راہِ ہدایت
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کیلئے ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کرجانا ہے ۔ (سورۃ النور آیت نمبر42)

فضل الرحمان مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کرانے کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار، رپورٹ وزیراعظم کو پیش


اسلام آباد: (دنیا نیوز) حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی۔



اشتہار

3بیلسٹک میزائل مار گرائے :سعودی فوجی اتحاد،ملبہ گرنے سے بچوں کی نرسری اور میڈیکل کمپلیکس کو نقصان ،شام کا سعودی عرب کی مدد کیلئے فوج بھیجنے سمیت مختلف فوجی آپشنز پر غور حوثیوں کی یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کے گرد گرفت مضبوط ،کسی دوسرے ملک پر حملے کیلئے فوج نہیں بھیجیں گے :ترکیہ،ترک پارلیمان میں مکہ دفاعی معاہدے کی منظوری کی تیاریاں

مشرق وسطٰی بحران سے شرح ترقی متاثر،3.6فیصد تک رہی، فیول سپورٹ صرف مستحقین تک محدود کی جائے ،ترسیلات زر نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رکھا مئی میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر رہی،پاکستان زرمبادلہ ذخائر بڑھائے ،توانائی شعبے میں واجبات وصولی کو بہترکریں،پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے :اعلامیہ

صوبے کا فیصلہ بند کمروں میں نہیں ہونا چاہئے : آفریدی، حکومتی کمیٹی کی مولانا سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش ملک انارکی سے بچانے کیلئے سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا :گوہر، بانی سے ملاقات ضروری :علامہ ناصر ، اچکزئی کا رابطہ

معاشی روابط کو فروغ دیں:زرداری،تجارت، سرمایہ کاری کی استعداد بڑھائیں:شہباز شریف،دفاعی تعاون مضبوط بنائیں گے :عاصم منیرمشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس 5سال کے وقفے سے نہیں 365دن کے اندر ہوگا:ڈار،15شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی:الزیانی

رانا ثنا اللہ نے مذاکراتی عمل اور فضل الرحمن سے ملاقات پر بریفنگ دی، آئینی و قانونی امور پر ہوم ورک مکمل ڈیجیٹل نیشن پروگرام کا نفاذ تیز کیا جائے ، ڈیجیٹائزیشن کاکرپشن و بدنظمی کے سد باب کیلئے اہم کردار:شہبازشریف

وزیراعلیٰ پنجاب سے عالمی ادارہ محنت کے وفد کی ملاقات، مزدوروں کی فلاح وبہبو د ، لیبر قوانین پر بھی تبادلہ خیال 8اکتوبر 2005کے زلزلہ متاثرین سے اظہار یکجہتی،قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے تمام ادارے متحرک ہیں :پیغام

قانونی اہلیت ہمدردی کی بنیاد پر ختم نہیں ہو سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ، وفاقی محتسب اور صدر کے احکامات کالعدم قرار پنشن کیلئے 15سال کی شراکت درکار،درخواست گزار کی بیمہ شدہ ملازمت چھ سال سے بھی کم تھی:تحریری حکمنامہ

قرض غربت ختم نہیں کرتا، ہنر اور کاروباری معاونت بھی ناگزیر،محروم طبقات کیلئے مالی مصنوعات بنانا ہونگی،خطابمرادشاہ کی ٹیکا وفد سے ملاقات،سندھ اور ترکیہ میں تعلیم ،صحت ، ثقافت و دیگر شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے پر اتفاق

متفرقات

بصارت :زندگی کو معنی عطا کرنے والی نعمت

بصارت :زندگی کو معنی عطا کرنے والی نعمت

عالمی یومِ بصارت (World Sight Day) ہر سال اکتوبر کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کا مقصد نابینا پن اور بصارت کی کمزوری جیسے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔ اس کا آغاز 2000 ء میں لائنز کلب انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کیSight FirstCampaign کے تحت کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے یو این کے ویژن 2020 کا حصہ بنا دیا گیا اور اب اس کا انتظام انٹرنیشنل ایجنسی فار دی پریوینشن آف بلائنڈنس (IAPB) کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔رواں برس یہ دن کل (8 اکتوبر) منایا جائے گا۔ اس سال عالمی مہم کا پیغام اس امر کے گرد گھومتا ہے کہ آنکھوں کی صحت ہر انسان کی ترجیح بنے اور دنیا میں ہر شخص کو ایسی نگہداشتِ چشم میسر ہو جو قابلِ رسائی، دستیاب اور قابلِ استطاعت ہو۔2.2 ارب انسان: ایک عدد نہیں، انسانی کہانیاں ہیںعالمی سطح پر کم از کم 2.2 ارب افراد کسی نہ کسی درجے کی بصری کمزوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان میں کم از کم ایک ارب ایسے افراد شامل ہیں جن کی بصری کمزوری کو روکا جا سکتا تھا یا جس کا مناسب علاج ابھی تک نہیں ہو سکا۔یہ اعداد بظاہر اعداد و شمار ہیں لیکن ان کے پیچھے کروڑوں انسانی داستانیں موجود ہیں۔ ان میں وہ بچہ بھی ہے جو کلاس روم میں بیٹھا بلیک بورڈ صاف نہیں دیکھ پاتا،وہ طالب علم بھی ہے جسے کتاب کے الفاظ دھندلے دکھائی دیتے ہیں،وہ مزدور ہے جس کی روزی روٹی اس کی آنکھوں کی صحت سے وابستہ ہے،وہ بزرگ بھی ہے جس کی دنیا موتیا یا کسی دوسری بیماری کے باعث آہستہ آہستہ دھندلا رہی ہے۔اور ذیابیطس کا وہ مریض ہے جسے شاید ابھی یہ احساس تک نہیں کہ اس کی بیماری اس کی بینائی کیلئے خاموش خطرہ بن سکتی ہے۔اس لیے بصارت کا مسئلہ صرف آنکھ کا مسئلہ نہیں یہ انسان کی پوری زندگی کا مسئلہ ہے۔خاموش بیماریاں اور ہماری بے خبریآنکھوں کی طب کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ بعض سنگین بیماریاں ابتدا میں کوئی واضح شواہد پیدا نہیں کرتیں۔مریض کو درد نہیں ہوتا، سرخی نہیں ہوتی، کبھی کبھی نظر بھی بظاہر ٹھیک محسوس ہوتی ہے، مگر بیماری اندر ہی اندر اپنا اثر مرتب کر رہی ہوتی ہے۔گلوکوما اس کی ایک اہم مثال ہے۔ اسی طرح ذیابیطس سے وابستہ آنکھوں کی پیچیدگیاں بھی بعض اوقات خاموشی سے پیش رفت کرتی رہتی ہیں۔یہاں ایک بنیادی طبی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ نظر کا ٹھیک محسوس ہونا، آنکھ کے مکمل طور پر صحت مند ہونے کی ضمانت نہیں۔ اسی لیے آنکھوں کا معائنہ صرف اس وقت نہیں ہونا چاہیے جب نظر کم ہو جائے۔ بعض اوقات بروقت معائنہ اس بیماری کو اس وقت پکڑ لیتا ہے جب مریض کو خود اس کی موجودگی کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔بچوں کی آنکھیں قوم کے مستقبل کا آئینہآج کا بچہ کل کا معمار ہے لیکن اگر اس کے سامنے دنیا ہی دھندلی ہو تو اس کے خوابوں کی تعمیر کیسے  مکمل ہوگی؟بچوں کی بصارت کو معمولی مسئلہ سمجھنا سنگین غفلت ہو سکتی ہے۔اگر بچہ کتاب کو بہت قریب لا کر پڑھتا ہے، ٹی وی یا موبائل سکرین کے قریب بیٹھتا ہے، بار بار آنکھیں ملتا ہے، سر درد کی شکایت کرتا ہے، آنکھیں سکیڑ کر دور کی چیزیں دیکھتا ہے یا کلاس روم میں بورڈ دیکھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو اسے محض عادت قرار دے کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت معائنہ بعض اوقات بچے کے تعلیمی سفر کا رخ بدل سکتا ہے۔ایک درست چشمہ صرف نظر نہیں سنوارتا، بعض اوقات بچے کا اعتماد بھی واپس لاتا ہے۔ یہاں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کی بصارت کو تعلیمی صحت کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ڈیجیٹل عہد اور آنکھوں کا نیا امتحانہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ سکرین کے اندر آباد ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات نے تعلیم، کاروبار اور رابطے کو آسان بنایا ہے، مگر ان کا غیر متوازن استعمال آنکھوں کی تھکن اور دیگر بصری شکایات کو بڑھا سکتا ہے۔مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ غیر متوازن طرزِ استعمال ہے۔ہمیں بچوں اور بڑوں دونوں میں سکرین کے استعمال کے دوران مناسب وقفوں، مناسب فاصلہ، مناسب روشنی اور مجموعی طور پر صحت مند بصری عادات کو فروغ دینا ہوگا۔آنکھ محض جسم کا ایک عضو نہیں یہ یادوں کا آئینہ ہے،یہ خوابوں کا دریچہ ہے،یہ علم تک رسائی کا وسیلہ ہے،یہ انسان کے چہرے پر لکھی ہوئی محبت پڑھنے کی صلاحیت ہے۔ایک بچے کیلئے آنکھ مستقبل کا راستہ ہے۔ایک نوجوان کیلئے امکانات کی دنیا ہے۔ایک بزرگ کیلئے ماضی کی محفوظ تصویریں ہیں۔اور ایک ڈاکٹر کیلئے آنکھ انسانی جسم کی پیچیدہ ساخت، لطیف توازن اور حیرت انگیز حیاتیاتی حکمت کی ایک زندہ مثال ہے۔اس لیے بصارت کی حفاظت صرف طب کا موضوع نہیں، یہ انسانی وقار کا سوال ہے۔ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کرنی ہے جہاں کوئی انسان محض اس لیے اپنی بینائی سے محروم نہ ہو کہ اسے بروقت تشخیص، مناسب چشمہ یا ضروری علاج میسر نہ آ سکا،کیونکہ آنکھیں سلامت ہوں تو منظر باقی رہتے ہیں،بصارت سلامت ہو تو خواب باقی رہتے ہیں،اور خواب باقی ہوں تو زندگی کا سفر روشن رہتا ہے۔

فولاد سے پائیدار سڑکیں

فولاد سے پائیدار سڑکیں

ماحول کے ساتھ انسانی جانیں بھی بچا سکتی ہیںدنیا بھر میں فولاد کی صنعت معاشی ترقی اور جدید تعمیرات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے لیکن اس صنعت کے ساتھ ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ فولاد بنانے کے عمل میں بڑی مقدار میں ایک ضمنی صنعتی مادہ پیدا ہوتا ہے جسےSteel slag (سٹیل سلیگ) کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اسے صنعتی فضلے کے طور پر ذخیرہ یا محدود پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے اسی بظاہر بے کار مادے کے لیے ایک ایسا استعمال دریافت کیا ہے جو مستقبل میں سڑکوں کی تعمیر کو زیادہ پائیدار بنانے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ سٹیل سلیگ کو خصوصی قسم کے اسفالٹ کے ساتھ ملا کر سڑکیں تیار کی جا سکتی ہیں جو روایتی سڑکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور دیرپا ہوں گی۔ اس طریقے کا مقصد صرف صنعتی فضلے کو دوبارہ استعمال کرنا نہیں بلکہ سڑکوں کی بار بار مرمت، ٹریفک کے اضافی دباؤ اور گاڑیوں کے ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو بھی کم کرنا ہے۔سٹیل سلیگ سڑکوں کیلئے ؟سٹیل سلیگ فولاد بنانے کے دوران پیدا ہونے والا مادہ ہے۔ اس میں مختلف معدنی اجزا اور دھاتی آکسائیڈز شامل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک خاص خصوصیت اس کی مضبوطی ہے جس کی وجہ سے یہ سڑکوں میں استعمال ہونے والے روایتی مواد کا متبادل بن سکتا ہے۔ محققین نے اس صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے سٹیل سلیگ کو epoxy-modified asphalt binderکے ساتھ ملایا جس سےSteel Slag Epoxy Asphalt Mixture (SEAM) تیار ہوتا ہے۔ اس مرکب کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ اپاکسی سلیگ کے ذرات اور اسفالٹ کے درمیان مضبوط تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سڑک زیادہ دیر تک اپنی ساخت برقرار رکھ سکتی ہے اور نمی، بھاری ٹریفک اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے نقصان کے خلاف بہتر مزاحمت دکھا سکتی ہے۔کم مرمت، کم ایندھن ،کم آلودگیاس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سائنسدانوں نے صرف سڑک بنانے کے دوران ہونے والے اخراج کا جائزہ نہیں لیا بلکہ سڑک کی پوری زندگی کو مدنظر رکھا۔ روایتی سڑک وقت کے ساتھ خراب ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور دیگر نقصانات پیدا ہوتے ہیں۔SEAM کی زیادہ پائیداری اس مسئلے کو کم کر سکتی ہے۔ اربوں ٹن کاربن میں کمی کا امکانتحقیق میں چین کے شہروں میں سڑکوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو مثال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں نے یہ جانچنے کے لیے مختلف منظرنامے بنائے کہ اگر موجودہ شہری اسفالٹ سڑکوں کے 25، 50، 75 یا 100 فیصد حصے کو SEAM سے تبدیل کیا جائے تو کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق 25 سے 100 فیصد تک تبدیلی کے مختلف منظرناموں میں 431 ملین سے 1.741 ارب ٹن گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا تخمینہ لگایا گیا۔ اسی طرح 303 ملین سے 1.229 ارب کلوگرام PM2.5 کی کمی کا اندازہ سامنے آیا۔ PM2.5 انتہائی باریک فضائی ذرات ہیں جو انسانی صحت کے لیے خطرناک سمجھے جاتے ہیں ۔ معاشی اور ماحولیاتی صلاحیت عملی چیلنجزاس طریقے کا فائدہ صرف ماحول تک محدود نہیں، سڑکوں کی کم مرمت، طویل سروس لائف اور ٹریفک و ایندھن سے متعلق فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے میں کچھ رکاوٹیں بھی ہیں۔ SEAM روایتی اسفالٹ کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہے جبکہ اپاکسی موڈیفائیڈ اسفالٹ کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ نئی SEAM سڑک کو مکمل مضبوطی حاصل کرنے کے لیے تقریباً سات دن تک حفاظت درکار ہوتی ہے جبکہ عام اسفالٹ سڑک نسبتاً جلد ٹریفک کے لیے کھولی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سٹیل سلیگ ہر علاقے میں یکساں مقدار میں دستیاب نہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق ان اضافی اخراجات کے باوجود مجموعی ماحولیاتی فائدہ مثبت ہو سکتا ہے۔سٹیل سلیگ کو سڑکوں میں استعمال کرنا صنعتی فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرنے کا ایک مؤثر راستہ بن سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ لیپانٹو 7 اکتوبر 1571ء کو بحیرہ روم کی تاریخ کی ایک انتہائی اہم بحری جنگ جنگِ لیپانٹو لڑی گئی۔ یہ جنگ موجودہ یونان کے قریب خلیجِ پاتراس میں سلطنتِ عثمانیہ اور ہولی لیگ کے مشترکہ بحری بیڑے کے درمیان ہوئی۔ ہولی لیگ میں سپین، وینس، پوپ کی ریاست اور دیگر یورپی طاقتیں شامل تھیں، جبکہ عثمانی بحری بیڑے کی قیادت علی پاشا کر رہے تھے۔ 7 اکتوبر کو دونوں بحری بیڑے آمنے سامنے آئے اور کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔ اس دور میں بحری جنگیں بڑی حد تک چپوؤں سے چلنے والے جہازوں پر لڑی جاتی تھیں، اس لیے لیپانٹو کو اس طرز کی آخری عظیم بحری لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہولی لیگ کو فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی اور عثمانی بیڑے کے بہت سے جہاز تباہ یا قبضے میں لے لیے گئے۔جیمز کک نے نیوزی لینڈ کو دیکھا 7 اکتوبر 1769ء کو برطانوی بحری مہم کے سربراہ کیپٹن جیمز کک نے اپنی جہازHMS Endeavourسے نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کو دیکھا۔ کک اس وقت بحرالکاہل میں ایک تحقیقی اور جغرافیائی مہم پر تھے۔ ان کا مقصد جنوبی بحرالکاہل کے ان علاقوں کا جائزہ لینا تھا جن کے بارے میں یورپی دنیا میں اس وقت بہت کم معلومات موجود تھیں۔ نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کا نظر آنا ان کی مہم کا ایک اہم مرحلہ تھا۔کک کے سفر نے نیوزی لینڈ کے ساحلوں کی یورپی نقشہ سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی مہم کے بعد نیوزی لینڈ کے جغرافیہ، ساحلی علاقوں اور سمندری راستوں کے بارے میں یورپی معلومات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اٹلی کے بحری جہاز کا اغوا 7 اکتوبر 1985ء کو اٹلی کے مسافر بردار بحری جہازAchille Lauro کو چار مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ یہ جہاز اس وقت سکندریہ، مصر سے اسرائیل کے شہر اشدود کی جانب سفر کر رہا تھا۔ اغوا کاروں کا تعلق فلسطین لبریشن فرنٹ سے تھا ۔ اغوا کاروں نے مسافروں اور عملے کو یرغمال بنا کر فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات پیش کیے۔ بحری جہاز کے اغوا کا مسئلہ7 سے 10 اکتوبر 1985ء تک جاری رہا۔ بعد کے برسوں میں مسافر بردار بحری جہازوں اور بین الاقوامی سفر کی سکیورٹی سے متعلق پالیسیوں میں ایسے واقعات کے تجربات کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ مشرقی جرمنی کا قیام دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی اتحادی طاقتوں کے قبضے میں مختلف علاقوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ مغربی علاقوں میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا اثر تھا جبکہ مشرقی جرمنی سوویت قبضے کے علاقے میں شامل تھا۔ بڑھتی ہوئی سرد جنگ کے ماحول میں جرمنی کا سیاسی اور نظریاتی اختلاف مزید گہرا ہوتا گیا۔ 21 ستمبر 1949ء کو مغربی علاقوں میں وفاقی جمہوریہ جرمنی (مغربی جرمنی) قائم ہوئی، چند ہفتوں بعد 7 اکتوبر کو سوویت قبضے کے علاقے میں جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک قائم کی گئی۔ نئے ملک میں سوویت سیاسی اور معاشی نظام کا گہرا اثر تھا ۔ مشرقی جرمنی تقریباً 41 برس تک موجود رہا۔ بالآخر 1989ء میں دیوار برلن کے انہدام اور جرمنی کے سیاسی اتحاد کی راہ ہموار ہوئی اور 3 اکتوبر 1990ء کو مشرقی و مغربی جرمنی دوبارہ متحد ہو گئے۔ لونا 3 نے چاند کی تصاویر لیں7 اکتوبر 1959ء کو پہلی مرتبہ چاند کے اس حصے کی تصاویر لی گئیں جو زمین سے براہِ راست نظر نہیں آتا۔ یہ تاریخی کامیابی سوویت خلائی تحقیقاتی مشن لونا3 نے حاصل کی۔ اس سے پہلے انسان صدیوں سے چاند کا صرف وہی رخ دیکھتے آئے تھے جو ہمیشہ زمین کی طرف رہتا ہے۔ چاند کی گردش کی خاصیت کی وجہ سے اس کا ایک ہی رخ مسلسل زمین کی طرف رہتا ہے، اس لیے دور والے حصے کے بارے میں براہِ راست تصویری معلومات موجود نہیں تھیں۔ لونا 3 نے 7 اکتوبر کو چاند کے دور والے روشن حصے کی تصاویر بنائیں۔ مجموعی طور پر 29 تصاویر بنائی گئیں جنہوں نے چاند کے تقریباً 70 فیصد دور والے حصے کو کور کیا۔ ان تصاویر سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ چاند کا دور والا حصہ اس رخ سے کافی مختلف ہے جو زمین سے نظر آتا ہے۔

کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟

کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟

زلزلے ہمیشہ سے زمین کے سب سے پراسرار اور تباہ کن قدرتی مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرینِ ارضیات بتاتے ہیں کہ ان کی بنیادی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور ان کے درمیان جمع ہونے والا بے پناہ دباؤ ہے، لیکن ایک عرصے سے سائنسدان یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ بعض مخصوص قسم کی زلزلہ نما سرگرمیوں کا تعلق سورج اور چاند کی کششِ ثقل سے بھی ہو سکتا ہے۔پیرس کی پی ایس ایل یونیورسٹی میں یشو ژو (Yishuo Zhou) کی قیادت میں ارضیاتی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق سورج اور چاند زمین پر صرف سمندری مدوجزر ہی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کی کششِ ثقل زمین کی ٹھوس چٹانوں اور زمینی پرت کو بھی معمولی مقدار میں کھینچتی اور دباتی ہے۔ اگرچہ یہ دباؤ انتہائی کم ہوتا ہے تاہم بعض مخصوص حالات میں یہ پہلے سے دباؤ کا شکار فالٹ کو حرکت دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے طریقہ کار کی نشاندہی کی ہے جسے گونج (Resonance) کہا جاتا ہے، یہی ممکنہ طور پر اس معمولی دباؤ کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔سورج اور چاند زمین کی ٹھوس چٹانوں کو متاثر کرتے ہیںعام طور پر جب ہم مدوجزر کا ذکر کرتے ہیں تو ذہن میں سمندر کا پانی آتا ہے۔ چاند کی کششِ ثقل سمندروں کے پانی کو اپنی طرف کھینچتی ہے، جس کے نتیجے میں مدوجزر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی کشش زمین کی ٹھوس پرت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ سورج بھی اپنی بے پناہ کششِ ثقل کے باعث زمین پر اسی نوعیت کے اثرات مرتب کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق سورج اور چاند کی وجہ سے زمین کی پرت پر پیدا ہونے والا دباؤ عام طور پر چند کلوپاسکل کے برابر ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بہت معمولی مقدار ہے حتیٰ کہ اسے ایک ہلکے ہاتھ سے دبانے کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بعض فالٹس ایسے ہوتے ہیں جو پہلے ہی ٹیکٹونک قوتوں کے باعث انتہائی نازک حالت میں پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فالٹ پر ایک معمولی اضافی دباؤ بھی حرکت کا آغاز کر سکتا ہے۔ معمولی دباؤ کیسے بڑا اثر پیدا کر سکتا ہے؟پی ایس ایل یونیورسٹی پیرس کے ماہرین کی اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلوResonance کا تصور ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے جھولے کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اگر کسی جھولے کو بے ترتیب انداز میں دھکا دیا جائے تو اس کی حرکت بہت زیادہ نہیں بڑھے گی لیکن اگر ہر بار بالکل مناسب وقت پر دھکا دیا جائے تو چھوٹا سا دھکا بھی جھولے کی حرکت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق فالٹ لائن کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ ہر فالٹ کی اپنی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں، جن میں چٹانوں کے درمیان رگڑ، ان کی حرکت کی رفتار اور رابطے کی حالت شامل ہیں۔ تحقیق میں ایک ایسے ماڈل کا استعمال کیا گیا جس میں فالٹ کے ایک چھوٹے حصے کو سپرنگ اور بلاک کے نظام کی طرح تصور کیا گیا۔اگر مدوجزری دباؤ کی شدت اور اس کا دورانیہ فالٹ کے قدرتی ردِعمل کے وقت کے ساتھ مطابقت پیدا کر لے تو معمولی سا دباؤ بھی فالٹ کی حرکت کو بڑھا سکتا ہے۔اس تحقیق کا تعلق خاص طور پر سست زلزلوں سے ہے۔ عام زلزلوں کے برعکس سست زلزلوں میں توانائی طویل عرصے میں خارج ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ حرکت اتنی آہستہ ہوتی ہے کہ سطحِ زمین پر موجود انسان اسے محسوس ہی نہیں کر پاتے۔ نئی کمپیوٹر ماڈلنگ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ بعض فالٹس میں یہ تعلق کیوں پیدا ہوتا ہے تاہم ہر فالٹ کا ردِعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بعض جگہ معمولی مدوجزری قوت صرف آہستہ حرکت پیدا کر سکتی ہے جبکہ کسی دوسرے فالٹ میں مخصوص شدت اور وقت کے ساتھ یہی قوت نسبتاً تیز حرکت کا سبب بن سکتی ہے۔ کیا اس دریافت سے بڑے زلزلوں کی پیش گوئی ممکن ہو جائے گی؟یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے لیکن اس کا جواب فی الحال محتاط انداز میں دینا ضروری ہے۔یہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ پورے چاند، نئے چاند یا کسی خاص دن کو لازماً بڑا زلزلہ آئے گا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ سورج اور چاند بڑے تباہ کن زلزلوں کے بنیادی اسباب ہیں۔یہ تحقیق دراصل یہ بتاتی ہے کہ پہلے سے دباؤ میں موجود بعض فالٹس پر مدوجزری قوت ایک محرک کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر سائنسدان زلزلہ نما سرگرمی اور مدوجزری چکروں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو مستقبل میں فالٹس کی خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں زلزلہ ریکارڈ کرنے والے آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مدوجزری سرگرمی کے ساتھ ملا کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی فالٹ کی رگڑ کتنی مضبوط ہے اور اسے حرکت شروع کرنے کے لیے کتنی قوت درکار ہوتی ہے۔ یہ معلومات بالخصوص ان علاقوں کے لیے اہم ہو سکتی ہیں جہاں بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے کے نیچے دھنس رہی ہیں اور جہاں مستقبل میں بڑے میگا تھرسٹ زلزلوں کا خطرہ موجود ہے۔

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔

 ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر تنازع

ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر تنازع

نئے صوبوں کے معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس کی منطق سمجھ میں نہیں آتی، اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھر واسیوں کے حوالے کردیا جائے۔

خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟

خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟

خیبر پختونخوا کا سیاسی درجہ حرارت گزشتہ ہفتے سے مسلسل بلند ہے۔ چار اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جنوبی علاقوں سے ہوتا ہوا شمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔کرک اورکوہاٹ سے گزر کر آج یہ خیبرکے راستے پشاورپہنچے گا۔

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز