لاہور: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی صورتحال سمیت خیبرپختونخوا کی امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
لاہور: (دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی صورتحال سمیت خیبرپختونخوا کی امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
فریقین میں پیشرفت جاری تھی معاملہ انسداددہشتگردی کے مسئلے پر اٹک گیا،پی ٹی آئی دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں ضروری انتظامی اقدامات سے پیچھے ہٹ رہی:حکومتی ذرائع،بات چیت بے نتیجہ ختمتحریک انصاف کے لانگ مارچ شروع کر نے پر مذاکرات متاثر اور دیگر آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے :ذرائع، وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کا آج سے باقاعدہ لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان
بیدیاں سیکٹر میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی طرف سے نہتے شہریوں کیخلاف بلااشتعال طاقت کا استعمال بلاجواز اور انتہائی غیر متناسب قرار درانداز قرار دینے کی کوشش مسترد،واقعہ کی شفاف ،قابل اعتماد تحقیقات،ذمہ دار اہلکاروں کیخلاف مناسب محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے :دفتر خارجہ
وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال،محسن نقوی لاہور میں ملاقات کے بعد اسلام آبا روانہ
وزیراعلیٰ عالمی یوم رہائش پر یواین ہیبی ٹیٹ سکرول آف آنر ایوارڈکیلئے مسقط جائینگی ،اعزاز بے گھر افراد کے نام مریم نواز سے سپین کے سفیر کی ملاقات، لاہور بارسلونا کو سسٹر سٹی قراردینے ، پائلٹ فٹ بال اکیڈمی پر گفتگو
پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم ،دہشتگردی کیخلاف معاہدہ کرے ،پختونخوا نے اہمیت نہ دی تو ایمرجنسی کی حمایت کرینگےوفاق وعدے پورے کرے ،وہاں بیٹھے دوست شوق سے کراچی پر تنقید کریں ، ترقیاتی کام تیزی سے ہورہے ، خطاب
عوام کا فیصلہ نہیں مانا تو ملک سانحات سے دوچار ہوتا رہے گا:رہنما ن لیگ،ملک تباہ کرنے میں شامل سب کو پھانسی پر لٹکائیں:ندیم چنڈیلیوری سسٹم انتہائی کمزور:انوار کاکڑ،عوام ریاست سے بددل:مصطفی کمال،ہائبرڈ نظام مثبت نتائج دے تو قبول:زبیر عمرNFC میں مقامی حکومتوں کا 30فیصد حصہ رکھیں:اسد عمر،کٹھ پتلیوں کے خاتمے تک سیاسی استحکام نہیں آئیگا:حامد خان ودیگر
لیز ہولڈر بھی پراپرٹی ٹیکس کیلئے مالک تصور ہوگا، محض لیز پر جائیداد لینے کی بنیاد پر ٹیکس استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا:عدالت کالج کو ٹیکس ادائیگی میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر 10لاکھ روپے جرمانہ، سابقہ واجبات کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار
محرومی یا پسماندگی کو تشدد،معصوم شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا،مسائل کے حل کے جمہوری راستے کھلے ہیں ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا،قوم فورسز کیساتھ کھڑی ہے :وزیر اعلیٰ بلوچستان
انگلینڈ میں منفرد مقابلہ، غیر معمولی حجم اور وزن والی سبزیاں توجہ کا مرکزسبزیوں کا شمار عام طور پر روزمرہ خوراک کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن برطانیہ کے شہر مالورن میں ہونے والا ایک منفرد مقابلہ انہیں غیر معمولی شہرت بخش دیتا ہے۔ یہاں کاشت کار اور شوقیہ باغبان ایسی سبزیاں اگانے کیلئے برسوں محنت کرتے ہیں جو اپنے غیر معمولی حجم اور وزن کے باعث دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ دیوہیکل کدو، گاجر، گوبھی اور دیگر سبزیوں کی نمائش نہ صرف باغبانی کے شوق کی عکاسی کرتی ہے بلکہ محنت، تجربے اور قدرت کے ساتھ انسان کے تعلق کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس سال بھی مالورن میں کئی ''دیوہیکل سبزیوں‘‘ نے سبقت حاصل کی ہے۔برطانیہ میں خزاں کا موسم آچکا ہے اور کینا یو کے نیشنل جائنٹ ویجیٹیبلز چیمپئن شپ کا وقت آگیا ہے۔یہ انتہائی متوقع مقابلہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مالورن آٹمن شو میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد اس غیر معمولی جسامت کی سبزیوں کو دیکھنے کیلئے اس شو کا رخ کرتے ہیں۔ 25 سے 27 ستمبر تک منعقد ہونے والے اس سال کے مقابلے میں آنے والے شائقین کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کیونکہ ہفتے کے اختتام پر پانچ باغبانوں کی اگائی ہوئی مجموعی طور پر سات غیر معمولی جسامت کی سبزیوں اور پھلوں نے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی تصدیق حاصل کی۔یہ سات ریکارڈ توڑنے والی سبزیوں اور پودوں میں ایک دیوہیکل چقندر بھی شامل تھا، جس کا ریکارڈ 2019ء سے ناقابلِ شکست چلا آ رہا تھا۔ اس کے علاوہ بٹرنٹ اسکواش کی ایک انتہائی طویل قسم ''ٹرومبونچینو‘‘ بھی شامل تھی، جبکہ شاید بہت سے لوگوں کیلئے سب سے حیران کن چیز وہ پودا تھا جسے عام طور پر باغیچے کی ایک ناپسندیدہ جڑی بوٹی سمجھا جاتا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں ریکارڈ قائم ہونا اس لحاظ سے بھی خاصا متاثر کن ہے کہ رواں موسمِ گرما کے دوران برطانیہ کو کئی مرتبہ طویل اور شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ثابت قدم باغبانوں سے گفتگو کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس انتہائی موسم کا بھی حوصلے اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا۔مقابلے میں شامل تمام امیدواروں کی چیف جج اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کے دیوہیکل سبزیوں کے ماہر سیباسٹین سوسکی نے انتہائی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے ہر زمرے کے مقررہ قواعد کے مطابق شرائط پوری ہونے کی تصدیق کی، جس کے بعد سبزیوں اور پودوں کی پیمائش اور وزن کرنے کا اہم مرحلہ مکمل کیا گیا۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے بھی موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کامیاب نمونوں کا قریب سے معائنہ کیا اور ان کے کاشت کاروں کو سرٹیفکیٹس پیش کیے۔کیون فورٹی، جنہیں ''مسٹر جائنٹ ویج‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس سال ان دو کاشت کاروں میں شامل تھے جنہوں نے دو، دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ دوسرے کاشت کار ونسنٹ سجوڈن تھے۔ کیون فورٹی کے خاندان میں دیوہیکل سبزیاں اگانے کی روایت تین نسلوں سے چلی آ رہی ہے اور اب تک خاندان کے افراد مجموعی طور پر 17 عالمی اعزازات اپنے نام کر چکے ہیں۔فورٹی کا کہنا ہے کہ ان کی نگاہیں 20 عالمی ریکارڈز کا سنگ میل عبور کرنے پر ہیں۔سب سے پہلے فورٹی نے سب سے بھاری لوفا کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ لوفا ایک بیل دار گرم خطے کا پودا ہے، جس کے خشک ہونے کے بعد اس کے پھل کو عموماً باتھ روم میں استعمال ہونے والے قدرتی اسفنج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ فورٹی نے ایک بالکل نئے زمرے میں بھی پہلا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا، جو سب سے لمبی ٹرومبونچینو کا تھا۔ شمالی اٹلی سے تعلق رکھنے والی یہ لمبی اور خمدار اسکواش کی زیادہ سے زیادہ لمبائی حاصل کرنے کیلئے باغبان کے سامنے اصل چیلنج یہ تھا کہ پھل کو سیدھا رکھا جائے۔ ٹرومبونچینو بھی بحیرہ روم کے خطے کی ایک ایسی سبزی ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران برطانیہ کے باغبانوں میں تیزی سے مقبول ہوئی ہے۔2026ء میں عالمی ریکارڈ کیلئے ایک اور نیا زمرہ سب سے لمبی ڈینڈیلائن کی جڑ کا متعارف کرایا گیا۔ اگرچہ مقابلے میں نمائش کیلئے پیش کی جانے والی دیگر سبزیوں کے مقابلے میں ڈینڈیلائن شاید زیادہ معروف نہ ہو، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس پودے کے تمام حصے قابلِ خوراک ہیں۔ اس کے پتے اور پھول سلاد میں استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ جڑ کو چائے کا ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے بھون کر کافی کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔واروک شائر سے تعلق رکھنے والے طویل عرصے سے باغبانی کے شعبے سے وابستہ ماہر اور یوٹیوبر ٹیری کنگ کئی برسوں سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بالآخر اپنا پہلا گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرنا ان کیلئے ایک خواب پورا ہونے کے مترادف تھا۔
دنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہےدنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانوں میں جانوروں کے حقوق، ان کے تحفظ، فلاح و بہبود اور قدرتی ماحول میں ان کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ جانور قدرتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور زمین پر زندگی کے توازن کو برقرار رکھنے میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان صدیوں سے مختلف جانوروں سے خوراک، لباس، زراعت، نقل و حمل اور دیگر ضروریات کیلئے فائدہ اٹھاتا آیا ہے، اس لیے ان کے ساتھ حسن سلوک اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا انسانی معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس سال یہ دن ''ان کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھئے‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔جانوروں کا عالمی دن پہلی مرتبہ 1925ء میں جرمنی کے شہر برلن میں منایا گیا تھا۔ بعدازاں یہ دن دنیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ 4اکتوبر کا انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ مسیحی روایت میں جانوروں اور قدرتی ماحول کے سرپرست سمجھے جانے والے سینٹ فرانسس آف اسیسی سے منسوب دن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس دن کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور آج مختلف ممالک میں جانوروں کے تحفظ، جنگلی حیات اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔جانوروں کی دنیا انسانوں سے کہیں زیادہ وسیع اور متنوع ہے۔ جنگلات، پہاڑوں، صحراؤں، دریاؤں اور سمندروں میں لاکھوں اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں۔ ہر نوع قدرتی ماحول میں ایک مخصوص کردار ادا کرتی ہے۔ شہد کی مکھیاں اور تتلیاں پودوں کی بارآوری میں مدد دیتی ہیں، پرندے بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں جبکہ بہت سے جانور قدرتی خوراکی سلسلے کا اہم حصہ ہیں۔ کسی ایک نوع کی تعداد میں غیر معمولی کمی بھی پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔بدقسمتی سے انسانی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے متعدد جانوروں کو بقا کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، قدرتی مسکن کی تباہی، غیر قانونی شکار، آلودگی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت نے کئی انواع کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بعض جانوروں کی نسلیں معدوم ہو چکی ہیں جبکہ کئی دیگر معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں بہت سے جانوروں کو صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھ سکیں گی۔شہری علاقوں میں بھی جانوروں کے ساتھ رویہ معاشرے کی اخلاقی تربیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پالتو جانوروں کو مناسب خوراک، صاف پانی، محفوظ رہائش اور علاج کی سہولت فراہم کرنا ان کے مالک کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آوارہ کتوں اور بلیوں کے ساتھ تشدد کے بجائے انسانی اور سائنسی طریقوں سے ان کی تعداد کو منظم کیا جانا چاہیے۔ زخمی یا بیمار جانور کو تکلیف پہنچانے کے بجائے متعلقہ اداروں یا ماہرین حیوانات سے مدد حاصل کرنا زیادہ ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔اسلامی تعلیمات میں بھی جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں مخلوقات خدا کے ساتھ رحم، شفقت اور ذمہ داری کا درس ملتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں جانوروں کے ساتھ رحم کرنے کو اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔جانوروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف انسانوں کیلئے نہیں۔ قدرت نے تمام جانداروں کیلئے ایک مربوط نظام قائم کیا ہے جس میں ہر مخلوق کا اپنا مقام اور کردار ہے۔ جانوروں کے قدرتی مسکن کا تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام، جنگلی حیات کے قوانین پر عمل درآمد اور عوام میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر انسان ترقی کے ساتھ رحم، ذمہ داری اور ماحول دوستی کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف جانور محفوظ رہیں گے بلکہ ہماری اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک متوازن اور صحت مند دنیا برقرار رہ سکے گی۔
٭... 9 جون 1938ء کو سندھ کے شہر میرپور خاص میں پیدا ہوئے، پورا نام مسعود احمد رانا تھا۔ ٭...1955ء میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے گانا شروع کیا۔٭...60ء کے عشرے میں میوزک بینڈ بنایا، جس میں اداکار ندیم اور اخلاق احمد بھی شامل تھے۔٭...1962ء میں فلم ''انقلاب‘‘ سے فلمی گیت گانے کی خواہش پوری ہوئی۔٭...ہلکے پھلکے رومانوی گیت ہوں، المیہ دھنیں ہوں، شوخ یا پھر لمبی تانیں وہ ہر قسم کے گیت گانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ٭...پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ہیں جنہوں نے اردو اور پنجابی فلموں اور گیتوں کی سینچریاں بلکہ ڈبل سینچریاں بنائیں۔٭... فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے، جنھوں نے 600 سے زائد فلموں کیلئے نغمہ سرائی کی۔٭... پہلی فلم ''انقلاب‘‘ سے لے کر اپنی آخری فلم ''سناٹا‘‘ تک فلمی صنعت کی ضرورت بنے رہے۔٭...34سالہ کریئر میں ایک بھی سال ایسا نہیں گزرا جب ان کی کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی ہو۔ ٭...ان کی بے مثل آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے انھیں ''پاکستانی رفیع‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ ٭...منفرد لہجے کے حامل اس گلوکار نے مشکل طرز کے گانے بھی ریکارڈ کرائے جو سننے والوں کو آج بھی اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔٭...ان کے گیتوں سے سجی فلموں میں ''آئینہ، دھڑکن، مجاہد، نائلہ، کون کسی کا، بھیّا، سنگ دل، پاک دامن، احساس، دامن اور چنگاری، میرا ماہی، مرزا جٹ، دھی رانی،دل میرا دھڑکن تیری، خواب اور زندگی،چراغ کہاں روشنی کہاں، ہمراہی، بدنام‘‘ نمایاں ہیں۔٭... تین موسیقاروں کے ساتھ سو، سو سے زائد گیت بھی گائے، جن میں بابا جی اے چشتی، ایم اشرف اور وجاہت عطرے شامل تھے۔٭...دنیائے موسیقی کا یہ روشن ستارہ 4 اکتوبر1995ء کو غروب ہو گیا۔حمد،نعت ، قوالی٭...مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا٭...وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے٭...کرم کی اک نظر ہم پر خدارا، یا رسول اللہﷺ ٭...مدینے والے کو میرا سلام کہہ دینا ٭...مولا تیرا کرم ہے ، ہمیں مصطفیﷺ ملے٭...داتا ،میرے، جھولی بھر دے، میں سوالی تیرے در کاملی نغمے٭...ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ٭...سوہنی دھرتی، اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے٭...ساتھیو، مجاہدو، جاگ اْٹھا ہے سارا وطن ٭...اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں٭...اے وطن، اسلام کی امید گاہ آخری، تجھ پر سلاممقبول گیت٭...تمہی ہو محبوب میرے،میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں٭...ٹانگے والا خیر منگدا ٭...عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی، سجناں نے بوہے اگے چک تان لئی٭...تیری یاد آگئی، غم خوشی میں ڈھل گئے٭...برا مان کر کہاں چل دیئے،٭...حسن والوں کا سدا برا انجام ہوتا ہے٭...دنیا ریل گاڑی، ہے سانپ کی سواری٭...میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا٭...اک سانولی سی لڑکی میرے دل کو بھا گئی ٭...نہ جا میرے دلربا، سن لے دل کی صدا
اسپیس شپ ون کی تاریخی کامیابی4اکتوبر 2004ء کو نجی خلائی پرواز کے شعبے میں اسپیس شپ ون نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ''انصاری ایکس پرائز‘‘ جیتا۔ یہ انعام ایسی نجی ٹیم کیلئے مقرر کیا گیا تھا جو انسان بردار خلائی پرواز کی مخصوص شرائط کامیابی سے پوری کرے۔ اسپیس شپ ون نے کامیاب پروازوں کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ نجی شعبہ بھی انسانوں کو خلا کی حدود تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ میں تاریخی ڈکیتی کی واردات1997ء میں آج کے روز امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں ملک کی تاریخ کی دوسری بڑی ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واردات میں لومِس فارگو نامی سکیورٹی اور نقد رقم منتقل کرنے والی کمپنی کو نشانہ بنایا گیا۔ بڑی مقدار میں نقد رقم لوٹ لیے جانے کے باعث یہ واقعہ امریکی تاریخ کی نمایاں ترین ڈکیتیوں میں شمار ہوا۔ رومی امن معاہدہ''روم جنرل پیس ایکارڈز‘‘ ایک امن معاہدہ تھا جو موزمبیق اوررینیامو کی حکومت کے درمیان طے پایا تھا، جس سے 4 اکتوبر 1992ء کو موزمبیقن خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔اس امن معاہدہ کی وجہ سے 16برسوں سے جاری سول جنگ کا خاتمہ ہوا۔یہی وجہ تھی کہ اس معاہدے کو عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔سانحہ ایسٹرن ایئر لائنز 1960ء میں آج کے روز ایسٹرن ایئر لائنز کی پرواز 375 بوسٹن کو حادثہ پیش آیا۔ ٹیک آف کے فوراً بعد جہاز کا سامنا پرندوں کے جھنڈ سے ہوا،کچھ پرندے انجن میں داخل ہوگئے۔ انجن بند ہوتے ہی جہاز بے قابو ہوکر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں72افراد ہلاک جبکہ62افراد زخمی ہوئے۔
20ویں ایشین گیمز 2026ء جاپان:2 چاندی اور 8 کانسی کے تمغوں کے ساتھ پاکستان 10 میڈلز حاصل کر کے 29 ویں نمبر پر رہا:2022ء میں پاکستان 3میڈلز کے ساتھ 31ویں نمبر پر تھا، اس بار رینکنگ میں دو درجے بہتری آئی: ایشین گیمز میں پاکستان نے والی بال میں 1962ء کے بعد پہلی مرتبہ کوئی تمغہ حاصل کیا
نوشین اور اس کا چھوٹا بھائی ارتضیٰ دونوں صحن میں لگے نل کے پاس کھڑے تھے۔ ارتضیٰ دانت برش کر رہا تھا اور نلکا پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ پانی تیزی سے بہہ کر نالی میں ضائع ہو رہا تھا۔
ارے ، یہ کیا ہو رہا ہے ؟ بیمار شخص نے گھبرا کر بستر سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ایک موٹے سے لڑکے نے اپنے بازوں کو پھیلا کر جواب دیا : چچا جان ! ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ ہم آپ کی عیادت کیلئے آئے ہیں ۔