اسلام آباد:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ 200یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی جاری رہے گی۔
اسلام آباد:(دنیا نیوز) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ 200یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی جاری رہے گی۔
پاکستان بھارت بین البراعظمی بیلسٹک میزائل جیسی صلاحیتیں تیار کرنا چاہیں گے ، ہم کسی کو خطرہ قرارنہیں دے رہے :ہیگستھ،ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی سپلائی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں،ایران جانیوالا تجارتی جہاز ناکارہ بنا دیاٹرمپ کی تیسری بار سفارت کاری سے غداری:مشیر ایرانی سپریم لیڈر ، ہرمز سے مزید 24جہاز گزر گئے ،نظم و نسق کیلئے پارلیمنٹ میں بل کی تیاری،جہازوں سے عارضی ٹول ٹیکس کی وصولی جائز:قطری نائب وزیراعظم
وفاقی بجٹ ساڑھے 17 ہزارارب ، ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف میں دوسری بارکمی ، 11 ماہ میں 866 ارب کا شارٹ فال، محصولات 11 ہزار 232 ارب تک محدود رہی نظرثانی شدہ ہدف 13 ہزار 5 ارب مقرر ، تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل ،آخری سلیب کی حد، شرح بڑھنے کاامکان، ملازمین کو ریلیف دینے کیلئے مشاورت جاری
شادی کے دوران حق مہر کا مطالبہ نہ کرنا حق سے دستبرداری میں نہیں آتا،بیوی دباؤ کے باعث ایسا نہیں کرتی خاندانی مقدمات میں قانون کیساتھ سماجی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے :عدالت، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار
مین ہولز پر ڈھکن یقینی بنائیں ،سیف سٹی اتھارٹی اور سی ٹی او ٹیمیں مکمل الرٹ رہیں:وزیراعلیٰعید الاضحی پر صفائی آپریشن کی کامیابی شاندار ٹیم ورک کا نتیجہ ہے ،مریم نواز کی پوری ٹیم کو شاباش
طیاروں میں استعمال ہونے والا ایندھن 332 روپے 32 پیسے لٹر سے کم ہوکر283روپے 52پیسے ہوگیالائٹ ڈیزل 30.61روپے لٹر سستا،جس کے بعد اس کی نئی قیمت 244 روپے 93 پیسے لٹر مقرر کر دی گئی
3جون کو جامع بجٹ تجاویز پیش کریں گے ، آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ،امیرجماعت اسلامیپی پی نے 71 میں اکثریتی مینڈیٹ تسلیم نہ کرنے سے لے کر کراچی بلدیاتی الیکشن تک جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا
پاسپورٹس، اکاؤنٹس ، موبائل والٹ اکاؤنٹس بلاک کرنیکا معاملہ ،عدالت سخت برہم ،ریاستی ادارے قانون کے پابندانکوائری آڑ میں ہراساں یا تذلیل نہیں کر سکتے ،ڈی جی ایف آئی اے طرز عمل کا جائزہ لیں،توہین عدالت کارروائی کاانتباہ
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خصوصی جج نامزد کرینگے ،پراسیکیوٹرجنرل پنجاب کے دئیے 5رکنی پینل سے پراسیکیوٹرمقرر ہو گا گواہوں کو اصل نام کے بجائے شناختی کوڈ دئیے جائینگے ،ورچوئل ٹرائل بھی ہوسکے گا،دہشتگردی ایکٹ میں نئی دفعہ شامل
زندگی کی آخری دہائیوں میں بھی حوصلہ اور عزم کی مثال قائم کرتے ہوئے دوسری عالمی جنگ کے ایک 98 سالہ سابق فوجی نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو حیران اور متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کی مدد کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کی خاطر ایک خطرناک وِنگ واکنگ (ہوائی جہاز کے پروں پر چلنے) کا مظاہرہ کیا اور اس عمل کے ذریعے ہزاروں پاؤنڈ جمع کرنے میں کامیاب رہے۔یہ بزرگ جنگی ہیرو نہ صرف اپنی طویل عمر کے باوجود غیر معمولی جسمانی جرات کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے جذبے کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ اقدام اس بات کی روشن مثال ہے کہ عمر کسی بھی انسان کے عزم، ہمت اور نیک مقاصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔98 سالہ شخص نے اپنی زندگی کا دیرینہ خواب پورا کیا کہ وہ ایک اڑتے ہوئے جہاز کے اوپر کھڑے ہو سکیں اور ساتھ ہی انہوں نے ایک عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ہیری ہیزمین نے آسمانوں کا سفر کیا اور تاریخ کے معمر ترین مرد وِنگ واکر بن گئے۔بے خوف بزرگ شہری نے یہ سنسنی خیز چیلنج اپنی مرحوم بیوی اور بیٹے کی یاد میں لیا، جو دونوں کینسر کے باعث وفات پا گئے تھے، اور اس کے ذریعے وہ ''لینوکس چلڈرنز کینسر فنڈ‘‘ کیلئے عطیات جمع کر رہے ہیں۔دوسری عالمی جنگ کے سابق فوجی ہیری، جنہیں جہاز کے اوپر مضبوطی سے باندھا گیا تھا، کے ساتھ طیارہ ایک ہزار فٹ سے زیادہ بلندی تک جا پہنچا اور برطانیہ کے دیہی علاقوں کے اوپر پرواز کرتا رہا۔ اس دوران ہیری نے نہ صرف دلکش مناظر سے لطف اٹھایا بلکہ تاریخ کے معمر ترین مرد وِنگ واکر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ میں خود کو پہلے سے ایک ہزار گنا مختلف اور 100 گنا بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ یہ میری زندگی کا سب سے حیرت انگیز تجربہ تھا اور اگر ممکن ہو تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے دوبارہ کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں بچپن سے اس خواب کو دیکھ رہا تھا اور 98 سال کی عمر میں اسے حقیقت بنانا اور گنیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈر بننا میرے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے جج پروین پٹیل، جو اس کوشش کی نگرانی کیلئے موجود تھے، نے کہا کہ ہیری واقعی ایک متاثر کن شخصیت ہیں۔ وِنگ واکنگ جیسے جسمانی طور پر مشکل کام کو انجام دینا آسان نہیں، اور پھر ذہنی طور پر اتنی مضبوطی کہ آپ اس چیلنج کو پورا کر سکیں، یہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ ہیری کو اس فضائی سفر کا خیال اس وقت آیا جب ان کے کیئر ہوم کی منیجر کیرولن سِسٹو نے ان سے اپنی خواہشات لکھنے کو کہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ فلاحی کام کیلئے وِنگ واکنگ کرنا چاہتے ہیں تو اس نے ان کا خواب پورا کرنے کیلئے عملی اقدامات شروع کر دیئے۔ہیری نے اپنے بڑے دن کیلئے خود کو تیار کرنے کیلئے فزیو تھراپسٹ ریف کوول کے ساتھ کام کیا اور تقریباً 11 ماہ تک سخت محنت کرتے ہوئے اپنی جسمانی فٹنس کو بہتر بنایا۔ کیئر ہوم ایسٹ ہیم کیئر ہوم سے تعلق رکھنے والی کیرولن نے کہا کہ ہیری نے صرف وِنگ واک مکمل نہیں کیا بلکہ دنیا کی اس سوچ کو بدل دیا کہ 98 سال کی عمر میں کیا کچھ ممکن ہے۔ہیری نے اپنے اس خطرناک اور دلیرانہ اقدام کے ذریعے 5ہزار پاؤنڈ جمع کرنے کا ہدف رکھا تھا، لیکن انہوں نے یہ ہدف پہلے ہی عبور کر لیاتھا۔ لینزی بِڈویل، جو ''لینوکس چلڈرنز کینسر فنڈ‘‘ سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ ہیری اس بات کا ثبوت ہیں کہ خوابوں کے پیچھے دوڑنے کیلئے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔ 98 سال کی عمر میں انہوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ غیر معمولی سے کم نہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں مجھے انہیں جاننے اور اس چیلنج کے پیچھے ان کے عزم کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کینسر میں مبتلا بچوں کی مدد کیلئے رقم جمع کرتے ہوئے یہ کارنامہ انجام دینا اسے اور بھی خاص بنا دیتا ہے۔ ہیری واقعی ایک قومی سرمایہ ہیں، اور ہماری ٹیم اور وہ خاندان جن کیلئے وہ یہ رقم اکٹھا کر رہے ہیں، ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔98 سالہ جنگی ہیرو کا یہ حیرت انگیز کارنامہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ حوصلہ، عزم اور جذبہ زندگی عمر کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ ونگ واکنگ جیسے خطرناک اور سنسنی خیز مظاہرے میں حصہ لے کر انہوں نے نہ صرف ایک نئی مثال قائم کی بلکہ دنیا بھر کے لوگوں، خصوصاً بزرگ افراد کو یہ پیغام بھی دیا کہ خوابوں کی تکمیل اور نئی بلندیوں کو چھونے کیلئے عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔ اُن کی جرات اور خود اعتمادی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور یہ سبق دیتی ہے کہ انسان اگر ارادہ مضبوط کر لے تو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔
خیال کیا جاتا تھا پاک و ہند میں تمدن کی بنیاد آریاؤں نے 1500 قبل مسیح میں ڈالی تھی۔ موہنجودڑو اور ہڑپہ کے آثار اور سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئیں۔1921ء میں رائے بہادر دیا رام ساہنی نے ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال بعد اسی طرح کے آثار مسٹر آر ڈی بینر جی کو موہنجودڑو کی سر زمین میں دستیاب ہوئے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں مقامات کی طرف توجہ دی؛ چنانچہ دیا رام ساہنی، ارنسٹ جے میکے اور محکمہ آثارقدیمہ کے دیگر حکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا۔ 1931ء میں فنڈ کی کمی کی وجہ سے کام روک دیا گیا۔ اس اثنا میں محکمہ نے دوسرے مقامات پر تلاش شروع کی جس میں بڑی کامیابی ہوئی اور پتہ چلا کہ یہ قدیم تہذیب موہنجودڑو اور ہڑپہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صوبہ سندھ میں چنہودڑو ، جھوکر ، علی مراد اور آمری اور صوبہ پنجاب میں روپڑ اور بلوچستان میں نال اور کلی کے مقام پر بھی قدیم تہذیب کے آثار موجود ہیں۔ اس تہذیب کی وسعت اور معنویت کو 1922ء میں موہنجودڑو کی کھدائی سے پہلے سمجھا نہ جاسکا۔ 1950ء میں ڈاکٹر ایف اے خان نے کوٹ ڈیجی کی کھدائی کی۔ اس سے نئی چیزیں سامنے آئیں اور پرانے تصورات میں تبدیلی واقع ہوئی۔ کوٹ ڈیجی میں ہڑپہ کے پختہ دور سے بہت پہلے کی مدفون آبادی ملی۔ اس کی تہذیب کے زمانے کا تعین ریڈیو کاربن کے ذریعے کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ آبادی ہڑپہ سے بھی 800 سال پرانی ثقافت ہے۔ اس کے بعد پے درپے کھدائیاں ہوئیں جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اس تہذیب کے سرچشمے اسی سر زمین میں تھے۔ اس کا دائرہ اثر شمال میں شمالی افغانستان کے علاقہ بدخشاں سے لے کر جنوب میں ساحل سمندر تک تھا۔ جہاں یہ بلوچستان کے ساحل سے لے کر کاٹھیاواڑ تک محیط ہے۔ پرانی کھدائیوں میں اس تہذیب سے وابستہ شہروں اور قصبوں کی تعداد بیالیس تھی۔ اب ان کی تعداد میں سینکڑوں کا اضافہ ہوچکا ہے۔ صرف چولستان میں ڈاکٹر رفیق مغل نے 363 مدفون بستیاں ڈھونڈی ہیں۔ جن کا تعلق اس تہذیب سے ہے۔ اس کے علاوہ سرائے کھولا ، جھنگ ، بٹھیال اور وادی سوات میں غالاگئی، وادی گومل کے کئی مقامات اور بلوچستان کے علاقہ کچھی میں مہر گڑھ میں اس تہذیب کے اثرات ملے ہیں۔ بھارت میں دریائے گھگھر (ہاکڑہ )اور اس کے معاون دریاؤں کے طاس کا علاقہ ان آثار سے پُر ہے۔ اس کے علاوہ جن مقامات سے اس تہذیب کے آثار ملے ہیں ان میں کالی بنگن ، سیسوال ، بانے والی منڈا اور دوسری بہت سی جگہیں شامل ہیں۔ ساحل کے قریب لوتھل اور رنگ پور بڑے شہر تھے۔ ان کے علاوہ چھوٹی بستیاں بہت زیادہ ہیں۔ اس تہذیب کا سب سے پہلے ملنے والا شہر ہڑپہ تھا اور اس وجہ سے اسے ہڑپہ سویلائزیشن بھی کہا جاتا ہے۔ دوسرا بڑا شہر موہنجودڑو تھا۔ بعد میں اب گنویری والا ملا ہے۔ جو ہڑپہ سے بڑا شہر ہے لیکن ماہرین زیادہ اہمیت ہڑپہ اور موہنجودڑو کو دیتے ہیں۔ اس تہذہب کے نمایاں شہر وں میں موہنجو دڑو، ہڑپہ کے علاوہ چنھودڑو ، ستکگن دڑو ، بالاکوٹ ، سوتکا کوہ ، ٹوچی ، مزینہ دمب ، سیاہ دمب ، جھائی ، علی مراد ، گنویری والا اور معتدد شہر شامل ہیں۔ان تہذیبوں میں برتن اور مہروں پر جانوروں کی شکلیں اور دفینوں پر ان کی ہڈیاں جانوروں کی کثرت سے موجودگی اور دوسرے لفظوں میں جنگلوں کی کثرت ان کے رہن سہن کے طریقوں کو آشکار کرتے ہیں۔ جانوروں میں گینڈے ، شیر ، دریائی بھینس اور ہاتھی کثیر تھے۔ ان کے علاوہ گھڑیال کا ثبوت ملا ہے۔ ریچھ کی بعض نسلیں ، بندر ، گلہری اور طوطا بھی ملا ہے۔ بارہ سنگھا اور ہرن بھی ملے ہیں۔ ہڑپہ اور موہنجو دڑو ہم عصر شہر تھے ، جو یقناً جڑواں دارالحکومت تھے۔ ان دونوں شہروں کے اندر بلند و بالا قلعے تھے۔ جو باقی ماندہ آبادی پر غالب نظر آتے تھے۔ ہر علاقے میں اوزان یکساں تھے۔ کانسی کی کلہاڑی کی بناوٹ اور بھالے کی شکل ایک جیسی تھی۔ اینٹوں کا سائز ، مکانوں کا نقشہ ، بڑی گلیوں کی ترتیب ، الغرض پورے شہر کی ٹاون پلاننگ ایک سی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ صدیوں تک پرانی عمارتوں پر نئی عمارتیں ہو بہو ویسی کی ویسی بنتی رہیں۔ ایک گھر کی خارجی چار دیواری کئی صدیوں تک نہیں بدلی تھی۔ موہنجوداڑو میں کل نو رہائشی پرتیں نکالی گئیں۔ ان میں کئی جگہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت بھی ملتا ہے۔
کلاک ٹاور1859ء میں برطانیہ کی پارلیمنٹ کی عمارت، ہاؤسز آف پارلیمنٹ، میں موجود مشہور کلاک ٹاور نے باقاعدہ طور پر وقت بتانا شروع کیا۔ اسی ٹاور میں دنیا کی معروف گھنٹی ''بگ بین‘‘ نصب ہے، جو آج لندن کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ بگ بین دراصل گھنٹی کا نام ہے، لیکن عام طور پر پورے ٹاور کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ گھڑی اپنی درستگی، خوبصورت تعمیر اور گونج دار آواز کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔ کوئٹہ زلزلہ31مئی 1935ء کو کوئٹہ جو اس وقت سلطنت برطانیہ کا حصہ تھا میں رات 2 سے 3بجے کے درمیان ایک خوفناک زلزلہ آیاجس نے پورے شہر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ زلزلے کی شدت7.7تھی۔ رپورٹس کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں تقریباً60 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ 2005ء میں کشمیر میں آنے والے زلزلے تک جنوبی ایشیا میں آنے والے زلزلوں میں سب سے زیادہ خطرناک تھا۔ زلزلے کا مرکز علی جان، بلوچستان اس وقت کے برطانوی ہندوستان سے 4 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔کولڈ ہاربر کی جنگامریکی خانہ جنگی کے دوران ورجینیا میں 31 مئی 1864ء کو ایک جنگ لڑی گئی جسے '' کولڈ ہاربر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس جنگ کے دوران سب سے اہم لڑائی 3جون کو لڑی گئی اور یہ یونین لیفٹیننٹ جنرل یولیسز کی آخری لڑائیوں میں سے ایک تھی۔جنگ کے دوران ایس گرانٹ کی اوور لینڈ مہم کو امریکی تاریخ کی سب سے خونریز، خطرناک اور یکطرفہ لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کنفیڈریٹ جنرل رابرٹ ای لی کی فوج کی مضبوط حکمت عملی اور پوزیشن کی وجہ سے اتحادی افواج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ :بدترین سیلاب31مئی1889ء کو امریکہ کے علاقے پنسلوینیا کے قصبے میں ڈیم میں شگاف پڑ جانے کی وجہ سے سیلاب آیا۔ڈیم کئی دن کی مسلسل بارش کی وجہ سے دباؤ برداشت نہیں کر سکا اور پھٹ گیا۔پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے سیلاب آگیا جس کی وجہ سے 2209افراد لقمۂ اجل بنے۔اس سیلاب کے نتیجے میں 513ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔اس واقع کو امریکہ کی تاریخ میں پیش آنے والی بدترین آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔کنکورڈ سروس کا اختتامکنکورڑ جہاز کو اب تک دنیا کا تیز ترین مسافر جہاز تصور کیا جاتا ہے۔ کنکورڈ نے اپنی پہلی فلائٹ2مارچ1969ء کو بھری جو کامیاب رہی ۔ کنکورڈ سروس شروع ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد اس جہاز کے ساتھ ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں جہاز ائیرپورٹ سے کچھ فاصلے پر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے کے بعد انتظامیہ کیلئے کنکورڈ سروس کو جاری رکھنا ناممکن ہوگیا اور 31 مئی2003ء کو اس سروس کا اختتام کر دیا گیا۔یوسین بولٹ کا ریکارڈ2008ء میں جمیکا کے شہرہ آفاق ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے 100 میٹر دوڑ میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ صرف 9.72 سیکنڈ میں طے کیا۔ اس شاندار کارکردگی نے انہیں دنیا کا تیز ترین انسان بنا دیا۔ یوسین بولٹ اپنی برق رفتار دوڑ، منفرد انداز اور مسلسل کامیابیوں کے باعث عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا یہ ریکارڈ ایتھلیٹکس کی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ سمجھا جاتا ہے۔
کچھ غذائیں ایسی ہیں جنہیں ایئر فرائیر میں پکانا خطرناک ہو سکتا ہےایئر فرائیر آج کے دور کا ایک مقبول کچن اپلائنس بن چکا ہے، جس نے کم تیل میں تلی ہوئی اشیاء بنانے کو نہایت آسان اور صحت بخش بنا دیا ہے۔ گھروں میں لوگ تیزی سے اس جدید مشین کو اپنا رہے ہیں، تاہم ہر کھانے کی چیز اس میں پکانا مناسب نہیں ہوتا۔ ماہرین خوراک کے مطابق کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جو ایئر فرائیر میں پکانے سے نہ صرف ذائقہ اور ساخت خراب ہو جاتی ہے بلکہ صحت کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بارہا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایئر فرائیر کے درست اور محفوظ استعمال کیلئے اس میں پکنے والی اور نہ پکنے والی غذاؤں کا واضح علم ہونا ضروری ہے۔آپ ایئر فرائیر میں تقریباً ہر چیز پکا سکتے ہیں۔ لیکن اگرچہ یہ زیادہ تر کھانوں کیلئے اچھا کام کرتا ہے، ماہرین کے مطابق کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جنہیں آپ کو اس میں ہرگز نہیں ڈالنا چاہیے۔ محقق جیمی ڈارو کے مطابق کچھ غذائیں ضرورت سے زیادہ گندگی پیدا کرتی ہیں اور بعض اوقات حفاظتی خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔ پاپ کارناس فہرست میں سب سے اوپر پاپ کارن (popcorn) آتا ہے۔ اگر آپ فلم نائٹ کی تیاری کر رہے ہیں تو آپ شاید کچھ مکئی کے دانے ایئر فرائیر میں ڈالنے کا سوچیں۔ تاہم مسٹر ڈارو مشورہ دیتے ہیں کہ اس کیلئے مائیکروویو استعمال کیا جائے، ورنہ آپ کو کافی دیر انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایئر فرائیر میں پاپ کارن پکانا اکثر کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر ایئر فرائیر اتنا زیادہ درجہ حرارت حاصل نہیں کر پاتے کہ دانے پھٹ سکیں۔ مائیکروویو اس کام کو کہیں بہتر طریقے سے کرتا ہے۔ یہاں وہ مزید بتاتے ہیں کہ اور کون سی غذائیں ہیں جنہیں آپ کو اپنے ایئر فرائر میں ہرگز نہیں پکانا چاہیے۔پاستا اور پاستہ ساسیہ بات حیران کن نہیں کہ آپ ایئر فرائر میں کچا پاستا نہیں پکا سکتے، کیونکہ اسے پکانے کیئے اُبلتے ہوئے پانی میں ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔اور اگرچہ پاستا کی چٹنی (Pasta Sauces) پکانا ناممکن نہیں ہے، لیکن یہ کافی گندا اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے، اس لیے شاید یہ جھنجھٹ کے قابل نہیں۔ ڈارو کے مطابق آپ ایئر فرائر میں پہلے سے پکی ہوئی پاستا اور سوس کو دوبارہ گرم (reheat) کر سکتے ہیں، لیکن اس کام کیلئے مائیکروویو زیادہ مؤثر اور بہتر طریقہ ہے۔ٹوسٹ (Toast)پاستا سوس کی طرح، ایئر فرائر میں ٹوسٹ بنانا ناممکن نہیں ہے، تاہم نتائج ''ٹوسٹر کے مقابلے میں ممکنہ طور پر مایوس کن‘‘ ہو سکتے ہیں۔ڈاروکے مطابق ایئر فرائیر روٹی کو خشک کر سکتا ہے اور بریڈ کے ٹکڑے (crumbs) پکانے کے دوران ہوا کے دباؤ کی وجہ سے باسکٹ کے نیچے پھنس سکتے ہیں۔آپ کو اسے درمیان میں پلٹنا بھی پڑے گا۔ یہ سب محنت اس کے قابل نہیں ہوتی۔چاول (Rice)پاستا کی طرح، چاول کو شروع سے پکانے کیلئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈارو کہتے ہیں کہ ایئر فرائر ابالنے (boiling) اور بھاپ دینے (steaming) کیلئے بنیادی آلہ نہیں ہے۔ اس کیلئے بہتر ہے کہ آپ سلو کُکر یا چولہے پر برتن استعمال کریں۔دیگر غذائیںاس سے پہلے ماہرین نے ایسی غذاؤں کی فہرست بھی دی ہے جو ایئر فرائیر میں بہترین نتائج دیتی ہیں۔ بلاگر لیانا گرین، جنہوں نے ایئر فرائیر پر متعدد گائیڈز لکھی ہیں، نے بتایا کہ ایئر فرائیر میں ''ہارڈ بوائلڈ‘‘ انڈے (Hard boiled eggs) بھی بہترین طریقے سے بنائے جا سکتے ہیں۔اگرچہ ایئر فرائیر میں اُبلے ہوئے انڈے بنانا غیر معمولی لگتا ہے، لیکن یہ مستقل درجہ حرارت فراہم کرتا ہے جس سے انڈے ہر بار بہتر طریقے سے پک جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو پانی اُبالنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ گرین کے مطابق ایئر فرائر کو 150 ڈگری سینٹی گریڈ پر 8 منٹ تک چلانے سے زردی نرم رہتی ہے، جبکہ 12 منٹ تک پکانے سے سخت کیا جا سکتا ہے۔ایک اور غیر متوقع غذائی آئٹم راویولی (ravioli) ہے، جو اگرچہ پاستا کی ایک قسم ہے، لیکن ایئر فرائیر میں یہ کرسپ ہو جاتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ راویولی کو پہلے پھینٹے ہوئے انڈے اور بریڈ کرمز میں کوٹ کریں، پھر اسے ایئر فرائیر میں 175 ڈگری سینٹی گریڈ پر تقریباً 10 منٹ تک پکائیں اور درمیان میں ایک بار پلٹ دیں۔اگرچہ زیادہ تر تازہ پنیر (Fresh Cheeses) ایئر فرائر میں جلد جل جاتے ہیں، لیکن ہالوومی (halloumi) اس میں محفوظ طریقے سے پکایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا پگھلنے کا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔ گرین کے مطابق ایئر فرائیر کی زیادہ حرارت ہالوومی کی بیرونی تہہ کو بہترین طریقے سے کرسپ کر دیتی ہے جبکہ اندر سے یہ نرم رہتا ہے۔مزیدار میڈیٹیرینین ذائقہ حاصل کرنے کیلئے اس پر تھوڑا سا شہد ڈال دیں۔ میں اسے 200 ڈگری سینٹی گریڈ پر 8 سے 10 منٹ تک ایئر فرائی کرتی ہوں۔ایئر فرائیر کے استعمال میں ہونے والی عام غلطیاںبرطانوی کمپنی ''وچ‘‘کی انرجی ایڈیٹر ایملی سیمور کہتی ہیں کہ ایئر فرائیر عموماً استعمال میں آسان ہوتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ اسے استعمال کرتے ہوئے کچھ غلطیاں کرتے ہیں۔ اگر آپ مشین کو زیادہ بھر دیں یا اسے صحیح طریقے سے صاف نہ کریں تو اس کے نتیجے میں چکن اور چپس اچھی طرح نہیں پکتے یا پورا کچن دھوئیں سے بھر سکتا ہے۔
پاکستان نے اس تاریخی میدان پر 140 سے زائد بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں
پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی قیادت فاطمہ ثناء کر رہی ہیں، جن کا شمار تیز ترین خواتین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تیز ترین بلے بازی کا مظاہرہ گزشتہ ماہ پاکستان کے دورے پر آنے والی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف کیا تھا۔
نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