راہِ ہدایت
اگر اللہ تعالیٰ رزق روک لے تو بتائوکون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا؟ یہ کافر سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ (سورۃ الملک آیت نمبر21)

واشنگٹن کے لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے: محسن رضائی


تہران: (دنیا نیوز) ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے لب و لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔



اشتہار

ایرانی سپریم لیڈر کی فوجی سربراہوں سے پہلی ملاقات ، فوجی سربراہ جنرل علی عبداللہی، آرمی چیف امیر حاتمی ، پاسداران کے کمانڈر احمد وحیدی سمیت اعلیٰ فوجی حکام کی شرکتایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کی خبریں قیاس آرائیاں،امریکی نائب صدر کے پیغام کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا،اب کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی:ایرانی وزیر خارجہ

خیبرپختونخوا میں 13سال صرف دعوے ،عوامی خدمت نہیں ہوئی،دہشتگرد ی کیخلاف ملکر مقابلے کی دعوت دی،بات نہ سنی گئی،بروقت فیصلہ نہ کرتے تو مزید نقصان ہوتا : وزیراعظمصوبے کو 800ارب ملے ، کتنے سیف سٹی منصوبے بنائے ،80ارب بھی لگتے تو کے پی پولیس اسلحے سے لیس،انتہائی تربیت یافتہ ہوتی،ن لیگ خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب

عدالتی فیصلوں کو حتمی حیثیت دینا نظامِ انصاف کیلئے ناگزیر،ایک ہی تنازع مختلف فورم پر لے جاناقانون کی منشا کے منافی فراڈ، غلطی یا دائرہ اختیار کی کمی ثابت ہوئے بغیر حتمی فیصلہ نہیں کھولا جاسکتا:جسٹس روزی،جسٹس ارشد حسین کا فیصلہ

وزیراعلیٰ کی اربن ویسٹ واٹر گورننس پراجیکٹ کیلئے فرانسیسی سرمایہ کاروں کو مواقع سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش بچت کی عادت بہتر اور محفوظ مستقبل کی بنیاد،ماحول دوست اور پائیدار شہری ترقی وقت کی اہم ضرورت:وزیراعلیٰ

نئے انتظامی یونٹس کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جارہا، اسی وجہ سے حریفوں کے لہجے سخت ہورہے ،وفاقی وزیر صحتعوام بددل ،حکومت غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتی رہتی ،سندھ حکومت ہمارا وجودتسلیم کرنے کو تیار نہیں،کاٹی میں خطاب

پنجاب، سندھ کو پانی کے خدشات لاحق: ملک محمد احمد، بھارت سے قانونی جنگ جاری رکھیں گے :منصور اعوان ہمیں اپنے حصے کا پانی چاہیے :نثار کھوڑو، مزمل حسین، مہر علی، امجد سعید، سہیل وڑائچ ودیگر کا بھی اظہار خیال

کمپنیوں پر ادائیگی لازم، تاخیر سے لیوی جمع کرانے پرچھ ماہ کے کیبور کا ڈیڑھ گنا یا کم از کم بارہ فیصد سالانہ اضافی سرچارج عائد ہوگاعدم ادائیگی پر لائسنس معطل یا منسوخ ، ڈائریکٹرز اور پارٹنرز بھی سزا کے مستحق :قومی اسمبلی میں پیش ترمیمی بل کے مندرجات

لاہور(نمائندہ خصوصی)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے ہماری وفاداری غیر مشروط ہے، بلوچستان کے حقیقی مسائل اور احساس محرومی کو بنیاد بنا کر گمراہ کن بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔

متفرقات

غازی علم دین شہید:ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجو

غازی علم دین شہید:ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجو

برصغیر کی تاریخ میں بعض واقعات محض ماضی کا حصہ بن کر نہیں رہتے بلکہ اجتماعی یادداشت، مذہبی جذبات اور قومی شعور میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ غازی علم دین شہید کی داستان بھی ایک ایسا ہی تاریخی باب ہے جس میں عقیدت، نوآبادیاتی نظامِ انصاف، عوامی احتجاج اور تاریخ کے مختلف زاویے ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی زندگی اور مقدمے سے متعلق تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس گہرا ہوتا ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کیلئے صرف واقعات کا بیان کافی نہیں بلکہ ان کے پس منظر، محرکات اور نتائج کا سنجیدہ جائزہ بھی ضروری ہے۔غازی علم دین شہید کا نام آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی یادداشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کی داستان ایک طرف رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ سے مسلمانوں کی غیر معمولی محبت اور وابستگی کی عکاسی کرتی ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ مذہبی جذبات، قانون اور انصاف کے درمیان تعلق کو کس طرح سمجھا جائے۔ اس تاریخ کو خلوص، احترام اور فکری دیانت کے ساتھ پڑھنا ہی اس کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کا راستہ ہے۔توہین آمیز کتاببیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں برصغیر برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کے زیر اثر تھا۔ آزادی کی تحریک مختلف صورتوں میں آگے بڑھ رہی تھی۔ اسی ماحول میں مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے بھی شدت اختیار کی۔اس زمانے میں شائع ہونے والی ایک توہین آمیز کتاب نے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا۔ یہ کتاب ناشر مہاشے راجپال سے منسوب تھی۔ مسلمانوں کی جانب سے اس پر احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ راجپال کیخلاف ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ تک پہنچا جہاں مئی 1927ء میں سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس عدالتی فیصلے سے مسلمانوں کے مختلف حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ عام گھرانے سے تاریخ کے مرکز تکغازی علم دین 4 دسمبر 1908ء کو لاہور کے سریانوالہ بازار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں طالع مند لکڑی کے کام سے وابستہ تھے جبکہ والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ ان کے بڑے بھائی محمد دین اور بہن معراج بیگم تھیں۔ خاندانی روایات کے مطابق ان کا تعلق شیخو جٹ برادری سے تھا اور خاندان کو احتراماً ''میاں‘‘ کہا جاتا تھا۔ان کی ابتدائی تعلیم ایک مدرسے میں ہوئی جہاں انہوں نے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ والد نے انہیں خاندانی پیشہ بھی سکھایا اور وہ لکڑی کے کام میں عملی مہارت حاصل کرنے لگے۔ شہر میں مذہبی ادارے، سیاسی تحریکیں، اخبارات اور عوامی اجتماعات معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ایسے ماحول میں ایک عام نوجوان بھی اپنے گردوپیش کے واقعات سے متاثر ہوسکتا تھا۔ 6 اپریل 1929ء کا واقعہگستاخ راجپال کی عدالتی بریت کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مذہبی علما اور سیاسی رہنما عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے اور اس امر پر تشویش ظاہر کرتے کہ موجودہ قانونی نظام مذہبی جذبات کے تحفظ کیلئے ناکافی ہے۔ اس سے قبل غازی عبدالعزیز خان اور غازی خدا بخش نے راجپال پر حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں دونوں کو طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ غازی علم دین نے لاہور میں راجپال کیخلاف ہونے والے احتجاجی اجتماعات اور تقاریر کا اثر قبول کیا۔ ان روایات کے مطابق، بعض مقررین نے مجمع سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص رسول اکرمﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کیخلاف قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں؟ 6اپریل 1929ء کوغازی علم دین راجپال کی دکان پر گئے اور چھری کے وار سے اس کا کام تمام کردیا۔ انہیں گرفتار کرلیا گیا اور ان کیخلاف قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔ مقدمہ اور قانونی دفاعغازی علم دین کے مقدمے کی کارروائی تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ 25 اپریل 1929ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ای ایس لیوس کی عدالت میں ان کیخلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔ 22 مئی 1929ء کو عدالت نے سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی کوشش کی گئی اور قائد اعظم محمد علی جناح اس قانونی کارروائی سے وابستہ ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق قائد اعظم نے غازی علم دین کو ایسا دفاع اختیار کرنے کا مشورہ دیا جس سے ان کی جان بچنے کا امکان پیدا ہوسکتا تھالیکن انہوں نے اپنے عمل سے لاتعلقی ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے غازی علم دین کی سزائے موت برقرار رکھی۔ مزید قانونی کوششوں کیلئے علم دین ڈیفنس کمیٹی قائم ہوئی اور مالی وسائل جمع کیے گئے۔ بعض روایات کے مطابق برطانیہ کی پریوی کونسل میں اپیل کیلئے بھی رقم خرچ کی گئی لیکن ان کوششوں سے سزا تبدیل نہ ہوسکی۔میانوالی جیل اور وصیت 31اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں غازی علم دین کی سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان کی آخری ملاقات، وصیت اور آخری لمحات سے متعلق تفصیلات اس زمانے کے اخبارات اور بعد کی روایات میں محفوظ ہیں۔ روزنامہ ''انقلاب‘‘ میں ان کی والدہ سے ملاقات کے حوالے سے ایک خواب کا ذکر ملتا ہے۔ ان سے منسوب وصیت میں نماز، نیک کردار، ذاتی اعمال کی جوابدہی اور خاندان کیلئے نصیحتوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔غازی علم دین کی شہادت کے بعد انہیں میانوالی میں امانتاًدفن کیا گیا۔اس دوران لاہور میں میت واپس لانے اور نمازِ جنازہ ادا کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اس معاملے نے عوامی احتجاج کو ایک نئی جہت دی اور مذہبی و سیاسی شخصیات اس کی پیروی کیلئے سامنے آئیں۔لاہور واپسی اور تاریخی جنازہغازی علم دین کا جسد خاکی لاہور واپس لانے کی کوششوں میں علامہ محمد اقبالؒ، سر محمد شفیع، مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد بخش مسلم اور دیگر اہم شخصیات کے نام نمایاں ہیں۔ اس سلسلے میں قائم کمیٹی نے برطانوی حکام سے اجازت حاصل کرنے کی سبیل کی۔ حکام کو خدشہ تھا کہ بدامنی پیدا ہوسکتی ہے تاہم یقین دہانیوں کے بعد اجازت مل گئی۔14 نومبر 1929ء کو غازی علم دین شہید کی قبر کشائی کی گئی اور ان کے جسد خاکی کو دو روزہ سفر کے بعد لاہور لایا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد وزیر خان کے امام محمد شمس الدین نے پڑھائی۔ خاندانی روایت کے مطابق پورے برصغیر سے لوگ جنازے میں شرکت کیلئے لاہور پہنچے ۔ علامہ اقبالؒ کی جنازے میں شرکت اور ان سے منسوب یہ جملہ بھی مشہور ہے: ''اسی گلاں ای کردے رہ گئے، ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا‘‘۔ یہ جنازہ محض ایک فرد کی تدفین کا موقع نہیں تھا بلکہ مذہبی وابستگی، اجتماعی جذبات اور نوآبادیاتی دور کے سیاسی ماحول کی علامت بن گیا۔ اسی عوامی یادداشت نے غازی علم دین شہید کے نام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔تاریخ سے حاصل ہونے والا سبقغازی علم دین شہید کی داستان کا مطالعہ کرتے ہوئے مذہبی عقیدت، تاریخی حقائق اور قانونی اصولوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ان کیلئے مسلمانوں کی محبت اور ان کی تاریخی یادداشت میں مقام ایک حقیقت ہے ۔ اس واقعے کو سمجھنے کیلئے مقدمے کی کارروائی، اس دور کے حالات اور قانون کے تقاضوں کا جائزہ بھی ناگزیر ہے۔غازی علم دین شہید کا واقعہ آج بھی ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ مذہبی احترام اور انصاف کے تقاضوں کو معاشرے میں کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔ ماضی کے واقعات کو جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ علمی دیانت سے سمجھنا ہی تاریخ سے حقیقی سبق حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی رویہ ہمیں اپنے ماضی کی قدر کرنے، اس کے پیچیدہ پہلوؤں کو سمجھنے اور مستقبل کیلئے زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ فکر اختیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

ہر سال 31اکتوبر کو کفایت شعاری کا عالمی دن منایا جاتا ہےزندگی کی حقیقی خوشحالی محض دولت کے انبار جمع کرنے یا نمود و نمائش پر بے دریغ رقم خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ محدود وسائل کو سمجھ داری سے استعمال کرنے، غیر ضروری اخراجات سے بچنے اور مستقبل کی ضروریات کیلئے بچت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں مہنگائی، معاشی ناہمواری اور قدرتی وسائل کی کمی نے انسان کو کئی چیلنجز سے دوچار کر رکھا ہے، وہاں کفایت شعاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کفایت شعاری کا عالمی دن اسی سوچ کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے کہ بہتر زندگی گزارنے کیلئے بے تحاشا خرچ کرنا ضروری نہیں، بلکہ سادہ طرزِ زندگی بھی خوشحالی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ کفایت شعاری کا عالمی دن یعنی ''ورلڈ سیونگز ڈے‘‘دنیا بھر میں31اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد آمدن سے زیادہ اخراجات پر قابو پانا اور بچت کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1924ء میں ''ورلڈ سوسائٹی آف سیونگ بینکس‘‘ کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ لوگوں میں کفایت شعاری اور پیسے جمع کرنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔ اٹلی کے شہر میلان کے باسیوں نے 31 اکتوبر 1924ء کو پہلی بار اس دن کو منانے کا اعلان کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔کفایت شعاری سے مراد ضرورت کے مطابق خرچ کرنا، فضول خرچی سے اجتناب کرنا اور اپنی آمدنی و وسائل کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ موجودہ ضروریات بھی پوری ہوں اور مستقبل کیلئے بھی کچھ محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تصور کنجوسی سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ کنجوسی میں انسان جائز ضروریات پوری کرنے سے بھی گریز کرتا ہے، جبکہ کفایت شعاری میں ضروری اخراجات پورے کرتے ہوئے غیر ضروری خرچ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انفرادی زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔کفایت شعاری کا تعلق صرف پیسے کی بچت سے نہیں، بلکہ وقت، توانائی، پانی، بجلی، خوراک اور دیگر قدرتی وسائل کے درست استعمال سے بھی ہے۔ گھروں میں غیر ضروری روشنیاں بند رکھنا، پانی ضائع نہ کرنا، ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرنا، قابلِ استعمال اشیا کو بے جا پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمال میں لانا اور خریداری سے پہلے اپنی ضروریات کا جائزہ لینا ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی سطح پر ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی طرح اشیائے صرف کی غیر ضروری خریداری سے گریز نہ صرف گھریلو بجٹ کو متوازن رکھتا ہے بلکہ وسائل کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں کفایت شعاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ محدود آمدنی میں گھر چلانے والے افراد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات کی منصوبہ بندی کریں، آمدنی اور خرچ کا حساب رکھیں اور غیر ضروری خریداری سے اجتناب کریں۔ اشیائے ضروریہ کی فہرست بنا کر خریداری کرنا، غیر ضروری قرضوں سے بچنا اور ممکنہ حد تک ہنگامی حالات کیلئے رقم محفوظ رکھنا مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔کفایت شعاری کا بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالنا کافی نہیں۔ حکومتی اداروں، کاروباری تنظیموں اور دیگر قومی اداروں کو بھی وسائل کے مؤثر استعمال کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی، توانائی کی بچت، سرکاری عمارتوں میں بجلی اور پانی کا محتاط استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ایسے اقدامات ہیں جن سے قومی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی اعتدال، سادگی اور فضول خرچی سے اجتناب پر زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ''اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ (سورۃ الاعراف: 31)۔ یہ تعلیم انسان کو یاد دلاتی ہے کہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا درست ہے، لیکن ان کا بے جا استعمال اور اسراف مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اعتدال پر مبنی زندگی انسان کو مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور ذمہ داری کا احساس بھی فراہم کرتی ہے۔کفایت شعاری کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وسائل کی قدر کرنا، ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزارنا کامیاب معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی زندگی میں اعتدال کو اپنائے، خاندان غیر ضروری اخراجات کم کریں اور ادارے قومی وسائل کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کفایت شعاری کو محض ایک دن کی یاد دہانی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے انفرادی عادت، اجتماعی رویے اور قومی طرزِ فکر کا حصہ بنایا جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

فضائی سفر کا سیاہ بابمیٹرو جیٹ ایئر لائنز کی پرواز 9268، 2015ء میں آج کے روز مصر کے شمالی جزیرہ نما سینا کے اوپر پرواز کے دوران دہشت گردانہ بم دھماکے کا نشانہ بن گئی۔ اس انتہائی ہولناک فضائی حادثے اور دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں طیارے پر سوار عملے کے ارکان سمیت تمام 224 مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ یہ واقعہ اس خطے اور بین الاقوامی ہوابازی کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔سوئز نہرکی بندش31اکتوبر1956ء کو مصری صدر جمال ناصر نے سوئز نہرکے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت بند کر دی۔ جس پربرطانیہ اور فرانس نے مصر پر حملہ کر دیا۔ تاہم اقوام متحدہ نے نہر سویز کو مصر کا حق قرار دیا ۔ابتدا میں نہر سوئز سے بحری جہازوں کی یکطرفہ ٹریفک ممکن نہ تھی لیکن 2015ء میں کی جانے والی توسیع کے بعد اب سویز کینال سے بیک وقت تین کانوائے میں 97جہاز گزر سکتے ہیں۔ جاوید میانداد کی ڈبل سینچری 1976ء میں آج کے روز جاوید میانداد نے ڈبل سینچری بنانے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس وقت ان کی عمر 19سال 141دن تھی۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں انہوں نے 206 رنز بنا کر یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ جاوید میانداد نے اپنے پورے کریئر میں 6 بار ڈبل سینچریاں بنائیں۔ مہاتیر محمد مستعفی ہوئے31اکتوبر 2003ء کو ملائیشیا کی تاریخ میں ایک اہم سیاسی موڑ اس وقت آیا جب طویل عرصے تک ملک کی قیادت کرنے والے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کی جگہ نائب وزیراعظم عبداللہ احمد بدوی کو نیا وزیراعظم مقرر کیا گیا، جس کے ساتھ ہی ملائیشیا کی سیاست پر مہاتیر محمد کے مسلسل 22 سالہ طویل، اثر انگیز اور ترقی پسند اقتدار کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا۔سویوز کی روانگی2000ء میں آج کے روز ''سویوز ٹی ایم 31‘‘ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا گیا، جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کیلئے پہلا مستقل مسکن اور عملہ لے کر گیا۔ اس تاریخی خلائی مشن نے انسانی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ اس دن کے بعد سے لے کر اب تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مسلسل خلاباز موجود چلے آ رہے ہیں، اور وہاں خلائی تحقیق و رہائش کا یہ تسلسل بغیر کسی تعطل کے کامیابی سے جاری ہے۔شین کونری: جیمز بانڈ 007جیمز بانڈ سیریز کی فلموں کے پہلے ہیرو سر سین کونری 2020ء میں آج کے دن اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ 90برس کی عمر پانے والے اداکار نے پچاس سال تک ہالی ووڈ اور برطانوی فلم انڈسٹری پر راج کیا۔برطانوی سیکریٹ ایجنٹ جیمز بانڈ پر بننے والی پہلی فلم ''ڈاکٹر نو‘‘ 1962ء میں سینما گھروں کی زینت بنی اور اس نے پوری دنیا میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اس کردار کو زندہ و جاوید کرداربنانے میں ان کا اہم کردارہے۔بانڈ سیریز کی 6 فلموں میں انہوں نے کام کیا۔ اپنے فلمی کیریئر میں انہوں نے آسکر ایوارڈ، گولڈن گلوب، بافٹا اور بہت سارے دوسرے ایوارڈ جیتے۔

 مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

مصنوعی ذہانت ( AI) اکیسویں صدی کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتی ہے۔ آج یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے سوالات کے جواب دینے، تصاویر بنانے، زبانوں کا ترجمہ کرنے، بیماریوں کی تشخیص میں معاونت فراہم کرنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کا یہ سفر چند سالوں کی کہانی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحقیق، تجربات، ناکامیوں اور کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔اس سفر میں بارہ ایسے اہم مراحل آئے جنہوں نے AI کی ترقی کو نئی سمت دی۔ ابتدائی تصورات سے عملی مصنوعی ذہانت تکمصنوعی ذہانت کی تاریخ میں پہلا اہم سنگِ میل 1950ء میں آیا جب برطانوی ریاضی دان اور کمپیوٹر سائنسدان ایلن ٹیورنگ نے اپنے مقالے میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں؟ انہوں نے ایک تجربہ کیا جسے بعد میں ''ٹیورنگ ٹیسٹ‘‘ کہا گیا۔ اس تصور کے مطابق اگر کوئی مشین گفتگو کے دوران انسان کی طرح جواب دے اور مبصر قابلِ اعتماد طریقے سے مشین اور انسان میں فرق نہ کر سکے تو اسے ذہانت کی ایک اہم علامت سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے چھ سال بعد، 1956ء میں امریکہ کے ڈارٹ ماؤتھ کالج میں محققین کا ایک اہم اجتماع منعقد ہوا۔ اسی موقع پر ''مصنوعی ذہانت‘‘ کی اصطلاح کو باقاعدہ سائنسی تحقیق کے میدان کے طور پر متعارف کرانے میں اہم پیش رفت ہوئی۔ جان میکارتھی، مارون منسکی اور دیگر محققین نے اس پر غور کیا کہ مشینوں کو سیکھنے، مسائل حل کرنے اور انسانی ذہانت کے بعض پہلوؤں کی نقل کرنے کے قابل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔1966ء میں جوزف وائزن بام نے ELIZA نامی پروگرام متعارف کرایا جو ابتدائی چیٹ بوٹس میں سے ایک تھا۔ یہ پروگرام صارف کے الفاظ میں مخصوص اشارے تلاش کرکے پہلے سے طے شدہ جوابات دیتا تھا۔ اگرچہ اس کی صلاحیتیں محدود تھیں لیکن اس نے دکھایا کہ کمپیوٹر کے ساتھ بامعنی محسوس ہونے والی گفتگو ممکن ہے۔ ناکامیوں سے مشین لرننگ تک 1974ء سے 1980ء کے درمیان AI کے شعبے کو پہلی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محققین کے بلند دعوؤں کے باوجود کمپیوٹر اس دور میں متوقع نتائج فراہم نہیں کر پا رہے تھے نتیجتاً حکومتوں اور تحقیقی اداروں نے مالی معاونت کم کر دی۔ اس مرحلے کو ''AI winter‘‘ کہا جاتا ہے۔تاہم تحقیق مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ 1980ء کے آس پاس Expert Systems نے کاروباری دنیا میں توجہ حاصل کی۔ یہ ایسے کمپیوٹر پروگرام تھے جو مخصوص شعبوں کے قواعد اور ماہرین کے علم کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد دیتے تھے۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی میں تیار کردہ R1 سسٹم نے صنعتی استعمال کے امکانات نمایاں کیے۔1986ء میں مشین لرننگ کی ترقی کے لیے ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی، اس کے باوجود 1987ء سے 1993ء کے درمیان مصنوعی ذہانت کو ایک بار پھر مالی اور صنعتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایکسپرٹ سسٹمز کی کمزورویوں اور مہنگے ہارڈویئر نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم کر دی۔ یہ دوسرا AI Winter تھا جس نے واضح کیا کہ محض بلند توقعات کافی نہیں؛ ٹیکنالوجی کو قابلِ اعتماد اور عملی طور پر مفید بھی ہونا چاہیے۔ ڈیپ لرننگ سے جدید AI تک 1997ء میں IBM کے شطرنج کھیلنے والے کمپیوٹر Deep Blue نے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو چھ مقابلوں کی سیریز میں شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ اس کامیابی نے دنیا کو دکھایا کہ کمپیوٹر انتہائی پیچیدہ کھیل میں بھی عالمی سطح کے انسانی کھلاڑی کو مات دے سکتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام مخصوص قواعد اور حسابی صلاحیتوں پر انحصار کرتا تھا لیکن اس نے مصنوعی ذہانت کی عملی قوت کو نمایاں کیا۔2012ء میںAlexNet نامی ڈیپ لرننگ ماڈل نے تصاویر کی شناخت کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی میں گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کا اہم کردار تھا۔ اس پیش رفت نے ڈیپ لرننگ کو عملی میدان میں آگے بڑھایا اور تصویر شناسی، آواز کی شناخت اور دیگر شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔2016ء میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے نظام AlphaGoنے جنوبی کوریا کے ممتاز کھلاڑی لی سیڈول کو قدیم چینی کھیل ''گو‘‘ میں شکست دی۔ اس کھیل میں ممکنہ چالوں کی تعداد شطرنج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ AlphaGo کی کامیابی نے ظاہر کیا کہ مشینیں سیکھنے، حکمتِ عملی بنانے اور پیچیدہ فیصلے کرنے کے ایسے طریقے اپنا سکتی ہیں جو پہلے ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔2017ء میں ٹرانسفارمر (Transformer) نامی نیورل نیٹ ورک آرکیٹیکچر متعارف ہوا۔ اس نے زبان کے مختلف حصوں کے درمیان تعلقات سمجھنے اور بڑے متنی ڈیٹا سے سیکھنے کے طریقوں میں اہم تبدیلی پیدا کی۔ بعد میں یہی طرزِ تعمیر متعدد جدید زبان ماڈلز کی بنیاد بنا۔ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا مستقبلنومبر 2022ء میں ChatGPT کی لانچنگ نے مصنوعی ذہانت کو عام لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس تبدیلی نے تعلیم، کاروبار، صحافت، طب اور سافٹ ویئر کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تاریخ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سائنسی ترقی ایک سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتی۔ ایلن ٹیورنگ کے ابتدائی سوال سے لے کر ٹرانسفارمر ماڈلز اور ChatGPT تک ہر پیش رفت نے اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کے لیے بنیاد فراہم کی۔ مستقبل میں AI کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی رفتار یا ذہانت پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ اسے کتنی ذمہ داری، شفافیت اور انسانی فلاح کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

خوشیاں بانٹنا !

خوشیاں بانٹنا !

آج چھٹی کا دن ہونے کے باوجود فرحان بہت اداس بیٹھا تھا۔ اس کی اداسی کو دیکھ کر اس کی اماں نے پوچھا: کیا بات ہے ؟ کیوں اداس ہو؟ کل ٹیسٹ ٹھیک ہوا تھا ؟۔تو اس نے جواب دیا:جی سب ٹھیک ہے۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

کارمیلا چلری واٹسن:کم عمری میں خدمتِ خلق کا عظیم کارنامہ دینے والی کم عمر بچی

جادوئی خوشبو

جادوئی خوشبو

نیلے شفاف پانیوں کی گہرائی میں جادوئی دنیا آباد تھی۔ اسی سمندری سلطنت میں چنبیلی نامی خوبصورت جل پری رہتی تھی۔ چنبیلی کا دل سمندر کی وسعت سے زیادہ اپنے پیارے پھولوں سے جڑا تھا۔

خلائی سوٹ کیوں ضروری ہے؟

خلائی سوٹ کیوں ضروری ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خلا باز جب زمین سے دور خلا میں جاتے ہیں تو وہ خاص قسم کا لباس کیوں پہنتے ہیں؟ خلائی سوٹ خلا بازوں کو خلا کے خطرناک ماحول سے محفوظ رکھتا ہے۔

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز