نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کراچی رجسٹری،نسلہ ٹاورکیس کی سماعت
  • بریکنگ :- کراچی:پل کی تعمیرکےوقت سڑک کاسائزکم کیاگیاتھا،وکیل بلڈر
  • بریکنگ :- کراچی:شاہراہ فیصل کاسائزکبھی کم نہیں ہوا،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- آپ نےدونوں اطراف سےسڑک پرقبضہ کیاہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- پتہ نہیں یہاں کیاہورہاہے؟ مسلسل قبضےکیےجارہےہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- کمشنرکی رپورٹ موجودہے،نسلہ ٹاورمیں غیرقانونی تعمیرات شامل ہیں،عدالت
  • بریکنگ :- اب بھی دھنداچل رہاہے،ایس بی سی اےکاکام چل رہاہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- کراچی:نسلہ ٹاورسےمتعلق کیس کی سماعت 16 جون تک ملتوی
  • بریکنگ :- نسلہ ٹاورکےوکلاسےکمشنرکراچی کی رپورٹ پرجواب طلب
  • بریکنگ :- کراچی پرکینیڈاسےحکمرانی کی جارہی ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- یونس میمن سندھ کااصل حکمران ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- ایڈووکیٹ جنرل صاحب ہم آپ سےبات کررہےہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- آپ لوگ نالےصاف نہیں کرسکتے،صوبہ کیسےچلائیں گے؟چیف جسٹس
  • بریکنگ :- کراچی: یہاں گورننس نام کی چیز نہیں ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- آپ لوگوں نےسروس روڈپربلڈنگ تعمیرکردی،جسٹس اعجازالاحسن
راہِ ہدایت
پھرجب آسمان پھٹ کر(تیل کی تلچھٹ کی طرح)گلابی ہوجائے گا۔توتم اپنے رب کی کون کون سی قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟۔ (سورۃالرحمن:آیت38،37)
Coronavirus Updates

کورونا وائرس سے مزید 34 افراد کا انتقال، 24 گھنٹے کے دوران 1019 نئے مریض


اسلام آباد: (ویب ڈیسک) کورونا وائرس سے 34 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 21 ہزار 723 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 9 لاکھ 42 ہزار 189 ہوگئی۔



اشتہار

وفاق وزیر اعلٰی سندھ کیخلاف سازشیں کررہا، آرٹیکل 140 پنجاب میں نافذ کریں، پیپلز پارٹی، عمران خان صدارتی نظام لانے کی کوشش کررہے ہیں : ن لیگ ، سندھ کو 18 ارب ملے ، کہاں گئے ؟پولیس کو بھی ترقی نہ دی جاسکی،پانی بلاول ہائوس،مراد شاہ چوری کررہے ،ن لیگ کا مستقبل نہیں، اگلے 7 سال بھی بینر اٹھائے کونے میں کھڑے ہونگے :فواد،سندھ کی نگرانی کے خواب دیکھنا بند کریں، وفاق نے جو غیرقانونی فنڈز اپنے ایم پی ایز کو دئیے انکا حساب دیں، لسانی فسادات کرانے کی سازش کی جارہی ہے : ناصر شاہ، سعید غنی ، مرتضیٰ وہاب

مغرب میں وقت گزارا، اسلاموفوبیا کو سمجھتا ہوں، عالمی رہنما اقدامات کریں دہشتگردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں،اسلام کو غلط جوڑا گیا:انٹرویو کی مزید تفصیل

بجٹ میں سب کیلئے خوشخبریاں ، وزیر اعلیٰ کا پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب ، نیک نیتی سے بزدار کیساتھ ہیں، پرویز الٰہی ، ترین گروپ بھی اجلاس میں شریک ، پی پی پی ، ن لیگ کے ارکان اسمبلی کی بزدار سے ملاقات ، مسائل سے آگاہ کیا

حکومت ہیرا پھیری کررہی ، بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں ،بچوں کے دودھ اورخوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا،3 سال میں 50 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے ، بجٹ میں یہ نہیں بتا یا کہ روز گارکون دیگا،حکومت برآمدات نہ بڑھا سکی

متفرقات

کہانی مجاہد آزادی رام پرسادبسمل کی

کہانی مجاہد آزادی رام پرسادبسمل کی

آج ہم آپ کو تاریخ کے اس دور میں لے جائیں گے جب ''سر فروشی کی تمنا ‘‘ ہر کسی کے دل میں تھی ، اس جملے سے آپ بخوبی جان گئے ہونگے کہ ہم برصغیر کے اُس بہادر سپوت کا تذکرہ کر رہے ہیں جو مجاہد آزادی ہونے کیساتھ ساتھ شاعر ، مترجم مؤرخ اور ادیب بھی تھا ۔ جی ہاں ہم اپنے لفظوں کے ذریعے اس مجاہد کی قربانیوں کو سلام پیش کر رہے ہیں جس نے آزادی کی خاطر پھانسی کے پھندے کو گردن دیدی لیکن غاصب انگریز حکمرانوں کے آگے گردن نہیں جھکائی ۔ بازوئے قاتل کا زور توڑنے والے اس مجاہد کا نام رام پرساد بسمل تھا ، آپ کو بسمل شاہجہاں پوری بھی پکارا جاتا تھا ، 11جون 1897ء کو شاہجہان پور شہر کے کھیرنی باغ محلے میں پنڈت مرلیدھر کے ہاں پیدا ہوئے اور 19دسمبر 1927ء کو گورکھ پور (بھارت) میں پھانسی کی سزا کو اپنے لئے باعثِ فخر بنایا ۔وہ قارئین جو رام پرساد بسمل کے نام سے واقف نہیں اس سوچ میں مبتلا ہو رہے ہونگے کہ آخراس نام میں رام اور بسمل اکٹھے کیوں ہیں اور یہ نام رکھنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے تو ہم صرف اتنا بتاتے چلیں کہ بسمل صاحب ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور آریہ سماجی تھے بسمل تخلص تھا جسکا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل نے ایک مولوی صاحب سے اردو اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ بعد میں گھر والوں نے انہیں مندر کے پجاری کے حوالے کر دیا ۔ہندی میں وہ اگیات اور اردو میں بسمل کے نام سے لکھتے، بسمل کے علاوہ وہ ''رام‘‘ اور ''نا معلوم ‘‘کے نام سے بھی مضمون لکھتے اور شاعری کرتے ۔ بسمل سے پہلے انکا ایک بھائی پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا۔ بسمل نے اپنی آپ بیتی میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا کہ جب میں پیدا ہوا تو میرا زائچہ اور دونوں ہاتھ کی انگلیوں کی گولائی دیکھ کر نجومی نے پیشگوئی کی''اگر اس بچے کی زندگی کسی طرح کی نظریاتی بندش سے بچی رہے جسکا امکان بہت کم ہے تو اسے عنان حکومت سنبھالنے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں پائے گی ‘‘ بسمل کی پیدائش سے قبل انکی ماں ایک بیٹا کھو چکی تھی لہٰذا جادو ٹونے کا سہارا لیا گیا۔ ایک خرگوش لایا گیا اور نوزائیدہ بچے کے اوپر سے وار کر آنگن میں چھوڑ دیا گیا۔ خرگوش نے آنگن کے دو چار چکر لگائے اور فوراً مر گیا۔ یہ واقعہ عجیب ضرور لگتا ہے لیکن حقیقی ہے ۔شاہجہاں پور سے تعلق رکھنے والے شہیدِ آزادی اشفاق اللہ خان کے بڑے بھائی ریاست اللہ خان رام پرساد بسمل کے ہم جماعت تھے، بس اسی طرح ان کی اشفاق سے بھی دوستی ہو گئی اور ایسی دوستی کہ دونوں جیئے بھی ساتھ ساتھ اور موت کو گلے بھی ایک ساتھ لگایا ۔ ریاست اپنے چھوٹے بھائی اشفاق کوبسمل کی بہادری کے قصے سنایا کرتے ۔ اشفاق کے دل و دماغ پر بسمل ایک ہیرو کی طرح چھا چکے تھے۔ گو کہ اشفاق بسمل سے 3 سال چھوٹے تھے لیکن دونوں میں کمال کی دوستی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اشفاق اللہ خان بھی شاعری کرتے اور وارثی و حسرت تخلص رکھتے تھے ۔ سرفروشی کی تمنا رکھنے والے یہ دو نوں شاعر مادر وطن پہ اپنا سب کچھ قربان کر نے کو ہمہ وقت تیار رہتے ۔پھر انہیں بھگت سنگھ کی قربت بھی ملی اور یوں آزادی کے پروانوں نے مل کر ایک غول کی طرح اڑان بھری ۔بسمل کے اندر آزادی کاطوفان چھپا تھاوہ جان چکے تھے کہ انگریز آسانی سے آزادی نہیں دینگے انہوں نے 1916ء میں صرف 19 سال کی عمر میں انقلابی راستہ چنا۔ بسمل صاحب کو سمجھنے کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ تحریک آزادی کے بے مثل ہیرو تھے ۔اتنی کم عمر میں انہوں نے وہ داستان رقم کی جو نوجوانانِ برصغیر کیلئے ہمیشہ روشن مثال رہے گی۔ اپنی 11 سال کی انقلابی زندگی میں بسمل صاحب نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا، وہ با ہمت ، فیصلہ ساز شخصیت تھے جو سوچتے نتائج کی پرواہ کئے بغیر کر گزرتے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کم عمری میں وہ کارنامے انجام دئیے جو مصلحت پسندوں یا مفاد پرستوں کے حصے میں نہیں آتے ۔ بسمل نہ صرف کتابیں لکھتے انہیں خود چھاپتے اور فروخت بھی کرتے سب سے دلچسپ بات یہ کہ کتابیں بیچ کر جو پیسہ ملتا اس سے ہتھیار خریدتے اور انگریزوں کیخلاف استعمال کرتے ۔ بسمل جی نے کئی کتابیں لکھیں جن میں 11 کتابیں انکی زندگی میں شائع ہوئیں، برطانوی حکومت نے تمام کتابیں ضبط کر لیں۔''وندے ماترم ‘‘ کے بعدبسمل کی تخلیقات نے بہت مقبولیت حاصل کی بلکہ یوں کہنا چاہئے آزادی کے متوالوں میں نئی روح پھونک دی تھی دوسرا بسمل اور اشفاق کی دوستی نے تحریکِ آزادی میں ساجھی وراثت اور ساجھی شہادت کے جذبے کو پروان چڑھانے کا کام کیا۔رام پرساد بسمل نے ہندوستان ری پبلکن ایسوسی ایشن بنائی اور یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ بسمل کوئی تنظیم یا جماعت بنائیں اور اس میں اشفاق اللہ خان نہ ہوں ، تنظیم میں اشفاق اللہ خان، راجندر ناتھ لاہری اور روشن سنگھ جیسے نوجوان انکے ساتھ مل گئے۔تنظیم بن گئی قابل اعتماد دوست مل گئے لیکن تنظیم کو چلانے کیلئے اور ملک بھر میں انگریزوں کیخلاف ماحول بنانے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی اب بسمل اور انکے ساتھیوں نے ٹرین سے سرکاری خزانہ لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ سہارنپور سے لکھنؤ جانے والی پیسنجر ٹرین سے سرکاری خزانہ لایا جا رہا تھا شاہجہاں پور کے پاس کاکوری میں یہ ٹرین لوٹ لی گئی۔ بعد میں انگریز سرکار نے بسمل اور انکے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے کئی ایسے نوجوانوں کو بھی سخت سزائیں دیں گئیں جوکا کوری ٹرین کیس میں شامل نہیں تھے۔ اشفاق، لاہری اور روشن سنگھ پر بھی مقدمات چلے 19 دسمبر 1927 ء کو ان چاروں کو پھانسی دینے کا اعلان ہوا۔ عوامی بغاوت کے خوف سے انگریز افسران نے الگ الگ مقامات پہ پھانسی دی۔ راجندر ناتھ لاہری کو وقت مقررہ سے2دن پہلے ہی یعنی 17 دسمبر 1927ء کو گونڈہ جیل میں پھانسی دیدی گئی۔ روشن سنگھ کو الہٰ آباد جیل میں اور اشفاق اللہ خان کو فیض آباد جیل میں 19 دسمبر 1927 ء کو پھانسی دی گئی۔ اسی دن گورکھپور جیل میں پنڈت رام پرساد بسمل کو پھانسی دی گئی۔ایک مدت تک یہ کہا جاتا رہا کہ ''سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘‘یہ کلام رام پرساد بسمل کا ہے لیکن بعد میں تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ شہرۂ آفاق کلام1890ء میں قدیم پٹنہ میں پیدا ہونیوالے محمد حسین بسمل عظیم آبادی کا تھا لیکن چونکہ دونوں شخصیات کا عہد ایک ہی ہے اور وہ دور آزادی کا تھا اس لئے یہ ابہام پیدا ہوا ۔ بہر حال کلام کسی کا بھی ہو رام پرساد بسمل اور انکے ساتھیوں نے آزادی کیلئے سرفروشی کا حق ادا کر دیا زندگی کی صرف30 بہاریں دیکھنے والے اردو کے اس شاعر، ادیب اور مجاہدِ آزادی پر تاریخ ہمیشہ نازاں رہے گی۔

دیواروں کے محافظ

دیواروں کے محافظ

اس مرتبہ لڑائی کا شرارہ مسجد اقصیٰ کے پاس اور مشرقی بیت المقدس کے محلہ شیخ جراح میں بھڑکا۔امیر حسام الدین بن شرف الدین عیسی الجراحی، سلطان صلاح الدین ایوبی کے طبیب خاص تھے۔900 برس ہوئے انہیں گزرے لیکن آج بھی شیخ الجراح کی یادوں ، باتوں اور کارناموں سے فلسطینیوں کے دل معمور ہیں۔اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہونے فلسطینی مزاحمت کاروں کو خبردار کرتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہ ''ہم تمہیں وہ مار ماریں گے جس کا تم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔‘‘اسرائیل نے غزہ میں نہتے عوام پر بمباری کی اور درجنوں بچوں اور عورتوں کو قتل کر کےؔ'دعویٰ کیا کہ یہ تو ابھی ابتدا ء ہے۔‘‘فلسطینی مجاہدوں کیخلاف اپنے آپریشن کا نام ''حارس الاسوار ‘‘ تجویز کیا ''دیواروں کے محافظ۔‘‘ لیکن تحریک مزاحمت حماس کچھ اور ہی طے کیے ہوئے تھی۔1948ء کی جنگ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ سیف القدس کے راکٹ دھماکوں سے اسرائیل کے گلی کوچے لرز رہے تھے۔ہر گھنٹے بعد سائرن کی گونجتی آوازیں شہریوں کو پناہ گاہوں کی طرف بھاگ جانے پر مجبور کردیتیں۔ راکٹوں کاخوف اتنا بڑھا کہ اسرائیلی ارکان کو پارلیمنٹ کا اجلاس ادھورا چھوڑکر بھاگنا پڑا۔جب سے غزہ کے عوام نے حماس کو حکومت کیلئے چنا ہے اب تک عزت کا نشان یہ شہر3 بڑی لڑائیاں دیکھ چکا ہے لیکن اب کی بار یہ لڑائی کئی لحاظ سے مختلف تھی۔اسرئیل کے طول و عرض میں مختلف شہروں اور بستیوں میں بسنے والے فلسطینی عرب شہری پہلی بار القدس اور غزہ میں ظلم و ستم کے شکار اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے مظاہرے کرتے ہوئے نکل آئے تھے۔اسرائیلی صدر رووین ریولین کیلئے یہ منظر اس قدر خوفناک تھا کہ وہ پکار اٹھے'' لگتا ہے جنگ اسرائیل کی سڑکوں پر پھوٹ نکلی ہے۔آبادی کی اکثریت اس صورتحال پر حیران و پریشان ہے۔ جو دِکھ رہا ہے اس پر یقین کرنا مشکل ہے ہم نے حالات کو جو رخ دیا ہے ،مجھے ڈر ہے کہ کہیں حقیقی خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے ، ہم ساکت و صامت کھڑے ہیں۔‘‘آئرن ڈوم ( لوہے کا گنبد ) حماس اور فلسطینیوں کے راکٹوں کیخلاف اسرائیل کا دفاعی نظام اس کا ایک ایک یونٹ مہنگا ہے اور اس کو چلانا اس سے بھی مہنگا ہے۔اسرائیل نے چار دانگ عالم میں اس کی تشہیر بھی خوب کر رکھی تھی۔دعویٰ یہ تھا اس کی ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت سوفیصدہے لیکن مجاہدین فلسطین نے بیک وقت اور مختلف زاویوں سے سینکڑوں راکٹ داغنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ان راکٹوں نے عسقلان ،رامون ،ایٹمی ریکٹر دیمونہ کیبن گوریان ہوائی اڈہ ، اسرائیل کاقلب اسکا دارالحکومت تل ابیب بھی نشانہ بنا۔اسرائیل کے طول عرض میں لگی اس آگ نے آئرن ڈوم کی دفاعی صلاحیتوں پر سوالیہ نشانات لگا دئیے ہیں۔یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ اسرائیل کے بن گوریون ایئر پورٹ سے ساری فلائٹس کے رخ قبرص اور یونان کی طرف موڑ دئیے گئے ، حالات و واقعات بتا رہے تھے کہ دیواروں کے محافظ اب اِن کی حفاظت سے عاجز ہیں۔ حماس کی قوت مزاحمت نے اسرائیلی فوج کا دبدبہ چکناچور کردیا ہے ۔ موجودہ مزاحمتی کردار سے حماس کو اسرائیلی عرب باشندوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے فلسطینی قوم میں یکجہتی اورایک ہونے کا تصور بھی پختہ ہوا۔

عافیت

عافیت

گذشتہ دنوں بھائی کے ساتھ ٹریفک حادثہ پیش آنے کی وجہ سے ہسپتال کے چکر لگتے رہے۔ وہاں کئی دن رہنا پڑا اور بہت قریب سے لوگوں کو دیکھنا بھی ہوا۔ آرتھو پیڈک وارڈ میں آپ کو ننانوے فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہی ملیں گے جو کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو کر اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھتے ہیں، عمر بھر کی معذوری کو گلے لگا بیٹھے ہوں یا اپنے کسی عضو سے محروم ہو گئے ہوں ۔ اور نا جانے کتنے ہی لوگوں کے پیارے ان ناگہانی حادثات کی وجہ سے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ کر ان سے جدا ہو جاتے ہیں۔اگر صحت جیسی نعمت کی آپ کو قدر نہیں ہے تو کسی ہسپتال کے ایمرجنسی میں جا کر چند گھنٹے گزار آئیں آپ کو ہر اس نعمت کی دل سے قدر ہو جائے گی جسے آپ فار گرانٹڈ لیتے ہیں۔ وہاں کی مسجد میں اپنے پیاروں کی زندگی کیلئے لوگوں کو اللہ کے سامنے سسکتے، تڑپتے اور بلکتے دیکھا۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ خود بھی دن رات اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے تھے اور آپ ؐنے امت کو بھی ہمیشہ اس کی تلقین کی ہے۔ حضرت عباسؓ سے روایت ہے کہ: میں نے عرض کیا ،یا رسول اللہﷺ! مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں۔‘‘ آپ ﷺنے فرمایا: ''تم اللہ سے عافیت مانگو۔‘‘ میں کچھ دن ٹھہرا رہا اور پھر دوبارہ آپ ؐکی خدمت میں گیا اور پوچھا مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں۔؟ آپ ﷺنے کہا:''اللہ سے دنیا و آخرت میں عافیت مانگا کرو۔‘‘اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عافیت کہتے کسے ہیں؟ جس کے مانگنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ عافیت، ایک ایسا جامع لفظ ہے جس میں ہر قسم کی ظاہری، باطنی، دنیوی و اخروی آفات و بلیات اور مصائب سے پناہ، نیز دین و دنیا کی تمام بھلائیوں کی طلب و استدعا موجود ہے۔ علامہ نواب قطب الدین خان دہلویؒ لکھتے ہیں ''اللہ تعالیٰ عافیت مانگنے کو بہت پسند کرتا ہے۔ اس کے برابر اور کسی چیز کے مانگنے کو پسند نہیں کرتا۔ عافیت کے معنی یہ ہیں کہ دنیا و آخرت کی تمام ظاہری و باطنی غیر پسندیدہ چیزوں، تمام آفات و مصائب، تمام بیماریوں اور تمام بلاؤں سے سلامتی و حفاظت۔ لہٰذا، عافیت‘ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں پر حاوی ہے۔ جس نے عافیت مانگی، اس نے گویا دنیا و آخرت کی تمام ہی بھلائیاں مانگ لیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ عافیت مانگنے کو پسند کرتا ہے۔‘‘حضرت ڈاکٹر عبدالحیٔ عارفی ؒ بیان کیاکرتے تھے ''عافیت، بہت بڑی چیز ہے بہت اونچی نعمت ہے اور عافیت کے مقابلے میں دنیا کی ساری دولتیں ہیچ ہیں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔‘‘ نیز وہ بیان کرتے تھے کہ عافیت دل و دماغ کے سکون کو کہتے ہیں اور یہ سکون اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ دولت اللہ تعالیٰ بغیر کسی سبب اور استحقاق کے عطا فرماتے ہیں۔ عافیت کوئی آدمی خرید نہیں سکتا نہ روپے پیسے سے عافیت خریدی جا سکتی ہے نہ سرمائے سے نہ ہی منصب سے کوئی عافیت حاصل کر سکتا ہے ۔ عافیت کا خزانہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کی ذات کے سوا کوئی عافیت نہیں دے سکتا۔ رسول کریمﷺنے ارشاد فرمایا: ''اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔‘‘ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے سوال کیا کہ یہ قبولیت کے اوقات میں سے ایک اہم وقت ہے۔ ہمیں موقع ملے تو اللہ سے قبولیت کے وقت میں کیا دعا مانگیں؟ تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: ''اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کرو۔‘‘ ترمذی شریف میں یہ روایت بھی موجود ہے کہ ''اللہ کے نزدیک اس سے عافیت مانگنا ہر چیز مانگنے سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ آپؐ نے یہ ارشاد بھی فرمایا '' تمہیں کلمہ اخلاص (کلمۂ شہادت) کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں دی گئی۔ لہٰذا تم اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو۔‘‘ ابو داؤد میں یہ روایت موجود ہے کہ رسول کریم ﷺصبح و شام نہایت پابندی سے ان الفاظ کے ذریعے دعا مانگتے ۔''اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کے معاملے میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ میری پردوں کی چیزوں کو پردے میں رکھ اور گھبراہٹ کی باتوں سے مجھے امن میں رکھ۔‘‘ ان الفاظ کو یاد کر لیں۔ انشاء اللہ! زندگی میں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی حفاظت و نگہبانی میں رہیں گے۔

سخت گرمی سے کیسے بچیں؟

سخت گرمی سے کیسے بچیں؟

موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی گرمی کی شدت میں ہر گْزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اس بدلتے موسم کا اثر ہماری صحت پر بھی پڑتا ہے اور صحت کے متعلق بہت سی پریشانیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں، اگر آپ بدلتے موسم کیساتھ گرمیوں میں جسم کو تندرست رکھنا چاہتے ہیں تو گرمی کی بیماریوں کے تدراک کرنے کے طریقوں کو سیکھنا ضروری ہے۔گرمی سے بچنے کے طریقوں کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ آپ موسم کی شدت سے اپنے جسم کو محفوظ رکھ سکیں اور صحت مند رہ سکیں۔سب سے پہلے پانی:موسم گرما میں قْدرت نے ہمارے جسم کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہمارے جسم میں پسینے کا نظام بنایا ہے اور زیادہ گرمی میں زیادہ پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے خاص طور پر اْن لوگوں میں جو جسمانی مشقت کے کام کرتے ہیں اور ورزش وغیرہ کرتے ہیں یہ کمی جلدی پیدا ہو سکتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ جسم میں پانی کی کمی کو پورا کیا جائے۔جب جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے تو بار بار پیاس لگتی ہے، معمول سے بہت کم پیشاب آتا ہے اور پیشاب کی رنگت گہری ہو جاتی ہے، جسم بہت جلد تھکاؤٹ کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے، سر میں درد اور چکر آ سکتے ہیں اور ایسی صْورت میں زیادہ سے زیادہ پانی پینا بہت ضروری ہو جاتا ہے خاص طور پر نمک کی کمی کو پْورا کرنے کے لیے لیموں کی سکنجبین کا استعمال زیادہ کریں اور اس میں نمک ڈال کر پینا شروع کر دیں، نارنجی کا جْوس بھی جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچاتا ہے اسکے ساتھ چائے اور کافی کا استعمال کم کریں اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں کیونکہ گہرا رنگ سْورج کی دْھوپ کو اپنے اندر جلدی جذب کرتا ہے اور ایسا کپڑا جلدی گرم ہو جاتا ہے اور دْھوپ میں نکلنے سے پہلے اپنے سر کو سفید یا ہلکے رنگ کے کپڑے سے ضرور ڈھانپ لیں۔گرمی کے موسم میں معدے میں تیزابیت پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے جس سے کھٹی ڈکاریں، پیٹ کا بھاری پن، معدے میں جلن، پیٹ درد اور متلی جیسی شکایات بڑھ جاتی ہیں اور ایسی صْورت میں دھنیے کو پانی میں بھگو دیں اور 2 گھنٹے بعد اسکا پانی استعمال کریں اور اسی طرح پودینے کو پانی میں بھگو کر پانی استعمال کرنا شروع کر دیں، املی اور آلو بْخارے کو پانی میں رات بھر بھیگا رہنے دیں اورصْبح اسکا پانی پی لیں اور املی اور آلوبْخارے کی گٹھلیاں نکال کر اسے بھی ساتھ کھا لیں یہ آپ کے نظام انہظام کو خراب نہیں ہونے دے گا۔ْشک ادرک یا ادرک کا پائوڈر اور اس میں تھوڑا کالا نمک شامل کر کے وقفے وقفے سے اس چْورن کا استعمال کرنا بھی تیزابیت کے خاتمے کا باعث بنتا ہے، معدے میں تیزابیت کی صْورت میں سیدھا مت لیٹیں بلکہ چارپائی وغیرہ کے سر والی سائیڈ پر چارپائی کے پاؤں کے نیچے اینٹ وغیرہ رکھ کر اسے سرہانے سے اونچا کر لیں اور تیزابیت کی صْورت میں چائے اور کافی سے پرہیز کریں اور کچی لسی وغیرہ کا استعمال زیادہ کر دیں۔شدید گرمی سے اگر چکر آ رہے ہیں تو ایسی صْورت میں آملے کا شربت آپ کو فوری آرام پہنچائے گا اور ساتھ ہی تْلسی کے پتوں میں چینی مکس کر کے پیسٹ بنا لیں اور اسے پانی میں حل کر کے تھوڑی تھوڑی دیر بعد استعمال کریں یہ جسم سے گرمی کی شدت کو کم کرے گا۔موسم گرما میں سلاد والی سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں خاص طور پر کھیرا کھانا شروع کر دیں کھیرے میں پانی کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچاتی ہے اسی طرح اگر گرمی زیادہ لگ رہی ہو تو سینے پر پیاز کے رس سے مالش کریں۔گرمی میں گرمی دانے بھی جسم میں تلخی پیدا کرتے ہیں ان سے بچنے کے لیے کالے زیرے کا پاؤڈر ناریل کے دْودھ میں مکس کر کے جسم پر مالش کرنا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور ساتھ ہی دھنیے کے پانی میں چینی شامل کرکے پینا بھی جسم کی تلخی کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔فوڈ پوائزننگ بھی گرمی کے موسم سے جْڑی ہے اور خاص طور پر برسات کے موسم میں تو پنجاب کے ہسپتالوں میں اس بیماری سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے اس بیماری سے بچنے کے لیے بازاری کھانا کھانا چھوڑ دیں اور کھانا کھانے سے پہلے، واش روم سے نکلنے کے بعد، پالتو جانوروں کو چْھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اینٹی بیکٹیریل صابن سے دھوئیں، اور موسمی پھل اور سبزیوں کا استعمال بھی اچھی طرح دھو کر کریں تاکہ ان کے اوپر کوئی جراثیم وغیرہ نہ رہ جائے اور اپنی خوراک میں ایسے کھانوں کو شامل کریں جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو جیسے پھل فروٹس اور سبزیاں۔لیموں جس کا نام سْن کر ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے انسانی صحت کے لیے ایک انتہائی مْفید فروٹ ہے، خاص طور پر موسم گرما میں جب لوگوں کی قوت مدافعت کمزور ہو اس وقت لیموں میں موجود وٹامن سی ہمارے امیون سسٹم کو طاقتور بناتا ہے او گرمیوں کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔لیموں منرلز اور وٹامنز سے بھر پور ہوتا ہے جو جسم کے امیون سسٹم کو طاقتور بناتا ہے اور انسان کو بیمار نہیں ہونے دیتا۔ گرمیوں میں لیموں کی سکنجبین بہت فائدہ مند ہوتی ہے جو جسم کی گرمی کو دور کرتی ہے۔ اس کے اندر فائبر کی ایک بڑی مقدار بھوک کو مٹاتی ہے اور لیموں میں سیب اور انگور سے بھی زیادہ پوٹاشیم ہوتی ہے۔لیموں دل، دماغ اور جگر کے لیے صدیوں سے انتہائی مْفید سمجھا جاتا ہے اور لیموں پر ہونے والی جدید میڈیکل سائنس کی ریسرچز بھی لیموں کی اس قابلیت کو تسلیم کرتی ہیں۔لیموں کا جْوس اینٹی بیکٹریا اور اینٹی وائرل خوبیوں کیساتھ موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے سے تیزابیت کا خاتمہ کرکے نظام ہضم کو بہتر بناتا ہے خاص طور پر موسم برسات میں جب ہوا میں نمی کی مقدار بڑھی ہوتی ہے اور کھانے پینے کی اشیا پلک جھپکتے خراب ہوسکتی ہیں ۔ لیموں پانی معدے میں تباہی مچانے والے جراثیموں کو بے قابو نہیں ہونے دیتا۔لیموں کے اندر موجود وٹامن سی جہاں اور بہت سی بیماریوں میں شفا ہے وہاں یہ جلد کو صاف کرتا ہے ۔

بجٹ میں خواتین کو کیا ملا؟

بجٹ میں خواتین کو کیا ملا؟

دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواتین امور مملکت چلانے میں اپنا حصہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔سیاست میں انکی نمائندگی کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی رہتی ہے۔اس اہم شعبے میں فعال اور متحرک کردار ادا کرنے میں ناکامی کے اثرات دیگر شعبوں پر بھی پڑتے ہیں ۔سماجی ،انتظامی اور معاشی شعبوں میں پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق ’’ کام کرنے کی عمر 6کروڑ خواتین میں سے صرف 22.6فیصد خواتین برسرروزگار ہیں‘‘۔ یعنی ہر پانچ میں سے صرف ایک خاتون کو روزگار دستیاب ہے۔اسی لئے تو جینڈر گیپ سے متعلق 156 ممالک کی فہرست میں ہم 153ویں نمبر پر ہیں۔ اس رینکنگ میں جنگ زدہ افغانستان ،یمن اور عراق ہم سے نیچے ہیں۔یہ رینکنگ تعلیم، صحت ، مجموعی عمر اور زندگی کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہے یعنی ہم اپنی خواتین اور بچیوں کے جان و مال کے تحفظ سمیت دیگر بنیادی تقاضے بھی پورے نہیں کر سکے ۔

ماؤتھ واش کا صحیح استعمال

ماؤتھ واش کا صحیح استعمال

زندگی کے ہر شعبے میں توازن قائم رکھنا لازمی ہے،اپنے بچوں کو خوب پیار کیجئے لیکن ان کی تربیت ایسے نہ کیجئے کہ وہ میز سے پانی کاگلاس اٹھانا بھی بھول جائیں اور پیاس بجھانے کیلئے بھی کسی کو آواز دیں۔اسی طرح خوراک کے ساتھ ساتھ ادویات کے استعمال میں بھی توازن قائم کیا جائے۔ حیاتین یا طاقت کی ایک گولی استعمال کی جائے ، بعض خواتین جلدی صحت یاب ہونے کی خواہش میں بیک وقت ایک سے زیادہ گولیاں کھا لیتی ہیں ،ان کا فائدہ ہونے کی بجائے الٹا نقصان ہی ہوتا ہے۔ آج ہم صرف مائوتھ واش کے اضافی استعمال کے بارے میں کچھ بتائیں گے۔

آج کے پکوان، آلوؤں کی مزیدار سلاد

آج کے پکوان، آلوؤں کی مزیدار سلاد

آلو ایک ایسی سبزی ہے جسے کئی طرح سے پکایا جا سکتا ہے۔جس کی ہر ڈش کا ذائقہ ہی الگ ہے۔ سالن کے علاوہ آلوئوں کی سلاد بھی کافی کلوریز کی حامل ہونے کی وجہ سے صحت کی ضامن بن سکتی ہے۔

 ابوظہبی میں چوکوں اورچھکوں کی بہار  قومی کرکٹرز اورغیرملکی ستاروں سے سجی ٹیمیں شاندار کھیل کا مظاہرہ کررہی ہیں

ابوظہبی میں چوکوں اورچھکوں کی بہار قومی کرکٹرز اورغیرملکی ستاروں سے سجی ٹیمیں شاندار کھیل کا مظاہرہ کررہی ہیں

آئندہ میچز کا شیڈول13 جون: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ لاہور قلندرز۔ ملتان سلطانز بمقابلہ پشاور زلمی۔14 جون: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز۔15 جون: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ لاہورقلندرز، پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز۔16 جون: ملتان سلطانز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز۔17جون: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ پشاور زلمی۔ کراچی کنگز بمقابلہ لاہور قلندرز۔ 18 جون: ملتان سلطانز بمقابلہ لاہور قلندرز۔19 جون: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ کراچی کنگز، ملتان سلطانز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ۔20 جون: پریکٹس میچز۔21 جون: کوالیفائر (پوائنٹس ٹیبل پر پہلی بمقابلہ دوسری پوزیشن والی ٹیم )۔پوائنٹس ٹیبل پر تیسری بمقابلہ چوتھی پوزیشن والی ٹیم)۔22 جون: ایلیمینیٹر 2 (کوالیفائر ہارنے والی ٹیم اور ایلیمینیٹر 1کی فاتح ٹیم)۔23 جون: آرام/ٹریننگ ۔24 جون: فائنل کھیلا جائیگا۔

ماضی میں بچوں کے کھیل ذہن و جسم کیلئے مفید اب دنیا موبائل فون میں سمٹ کر رہ گئی
2021-06-14

ماضی میں بچوں کے کھیل ذہن و جسم کیلئے مفید اب دنیا موبائل فون میں سمٹ کر رہ گئی

شرکاءگل فراز احمد خان، چیئرمین کراچی ہاکی ایسوسی ایشن اور سابق اولمپین۔ پروفیسر ڈاکٹر سیماناز صدیقیچیئرپرسن شعبہ ارضیات وفاقی اْردویونیورسٹی۔ بابر سلیم ، ڈائریکٹر شعبہ اسپورٹس افیئرز محمد علی جناح یونیورسٹی(ماجو) ۔ شکیل خان، رکن گورننگ باڈی کراچی آرٹس کونسل۔ ڈاکٹر حنا خان،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ جامعہ کراچی۔شبانہ شیخ ،شاعرہ آرٹس کونسل کراچی۔خالدہ صدیقی،سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی ۔ مہر جمالی ، شاعرہ اور سابق ڈپٹی ڈائریکٹرسوشل ویلفیئر حکومت سندھ۔ڈاکٹرشاہانہ زیدی،پبلسٹی سیکریٹری گل رعنا نصرت کمیونٹی سینٹر۔احمد علی راجپوت،سیکریٹری جنرل سندھ اولمپکس ایسوسی ایشن ۔منظر عباس ،ریسکیو ٹرینر سندھ بوائز اسکاؤٹس ایسوسی ایشن حمزہ مبین ،اسکائوٹ لیڈر و ریسکیو اسپیشلسٹ انسٹرکٹر جامعہ کراچی

عمارتیں بنائیں مگر دیکھ بھال بھی کریں
2021-05-29

عمارتیں بنائیں مگر دیکھ بھال بھی کریں

شرکاء فیاض الیاس، چیئرمین ایسوسی ایشن بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) خواجہ محمد ایوب،سینئروائس چیئرمین آباد محمد عارف شیخانی،وائس چیئرمین آبادانجینئر دانش بن رئوف ،چیئرمین سائوتھ ریجن آبادانجینئرفرحان قیصر ، ڈائریکٹر اور ترجمان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے )خالد ظفر ہاشمی ،ڈائریکٹر لینڈ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی(کے ڈی اے )حبیب کھوکھر ڈائریکٹر میڈیا سیل سینئر صحافی نعیم کھوکھر

عید !روایتیں برقرار،انداز بدل گئے
2021-05-08

عید !روایتیں برقرار،انداز بدل گئے

شرکاء شائستہ آپا ، نائب صدر اور ڈائریکٹر گل رعنا نصرت کمیونٹی سینٹر ۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان، صدرکوہی گوٹھ اسپتال اوروائس چانسلرملیر یونیورسٹی۔ احمد حسن ،ایڈیٹر روزنامہ دنیا کراچی۔گل رعنا ،معروف ٹی وی آرٹسٹ ۔ڈاکٹر عائشہ ،لیکچرار شعبہ اسلامک لرننگ جامعہ کراچی ۔ شکیل خان ،رکن گورننگ باڈی آرٹس کونسل اور چیئرمین ٹاک شو کمیٹی ۔شیریں ارشد ، مصنفہ اورہاؤس وائف ۔

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز