راہِ ہدایت
اور ہم نے تمہارے اوپر(کی جانب) سات آسمان پیداکئے اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں۔ (سورۃ المومنون آیت نمبر17)

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کی سرحد پر افغان طالبان رجیم کے 4 ڈرونز مار گرائے: آئی ایس پی آر


راولپنڈی: (دنیا نیوز) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار ڈرونز پروازیں ہوئیں جس پر پاکستان نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون مار گرائے۔



اشتہار

کاہنہ کے علاقے کچوانہ میں 6مرلے کے گھر میں 30 سے 35 بچے ٹیوشن پڑھ رہے تھے ، ٹی آرگارڈر والی چھت پر مٹی ڈالنے کاکا م جاری تھا کہ وزن برداشت نہ کرنے سے وہ بچوں پر آگری جاں بحق بچوں کی عمریں4 سے 12سال،7بچیاں شامل ، ٹیچر اور 8 بچے زخمی، باقی محفوظ،ریسکیو آپریشن ایک گھنٹے میں مکمل ،علاقے میں کہرام ،صدر، وزیراعظم،بلاول ودیگر کا اظہار افسوس

بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے :اسحاق ڈار، آبنائے ہرمز کی بندش سے امن کا تصور ممکن نہیں توسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے کیسے ہوگا:بلاول بھٹو زرداری چناب بیاس لنک کی تعمیر غیر قانونی،بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ختم :مہر علی شاہ، پانی روکنے کی کوشش پر مؤثر جواب دینے کیلئے پرعزم :عطاتارڑ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے :مصدق ملک،پاکستان اپنے پانی کی حفاظت کر ے گا:خرم دستگیر، دونوں ممالک میں مکالمے کی ضرورت :احمر بلال صوفی پانی روکنا جنگی جرم، چین کو سندھ طاس معاہدے میں شامل کریں:وکٹر گاؤ ، عدم استحکام بڑھ سکتا:روکسو،صورتحال خطرناک:لوری اے واٹکنز ،سیمینار میں تقریریں

امانت میں خیانت،سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی جیسے مقدمات میں ذاتی مالی فائدے کے ثبوت نہ ہونے کی بناپراحتساب عدالت کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوجاتا، ریمارکساحتساب عدالتیں ریفرنس کو دوسرے فورم پر منتقل کرنے سے قبل قانون کے مطابق نیب کی معاونت لینے کی پابند قرار، 18 آئینی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاریمصطفی کمال،سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی،سابق چیئرمین کے پی ٹی احمد حیات،جاوید اقبال،علی رضا،صدیق میمن اوراقبال زیڈ احمد کیخلاف ریفرنسز شامل

وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے ،نیشنل پاپولیشن کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ جلد مرتب کیا جائےنیشنل پاپولیشن کونسل کی سربراہی خود کرونگا،چاروں وزراء اعلیٰ،وزیراعظم آزادکشمیرودیگر سٹیک ہولڈر شامل ہونگے

بطور ماںوالدین کی تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہوں ، سانحے پر دکھ کے اظہار کیلئے الفاظ نہیں مل رہےوزیراعلیٰ کا نوجوان طلبا کوپھرای بائیکس دینے کا فیصلہ ،وہاڑی ،لودھراں میں الیکٹرک بس چلانے کا حکم

ہم ملکر وزیراعظم کو پیغام بھیج رہے ،امید ہے وہ آزاد کشمیر کی صورتحال پر مثبت قدم اٹھائیں گے :سربراہ جے یو آئی، مشترکہ پریس کانفرنس خواہش ہے کشمیر میں جے یو آئی کیساتھ ملکر حکومت بنائیں،احتجاج سے مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونگی ، ترمیم کی جائے :بلاول بھٹو

30جون کوبلوچستان کی سرحد کی جانب ڈرونز بھیجے گئے ،فوری نشاندہی کی گئی اشتعال انگیزی یا سرحد پار کارروائیوں کی بھاری قیمت چکانا پڑیگی:آئی ایس پی آر

انبیاء کرامؑ کی شبیہ ، تصویری تمثیل یا مقدس شخصیات کی نمائندگی کرنیوالے کسی بصری مواد کی اشاعت شرعاً ناجائز :قراردادمنظور اقدامِ خودکشی کی سزا بحالی کے شرعی عدالت کے فیصلے کی مکمل تائید ، کونسل کا آبنائے ہرمز کی بندش کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ

متفرقات

یورپ میں گرمی کی شدید لہر

یورپ میں گرمی کی شدید لہر

موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اشارےیورپ طویل عرصے تک معتدل موسم، خوشگوار گرمیوں اور ٹھنڈی ہواؤں کیلئے جانا جاتا رہا ہے لیکن اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں یورپ ایسی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جسے سائنسدان اب تک کی سب سے زیادہ گرم اور مرطوب ہیٹ ویو قرار دے رہے ہیں۔ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں جبکہ فضا میں بڑھتی ہوئی نمی نے اس گرمی کو انسانی صحت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک اتفاقیہ واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی واضح علامت ہے جو مستقبل میں دنیا کے دیگر خطوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔نمی اور گرمی کا امتزاجعام طور پر جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو انسانی جسم پسینہ خارج کرکے خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے لیکن اگر ہوا میں نمی بہت زیادہ ہو تو پسینہ جلد خشک نہیں ہوتا۔ نتیجتاً جسم کا قدرتی نظام متاثر ہو جاتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے لگتا ہے۔اسی وجہ سے ماہرین صرف درجہ حرارت نہیں بلکہ ہیٹ انڈیکس یا محسوس ہونے والے درجہ حرارت کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔ موجودہ ہیٹ ویو میں کئی یورپی ممالک میں اگرچہ درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، لیکن نمی کی وجہ سے لوگوں نے اس سے کہیں زیادہ گرمی محسوس کی۔یہ صورتحال بچوں، بزرگوں، مزدوروں اور مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔یورپ میں ریکارڈ ٹوٹنے لگےفرانس، سپین، اٹلی، جرمنی، پرتگال، پولینڈ اور وسطی یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد شہروں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔شدید گرمی کے باعث ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کئی ممالک نے سکول بند کر دیے، بیرونی کھیلوں کی سرگرمیاں محدود کر دیں اور شہریوں کو دن کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایات جاری کیں۔بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہونے سے توانائی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ زراعت، سیاحت اور صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا واضح اثرماہرین اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ اس نوعیت کی شدید گرمی قدرتی موسمی تغیر کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہے۔کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیول کے مسلسل استعمال سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھ رہی ہے جو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ نتیجتاً نہ صرف گرمی کی لہریں زیادہ شدید ہو رہی ہیں بلکہ ان کا دورانیہ بھی طویل ہوتا جا رہا ہے۔ اب وہ علاقے بھی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ماضی میں ایسی صورتحال شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی تھی۔تحقیقی اداروں کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی نہ کی گئی تو آئندہ برسوں میں یورپ سمیت دنیا کے کئی خطوں میں اس سے بھی زیادہ شدید اور مرطوب ہیٹ ویوز معمول بن سکتی ہیں۔پاکستان کیلئے سبقاگرچہ یہ ہیٹ ویو یورپ میں آئی ہے لیکن پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، تباہ کن سیلاب اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے واقعات کا سامنا کر چکا ہے۔پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں گرمی کے ساتھ نمی بھی اکثر بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث ہیٹ انڈیکس خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے۔ کراچی، لاہور، ملتان اور دیگر بڑے شہروں میں موسم گرما کے دوران یہی صورتحال بارہا دیکھی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری منصوبہ بندی، زیادہ درخت لگانے، گرین ایریاز میں اضافہ، صاف توانائی کے استعمال اور عوام میں آگاہی پیدا کیے بغیر مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنا مشکل ہوگا۔عام شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرکے گرمی کے اثرات کم کر سکتے ہیں مثلاً زیادہ پانی پینا، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنا، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا اور بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھنا۔یورپ کی ہیٹ ویو صرف ایک عارضی موسمی واقعہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کا امتزاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے۔اگر عالمی برادری نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور ماحول دوست پالیسیوں پر فوری عمل نہ کیا تو مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں مزید عام اور زیادہ تباہ کن ہو جائیں گی۔

