تہران: (دنیا نیوز) ایران کے اعلیٰ عہدیدار نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی اور ایرانی عوام میں محبت دنیا میں بے مثال ہے۔
تہران: (دنیا نیوز) ایران کے اعلیٰ عہدیدار نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی اور ایرانی عوام میں محبت دنیا میں بے مثال ہے۔
غیر جنگی تجارتی جہاز پر حملے بحیرہ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت کیلئے سنگین خطرہ:اسحاق ڈار،سعودی بحری اتحاد کے اعلامیہ پر عمل کرینگے ،مکہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کیلئے کھلا:طاہر حسین اندرابیخلیج اور مشرق وسطیٰ کے بحران حل کیلئے مسلسل سفارتی رابطے جاری، فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کوشاں ہیں،آزادکشمیر میں احتجاج پر بھارتی الزامات بے بنیاد:ترجمان دفتر خارجہ
پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اعلان ، ہر سال سٹارٹ اپس کیلئے 10فیصد کوٹہ ،لیبرفورس میں خواتین کوٹہ35فیصد،مزیدطلبا چین جائینگے ،تمام وسائل نوجوانوں پرنچھاور لیپ ٹاپ کو ’’مشین‘‘نہیں ’’مشن‘‘سمجھتا ہوں، پیسے نہیں تو کوئی بات نہیں ،نمبرز ہیں تو دانش یونیورسٹی کے دروازے کھلے ہونگے : خطاب،بیلاروس کے وفد کی ملاقات
پنجاب میں سیلاب و سموگ سے نمٹنے کیلئے امریکی ایکسپرٹ کی خدمات لی جائینگی ، تبادلہ خیالپنجاب و لاہورکے لوگ زندہ دل،محفوظ بسنت اور خواتین کیلئے پراجیکٹس پر خراج تحسین:نیٹلی بیکر
پہلے دھماکے میں 8دہشتگرد ہلاک،متعدد زخمی ،فورسز کے آپریشن میں 10مارے گئے
بیجنگ،اسلام آباد (اے ایف پی،اے پی پی) چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگ جی 97 برس کی عمر میں چل بسے ۔ سرکاری خبررساں ادارے شہنوا کے مطابق ژو رونگ جی بیجنگ میں طبی علاج کے باوجود بدھ کی صبح دم توڑ گئے ۔
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹرگوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ملاقات کی خبروں کی تردید کردی۔
اسلام آباد (الماس حیدر نقوی) پاکستان اور بیلاروس نے تجارت، صنعت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔ 9ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے اختتام پر اہم پروٹوکولز اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ۔
اسلام آباد(آئی این پی)نادرا نے شہریوں کو بنیادی سروسز کی فراہمی اب مزید آسان بنادی۔
ان دنوں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لوگ اکثر مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک ہی بات کرتے ہیں کہ یہ ایک ''مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر دے گی۔ Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے بھی رواں سال ایک مضمون میں اس امکان کا حوالہ دیا اور اندازہ لگایا کہ اگلے پانچ سالوں میں دفتری شعبے کی ابتدائی سطح کی تقریباً 50 فیصد ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔اس خیال کی بنیاد کچھ یوں ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کے قریب پہنچیں گے ٹیکنالوجی کے ایک چھوٹے سے اونچے طبقے کے پاس وہ AI پلیٹ فارم، ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے ذرائع ہوں گے جو معیشت کے ایک بڑے حصے کو چلائیں گے۔ Agentic AIیعنی ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام جو خود مختار انداز میں کام انجام دے سکتے ہیں اور جدید روبوٹکس انسانی محنت کی جگہ لے سکتے ہیں اور زیادہ تر ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔سان فرانسسکو کے اس تصور کے مطابق آبادی کی اکثریت کے پاس بہت کم اثاثے رہ جائیں گے اور انہیں اپنی محنت بیچ کر مناسب آمدنی حاصل کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔کیا اس نظریے پر یقین کرنا چاہیے؟ماہرینِ معاشیات کو ایسے بڑے دعوؤں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے جن کے پیچھے ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے خیالات فی الحال زیادہ تر قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ محنت کی منڈی کے اعداد و شمار بھی ابھی تک AI کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے بارے میں محدود اور غیر حتمی شواہد فراہم کرتے ہیں۔ بعض ممتاز ماہرینِ معاشیات کا اندازہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات اس سے کہیں زیادہ محدود ہوں گے،لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ AI کو وسیع پیمانے پر اپنانے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔''مستقل محروم طبقے‘‘ کا نظریہ اگرچہ شاید مبالغہ آمیز ہو لیکن یہ کچھ ایسی تلخ حقیقتوں کی طرف اشارہ ضرور کر سکتا ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر AI سے حاصل ہونے والے فوائد بنیادی طور پر سرمایہ رکھنے والے افراد اور چند ماہر کارکنوں تک محدود ہو جائیں تو محنت کی منڈی کی حرکیات دوسرے کارکنوں کی مہارتوں کو کم اہم بنا سکتی ہیں اور ان کی محنت کی قیمت کم کر سکتی ہیں۔اگر کم اجرت والے کارکنوں کی تعلیم، تربیت اور انسانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری بھی اسی وجہ سے کم ہو جائے تو معاشرہ کسی حد تک اس صورتحال کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کا تصور ٹیکنالوجی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔کیا آٹومیشن محنت کی منڈی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتی ہے؟تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹومیشن محنت کی منڈی میں دو مختلف قسم کے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ڈیوڈ آٹور اور نیل تھامسن کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق آٹومیشن یا تو کم مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں اضافہ کر سکتی ہے یا پھر زیادہ مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ایسے کارکن جن کے پاس ایسی معلومات اور مہارت ہو جنہیں مشینوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ان کی اجرتوں میں بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔اس کے برعکس دوسرے کارکنوں کی مہارتیں غیر اہم ہو سکتی ہیں وہ اپنی ملازمتیں کھو سکتے ہیں اور اپنی روزی کمانے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ Anthropicکی ایک حالیہ تحقیق نے بھی اسی طرح یہ ظاہر کیا ہے کہ Claude Code سے سب سے زیادہ فائدہ زیادہ مہارت رکھنے والے صارفین کو حاصل ہوا۔AI کی پیداواری صلاحیت کے فوائد کس کو ملیں گے؟جیسے جیسے مصنوعی ذہانت پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی جدت سے حاصل ہونے والے فوائد ممکنہ طور پر ان لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ مرتکز ہو سکتے ہیں جن کے پاس سرمایہ اور مہارت موجود ہے۔یہاں ''مہارت‘‘ سے مراد انسانی سرمایہ یاہیومن کیپٹل ہے۔2000ء کی دہائی کے آغاز میں دائر کیے گئے پیٹنٹس پر ہونے والی ایک تحقیق اس امکان کے کچھ شواہد فراہم کرتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق کسی نئی ایجاد سے پیدا ہونے والی ہر ایک ڈالر کی اضافی قدر میں سے تقریباً 30 سینٹ کارکنوں کو ملے جبکہ 70 سینٹ منافع بن گئے۔اور کارکنوں کو ملنے والی اضافی آمدنی کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی زیادہ تنخواہیں لینے والے ملازمین کو حاصل ہوا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس زیادہ مہارت تھی،لہٰذا ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے اگر AI سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کا بڑا حصہ ان لوگوں کو ملے جو بڑے ڈیٹا سینٹرز اور جدید ترین AI ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔ماہرینِ معاشیات عموماً یہ فرض کرتے ہیں کہ طویل مدت میں پیداوار میں محنت اور سرمایہ کا حصہ تقریباً مستقل رہتا ہے۔لیکن ٹیکنالوجی حلقوں کا اصرار ہے کہAgentic AI محنت کی جگہ سرمائے کو استعمال کرے گی اور اس روایتی تصور کو تبدیل کر دے گی۔کم ہنر والے کارکنوں پر دوسرا اثرAI کے محنت کی منڈی پر مرتب ہونے والے بالواسطہ یا ثانوی اثرات زیادہ اور کم اجرت والے کارکنوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔اگر کم مہارت رکھنے والے کارکن اپنی ملازمتیں کھونے لگیں تو اچانک بڑی تعداد میں ایسے کارکن پیدا ہو سکتے ہیں جن کی مہارتیں پہلے کے مقابلے میں کم اہم رہ گئی ہوں۔ایسی صورت میں کم مہارت رکھنے والے کارکنوں کی اضافی فراہمی ان سب کی اجرتوں کو نیچے لے جا سکتی ہے۔یہ درست ہے کہ AI ماڈلز کی زبردست طلب کے نتیجے میں نئی کم مہارت والی ملازمتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں مثلاً ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اسے منظم کرنے کے کام۔لیکن آج یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسی ملازمتیں مستقبل میں کس نوعیت کی ہوں گی اور ان میں کتنی اجرت دی جائے گی۔پیداواری صلاحیت کا بڑھتا ہوافرق طویل مدتی اثراتکارکنوں کی مہارتوں میں اضافہ کرنا یا انہیں نئی مہارتیں سکھانا آسان نہیں ہے۔مزید یہ کہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی آمدنی میں اچانک کمی بچوں کی مہارتوں کی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ یوں والدین کی اجرت میں آنے والی تبدیلیاں اگلی نسل تک منتقل ہو سکتی ہیں۔شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کم آمدنی رکھنے والے کارکن انسانی سرمائے یعنی تعلیم اور مہارت میں نسبتاً کم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔اگر مختلف کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں فرق بڑھتا گیا تو کم آمدنی والے لوگوں کی تعلیم اور تربیت میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب بھی کم ہو سکتی ہے۔اس طرح محنت کی منڈی کی دو حصوں میں تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے نوجوان، ہمارا مستقبل 12 اگست کو دنیا بھر میں نوجوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن نوجوانوں کے مسائل، صلاحیتوں، حقوق اور معاشرے کی تعمیر میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے متحرک، باصلاحیت اور توانائی سے بھرپور طبقہ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، مناسب تربیت، روزگار کے مواقع اور مثبت ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملک کی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے نوجوانوں کا عالمی دن اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ ہماری آبادی میں نوجوانوں کا حصہ بہت نمایاں ہے۔نوجوانوں کے عالمی دن منانے کا تصور اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر نوجوانوں سے متعلق عالمی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوششوں سے پیدا ہوا۔ 1995ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ورلڈ پروگرام آف ایکشن فار یوتھ منظور کیا جس کا مقصد دنیا بھر میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومتوں اور عالمی اداروں کو ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا تھا۔اس کے بعد 1999ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 اگست کو باقاعدہ طور پر نوجوانوں کا عالمی دن قرار دیا۔ پہلی مرتبہ یہ دن 12 اگست 2000ء کو منایا گیا۔ اس دن کا بنیادی مقصد نوجوانوں کے مسائل اور ان کی ضروریات کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا اور حکومتوں کو نوجوان نسل کے لیے بہتر پالیسیاں بنانے کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ہر سال نوجوانوں کے عالمی دن کے لیے ایک مخصوص تھیم مقرر کیا جاتا ہے تاکہ نوجوانوں سے متعلق کسی اہم مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوز کی جا سکے۔اس سال کا تھیم''Different Contexts, Common Aspirations‘‘ہے یعنی ہمارے حالات مختلف ہیں مگر خواہشات ایک سی۔ نوجوان آبادی ،بڑا اثاثہپاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔ لاکھوں نوجوان ہر سال سکول، کالج اور جامعات سے تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار نہ ملے تو یہی بڑی نوجوان آبادی بے روزگاری، مایوسی اور سماجی مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل پاکستان کی معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت اور سماجی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔پاکستانی نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں تعلیم، طب، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل، فنون اور کاروبار کے میدان میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی کامیابیوں کو قومی ترقی کی منظم قوت میں تبدیل کیا جائے۔نوجوانوں کیلئے کیا کرنا چاہیے؟پاکستان میں نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے معیاری اور جدید تعلیم پر توجہ دینا ضروری ہے۔ صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ تعلیم کو روزگار اور عملی زندگی کی ضروریات سے جوڑنا ہوگا۔ سکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیوں میں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا چاہیے۔دوسرا اہم شعبہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت ہے۔ ہر نوجوان کا یونیورسٹی جانا ضروری نہیں۔ بہت سے نوجوان ٹیکنیکل تعلیم اور ہنر سیکھ کر باعزت روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔ الیکٹریشن، مکینک، سولر ٹیکنیشن، گرافک ڈیزائنر، پروگرامر، ڈیجیٹل مارکیٹر اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔تیسرا بڑا مسئلہ روزگار ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر نوجوانوں کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے چاہییں۔ چھوٹے کاروبار شروع کرنے والے نوجوانوں کو آسان قرضے، کاروباری تربیت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے۔ نوجوانوں کو صرف سرکاری ملازمتوں کا منتظر رکھنے کے بجائے انہیں کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کی طرف بھی راغب کرنا چاہیے۔ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس جیسے شعبوں میں نوجوان عالمی مارکیٹ سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو عام کرنا چاہیے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیوانی حقوق12 اگست 1765ء کو مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے رابرٹ کلائیو کے درمیان معاہدہ الہ آباد ہوا۔ یہ معاہدہ 1764ء کی جنگِ بکسر کے بعد ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا نتیجہ تھا۔اس جنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی، اودھ کے نواب شجاع الدولہ اور بنگال کے سابق نواب میر قاسم کی مشترکہ قوتوں کو شکست دی تھی جس نے مشرقی ہندوستان میں کمپنی کی سیاسی طاقت کو بہت مضبوط کر دیا۔معاہدہ الہ آباد کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی عطا کر دی۔ 12 اگست 1765ء کو کمپنی کے مالی اقتدار کو ایک ایسی بنیاد ملی جس پر بعد میں برطانوی سیاسی اقتدار ہندوستان میں قائم ہوا۔ سلائی مشین کا پیٹنٹ 12 اگست 1851ء کو امریکی موجد آئزک میرٹ سنگر کو سلائی مشین میں بہتری کے لیے پیٹنٹ نمبر جاری ہوا۔ سنگر سے پہلے بھی مختلف موجد سلائی مشینیں بنانے کی کوشش کر چکے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ابتدائی مشینیں پیچیدہ، مہنگی یا عملی استعمال کے لیے محدود تھیں۔لیکن سنگر نے ایک ایسی مشین تیار کی جس میں سیدھی حرکت کرنے والی سوئی اور حرکت کرنے والا شٹل استعمال ہوتا تھا۔ اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ سلائی مشین کو گھریلو اور صنعتی استعمال کے لیے زیادہ قابلِ عمل بنانے میں مدد ملی۔ سنگر کمپنی نے بعد میں سلائی مشینوں کی بڑے پیمانے پر فروخت اور عالمی مارکیٹنگ میں اہم کردار ادا کیا۔امریکہ اور سپین جنگ بندی 12 اگست 1898ء کو امریکہ اور سپین کے درمیان ایک ا ہم امن معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے ہسپانوی امریکی جنگ کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہوئی۔ 19ویں صدی کے آخر میں سپین کی اپنی نوآبادیاتی سلطنت کے مختلف حصوں میں مشکلات بڑھ رہی تھیں۔ کیوبا میں سپین کے خلاف آزادی کی جدوجہد جاری تھی جبکہ امریکہ کی سپین کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ گئی۔ 1898ء میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ شروع ہوئی اور مختصر عرصے میں امریکہ نے سپین کو متعدد محاذوں پر شکست دی۔12 اگست کو واشنگٹن میں طے پانے والے پروٹوکول کے ذریعے دونوں حکومتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ باقاعدہ امن مذاکرات شروع کریں گی۔ IBM نے پرسنل کمپیوٹر بنایا12 اگست 1981ء کو IBM نے اپنا پرسنل کمپیوٹر، ماڈل متعارف کرایا۔ IBM اس وقت بنیادی طور پر بڑے کاروباری اداروں اور تنظیموں کے لیے کمپیوٹر بناتی تھی لیکن 1970ء کی دہائی کے آخر اور 1980ء کے آغاز میں چھوٹے کمپیوٹر وں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ IBM نے اس نئے شعبے میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا اور کمپنی نے اپنی معمول کی طویل مصنوعات سازی کے بجائے نسبتاً تیز رفتار منصوبہ اپنایا۔ 12 اگست کو IBM PCکی باقاعدہ لانچنگ نیویارک میں ہوئی۔ اس کی ابتدائی قیمت 1565ڈالر تھی۔ IBM نے اس کمپیوٹر کے لیےMS-DOS سمیت سافٹ ویئر کا نظام استعمال کیا اور اسے کاروباری و ذاتی استعمال کے لیے مارکیٹ کیا۔ فوسل Sueدریافت ہوا12 اگست 1990ء کو امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں ایک ایسا فوسل دریافت ہوا جس نے سائنسی دنیا میں خاصی شہرت حاصل کی۔ یہ ٹرائینو سارس ریکس کا ایک انتہائی مکمل اور محفوظ ڈھانچہ تھا جسے بعد میں اس کی دریافت کرنے والی ماہرِ حیاتیات سوسن ہینڈرکسن کے نام پرSue کہا گیا۔ یہ دریافت اس لیے غیر معمولی تھی کہ Sue کا ڈھانچہ تقریباً 90 فیصد سے زیادہ مکمل تھا اور ہڈیاں نسبتاً اچھی حالت میں محفوظ تھیں۔ بعد میں اس فوسل کی ملکیت اور کھدائی کے حقوق پر ایک طویل قانونی تنازع بھی پیدا ہوا۔ بالآخر 1997ء میں Sue کو نیلام کیا گیا اور شکاگو میوزیم نے اسے تقریباً آٹھ کروڑ ڈالر میں خریدلیا۔ بعد میں اسے میوزیم میں عوام کے لیے نمائش پر رکھا گیا۔
معمولی تبدیلی جو طلبہ کے نتائج بدل سکتی ہےہم اکثر تعلیمی کامیابی کو زیادہ گھنٹے پڑھنے، اضافی ٹیوشن لینے، مشکل سوالات حل کرنے اور امتحان سے پہلے رات دیر تک جاگنے سے جوڑتے ہیں۔ والدین اور طلبہ کے درمیان یہ تصور عام ہے کہ اگر امتحان قریب ہو تو نیند کم کرکے پڑھائی کا وقت بڑھا دینا فائدہ مند ہوگا۔ لیکن نئی سائنسی تحقیق اس سوچ پر سوال اٹھاتی ہے۔ تحقیق سے سامنے آنے والے شواہد بتاتے ہیں کہ نیند میں معمولی بہتری بھی تعلیمی کارکردگی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔'سائنس الرٹ‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک تجرباتی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں یونیورسٹی کے طلبہ کی نیند بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس تحقیق کی خاص بات یہ تھی کہ محققین نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ اچھی نیند اور بہتر گریڈز کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے یا نہیں بلکہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر طلبہ کی نیند بہتر بنائی جائے تو کیا ان کی تعلیمی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے؟صرف زیادہ پڑھنا کامیابی کی ضمانت نہیںطلبہ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ کامیابی کا بنیادی راز زیادہ سے زیادہ وقت کتابوں کے ساتھ گزارنا ہے۔ بلاشبہ پڑھائی کے لیے وقت دینا ضروری ہے لیکن دماغ اس وقت بہترین کارکردگی دکھاتا ہے جب اسے مناسب آرام بھی ملے۔نیند کے دوران دماغ دن بھر حاصل ہونے والی معلومات کو منظم اور محفوظ کرنے کے اہم مراحل سے گزرتا ہے۔ نئی معلومات، الفاظ، تصورات اور سیکھے گئے اسباق کو یادداشت میں مستحکم کرنے کے لیے مناسب نیند اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کوئی طالب علم مسلسل کم سوتا ہے تو وہ بظاہر زیادہ وقت پڑھائی کو دے رہا ہوتا ہے مگر تھکا ہوا دماغ معلومات کو اتنی مؤثر طریقے سے حاصل اور یاد نہیں رکھ پاتا۔اسی لیے امتحانات کے دوران رات بھر جاگ کر پڑھنے کی عادت بظاہر اضافی محنت محسوس ہوتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے امتحانی کارکردگی بھی اسی تناسب سے بہتر ہو۔نئی تحقیق کا اہم پہلو یہی ہے کہ اس میں نیند کو محض ایک عادت نہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرنے والے قابلِ تبدیلی عنصر کے طور پر دیکھا گیا۔ چند منٹ زیادہ نیند، قابلِ ذکر نتائجتحقیق میں امریکہ کی یونیورسٹی آف پیٹس برگ کے طلبہ کو اپنی نیند بہتر بنانے کی ترغیب دینے کے لیے ایک نسبتاً سادہ طریقہ استعمال کیا گیا۔ طلبہ کو ان کے لیے موزوں وقت پر سونے کی یاد دہانی کرائی گئی، اگلی صبح ان کی نیند کے بارے میں فیڈ بیک دیا گیا اور جب وہ راتوں میں کم از کم سات گھنٹے کی نیند پوری کرتے تو انہیں فوری انعام بھی دیا گیا۔چار ہفتوں کے دوران اس کے نتیجے میں طلبہ کی سات یا اس سے زیادہ گھنٹے سونے والی راتوں کے تناسب میں تقریباً 26 فیصد اضافہ ہوا۔ اوسطاً طلبہ کی نیند میں تقریباً 19 منٹ فی رات کا اضافہ ہوا۔یہ اضافہ بظاہر بہت معمولی لگ سکتا ہے۔ 19 منٹ کسی طالب علم کے لیے شاید اتنی بڑی تبدیلی محسوس نہ ہو لیکن تحقیق کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس معمولی اضافے کے ساتھ تعلیمی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی۔تحقیق کے مطابق نیند بہتر بنانے سے طلبہ کے کورس پرفارمنس میں اضافہ ہوا۔نیند دماغ کو سیکھنے کیلئے تیار کرتی ہےنیند اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ نیند صرف جسمانی آرام کا نام نہیں۔ دماغ کے لیے بھی یہ ایک فعال مرحلہ ہے۔دن کے دوران طالب علم جب نئی معلومات حاصل کرتا ہے تو دماغ میں بے شمار یادیں اور معلومات جمع ہوتی ہیں۔ نیند کے دوران دماغ ان معلومات کو ترتیب دینے، اہم معلومات کو مضبوط کرنے اور غیر ضروری معلومات کو نظرانداز کرنے کے عمل سے گزرتا ہے۔مناسب نیند توجہ، ارتکاز، فیصلہ سازی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کے لیے بھی اہم ہے۔ دوسری طرف نیند کی کمی سے طالب علم کلاس میں توجہ کھو سکتا ہے، پڑھا ہوا یاد رکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے اور مشکل سوالات حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔اسی لیے اگر ایک طالب علم رات کو دو گھنٹے اضافی پڑھتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں اس کی نیند بہت کم ہوجاتی ہے، تو ضروری نہیں کہ اسے مجموعی طور پر فائدہ ہی ہو۔ بعض حالات میں بہتر حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ طالب علم مناسب وقت پر سوئے اور اگلے دن تازہ دم ہوکر زیادہ مؤثر انداز میں پڑھے۔طلبہ اور والدین کیلئے عملی سبقاس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زیادہ سونے سے ہر طالب علم کے گریڈز بڑھ جائیں گے۔ تعلیمی کامیابی میں پڑھائی کا معیار، استاد، تعلیمی ماحول، ذہنی توجہ، مطالعے کی تکنیک اور بہت سے دوسرے عوامل بھی اہم ہیں۔لیکن تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ نیند کو پڑھائی کا مخالف سمجھنے کے بجائے پڑھائی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔خاص طور پر امتحانات کے دنوں میں والدین کو بچوں سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ رات دیر تک جاگ کر مسلسل پڑھتے رہیں۔ بہتر حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ طالب علم کے لیے مستقل سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کیا جائے، رات کو موبائل فون اور دیگر توجہ بھٹکانے والی چیزوں کا استعمال کم کیا جائے اور امتحان سے پہلے پوری رات جاگنے کے بجائے مناسب نیند کو ترجیح دی جائے۔
ہمارا معاشرہ طویل عرصے سے مضبوط خاندانی نظام، روایتی اقدار اور باہمی ذمہ داریوں کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے جس میں خواتین کا کردار بہت اہم رہا ہے۔
آنکھیں انسانی چہرے کا نہایت اہم حصہ ہیں۔ آنکھوں کے گرد جلد چہرے کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں زیادہ نازک اور حساس ہوتی ہے اس لیے یہاں تھکن، نیند کی کمی، عمر بڑھنے، الرجی یا بعض دیگر عوامل کے اثرات جلد نمایاں ہوتے ہیں۔
اجزا: چکن (بون لیس): 750 گرام۔دہی: آدھاکپ۔ لیمن جوس:دو چمچ،نمک:حسبِ ذائقہ۔ تیل یا گھی: آدھا کپ، ہری مرچیں: 8، 10 عدد،ہرا دھنیا:ایک گٹھی،پودینے کے پتے:آدھا کپ،
65ویں برسی: پامردی، ثابت قدمی، صبرو شکر اور جرأت و استقلال کی تاریخ:ان کے لسانی و ادبی کارنامے اورزبان و ادب پر احسانات کبھی بھلائے نہیں جا سکتے:بابائے اُردو اور ترقی ٔاُردو کی جدوجہد ایک ہی چیز کے دو نام ہیں‘ انہوں نے اُردو زبان و ادب پروہ احسانات کئے جو کبھی بھلائے نہیں جا سکتے‘جب تک اُردو زبان ہے، اُن کا نام بھی زندہ رہے گا