واشنگٹن: (دنیا نیوز) ٹرمپ نے ایران کے پک ایکس ماؤنٹین جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیدی۔
واشنگٹن: (دنیا نیوز) ٹرمپ نے ایران کے پک ایکس ماؤنٹین جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیدی۔
امریکی فوج کا درجنوں ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحرین، اردن، کویت ،عمان پر جوابی حملے ،امریکا نے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا، کوئی شک نہیں اسلام آباد میمورنڈم ختم ہوگیا:ایرانی وزارت خارجہ ایرانی طیارے کی لینڈنگ روکنے کیلئے صنعا کے ہوائی اڈے پر فضائی حملے کی تصدیق،حوثیوں کا میزائل مار گرایا:ترجمان سعودی اتحاد،خام تیل کی عالمی قیمتوں میں 9.6فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ
حکم امتناع بھی ختم ،جائیداد ملکیت کا فیصلہ ٹرائل عدالتیں ، انتظامی معاملات ریگولیٹری ادارے طے کرینگے ، سپریم کورٹ فیصلے میں اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا:جسٹس حسن نظرثانی درخواست دائر کرنے پر اظہارناراضی بھی مناسب نہیں تھا:ریمارکس، اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیرسربراہی بینچ نے نظرثانی درخواست مسترد کی تھی
مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے مراعات حاصل کیں لیکن عالمی معیار نہ ہونے کے باعث گاڑیاں برآمد نہیں کیں:حکومتی رکنوزارت سائنس نے وزارت صنعت کے فور وہیلرز کیلئے سٹینڈرڈ مسترد کر دیئے ، وزارتوں میں تعاون نہ ہوناشرم کا مقام :کنونیرکمیٹی
خواتین کیلئے اپنا روزگار میرا خواب،انہیں بااختیاربنانا قوم کی کامیابی ،اسلام میں خواتین کو عزت،وقار اورتحفظ دیا گیا ہر لڑکی کو تعلیم،مواقع اور خواب دیکھنے کی آزادی ہونی چاہیے :وزیراعلیٰ،او آئی سی کانفرنس برائے خواتین سے خطاب پرتگال اور پنجاب کے درمیان توانائی، آبی وسائل، ہیلتھ اور ڈیجیٹل جدت میں تعاون کے امکانات موجود :سفیرکی ملاقات
شیخ تمیم سے والد اور سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر تعزیت خدمات یاد رکھی جائینگی:وزیراعظم،سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات
یہ سیاسی تنقید نہیں اخلاقی بے حسی،آپ اختلاف کر سکتے توہین نہیں:وزیر دفاعفضل الرحمن شہدا کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگیں:عون چودھری
اصلاحاتی کمیٹی کاپٹرولیم پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کو مزیدشفاف بنانے پر اتفاقعوام کو پٹرولیم کی قیمتوں کے تعین کا بینچ مارک معلوم ہوناچاہئے :کمیٹی ارکان
ٹھکانوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد، ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 79 ہو گئی،محسن نقوی کا فورسز کو خراج تحسین نصیر آباد میں 2 ٹاور تباہ،بجلی فراہمی متاثر،ڈیرہ مراد جمالی میں دھماکا، ریموٹ بم کسی اہم شخصیت کا ہدف ہو سکتا تھا :پولیس
نیا تصور اور توقعاتدنیا اس وقت ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف ترقی پذیر ممالک بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور دوسری طرف تعلیم جیسے بنیادی شعبے کے لیے مالی وسائل مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) کی تازہ رپورٹ:Turning debt into education investment اسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک قابلِ عمل حل پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ سے جزوی نجات دے کر وہی وسائل تعلیم کے شعبے میں منتقل کیے جائیںتاکہ مستقبل کی انسانی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یونیسکو کے مطابق تعلیم پر خرچ ہونے والی ہر رقم درحقیقت کسی ملک کی معاشی، سماجی اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری ہوتی ہے، نہ کہ محض ایک سرکاری خرچ۔بڑھتا ہوا قرض، سکڑتا ہوا تعلیمی بجٹگزشتہ ایک دہائی کے دوران عالمی معیشت کو کووڈ19 ، مہنگائی، توانائی کے بحران، موسمیاتی تبدیلی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان عوامل نے ترقی پذیر ممالک کی مالی حالت کو مزید کمزور کر دیا۔ بہت سے ممالک اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کے سود اور اصل رقم کی ادائیگی پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں جس کے باعث تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں کے لیے وسائل محدود ہو گئے ہیں۔یونیسکو کے مطابق کئی کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک میں قرضوں کی ادائیگی پر ہونے والے اخراجات تعلیم کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر دسیوں لاکھ بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں نئے سکول تعمیر نہیں ہو پا رہے، موجودہ تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات ناکافی ہیں، اساتذہ کی کمی ہے اور جدید تدریسی وسائل کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔یہ صورتِ حال اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف یعنی سب کے لیے معیاری اور مساوی تعلیم، کے حصول کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو عالمی سطح پر تعلیمی عدم مساوات مزید گہری ہوگی اور غربت کے خاتمے کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔تعلیم کیلئے عالمی امداد میں کمیرپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تعلیم کے لیے بین الاقوامی ترقیاتی امداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یونیسکو کے مطابق 2023ء سے 2027ء کے درمیان کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک کو تعلیم کے لیے ملنے والی بین الاقوامی امداد میں تقریباً 30 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، 2025ء میں امریکہ نے اپنی مجموعی غیر ملکی امداد میں 57 فیصد، یورپی یونین نے 14 فیصد اور جاپان نے 6 فیصد کمی کی۔ ان فیصلوں کے اثرات ان ممالک پر سب سے زیادہ مرتب ہوئے جو پہلے ہی مالی بحران کا شکار تھے۔ ایسے حالات میں ترقی پذیر ممالک کے لیے متبادل مالی ذرائع تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔قرض کے بدلے تعلیمیونیسکو کی رپورٹ کا مرکزی نکتہ Debt for education swaps ہے، یعنی قرض کے بدلے تعلیم ۔اس نظام کے تحت قرض دینے والا ملک یا مالیاتی ادارہ قرض لینے والے ملک کا کچھ حصہ معاف کر دیتا ہے یا اس کی ادائیگی کی شرائط آسان بنا دیتا ہے۔ اس کے بدلے متعلقہ حکومت اتنی ہی رقم اپنے قومی تعلیمی منصوبوں پر خرچ کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ یوں ایک طرف قرضوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور دوسری طرف تعلیم کے شعبے کو اضافی وسائل میسر آ جاتے ہیں۔یہ ماڈل محض نظریاتی تجویز نہیں بلکہ کئی ممالک میں کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے۔ پیرو، مصر اور آئیوری کوسٹ سمیت مختلف ممالک نے قرضوں کی تنظیمِ نو کے نتیجے میں نئے سکول تعمیر کیے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بہتر بنائی، تعلیمی سہولیات میں اضافہ کیا اور محروم طبقات کے بچوں تک تعلیم کی رسائی کو وسیع کیا۔تاہم یونیسکو اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ایسے پروگرام صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان میں مکمل شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب کا نظام موجود ہو۔ وزارتِ خزانہ، وزارتِ تعلیم، قرض دہندگان، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مربوط تعاون اس ماڈل کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ ترقی پذیر ممالک کیلئے سبقپاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ قرض کے بدلے تعلیم کا ماڈل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ہر سال اپنے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے جبکہ تعلیم پر اخراجات عالمی معیار سے کم ہیں۔ اس کے نتیجے میں قریب ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں، سرکاری تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور اساتذہ کی کمی سمیت متعدد مسائل برقرار ہیں۔اگر پاکستان مستقبل میں قرض دہندگان اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ایسے معاہدوں کی جانب پیش رفت کرے جن کے تحت قرضوں کی جزوی معافی کے بدلے تعلیم میں سرمایہ کاری کی جائے تو اس سے تعلیمی نظام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ مستقبل میں زیادہ پیداواری معیشت، بہتر روزگار، کم غربت، سماجی استحکام اور مضبوط جمہوری اداروں کی صورت میں کئی گنا منافع دیتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کو صرف مزید قرض فراہم کرنے کے بجائے ایسے مالیاتی ماڈلز اختیار کرے جو انسانی ترقی کو ترجیح دیں۔ اسی طرح ترقی پذیر ممالک کو بھی تعلیم کو اخراجات نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اپنے بجٹ میں اس کا حصہ بڑھانا ہوگا۔ اگر قرضوں کے بوجھ کو کم کرکے تعلیم میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف معیاری تعلیم کا خواب حقیقت بن سکتا ہے بلکہ غربت کے خاتمے، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کا حصول بھی زیادہ تیزی سے ممکن ہوگا۔
باستیل قلعے پر حملہ14 جولائی 1789ء کو پیرس میں عوام نے باستیل نامی قلعے اور جیل پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ فرانسیسی انقلاب کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں فرانس کے بادشاہ لوئی XVI کی حکومت تھی۔ ملک شدید معاشی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار تھا۔ عام عوام پر بھاری ٹیکس عائد تھے جبکہ اشرافیہ بہت سی مراعات سے فائدہ اٹھا رہی تھی۔باستیل جیل میں اس وقت بہت کم قیدی موجود تھے لیکن یہ شاہی ظلم، آمریت اور عوامی آزادیوں کی پامالی کی علامت بن چکی تھی۔ ہزاروں شہریوں نے اس پر حملہ کیا، طویل جھڑپ کے بعد قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اس حملے کے بعد فرانس میں انقلابی تحریک مزید مضبوط ہوگئی اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ میرینر 4 مریخ مشن14 جولائی 1965ء کو ناسا کے خلائی جہامیرینر 4 نے پہلی مرتبہ مریخ کے انتہائی قریب کامیاب پرواز کی۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا مشن تھا جس نے کسی دوسرے سیارے کی قریبی تصاویر زمین پر بھیجیں۔ اس مشن کا آغاز 28 نومبر 1964 کو کیا گیا تھا اور تقریباً آٹھ ماہ کے سفر کے بعد یہ مریخ تک پہنچا۔میرینر 4 نے مریخ کی 21 تصاویر زمین پر ارسال کیں۔اس مشن نے مریخ کے ماحول کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کیں۔اس کامیابی نے وائکنگ، پاتھ فائنڈر، کیوراسٹی، پرسیویرنس اورسرخ سیارے کے دیگر مشنز کی بنیاد مضبوط کی اور خلائی تحقیق میں ایک تاریخی سنگِ میل قائم کیا۔ عراق میں انقلاب14 جولائی 1958ء کو عراق میں ایک فوجی انقلاب برپا ہوا ۔ اس انقلاب کی قیادت بریگیڈیئر عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف نے کی۔ اس وقت عراق پر شاہ فیصل دوم کی بادشاہت قائم تھی جبکہ وزیر اعظم نوری السعید تھے۔انقلابی فوجی دستے بغداد میں داخل ہوئے اور شاہی محل پر قبضہ کر لیا۔ اس کارروائی میں شاہ فیصل دوم، ولی عہد شہزادہ عبدالالٰہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد قتل کر دیے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد وزیر اعظم نوری السعید بھی ہلاک ہوگئے ۔ اس واقعے کے بعد خطے میں قوم پرستی، فوجی حکومتوں اور سیاسی تبدیلیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔ سیڈیشن ایکٹ کی منظوری14 جولائی 1798ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میںسیڈیشن ایکٹ نافذ کیا گیا۔اس قانون کے تحت حکومت، کانگریس یا صدر کے خلاف توہین آمیز یا بدنیتی پر مبنی تحریری یا زبانی بیانات کو جرم قرار دیا گیا۔ تاہم ناقدین نے اس قانون کو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔اس قانون کے تحت کئی اخبارات کے مدیران، صحافیوں اور حکومت کے مخالف سیاست دانوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ اس کے باعث امریکی معاشرے میں شدید سیاسی بحث چھڑ گئی۔ بہت سے لوگوں نے دلیل دی کہ یہ قانون امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے خلاف ہے، جو آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے۔بعد میں یہ قانون ختم ہوگیا۔ K2 کی پہلی کامیاب فتح14 جولائی 1954ء کو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 (بلندی 8611 میٹر) پہلی مرتبہ سر کی گئی۔ یہ کارنامہ دو اطالوی کوہ پیماؤں نے انجام دیا۔ 1954ء سے پہلے کئی بین الاقوامی مہمات اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کر چکی تھیں لیکن سب ناکام رہیں یا شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔اطالوی مہم نے طویل منصوبہ بندی، جدید کوہ پیمائی تکنیک اور غیر معمولی جسمانی و ذہنی صلاحیت کے ذریعے یہ تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی عالمی کوہ پیمائی کی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے اور پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں کو بین الاقوامی سطح پر مزید شہرت ملی۔آج بھی K2 کو ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک چوٹی تصور کیا جاتا ہے۔
مریخ کے راز پھر بے نقاب ہونے لگےناسا کی تصویر اور خلائی مخلوق کی نئی قیاس آرائیاںکیا کائنات میں زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے صدیوں سے سائنس دانوں، فلسفیوں اور عام انسانوں کے تجسس کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ جب بھی خلا سے موصول ہونے والی کوئی نئی تصویر یا غیرمعمولی ساخت منظر عام پر آتی ہے تو یہ بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر لیتی ہے۔ حال ہی میں ناسا کی جانب سے مریخ کی سطح سے لی گئی ایک تصویر نے دنیا بھر میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ اس تصویر میں نظر آنے والی ایک پراسرار چٹانی ساخت کو بعض افراد مصنوعی تعمیر یا کسی ذہین مخلوق کے آثار قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین ارضیات اور خلائی سائنس دان اسے قدرتی ارضیاتی عمل کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔ حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر سرخ سیارے پر ممکنہ حیات، خلائی مخلوق اور کائنات کے ان گنت رازوں کے بارے میں عالمی دلچسپی کو نئی مہمیز دے دی ہے۔مریخ کی سطح پر موجود ایک عجیب و غریب شکل کے حامل جسم کی تصویر نے ایک بار پھر سرخ سیارے پر خلائی مخلوق کی موجودگی سے متعلق حیران کن نظریات کو ہوا دے دی ہے۔ یہ تصویر ناسا کے ''اپرچیونٹی (Opportunity) روور‘‘ نے 2014ء میں لی تھی، تاہم حال ہی میں سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہوگئی، جہاں متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ تصویر میں نظر آنے والی شے کسی ''خلائی مخلوق کی بندوق‘‘ سے مشابہت رکھتی ہے۔ویب سائٹ ''UFO Sighting Daily‘‘ سے وابستہ مریخ پر تحقیق کرنے والے اسکاٹ سی وارنگ (Scott C Waring)نے دعویٰ کیا کہ یہ مبینہ ''بندوق‘‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناسا نے مریخ پر روور بھیجنے کا مقصد وہاں موجود خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی حاصل کرنا تھا۔وارنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر لکھا: ''مریخ پر خلائی مخلوق کی بندوق کی تصاویر میں سے اب صرف ایک باقی رہ گئی ہے، جبکہ دیگر تصاویر ناسا نے حذف کر دی ہیں‘‘۔اس سے قبل بھی وارنگ نے اپنے ایک بلاگ میں اس تصویر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مبینہ ہتھیار کی لمبائی تقریباً ایک فٹ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ یہ واقعی حیران کن ہے۔ اس بندوق کی درست جگہ ''ایس او ایل 3773‘‘ پر ہے، جو ماؤنٹ ایجکمب (Mt Edgecumbe) اور وڈوویاک رج (Wdowiak Ridge)کے درمیان واقع ہے۔دوسری جانب ناسا کے مطابق اپرچیونٹی روور نے 25جنوری 2004ء کو مریخ پر کامیاب لینڈنگ کی تھی۔ یہ روور مریڈیانی پلانم (Meridiani Planum) کے علاقے میں واقع ایک چھوٹے تصادمی گڑھے، ایگل کریٹر (Eagle Crater) میں اترا تھا۔تاہم جون 2018ء میں پورے مریخ کو اپنی لپیٹ میں لینے والے شدید گرد و غبار کے طوفان کے باعث سورج کی روشنی روور کے سولر پینلز تک نہ پہنچ سکی، جس کے نتیجے میں اس کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ کئی ماہ تک رابطہ بحال کرنے کی کوششوں کے باوجود ناسا نے فروری 2019ء میں باضابطہ طور پر اس تاریخی مشن کے اختتام کا اعلان کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ ناسا نے اس تصویر کو کبھی بھی خلائی مخلوق یا کسی مصنوعی ہتھیار کا ثبوت قرار نہیں دیا۔ ماہرین کے مطابق مریخ پر نظر آنے والی ایسی بیشتر اشکال قدرتی چٹانی ساختیں ہیں، جنہیں انسانی دماغ بعض اوقات مانوس اشیاء کی شکل میں دیکھتا ہے، جسے نفسیات میں پیریڈولیا (Pareidolia) کہا جاتا ہے۔تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یو ایف او کے محققین کے یہ دعوے محض ''پیریڈولیا‘‘ کا ایک نمونہ ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسانی دماغ بے ترتیب اشکال، چٹانوں یا سائے میں چہروں، جانوروں یا روزمرہ استعمال کی مانوس اشیاء کی شکلیں دیکھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہاں ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہوتی۔دوسری جانب ناسا مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ اب تک اسے خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی مریخ پر موجودہ یا ماضی کی کسی بھی قسم کی حیات کے واضح شواہد دریافت ہوئے ہیں۔اگرچہ اسکاٹ سی وارنگ کو یقین ہے کہ اپرچیونٹی روور نے مریخ کی سطح پر ایک بندوق نما شے کی تصویر محفوظ کی ہے، لیکن بہت سے لوگ اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ''میں کوئی ماہر نہیں ہوں، لیکن میرے خیال میں یہ محض ایک چٹان ہے۔جبکہ ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا: اگر یہ واقعی خلائی مخلوق کی بندوق ہے تو پھر اسے انسانی ہاتھوں اور انگلیوں کے مطابق کیوں بنایا گیا ہوگا؟۔اسکاٹ سی وارنگ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے مریخ پر موجود غیر معمولی شکل و صورت رکھنے والی چٹانوں کو خلائی مخلوق سے جوڑتے رہے ہیں۔ 2016ء میں بھی انہوں نے ایک چٹان کو جوتا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کسی قدیم مخلوق کی باقیات کا ثبوت ہوسکتی ہے۔انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا: مریخ کے روور کی تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے مجھے ایک گڑھے کے کنارے ایک تنہا جوتا دکھائی دیا۔مزید انہوں نے قیاس آرائی کرتے ہوئے کہاکہ ممکن ہے یہ کسی ایسی مخلوق کا جوتا ہو جو بہت پہلے کسی جنگ میں شامل رہی ہو، اور یہ جوتا ہی اس بات کا واحد ثبوت ہو کہ وہ مخلوق کبھی موجود تھی۔وارنگ کے مطابق یہ مبینہ دریافت 24 اگست 2016ء کو سامنے آئی، تاہم جس اصل تصویر کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا، وہ اپرچیونٹی روور نے 2013ء میں مریخ کی سطح سے کھینچی تھی۔
کبھی پنجاب اور سندھ کے تقریباً ہر گائوں میں ایک جوہڑ ضرور ہوتا تھا۔ یہ صرف پانی کا تالاب نہیں بلکہ گائوں کی زندگی کا مرکز ہوتا تھا۔ بارش کا پانی یہیں جمع ہوتا، مویشی سیراب ہوتے، پرندے بسیرا کرتے، کنول کے پھول پانی کی سطح پر لہراتے اور زمین کے نیچے موجود آبی ذخائر بھی انہی جوہڑوں کے ذریعے دوبارہ بھر جاتے تھے۔ وقت بدلا، ترقی کے نام پر زمین کا استعمال بدل گیا، ٹیوب ویل عام ہو گئے، آبادی پھیلتی گئی اور یہ جوہڑ ماضی کا قصہ بنتے چلے گئے۔ آج پاکستان ایک ایسے ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے جس پر ابھی تک سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بحران ملک کے ویٹ لینڈز، یعنی قدرتی آبی اور دلدلی علاقوں کے تیزی سے ختم ہونے کا ہے۔ یہی وہ قدرتی نظام ہیں جو سیلاب کی شدت کم کرتے ہیں، زیرزمین پانی کو دوبارہ بھرنے میں مدد دیتے ہیں، آلودگی کو قدرتی انداز میں صاف کرتے ہیں اور ہزاروں اقسام کے جانوروں اور پرندوں کو زندگی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان خوش قسمت ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرت نے بے شمار ویٹ لینڈز عطا کیے۔ ملک میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل 19 رامسر ویٹ لینڈز موجود ہیں جن میں دریائے سندھ کے سیلابی میدان، شمالی علاقوں کی خوبصورت جھیلیں اور سندھ کے ساحلی مینگرووز شامل ہیں۔ مگر افسوس کہ شہری آبادی میں اضافہ، زرعی تجاوزات، صنعتی آلودگی، دریائوں میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی نے ان قدرتی نعمتوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ رہی کہ ویٹ لینڈز کو اکثر غیر استعمال شدہ یا بیکار زمین سمجھ لیا گیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ علاقے قدرتی اسفنج کی طرح کام کرتے ہیں۔ جب بارشیں زیادہ ہوں تو اضافی پانی جذب کر لیتے ہیں اور خشک موسم میں آہستہ آہستہ وہی پانی زمین اور ماحول کو واپس فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ نظام موجود نہ ہو تو سیلاب زیادہ تباہ کن اور خشک سالی شدید تر ہو جاتی ہے۔پاکستان کے دیہی معاشرے میں جوہڑ اسی قدرتی نظام کا اہم حصہ تھے۔ کنول اور دیگر آبی پودے پانی کو قدرتی طور پر صاف کرتے جبکہ زمین کے اندر پانی کا ذخیرہ مسلسل بڑھتا رہتا۔ بزرگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ ان جوہڑوں میں صرف پانی نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام آباد تھا۔پھر ٹیوب ویلوں کا دور آیا۔ کسانوں نے زیرزمین پانی پر انحصار بڑھا لیا، خاص طور پر شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے بعد پانی نکالنا مزید آسان ہو گیا۔ جب ہر کھیت میں ٹیوب ویل لگ گیا تو جوہڑ غیر ضروری محسوس ہونے لگے۔ ان کی صفائی بند ہوئی، دیکھ بھال ختم ہوئی اور بالآخر کئی جوہڑ مٹی سے بھر دیے گئے یا ان پر مکانات تعمیر کر دیے گئے۔ اس تبدیلی نے ایک ایسا نقصان پہنچایا جس کا احساس آج ہو رہا ہے۔ زیرزمین پانی تو مسلسل نکالا جاتا رہا مگر اسے دوبارہ بھرنے والے قدرتی ذرائع ختم ہوتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں زیرزمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت نے بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا۔ پہلے جوہڑ پورے گائوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوتے تھے، مگر جب آبادی منتشر ہوئی تو اجتماعی نظام بھی ٹوٹ گیا۔ نتیجتاً بہت سے جوہڑوں کو رہائشی اور زرعی زمین میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہی صورتحال بڑے شہروں کے گرد موجود قدرتی ویٹ لینڈز کے ساتھ بھی پیش آئی، جہاں ہائوسنگ سوسائٹیز اور سڑکوں نے قدرتی آبی راستوں کو ختم کر دیا۔ایک اور مسئلہ آلودگی کا ہے۔ ماضی میں دیہات کا فضلہ جوہڑوں میں آتا تھا جہاں قدرتی حیاتیاتی عمل اسے کافی حد تک صاف کر دیتا تھا، مگر جدید دور کے پلاسٹک، کیمیائی مادوں اور صنعتی فضلے نے اس قدرتی نظام کی صلاحیت کو ختم کر دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان قدرتی آبی ذخائر کو بحال کرنے کے بجائے انہیں ہی ختم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں آج بغیر صاف کیا گیا گندا پانی براہِ راست نہروں اور دریائوں میں شامل ہو رہا ہے۔ویٹ لینڈز کی تباہی کا سب سے بڑا اثر موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں سامنے آ رہا ہے۔ دریائوں کے کنارے موجود قدرتی سیلابی میدان پہلے اضافی پانی کو جذب کر لیتے تھے، مگر اب ان پر بند، سڑکیں اور آبادیاں قائم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح سندھ کے ساحلی علاقوں میں موجود مینگرووز کے جنگلات بھی تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دریائے سندھ سے میٹھے پانی کی کم ہوتی مقدار اور سمندر کے بڑھتے ہوئے دبائو نے ان جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صرف کنکریٹ کے ڈیموں، بندوں اور مہنگے منصوبوں پر انحصار کرنے کے بجائے قدرتی نظام کو بحال کرنے پر توجہ دے تو کم لاگت میں زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ''ری چارج پاکستان‘‘ جیسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ویٹ لینڈز کی بحالی، قدرتی سیلابی میدانوں کی حفاظت اور زیرزمین پانی کی ری چارجنگ کو فروغ دینا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ ہماری اپنی روایات میں موجود ہے۔ اگر دیہی علاقوں کے پرانے جوہڑ دوبارہ بحال کر دیے جائیں، ان پر قبضے ختم کیے جائیں اور مقامی آبادی کو ان کی دیکھ بھال میں شریک کیا جائے تو نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے بلکہ سیلابی خطرات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔اصل ضرورت سوچ بدلنے کی ہے۔ جب تک ویٹ لینڈز کو بیکار زمین سمجھا جاتا رہے گا، ان کا تحفظ ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمین نہیں بلکہ پانی، ماحول، زراعت، جنگلی حیات اور انسانی زندگی کے محافظ ہیں۔ آج اگر ہم نے ان قدرتی آبی نظاموں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہ کی تو آنے والی نسلوں کو صرف پانی کی کمی ہی نہیں بلکہ زیادہ تباہ کن سیلاب، بڑھتی ہوئی آلودگی اور شدید موسمی خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔قدرت نے پاکستان کو پانی محفوظ رکھنے کے بے شمار قدرتی طریقے عطا کیے تھے، مگر ہم نے ترقی کے نام پر انہی محافظوں کو ختم کر دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک بار پھر جوہڑوں، دلدلی علاقوں، سیلابی میدانوں اور مینگرووز کی اہمیت کو سمجھیں۔ کیونکہ جب ویٹ لینڈز ختم ہوتے ہیں تو صرف تالاب خشک نہیں ہوتے، بلکہ ایک پوری قوم اپنی قدرتی حفاظتی ڈھال سے محروم ہو جاتی ہے۔
انیسویں صدی سیاسی اور معاشرتی سطح پر انتشار اور ابتری کی صدی تھی مگر تخلیقی اعتبار سے یہ زمانہ خاصا تابناک رہا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026:سیمی فائنل مرحلہ:فائنل میں رسائی کیلئے 4بہترین ٹیمیں آمنے سامنے پہلے سیمی فائنل میں فرانس اور سپین 15 جولائی کو مد مقابل ہوں گے
لاہور ہائی کورٹ میں اصلاحات ،جدید عدالتی نظام اور فوری انصاف کا نیا باب:دوسالہ دور میں عدالتی ،انتظامی ،ڈیجیٹل اور انفراسٹرکچر اصلاحات کی نئی تاریخ رقم
فراز اپنے چھوٹے بھائی سرمد سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ جہاں بھی جاتا، سرمد کا خیال رکھتا اور اپنی ہر چیز اسے دیتا لیکن اس قدر پیار کے باوجود، سرمد کی کچھ عادات فراز کو سخت ناپسند تھیں۔