magnetic Traps) استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ اینٹی میٹر برقی چارج رکھتا ہے، اس لیے مضبوط مقناطیسی میدان کے ذریعے اسے خلا میں معلق رکھا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی مادی سطح سے ٹکرانے سے محفوظ رہے۔یہ نظام نہایت نازک اور مہنگا ہوتا ہے اور ذرا سی خرابی اینٹی میٹر کو فوراً ختم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اینٹی میٹر کا ذخیرہ فی الحال ممکن نہیں۔عملی استعمال؟اگرچہ اینٹی میٹر کو توانائی کے منبع کے طور پر استعمال کرنا فی الحال ناممکن ہے تاہم اس کے کچھ حقیقی اور قابلِ عمل استعمال پہلے ہی موجود ہیں۔طبی شعبے میں اینٹی میٹر کا استعمالPET Scan(Positron Emission Tomography) میں کیا جا رہا ہے جو کینسر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سائنسدان مستقبل میں اینٹی میٹر کو کینسر کے علاج میں انتہائی درست اور محدود نقصان کے ساتھ استعمال کرنے پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ PETسکین اور اینٹی میٹر PET سکین میں اینٹی میٹر کو باہر سے لانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسے خود پیدا کیا جاتا ہے اور فوراً استعمال کر لیا جاتا ہے۔PET سکین میں پازیٹرون استعمال کیا جاتا ہے جو الیکٹران کی اینٹی میٹر شکل ہے۔ پازیٹرون قدرتی طور پر نہیں ملتے بلکہRadioactive Decay کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ PETسکین میں استعمال ہونے والے کیمیکل (جیسے فلورین18) ایک خاص مشین سائیکلوٹرون (Cyclotron) میں تیار کیے جاتے ہیں۔یہ تابکار مادے خود بخود ٹوٹتے ہیں اور اس عمل میں پازیٹرون خارج کرتے ہیں۔ یوں اینٹی میٹر اسی لمحے پیدا ہوتا ہے جب اس کی ضرورت ہوتی ہے۔پازیٹرون انسانی جسم میں صرف ایک سے دو ملی میٹر تک سفر کرتا ہے۔ پھر وہ ایک الیکٹران سے ٹکرا کر دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں دو گاما شعاعیں نکلتی ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں جاتی ہیں۔ PET سکینر ان شعاعوں سے یہ تعین کرتا ہے کہ ٹکراؤ کہاں ہوا۔ اسی بنیاد پر کینسر، دماغی سرگرمی اور میٹابولزم کا نقشہ بنایا جاتا ہے۔
خاموشی اور توجہ کے ذہنی اثراتاکیسویں صدی میں جہاں انسانی دماغ مسلسل معلومات، سکرینوں اور دباؤ کی زد میں ہے وہیں ارتکاز توجہ کا ایک قدیم عمل جدید سائنس کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مراقبہ صرف ذہنی سکون ہی نہیں دیتا بلکہ یہ دماغی سرگرمی اور نیورل نیٹ ورک کی ساخت کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق گہرے مراقبے کے دوران دماغ ایک ایسی حالت میں داخل ہو سکتا ہے جسے ماہرینِ اعصاب ''برین کریٹیکلیٹی‘‘ (Brain Criticality) کہتے ہیں۔ یہ وہ نازک توازن ہے جہاں دماغ نہ مکمل انتشار کا شکار ہوتا ہے اور نہ ہی حد سے زیادہ جامد بلکہ ایک ایسی درمیانی کیفیت میں ہوتا ہے جو سیکھنے، توجہ، یادداشت اور لچکدار سوچ کے لیے مثالی سمجھی جاتی ہے۔اس تحقیق میں انتہائی تجربہ کار بدھ راہبوں کو چنا گیا جنہوں نے اوسطاً 15 ہزار گھنٹے سے زائد مراقبہ کیا ہوا تھا۔ سائنسدانوں نے دماغی سرگرمی ناپنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی میگنیٹو اینسیفلوگرافی (MEG) استعمال کی جو دماغ میں پیدا ہونے والے برقی مقناطیسی سگنلز کو نہایت باریکی سے ریکارڈ کرتی ہے۔تحقیق کے دوران دو مختلف مراقبہ تکنیکوں کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ مراقبہ دماغ کو زیادہ مستحکم اور مرتکز حالت میں لے جاتا ہے جو یکسوئی اور مسلسل توجہ کے لیے مفید ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مراقبے کے دوران دماغ میں پائی جانے والی گاما لہروں (Gamma Waves) میں کمی دیکھی گئی۔ عام طور پر یہ لہریں بیرونی محرکات اور تیز ذہنی سرگرمی سے جڑی ہوتی ہیں۔ ان میں کمی کا مطلب یہ لیا گیا کہ دماغ بیرونی دنیا سے ہٹ کر اندرونی شعور کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔تحقیق کا ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ جو راہب زیادہ تجربہ کار تھے ان کے دماغ میں مراقبے اور عام حالت کے درمیان فرق نسبتاً کم تھا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ طویل عرصے تک مراقبہ کرنے سے دماغ کی بنیادی حالت زیادہ پرسکون اور متوازن ہو جاتی ہے۔ یعنی مراقبہ صرف وقتی عمل نہیں رہتا بلکہ ذہن کی مستقل کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔کیا مراقبہ سب کے لیے مفید ہے؟اگرچہ یہ نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں مگر محققین خبردار کرتے ہیں کہ مراقبہ کوئی جادوئی حل نہیں۔ کچھ افراد میں، خاص طور پر شدید یا بغیر رہنمائی کے مراقبہ کرنے پر اضطراب، الجھن یا جذباتی بے چینی جیسے اثرات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ مراقبہ کو اعتدال، آگاہی اور درست رہنمائی کے ساتھ اپنانا چاہیے۔جدید سائنس اور قدیم حکمتیہ تحقیق اس بات کی ایک اور کڑی ہے کہ جدید نیورو سائنس آہستہ آہستہ ان اصولوں کی تصدیق کر رہی ہے جنہیں مشرقی فلسفہ صدیوں سے بیان کرتا آیا ہے۔ ماضی میں مراقبہ کو محض روحانی یا مذہبی عمل سمجھا جاتا تھا مگر آج یہ ذہنی صحت، تعلیم، تھراپی اور حتیٰ کہ کارپوریٹ دنیا میں بھی جگہ بنا رہا ہے۔مراقبہ محض آنکھیں بند کر کے بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو دماغ کی فعالیت، ساخت اور توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ تاہم یہ سفر صبر، تسلسل اور سمجھ بوجھ کا متقاضی ہے۔ خاموشی میں بیٹھ کر ذہن کو سننا شاید آج کے شور یدہ دور میں سب سے بڑی سائنسی اور انسانی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
٭... یکم ستمبر 1930ء کو حیدرآباد دکن میں آنکھ کھولی۔٭...بجیا کا تعلق ہندوستان کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ ٭... 1948ء میں ان کا خاندان ہجرت کرکے کراچی آگیا۔٭... بجیا اور ان کے بہن بھائی( انور مقصود، زہرہ نگاہ، سارہ نقوی اور زبیدہ طارق)پاکستان میں علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہوئے اور نام و مقام بنایا۔٭...بجیا نے قلم اور ڈرامائی تشکیل کی بدولت خوب نام پایا اور اپنی فکر اور نئی نسل کی تربیت کیلئے اپنے مشفقانہ اور پیار بھرے انداز کیلئے مشہور ہوئیں۔٭... بجیا کے ناولوں کی تعداد آٹھ بتائی جاتی ہے اور ایک ہی ناول کی اشاعت ممکن ہوسکی۔ ٭... مقبول ڈراموں میں '' شمع،افشاں،عروسہ ،زینت، اساوری،گھر ایک نگر،آگہی،انا،کرنیں،بابر،تصویرِ کائنات،سسّی پنوں‘انار کلی شامل ہیں٭...ان کی سوانحِ عمری ''برصغیر کی عظیم ڈرامہ نویس فاطمہ ثریا بجیا کی کہانی‘‘ کے عنوان سے 2012ء میں شائع ہوئی۔٭...1997ء میں حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ''تمغہ حسن کارکردگی‘‘ اور 2012ء میں ''ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا۔٭... قومی اور بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کیے جن میں جاپان کا شاہی ایوارڈ بھی شامل ہے۔٭...صوبائی حکومت سندھ میں مشیر برائے تعلیم کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں۔٭... 22 مئی 2012 ء کو ان کی سوانح حیات ''آپ کی بجیا‘‘ شائع ہوئی، جسے سیدہ عفت حسن رضوی نے چھ سال کی تحقیق کے بعد شائع کیا۔٭... یکم ستمبر 2018ء گوگل نے ان کی 88ویں سالگرہ کے دن گوگل ڈوڈل ریلیز کیا۔٭... کینسر کے باعث 86 سال کی عمر میں 10 فروری 2016ء کو وفات پائی۔
7 سالہ جنگ کا خاتمہ10 فروری 1763ء کو یورپ کی بڑی طاقتوں کے درمیان پیرس معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے نتیجے میں سات سالہ جنگ ختم ہوئی۔ یہ جنگ 1756ء سے 1763ء تک جاری رہی اور اس میں برطانیہ، فرانس، سپین، پروشیا (جرمنی)اور دیگر یورپی طاقتیں شامل تھیں۔ اس جنگ کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے محاذ صرف یورپ تک محدود نہیں رہے بلکہ شمالی امریکا، کیریبین، افریقہ اور برصغیر تک پھیلے ہوئے تھے، اسی لیے اسے بعض مورخین دنیا کی پہلی عالمی جنگ بھی کہتے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ میں بھی نہایت اہم ثابت ہوا کیونکہ جنگ کے بعد برطانیہ نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے اپنی امریکی کالونیوں پر ٹیکس عائد کیے۔ انہی ٹیکسوں کے خلاف ردعمل نے بالآخر امریکی انقلاب (1776ء ) کو جنم دیا۔ ملکہ وکٹوریہ کی شادی10 فروری 1840ء کو برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی شادی جرمن شہزادے پرنس البرٹ سے ہوئی۔ البرٹ ایک تعلیم یافتہ، ذہین اور اصلاح پسند شخصیت تھے۔ شادی کے بعد انہوں نے ملکہ وکٹوریہ کے مشیر کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے صنعت، سائنس، تعلیم اور فنونِ لطیفہ کے فروغ پر خاص توجہ دی۔ 1851ء کی عظیم صنعتی نمائش انہی کی سرپرستی میں منعقد ہوئی جس نے برطانیہ کو صنعتی انقلاب کا عالمی رہنما ثابت کیا۔1861ء میں پرنس البرٹ کی وفات کے بعد ملکہ وکٹوریہ طویل عرصے تک سوگ میں رہیں۔ پیرس امن معاہدہ10 فروری 1947ء کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیرس امن معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدے اٹلی، رومانیہ، ہنگری، بلغاریہ اور فن لینڈ جیسے ممالک کے ساتھ کیے گئے، جو جنگ کے دوران نازی جرمنی کے اتحادی تھے۔ان معاہدوں کا بنیادی مقصد یورپ میں امن بحال کرنا اور جنگ کے بعد کے عالمی نظام کو منظم کرنا تھا۔ اٹلی کو اپنی نوآبادیات سے دستبردار ہونا پڑا، فوجی طاقت محدود کر دی گئی اور جنگی نقصانات ادا کرنے کا پابند بنایا گیا۔ اسی طرح دیگر ممالک پر بھی فوجی اور سیاسی پابندیاں عائد کی گئیں۔ان معاہدوں کے نتیجے میں یورپ کا سیاسی نقشہ ایک بار پھر تبدیل ہوا۔ قیدیوں کا تبادلہ10 فروری 1962ء کو سرد جنگ کے دوران امریکا اور سوویت یونین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔ اس تبادلے میں امریکی جاسوس طیارے U-2 کے پائلٹ گیری پاورز کو سوویت جاسوس روڈولف ایبل کے بدلے رہا کیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ شدید نظریاتی دشمنی کے باوجود دونوں سپر پاورز مکمل جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی راستے کھلے رکھنا چاہتی تھیں۔یہ تبادلہ سرد جنگ کی نفسیاتی جنگ، خفیہ سفارتکاری اور طاقت کے توازن کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں دشمنی کے باوجود مذاکرات کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ کمپیوٹر کی تاریخی فتح10 فروری 1996ء کو مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک انقلابی واقعہ پیش آیا جب IBM کے تیار کردہ سپر کمپیوٹرDeep Blue نے شطرنج کے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو ایک کھیل میں شکست دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی کمپیوٹر نے عالمی سطح کے انسانی چیمپئن کو شطرنج جیسے پیچیدہ ذہنی کھیل میں ہرایا۔شطرنج کو انسانی ذہانت، منصوبہ بندی اور تخلیقی سوچ کی علامت سمجھا جاتا تھا اور طویل عرصے تک یہ تصور عام تھا کہ مشین انسان کو اس میدان میں شکست نہیں دے سکتی۔Deep Blue کی فتح نے اس تصور کو چیلنج کر دیا۔
انہیں بجا طور پر انہیں نئے شعری معیار کا امام سمجھا جا سکتا ہے:دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
کسی شاعر کے فنِ شاعری اور شعری محاسن کا اندازہ اس کے اسلوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ نمائندہ اور عہد ساز شعرا کی شاعری میں ان کے عہد کا تہذیبی شعور جھلکتا ہے۔
عالمی کپ کے پہلے میچ میں شاہینوں کے ہاتھوں نیدر لینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست
پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کھیلنے سے انکار:پاکستان بائیکاٹ کے اعلان پر نظر ثانی کرے:سری لنکا کا پی سی بی کو خط،ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026ء میں بنگلہ دیش کیخلاف جانبدارانہ فیصلے کے بعد پاکستانی ردعمل نے آئی سی سی اور بھارت کی نیندیں اڑا دیں