راہِ ہدایت
اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ(حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت)اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو۔ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر198)

ایرانی حملوں کی 95ویں لہر: امریکی فوجی تنصیبات نشانے پر، ٹرمپ کا جواب میں متعدد ایرانی فوجی مارنے کا دعویٰ


تہران: (دنیا نیوز) ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 95ویں لہر کے تحت کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔



اشتہار

امریکی میڈیا موقف غلط اندازمیں پیش کررہا،ہم جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ،ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کے شکرگزار:عباس عراقچی ،بھائی کی وضاحت کا خیرمقدم :اسحاق ڈار ، ایرانی ہم منصب کو ٹیلی فون ثالثی پرسوشل میڈیا کی جھوٹی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی،یو اے ای کے مالی ذخائر پر تبصرے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی،ذمہ دارانہ صحافت اور محتاط سفارتکاری کی اشد ضرورت:ترجمان وزارت خارجہ

10دن دئیے تھے اب وقت ختم ہورہاہے :امریکی صدر ،زمینی کارروائی کو قتل گا ہ میں تبدیل کردیاجائے گا ،ایران امریکی افواج کو خطے سے نکال کر دم لے گا:ترجمان فوج بوشہرایٹمی پلانٹ اورکیمکل فیکٹریوں پر حملے ،6افراد شہید ،امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے تابکاری کا سنگین خطرہ ،ایران کا اقوام متحدہ اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو خط

ٹیکسٹائل، سیاحت، لیدر، فارما، منرلز کے علاوہ سولر پراجیکٹس میں بھی تقریبا ًدو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر گفتگو جاری،سعودی عرب کی بیلنس آف پیمنٹ کیلئے فنڈز قائم کرنیکی تجویز حکومت آئی ایم ایف شرط کے مطابق جون تک مرکزی بینک کے پاس 18 ارب ڈالر تک کے زرمبادلہ ذخائرکومحفوظ کرنا چاہتی ،مارکیٹ سے ڈالرز کی خریداری کی گنجائش موجود یورو بانڈز ، یو اے ای کی رقم واپسی کے باعث زرمبادلہ ذخائر مستحکم کرنے کیلئے حکومت مختلف تجاویز پر عملدرآمد کیلئے متحرک،دسمبر تک سوا 20 ارب ڈالر زرمبادلہ بڑھانے کا ارادہ :ذرائع

موٹر بائیک رجسٹریشن فیس ختم،ٹرانسفر فیس معاف،سبسڈی کیلئے ہیلپ لائن ،ایپ اور پورٹل میسر25ایکڑ اراضی والے گندم کاشتکاروں کو ایک ایکڑ کیلئے 10لٹر پٹرول 150روپے سستا فراہم کیاجائیگا

ایران کے خلاف اسرائیل،امریکاکی غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ،خدشہ ہے یہ پوری دنیا میں پھیل جائے گیفلسطین،لبنان،ایران ودیگر ممالک پر حملہ کرنیوالے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے ،بھٹو کی برسی پرخطاب

بھٹو کا آئین کی تیاری ،جمہوریت کے فروغ میں کردار ،خدمات یاد رکھی جائیں گی

ڈرامہ رچانے کی کوشش کی تو جواب دیتے ہوئے کلکتہ تک پہنچا کر آئیں گےخطے میں امن قائم ہونا چاہیے ، دعا کریں پاکستان اپنے کردار میں سرخرو ہو

معرکہ حق میں بھارتی بحریہ کومحفوظ پناہ گاہوں تک محدود رہنے پر مجبورکر دیاپاک نیوی جدیدٹیکنالوجیزسے لیس ،چیلنج کیاتودشمن کوبھرپور جواب دینگے

متفرقات

ڈیجیٹل دنیا کے برے ایمو جیز

ڈیجیٹل دنیا کے برے ایمو جیز

''تھمز اپ‘‘سب سے زیادہ نا پسندیدہموجودہ دور کو اگر ڈیجیٹل عہد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس نے نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی کو تبدیل کر دیا ہے بلکہ ہمارے اظہارِ خیال کے انداز کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج الفاظ کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی تصویری علامتیں یعنی ''ایموجیز‘‘ ہماری گفتگو کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ یہ ایموجیز کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی مزاح اور کبھی طنز کے جذبات کو چند لمحوں میں بیان کر دیتی ہیں۔حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے نے اس عام تاثر کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایموجیز ہمیشہ مثبت اور خوشگوار اثر ہی رکھتی ہیں۔برطانیہ میں کیے گئے ایک حالیہ سروے نے اس دلچسپ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ہر ایموجی ہر شخص کیلئے یکساں معنی نہیں رکھتی۔ اس تحقیق میں تقریباً دو ہزار افراد سے رائے لی گئی، جس کے نتیجے میں 20 ایسی ایموجیز کی فہرست سامنے آئی جنہیں لوگ سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر اس فہرست میں سرفہرست ''تھمز اپ‘‘ ایموجی ہے، جو عمومی طور پر تعریف، منظوری یا حوصلہ افزائی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ نتیجہ بظاہر حیرت انگیز ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی نفسیاتی اور سماجی وجوہات قابلِ غور ہیں۔ سروے میں شریک افراد کی ایک بڑی تعداد کے مطابق ''تھمز اپ‘‘ ایموجی بعض اوقات سرد مہری، بے رخی یا غیر مستقیم جارحیت کا تاثر دیتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل، جسے عام طور پر جنریشن زی (Gen Z) کہا جاتا ہے، اس ایموجی کو گفتگو ختم کرنے یا دلچسپی نہ لینے کی علامت سمجھتی ہے۔ یوں ایک سادہ سا مثبت اشارہ بعض افراد کیلئے منفی پیغام بن جاتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی صارفین نے اس رجحان پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صرف ''تھمز اپ‘‘ کے ساتھ جواب دے تو یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بات چیت کو اچانک ختم کر دیا گیا ہو۔ بعض نے تو اسے ''خاموشی سے دروازہ بند کرنے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔اس سروے میں دیگر ایموجیز بھی شامل ہیں جو لوگوں کیلئے ناگوار ثابت ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بینگن ایموجی، جو عام طور پر سبزی کے طور پر استعمال ہونا چاہیے، لیکن ڈیجیٹل کلچر میں اسے ایک مخصوص اور غیر مہذب معنی دے دیا گیا ہے، دوسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ عورت کے رقص کرنے والی ایموجی، انسانی فضلہ، کوبائے ہیٹ والا چہرہ اور چیک مارک بھی ان علامتوں میں شامل ہیں جو بعض صارفین کیلئے پریشان کن یا غیر موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ماہرین ابلاغ کے مطابق ایموجیز کے مختلف معانی کی ایک بڑی وجہ ان کا سیاق و سباق (context) ہے۔ہیریئٹ اسکاٹ (Harriet Scott)، جوپرسپیکٹس گلوبل (Perspectus Global) سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ایک ہی ایموجی مختلف لوگوں کیلئے مختلف مفہوم رکھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آنکھوں والا ایموجی کسی کیلئے تجسس یا دلچسپی کی علامت ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرے کیلئے یہ شک یا نگرانی کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح سوچنے والا چہرہ یا تھوک بہانے والا چہرہ بھی مختلف تشریحات کا باعث بنتے ہیں۔اس رجحان میں عمر کا عنصر بھی نہایت اہم ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے 81 فیصد افراد ایموجیز کو پریشان کن سمجھتے ہیں، اور ان میں سے بڑی تعداد ان کے معانی سے بھی مکمل طور پر واقف نہیں۔ اس کے برعکس، نوجوان نسل ایموجیز کو اپنی روزمرہ گفتگو کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔ 18 سے 30 سال کے تقریباً 93 فیصد افراد روزانہ ایموجیز کا استعمال کرتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل زبان نسل در نسل تبدیل ہو رہی ہے۔یہ تبدیلی صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پالیسیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں Apple نے اپنے آپریٹنگ سسٹم ''iOS 26.4‘‘ میں 163 نئے ایموجیز شامل کیے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بڑی تعداد مختلف جلد کے رنگوں (Skin Tones) کی نمائندگی کرتی ہے، مگر 13 نئے ایموجیز بالکل نئے تصورات پر مبنی ہیں۔ ان میں ایک خاص ''مڑا ہوا چہرہ‘‘ ایموجی بھی شامل ہے، جس کے گلابی گال اور ابھری ہوئی آنکھیں صارفین میں خاصی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایموجیز اب محض تفریحی علامتیں نہیں رہیں بلکہ ایک مکمل زبان کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ تاہم، اس زبان کی پیچیدگی بھی بڑھ رہی ہے، کیونکہ ہر علامت کا مطلب ہر فرد کیلئے یکساں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک سادہ سا ایموجی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل گفتگو میں محتاط رویہ اختیار کریں۔ ایموجیز کا استعمال کرتے وقت نہ صرف اپنے جذبات بلکہ سامنے والے کے نقطۂ نظر کو بھی مدنظر رکھیں۔ خاص طور پر پیشہ ورانہ یا حساس گفتگو میں ایموجیز کے چناؤ میں احتیاط برتنا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایموجیز جدید دور کی ایک اہم ایجاد ہیں، جو ہماری گفتگو کو آسان اور دلچسپ بناتی ہیں، مگر ان کے استعمال میں توازن اور سمجھ داری ناگزیر ہے۔ کیونکہ ایک ہی علامت، جو کسی کیلئے مسکراہٹ کا سبب بنتی ہے، دوسرے کیلئے الجھن یا ناراضی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یہی ڈیجیٹل دنیا کا وہ پہلو ہے جو ہمیں مسلسل سیکھنے اور خود کو ڈھالنے پر مجبور کرتا ہے۔

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

دنیا بھر میں جانوروں کی ذہانت اور ان کی تربیت کے حیرت انگیز مظاہرے ہمیشہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں، مگر حال ہی میں ایک گھوڑے نے اپنے غیر معمولی کرتب دکھا کر سب کو حیران کر دیا۔ صرف تین منٹ کے مختصر وقت میں تیس سے زائد کرتب پیش کرنے والا یہ گھوڑا نہ صرف اپنی فطری صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ اس کے ٹرینر کی محنت، مہارت اور لگن کا بھی واضح ثبوت ہے۔ یہ شاندار مظاہرہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مناسب تربیت اور مثبت رویے کے ذریعے جانوروں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو کس حد تک نکھارا جا سکتا ہے۔امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولائنا کے علاقے بولیویا میں ایک خوبصورت سفید گھوڑے نے اپنے باصلاحیت مالک کے ساتھ مل کر ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس گھوڑے نے صرف تین منٹ سے بھی کم وقت میں سب سے زیادہ کرتب دکھانے کا اعزاز حاصل کیا، جب اس نے بہترین تربیت کے ذریعے درجنوں کامیاب حرکات پیش کیں۔لورین زیپیڈا(Lauryn Zepeda) اور ان کے 19 سالہ گھوڑے گرینگو (Gringo)نے 5 مارچ کو یہ مشکل ریکارڈ توڑا۔ اس ذہین گھوڑے نے رقص کیا، گیند کو ٹھوکر ماری اور یہاں تک کہ سیلفی کیلئے پوز بھی دیا، جس کے نتیجے میں اس نے صرف 2 منٹ اور 47 سیکنڈ میں 38 حیرت انگیز کرتب مکمل کیے۔یہ جوڑی گزشتہ دس برسوں سے مختلف شوز میں ایک ساتھ حصہ لے رہی ہے، اور ان کے درمیان مضبوط ہم آہنگی برسوں کے اعتماد، محبت اور توجہ کا نتیجہ ہے۔ گرینگو دراصل جنگل میں پیدا ہوا تھا، مگر لورین نے اسے ایک سرکاری ادارے سے گود لے کر جدید انداز میں تربیت دی، جس میں انعامات کا استعمال کیا گیا،بالکل اسی طرح جیسے کتوں کو سکھایا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لورین نے ہمیشہ گھوڑے کو اپنی مرضی کا اختیار دیا، مگر گرینگو کو پرفارم کرنا واقعی پسند ہے، خاص طور پر جب اسے تعریف اور انعام ملے۔لورین نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ گھوڑوں کی دنیا میں ہمارا تربیتی طریقہ روایتی نہیں ہے۔ کلکر ٹریننگ اور مثبت حوصلہ افزائی کو عام طور پر کتوں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ گھوڑوں کے ساتھ بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ جب ہم پرفارم کرتے ہیں تو ہم ایک اہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تربیت کے متبادل اور انسان دوست طریقے بھی موجود ہیں اور گھوڑے صرف سواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر بھی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ریکارڈ توڑنے کی تیاری کے دوران، لورین اور گرینگو نے کئی ماہ تک تربیت کی، ہر کرتب کو چھوٹے اور قابلِ انتظام حصوں میں سیکھا، اور آخرکار سب کو یکجا کیا۔لورین نے بتایاکہ گرینگو کیلئے یہ کبھی محنت محسوس نہیں ہوئی، یہ بس کھیل تھا۔ جبکہ مجھے اس کی ذمہ داری کا احساس ہوتا، اس کیلئے یہ صرف ساتھ گزارا گیا وقت تھا، کچھ ایسا جو اسے واقعی پسند ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی محنت کا ہمیشہ انعام ملتا ہے، جس سے یہ تجربہ اس کیلئے مزید خوشگوار بن جاتا ہے۔یہ بات بھی گرینگو کیلئے آسانی پیدا کرتی ہے کہ وہ ایک کھلے فارم میں مکمل آزادی کے ساتھ رہتا ہے،وہ ہر وقت باہر ہوتا ہے اور جب چاہے گھاس اور پناہ گاہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ جب دل چاہتا ہے، وہ ایک''چھوٹے ریوڑ‘‘ کے دیگر جانوروں کے ساتھ کرتب پیش کرتا ہے، اور باقی وقت اپنی مرضی سے کیچڑ میں کھیلتا ہے اور لورین سے اپنا پسندیدہ انعام مانگتا ہے۔جب یہ جوڑی مقابلے کیلئے تیار ہوئی، تو لورین نے گرینگو کیلئے 36 کرتبوں کی فہرست تیار کی،ساتھ ہی آٹھ اضافی کرتب بھی شامل کیے تاکہ مقابلے کے دن سب کچھ منظم اور ترتیب وار ہو۔ ان کرتبوں میں حرکت کے اشارے شامل تھے، جیسے ایک ٹانگ اٹھانا یا سر جھکانا اور ساتھ ہی سامان کے ساتھ کرتب بھی، جیسے جھنڈا لہرانا یا گھنٹی بجانا۔ لورین نے کہاکہ ہمارے تربیتی سیشنز مختصر اور انعامات کے ساتھ رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ جوش اور دلچسپی کے ساتھ حصہ لے۔ میں یقین رکھتی ہوں کہ میں اس کی توجہ قائم رکھ سکتی ہوں کیونکہ وہ واقعی ہمارے کام سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ میں بہت سوچ سمجھ کر کبھی اسے زیادہ محنت نہیں کراتی۔

زندگی کا اصول!

زندگی کا اصول!

آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر جانا زندگی سے نیچے آنا موت ہے۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے اور راستے سے جھگڑا نہیں کرتا۔ جو جھگڑا نہیں کرتا، وہ منزل پر جلد پہنچ جاتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کولمبیا خلائی شٹل کی لانچنگ ''کولمبیا خلائی شٹل‘‘ ناسا کی مدد سے بھیجی جانے والی خلائی شٹل تھی۔'' کولمبیا ‘‘خلا میں اڑان بھرنے والی پانچ خلائی شٹلز میں سے پہلی تھی۔ اپریل 1981ء میں اس شٹل نے اپنی پہلی پرواز پر خلائی شٹل لانچ وہیکل کا آغاز کیا۔اپنے 22سالہ آپریشن کے دوران کولمبیا نے خلائی شٹل پروگرام کے تحت28مشن مکمل کئے۔اس دوران اس نے خلا میں 300دن گزارے اور زمین کے گرد4ہزار سے زائد مدار مکمل کئے۔چین میں بدترین آتشزدگی1894ء میں چین کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز شنگھائی میں ہزاروں عمارتوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر جبکہ ہزاروں کی تعداد میں جاں بحق ہوئے۔ اس حادثے کو چین کی تاریخ کے بدترین حادثات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے اوربعد میں اتنے بڑے پیمانے پر چین میں کھی آگ نہیں لگی ۔فن لینڈ :سرکاری کرنسی متعارف1860ء میں فن لینڈ کے مختلف علاقوں میں فنش مارکا کو سرکاری کرنسی کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ یہ اعلان اس دور میں ایک اہم معاشی پیش رفت سمجھا جاتا تھا، کیونکہ اس سے پہلے فن لینڈ میں مختلف غیر ملکی کرنسیاں رائج تھیں۔ نئی کرنسی کے نفاذ کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا اور مالیاتی نظام کو منظم بنانا تھا۔ اس اقدام نے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا بلکہ فن لینڈ کی قومی شناخت کو بھی مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔''عالم نسواں‘‘ جریدہ کا آغاز 4 اپریل 1913ء کو سلطنت عثمانیہ میں پہلی بار ''عالم نسواں‘‘ نامی ایک جریدہ شائع کیا گیا۔ اس جریدے کا مقصد حقوق نسواں اور ان کی شخصی آزادی کو فروغ دینا اور ان کی سماجی زندگی کو پروان چڑھانا تھا۔اس دور میں سلطنت عثمانیہ اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی تھی۔ حقوق نسواں پر زور دینا بھی انہی اقدامات میں سے ایک تھا تاکہ سلطنت کا ایک بہتر چہرہ دنیا کو دکھایا جا سکے۔مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کا قتل1968 ء میں آج کے دن سیاہ فام امریکی پادری اورمساوی حقوق کے علمبردار مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو قتل کیاگیا۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے اپنی تمام زندگی سیاہ فام امریکیوں کے مساوی حقوق کیلئے جدو جہد کرتے ہوئے گزار دی۔ مارٹن عدم برداشت اور نسل پرستانہ نظریات کے شدید مخالف تھے۔اس جدو جہد کے دوران مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے خود بھی بہت سی مشکلات اٹھائیں ،کبھی انہیں قید کیا گیا تو کبھی قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ 1964ء میں انہیں اپنی جدو جہد کی بدولت نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا افتتاح1973ء میں نیویارک شہر میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز (ٹوئن ٹاورز) کا باضابطہ طور پر افتتاح کیا گیا۔ یہ عظیم الشان عمارتیں اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں شمار ہوتی تھیں اور جدید تعمیراتی مہارت کا شاہکار سمجھی جاتی تھیں۔ ان ٹاورز کا مقصد عالمی تجارت کو فروغ دینا اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے ایک مرکزی مقام فراہم کرنا تھا۔ افتتاح کے بعد یہ عمارتیں نہ صرف نیویارک کی پہچان بن گئیں بلکہ عالمی سطح پر بھی معاشی سرگرمیوں کی علامت قرار پائیں، جہاں دنیا بھر سے لوگ تجارت اور کاروبار کیلئے آتے تھے۔

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

بچوں کا ادب :غفلت کا شکار اہم شعبہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، اور بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت میں ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

غرور کا انجام

غرور کا انجام

گھنے جنگل کے بیچوں بیچ بہت بڑی اور گہری نیلگوں جھیل تھی۔ مگرمچھ کو جھیل کا حکمران منتخب کیا گیا تھا۔

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

شمالی افریقا کی قوم۔۔۔ بَر بَر

بَر بَر شمالی افریقا کی ایک سفید فام قوم ہے جو مصر سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بر بر کہلاتا ہے اور ان کی زبان بربری ہے۔

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے‘‘

کوے ہیں سب دیکھے بھالےچونچ بھی کالی ، پر بھی کالے

سنڈے میگزین

دنیا بلاگز