نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہورہائیکورٹ،اسموگ پرقابوپانےسےمتعلق کیس کی سماعت
  • بریکنگ :- لاہور:ڈی آئی جی موٹرویز،ڈپٹی ڈائریکٹرماحولیات عدالت میں پیش
  • بریکنگ :- لاہور:چیئرمین ماحولیاتی کمیشن کی رپورٹ عدالت میں جمع
  • بریکنگ :- لاہور:رپورٹ فوکل پرسن کمال حیدرنےجمع کرائی
  • بریکنگ :- لاہور:ایم ٹیگ پرسختی سےعملدرآمدکرائیں،جسٹس شاہدکریم
  • بریکنگ :- ایم ٹیگ کےبغیرگاڑیوں کاداخلہ بندکردیا،ڈی آئی جی موٹرویز
  • بریکنگ :- لاہور:ہمیں عملدرآمدکیلئےوقت نہیں چاہیئے،ڈی آئی جی موٹرویز
  • بریکنگ :- ایم ٹیگ کی خریداری سےمتعلق آگاہی مہم شروع کررکھی ہے،ڈی آئی جی
  • بریکنگ :- لاہور:8 لاکھ افرادایم ٹیگ پررجسٹرڈہیں،ڈی آئی جی موٹرویز
  • بریکنگ :- ایم ٹیگ استعمال نہ کرنیوالوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے،عدالت
  • بریکنگ :- عدالت کافصلوں کی باقیات جلانےوالوں کیخلاف فوری کارروائی کاحکم
  • بریکنگ :- جوفصلوں کی باقیات جلائےگاوہاں کےافسرکیخلاف کارروائی ہوگی،عدالت
  • بریکنگ :- لاہور:عدالت نےسماعت 9 دسمبرتک ملتوی کردی
راہِ ہدایت
جب(حساب کتاب کا )کام مکمل کردیا جائے گا توشیطان کہے گا(جو)وعدہ اللہ نے تم سے کیا تھا(وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا ۔ (سورۃابراھیم:آیت22)
Coronavirus Updates

سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش، ملک عدنان کی وزیراعظم سے ملاقات آج ہوگی


اسلام آباد: (روزنامہ دنیا) وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعہ میں سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی جدو جہد کرنے والے ساتھی منیجر ملک عدنان کواسلام آباد بلا لیا۔


اشتہار

کوئی رعایت نہیں ہوگی،ایسے واقعات کے خاتمہ کیلئے جامع حکمت عملی بھی بنائی جائیگی، ملک عدنان کی بہادری کی تعریف ، پریانتھا کے ظالمانہ قتل پر گہری تشویش کا اظہار ، اہلخانہ سے تعزیت ،قومی سلامتی پالیسی عوام کی خوشحالی، تحفظ کیلئے تیار کی گئی ، معید یوسف کی پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ، اپوزیشن کا بائیکاٹ،جائزہ لینا ہے نیشنل ایکشن پلان پر کہاں عمل نہیں ہوا،شیریں مزاری ،نئی سپورٹس پالیسی سے مافیاز کے نظام کا خاتمہ کردیا ،کھیل سکھاتے ہیں ہار سے دلبرداشتہ نہیں ہونا ،طلبا کو 47 ارب کے وظائف دے چکے ، عمران خان، کامیاب جوان سپورٹس ڈرائیو کا افتتاح

ملک بھر سے کارکن مارچ میں آئینگے ،بہت بڑا مظاہرہ ہو گا ،تیاریوں کیلئے صوبے کی سطح پراجلاس ہونگے ، استعفوں کا کارڈ مرضی سے استعمال کرینگے :فضل الرحمن ، مار چ ملتوی نہیں ہو گا ،اس وقت فیصلہ ہم نے کیا تھا، اب پی ڈی ایم نے کیا ، جدوجہد اور تحریکوں میں حتمی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا ، اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

شارٹ مارچ کرکے ملک لوٹنے والے لانگ مارچ نہیں کرسکتے ،پہلے اپنی منفی سیاست کیخلاف کریں ،اسلام میں انتہا پسندی جیسی قبیح برائیوں کی کوئی گنجائش نہیں،پاکستان کے امیج کو بے پناہ نقصان پہنچایا

اپنے حساب سے گلیاں، محلے ، برادریاں دیکھ کر حلقے بنائے ہم بدلیں گے ، جواس دھرتی میں مرنا نہیں چاہتا اسکو کیا مسئلہ،سازش ہورہی ہے ،میرے دماغ میں ایسی سوچیں ہیں جو ملک کو کامیاب بناسکتی ہیں:لاہور میں خطاب ، میڈیاسے گفتگو

متفرقات

سول ایوی ایشن کا عالمی دن۔۔۔اورجنید جمشید کی جدائی کاغم

سول ایوی ایشن کا عالمی دن۔۔۔اورجنید جمشید کی جدائی کاغم

آج7دسمبر ہے، اس روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں''انٹرنیشنل سول ایوی ایشن ڈے‘‘( شہری ہوا بازی کا عالمی دن) منایا جا تا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد مسافروں کو محفوظ ترین سفری سہولیات فراہم کرنا، ہوا بازی کے اہم شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا،انٹرنیشنل سول ایوی ایشن کی اہمیت کے متعلق شعور بیدار کرنا اور بین الاقوامی فضائی ٹرانسپورٹ کیلئے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔''سول ایوی ایشن ‘‘رن وے پرجہاز کے ٹیک آف سے لینڈنگ تک کلیدی کردار کا حامل ہے۔ ہزاروں فٹ کی بلندی پراڑنے والے جہاز پر ریڈار اور دیگر جدید آلات کی مدد سے نگاہ رکھتا ہے۔اسی تناظر میں انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن 1944ء میں قائم ہوئی،جس نے اپنے قیام کے 52 سال بعد اقوام متحد ہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری سے انٹرنیشنل ایوی ایشن ڈے منانے کا آغاز کیا۔7دسمبر کو جب دنیا میں سول ایوی ایشن کا دن منایا جا رہا ہوتا ہے وہیں پاکستان میں بہت سے خاندانوں کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں،جن کے پیارے 2016ء میںآج ہی کے دن ہونے والے ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ پی آئی کی چترال سے اسلام آباد جانے والی پرواز حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگئی تھی جس میں تمام عملہ اور مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے اس طیارے میں پاکستان کے معروف نعت خواں اور ماضی کے مقبول گلوکار جنید جمشید بھی سوار تھے۔ جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ چترال میں تبلیغی دورے کے بعد اسلام آباد جا رہے تھے۔جنید جمشید ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، وہ معروف سماجی شخصیت، سابق گلوکار، نعت خواں ،مبلغ ، ٹی وی ہوسٹ کے ساتھ ایک کامیاب بزنس مین بھی تھے۔وہ 3 ستمبر 1969ء کو کراچی میں پیدا ہوئے،ان کے خاندان کا تعلق پاکستان ائیر فورس سے رہا ہے جس کی بناء پر اہلِ خانہ کی کوشش تھی کہ جنید جمشید بھی فوجی بنیں۔وہ فوجی تو نہ بن سکے مگر لاہور کی یو ای ٹی سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصہ پاک فضائیہ میں سول کنٹریکٹر کی حیثیت سے کام ضرور کیا ۔ موسیقی کوکرئیر بنانے کیلئے انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیااور ملی نغمہ''دل دل پاکستان‘‘گا کر عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کے گروپ ''وائٹل سائنز‘‘ کو بھی اسی ملی نغمے سے پہچان ملی۔2002ء میں اپنی چوتھی اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعلیمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر ابھرتے نظر آئے۔ 2004ء میں جنید جمشید نے گلوکاری چھوڑنے اور اپنی زندگی تبلیغی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے نعت خوانی شروع کی تو اس میں بھی نام کمایا۔ چترال میں جہاں وہ تبلیغ دین کے لئے گئے تھے ان کا قیام ایک مسجد میں تھا ان کے ایک دوست کے مطابق جنید جمشید نے وہاں شرکاء کو قصیدہ بردہ شریف خوش الحانی کے ساتھ سنایا۔ وہ اکثر ٹی وی چینلوں پر نعت، حمد اور مناجات پیش کرتے تھے۔ان کی مقبول نعتوں میں ''میرا دل بدل دے‘‘،''محمد کا روضہ قریب آ رہا ہے‘‘،''دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے‘‘ نمایاں ہیں۔بطور نعت خواں، مبلغ کامیابیاں سمیٹنے والے جنید جمشید نے اپنا کلاتھنگ برانڈ متعارف کرا کربزنس کے میدان میں قدم رکھا تو یہاں بھی کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔وہ ماہ رمضان کی خصوصی نشریات اور پروگراموں میں بطور میزبان کے طور بھی نمایاں رہے۔ وہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے، کراچی میں کچرا اٹھانے کی مہم کی بھی قیادت کی۔2007ء میں جنید جمشید کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت کی طرف سے ''تمغہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔داڑھی رکھ کر اسلام کی تبلیغ شروع کرنے کے باعث عوام نے انہیں مبلغِ اسلام کہنا اور سمجھنا بھی شروع کردیا تھا۔ مبلغِ اسلام جنید جمشید 7 دسمبر 2016ء کو پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 661 کے ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ آج معروف گلوکار اور مبلغِ اسلام کی برسی کے موقع پر لوگ جنید جمشید کے ساتھ ساتھ اس افسوسناک حادثے کو بھی ضرور یاد کریں گے۔ایک گلوکار سے ایک مبلغ تک کا سفر طے کرنے والے جنید جمشید کو پاکستان میں وہ شہرت نصیب ہوئی جو دنیا میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جس کی وجہ ان کی ذاتی محنت و صلاحیت کے ساتھ ساتھ اسلام کیلئے محبت بھی تھی۔میں نے اپنی زندگی میں دو شخصیات کے سوا ایسا کوئی ایک بندہ نہیں دیکھا، جنہوں نے اپنا شعبہ چھوڑ کر کوئی دوسرا شعبہ اختیار کیا ہو اور لوگوں نے پھر بھی انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہو۔ ان میں سے ایک جنید جمشید ہیں اور دوسرے عمران خان ہیں۔ پاکستان کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں جس گلوکار یا اداکار نے اپنا شعبہ چھوڑ کر کچھ اور کرنا چاہا، وہ رات کی سیاہی میں کھو گیا۔ بات اگر صرف جنید جمشید کی ہی کی جائے تو ایسی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، جس شخصیت کی وفات پر شوبز کی دنیا پر بھی سکتہ چھاگیا تھا اور مذہبی حلقے سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ بھی آنسو بہا رہے تھے۔ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوں میں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں

تھیلیسیمیا کے مریض کیا کھائیں؟

تھیلیسیمیا کے مریض کیا کھائیں؟

تھیلیسیمیاایک موروثی بیماری ہے، جو اکثر ان بچوں میں سامنے آتی ہے، جن کے والدین میں تھیلیسیمیاکوریئر جینزہوتے ہیں۔ یہ مرض زیادہ تر خاندان میں شادی کرنے والے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ تھیلیسیمیاخون کی بیماری ہے اس میں مریض کا خون نہیں بنتا ہے اور اس کو ساری زندگی خون لگوانا پڑتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر سال 5لاکھ سے زائد تھیلیسیمیاکے مریض سامنے آتے ہیں۔تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے غذا نہایت اہمیت کی حامل ہے لیکن مریضوں کے لواحقین کی اکثریت کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ مریض کا کیا کھلایا جائے۔تھیلیسیمیاکے مریض کا پرہیزفولاد والی غذائیں:مریضوں کو فولاد والی غذائوں سے پرہیز کرنا چاہئے ،انہیں کلیجی ، چھوٹا گوشت اور بڑا گوشت نہیں دینا چاہئے۔ان میں فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے جو تھیلیسیمیاکے مریضوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ ان مریضوں کے جسم میں فولاد کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ان کو Chelation Therapyکروانی پڑتی ہے جس کے ذریعہ سے ان کے جسم سے فولاد کو کم کیا جاتا ہے۔مکس دالیں:اگر دو یا تین دالوں کو مکس کرکے پکایا جائے تو تقریباً یہ ہمیں اتنا ہی فولاد فراہم کرتی ہیں جتنا گوشت سے حاصل ہوتا ہے اس لئے مکس دالوں کے بجائے علیحدہ پکی ہوئی دال بنا کر تھیلیسیمیاکے مریض کو دی جا سکتی ہے۔سبز پتوں والی سبزیاں:سبز پتوں والی سبزیاں پالک، ساگ، میتھی، مولی کے پتے وغیرہ ان میں بھی فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا ان سبزیوں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔کھجور اور انجیر:کھجور اور انجیر بھی تھیلیسیمیاکے مریضوں کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں بھی فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔تھیلیسیمیاکے مریض کی غذاتھیلیسیمیاکے مریض مندرجہ ذیل غذائوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔ دودھ اور دہی یا ان سے بننے والی اشیاء کا روزانہ استعمال کریں۔ تھیلیسیمیاکے مریضوں میں خون نہ بننے کی وجہ سے ہڈیوں میں درد اور قد کا عمر کے حساب سے نہ بڑھنا بہت عام مسئلہ ہے۔ اگر کیلیشم والی غذائوں کا استعمال کیا جائے تو اس عنصر کو کم کیا جا سکتا ہے۔پھل ہر قسم کے استعمال کئے جا سکتے ہیں مگر اس چیز کا خیال رکھا جائے اگر اس دن مریض نے گوشت، دال، سبز پتوں والی سبزی استعمال کی ہے تو پھر اس میں ترش پھل نہ دیئے جائیں کیونکہ یہ فولاد کو جسم میں جذب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے نقصان دہ ہے۔چائے کا استعمال: گوشت، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں اگر کبھی استعمال کریں تو ان کی مقدار بہت کم لیں اور ان کے ساتھ چائے لازمی پئیں۔ اس سے ان میں موجود فولاد جسم میں جذب نہیں ہوتا اور تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔چکن اور مچھلی:چکن و مچھلی کا استعمال تھوڑی مقدار میں کیا جا سکتا ہے اور ان مریضوں کو چاہئے کہ کلیجی، چھوٹے گوشت، بڑے گوشت کے بجائے مچھلی اور چکن کو استعمال کریں۔چکی کا آٹا: چکی کے آٹا کا استعمال کریں، اس میں مختلف منرلزپائے جاتے ہیں جو صحت کو ٹھیک رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں فائبر بہت اچھی مقدار میں پایا جاتا ہے جو معدہ کو ٹھیک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔غلط تصور: ہمارے ہاں یہ تصور بہت عام پایا جاتا ہے کہ سیب، کیلا اور بینگن میں فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے کیونکہ یہ کاٹنے پر برائون رنگ میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے ان میں فولاد کی مقدار نہیں ہوتی بلکہ یہ برائون رنگ انزائمزکے ریکشن کے نتیجے میں ہوتا ہے۔تھیلیسیمیااور جسمانی سرگرمیاں:زیادہ تھکا دینے والی جسمانی سرگرمیوں سے پرہیز کریں اور تھیلیسیمیامیں مبتلا بچوں کو چاہئے کہ وہ زیادہ کھیل کود میں حصہ نہ لیں کیونکہ ان کا ایچ بی لیول بہت کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے سانس پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔سیدہ افزاح تنویر ماہر غذائیات(نیوٹریشنسٹ) ہیں،وہ تھیلیسیمیاکے مریضوں کے لئے ورکشاپس کابھی انعقاد کرتی رہتی ہیں

حکائیت ِ سعدیؒ،   طاقت اور تجربہ

حکائیت ِ سعدیؒ، طاقت اور تجربہ

ایک مرتبہ میں بلخ سے بامیان کی طرف جا رہا تھا۔ راستہ خطرناک تھا اور میری رہنمائی کیلئے ایک نوجوان میرے ساتھ ہو لیا۔ جو نیزہ بردار ہتھیار پوش ہونے کے ساتھ اتنا طاقتور تھا کہ دس قوی افراد بھی اس کی کمان پر چلہ نہ چڑھا سکتے تھے اور دنیا بھر کے پہلوان کشتی میں اس کو نہ پچھاڑ سکتے تھے۔چونکہ ناز و نعمت میں پلا ہوا تھا، کبھی آگ برساتے سورج کی تپش سے واسطہ پڑا تھا نہ کبھی اندھیری راتوں کا بھیانک چہرہ دیکھا تھا، نہ بہاروں کے نقارے کی آواز کان میں پڑی تھی اور نہ سواروں کی تلواروں کی چمک اس نے دیکھی تھی۔ نہ کبھی دشمن کے ہاتھوں قیدی بنا تھااور نہ ہی اس کے چاروں طرف تیروں کی بارش ہوئی تھی۔ راستے میں ہم آگے پیچھے دوڑ رہے تھے میں نے دیکھا کہ جو بوسیدہ دیوار راہ میں آتی اس کو گرادیتااور بڑے سے بڑے درخت جڑ سے اُکھاڑ پھینکتا اور فخر سے یہ شعر پڑھتا ''ہاتھی کہاں ہے آکر پہلوان کے بازو اور کندھے دیکھے اور شیر کہاں ہے آکر مرد کے ہاتھ اور پنجے دیکھے‘‘۔اسی اثنا میں دو ڈاکو ایک بڑے پتھر کے پیچھے سے نمودار ہوئے اور ہم سے جنگ کرنے کی ٹھان لی۔ ایک کے ہاتھ میں لاٹھی تھی جب کہ دوسرے کے پاس موگری پتھر ۔میں نے پہلوان صاحب سے کہا دیکھتے کیا ہو؟ دشمن سر پر آ گیا ہے اور لڑنے پر آمادہ ہے۔جو بہادری اور طاقت تیرے پاس ہے وہ دکھا کیونکہ دشمن اپنے پائوں سے چل کر گویا شیر کی کچھار میں آ گیا ہے۔میں نے دیکھا کہ پہلوان صاحب کے چھکے چھوٹ گئے۔ ہاتھ سے تیر کمان گر گیا اور جسم لرزہ براندام تھا۔ضروری نہیں کہ تیر کے نشانے سے بال کو چیر دینے والا حملے کے وقت بھی ٹھہر سکے۔میں نے اندازہ لگا لیا کہ پہلوان کے اوسان خطا ہو چکے ہیں، اب عافیت اسی میں ہے کہ جان کی خیر منائی جائے۔کام بڑا ہو تو کسی تجربے کار کو بھیج ، جوبپھرے ہوئے شیر کو بھی کمند کے حلقے میں پھنسا لے۔ جوان اگر موٹی گردن اور ہاتھ کے جسم والا ہی کیوں نہ ہو، جب دشمن سامنے آئے گا تو اس کے جوڑ ہلنے لگیں گے۔ لڑائی تجربہ کار ہی لڑ سکتا ہے، جیسے شرعی مسئلہ عالم ہی بتا سکتا ہے۔ظاہری طور پر بڑے مضبوط اور پہلوان قسم کے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی ان کے مقابلے میں آ جائے اور لڑنے مرنے پر تیار ہو جائے تو ایسے کھسکتے ہیں جیسے گیڈر کے ساتھ کوئی رشتہ داری ہو اور اس بزدلی کو صبر اور بردباری کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ جہاں بس چلتا ہو وہاں اتنے بڑے ظالم بن جاتے ہیں کہ فرعون و یزید بھی کانپ جاتے ہوں گے۔

موہٹہ پیلس سے قصر فاطمہ تک

موہٹہ پیلس سے قصر فاطمہ تک

قیام پاکستان سے بہت سال پہلے کی بات ہے کلکتہ کے رائے بہادر شیو رتن داس موہٹہ نامی ایک نامور کاروباری شخصیت نے کلکتہ سے کراچی اپنے کاروبار کو منتقل کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ ان دنوں کراچی کے کاروباری حالات کلکتہ سے زیادہ بہتر تھے۔ شیو رتن موہٹہ اپنے دور کے انتہائی مالدار اور اچھی کاروباری شہرت کے حامل شخص تھے جن کا بنیادی طور پر جہازرانی اور جہاز سازی کے ساتھ ساتھ شوگر اور سٹیل کا کاروبار تھا۔ یہاں اس خاندان کا کاروبار خوب چمکا اور تھوڑے ہی عرصے میں یہ خاندان کراچی کے امیر ترین لوگوں میں شمار کیا جانے لگا۔پیرزادہ سلمان اپنی کتاب '' لیگیسیز آف ایمپائرز ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ایک دن اچانک رائے بہادر کو یہ اطلاع ملی کہ ان کی بیوی ایک جان لیوا مرض میں مبتلاہیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں فی الفور اپنی بیوی کے ساتھ ہوادار مقام منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ملک کے نامور ماہر تعمیرات کے مشورے کے بعدساحل سمندر پرایک عالی شان بنگلہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ رائے بہادر نے ماہر تعمیرات آغا احمد حسین سے رابطہ کر کے انہیں اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ 1927ء میں بنگلے کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جو 1933ء میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔ 18500مربع فٹ قطعہ زمین پر محیط یہ محل نما بنگلہ فن تعمیر کا ایسا شاہکار تھا جس میں مغل فن تعمیر کی جھلک نظر آتی تھی۔ اس کی خاص بات اس کے منفرد گنبد ،مینار اور مغلیہ طرز تعمیر کی محرابیں تھیں۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا گلابی پتھر جودھ پور اور پیلا پتھر گزری سے منگوایا گیا تھا۔ اس عمارت کے چاروں اطراف خوبصورت باغیچے اور جا بجا لگے فوارے ماحول کے حسن میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے تھے ۔ آغا احمد حسین نے اس عمارت کو جمالیاتی حسن اور تہذیب و تمدن کا ایک ایسا نادر نمونہ بنا دیا جو آج عدم توجہی کے باوجود بھی دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔اس سے پہلے کہ اس عمارت کے مالک اس کا کوئی نام تجویزکرتے، اہل کراچی نے اسے '' موہٹہ پیلس ‘‘کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ موہٹہ پیلس کو پہلی نظر دیکھنے سے ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے مغلیہ دور کی کوئی عمارت ہو۔اب یہ سمندر کی ٹھنڈی ہواؤں کا کمال تھا، رائے بہادر کی شریک حیات کو نئی زندگی مل گئی۔قیام پاکستان اور موہٹہ پیلس:قیام پاکستان کے ساتھ ہی کراچی پاکستان کا دارالخلافہ ٹھہرا۔ شروع میں سرکاری دفاتر کیلئے عمارتوں کا فقدان پیش آیا توفیصلہ ہوا کہ جن کے پاس ایک سے زائد مکان ہے ان کا ایک مکان حکومت کی تحویل میں چلا جائے گا۔ اسی دوران سرکار کے کچھ لوگوں نے موہٹہ پیلس کو وزارت خارجہ کے دفتر کیلئے موزوں سمجھتے ہوئے موہٹہ فیملی سے جب اس خواہش کا اظہار کیا تو شیورتن داس نے نہ چاہتے ہوئے اس مکان کا قبضہ سرکار کے سپرد کر دیا۔ کہتے ہیں شیورتن داس اپنے سپنوں کا محل سرکار کے حوالے کر کے اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ واپس پڑوسی ملک سدھار گئے۔1948ء میں جب دارالخلافہ راولپنڈی منتقل ہوا تو موہٹہ پیلس محترمہ فاطمہ جناح کو اپنی بمبئی والی رہائش گاہ کے بدلے الاٹ کر دیا گیا۔ جسے حکومتی سطح پر'' قصر فاطمہ ‘‘کا نام دے دیا گیا۔ فاطمہ جناح کو بھی یہ گھر بہت پسند تھا۔یہی وہ عمارت تھی جہاں سے محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن کی مہم چلائی تھی۔ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد ان کی بہن شیریں جناح اس گھر میں منتقل ہو گئیں۔ اپنی زندگی میں ہی انہوں نے ''شیریں جناح چیریٹیبل ٹرسٹ‘‘قائم کر کے قصر فاطمہ سمیت اپنی تمام جائیداد اس ٹرسٹ کے نام منتقل کر دی۔ انہوں نے یہ وصیت بھی کی کہ فاطمہ جناح کی خواہش کے مطابق اس عمارت میں لڑکیوں کیلئے ایک ڈینٹل میڈیکل کالج اورایک ہسپتال قائم کیا جائے ۔قصر فاطمہ تنازعات کی زد میں:محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ''قصر فاطمہ ‘‘کی ملکیت کا تنازع اس وقت کھڑا ہوگیا جب فاطمہ جناح کے ایک رشتے دار حسین جی والجی نے یہ دعویٰ دائر کیا کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح اور محمد علی جناح کے چچا والجی پونجا کے پوتے ہیں اور وہ فاطمہ جناح کی چھوڑی ہوئی نصف جائیداد کے حقیقی قانونی وارث ہیں۔ اس لئے اس عمارت کا انتظام اور قبضہ انہیں دیا جائے۔ جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 1971ء میں ہی اس عمارت کو سیل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔23 دسمبر 1976ء کو سندھ ہائی کورٹ نے حسین جی والجی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قصر فاطمہ شیریں جناح کے حوالے کر دیا تھا۔1995ء میں جب بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں تو سندھ حکومت نے اس عمارت کے حصول کے لئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔ جسے بعد ازاں میوزیم میں تبدیل کر نے کیلئے محکمہ ثقافت حکومت سندھ کی تحویل میں دے دیا گیا۔محترمہ فاطمہ جناح کی وصیت: اس عمارت کی ملکیت کے قدیم دعویداروں کی جانب سے دائر اس کیس میں یہ موقف اختیار کیا کہ فاطمہ جناح کی وصیت کے مطابق یہاں ڈینٹل کالج بننا چاہئے تھا جسے نظر اندازکرکے سندھ حکومت نے یہاں ایک میوزیم اور کلچرل سنٹر بناڈالا ہے جہاں اکثر ناچ گانے کی محفلیں سجتی رہتی ہیں جس سے اس عمارت کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ رواں سال اکتوبر میں عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں اس عمارت کو میڈیکل ڈینٹل کالج بنانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ محترمہ فاطمہ جناح کے خوابوں کی تعبیر بن پائے گا؟خاورنیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

ظفرعلی خان اور شبلی نعمانی ۔۔۔دوکوزہ گر ،ظفرعلی خان کے مضامین اور اسلوب پر شبلی کا رنگ نمایاں ہے

شمس العلما مولانامحمدشبلی نعمانی علی گڑھ کالج کا مایہ افتخارہیں۔ وہ فروری 1883ء سے اواخر 1898ء تک اس تاریخی درس گاہ سے وابستہ رہے۔ وہ یہاں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کیلئے قائم کی گئی مجلس ’’لجنۃ الادب‘‘ کے نگران تھے۔ کم و بیش 16 سال کی اس مدت میں انھوںنے بہت سی جماعتوں کو درس دیا اور کئی نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ علی گڑھ میں ان کے دامن تربیت اور خوانِ علم و فضل سے وابستہ رہنے والوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حمیدالدین فراہی، مولوی عزیز مرزا، خواجہ غلام الثقلین، مولوی عبدالحق، سید محفوظ علی بدایونی، ڈاکٹر سرضیاء الدین اور چودھری خوشی محمد ناظر جیسے لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلۃ الذہب میں مولانا ظفر علی خان کا نام بھی شامل ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ مولانا شبلی کے تلامذہ میں قومی سطح پر خدمات انجام دینے والوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ظفر علی خان 1892ء میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد 1893ء میں علی گڑھ میں داخل ہوئے اور انھوںنے 1895ء میں فسٹ ڈویژن میںبی اے کا امتحان پاس کیا۔

فیوڈل فینٹسی

فیوڈل فینٹسی

ہر شخص کے ذہن میں عیش و فراغت کا ایک نقشہ رہتا ہے جو دراصل چربہ ہوتا ہے اس ٹھاٹ باٹ کا جو دوسروں کے حصے میں آیا ہے۔ لیکن جو دکھ آدمی سہتا ہے، وہ تنہا اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بلاشرکت غیرے۔ بالکل نجی، بالکل انوکھا۔ ہڈیوں کو پگھلا دینے والی جس آگ سے وہ گزرتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں۔ جیسا داڑھ کا درد مجھے ہو رہا ہے ویسا کسی اور کو نہ کبھی ہوا، نہ ہو گا۔ اس کے برعکس، ٹھاٹ باٹ کا بلْو پرنٹ ہمیشہ دوسروں سے چْرایا ہوا ہوتا ہے۔ بشارت کے ذہن میں عیش و تنعم کا جو صد رنگ و ہزار پیوند نقشہ تھا وہ بڑی بوڑھیوں کی اس رنگا رنگ رلّی کی مانند تھا جو وہ مختلف رنگ کی کترنوں کو جوڑ جوڑ کر بناتی ہیں۔

گرد ملال

گرد ملال

ارے بہادر شاہ ظفر کا حقہ، اور ایک مرتبہ پھر مغلیہ جاہ و جلال، ان کی شان و تمکنت، ان کا تہذیب و تمدن، ان کا ذوق و شوق دونوں ادھیڑ عمر دوستوں کے تصورات میں آن دھمکا۔ سال خوردگی کے باوجود حقے کا رعب داب طنطنہ ہنوز قابل رشک، اس کی بناوٹ میں زیادہ تر نقرۂ خالص اور تانبہ استعمال ہوا۔ شہنشاہ کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل اسے قیمتی ہیروں اور چمکتے دمکتے نگینوں سے مزین کیا گیا ہوگا، مگر اب اس بدقسمت کے پنڈے پر نوچے گئے جواہرات کے فقط نشانات یوں موجود جیسے گئے وقتوں کے المناک نوحے رقم ہوں۔

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان ،شائقین اسٹیڈیم جانے کو بے چین، ’’اومیکرون‘‘ کے سائے بھی منڈلانے لگے

کرکٹ دیوانوں کے لیے اچھی خبریں آنے کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان کے میدان آباد ہی نہیں بلکہ رونق افروز ہونے کو ہیں۔ ویسٹ انڈیز کادورہ اس حوالے سے شہر قائد سمیت ملک بھر کے تماشائیوں کیلئے بہت ہی مبارک ہے۔ کیربینز ٹیم نے 2018ء میں تین ٹی 20میچ کراچی میں کھیلے تھے، جس میں میزبان گرین شرٹس نے کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ وائٹ واش شکست کھانے کے تقریبا ًپونے چار سال بعد وِیسٹ انڈیز پھر ہمارے مہمان بن رہے ہیں۔ اسے ایک سیریز کے بجائے کرکٹ میلہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خوش قسمتی سے سوفیصد تماشائیوں کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

تعمیراتی صنعت:جدت کی متقاضی،یورپ سے سیکھیں
2021-12-04

تعمیراتی صنعت:جدت کی متقاضی،یورپ سے سیکھیں

شرکاء:آفتاب کھوکھر(آسٹریا میں پاکستانی سفیر) فلیمر احمتی(آسٹریا کے آرکیٹکٹ)بذریعہ ویڈیولنک فرحان قیصر(سینئر ڈائریکٹر ایس بی سی اے ) پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین (وی سی سرسید یونیورسٹی برائے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی) پروفیسر ڈاکٹر شبر علی (ڈین فیکلٹی آف سول انجینئرنگ اینڈ آرکیٹکٹ)

قوانین صرف خواتین کے حق میں، مظالم کا شکار مرد بھی!
2021-11-17

قوانین صرف خواتین کے حق میں، مظالم کا شکار مرد بھی!

شرکاء:شکیل خان (رکن گورننگ باڈی آرٹس کونسل کراچی)ڈاکٹر کلیم خان (اورل سرجن،کے ایم ڈی سی)ملکہ خان(صوبائی پروگرام منیجر ،عورت فائونڈیشن)صبیحہ شاہ ( سی ای او ویمن ڈیولپمنٹ فائونڈیشن)ایڈووکیٹ طلعت یاسمین(چیئرپرسن ویمن اسلامک لائرز فورم)فرحت پروین(ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل آرگنائزیشن فار ورکنگ کمیونیٹیزبابر سلیم(سربراہ بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی)ہمایوں نقوی(سماجی رہنما)

جیل میں قید مائیں بہنیں بیٹیاں۔۔ معاشرتی رویوں سے نالاں
2021-11-06

جیل میں قید مائیں بہنیں بیٹیاں۔۔ معاشرتی رویوں سے نالاں

شرکاء: شیبا شاہ ،ڈی آئی جی ویمن جیل کراچی ۔ڈاکٹر مسرور شیخ ، چیئرمین سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اقبال النساء، مرکزی نائب صدر ویمن ایڈ ٹرسٹ۔خیرالنساء ایگزیکٹو ممبر ویمن ایڈ ٹرسٹ اور ویمن جیل کی انچارج منجانب ویمن ایڈ ٹرسٹ۔زینب کوآرڈی نیٹر ویمن ایڈ ٹرسٹ۔ڈاکٹر حمیرا رسول ،میڈیکل آفیسر ویمن جیل خواتین قیدیوں کی بڑی تعداد شریک

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز