اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی، جبکہ سماعت کےدوران سائفر کیس میں بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی، جبکہ سماعت کےدوران سائفر کیس میں بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
ڈپٹی چیئرمین آئی سی سی عمران خواجہ کے چیئرمین بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ امین السلام اور محسن نقوی سے طویل مذاکرات ،چیئرمین پی سی بی آج یاکل شہباز شریف سے ملاقات کریں گے پاکستان کی کڑی شرائط ،بنگلہ دیش کی مالی معاونت اور آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی دینے کامطالبہ،امارات بورڈ نے کرکٹ کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنے کی سفارش کی :ذرائع
محفوظ بسنت کا تصوردوسرے شہروں میں بھی اپنایا جائیگا،وزیراعلیٰ کا بسنت کے موقع پر حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے پر اہل لاہور کو خراج تحسین لاہور میں 9لاکھ گاڑیو ں کی انٹری،اورنج ٹرین اورسرکاری بسوں پر 14لاکھ افراد کا فری سفر ،چھت سے گرنے اورکرنٹ لگنے سے صحافی سمیت 5جاں بحق،10زخمی
کوئٹہ میں کاروباری مراکز بند ،215 کارکن ورہنما گرفتار ، پختونخوا میں مکمل ہڑتال،لاہور کراچی سمیت بڑے شہر کھلے رہے عوام نے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو واضح پیغام دیدیا:سہیل آفریدی ، انتشاری سیاست مسترد ہوئی:امیر مقام ، عطاتارڑ
اکثریت حاصل کرنا عیب نہیں،عوام کی طاقت پر کریں تو ہمیں قبول ہوگا نیتن کیساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے :ورکرز کنونشن سے خطاب
دہشتگردی کیخلاف تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر اقدامات اٹھانا ہونگے فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں ،غزہ بورڈ شمولیت کا فیصلہ واپس لیں، خطاب
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ہونیوالے دہشتگردی کے وا قعہ پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار پرعالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم پر زوردیا ہے ۔
صوبے کے مسائل سمجھے بغیر حل تلاش نہیں کیا جاسکتا:عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاببلوچستان پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا،صوبے میں مصنوعی قیادت بنائی گئی :اختر مینگل
ہوٹلز کی بکنگ ڈبل ریٹس پر مکمل رہی،تقریباً 10ارب کی خریدو فروخت 5 فروری تک ڈورپنا 10سے 15 ،سات فروری تک25ہزار میں فروخت 90فیصد موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈ ز ،ڈرونز سے مکینوں کی چھتوں کی نگرانی اندرون وشمالی لاہور ،انارکلی میں15لاکھ گھروں کی چھتوں پر بسنت منائی گئی
انسانی تاریخ میں خلا کو تسخیر کرنے کا خواب ہمیشہ سے موجود رہا ہے، مگر جدید دور میں ایلون مسک کے مریخ پر انسانی بستی بسانے کے منصوبے نے اس خواب کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ تاہم ماہرین کی تازہ آرا اس خواب کی ایک ہولناک حقیقت کی نشاندہی کر رہی ہیں، جس میں مریخ تک کا طویل اور کٹھن سفر انسانی جسم کیلئے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ خلائی تابکاری، کششِ ثقل کی کمی، ذہنی دباؤ اور جسمانی نظام کے بکھرنے جیسے عوامل وہ قیمت ہیں جو انسان کو اس جرات مندانہ مہم کے عوض چکانا پڑ سکتی ہے۔ یہ منصوبہ جہاں سائنسی ترقی کی علامت ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا انسان واقعی اس قدر بڑی قربانی دینے کیلئے تیار ہے، یا مریخ کا سفر انسانی وجود کیلئے ایک ناقابلِ تصور آزمائش ثابت ہوگا؟جسمانی ساخت میں تبدیلی سے لے کر مدافعتی نظام کے تباہ کن دباؤ اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں تک، انسانیت کا مریخ پر آباد ہونا انسانی جسم کیلئے بے شمار مسائل لے کر آ سکتا ہے۔ ایلون مسک کا ماننا ہے کہ 2050ء تک مریخ پر انسانی بستی قائم کرنا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم رائس یونیورسٹی کے پروفیسر اسکاٹ سولو من ( professor Scott Solomon ) کے مطابق اس سے قبل کئی بڑے چیلنجز اور بنیادی سوالات ایسے ہیں جن کے جوابات ملنا ابھی باقی ہیں، اس سے پہلے کہ مریخ پر مستقل انسانی موجودگی کو سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا سکے۔ اپنی آنے والی کتاب ''Becoming Martian: How Living in Space Will Change Our Bodies and Minds‘‘ میں سولو من اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سب سے اہم اور اب تک حل طلب سوال یہ ہے کہ آیا انسان زمین کے باہر افزائشِ نسل کے قابل ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ کمزور یا تقریباً نہ ہونے والی کششِ ثقل اور زمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ تابکاری والے ماحول میں، خلا یا کسی دوسرے سیارے پر بچے کی پیدائش ممکن بھی ہے یا نہیں۔اپنی کتاب میں سولو من وضاحت کرتے ہیں کہ خلا میں انسانوں کے درمیان جنسی تعلقات کا کوئی مصدقہ واقعہ سامنے نہیں آیا، اور کم کششِ ثقل کے ماحول میں جنین کی نشوونما اور بچے کی پیدائش کے بارے میں تحقیق بھی نہایت محدود ہے۔ مریخ پر نسل در نسل زندگی گزارنے کے ارتقائی اثرات بھی تاحال نامعلوم ہیں، تاہم سولو من کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ انسان وقت کے ساتھ قد میں چھوٹے ہو جائیں گے اور شاید زمین پر واپس آنے کے قابل بھی نہ رہیں۔ایک انٹرویو میں پروفیسر اسکاٹ سولو من نے کہا کہ ہم اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انسان واقعی خلا کی گہرائیوں تک جانے کی سرحدوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔میرے خیال میں قارئین کیلئے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جائیں تو آگے کیا ہو سکتا ہے۔ یہی وہ کہانی ہے جو میں یہاں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آیئے تصور کریں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔اپنی کتاب کیلئے تحقیق کے دوران سولو من نے ناسا، اسپیس ایکس اور خلا کی تحقیق پر کام کرنے والے دیگر اداروں اور کمپنیوں کے درجنوں ماہرین سے گفتگو کی۔ اس عمل کے دوران اُن کیلئے سب سے حیران کن حقیقت یہ سامنے آئی کہ خلا میں افزائشِ نسل کے بارے میں ہمارا علم نہایت محدود ہے۔ پروفیسر کے مطابق،کسی دوسرے سیارے یا خلا میں کہیں ایک بستی یا شہر بسانے کا تصور دراصل یہ مفروضہ قائم کرتا ہے کہ لوگ وہاں جا کر بچے پیدا کر سکیں گے اور ایک خاندان کی پرورش کر پائیں گے۔ کیا ہم مریخ پر بچے پیدا کر سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ سوال ابھی تک کھلا ہوا ہے۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے، یا اگر جواب اثبات میں ہے مگر اس کے ساتھ سنگین مسائل جڑے ہوئے ہیں، تو ہمیں یہ سب کچھ جان لینا چاہیے، میرے خیال میں، اس سے پہلے کہ ہم زمین سے باہر مستقل انسانی آبادیاں بسانے کے عملی منصوبوں کی طرف قدم بڑھائیں۔مریخ پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہے۔ خلا میں وقت گزارنے والے خلا بازوں پر کی گئی وسیع تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کم کششِ ثقل والے ماحول میں ہڈیوں کی کثافت کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ پر رہنے والی خواتین کی ہڈیاں زیادہ نازک ہوں گی، جو بچے کی پیدائش کے دوران ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زچگی بذاتِ خود ایک پرخطر عمل ہے، لہٰذا ہم ایسے منظرنامے کا تصور کر سکتے ہیں جہاں مریخ پر پیدا ہونے والی خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ کہیں زیادہ ہو گا۔
جنت نظیر وادی کشمیر زندہ احساس کا نام ہے۔ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان گھری یہ وادی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے زمین پر جنت کہلاتی ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر نے جب یہاں کے حسن کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھا تھا کہ اگر زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے۔ڈل جھیل سری نگر کی پہچان اور یہاں کی معیشت و ثقافت کا مرکز ہے۔ جھیل کے شفاف پانی پر تیرتے شکارے اور عالیشان ہاؤس بوٹس ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جو خوابوں سے کم نہیں۔کچھ لوگ ڈل جھیل کو لداخ کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ حقیقتاً لداخ میں نہیں بلکہ سری نگر وادی کشمیر کا دل کہلاتی ہے۔ لداخ اپنی خوبصورت جھیلوں جیسے پینگونگ کے لیے مشہور ہے لیکن شکارے اور کشمیری چائے کا جادو سری نگر کی ڈل جھیل سے وابستہ ہے۔بہت سے سیاحوں کا خواب ہوتا ہے کہ وہ غروبِ آفتاب کے وقت ڈل جھیل کے خاموش پانیوں میں شکارے پر سوار ہوں اور ہاتھ میں کشمیری قہوہ یا نون چائے یعنی گلابی چائے کا پیالہ ہو۔ یہ چائے کشمیری مہمان نوازی کی علامت ہے۔ طویل وقت میں پکنے والی یہ چائے بادام، پستے اور زعفران کی خوشبو سے مہکتی ہے جو جھیل کی ٹھنڈی ہواؤں میں عجیب سی تپش اور سکون بخشتی ہے۔کشمیر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جس کا ذکر قدیم سنسکرت کتابوں اور یونانی مورخین کے ہاں ملتا ہے۔ ہندو اور بدھ مت دور میں قدیم کشمیر علم و ادب کا مرکز تھا۔ اشوک اعظم کے دور میں یہاں بدھ مت پھیلا۔ کلہن کی مشہور کتاب راج ترنگنی کشمیر کی قدیم تاریخ کا سب سے مستند ماخذ مانی جاتی ہے۔چودہویں صدی میں صوفیائے کرام، بالخصوص حضرت شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی آمد سے کشمیر میں انقلاب برپا ہوا۔ انہوں نے اسلام پھیلایا بلکہ ایران سے ہنرمند لا کر کشمیر کو صنعت و حرفت قالین بافی، شال سازی کا مرکز بنا دیا۔ مغلوں نے یہاں نشاط و شالیمار کے باغات لگوائے۔ مغلوں کے بعد افغانوں اور پھر سکھوں نے یہاں حکومت کی۔ 1846 میں معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھ 75 لاکھ نانک شاہی سکوں میں بیچ دیا۔ یہیں سے جدید کشمیر کے دکھوں کا آغاز ہوا جو 1947 کی تقسیم ہند کے بعد مستقل سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔کشمیر کی ثقافت کشمیرایت کے فلسفے پر مبنی ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ کشمیری پھیرن جو لمبا لبادہ ہوتا یے، یہاں کی سردی کا مقابلہ کرنے کا روایتی طریقہ ہے۔ یہاں کی پشمینہ شالیں پوری دنیا میں اپنی نزاکت اور گرمائش کے لیے مشہور ہیں۔ لکڑی پر نقش و نگار اور پیپر ماشی کے فن میں کشمیریوں کا کوئی ثانی نہیں۔ روؤف یہاں کا مشہور لوک رقص ہے جو عید اور خوشی کے مواقع پر خواتین کرتی ہیں۔ صوفیانہ کلام اور ستار کی دھنیں یہاں کی فضاؤں میں رچی بسی ہیں۔ کشمیری وازوان اپنی لذت کے لیے مشہور ہے جس میں 36 قسم کے پکوان شامل ہوتے ہیں۔ گوشت کو مختلف طریقوں سے پکانا جیسے گشتابہ کشمیری فنِ طباخی کا کمال ہے۔کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے اس کے جغرافیائی مقام اور مذہبی شناخت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ کشمیر کو پیر واری پیروں کی زمین کہا جاتا ہے۔ یہاں کی درگاہیں درگاہ حضرت بل اور چرارِ شریف عوامی یکجہتی کے مراکز ہیں۔ 1947 کے بعد سے کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع خطہ بن گیا۔ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں نے اس خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اپنی شناخت اور حقِ خودارادیت کے گرد گھومتی ہے۔اگرچہ ڈل جھیل لداخ میں نہیں لیکن لداخ بذاتِ خود کشمیر کا اہم حصہ رہا ہے اور اب انتظامی طور پر الگ ہے۔ لداخ کو چھوٹا تبت کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ثقافت بدھ مت سے متاثر ہے اور یہاں کی بنجر پہاڑیاں، اونچے درے کھاردونگ لا اور سرد صحرا اسے وادی کشمیر سے بالکل مختلف لیکن اتنا ہی حسین بناتے ہیں۔کشمیر برف پوش پہاڑوں اور جھیلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسانی عزم، بے پناہ ٹیلنٹ اور گہری روحانیت کی داستان ہے۔ ڈل جھیل کے پانیوں میں لرزتی ہاؤس بوٹ کی روشنی ہو یا کشمیری چائے کی بھاپ، یہ سب ایسی جنت کی یاد دلاتے ہیں جو امن اور سکون کی منتظر ہے۔ کشمیر کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے علم اور امن کا گہوارہ رہا ہے اور اس کی خوبصورتی اس کے لوگوں کی ہمت اور ان کی شاندار ثقافت میں پوشیدہ ہے۔
جیومیٹری لکیروں کا کھیل ہے۔ علمائے جیومیٹری کو ہم لکیر کے فقیر کہہ سکتے ہیں۔ دنیا نے اتنی ترقی کر لی، ہر چیز بشمول سائنس اور مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچ گئی، لیکن جیومیٹری والوں کے ہاں اب تک زاویہ قائمہ درجہ کا ہوتا ہے اور مثلث کے اندرونی زاویوں کا مجموعہ درجے سے تجاوز نہیں کر پایا۔ امریکہ اور روس ہر معاملہ میں لڑتے ہیں، اس معاملے میں ملی بھگت ہے۔ ہم اپنے ملک میں اپنی پسند کا نظام لائیں گے تو اپنی اسمبلی میں ایک قانون بنوائیں گے، چند درجے ضرور بڑھائیں گے۔ مستطیل بھی پرانے زمانے میں جیسی چورس ہوتی تھی ویسی آج کل ہے۔ گول کرنا تو بڑی بات ہے کسی کو یہ توفیق تک نہ ہوئی کہ اس کے چار سے پانچ یا چھ ضلعے کر دے۔ ایک آدھ فالتو رہے تو اچھا ہی ہے۔ پاکستان کے ضلعوں میں ہم رد و بدل کرتے ہیں تو مستطیل وغیرہ کے ضلعوں میں کیوں نہیں کر سکے۔جیومیٹری میں بنیادی چیزیں ہیں، خط، نقطہ، دائرہ، مثلث وغیرہ۔ اب ہم تھوڑا تھوڑا حال ان کا لکھتے ہیں۔خطخط کی کئی قسمیں ہیں،جن کا ذکر نیچے کیا جا رہا ہے۔خط ِ مستقیم:یہ خط بالکل سیدھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر نقصان اٹھاتا ہے۔ سیدھے آدمی بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔خطِ منحنی: یہ ٹیڑھا ہوتا ہے بالکل کھیر کی طرح، لیکن اس میں میٹھا نہیں ڈالا جاتا۔خط تقدیر: اسے فرشتے پکی سیاہی سے کھینچتے ہیں۔ یہ مستقیم بھی ہوتا ہے منحنی بھی۔ اس کا مٹانا مشکل ہوتا ہے۔خطِ ب رنگ: اس پر لگانے والے ٹکٹ نہیں لگاتے۔ ہمیں دگنے پیسے دینے پڑتے ہیں۔خط ِ شکستہ: یہ وہ خط ہے جس میں ڈاکٹر لوگ نسخے لکھتے ہیں۔ تبھی تو آج کل اتنے لوگ بیماریوں سے نہیں مرتے جتنے غلط دواؤں کے استعمال سے مرتے ہیں۔خطِ استوا: یہ اس لیے ہوتا ہے کہ کہیں تودنیا میں دن رات برابر ہوں، کہیں تو مساوات نظر آئے۔خط کی دیگر دو مشہور قسمیںحسینوں کے خطوط: یہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن میں دور، بہت دور افق کے پار جانے کا ذکر ہوتا ہے، جہاں ظالم سماج نہ پہنچ سکے۔ یہ تصویر بتاں کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جو حسینوں کے چہروں پر ہوتے ہیں اور جن کو چھپانے کیلئے ہر سال کروڑوں روپے کی کریمیں، لوشن، پوڈر وغیرہ صرف کیے جاتے ہیں۔متوازی خطوط: یہ ویسے تو آمنے سامنے ہوتے ہیں، لیکن تعلقات نہایت کشیدہ۔ ان کو کتنا بھی لمبا کھینچ کے لے جائیے یہ کبھی آپس میں نہیں ملتے۔ کتابوں میں یہی لکھا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں ان کو ملانے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی گئی۔ آج کل بڑے بڑے ناممکنات کو ممکن بنا دیا گیا ہے تو یہ کس شمار قطار میں ہیں۔نقطہنقطہ یعنی بِندی یعنی پوائنٹ۔ یہ محض کسی جگہ کی نشاندہی کیلئے ہوتا ہے۔ جیومیٹری کی کتابوں میں آیا ہے کہ نقطہ جگہ نہیں گھیرتا۔ ایک آدھ نقطہ کی حد تک یہ بات صحیح ہو گی لیکن چھ نقطوں سے تو آپ سارا پاکستان گھیر سکتے ہیں۔دائرہدائرے چھوٹے بڑے ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ قریب قریب سبھی گول ہوتے ہیں۔ ایک اور عجیب بات ہے کہ ان میں قطر کی لمبائی ہمیشہ نصف قطر سے دگنی ہوتی ہے۔ جیومیٹری میں اس کی کوئی وجہ نہیں لکھی گئی۔ جو کسی نے پرانے زمانے میں فیصلہ کر دیا، اب تک چلا آ رہا ہے۔ ایک دائرہ اسلام کا دائرہ کہلاتا ہے۔ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا کرتے تھے، آج کل داخلہ منع ہے، صرف خارج کرتے ہیں۔مُثَلَّثتکون کے تین کونے ہوتے ہیں۔ چار کونوں والی بھی ہوتی ہوں گی، لیکن ہمارے ملک میں نہیں پائی جاتیں۔ کم از کم ہماری نظر سے نہیں گزریں۔مثلثیں کئی طرح کی ہوتی ہیں: مثلاً عشق کی مثلث: عاشق، معشوق اور رقیب۔ فلم بھی یہی مثلث ہوتی ہے، لیکن وہاں ان تینوں کو پیسے ملتے ہیں۔ رقابت سے شادی تک فلم ساز کے خرچ پر ہوتی ہے۔
حضرت سعدی ایک قافلے کے ہمراہ بیابان قید طے کر رہے تھے کہ ایک پڑاؤ پر قافلہ رکا تو نیند کے غلبے نے ایسا مدہوش کیا کہ قافلے کی روانگی کا احساس نہ ہوا۔ ایک شتر سوار نے آپ کو اس حالت میں دیکھ کر جگایا اور کہا۔''کیا مرنے کا ارادہ ہے جو یوں غفلت کی نیند سو رہا ہے۔ یاد رکھ، قافلے سے بچھڑنے کی صورت میں اس لق و دق بیابان میں ہی ہلاک ہو جائے گا۔ وقت کسی کی خاطر اپنی رفتار کم نہیں کرتا۔ اس کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ اسے غفلت کی نیند میں برباد نہ کر‘‘۔حاصل کلام: سفر حیات کی نزاکتوں اور دشواریوں کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے ورنہ بیابان قید کے غافل مسافر کی طرح ہلاکت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ اعمال حسنہ کی برکتوں سے خالی دامن کی وجہ سے خسارے میں رہتے ہیں اور عاقبت میں نہ ختم ہونے والا عذاب ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
عالمی کپ کے پہلے میچ میں شاہینوں کے ہاتھوں نیدر لینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست
پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کھیلنے سے انکار:پاکستان بائیکاٹ کے اعلان پر نظر ثانی کرے:سری لنکا کا پی سی بی کو خط،ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026ء میں بنگلہ دیش کیخلاف جانبدارانہ فیصلے کے بعد پاکستانی ردعمل نے آئی سی سی اور بھارت کی نیندیں اڑا دیں
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو اس وقت قرآن پاک کی کئی آیات اور سورتیں نازل ہو چکی تھیں۔ عبداللہؓرسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے پاس جا کر قرآن سنتے، پھر اس کو حفظ کر لیتے اور بعد میں لکھ لیتے۔
رابیعہ ایک خوش حال گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔ قدرت نے اسے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتیں بھی دی تھیں۔