دماغی تندرستی کیلئے بہترین غذا

دماغی تندرستی کیلئے بہترین غذا

نئی تحقیق ، حیران کن انکشافصحت مند غذا کے فوائد سے شاید ہی کوئی انکار کر سکے۔ متوازن خوراک نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ دل، ہڈیوں اور مدافعتی نظام کو بھی مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم ہاورڈ یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ روزمرہ کی خوراک ہمارے دماغ کی صحت، یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ دماغ کو زیادہ عرصے تک صحت مند رکھنے کے لیے کون سا غذائی نظام سب سے زیادہ مؤثر ہے۔اس تحقیق میں تقریباً ایک لاکھ انسٹھ ہزار سے زائد بالغ افراد کے غذائی معمولات اور ذہنی صحت کا طویل عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ہاورڈ کے محققین نے مختلف غذائی منصوبوں کا موازنہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سی غذائی عادات بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت اور دماغی صلاحیتوں کو بہتر طور پر برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔تحقیق میں چھ مختلف غذائی نظام شامل تھے، جن میں Mediterranean ڈائٹ، DASH ڈائٹ اور دیگر معروف غذائی منصوبے شامل تھے۔ نتائج کے مطابق DASH ڈائٹ دماغی صحت کے حوالے سے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی جبکہ Mediterranean ڈائٹ دوسرے نمبر پر رہی۔DASHڈائٹ کیا ہے؟DASH دراصل Dietary Approaches to Stop Hypertension کا مخفف ہے۔ یہ غذائی منصوبہ ابتدا میں ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں متعدد مطالعات سے معلوم ہوا کہ اس کے فوائد دل اور خون کی شریانوں تک محدود نہیں بلکہ دماغ کو بھی نمایاں فائدہ پہنچاتے ہیں۔اس غذا میں تازہ پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، نٹس، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، مچھلی اور مرغی کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ نمک، چینی، سرخ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اورزیادہ چکنائی والی غذاؤں کا استعمال محدود رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد نے DASH ڈائٹ پر زیادہ مستقل مزاجی سے عمل کیا ان میں بڑھتی عمر کے ساتھ ذہنی کمزوری یا یادداشت میں کمی محسوس کرنے کا خطرہ تقریباً 41 فیصد کم دیکھا گیا۔ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متوازن غذا دماغی افعال کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کو مسلسل مناسب غذائیت درکار ہوتی ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر، وٹامنز، معدنیات اور صحت بخش چکنائی دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے، خون کی روانی بہتر بنانے اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس کے مثبت اثرات یادداشت اور توجہ پر مرتب ہوتے ہیں۔تحقیق میں ایک اور اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ اگر صحت مند غذائی عادات کا آغاز درمیانی عمر یعنی تقریباً 45 سے 54 سال کے درمیان کر لیا جائے تو بڑھاپے میں اس کے فوائد زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغی صحت کے تحفظ کے لیے احتیاط کا آغاز علامات ظاہر ہونے کے بعد نہیں بلکہ پہلے ہی کر دینا چاہیے۔Mediterranean ڈائٹ کی اہمیت برقراراگرچہ اس تحقیق میں DASH ڈائٹ نے بہترین نتائج دیے لیکن Mediterranean ڈائٹ بھی انتہائی مفید ثابت ہوئی۔ اس غذا میں زیتون کا تیل، مچھلی، تازہ پھل، سبزیاں، نٹس اور ثابت اناج نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اور اسے دنیا کے صحت مند ترین غذائی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق سے صرف یہ معلوم ہوا کہ دماغی صحت کے حوالے سے DASHڈائٹ کو معمولی برتری حاصل رہی۔محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں لوگوں کی غذائی عادات اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا لیکن یہ قطعی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ صرف DASH ڈائٹ ہی بہتر دماغی صحت کی وجہ بنتی ہے۔ جسمانی سرگرمی، نیند، تعلیم، معاشرتی روابط اور دیگر عوامل بھی دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اس کے باوجود چونکہ تحقیق بہت بڑی آبادی پر کی گئی اور اس کے نتائج واضح رہے اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں مزید کلینیکل تحقیقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔جدید سائنسی تحقیق اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ دماغ کی صحت کا تعلق صرف ذہنی مشقوں یا جینیاتی عوامل سے نہیں بلکہ روزمرہ کی خوراک سے بھی گہرا ہے۔ تازہ پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، نٹس اور کم چکنائی والی غذائیں نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ دماغی افعال کو بھی بہتر رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت اب بھی موجود ہے لیکن موجودہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ صحت مند غذائی عادات اپنانا بڑھتی عمر میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی کو بہتر رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے متوازن غذا کو صرف جسمانی صحت کا ذریعہ نہیں بلکہ دماغی صحت میں سرمایہ کاری بھی سمجھنا چاہیے۔

آج کا دن

آج کا دن

کینیڈا کا قیام یکم جولائی 1867ء کو شمالی امریکہ میں ایک نئی وفاقی ریاست، کینیڈا کا قیام عمل میں آیا۔ اس دن برطانوی پارلیمنٹ کے منظور کردہ ایکٹ کے تحت چار نوآبادیاں، اونٹاریو، کیوبیک، نووا اسکاٹیا اور نیو برنزوک ایک وفاق کی شکل میں متحد ہوئیں۔ اس طرح کینیڈا کو اندرونی معاملات میں وسیع خودمختاری حاصل ہوئی۔ اگرچہ خارجہ امور اور آئینی اختیارات بدستور برطانوی سلطنت کے پاس رہے۔ بعد کے برسوں میں مینیٹوبا، برٹش کولمبیا، پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ، البرٹا اور دیگر علاقے بھی اس وفاق میں شامل ہوتے گئے۔کینیڈا کی کنفیڈریشن جدید وفاقی نظام کی ایک کامیاب مثال سمجھی جاتی ہے جہاں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کو ایک آئینی ڈھانچے میں یکجا کیا گیا۔ صومالیہ کی آزادی یکم جولائی 1960ء کو افریقی ملک صومالیہ نے مکمل آزادی حاصل کی۔ اس دن سابق اطالوی زیرانتظام ٹرسٹ ٹیریٹری آف صومالیہ، چند روز قبل آزاد ہونے والے برٹش صومالی لینڈ کے ساتھ متحد ہوا اور جمہوریہ صومالیہ وجود میں آئی۔آزادی کے بعد صومالیہ نے پارلیمانی نظام اختیار کیا اور آدم عبداللہ عثمان دار پہلے صدر منتخب ہوئے۔ بعد کے برسوں میں سیاسی عدم استحکام، فوجی انقلاب، قبائلی تنازعات اور خانہ جنگی نے ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔اس کے باوجود یکم جولائی صومالی عوام کے لیے قومی اتحاد، آزادی اور خودمختاری کی علامت ہے۔ہانگ کانگ کی چین کو واپسییکم جولائی 1997ء کوتقریباً 156 برس بعد ہانگ کانگ برطانوی حکومت سے واپس چین کے حوالے کر دیا گیا۔1842ء میں پہلی افیون جنگ کے بعد برطانیہ نے ہانگ کانگ جزیرہ پر قبضہ کیا تھا جبکہ بعد میں مزید علاقے بھی اس کے قبضے میں آئے۔ 1984ء میں Sino-British Joint Declaration پر دستخط ہوئے جس کے مطابق یکم جولائی 1997ء کو ہانگ کانگ چین کے حوالے کر دیا جانا تھا۔ اقتدار کی منتقلی کی تقریب 30 جون اور یکم جولائی کی درمیانی شب منعقد ہوئی۔چین نے وعدہ کیا کہ ایک ملک دو نظام کے اصول کے تحت ہانگ کانگ کو پچاس برس تک اپنے سرمایہ دارانہ نظام، عدالتی آزادی اور وسیع خودمختاری برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ زپ کوڈ کا آغازیکم جولائی 1963ء کو امریکہ کے ڈاک کے محکمے نے ZIP کوڈ نظام متعارف کرایا جس نے ڈاک کی ترسیل میں انقلاب برپا کر دیا۔ہر علاقے کو ایک منفرد عددی شناخت دی گئی جس سے ڈاک کو خودکار مشینوں کے ذریعے تیزی سے چھانٹنا ممکن ہوا۔ بعد میں 1983ء میں ZIP 4 نظام بھی متعارف کرایا گیا جس سے مخصوص گلیوں، عمارتوں اور دفاتر تک زیادہ درست ترسیل ممکن ہوئی۔آج امریکہ میں تقریباً ہر سرکاری، تجارتی اور مالیاتی ادارہ ZIP کوڈ استعمال کرتا ہے۔ آن لائن خریداری، مردم شماری اورہنگامی خدمات میں بھی اس نظام کی بہت اہمیت ہے۔عالمی فوجداری عدالتیکم جولائی 2002ء کو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے باضابطہ طور پر اپنا کام شروع کیا۔ اس عدالت کا قیام روم معاہدہ کے تحت عمل میں آیا جسے 1998ء میں منظور کیا گیا تھا اور مطلوبہ تعداد میں ممالک کی توثیق کے بعد یکم جولائی2002ء سے نافذ ہوا۔آئی سی سی دنیا کی پہلی مستقل بین الاقوامی عدالت ہے جسے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور بعد ازاں جارحیت کے جرم کے مقدمات سننے کا اختیار دیا گیا۔ اس کا صدر دفتر دی ہیگ، نیدرلینڈز میں قائم کیا گیا۔اس عدالت کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی ملک سنگین بین الاقوامی جرائم کے ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرے تو آئی سی سی مداخلت کر سکے۔

30 جون:شہابیوں کا عالمی دن

30 جون:شہابیوں کا عالمی دن

ہر سال 30 جون کو دنیا بھر میں شہابیوں کا عالمی دن (International Asteroid Day)منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں شہابیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، ان کی سائنسی اہمیت کو اجاگر کرنا اور زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی سطح پر جاری کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ بظاہر آسمان پر گردش کرنے والے یہ اجسام محض فلکیاتی دلچسپی کا باعث دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بعض زمین کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتے ہیں جبکہ بہت سے شہابیے ہمارے نظامِ شمسی کی تخلیق کے راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ٹنگوسکا واقعہ اور عالمی دن کی اہمیتشہابیوں کا عالمی دن 30 جون کو اس لیے منایا جاتا ہے کہ اسی تاریخ کو 1908ء میں روس میں سائبیریا کے علاقے ٹنگوسکا میں ایک عظیم فلکیاتی واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک دیوہیکل شہابیہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے لاکھوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے۔ خوش قسمتی سے یہ علاقہ غیر آباد تھا اس لیے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان نہیں ہوا، لیکن اگر ایسا واقعہ کسی بڑے شہر کے اوپر پیش آتا تو تباہی ناقابلِ تصور ہوتی۔ یہی واقعہ آج بھی سائنسدانوں کو یاد دلاتا ہے کہ خلا سے آنے والے خطرات حقیقی ہیں اور ان کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔شہابیہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر میں فرقشہابیے دراصل سورج کے گرد گردش کرنے والے پتھریلے یا دھاتی اجسام ہیں جو زیادہ تر مریخ اور مشتری کے درمیان موجود Asteroid Belt میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض اپنے مدار سے ہٹ کر زمین کے قریب بھی آ جاتے ہیں۔ اکثر لوگ شہابیہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ تین مختلف اصطلاحات ہیں۔ خلا میں موجود پتھریلا جسم شہابیہ (Asteroid) کہلاتا ہے۔ جب اس کا کوئی حصہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر جلنے لگتا ہے تو اسے شہابِ ثاقب (Meteor) کہا جاتا ہے، جو رات کو آسمان پر ایک روشن لکیر کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اگر اس کا کچھ حصہ جلنے سے بچ جائے اور زمین پر آ گرے تو وہ شہابی پتھر (Meteorite) کہلاتا ہے۔ اسی لیے International Asteroid Dayبنیادی طور پر خلا میں موجود شہابی اجسام کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا دن ہے۔زمین کیلئے خطرات اور جدیداقداماتسائنسدانوں کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل ایک بہت بڑا شہابیہ موجودہ میکسیکو کے علاقے میں زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس تصادم کے نتیجے میں عالمی سطح پر موسمی تبدیلیاں آئیں اور ڈائنوسار سمیت بے شمار جاندار معدوم ہو گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بڑے شہابیے پوری زمین کے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر ناسا، یورپی خلائی ایجنسی اور دیگر خلائی ادارے زمین کے قریب آنے والے شہابیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ جدید دوربینوں، کمپیوٹر ماڈلز اور خلائی مشنز کی مدد سے ان کے مدار کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک شہابیہ زمین کی طرف بڑھتا دکھائی دے تو بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔ 2022ء میں ناسا نے DART مشن کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک شہابیہ سے خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ٹکرا کر اس کے مدار میں معمولی تبدیلی پیدا کی۔ اس کامیاب تجربے نے ثابت کیا کہ مستقبل میں کسی خطرناک شہابیہ کا راستہ تبدیل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔تحقیق، مستقبل اور انسانیت کا مشترکہ مشنشہابیوں کی تحقیق صرف خطرات تک محدود نہیں، یہ اجسام نظامِ شمسی کی تشکیل کے ابتدائی دور کے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں اربوں سال پرانا مادہ محفوظ ہے۔ ان کے مطالعے سے سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورج، سیارے اور زمین کیسے وجود میں آئے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پانی اور زندگی کے لیے ضروری نامیاتی مرکبات بھی ابتدائی دور میں شہابیوں کے ذریعے پہنچے ہوں گے۔مستقبل میں کئی ممالک شہابیوں سے قیمتی دھاتیں حاصل کرنے کے امکانات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن ان کی کامیابی خلائی معیشت میں ایک نئے باب کا آغاز کر سکتی ہے۔شہابیوں کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زمین کائنات میں تنہا نہیں بلکہ ایک وسیع اور متحرک نظام کا حصہ ہے۔ جدید سائنس، بین الاقوامی تعاون اور مسلسل تحقیق کے ذریعے نہ صرف کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکتا۔ ہے بلکہ زمین کو ممکنہ خلائی خطرات سے بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

محدود آمدنی میں بہتر  منصوبہ بندی کیسے کریں؟

محدود آمدنی میں بہتر منصوبہ بندی کیسے کریں؟

بڑھتی ہوئی مہنگائی، نت نئے اخراجات اور غیر یقینی معاشی حالات ہر گھر کے بجٹ کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں خواتین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

دھوپ میں آنکھوں کی حفاظت  کتنی ضروری؟

دھوپ میں آنکھوں کی حفاظت کتنی ضروری؟

سورج کی روشنی زندگی کے لیے ناگزیر ہے،یہ جسم کو وٹامن ڈی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے اور قدرتی ماحول کو روشن بناتی ہے، لیکن اسی سورج کی تیز شعاعیں اگر براہِ راست اور زیادہ دیر تک آنکھوں پر پڑیں تو بینائی کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔

آج کا پکوان:اچار گوشت

آج کا پکوان:اچار گوشت

اجزا:گوشت (چکن، مٹن یا بیف): آدھا کلو،پیاز: 2 عدد (باریک کٹے ہوئے)،ٹماٹر: 3 عدد (پیسٹ یا کٹے ہوئے)،دہی: 1 کپ (پھینٹا ہوا)،ادرک لہسن کا پیسٹ: 2 کھانے کے چمچ ،لیموں کا رس: 3 سے 4 کھانے کے چمچ ،ہری مرچیں: 6 سے 8 عدد ،اچار گوشت مصالحہ: 3 سے 4 کھانے کے چمچ (یا حسبِ ذائقہ)،کوکنگ آئل: 1 کپ۔

عبداللہ حسین:اداس نسلوں کے ناول نگار

عبداللہ حسین:اداس نسلوں کے ناول نگار

گیارھویں برسی: انہوں نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے انگریزی میں تراجم کیے جبکہ براہ راست انگریزی میں بھی لکھا: فکشن اصل میں حقیقت ہی کی توسیع ہے، جب تک حقیقی اجزا نہیں لیے جائیں گے فکشن کی کوئی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی:عبداللہ حسین:انہوں نے تجربات سے اپنی تخلیق کا مواد حاصل کیا‘ وہ خود کو ان فکشن نگاروں میں شمار کرتے ہیں جو محض تخیل کی بنا پر فکشن تخلیق نہیں کرتے بلکہ حقیقت کے مشاہدے سے اپنے لئے مواد حاصل کرتے ہیں

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز