اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت منعقد ہونے والی پہلی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت منعقد ہونے والی پہلی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
سیاسی قیادت اور تکنیکی ٹیمیں آئندہ رابطوں کے فریم ورک پر بھی متفق ، چاروں فریق پیشرفت پرمطمئن :امریکی سفارتکار، ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایرانی وفد کا مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت اور ہاتھ ملانے سے انکار ، تعطل کے بعددوبارہ بات چیت وواپس روانگی قطر کا مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم، پہلا دور 80 منٹ تک جاری رہا :ایرانی میڈیا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ایرانی و امریکی وفد کی الگ الگ ملاقات، ایران نے لبنان میں اپنی پراکسیز کو نہ روکا تو دوبارہ سخت حملہ کر ینگے :ٹرمپ، دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے :قالیباف
ایچ ای سی 66 ارب ، پوسٹ آفس 25 ارب ، دفاعی خدمات کیلئے 3 ہزار ارب سے زائد کے مطالبات زر شامل، خزانہ، داخلہ سمیت 7 وزارتوں کے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحریکیں پیش ہوئیںپی ایم ہاؤس کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا:طارق فضل ،مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید نہیں ہونی چاہیے :علی محمد ،،اقتدار میں ہوں تو پولیس ہمارے آگے ،باہر ہوں توپیچھے ہوتی ہے :وزیر دفاع
قاہرہ اجلاس ،پاکستان کے سفارتی کردار کا عالمی اعتراف، مصر، سعودی عرب، ترکیہ کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم وعدوں پر مکمل عملدرآمد ضروری ،فلسطینی مسئلے کی مرکزی حیثیت کا اعادہ،اعلامیہ، امریکا ایران کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا، ڈار
پی پی ، ایم کیو ایم نورا کشتی میں لگے ہوئے ،ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا،قوم حقوق کے حصول کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دےوزیراعظم 41 ہزار میں گھر کا خرچہ چلاکر دکھائیں، علماسودی نظام کے خلاف متحد ہوں،ممبر شپ ڈرائیو کیمپوں کا دورہ ،خطاب
والد کی محبت و دعائیں حصار میں لیے رہتیں،میرے والد نواز شریف میرے رہنما، قائد اور طاقت :وزیراعلیٰموسیقی محبت کا پیغام سرحدوں کے پار پہنچا تی ،بینظیر شہید کی جمہوریت سے وابستگی بے مثال:خصوصی پیغام
پہلی خاتون وزیرِاعظم نے خواتین قیادت کے دروازے کھولے ،زرداری مشن آگے بڑھائینگے ، بینظیر مظلوموں کی آواز،امید تھیں:پیغامات
کوئی امن نہیں ہوگا، ایران سے جھگڑا چلے گا، وہ حزب اللہ، حماس کی مدد کریگاگلف کی سکیورٹی میں بھی پاکستان کاکردار اہم :آج کی بات سیٹھی کے ساتھ
ریمارکس بلاجوازہیں ،صدر پاکستان کو اندرونی معاملے پر بات کرنیکا حق نہیں:بھارتصد ر نے بھارت میں صدیوں پرانی مساجد گرائے جانے پر اظہار تشویش کیا تھا
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قائم ''ایمبو ڈائیڈ انٹیلی جنس انویشن انڈسٹریل پارک‘‘ (embodied intelligence innovation industrial park) جدید ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف صنعتی ترقی کی نئی سمتوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ مستقبل کی معیشت اور صنعت کا انحصار ذہین مشینوں اور خودکار نظاموں پر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس جدید صنعتی پارک میں مختلف ادارے اور ماہرین ایک ہی پلیٹ فارم پر کام کرتے ہوئے ایسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہے ہیں جو انسان اور مشین کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر اور عملی بنا رہے ہیں۔یہ صنعتی پارک نہ صرف تحقیق اور ترقی کا مرکز ہے بلکہ اسے مستقبل کی اس ٹیکنالوجی کا عملی نمونہ بھی سمجھا جا رہا ہے جہاں مشینیں انسانی ماحول میں خودمختار انداز میں کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔اس پارک میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کو ایک ہی جگہ پر جمع کیا گیا ہے تاکہ ایمبو ڈائیڈ انٹیلی جنس یعنی جسم میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے جدت لائی جا سکے۔ اس ماڈل کے ذریعے تحقیق، تجربات اور صنعتی پیداوار کے درمیان فاصلہ کم کر دیا گیا ہے، جس سے نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری کی رفتار نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔پارک کے اندر جدید ہیومنائیڈ روبوٹس نے حقیقی ماحول میں مختلف کام انجام دیئے۔ یہ روبوٹس نہ صرف اشیاء کو اٹھانے، منتقل کرنے اور ترتیب دینے جیسے کام کرتے ہیں بلکہ ٹیلی آپریشن کے ذریعے پیچیدہ صنعتی عمل بھی انجام دیتے ہیں۔ بعض مظاہروں میں انہیں انسانی حرکات کی نقل کرتے، کھیل کھیلتے اور مختلف انٹرایکٹو سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت ''ہائی ڈینسٹی انوویشن کلچر‘‘ ہے، جس کے تحت مختلف ادارے ایک ہی جگہ پر موجود ہونے کی وجہ سے باہمی تعاون، ڈیٹا شیئرنگ اور تجرباتی ترقی کا عمل تیز ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ماڈل نے روایتی تحقیقاتی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے، جہاں ہر مرحلہ الگ تھلگ ہوتا تھا۔چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ''embodied intelligence‘‘ مستقبل کی صنعت کا بنیادی ستون بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے روبوٹس کو صرف ڈیجیٹل سطح تک محدود رکھنے کے بجائے حقیقی دنیا میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے بلکہ لاجسٹکس، صحت، اور خدمات کے شعبوں میں بھی بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔مجموعی طور پر یہ صنعتی پارک اس بات کی واضح مثال ہے کہ چین مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں عالمی قیادت حاصل کرنے کیلئے کس قدر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو مستقبل میں انسان اور مشین کے درمیان تعاون کا نیا دور شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں روبوٹس روزمرہ زندگی اور صنعتی نظام کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔
ماہرین نے چاکلیٹ کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ بتادیاچاکلیٹ دنیا بھر میں پسند کی جانے والی غذاؤں میں شمار ہوتی ہے، مگر اس کی حفاظت اور ذخیرہ کرنے کے طریقے پر عرصہ دراز سے بحث جاری ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ چاکلیٹ کو گرمی سے بچانے کیلئے فریج میں رکھنا ضروری ہے، جبکہ دوسرے اسے الماری یا کمرے کے درجہ حرارت پر محفوظ رکھنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اب اس دلچسپ بحث میں سائنسدانوں نے بھی حصہ لیا ہے اور تحقیق کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ چاکلیٹ کے ذائقے، خوشبو، ساخت اور معیار کو برقرار رکھنے کیلئے کونسا طریقہ زیادہ موزوں ہے۔ ان کی رائے نے نہ صرف چاکلیٹ کے شوقین افراد کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ خوراک کے ماہرین میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔یہ ایک ایسی بحث ہے جس نے لوگوں کو دو مختلف گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اگرچہ بہت سے افراد کا خیال ہے کہ چاکلیٹ کمرے کے درجہ حرارت پر زیادہ لذیذ لگتی ہے، لیکن دوسرے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فریج میں رکھی ہوئی چاکلیٹ زیادہ مزے دار اور اطمینان بخش محسوس ہوتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر چارلس سپینس کے مطابق چاکلیٹ فریج میں رکھنے کے بعد زیادہ مزیدار محسوس ہوتی ہے۔چاکلیٹ کو ٹھنڈا کرنے سے نہ صرف اس کا ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ اس کی ساخت بھی زیادہ دلکش ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عموماً ایسی غذاؤں کو پسند کرتے ہیں جو کھاتے وقت کچھ آواز پیدا کریں۔ چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جب آپ ٹھنڈی چاکلیٹ کی بار توڑتے ہیں تو اس سے زیادہ واضح اور خوشگوار ''چٹخنے‘‘ کی آواز آتی ہے۔یہ مشورہ بہت سے لوگوں کیلئے حیران کن نہیں ہوگا، کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر اکثر چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک ٹک ٹاک صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ میں کسی کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر آپ چاکلیٹ فریج میں نہیں رکھتے تو پھر میں آپ سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔پروفیسر چارلس سپینس کے مطابق چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے فوائد تین جہتوں پر مشتمل ہیں۔خوشگوار ''چٹخنے‘‘کی آواز کے علاوہ، وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ٹھنڈی چاکلیٹ منہ میں نسبتاً آہستہ آہستہ پگھلتی ہے۔ اس کے نتیجے میں چاکلیٹ کا ذائقہ اور لطف زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے اور اسے کھانے کا تجربہ زیادہ خوشگوار، پرلطف اور تسکین بخش محسوس ہوتا ہے۔یعنی فریج میں رکھی گئی چاکلیٹ نہ صرف بہتر ساخت اور آواز فراہم کرتی ہے بلکہ اس کے آہستہ پگھلنے کی وجہ سے اس کے ذائقے سے لطف اندوز ہونے کا وقت بھی بڑھ جاتا ہے۔مزید یہ کہ چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے پیچھے ایک نفسیاتی پہلو بھی کارفرما ہوتا ہے۔ پروفیسر چارلس کے مطابق ''فریج سے نکالی گئی غذائیں عموماً تازگی کا احساس دلاتی ہیں، اور ہم سب تازہ خوراک پسند کرتے ہیں‘‘۔پروفیسر چارلس سپینس کا یہ مشورہ ان 80 فیصد چاکلیٹ شائقین کیلئے خوش آئند ہے جو ایک حالیہ سروے کے مطابق گرمیو ں میں اپنی چاکلیٹ پہلے ہی فریج میں رکھتے ہیں۔چاکلیٹ کمپنی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں 2ہزار برطانوی شہریوں سے رائے لی گئی۔ نتائج کے مطابق 69 فیصد افراد چاکلیٹ کو اس لیے فریج میں رکھتے ہیں تاکہ وہ بہت جلد نہ پگھلے، جبکہ 51 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں ٹھنڈی چاکلیٹ کی کرکری ساخت اور اسے توڑنے پر پیدا ہونے والی خوشگوار ''چٹخ‘‘ کی آواز بے حد پسند ہے۔کیا چاکلیٹ صحت کیلئے مفید ہے؟چاکلیٹ بلاشبہ لوگوں کی پسندیدہ غذائی کمزوریوں میں سے ایک ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ہماری صحت کیلئے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتی ہے۔چاکلیٹ میں 300 سے زائد کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں، اسی لیے سائنسدان اس سے وابستہ مختلف طبی فوائد پر تحقیق کر رہے ہیں۔ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے 65 سال سے زائد عمر کے 8ہزارافراد کا مطالعہ کیا اور معلوم کیا کہ جو افراد معتدل مقدار میں چاکلیٹ کھاتے تھے، وہ چاکلیٹ نہ کھانے والوں کے مقابلے میں تقریباً ایک سال زیادہ زندہ رہے۔ ڈاکٹر نیل مارٹن نے مختلف خوشبوؤں کے ذریعے لوگوں کے دماغی ردعمل کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ چاکلیٹ کی خوشبو میں موجود کیمیائی مرکبات ناک کے حسّی خلیات پر اس قدر اثر انداز ہوتے ہیں کہ انسان خوشی اور سرشاری محسوس کرنے لگتا ہے۔100 گرام ڈارک چاکلیٹ میں 2.4 ملی گرام آئرن اور 90 ملی گرام میگنیشیم موجود ہوتا ہے، جو روزانہ درکار مقدار کا تقریباً ایک تہائی ہے۔اس کے برعکس، وائٹ چاکلیٹ میں کوکو کے ٹھوس اجزا موجود نہیں ہوتے، صرف کوکو بٹر شامل ہوتا ہے، اور اس میں چکنائی کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ 100گرام وائٹ ٹوبلیرون بار میں تقریباً 540 کیلوریز اور 30.7 گرام چکنائی موجود ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دانتوں کے ماہرین کے مطابق چاکلیٹ، زیادہ تر دوسری مٹھائیوں کے مقابلے میں دانتوں کیلئے کم نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ اسے عام طور پر جلدی چبا کر کھا لیا جاتا ہے، جبکہ دیگر مٹھائیاں دیر تک منہ میں رکھی جاتی ہیں۔ چاکلیٹ میں قدرتی طور پر پائے جانے والے اجزاء دانتوں پر پلاک (جراثیمی تہہ) بننے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دیتے ہیں۔چاکلیٹ میں فینائل ایتھائل امین (PEA) نامی مادہ بھی پایا جاتا ہے، جو دماغ میں قدرتی طور پر بننے والے مادے سے مشابہت رکھتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیروٹونن اور اینڈورفنز جیسے خوشی پیدا کرنے والے کیمیکلز کی سطح بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔اسی طرح تھیوبرومین کیمیائی طور پر کیفین سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ مرکزی اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے اور مزاج کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
شادی کے بعد سے اس بات پر غور کرنے کی کچھ عادت سی ہو گئی ہے کہ شادی کرنا کوئی دانشمدانہ فعل ہے یا حماقت! یعنی اگر یہ دانشمندی ہے تو پھر بعض اوقات اپنے بے وقوف ہونے کا بے ساختہ احساس کیوں ہونے لگتا ہے اور اگر یہ حماقت ہے تو اس حماقت میں دنیا کیوں مبتلا نظر آتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ کوئی غور کرنے کی بات تھی تو شادی سے پہلے غور کیا ہوتا۔ مگر میرا خیال یہ ہے کہ غور کرنے کا شعور عام طور پر شادی کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے۔ ورنہ اس دنیا سے شادی کی رسم کب فنا ہو چکی ہوتی۔ یہاں تک پہنچنے کے بعد ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ شادی ہو چکنے کے بعد اس پر غور کرنے سے فائدہ ہی کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا فائدہ ایک شادی شدہ انسان کو تو خیر نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن خلق اللہ کو فائدہ پہنچنے کا قوی امکان موجود ہے۔ جس طرح دنیا کے تمام تجربے حاصل کرنے والے بنی نوع انسان کے محسن ہیں۔ اسی طرح ہم شادی شدہ لوگ بھی آئندہ نسلوں کے محسن ہو سکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ نسلیں،دیکھیں ہمیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔ یقیناً وہ عظیم المرتبت شخص ہم سب کا محسن تھا جس نے سب سے پہلے زہر کھاکر مرنے کا تجربہ کیا اور دنیا کو زہر کے متعلق یہ شعور عطا کیا کہ اس کے کھانے سے آدمی مرجاتا ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی شادی اس لیے کی ہے کہ غیر شادی شدہ ہم کو دیکھیں کہ شادی کرنے کے بعد انسان وہ ہوجاتا ہے جو ہم ہو گئے ہیں۔شادی تو خیر ایک مستقل مبحث بلکہ ایک فن مکمل ہے۔ اس صحرا کا صرف ایک ذرّہ اور اس قلزم کا صرف قطرہ اس وقت موضوع بحث ہے۔ یعنی بیوی بھی نہیں بلکہ بیوی کے رشتہ دار، اب اگر آپ اس ذرّے کی وسعتوں اور اسی قطرہ کی گہرائیوں پر غور کریں تو چیخ اُٹھیں گے۔اسی قطرہ میں دریا ہے اسی ذرّے میں صحرا ہے۔ بیوی کے رشتہ دار ایک شادی شدہ انسان کیلئے عام طور پر سانپ کے منہ والی چھچھوندر ثابت ہوتے ہیں جن کو نہ اگلا جائے نہ نگلا جاسکتا کہ وہ بیوی کے رشتہ دار ہیں۔ اور نگلا اس لئے نہیں جاسکتا کہ اپنے رشتہ دار نہیں ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کے متعلق ایک آدمی کو ہر وقت اگلنے یا نگلنے کااختیار حاصل رہتا ہے۔ ان سے دل خوش ہے، طبیعت میل کھا رہی ہے۔ دل قبول کر رہا ہے تو تعلقات قائم ہیں، ورنہ بہانہ ڈھونڈھ کر لڑ لئے۔ وہ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش، لیکن بیوی کے رشتہ داروں کے متعلق تو یہ گویا ایک طے شدہ بات ہے کہ ان سے ہر حال میں تعلقات رکھنا ہیں۔ ان سے خلوص کا اظہار کرنا ہے، ان کی مدارات میں دل، جگر اور آنکھوں کے فرش بچھاکر ان پر جذبات کے گاؤ تکیے لگانا ہیں۔ اگر وہ بڑے ہیں تو سعادت مندی کے ان کو وہ جوہر دکھانا ہیں جو خود ان کی ذاتی اولاد سے ممکن نہ ہوں۔ اگر برابر کے ہیں تومحبت کا وہ اظہار کرنا ہے کہ وہ بھی منافقت کے قائل ہو جائیں۔ اگر چھوٹے ہیں تو اس قسم کی شفقت کرنا ہے جس میں گستاخی کا کوئی امکان نہ ہو۔البتہ اگر ادب کا پہلو نمایاں ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس قسم کی زبردستی اور نفس کشی سے ایک انسان کس حد تک جرائم پیشہ ہو جاتا ہے۔ یعنی اس کی اخلاقی جرات فوت ہو جاتی ہے، ضمیر کی زبان پر فالج گر جاتا ہے۔ ایمانداری اختلاج میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بحیثیت مجموعی وہ انسان اگرکچھ باقی رہ جاتا ہے توصرف منافق، دروغ باف اور ایک حد تک ڈرپوک بھی۔ کچھ بھی ہو بیوی کے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات رکھنا ہی پڑتے ہیں۔ خواہ دل ہی دل میں وہ خودکشی یا فرار کے امکانات پر کتنا ہی غور کیوں نہ کرے۔ بیوی کے رشتہ داروں کی بھی عجیب عجیب قسموں سے ایک بیوی والے کو دوچار ہونا پڑتاہے۔ ان میں سے موت کا درجہ تو کم وبیش سب ہی کو حاصل ہوتا ہے۔بعض ہوتے ہیں محض موت، بعض ناگہانی موت، بعض غریب الوطنی کی موت اور بعض ہر حال میں ملک الموت، محض موت تو خاص خاص لوگ ہوتے ہیں جن کا ایک انسان تقریباً عادی ہو جاتا ہے مثلاً بیوی کے والد، بھائی، ماں، خالہ، چچا، چچی، ماموں اور ممانی وغیرہ۔ ناگہانی موت وہ رشتہ دار ہوتے ہیں جن کا کوئی علم ہی نہیں ہوتا۔
٭...یکم اکتوبر 1936ء کو رام پور (ہندوستان)میں پیدا ہونے والے عبید اللہ بیگ کا اصل نام حبیب اللہ بیگ تھا۔٭...ان کا خاندان 1951ء میں ہجرت کر کے پاکستان آیا، اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔٭...ان کے والد محمود علی بیگ بھی علم دوست شخصیت تھے اور یوں گھر ہی میں مطالعے کی طرف رجحان ہوا اور کتابیں پڑھنے کا شوق پروان چڑھا۔٭...1951ء میں ان کا خاندان بھارت کے شہر رام پور سے نقل مکانی کر کے پاکستان آیااورکراچی میں سکونت اختیار کی۔ ٭...انھیں پاکستان کے علمی و ادبی حلقوں اور ذرائع ابلاع میں وہ احترام حاصل تھا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔٭...وہ صحافی، مدیر، ایڈورٹائزر، براڈ کاسٹر، دستاویزی فلم ساز، ٹی وی رپورٹر، شکاری، سیاح، ناول نگار، ڈرامہ نگار، سکرپٹ و فیچر رائٹر اور ماہر ماحولیاتی ابلاغِ عامّہ بھی تھے۔٭...ہمہ جہت شخصیت کے مالک عبید اللہ بیگ علم و ادب کے شیدائیوں کیلئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے۔ ٭...عبید اللہ بیگ فارسی، عربی اور انگریزی زبانیں بھی جانتے تھے۔٭...متعدد پروگراموں کی کمپیئرنگ بھی کی، جن میں پگڈنڈی، منزل، میزان، ذوق آگہی اور جواں فکر کے علاوہ اسلامی سربراہ کانفرنس بھی شامل ہیں۔٭...ٹیلی ویژن کے بعد وہ ماحولیات کے تحفظ کی غیر سرکاری تنظیم سے منسلک ہوئے اور بقائے ماحول کیلئے رپورٹنگ کے ساتھ بطور ماہر ابلاغ تربیت دینے کا کام کیا۔ ٭... ایک جریدہ ''ٹی وی نامہ‘‘ بھی جاری کیا۔ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔٭...فلسفہ، تاریخ، تہذیب و تمدن، سیاحت، ماحولیات، ادب کے ہر موضوع پر عبیداللہ بیگ کے بات کرنے کا انداز بھی منفرد اور دلچسپ تھا۔٭...وہ ایک ادیب بھی تھے جن کا پہلا ناول ''اور انسان زندہ ہے‘‘ 60ء کی دہائی میں شائع ہوا۔ دوسرا ناول ''راجپوت‘‘ 2010ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے شائع کیا۔٭... ایک بہترین مترجم بھی تھے۔ انہوں نے کئی اہم کتابوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا، جن میں تاریخ، فلسفہ، نفسیات، سوشیالوجی اور سائنسی موضوعات شامل تھے۔٭...حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں ان کی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازاگیا۔٭...22 جون 2012ء کو عبید اللہ بیگ نے دارِ فانی کو خیرباد کہا ۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور وفات سے چند ماہ پہلے پیٹ کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔عبیداللہ بیگ کی دستاویزی فلمیںعبید اللہ بیگ کی ایک پہچان دستاویزی فلمساز کی بھی ہے ۔سرکاری ٹی وی پر ''کسوٹی‘‘ سے پہلے ''سیلانی‘‘ بھی ان کا ایک فلمی دستاویزی سلسلہ تھا جو بہت مشہور ہوا۔ سرکاری ٹی وی کیلئے تین سو سے زائد دستاویزی فلمیں بنائیں جن کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور انہیں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ 1982ء میں ان کی فلم ''وائلڈ لائف اِن سندھ‘‘ کو 14 بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔ عورتوں کے مسائل پرمبنی فلم کو 18 زبانوں میں ڈھال کر پیش کیا گیا۔ سندھ میں قدرتی حیات اور ماحول سے متعلق ان کی دستاویزی فلمیں بہت شاندار ہیں اور اس کام پر انھیں ایوارڈ بھی دیئے گئے۔
48 ٹیموں کو 12گروپوں میں تقسیم کیا گیا،104 میچ کھیلے جائیں گے
پرانے زمانے کی بات ہے، ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچا۔ پچھلے وقتوں میں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتا، سب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا، اپنا سارا سامان تجارت دکھاتا اور اس کی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتا تھا۔
گرمیوں کا موسم آتے ہی بازاروں میں طرح طرح کے رنگ برنگے پھل نظر آنے لگتے ہیں۔ ان میں ایک نہایت لذیذ، خوشبودار اور رسیلا پھل لیچی بھی شامل ہے۔